al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 83 · 36 verses
83:1ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔
83:2ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكۡتَالُواْ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسۡتَوۡفُونَ
ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔
83:3وَإِذَا كَالُوهُمۡ أَو وَّزَنُوهُمۡ يُخۡسِرُونَ
ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔
83:4أَلَا يَظُنُّ أُوْلَـٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبۡعُوثُونَ
ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔
83:5ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔
83:6يَوۡمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
ہلاکت ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کے لیے(1) وہ لوگ کہ جب وہ ناپ کر لیتے ہیں لوگوں سے تو پورا لیتے ہیں(2) اور جب وہ ناپ کر دیتے ہیں انھیں یا تول کر دیتے ہیں ان کو تو کم دیتے ہیں(3)کیا نہیں یقین رکھتے یہ لوگ کہ بلاشبہ وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے؟(4) اس یوم عظیم کے لیے(5) جس دن کھڑے ہوں گے لوگ سامنے رب العالمین کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1]﴿وَيۡلٌ﴾ ’’ہلاکت ہے۔‘‘ یہ عذاب اور عقاب کا کلمہ ہے ﴿لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ﴾ ’’ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اَلْمُطَفِّفِینَ کی تفسیر بیان فرمائی کہ ﴿الَّذِيۡنَ اِذَا اكۡتَالُوۡا عَلَى النَّاسِ ﴾یہ وہ لوگ ہیں جب لوگوں سے لیتے ہیں، تو ان سے کسی کمی کے بغیر پورا لیتے ہیں ﴿ وَاِذَا كَالُوۡهُمۡ اَوۡ وَّزَنُوۡهُمۡ ﴾ اور جب لوگوں کو ان کا حق عطا کرتے ہیں، جو کسی ناپ تول کی صورت میں ان کے ذمہ ہوتا ہے۔ ﴿ يُخۡسِرُوۡنَ﴾ تو اس میں کمی کرتے ہیں یا تو ناپ کے ناقص پیمانے اور تولنے کی ناقص ترازو کے ذریعے سے یا ناپ تول کے پیمانے کو پوری طرح نہ بھرتے ہوئے کمی کرتے ہیں، یا اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے کمی کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کے اموال کی چوری اور ان کے ساتھ بے انصافی ہے۔جب ان لوگوں کے لیے یہ وعید ہے جو ناپ تول کے ذریعے سے لوگوں کے اموال میں کمی کرتے ہیں تو وہ لوگ اس وعید کے، ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے زیادہ مستحق ہیں، جو جبراً لوگوں سے مال چھینتے ہیں یا چوری کرتے ہیں۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انسان جس طرح لوگوں سے اپنا حق وصول کرتا ہے اسی طرح اس پر فرض ہے کہ وہ اموال و معاملات میں لوگوں کے حقوق ادا کرے، بلکہ اس کے عموم میں دلائل و مقالات بھی شامل ہیں، کیونکہ جیسے آپس میں مناظرہ کرنے والوں کی عادت ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی دلیل بیان کرنے کا حریص ہوتا ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اس دلیل کو بھی بیان کرے جو اس کے مخالف کے علم میں نہیں ہوتی، نیز وہ اپنے مخالف کے دلائل پر بھی اسی طرح غور کرے جس طرح وہ اپنے دلائل پر غور کرتا ہے۔ اس مقام پر انسان کے انصاف اور اس کے تعصب و ظلم، اس کی تواضع اور تکبر، اس کی عقل اور سفاہت کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی بھلائی کی توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو وعید سنائی اور ان کے حال اور ان کے اپنے اس طرز عمل پر قائم رہنے پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓىِٕكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَۙ۰۰ لِيَوۡمٍ عَظِيۡمٍۙ۰۰يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کیا انھیں اپنے مرنے کے بعد عظیم دن کے لیے جی اُٹھنے کا خیال نہیں؟ جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھرے ہوں گے۔‘‘ پس جس چیز نے ان کے اندر کم ناپنے تولنے کی جرأت پیدا کی ہے، وہ ہے آخرت پر ان کا عدم ایمان، ورنہ اگر وہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوتے اور انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی کہ وہ عنقریب اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہوں گے اور وہ ان کے اعمال پر، کم ہوں یا زیادہ، ان کا محاسبہ کرے گا ، تو وہ اس کام سے رک جاتے اور اس سے توبہ کر لیتے۔
83:7كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٖ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:8وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سِجِّينٞ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:9یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:10وَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:11ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوۡمِ ٱلدِّينِ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:12وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ أَثِيمٍ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:13إِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:14كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:15كَلَّآ إِنَّهُمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٖ لَّمَحۡجُوبُونَ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:16ثُمَّ إِنَّهُمۡ لَصَالُواْ ٱلۡجَحِيمِ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:17ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
یقیناً بلاشبہ نامہ ٔ اعمال فاجروں کا سجین میں ہے(7) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے سجین؟(8) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی(9) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (10) وہ جو جھٹلاتے ہیں یوم جزا کو (11) اور نہیں جھٹلاتا اسے مگر ہر وہ شخص کہ وہ حدسے گزرنے والا گنہگار (12) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو وہ کہتا ہے، (یہ)کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی (13) ہرگز نہیں!بلکہ زنگ لگا دیا ہے ان کے دلوں پر اس نے جو تھے وہ کماتے (14) یقیناً! بلاشبہ وہ (کافر) اپنے رب (کے دیدار) سے اس دن اوٹ میں رکھے جائیں گے (15) پھر بلاشبہ وہ داخل ہوں گے جہنم میں (16) پھر کہا جائے گا یہ ہے وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (17)
[9-7] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :﴿ كَلَّاۤ اِنَّ كِتٰبَ الۡفُجَّارِ﴾ ’’ہرگز نہیں! بدکاروں کے اعمال‘‘ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ﴿ لَفِيۡ سِجِّيۡنٍ﴾ ’’سِجِّین میں ہیں۔‘‘ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سِجِّيۡنٌؕ۰۰ كِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌ﴾ ’’تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے۔ لکھی ہوئی کتاب ہے‘‘ یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں۔ اَلسِّجِّینُ سے مراد تنگ جگہ ہے اور سِجِّین ، عِلِّیِّین کی ضد ہے جو کہ ابرار کی کتاب کا محل و مقام ہے، جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سَجِّین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے جو کہ معاد میں فجار کا مستقر اور ٹھکانا ہے۔
[13-10]﴿ وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے۔‘‘پھر مُکَذِّبِین کو اس طرح واضح فرمایا ﴿ الَّذِيۡنَ يُكَذِّبُوۡنَ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِ﴾ جو یوم جزا کو جھٹلاتے ہیں، جس دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ﴿ وَمَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعۡتَدٍ ﴾ ’’اسے صرف وہی جھٹلا تا ہے جو حد سے نکل جاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم میں تجاوز کرنے والا ، حلال کی حدود کو پھلانگ کر حرام میں داخل ہونے والا۔ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾ بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ۔اس کا ظلم اور سرکشی اسے تکذیب پر آمادہ کرتی ہے اور اس کے لیے تکبر اور حق کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’جب اس کوہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں۔‘‘ جو حق پر اور اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جس کو رسول لے کر آئے ہیں تو گناہوں کا ارتکاب کرنے والے نے ان آیات کو جھٹلایا اور ان سے عناد رکھا اور ﴿ قَالَ ﴾ کہنے لگا یہ تو ﴿ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ‘‘ یعنی وہ تکبر اور عناد کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ تو متقدمین کے جھوٹے قصے اور گزری ہوئی قوموں کی خبریں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں۔
[17-14]رہا وہ شخص جو انصاف پسند ہے اور اس کا مقصود بھی واضح حق ہے، تو وہ قیامت کے دن کو نہیں جھٹلا سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر قطعی دلائل اور براہین قائم کیے ہیں جنھوں نے اسے حق الیقین بنا دیا ہے، ان کے دلوں کی بصیرت کے لیے یہ وہی حیثیت اختیار کر گیا جو ان کی آنکھوں کے لیے سورج کی ہے۔ اس کے برعکس جس کے دل کو اس کے کسب نے زنگ آلود کر دیا اور اس کے گناہوں نے اس کو ڈھانپ لیا، وہ حق سے محجوب ہے۔ بنابریں اس کو یہ جزا دی گئی کہ جس طرح اس کا دل آیات الٰہی سے محجوب ہے، اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ سے محجوب رہے گا۔﴿ ثُمَّ اِنَّهُمۡ ﴾ پھر اس انتہائی عقوبت کے بعد وہ لوگ یقیناً ﴿ لَصَالُوا الۡؔجَحِيۡمِ﴾ جہنم میں جھونکے جائیں گے ، پھر زجر و توبیخ کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ هٰؔذَا الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ یہی ہے وہ چیز جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کی تین انواع کا ذکر کیا ہے:(۱)جہنم کا عذاب (۲) زجر و توبیخ اور ملامت کا عذاب (۳)اور رب کائنات سے محجوب ہونے کا عذاب، جو ان پر اس کی ناراضی اور غضب کو متضمن ہے اور یہ ان کے لیے جہنم کے عذاب سے بڑھ کر ہو گا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اہل ایمان قیامت کے روز جنت میں اپنے رب کا دیدار کریں گے، وہ تمام لذات سے بڑھ کر اس دیدار سے لذت حاصل کریں گے۔ اس کے ساتھ ہم کلامی سے خوش ہوں گے اور اس کے قرب سے فرحت حاصل کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں اس کا ذکر کیا ہے اور رسول اللہﷺ سے بھی نہایت تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ان آیات میں گناہوں سے تحذیر ہے۔ کیونکہ ان کا اثر دل پر ہوتا ہے اوروہ آہستہ آہستہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ وہ اس کے نور کو ختم کردیتے ہیں، اس کی بصیرت ختم کردیتے ہیں ، پھر انسان پر حقائق پلٹ جاتے ہیں۔ وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگتا ہے اور یہ گناہوں کی سب سے بڑی سزا ہے۔
83:18كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلۡأَبۡرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:19وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:20یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:21يَشۡهَدُهُ ٱلۡمُقَرَّبُونَ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:22إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٍ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:23عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:24تَعۡرِفُ فِي وُجُوهِهِمۡ نَضۡرَةَ ٱلنَّعِيمِ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:25يُسۡقَوۡنَ مِن رَّحِيقٖ مَّخۡتُومٍ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:26خِتَٰمُهُۥ مِسۡكٞۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ ٱلۡمُتَنَٰفِسُونَ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:27وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسۡنِيمٍ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:28عَيۡنٗا يَشۡرَبُ بِهَا ٱلۡمُقَرَّبُونَ
یقیناً! بلاشبہ نامہ ٔ اعمال نیک لوگوں کا عِلِّیِّین میں ہے (18) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے عِلِّیُّون؟(19) ایک کتاب ہے لکھی ہوئی (20) حاضر ہوتے ہیں اس پر مقرب (فرشتے)(21) بلاشبہ نیک لوگ البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے (22) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (23) آپ پہچانیں گے ان کے چہروں میں تازگی نعمت کی(24)وہ پلائے جائیں گے خالص شراب مہر لگی ہوئی میں سے(25)اس کی مہر کستوری کی ہو گی اور اس میں پس چاہیے رغبت کریں رغبت کرنے والے (26) اور اس کی ملاوٹ تسنیم سے ہو گی (27) یعنی ایک چشمہ ہے پئیں گے اس میں سے مقرب بندے (28)
[21-18] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فجار کے اعمال نامے کا ذکر کرنے کے بعد کہ وہ سب سے نچلے اور سب سے تنگ پر مقام ہو گا، ابرار کے اعمال نامے کا ذکر کیا کہ ان کا اعمال نامہ سب سے بلند ، نہایت وسیع اور سب سے کھلے مقام پر ہو گا۔ اور ان کی لکھی ہوئی کتاب ﴿ يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ کا مشاہدہ مکرم فرشتے، انبیاء، صدیقین اور شہداء کی ارواح کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ملأاعلیٰ میں بلند آواز سے ان کا تذکرہ کرے گا۔﴿ عِلِّيُّوۡنَ﴾ جنت کے بلند ترین حصے کا نام ہے۔
[28-22] اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ نعمتوں میں ہوں گے اور یہ قلب کی ، روح کی اور بدن کی نعمت کے لیے جامع نام ہے۔﴿عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ یعنی نہایت خوبصورت بچھونوں سے آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں اور اپنے رب کریم کا دیدار کر رہے ہوں گے۔﴿ تَعۡرِفُ﴾ اے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ﴿ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾ ’’ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی‘‘ اس کی تر و تازگی اور اس کی رونق، کیونکہ لذتوں، مسرتوں اور فرحتوں کا پے در پے حاصل ہونا، چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔ ﴿ يُسۡقَوۡنَ مِنۡ رَّحِيۡقٍ﴾ یہ رحیق تمام شرابوں میں سب سے عمدہ اور سب سے لذیذ شراب ہے جو انھیں پلائی جائے گی ﴿ مَّخۡتُوۡمٍ﴾ یہ خالص شراب سربمہر ہو گی ﴿ خِتٰؔمُهٗ مِسۡكٌ﴾’’جس پر مشک کی مہر لگی ہو گی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس پر مہر لگی ہو گی یعنی کوئی چیز اس میں داخل ہو کر اس کی لذت کو کم اور اس کے ذائقے کو خراب نہیں کرے گی، یہ مہر جو اس پر لگی ہوئی ہو گی مشک کی مہر ہو گی۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ مشروب ہے جو آخرت میں تلچھٹ کے طور پر اس برتن میں رہ جائے گا، جس میں وہ خالص شراب پئیں گے اور یہ تلچھٹ مشک اذفر ہو گا۔ یہ تلچھٹ جس کے بارے میں دنیا میں عادت یہ ہے کہ اسے گرا دیا جاتا ہے، جنت میں اس کی یہ منزلت ہو گی۔﴿ وَفِيۡ ذٰلِكَ﴾ یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمت میں جس کے حسن اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ﴿ فَلۡيَتَنَافَسِ الۡمُتَنَافِسُوۡنَ﴾ پس مسابقت کرنے والوں کو اس نعمت تک پہنچانے والے عمل کے ذریعے سے اس کی طرف آگے بڑھنے میں مسابقت کرنی چاہیے۔ یہ اس چیز کی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس میں نفیس سے نفیس مال خرچ کیا جائے اور یہ اس چیز کی بھی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے بڑے بڑے لوگ باہم مزاحم ہوں۔ اور اس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی اور یہ ایک چشمہ ہے۔ ﴿ يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾ ’’جہاں سے صرف اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہی پئیں گے۔‘‘ اور یہ علی الاطلاق جنت کی اعلیٰ ترین شراب ہے، بنابریں یہ خالص صورت میں صرف مقربین کے لیے ہو گی، جو مخلوق میں سب سے بلند مرتبہ لوگ ہیں، اصحاب الیمین کے لیے آمیزش کے ساتھ ہو گی یعنی خالص شراب وغیرہ دیگر لذیذ مشروبات کے ساتھ اس کی آمیزش ہو گی۔
83:29إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجۡرَمُواْ كَانُواْ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يَضۡحَكُونَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:30وَإِذَا مَرُّواْ بِهِمۡ يَتَغَامَزُونَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:31وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمُ ٱنقَلَبُواْ فَكِهِينَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:32وَإِذَا رَأَوۡهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:33وَمَآ أُرۡسِلُواْ عَلَيۡهِمۡ حَٰفِظِينَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:34فَٱلۡيَوۡمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنَ ٱلۡكُفَّارِ يَضۡحَكُونَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:35عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔
83:36هَلۡ ثُوِّبَ ٱلۡكُفَّارُ مَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ
بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے تھے وہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنستے تھے(29) اور جب وہ گزرتے تھے ان(مسلمانوں) کے پاس سے تو آپس میں آنکھوں سے اشارہ کرتے تھے (30) اور جب وہ لوٹتے تھے اپنے اہل کی طرف تو لوٹتے دل لگی کرتے ہوئے (31) اور جب وہ (کافر) دیکھتے تھے، ان کو تو کہتے تھے بلاشبہ یہ لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ نہیں بھیجے گئے تھے وہ ان پر نگران بنا کر (33) پس آج، وہ لوگ جو ایمان لائے، کافروں پر ہنس رہے ہوں گے (34) مسہریوں پر (بیٹھے) دیکھ رہے ہوں گے (35) کیا بدلہ دے دیے گے کافر اس کا جو تھے وہ کرتے؟ (36)
[29-33]اللہ تعالیٰ نے مجرموں کی جزا اور نیکو کاروں کی جزا کا ذکر کرنے اور ان کے درمیان جو عظیم تفاوت ہے، اس کو بیان کرنے کے بعد آگاہ فرمایا کہ یہ مجرم دنیا میں اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے، ان کے ساتھ استہزا کرتے اور ان پر ہنستے تھے۔ جب اہل ایمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ مجرم حقارت اور عیب چینی کے ساتھ، باہم اشارے کرتے تھے ۔بایں ہمہ آپ ان کو مطمئن دیکھیں گے خوف ان کے دل میں راہ نہیں پاتا۔﴿ وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ ﴾ ’’اور جب وہ اپنے گھر کو لوٹتے۔‘‘ یعنی صبح و شام ﴿ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَ﴾ تو مسرور اور خوش و خرم لوٹتے۔ یہ سب سے بڑی فریب خوردگی ہے کہ انھوں نے دنیا میں برائی کو امن کے ساتھ اکٹھا کر دیا، گویا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب یا عہد آ گیا ہے کہ وہ اہل سعادت ہیں، انھوں نے اپنے بارے میں حکم لگایا ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں اور اہل ایمان گمراہ لوگ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی اور بلا علم بات کہنے کی جسارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ یعنی ان کو اہل ایمان پر وکیل اور ان کے اعمال کی حفاظت کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ ان پر گمراہی کا بہتان لگانے کی حرص رکھیں، اور یہ ان کی طرف سے محض، عیب جوئی، عناد اور محض کھیل تماشا ہے، اس کی کوئی دلیل ہے نہ برہان۔
[36-34] اس لیے آخرت میں ان کی جزا ان کے عمل کی جنس میں سے ہو گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ﴾ یعنی قیامت کے دن ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾ ’’مومن کافروں سے ہنسی کریں گے۔‘‘ جب وہ ان کو عذاب کی سختیوں میں چلتے پھرتے دیکھیں گے اور وہ سب کچھ جا چکا ہو گا جو وہ بہتان طرازی کیا کرتے تھے، تب ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ اہل ایمان انتہائی راحت و اطمینان میں ﴿ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ﴾ آراستہ اور مزین پلنگوں پر بیٹھے ﴿ يَنۡظُرُوۡنَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔ نیز اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کر رہے ہوں گے۔ ﴿ هَلۡ ثُوِّبَ الۡكُفَّارُ مَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ کیا ان کو ان کے عمل کی جنس میں سے جزا دی گئی؟ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر مومنوں کی ہنسی اڑائی، ان پر گمراہی کا بہتان لگایا، آخرت میں جب مومن ان کو عذاب میں، جو ان کی گمراہی اور ضلالت کی سزا ہے، مبتلا دیکھیں گے تو وہ بھی ان کی ہنسی اڑائیں گے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے عدل اور اس کی حکمت کی بنا پر کفار کو اپنے افعال کا پورا بدلہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے۔