QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Inshiqaq

ٱلِٱنْشِقَاق

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 84 · 25 verses

84:1

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:2

وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:3

وَإِذَا ٱلۡأَرۡضُ مُدَّتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:4

وَأَلۡقَتۡ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:5

وَأَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:6

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدۡحٗا فَمُلَٰقِيهِ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:7

فَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:8

فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابٗا يَسِيرٗا

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:9

وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورٗا

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:10

وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهۡرِهِۦ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:11

فَسَوۡفَ يَدۡعُواْ ثُبُورٗا

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:12

وَيَصۡلَىٰ سَعِيرًا

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:13

إِنَّهُۥ كَانَ فِيٓ أَهۡلِهِۦ مَسۡرُورًا

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:14

إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:15

بَلَىٰٓۚ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرٗا

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب (کے حکم) کے لیے اور اس کے لائق یہی ہے(2) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی(3) اور وہ ڈال دے گی جو کچھ اس میں ہے اور خالی ہو جائے گی(4) اور وہ کان لگائے ہوئے ہے اپنے رب کے لیے اور اس کے لائق بھی یہی ہے(5) اے انسان! بلاشبہ تو سخت محنت کر رہا ہے اپنے رب کی طرف خوب محنت، سو (تو) اس کو ملنے والا ہے(6) پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ اپنے دائیں ہاتھ میں(7) تو عنقریب اس سے حساب لیا جائے گا حساب آسان(8) اور وہ لوٹے گا اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی(9) اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا اعمال نامہ پیچھے پیٹھ اپنی کے(10) تو ضرور وہ پکارے گا ہلاکت کو (11)اور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(12)بلاشبہ وہ تھا (دنیا میں) اپنے اہل (و عیال) میں خوش (13) بلاشبہ اس نے سمجھا تھا کہ ہرگز نہیں لوٹ کر جائے گا وہ (اللہ کی طرف)(14)کیوں نہیں!بلاشبہ اس کا رب تھا اس کو دیکھنے والا (15) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] قیامت کے دن بڑے بڑے اجرام فلکی میں جو تغیرات آئیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:﴿اِذَا السَّمَآءُ انۡشَقَّتۡ﴾ یعنی جب آسمان پھٹ جائے گا اور پھٹ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جائے گا، اس کے ستارے بکھر جائیں گے اور اس کے سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے۔ ﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا﴾ اور وہ اپنے رب کے حکم کو غور سے سنے گا، اس پر کان لگائے گا اور اس کے خطاب کو سنے گا اور اس پر لازم بھی یہی ہے کیونکہ وہ اس عظیم بادشاہ کے دست تسخیر کے تحت مسخر اور مدبر ہے جس کے حکم کی نافرمانی کی جا سکتی ہے نہ اس کے فیصلے کی مخالفت۔ [5-3]﴿وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ﴾ ’’اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔‘‘ یعنی زمین کانپے گی اور ڈر جائے گی، اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور اس پر موجود عمارتیں اور علامتیں ڈھا دی جائیں گی اور زمین کو ہموار اور برابر کر دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ زمین کو اس طرح پھیلا دے گا جس طرح چمڑے کو پھیلایا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ بہت وسیع ہو جائے گی جس میں (اللہ تعالیٰ کے حضور حساب کتاب کے لیے) کھڑے ہونے کے لیے لوگوں کی کثرت کے باوجود پوری گنجائش ہو گی۔ پس زمین ہموار چٹیل میدان بن جائے گی جس میں تجھے کوئی نشیب وفراز نظر نہیں آئے گا۔ ﴿وَاَلۡقَتۡ مَا فِيۡهَا﴾ ’’اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نکال کر ڈال دے گی۔‘‘ یعنی تمام مردوں اور (مدفون) خزانوں کو باہر نکال پھینکے گی ﴿وَتَخَلَّتۡ﴾ اور ان سے خالی ہو جائے گی، کیونکہ جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کر سطح زمین پر آجائیں گے، زمین اپنے خزانوں کو نکال باہر کرے گی اور وہ ایک بہت بڑے ستون کے مانند ہوں گے جن کا مخلوق مشاہدہ کرے گی اور جس چیز کے لیے وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کیا کرتے تھے، اس پر حسرت کا اظہار کریں گے۔﴿وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡؕ۰۰﴾ ’’اور وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی اور اسی کے لائق وہ ہے۔‘‘ [6]﴿يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدۡحًا فَمُلٰقِيۡهِ﴾ ’’ اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی طرف جانے میں کوشاں ہو، اس کے اوامر و نواہی پر عمل کرتے ہو، بھلائی کے ذریعے سے یا برائی کے ذریعے سے اس کے قریب ہورہے ہو ، پھر قیامت کے دن تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، پس تم اس کی طرف سے فضل کے ساتھ یا عدل کے ساتھ جزا سے محروم نہیں ہو گے۔ اگر تم خوش بخت نکلے تو جزا فضل پر مبنی ہو گی اور اگر تم بدبخت نکلے تو سزا عدل پر مبنی ہو گی۔ [9-7] اس لیے اللہ تعالیٰ نے جزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيۡنِهٖ﴾ ’’پس جس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔‘‘ یہ خوش بخت لوگ ہیں ﴿فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا﴾ ’’تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور آسان پیشی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا، حتیٰ کہ بندہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں دنیا میں تیرے گناہوں کو چھپاتا تھا اور آج بھی تیرے گناہوں کو چھپاؤ ں گا۔ ﴿وَّيَنۡقَلِبُ اِلٰۤى اَهۡلِهٖ﴾ اور وہ جنت میں اپنے گھروالوں کی طرف لوٹے گا ﴿ مَسۡرُوۡرًا ﴾ ’’خوش ہوکر۔‘‘ کیونکہ اس نے عذاب سے نجات حاصل کی اور ثواب سے فوز یاب ہوا۔ [15-10]﴿وَاَمَّا مَنۡ اُوۡتِيَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهۡرِهٖ﴾اور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوۡفَ يَدۡعُوۡا ثُبُوۡرًا﴾ یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّيَصۡلٰى سَعِيۡرًا﴾ ’’اور دوزخ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِيۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا﴾ ’’ اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔‘‘ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيۡرًا﴾ ’’ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔‘‘ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
84:16

فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلشَّفَقِ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:17

وَٱلَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:18

وَٱلۡقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:19

لَتَرۡكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:20

فَمَا لَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:21

وَإِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقُرۡءَانُ لَا يَسۡجُدُونَۤ۩

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:22

بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:23

وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يُوعُونَ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:24

فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔
84:25

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونِۭ

پس قسم کھاتا ہوں میں شفق کی (16) اور رات کی اور جو کچھ وہ جمع کرتی (سمیٹتی) ہے (17) اور چاند کی جب وہ پورا ہو جاتا ہے (18) یقیناً تم ضرور سوا رہو گے (پہنچو گے) ایک حال پر بعد دوسرے حال کے(19) پس کیا ہے ان (کافروں) کو کہ نہیں ایمان لاتے وہ؟ (20) اور جب پڑھا جاتا ہے ان پر قرآن تو نہیں سجدہ کرتے وہ (21)بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا وہ جھٹلاتے ہیں (22) اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ (سینوں میں) محفوظ رکھتے ہیں (23) پس خوشخبری دے دیجیے ان کو عذاب درد ناک کی(24)مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے اجر ہے نہ ختم ہونے والا (25) [19-16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مقام پر رات کی نشانیوں کی قسم کھائی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے شفق کی قسم کھائی جو سورج کی باقی ماندہ روشنی ہے، جس سے رات کا افتتاح ہوتا ہے۔ ﴿ وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَ﴾ ’’اور رات کی اور ان چیزوں کی قسم جن کو وہ اکھٹا کر لیتی ہے۔‘‘ یعنی جو حیوانات وغیرہ کو اکٹھا کر تی ہے ﴿ وَالۡقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ﴾ اور چاند کی جب چاند ماہ کامل بن جانے پر نور سے لبریز ہو جائے، اس وقت چاند خوبصورت ترین اور انتہائی منفعت بخش ہوتا ہے۔ اور جس پر قسم کھائی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿ لَـتَرۡؔكَبُنَّ﴾ اے لوگو! تم گزرتے ہو ﴿ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ﴾ ’’متعدد اور متباین اطوار و احوال میں سے ۔‘‘ یعنی نطفے سے جمے ہوئے خون کی حالت تک اور بوٹی سے روح پھونکے جانے تک، پھر بچہ ہوتا ہے، بچے سے لڑکا اور پھر ممیز لڑکا بن جاتا ہے، پھر اس پر تکلیف اور امر و نہی کا قلم جاری ہوتا ہے ، پھر وہ مر جاتا ہے، پھر اسے اس کے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی۔بندے پر گزرنے والے یہ مختلف مراحل، دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود ہے۔ وہ اکیلا ہی اپنی حکمت و رحمت سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے، نیز یہ کہ بندہ محتاج اور عاجز اور غالب و مہربان کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ [24-20] بایں ہمہ بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے ﴿ وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ﴾ ’’اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی قرآن کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں نہ اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرتے ہیں۔ ﴿ بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُكَذِّبُوۡنَ﴾ بلکہ کفار حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھتے ہیں، اس لیے قرآن پر ان کا عدم ایمان اور قرآن کے لیے ان کی عدم اطاعت کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ عناد کی بنا پر حق کی تکذیب کرنے والے کے لیے اس بارے میں کوئی حیلہ نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُوۡعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں یا وہ اپنی نیت میں چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے ۔پس عنقریب وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’پس انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔‘‘ بشارت کو بشارت اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مسرت اور غم کے اعتبار سے جلد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ [25] یہ ہے اکثر لوگوں کا حال، قرآن کی تکذیب اور اس پر عدم ایمان کے اعتبار سے۔ لوگوں میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا، پس وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور انھوں نے اس چیز کو قبول کر لیا جو رسول لے کر آئے، پس وہ ایمان لائے اور نیک کام کیے۔ یہی وہ لوگ ہیں ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ﴾ جن کے لیے بے انتہا، یعنی کبھی بھی منقطع نہ ہونے والا اجر بلکہ دائمی اجر ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے تصور ہی میں اس کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔