QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Infitar

ٱلِٱنْفِطَار

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 82 · 19 verses

82:1

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔
82:2

وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔
82:3

وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔
82:4

وَإِذَا ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔
82:5

عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ وَأَخَّرَتۡ

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5) تفسیر سورۂ انفطار (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔
82:6

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلۡكَرِيمِ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:7

ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:8

فِيٓ أَيِّ صُورَةٖ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:9

كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:10

وَإِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحَٰفِظِينَ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:11

كِرَامٗا كَٰتِبِينَ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:12

يَعۡلَمُونَ مَا تَفۡعَلُونَ

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12) [8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘ [12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔
82:13

إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
82:14

وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
82:15

يَصۡلَوۡنَهَا يَوۡمَ ٱلدِّينِ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
82:16

وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِينَ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
82:17

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
82:18

ثُمَّ مَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
82:19

يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡـٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19) [19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔