QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

At-Takwir

ٱلتَّكْوِير

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 81 · 29 verses

81:1

إِذَا ٱلشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:2

وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:3

وَإِذَا ٱلۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:4

وَإِذَا ٱلۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:5

وَإِذَا ٱلۡوُحُوشُ حُشِرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:6

وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:7

وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:8

وَإِذَا ٱلۡمَوۡءُۥدَةُ سُئِلَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:9

بِأَيِّ ذَنۢبٖ قُتِلَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:10

وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:11

وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:12

وَإِذَا ٱلۡجَحِيمُ سُعِّرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:13

وَإِذَا ٱلۡجَنَّةُ أُزۡلِفَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:14

عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّآ أَحۡضَرَتۡ

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا(1) اور جب تارے جھڑ جائیں گے(2) اور جب پہاڑ چلا دیے جائیں گے(3) اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بے کار چھوڑ دی جائیں گی(4) اور جب وحشی جانور اکٹھے کیے جائیں گے(5) اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے(6) اور جب روحیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی(7) اور جب زندہ درگور کی ہوئی(بچی) سوال کی جائے گی(8)کس گناہ کی وجہ سے وہ قتل کی گئی تھی ؟(9) اور جب اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے (10) اور جب آسمان کی کھال اتار دی جائے گی (11) اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی (12) اور جب جنت قریب کر دی جائے گی (13) تو جان لے گا ہر نفس جو کچھ اس نے حاضر کیا (14) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [14-1] یعنی جب یہ ہولناک امور ظاہر ہوں گے تو مخلوق جدا جدا ہو جائے گی، ہر ایک کو علم ہو جائے گا کہ اس نے اپنی آخرت کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور آخرت میں اس نے کیا بھلائی اور برائی پیش کی ہے، یہ اس وقت ہو گا جب قیامت کے روز سورج بے نور ہو جائے گا، اس کو اکٹھا کر کے لپیٹ دیا جائے گا اور چاند کو گرہن لگ جائے گا اور دونوں کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا النُّجُوۡمُ انۡكَدَرَتۡ﴾ ’’اور جب تارے بے نور ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی متغیر ہو جائیں گے اور اپنے افلاک سے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ ﴿وَاِذَا الۡجِبَالُ سُيِّرَتۡ﴾ ’’اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔‘‘ یعنی ریت کے بھر بھرے ٹیلے بن جائیں گے، پھر دھنکی ہوئی رنگ دار اون کی مانند بن جائیں گے، پھر بدل کر اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور ان کو اپنی جگہوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ ﴿وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ﴾ ’’اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی۔‘‘ یعنی جب لوگ اپنے بہترین اموال کو بے کار چھوڑ دیں گے، جن کا وہ ہر وقت بہت اہتمام اور دھیان رکھا کرتے تھے، پس ان پر ایسا وقت آئے گا جو ان کو ان اموال سے غافل کر دے گا۔ عِشَارٌ ایسی اونٹنیوں کو کہا جاتا ہے جن کے پیچھے ان کے بچے ہوتے ہیں، یہ عربوں کا بہترین مال تصور کیا جاتا ہے، جو اس وقت ان کے پاس ہوتا تھا ، اس معنی کے مطابق ہر نفیس مال۔ ﴿وَاِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ﴾ ’’اور جب وحشی جانور اکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جمع کیے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک کو دوسرے سے قصاص لے کر دے اور بندے اس کے کمال عدل کا مشاہدہ کریں۔ حتیٰ کہ وہ بے سینگ بکری کو سینگ والی بکری سے قصاص دلائے گا، پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جا۔ ﴿وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ﴾ ’’اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن کر بھڑک اٹھیں گے۔ ﴿وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ﴾ ’’اور جب روحیں ملادی جائیں گی۔‘‘ یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنا دیا جائے گا۔ پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا، اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنا دیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍72) ’’ اور کافروں کو گروہ گروہ بناکر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘ اور ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾(الزمر:39؍73)’’اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بناکر جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔‘‘﴿ اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾(الصافات:37؍22)’’ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم جنسوں کو اکٹھا کرو۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَةُ سُىِٕلَتۡ﴾ زمانہ جاہلیت کے جہلاء بیٹیوں کو فقیری کے ڈر سے کسی سبب کے بغیر زندہ دفن کر دیا کرتے تھے، پس اس زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا:﴿ بِاَيِّ ذَنۢۡبٍ قُتِلَتۡ﴾ ’’کہ وہ کسی گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ان بیٹیوں کا کوئی گناہ نہیں تھا، مگر اس (کے ذکر) میں بیٹیوں کے قاتلین کے لیے زجر و توبیخ اور جھڑکی ہے۔ ﴿ وَاِذَا الصُّحُفُ ﴾ اور جب وہ اعمال نامے جو عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال پر مشتمل ہوں گے ﴿ نُشِرَتۡ﴾ان کو الگ الگ کر کے عمل کرنے والوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ پس کسی نے اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا اور کسی نے بائیں ہاتھ میں لے رکھا ہو گا یا اپنی پیٹھ پیچھے چھپا رکھا ہو گا۔﴿ وَاِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتۡ﴾ ’’اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔‘‘ یعنی آسمان کو زائل کر دیا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ ﴾(الفرقان:25؍25) ’’جس روز آسمان بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا۔‘‘ فرمایا :﴿ يَوۡمَ نَطۡوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلۡكُتُبِ ﴾(الأنبیاء: 21؍104) ’’جس روز ہم آسمانوں کو یوں لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کا دفتر لپیٹ دیتے ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَالۡاَرۡضُ جَمِيۡعًا قَبۡضَتُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطۡوِيّٰتٌۢ بِيَمِيۡنِهٖ ﴾(الزمر:39؍67)’’قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘﴿ وَاِذَا الۡؔجَحِيۡمُ سُعِّرَتۡ﴾ جب جہنم میں آگ جلائی جائے گی اور جہنم بھڑک کر اتنا شعلہ زن ہو جائے گا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا نہ تھا۔ ﴿ وَاِذَا الۡؔجَنَّةُ اُزۡلِفَتۡ﴾ یعنی جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی۔ ﴿ عَلِمَتۡ نَفۡسٌ ﴾ تو ہر نفس جان لے گا، نَفْسٌ کا لفظ عام ہے کیونکہ اسے شرط کے سیاق میں (نکرہ) لایا گیا ہے ﴿ مَّاۤ اَحۡضَرَتۡ﴾ یعنی وہ اعمال جو اس کے پاس موجود ہوں گے اور جو اس نے آگے بھیجے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے ، ان کو وہ موجود پائیں گے۔‘‘یہ اوصاف جن سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کو موصوف کیا ہے، ایسے اوصاف ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں، کرب میں شدت آ جاتی ہے، جسم کانپنے لگتا ہے، خوف چھا جاتا ہے، یہ اوصاف خرد مند لوگوں کو اس دن کے لیے تیاری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ہر اس کام سے روکتے ہیں جو ملامت کا موجب ہے۔ اسی لیے سلف میں سے کسی کا قول ہے: جو کوئی قیامت کے دن کو اسی طرح دیکھنا چاہے، گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، تو وہ سورۂ تکویر میں تدبر کرے۔
81:15

فَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلۡخُنَّسِ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:16

ٱلۡجَوَارِ ٱلۡكُنَّسِ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:17

وَٱلَّيۡلِ إِذَا عَسۡعَسَ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:18

وَٱلصُّبۡحِ إِذَا تَنَفَّسَ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:19

إِنَّهُۥ لَقَوۡلُ رَسُولٖ كَرِيمٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:20

ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي ٱلۡعَرۡشِ مَكِينٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:21

مُّطَاعٖ ثَمَّ أَمِينٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:22

وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجۡنُونٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:23

وَلَقَدۡ رَءَاهُ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡمُبِينِ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:24

وَمَا هُوَ عَلَى ٱلۡغَيۡبِ بِضَنِينٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:25

وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطَٰنٖ رَّجِيمٖ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:26

فَأَيۡنَ تَذۡهَبُونَ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:27

إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:28

لِمَن شَآءَ مِنكُمۡ أَن يَسۡتَقِيمَ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔
81:29

وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

پس قسم کھاتا ہوں میں پیچھے ہٹنے والے (15) چلنے والے، چھپ جانے والے تاروں کی (16) اور رات کی جب وہ چلی جاتی ہے (17) اور صبح کی جب وہ روشن ہوتی ہے (18) بلاشبہ یہ (قرآن) ، البتہ قول ہے رسول کریم (جبریل) کا(19) جو قوت والا ہے نزدیک عرش والے کے بلند مرتبہ ہے (20) اطاعت کیا جاتا ہے وہاں (آسمانوں میں)، امین ہے (21) اور نہیں ساتھی تمھارا دیوانہ (22) اور البتہ تحقیق اس (نبی) نے دیکھا ہے اس (جبریل) کو کھلے کنارے میں (23) اور نہیں ہے وہ غیب (کی باتوں) پر بخیل (24) اور نہیں ہے یہ (قرآن) قول کسی شیطان مردود کا (25) پس کہاں جاتے ہوتم؟ (26) نہیں ہے یہ (قرآن کچھ اور) مگر نصیحت جہانوں کے لیے(27) واسطے اس شخص کے جو چاہے تم میں سے یہ کہ وہ سیدھا چلے (28) اور نہیں چاہتے تم مگر یہ کہ چاہے اللہ رب العالمین (29) [15، 16] اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے والے ستاروں کی قسم کھائی ہے ﴿ بِالۡخُنَّسِ﴾ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو مشرق کی جہت میں، کواکب کی عادی رفتار سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ہفت سیارگان یہ ہیں: سورج، چاند، زہرہ، مشتری، مریخ، زحل اور عطارد۔ ان ساتوں سیاروں کاچلنا دو جہتوں میں ہے۔ ایک چلنا مغرب کی جہت میں تمام کواکب اور فلک کے ساتھ اورایک چلنا اس جہت کے برعکس مشرق کی جہت میں، یہ چلنا صرف انھی سات سیاروں کے ساتھ مختص ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کے پیچھے ہٹنے کے حال میں، ان کے چلنے اور ان کے چھپ جانے یعنی دن کے وقت مستور ہونے کے حال کی قسم کھائی ہے اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تمام کواکب اور سیارے وغیرہ ہوں۔ [17، 18]﴿ وَالَّيۡلِ اِذَا عَسۡعَسَ﴾ یعنی رات کی قسم جب وہ جانے لگے، اور کہا جاتا ہے کہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ جب رات آنے لگے۔﴿ وَالصُّبۡحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ یعنی جب صبح کی علامات ظاہر ہونے لگیں اور روشنی تھوڑی تھوڑی پھوٹنے لگے، یہاں تک کہ مکمل ہو جائے اور سورج نکل آئے۔ [19] یہ بڑی بڑی نشانیاں جن کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے، قرآن کی سند کی قوت، اس کی جلالت اور ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی بنا پر ہے۔اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍ﴾ ’’بے شک یہ معزز فرشتے کا قول ہے۔‘‘ اور وہ ہیں جبریلu جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے لے کر نازل ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَتَنۡزِيۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَؕ۰۰ نَزَلَ بِهِ الرُّوۡحُ الۡاَمِيۡنُۙ۰۰ عَلٰى قَلۡبِكَ لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍192-194) ’’یہ قرآن رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے، اسے روح الامین لے کر نازل ہوئے آپ کے قلب پر تاکہ آپ تنبیہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے اچھے اخلاق اور قابل تعریف خصائل کی وجہ سے﴿ كَرِيۡمٌ﴾ کی صفت سے موصوف کیا ہے کیونکہ یہ فرشتوں میں سب سے افضل اور اپنے رب کے ہاں سب سے بڑے رتبے کا حامل ہے۔ [20]﴿ ذِيۡ قُوَّةٍ﴾ اللہ تعالیٰ نے اسے جو حکم دیا، اس کی تعمیل کی قوت اور طاقت رکھنے والا ہے۔ یہ جبریل uکی قوت تھی کہ انھوں نے لوط uکی قوم کی بستیوں کو ان پر الٹ کر ان کو ہلاک کر دیا۔ ﴿ عِنۡدَ ذِي الۡعَرۡشِ﴾ ’’عرش والے کے پاس‘‘ یعنی جبریل uاللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی خاص اور بلند قدر و منزلت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مختص کیا ہے ﴿مَكِيۡنٍ﴾ یعنی تمام ملائکہ سے بڑھ کر ان کی قدر و منزلت ہے۔ [21]﴿مُّطَاعٍ ثَمَّ﴾ یعنی ملأ اعلیٰ میں جبریل uکی اطاعت کی جاتی ہے،ان کے پاس مقرب فرشتوں کی ایک جماعت ہے جن پر ان کا حکم نافذ ہوتا ہے اور ان کی رائے کی اطاعت کی جاتی ہے ﴿ اَمِيۡنٍ﴾ یعنی امانت دار ہیں، ان کو جو حکم دیا جاتا ہے، اس کی تعمیل کرتے ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، اور جو حدود ان کے لیے مقرر کی گئی ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرآن کریم کے شرف پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ایک عالی مرتبہ فرشتے کو بھیجا، جو ان صفات کاملہ سے موصوف ہے، عام عادت یہ ہے کہ بادشاہ کسی عالی مرتبہ ہستی کو اہم ترین مہم اور بلند مرتبہ پیغام ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں۔ [22] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ملکی کی جو قرآن لے کر آیا، فضیلت بیان کرنے کی بعد رسول بشری کی فضیلت کا ذکر کیا، جس پر قرآن نازل ہوا اور جس کی طرف اس نے لوگوں کو دعوت دی، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے ساتھی نہیں ہیں۔‘‘ اور وہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ ﴿ بِمَجۡنُوۡنٍ﴾ ’’مجنون‘‘ جیسا کہ آپ کی رسالت کو جھٹلانے والے، آپ کے دشمن کہتے ہیں، آپ کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے ہیں، جن کے ذریعے سے وہ اس نور کو بجھا دینا چاہتے ہیں، جسے لے کر آپ آئے ہیں بلکہ آپ تو عقل میں سب سے زیادہ کامل، رائے میں سب سے زیادہ صائب اور قول میں سب سے زیادہ سچے ہیں۔ [23]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِيۡنِ﴾ یعنی حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے جبریل uکو دیکھا جبکہ وہ آسمان کے کھلے افق پر تھے، جو اتنا بلند ہوتا ہے کہ آنکھ کو واضح نظر آتا ہے۔ [24]﴿ وَمَا هُوَ عَلَى الۡغَيۡبِ بِضَنِيۡنٍ﴾ ’’اور وہ پوشیدہ باتوں کے بتانے میں بخیل نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ اس کے بارے میں بخیل نہیں ہیں کہ اس میں سے کچھ چھپا لیں بلکہ آپ (ﷺ) تو آسمان والوں اور زمین والوں کے امین ہیں، جنھوں نے اپنے رب کی رسالت کو کھلے طور پر پہنچا دیا بلکہ آپ نے رسالت میں سے کسی چیز کو پہنچانے میں کسی مال دار، کسی محتاج، کسی رئیس، کسی رعیت، کسی مرد، کسی عورت، کسی شہری اور کسی دیہاتی سے کبھی بخل سے کام نہیں لیا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک ان پڑھ اور جاہل امت میں مبعوث کیا۔جب آپ نے وفات پائی تو یہ لوگ علمائے ربانی اور دانش مندان ذی فراست بن چکے تھے۔ تمام علوم کی غایت و انتہا یہی لوگ تھے اور دقائق و مفاہیم کے استخراج میں یہی منتہیٰ تھے، یہ لوگ اساتذہ تھے اور دیگر لوگوں کی انتہا یہ ہے کہ وہ ان کے تلامذہ تھے۔ [25]﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو مکرم رسولوں کا ذکر کر کے اپنی کتاب کی جلالت اور فضیلت کا ذکر کیا اور ان کی مدح و ثنا کی، جن کے ذریعے سے یہ کتاب لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچی، اس لیے اس نے اس کتاب سے ہر آفت اور ہر نقص کو دور ہٹا دیا جو اس کی صداقت میں قادح ہو سکتا ہے، بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَيۡطٰنٍ رَّجِيۡمٍ﴾ ’’اوریہ شیطان مردود کا کلام نہیں۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے قرب سے بہت دور ہے۔ [26]﴿ فَاَيۡؔنَ تَذۡهَبُوۡنَ﴾ ’’ پھر تم کدھر جارہے ہو۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں یہ بات کیسے آئی اور تمھاری عقل کہاں چلی گئی کہ تم نے حق کو جو صداقت کے بلند ترین درجے پر ہے، بمنزلہ جھوٹ قرار دے دیا، جو سب سے گھٹیا، سب سے رذیل اور سب سے اسفل باطل ہے ۔ کیا یہ حقائق کو بدلنے کے سوا کچھ اور ہے؟ [27]﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’یہ تو جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘ یعنی جس کے ذریعے سے وہ اپنے رب، اس کی صفات کمال اور ان صفات کو یاد رکھتے ہیں جن کے ذریعے سے تمام نقائص، رذائل اور امثال سے اس کی تنزیہہ ثابت ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے وہ اوامر و نواہی اور ان کے حکم کو یاد رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے سے احکام قدریہ، احکام شرعیہ اور احکام جزائیہ کو یاد رکھتے ہیں۔ وہ بالجملہ دنیا و آخرت کے مصالح کو یاد رکھتے ہیں اور عمل کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت کو پالیتے ہیں۔ [28]﴿ لِمَنۡ شَآءَ مِنۡكُمۡ اَنۡ يَّسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے۔‘‘ گمراہی میں سے رشد اور ضلالت میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد۔ [29]﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اور تم بغیر پروردگار عالم کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔‘‘ پس اس کی مشیت نافذ ہے، ممکن نہیں کہ اس کی مشیت کی مخالفت کی جا سکے یا اس کو روکا جا سکے۔ اس آیت کریمہ اور اس جیسی دیگر آیات میں دو فرقوں، یعنی قدریہ اور جبریہ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرتے ہیں، کا رد ہے۔ جیسا کہ اس کی مثالیں گزر چکی ہیں ۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔