QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

'Abasa

عَبَسَ

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 80 · 42 verses

80:1

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:2

أَن جَآءَهُ ٱلۡأَعۡمَىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:3

وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:4

أَوۡ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكۡرَىٰٓ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:5

أَمَّا مَنِ ٱسۡتَغۡنَىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:6

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:7

وَمَا عَلَيۡكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:8

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسۡعَىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:9

وَهُوَ يَخۡشَىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:10

فَأَنتَ عَنۡهُ تَلَهَّىٰ

ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا: [10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔
80:11

كَلَّآ إِنَّهَا تَذۡكِرَةٞ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:12

فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:13

فِي صُحُفٖ مُّكَرَّمَةٖ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:14

مَّرۡفُوعَةٖ مُّطَهَّرَةِۭ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:15

بِأَيۡدِي سَفَرَةٖ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:16

كِرَامِۭ بَرَرَةٖ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:17

قُتِلَ ٱلۡإِنسَٰنُ مَآ أَكۡفَرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:18

مِنۡ أَيِّ شَيۡءٍ خَلَقَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:19

مِن نُّطۡفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:20

ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:21

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقۡبَرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:22

ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:23

كَلَّا لَمَّا يَقۡضِ مَآ أَمَرَهُۥ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:24

فَلۡيَنظُرِ ٱلۡإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:25

أَنَّا صَبَبۡنَا ٱلۡمَآءَ صَبّٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:26

ثُمَّ شَقَقۡنَا ٱلۡأَرۡضَ شَقّٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:27

فَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا حَبّٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:28

وَعِنَبٗا وَقَضۡبٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:29

وَزَيۡتُونٗا وَنَخۡلٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:30

وَحَدَآئِقَ غُلۡبٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:31

وَفَٰكِهَةٗ وَأَبّٗا

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:32

مَّتَٰعٗا لَّكُمۡ وَلِأَنۡعَٰمِكُمۡ

ہرگز نہیں! بلاشبہ یہ تو ایک نصیحت ہے (11) سو جو چاہے وہ یاد کرے اسے (12)(وہ محفوظ ہے) قابل احترام صحیفوں میں (13) بلند مرتبہ پاکیزہ (14) ہاتھوں میں ایسے لکھنے والوں کے (15) جو معزز، نیکو کار ہیں (16) ہلاک کیا جائے انسان کس قدر ناشکرا ہے؟ (17) کس چیز سے اس (اللہ) نے پیدا کیا اس کو؟ (18) ایک نطفے سے پیدا کیا اس کو ، پھر اس نے اندازہ لگایا اس کا(19) پھر راستہ آسان کر دیا اس کا (20) پھر موت دی اسے اور قبر میں لے گیا اس کو (21) پھر جب وہ چاہے گا (دوبارہ) زندہ کر دے گا اسے (22) ہرگز نہیں! ابھی نہیں پورا کیا اس نے اس کو جو حکم دیا اللہ نے اسے (23) پس چاہیے کہ دیکھے انسان اپنے کھانے کی طرف (24) کہ بلاشبہ ہم نے برسایا پانی (مینہ) خوب برسانا (25) پھر پھاڑا ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑنا (26) پس اگایا ہم نے اس میں اناج (27) اور انگور اور سبزیاں (28) اور زیتون اور کھجور(29) اور باغات گھنے (30) اور پھل اور خود رو چارہ (31) فائدے کے لیے واسطے تمھارے اور تمھارے چوپایوں (جانوروں) کے (32) [16-11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذۡكِرَةٌ﴾ ’’دیکھو یہ نصیحت ہے۔‘‘ یعنی حق بات یہ ہے کہ یہ نصیحت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی ہے، جس سے اس کے بندے نصیحت کو یاد رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہر وہ چیز بیان کر دی ہے جس کے بندے حاجت مند ہیں اور اس نے گمراہی میں سے رشد و ہدایت کو واضح کر دیا ہے۔ جب رشد و ہدایت واضح ہو گئی ﴿ فَمَنۡ شَآءَ ذَكَرَهٗ﴾ ’’تو جو چاہے اس کو یاد رکھے۔‘‘ یعنی اس پر عمل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ﴾(الکہف:18؍29) ’’کہہ دیجیے، حق تمھارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے، انکار کر دے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس تذکیر کا محل، اس کی عظمت اور اس کی رفعت قدر کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فِيۡ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ۰۰ مَّرۡفُوۡعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ﴾ ’’قابل ادب ورقوں میں، جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں۔‘‘ یعنی قدر و منزلت میں بلند، تمام آفات سے سلامت اور اس بات سے محفوظ کہ شیاطین کے ہاتھ اس تک پہنچ سکیں یا وہ اسے چرا سکیں۔ بلکہ یہ ﴿ بِاَيۡؔدِيۡ سَفَرَةٍ﴾ ’’لکھنے والے کے ہاتھوں میں ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان سفیر ہیں ﴿ كِرَامٍۭؔ﴾ یعنی وہ بہت زیادہ خیر و برکت والے ہیں ﴿ بَرَرَةٍ﴾ ان کے دل اور اعمال نیک ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی کتاب کی حفاظت کے لیے ہے۔ اس نے بزرگ، طاقتور اور نیک فرشتوں کو رسولوں کے پاس بھیجنے کے لیے سفیر بنایا اور شیاطین کو اس پر کوئی اختیار نہیں دیا۔یہ چیز اس پر ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کی موجب ہے۔ [23-17] لیکن اس کے باوجود انسان نے ناشکری ہی کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَكۡفَرَهٗ﴾ ’’انسان ہلاک ہوجائے کیسا ناشکرا ہے۔‘‘ اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی کیسے ناشکری کی، حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ کتنا شدید عناد رکھا، حالانکہ وہ کمزور ترین چیز ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے ایک حقیر پانی سے پیدا کیا، پھر اس کی تخلیق کا اندازہ مقرر کیا اور اسے نک سک سے درست کر کے کامل انسان بنایا اور اس کے ظاہری اور باطنی قویٰ کو مہارت سے بنایا۔ ﴿ ثُمَّ السَّبِيۡلَ يَسَّرَهٗ﴾ یعنی اس کے لیے دینی اور دنیاوی اسباب آسان کر دیے، اس کو سیدھا راستہ دکھایا اور اس کو واضح کر دیا اور امر و نہی کے ذریعے سے اس کو امتحان میں ڈالا ﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقۡبَرَهٗ﴾ ’’ پھر اس کو موت دی، پھر قبر میں دفن کرادیا۔‘‘ یعنی تدفین کے ذریعے سے اس (کے مردہ جسم) کی تکریم کی اور تمام حیوانات کی طرح اس کے ساتھ سلوک نہیں کیا، جن کی لاشیں سطح زمین پر پڑی رہتی ہیں ﴿ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَهٗ﴾ پھر اس کی موت کے بعد وہ جب چاہے گا جزا و سزا کے لیے اس کو اٹھا کھڑا کرے گا۔ پس انسان کی تدبیر کرنے اور ان کے تصرفات میں اللہ تعالیٰ متفرد ہے، اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے وہ اس کی تعمیل نہیں کرتا اور نہ وہ اس فرض ہی کو پورا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ طلب کے تحت ہمیشہ کوتاہی کا مرتکب رہتا ہے۔ [32-24] پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کھانے میں غور و فکر کرے کہ وہ متعدد مراحل میں سے گزرنے کے بعد کس طرح اس کے پاس پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کھانے کو اس کے لیے آسان بنایا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَلۡيَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا﴾ ’’پس انسان کو چاہیے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔ بے شک ہم ہی نے پانی برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے زمین پر بکثرت بارش برسائی ﴿ ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا﴾ ، پھر نباتات اگانے کے لیے زمین کو پھاڑا ﴿ فَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا ﴾ اس میں ہم نے مختلف اصناف اگائیں یعنی انواع و اقسام کے لذیذ کھانے اور مزیدار غذائیں اور ﴿حَبًّا﴾ ’’دانے۔‘‘ یہ مختلف قسم کے دانوں کی تمام اصناف کو شامل ہے۔﴿ وَّعِنَبًا وَّقَضۡبًا﴾’’اور انگور اور ترکاری‘‘ ﴿ وَّزَيۡتُوۡنًا وَّنَخۡلًا﴾ ’’اور زیتون اور کھجور‘‘ ان مذکورہ چار اجناس کو ان کے فوائد اور منافع کی کثرت کی بنا پر مختص کیا ہے ﴿ وَّحَدَآىِٕقَ غُلۡبًا﴾ یعنی باغات، جن کے اندر بکثرت گھنے درخت ہیں ﴿ وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا﴾ اَلْفَاکِھَۃُ ان پھلوں کو کہا جاتا ہے جن کو انسان لذت حاصل کرنے کے لیے کھاتا ہے ، مثلاً: انجیر، انگور، آڑو اور انار وغیرہ۔ اَلْأَبّ ’’چارا‘‘ جسے بہائم اور مویشی کھاتے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ مَّتَاعًا لَّـكُمۡ وَلِاَنۡعَامِكُمۡ﴾ ’’تمھارے اور تمھارے چوپایوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے تمھارے لیے مسخر کر دیا۔ جو کوئی ان نعمتوں میں غور کرتا ہے تو یہ غور و فکر اس کے لیے اپنے رب کے شکر، اس کی طرف انابت میں جدوجہد کرنے کا، اس کی اطاعت کی طرف آنے اور اس کی اخبار کی تصدیق کرنے کا موجب بنتا ہے۔
80:33

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:34

يَوۡمَ يَفِرُّ ٱلۡمَرۡءُ مِنۡ أَخِيهِ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:35

وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:36

وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:37

لِكُلِّ ٱمۡرِيٕٖ مِّنۡهُمۡ يَوۡمَئِذٖ شَأۡنٞ يُغۡنِيهِ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:38

وُجُوهٞ يَوۡمَئِذٖ مُّسۡفِرَةٞ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:39

ضَاحِكَةٞ مُّسۡتَبۡشِرَةٞ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:40

وَوُجُوهٞ يَوۡمَئِذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٞ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:41

تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔
80:42

أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَفَرَةُ ٱلۡفَجَرَةُ

پس جب آئے گی کان بہرے کر دینے والی سخت آواز(33)اس دن بھاگے گا آدمی اپنے بھائی سے(34)اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (35) اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (36) ہر مرد کے لیے ان میں سے اس دن ایک حال ہو گا کہ وہ بے پروا کر دے گا اس کو (دوسروں سے)(37) کئی چہرے اس دن چمکنے والے (روشن) ہوں گے (38) ہشاش بشاش(39) اور کئی چہرے اس دن ان پر غبار ہو گا (40) ڈھانپتی ہو گی ان کو سیاہی (41) یہی لوگ ہیں کافر فاجر (42) [42-33] یعنی جب قیامت کی چنگھاڑ آئے گی، جس کے ہول سے کان بہرے ہو جائیں گے اس روز لوگ قیامت کی ہولناکیاں دیکھیں گے اور انھیں اعمال کی سخت ضرورت ہو گی تو دل دہل جائیں گے۔ ﴿ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ ﴾ انسان اس شخص سے بھی بھاگے گا جو اسے سب سے عزیز اور اس کے لیے سب سے زیادہ شفیق ہے ﴿مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ ﴾ ’’اپنے بھائی سے ، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے اوراپنی بیوی سے‘‘ ﴿ وَبَنِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بیٹوں سے‘‘ اور اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾ اسے خود اپنی پڑی ہو گی اور وہ خود اپنے آپ کو چھڑانے کے لیے فکر مند ہو گا، اور وہ کسی دوسری طرف التفات نہیں کر سکے گا۔ اس وقت مخلوق دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی، خوش بختوں کا گروہ اور بدبختوں کا گروہ، رہے خوش بخت لوگ تو ان کے چہرے اس روز ﴿مُّسۡفِرَةٌ﴾ ’’روشن ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے چہروں پر مسرت اور تر و تازگی نمایاں ہو گی، کیونکہ انھیں اپنی نجات اور نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا ہو گا ﴿ ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌ۰۰ وَوُجُوۡهٌ ﴾ ’’وہ چہرے خنداں و شاداں ہوں گے اور کئی چہرے۔‘‘ یعنی بدبختوں کے چہرے ﴿ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا ﴾ اس روز غبار آلود ہوں گے اور انھیں ڈھانپ رکھا ہو گا ﴿ قَتَرَةٌ ﴾ ’’سیاہی نے۔‘‘ پس یہ چہرے سیاہ اور نہایت تاریک ہوں گے اور ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے اور انھیں اپنی بدبختی اور ہلاکت کا علم ہو گیا ہو گا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ جن کا یہ وصف ہے، یہی وہ لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی، اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کے طلب گار ہیں، وہ بڑا ہی فیاض اور نہایت کرم والا ہے۔