al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 8 · 75 verses
8:1يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡأَنفَالِۖ قُلِ ٱلۡأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَصۡلِحُواْ ذَاتَ بَيۡنِكُمۡۖ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
8:2إِنَّمَا ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَإِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
8:3ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
8:4أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)
[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔
[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ تدبر، اعمال قلوب میں شمار ہوتا ہے نیز ان کے لیے معانی کی بھی توضیح ہوتی ہے جن سے وہ لاعلم ہیں اور ان کو ان امور کی یاددہانی ہوتی ہے جن کو وہ فراموش کر چکے ہیں یا ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور اپنے رب کے اکرام و تکریم کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے یا ان کے دل میں عذاب سے خوف اور معاصی سے ڈر پیدا ہوتا ہے اور ان تمام امور سے ایمان بڑھتا ہے۔﴿ وَّعَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب پر‘‘ یعنی اپنے رب وحدہ لا شریک پر ﴿ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ ’’وہ بھروسہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دینی اور دنیاوی مضرتوں کو دور کرنے میں اپنے دلوں میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں اور انھیں پورا وثوق ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام ضرور کرے گا۔ توکل ہی انسانوں کو تمام اعمال پر آمادہ کرتا ہے توکل کے بغیر اعمال وجود میں آتے ہیں نہ تکمیل پا سکتے ہیں ۔
[3]﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’جو نماز پڑھتے ہیں ۔‘‘ فرض اور نفل نماز کو، اس کے ظاہری اور باطنی اعمال، مثلاً: حضور قلب، جو کہ نماز کی روح اور اس کا مغز ہے، کے ساتھ قائم کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ نفقات واجبہ ، مثلاً:زکاۃ، کفارہ، بیویوں ، اقارب اور غلاموں پر خرچ کرتے ہیں اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: بھلائی کے تمام راستوں میں صدقہ کرتے ہیں ۔
[4]﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا﴾ ’’وہی حقیقی مومن ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اسلام اور ایمان، اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ، علم اور عمل اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کو جمع کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اعمال قلوب کو مقدم رکھا ہے کیونکہ اعمال قلوب، اعمال جوارح کی بنیاد اور ان سے افضل ہیں ۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔ نیکی کے افعال سے ایمان بڑھتا ہے اور اس کے متضاد افعال سے ایمان گھٹتا ہے۔ نیز بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کرے اور اس کو نشوونما دے اور یہ مقصد کتاب اللہ میں تدبر اور اس کے معانی میں غور و فکر کرنے سے بدرجہ اولیٰ حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے حقیقی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَهُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات بلند ہوں گے۔ ﴿ وَمَغۡفِرَةٌ ﴾ اور ان کے گناہوں کی بخشش ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یہ وہ روزی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اکرام و عزت والے گھر میں اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی ہے نہ کسی کان نے سنی ہے اور نہ کسی بشر کا طائر خیال وہاں تک پہنچا ہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی ایمان میں ان کے درجے تک نہیں پہنچ پاتا، وہ اگرچہ جنت میں داخل ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی کرامت تامہ جو انھیں حاصل ہوئی ہے، اسے حاصل نہیں ہوگی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم اور مبارک غزوہ کے ذکر سے قبل، اہل ایمان کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کو انھیں اختیار کرنا چاہیے کیونکہ جو کوئی ان صفات کو اختیار کرتا ہے، اس کے احوال میں استقامت آجاتی ہے اور اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سب سے بڑا عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
8:5كَمَآ أَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيۡتِكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقٗا مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
8:6يُجَٰدِلُونَكَ فِي ٱلۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلۡمَوۡتِ وَهُمۡ يَنظُرُونَ
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
8:7وَإِذۡ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحۡدَى ٱلطَّآئِفَتَيۡنِ أَنَّهَا لَكُمۡ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيۡرَ ذَاتِ ٱلشَّوۡكَةِ تَكُونُ لَكُمۡ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
8:8لِيُحِقَّ ٱلۡحَقَّ وَيُبۡطِلَ ٱلۡبَٰطِلَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)
[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰؔتِهٖ ﴾ ’’اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے حق کو اپنے کلمات سے‘‘ پس اس طرح وہ اہل حق کی مدد فرماتا ہے ﴿ وَيَقۡطَعَ دَابِرَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی‘‘ یعنی وہ اہل باطل کا استیصال کرتا ہے اور اپنے بندوں کو نصرت حق کا ایسا معاملہ دکھاتا ہے کہ جس کے بارے میں کبھی ان کے دل میں خیال بھی نہیں گزرا ہوتا۔
[8]﴿ لِيُحِقَّ الۡحَقَّ ﴾ ’’تاکہ حق کو ثابت کردے۔‘‘ حق کی صحت اور صداقت کے شواہد اور براہین کو ظاہر کر کے۔ ﴿ وَيُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ ﴾ ’’اور باطل کو باطل کردے۔‘‘ اس کے بطلان پر دلائل اور شواہد قائم کر کے۔ ﴿ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’خواہ مجرموں کو یہ بات ناپسند ہی کیوں نہ ہو‘‘ پس اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ۔
8:9إِذۡ تَسۡتَغِيثُونَ رَبَّكُمۡ فَٱسۡتَجَابَ لَكُمۡ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلۡفٖ مِّنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ مُرۡدِفِينَ
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
8:10وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشۡرَىٰ وَلِتَطۡمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمۡۚ وَمَا ٱلنَّصۡرُ إِلَّا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
8:11إِذۡ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةٗ مِّنۡهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيۡكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذۡهِبَ عَنكُمۡ رِجۡزَ ٱلشَّيۡطَٰنِ وَلِيَرۡبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمۡ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلۡأَقۡدَامَ
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
8:12إِذۡ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمۡ فَثَبِّتُواْ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ سَأُلۡقِي فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلرُّعۡبَ فَٱضۡرِبُواْ فَوۡقَ ٱلۡأَعۡنَاقِ وَٱضۡرِبُواْ مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٖ
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
8:13ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَآقُّواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
8:14ذَٰلِكُمۡ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ
جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)
[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔
[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔
[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔
[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پس ثابت رکھو تم دل ایمان والوں کے‘‘ یعنی دشمن کے مقابلے میں ان کے دلوں کو مضبوط کرو اور ان کے دلوں کو جرأت سے لبریز کر دو اور انھیں جہاد کی ترغیب دو۔ ﴿ سَاُلۡقِيۡ فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا الرُّعۡبَ ﴾ ’’میں ڈال دو ں گا کافروں کے دلوں میں دہشت‘‘ جو کافروں کے مقابلے میں تمھارا سب سے بڑا لشکر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے تو کفار ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ان کی گردنیں اہل ایمان کے قبضے میں دے دیتا ہے۔ ﴿ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ ﴾ ’’پس تم انکی گردنیں مارو‘‘ ﴿وَاضۡرِبُوۡا مِنۡهُمۡ كُلَّ بَنَانٍ ﴾ ’’اور کاٹو ان کی پور پور‘‘ یعنی ان کے جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ... یہ خطاب یا تو ان فرشتوں سے ہے جن کی طرف وحی کی گئی تھی کہ وہ اہل ایمان کے دل مضبوط کریں ، تب یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غزوۂ بدر میں فرشتے قتال میں شریک ہوئے... یا یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں تعلیم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کو کیسے قتل کریں اور یہ کہ وہ ان پر رحم نہ کریں ۔
[13]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔‘‘ یعنی یہ اس لیے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جو مخالف ہوا اللہ اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ اور یہ بھی اس کا عذاب ہی ہے کہ اس نے اپنے اولیاء کو اپنے اعداء پر مسلط کیا اور ان کے ہاتھوں قتل کروایا۔
[14]﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یہ عذاب مذکور ﴿ فَذُوۡقُوۡهُ ﴾ ’’پس چکھو تم اس کو‘‘ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والو! (اس دنیا کے) فوری عذاب کا مزا چکھ لو ﴿ وَاَنَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’اور کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘اس قصہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کچھ محمد رسول اللہﷺ لے کر تشریف لائے ہیں ، وہ حق ہے۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ایک وعدہ کیا اور یہ وعدہ پورا کر دیا۔ (۲) اس میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰؔى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْ٘لَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ﴾ (آل عمران: 3؍13) ’’تمھارے لیے ان دو گروہوں میں (جنگ بدر میں ) جن کی مڈبھیڑ ہوئی ایک نشانی تھی ایک گروہ وہ تھا جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا، وہ اپنی آنکھوں سے انھیں اپنے سے دوگنا مشاہدہ کر رہے تھے‘‘۔ (۳) جب اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لیے پکارا تو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے ان کی دعا قبول فرمائی جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کے حال اور ان اسباب کے مقدر کرنے کے ساتھ بڑا اعتناء پایا جاتا ہے جن کے ذریعے سے اہل ایمان کے ایمان مضبوط اور ان میں ثابت قدمی پیدا ہو اور ان سے تمام ناپسندیدہ امور اور شیطانی وسوسے دور ہوں ۔ (۴) یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر لطف و کرم ہے کہ وہ داخلی اور خارجی اسباب کے ذریعے سے اس کے لیے اطاعت کے راستوں کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔
8:15يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ زَحۡفٗا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلۡأَدۡبَارَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)
8:16وَمَن يُوَلِّهِمۡ يَوۡمَئِذٖ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفٗا لِّقِتَالٍ أَوۡ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٖ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)
[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔
[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)
8:17فَلَمۡ تَقۡتُلُوهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمۡۚ وَمَا رَمَيۡتَ إِذۡ رَمَيۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ وَلِيُبۡلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡهُ بَلَآءً حَسَنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
8:18ذَٰلِكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيۡدِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
8:19إِن تَسۡتَفۡتِحُواْ فَقَدۡ جَآءَكُمُ ٱلۡفَتۡحُۖ وَإِن تَنتَهُواْ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَعُودُواْ نَعُدۡ وَلَن تُغۡنِيَ عَنكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَوۡ كَثُرَتۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)
[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔
[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔
[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم فیصلہ چاہنے سے باز آجاؤ۔ ﴿ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ﴾’’تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ تمھیں مہلت دیتا ہے اور تمھیں فوراً سزا نہیں دیتا۔﴿وَلَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡكُمۡ فِئَتُكُمۡ شَيۡـًٔـا وَّلَوۡ كَثُرَتۡ﴾ ’’اور تمھاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمھارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی وہ انصار و اعوان تمھارے کچھ کام نہ آئیں گے جن کے بھروسے پر تم جنگ کر رہے ہو، چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں ۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ جن کے ساتھ ہوتا ہے وہی فتح و نصرت سے نوازے جاتے ہیں خواہ وہ کمزور اور تعداد میں کم ہی کیوں نہ ہوں ۔یہ معیت، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے اہل ایمان کی تائید فرماتا ہے، ان کے اعمالِ ایمان کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر بعض اوقات دشمنوں کو اہل ایمان پر فتح حاصل ہوتی ہے تو یہ اہل ایمان کی کوتاہی، واجبات ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ورنہ اگر وہ ہر اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کریں تو ان کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہو اور دشمن کو کبھی ان پر غالب آنے کا موقع نہ ملے۔
8:20يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَأَنتُمۡ تَسۡمَعُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)
[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔
8:21وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)
[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔
[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔
8:22۞إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلۡبُكۡمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡقِلُونَ
بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)
[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔
8:23وَلَوۡ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمۡ خَيۡرٗا لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ وَلَوۡ أَسۡمَعَهُمۡ لَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)
[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔
[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔
8:24يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱسۡتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيكُمۡۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔
[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔
8:25وَٱتَّقُواْ فِتۡنَةٗ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمۡ خَآصَّةٗۖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)
[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔
[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔
8:26وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ أَنتُمۡ قَلِيلٞ مُّسۡتَضۡعَفُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمۡ وَأَيَّدَكُم بِنَصۡرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ
اور یاد کرو جب تم (بہت) تھوڑے تھے، کمزور سمجھے جاتے تھے زمین میں، خوف کھاتے تھے تم اس بات سے کہ (کہیں) اچک (نہ) لے جائیں تمھیں لوگ، پس جگہ دی اللہ نے تمھیں اور تمھاری تائید کی ساتھ اپنی نصرت کےاور رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے تاکہ تم شکر گزار ہو(26)
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں ‘‘ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے ﴿ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ ﴾ ’’تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں اچک نہ لیں ‘‘ ﴿ فَاٰوٰىكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی، اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں تمھارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔
8:27يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَخُونُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓاْ أَمَٰنَٰتِكُمۡ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت خیانت کرو تم اللہ اوراس کے رسول سےاور (نہ)خیانت کرو تم اپنی آپس کی امانتوں میں جبکہ تم جانتے ہو(27) اور جان لو! یقینا تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ، اس کے ہاں اجر عظیم ہے(28)
[27] اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ ) اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔
[28] چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں ۔ ﴿ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہو جانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔
8:28وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت خیانت کرو تم اللہ اوراس کے رسول سےاور (نہ)خیانت کرو تم اپنی آپس کی امانتوں میں جبکہ تم جانتے ہو(27) اور جان لو! یقینا تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ، اس کے ہاں اجر عظیم ہے(28)
[27] اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ ) اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔
[28] چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں ۔ ﴿ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہو جانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔
8:29يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَتَّقُواْ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّكُمۡ فُرۡقَانٗا وَيُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر ڈرو تم اللہ سے تو وہ بنادے گا تمھارے لیے کسوٹی (دلیل حق) اور مٹا دے گا تم سے تمھاری برائیاں اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(29)
[29] بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائی کا دارومدار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا و مافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’’فرقان‘‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (۲،۳)برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں ۔ (السئیات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ سے اور گناہوں (الذنوب) کو بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔ (۴) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، اس کے لیے بہت بڑا اجر اور بے پایاں ثواب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘
8:30وَإِذۡ يَمۡكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثۡبِتُوكَ أَوۡ يَقۡتُلُوكَ أَوۡ يُخۡرِجُوكَۚ وَيَمۡكُرُونَ وَيَمۡكُرُ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ
اور یاد کیجیے! جب تدبیر کررہے تھے آپ کی بابت وہ لوگ جنھوں نے کفر کیاتاکہ وہ قید کردیں آپ کو یا قتل کردیں آپ کو یا نکال دیں آپ کواور تدبیریں کر رہے تھے وہ اور تدبیر کر رہا تھا اللہ بھی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے(30)
[30] یعنی اے رسولﷺ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، ﴿ وَاِذۡ يَمۡؔكُرُ بِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں ‘‘ جب مشرکین مکہ نے ’’دارالندوہ‘‘ میں مشورہ کیا کہ رسولﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ (۱) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کر دیا جائے۔ (۲) آپ کو قتل کر دیا جائے تاکہ... بزعم خود... ہمیشہ کے لیے آپ سے نجات حاصل کر لیں ۔ (۳) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کر دیا جائے۔ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لَعَنَہُ اللہُ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں ۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں گے اور قصاص لینے کے لیے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھ گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیدار ہوں تو آپ پر حملہ کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کر دیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا ’’وائے تمھاری ناکامی! محمد (ﷺ ) تو نکل گیا اور تمھارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔‘‘انھوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کر لی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔
8:31وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا قَالُواْ قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هَٰذَآ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
8:32وَإِذۡ قَالُواْ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلۡحَقَّ مِنۡ عِندِكَ فَأَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئۡتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٖ
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
8:33وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِيهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
8:34وَمَا لَهُمۡ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمۡ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَمَا كَانُوٓاْ أَوۡلِيَآءَهُۥٓۚ إِنۡ أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)
[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔
[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا کرتے تھے۔
[34] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا جبکہ وہ معافی مانگنے والے ہوں گے‘‘ یہی وہ مانع تھا جو عذاب کو واقع ہونے سے روک رہا تھا حالانکہ اس کے اسباب منعقد ہو چکے تھے، پھر فرمایا:﴿ وَمَا لَهُمۡ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور ان میں کیا بات ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے‘‘ یعنی کون سی چیز ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کر سکتی ہے حالانکہ ان کے کرتوت ایسے ہیں جو اس عذاب کو واجب ٹھہراتے ہیں اور وہ ہے ان کا لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، خاص طور پر انھوں نے نبی مصطفیﷺ اور آپ کے اصحاب کرام کو مسجد حرام سے روکا حالانکہ مسجد حرام میں عبادت کرنے کے وہی سب سے زیادہ مستحق تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا كَانُوۡۤا ﴾ ’’اور نہیں تھے وہ‘‘ یعنی مشرکین ﴿ اَوۡلِيَآءَهٗ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو، یعنی ( اولیاء اللہ)نیز یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع مسجد حرام ہو یعنی وہ مسجد حرام کے دوسرے لوگوں سے زیادہ مستحق نہ تھے۔﴿ اِنۡ اَوۡلِيَآؤُهٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اس کا اختیار رکھنے والے تو وہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں ‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کو عبادت کا مستحق قرار دیا اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا، ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اسی لیے وہ اپنے لیے ایسے امور کے مدعی ہیں جن کے دوسرے لوگ زیادہ مستحق ہیں ۔
8:35وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمۡ عِندَ ٱلۡبَيۡتِ إِلَّا مُكَآءٗ وَتَصۡدِيَةٗۚ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ
اور نہیں تھی نماز ان (مشرکین) کے بیت اللہ کے پاس مگر سیٹیاں اور تالیاں بجانا ہی، پس چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کفر کرتے(35)
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لیے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خالص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنھوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، ﴿ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصۡدِيَةً﴾ ’’سیٹیوں اور تالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ‘‘ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں ، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطۂ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا؟پس ان میں کون سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں ، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں ، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے اللہ نے بیان فرمائے ہیں ۔یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور اس پر ان کو قدرت عطا کی... اور پھر ان کو اس پر قدرت عطا کرنے کے بعد فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾(التوبۃ: 9؍28) ’’اے مومنو! مشرکین تو ناپاک ہیں ، اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں ۔‘‘اور یہاں فرمایا:﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔‘‘
8:36إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمۡ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةٗ ثُمَّ يُغۡلَبُونَۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحۡشَرُونَ
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔
8:37لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلۡخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجۡعَلَ ٱلۡخَبِيثَ بَعۡضَهُۥ عَلَىٰ بَعۡضٖ فَيَرۡكُمَهُۥ جَمِيعٗا فَيَجۡعَلَهُۥ فِي جَهَنَّمَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔
[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔
8:38قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَنتَهُواْ يُغۡفَرۡ لَهُم مَّا قَدۡ سَلَفَ وَإِن يَعُودُواْ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ ٱلۡأَوَّلِينَ
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
8:39وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
8:40وَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَوۡلَىٰكُمۡۚ نِعۡمَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَنِعۡمَ ٱلنَّصِيرُ
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)
[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔
[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔
[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔
8:41۞وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا غَنِمۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمۡ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ عَبۡدِنَا يَوۡمَ ٱلۡفُرۡقَانِ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)
[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ ﴾ ’’اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن‘‘ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ﴾ ’’جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں‘‘ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی... یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسولﷺ پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جو کچھ لائے ہیں ، وہ حق ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔
[42]﴿اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔‘‘ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى﴾ ’’اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكۡبُ ﴾ ’’اور قافلہ‘‘ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے نیچے کی طرف تھا‘‘ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔‘‘ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِي الۡمِيۡعٰدِ﴾ ’’تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ‘‘ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ ’’اور لیکن‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا ہے‘‘ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں ، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
8:42إِذۡ أَنتُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُم بِٱلۡعُدۡوَةِ ٱلۡقُصۡوَىٰ وَٱلرَّكۡبُ أَسۡفَلَ مِنكُمۡۚ وَلَوۡ تَوَاعَدتُّمۡ لَٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡمِيعَٰدِ وَلَٰكِن لِّيَقۡضِيَ ٱللَّهُ أَمۡرٗا كَانَ مَفۡعُولٗا لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٖ وَيَحۡيَىٰ مَنۡ حَيَّ عَنۢ بَيِّنَةٖۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور جان لو تم کہ جو غنیمت حاصل کرو تم کسی چیز سے تو بے شک اللہ کے لیے ہے پانچواں حصہ اس کااور رسول کے لیے اور رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ، اگر ہوتم ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس کے جو اتارا ہم نے اوپر اپنے بندے کے، دن فیصلے کے، جس دن کہ ملیں دو جماعتیں اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(41)جس وقت کہ تھے تم قریب کے کنارے پر اور وہ (تمھارے دشمن) تھے دور کے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی جانب تھا تم سےاور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور اختلاف کرتے تم وقت (مقرر کرنے) میں لیکن (اللہ نے یوں ہی جمع کردیا) تاکہ پورا کر دے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہواتاکہ ہلاک ہوجو ہلاک ہو دلیل سے (حجت قائم ہونے کے بعد) اور زندہ رہے جو زندہ رہے دلیل سے(حق پہچان کر)اور بے شک اللہ سنتا جانتا ہے(42)
[41]﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾’’اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔‘‘ یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ﴾ ’’تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے۔‘‘اور باقی تمھارے لیے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہﷺ نے تقسیم فرمایا تھا...، یعنی پیادے کے لیے ایک حصہ اور سوار کے لیے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لیے(لیکن حدیث سے سوار کے لیے تین حصے ثابت ہوتے ہیں‘ دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ خود اس کے لیے۔ ) ’اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَھْمَیْنِ وَلِصَاحِبِہٖ سَھْمًا‘(صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب سھام الفرس، حدیث: 2863، 4228)(ص۔ی) رہا خمس تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے، ان میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے مختص ہے جو کسی تعین کے بغیر عام مسلمانوں کے مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ اور رسولﷺ کا حصہ قرار دیا ہے اور اللہ اور اس کا رسولﷺ اس سے بےنیاز ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حصہ درحقیقت بندگان الٰہی کے لیے ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مصارف متعین نہیں فرمائے اس لیے واضح ہوا کہ اس کو مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا۔خمس کا دوسرا حصہ، ذو القربیٰ کے لیے ہے اور یہاں ذو القربیٰ سے مراد رسول اللہﷺ کے قرابت دار یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ۔ ذو القربیٰ کی طرف اس کی اضافت اس امر کی دلیل ہے کہ اس حکم کی علت مجرد قرابت ہے جس میں ان کے مال دار اور محتاج، مرد اور عورتیں سب شامل ہیں ۔خمس کا تیسرا حصہ، یتیموں کے لیے ہے جن کے باپ فوت ہو چکے ہیں اور خود وہ بہت کمسن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت کی بنا پر ان کے لیے خمس کا پانچواں حصہ مقرر فرمایا ہے کیونکہ وہ خود اپنے مصالح کی دیکھ بھال کرنے سے عاجز ہیں اور وہ کسی ایسی ہستی سے بھی محروم ہیں جو ان کے مصالح کا انتظام کرے۔خمس کا چوتھا حصہ مساکین، یعنی چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں میں سے محتاج اور تنگ دستوں کے لیے ہے۔خمس کا آخری حصہ مسافروں کی بہبود کے لیے ہے۔ (اِبْنُ السَّبِیل) سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گیا ہو۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ان مذکورہ مصارف سے باہر خرچ نہ کیا جائے، البتہ یہ لازم نہیں کہ ان اصناف مذکورہ میں برابر برابر تقسیم کیا جائے بلکہ مصالح کے مطابق ان کے درمیان اس مال کو تقسیم کیا جائے گا .... یہی رائے زیادہ قرین صواب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے خمس کو اس طریقے سے خرچ کرنا ایمان کی شرط قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا يَوۡمَ الۡفُرۡقَانِ ﴾ ’’اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر فیصلے کے دن‘‘ (یوم الفرقان) سے مراد یوم بدر ہے جس کے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور باطل میں فیصلہ کیا۔ حق کو غالب کیا اور باطل کا بطلان ظاہر کیا۔ ﴿يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ﴾ ’’جس دن بھڑ گئیں دونوں فوجیں‘‘ یعنی مسلمانوں کے گروہ اور کفار کے گروہ کی مڈبھیڑ ہوئی... یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس حق پر ایمان رکھتے ہو جو اس نے اپنے رسولﷺ پر بدر کے روز نازل فرمایا، جس سے ایسے دلائل اور براہین حاصل ہوئے جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جو کچھ لائے ہیں ، وہ حق ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی غالب آتا ہے۔
[42]﴿اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’جس وقت تم قریب کے ناکے پر تھے۔‘‘ یعنی جب تم مدینہ سے قریب ترین وادی میں تھے۔ ﴿ وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى﴾ ’’اور وہ (کفار) مدینہ سے بعید ترین وادی میں تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے تم دونوں گروہوں کو ایک ہی وادی میں جمع کر دیا ﴿ وَالرَّؔكۡبُ ﴾ ’’اور قافلہ‘‘ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم نکلے تھے مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ کچھ اور ہی تھا ﴿ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے نیچے کی طرف تھا‘‘ یعنی وہ ساحل کے ساتھ ساتھ تھا۔ ﴿ وَلَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم آپس میں قرار داد کرلیتے۔‘‘ اگر تم نے اور کفار نے اس حال میں اور اس وصف کے ساتھ ایک دوسرے سے وعدہ کیا ہوتا ﴿ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِي الۡمِيۡعٰدِ﴾ ’’تو نہ پہنچتے وعدے پر ایک ساتھ‘‘ یعنی مقررہ میعاد میں تقدیم و تاخیر یا جگہ کے انتخاب وغیرہ میں کسی عارضہ کی بنا پر تم میں اختلاف واقع ہو جاتا جو تمھیں میعاد مقررہ پر پہنچنے سے روک دیتا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ ﴾ ’’اور لیکن‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس حال میں اکٹھا کر دیا۔ ﴿ لِّيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’تاکہ اللہ اس امر کو پورا کرے (جو روز ازل سے مقرر ہے) جس کا واقع ہونا لابدی ہے۔‘‘﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’تاکہ مرے جس کو مرنا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ تاکہ معاند حق کے خلاف حجت اور دلیل قائم ہو جائے تاکہ اگر وہ کفر اختیار کرے تو پوری بصیرت کے ساتھ اختیار کرے اور اس کے بطلان کا اسے پورا یقین ہو اور یوں اللہ کے حضور پیش کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی عذر نہ ہو۔ ﴿ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾ ’’اور زندہ رہے جس کو جینا ہے دلیل کے واضح ہونے کے بعد‘‘ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں پر جو حق کے دلائل واضح کیے ہیں اس کی بنا پر اہل ایمان کے یقین اور بصیرت میں اضافہ ہو۔ یہ دلائل و براہین عقل مندوں کے لیے یاددہانی ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سننے والا ہے‘‘ تمام آوازوں کو، زبانوں کے اختلاف اور مخلوق کی مختلف حاجات کے باوجود۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری اعمال، ضمیر میں چھپی ہوئی نیتوں اور بھیدوں ، غائب اور حاضر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
8:43إِذۡ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلٗاۖ وَلَوۡ أَرَىٰكَهُمۡ كَثِيرٗا لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔
8:44وَإِذۡ يُرِيكُمُوهُمۡ إِذِ ٱلۡتَقَيۡتُمۡ فِيٓ أَعۡيُنِكُمۡ قَلِيلٗا وَيُقَلِّلُكُمۡ فِيٓ أَعۡيُنِهِمۡ لِيَقۡضِيَ ٱللَّهُ أَمۡرٗا كَانَ مَفۡعُولٗاۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
جب دکھلاتا تھا ان (کافروں) کو اللہ آپ کے خواب میں تھوڑااور اگر دکھاتا وہ آپ کو انھیں زیادہ تو تم پست ہمت ہوجاتے اور ضرور باہم نزاع کرتے اس معاملے میں لیکن اللہ نے بچا لیا، بے شک وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(43) اور جب دکھلاتا تھا وہ تمھیں ان کافروں کو، جب ملے تم، تمھاری آنکھوں میں تھوڑااور تھوڑا دکھلاتا تھا تم کو ان کی آنکھوں میں تاکہ پورا کردے اللہ اس کام کو کہ تھا وہ کیا ہوا اور طرف اللہ ہی کی لوٹائے جاتے ہیں سارے کام(44)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بنا پر آپ نے اپنے اصحاب کرامy کو خوشخبری دے دی اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ اَرٰؔىكَهُمۡ كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمھیں دکھاتا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحابy کو دی ہوتی ﴿لَّفَشِلۡتُمۡ وَلَتَنَازَعۡتُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾ تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمھیں درپیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کر دیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ﴾ ’’اور لیکن اللہ نے بچا لیا‘‘ یعنی اللہ نے تم پر لطف و کرم کیا ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾’’بے شک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تمھارے سینوں میں ثابت قدمی یا بے صبری، سچائی یا جھوٹ جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں کی اس کیفیت کو جان لیا جو تم پر اس کے لطف و احسان اور اس کے رسولﷺ کے خواب کی صداقت کا باعث بنی۔[44]اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی نگاہوں میں ان کے دشمن کو تھوڑا کر کے دکھایا... اور اے مومنو! تمھیں ان کی نظروں میں تھوڑا کر کے دکھایا، چنانچہ دونوں گروہوں میں سے ہر گروہ کو اپنا مدمقابل تھوڑا نظر آتا تھا تاکہ دونوں میں سے ہر ایک، دوسرے پر پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرے۔﴿ لِيَقۡضِيَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ اس امر کو پورا کر دے جس کا پورا ہونا مقدر تھا‘‘ یعنی اہل ایمان کو فتح و نصرت عطا کرے، کفار کو ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے علیحدہ ہو جائے، چنانچہ ان کے راہ نما اور گمراہ سردار قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی قابل ذکر شخص باقی نہ بچا، پھر اس کے بعد جب کفار کو اسلام کی دعوت دی گئی تو ان کا مطیع ہونا آسان ہوگیا اور یہ چیز باقی بچ جانے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کا باعث بنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔ ﴿وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ ’’اور سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتے ہیں ، اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کرتا ہے، تمام مخلوقات پر عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کو نافذ کرتا ہے جس میں کوئی ظلم و جور نہیں ہوتا۔
8:45يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا لَقِيتُمۡ فِئَةٗ فَٱثۡبُتُواْ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
8:46وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُواْ فَتَفۡشَلُواْ وَتَذۡهَبَ رِيحُكُمۡۖ وَٱصۡبِرُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
8:47وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرٗا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٞ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
8:48وَإِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّي جَارٞ لَّكُمۡۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلۡفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّنكُمۡ إِنِّيٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوۡنَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
8:49إِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمۡۗ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ٹکراؤ تم کسی جماعت سے تو ثابت قدم رہو اور یاد کرو اللہ کو بہت تاکہ تم فلاح پاؤ(45) اور اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ نزاع کرو آپس میں، پس کم ہمت ہو جاؤ گے تم اور جاتی رہے گی تمھاری ہوا اور صبر کرو، بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(46) اور نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کے دکھلانے کے لیے اور روکتے تھے وہ اللہ کی راہ سے اوراللہ اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(47) اور جب مزین کر دکھائے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل اور کہا، نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور میں پشت پناہ ہوں تمھارا، پس جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو پھر گیا وہ اوپر اپنی دونوں ایڑیوں کے اور کہا، بے شک میں بیزار ہوں تم سے، تحقیق میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ سےاور اللہ سخت سزا دینے والا ہے(48) جبکہ کہتے تھے منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں روگ تھا، دھوکے میں ڈال دیا ہے ان کو ان کے دین نےاور جو کوئی بھروسہ کرے اوپر اللہ کے تو یقینا اللہ زبردست، خوب حکمت والا ہے(49)
[45]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً ﴾ ’’اے ایمان والو! جب ملو تم کسی گروہ کو‘‘ یعنی کفار کا گروہ جو تمھارے ساتھ جنگ کرتا ہے ﴿ فَاثۡبُتُوۡا﴾ ’’تو ثابت قدم رہو۔‘‘ یعنی کفار کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہو، صبر سے کام لو اور اس عظیم نیکی میں جس کا انجام عزت و نصرت ہے، اپنے آپ کو قابو میں رکھو۔ اور اس بارے میں کثرت ذکر سے مدد لو۔ ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ یعنی شاید تم وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ جو تمھارا مطلوب و منشا ہے، یعنی دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت۔ پس صبر، ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت، فتح و نصرت کے سب سے بڑے اسباب ہیں ۔
[46]﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ جس چیز کا وہ دونوں حکم دیں اس کو استعمال کرنے اور تمام احوال میں ان کے پیچھے چلنے میں ﴿ وَلَا تَنَازَعُوۡا ﴾ ’’اور آپس میں نہ جھگڑنا۔‘‘ یعنی اس طرح نہ جھگڑو جس سے تمھارے دل تشتت اور افتراق کا شکار ہو جائیں ۔ ﴿فَتَفۡشَلُوۡا﴾ ’’پس تم بزدل ہوجاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ یعنی عزائم کمزور اور تمھاری طاقت بکھر جائے گی اور تم سے فتح و نصرت کا وہ وعدہ اٹھا لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مشروط ہے۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا ﴾ ’’اور صبر سے کام لو۔‘‘ یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثابت قدم رکھو ﴿اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد، فتح و نصرت اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[47] اس لیے اس سے ڈرو اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو۔﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے‘‘ یعنی یہ ان کا مقصد تھا جس کے لیے وہ نکل کر آئے تھے، یہی ان کا منشا تھا جس نے ان کو ان کے گھر سے نکالا تھا، ان کا مقصد صرف غرور اور زمین میں تکبر کا اظہار تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھیں اور وہ ان کے سامنے فخر کا اظہار کریں ۔ گھروں سے نکلنے میں ان کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ ان لوگوں کو روکیں جو اللہ کے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ ﴾ ’’اور اللہ کے احاطہ میں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ‘‘ اسی لیے اس نے تمھیں ان کے مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور تمھیں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے ڈرایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عنقریب انھیں سخت سزا دے گا۔ پس گھروں سے نکلنے میں تمھارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب، دین کی سربلندی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی منزل کو جانے والے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو کھینچنا ہو جو نعمتوں سے بھری جنت کو جاتا ہے۔
[48]﴿ وَاِذۡ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور جب شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے۔‘‘ یعنی شیطان نے ان کے دلوں میں ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے اور انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ ﴾ ’’اور اس نے کہا آج تم پر کوئی غالب نہیں ہو گا لوگوں میں سے‘‘ کیونکہ تم تعداد، ساز و سامان اور ہیئت کے اعتبار سے اتنے طاقتور ہو کہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھی تمھارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ﴾’’اور میں تمھارا حمایتی ہوں ‘‘ میں اس کے مقابلے میں تمھارا ساتھی ہوں جس کے شب خون سے تم ڈرتے ہو کیونکہ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں قریش کے پاس آیا، قریش اور بنو مدلج کے درمیان عداوت تھی اس لیے قریش ان کے شب خون سے بہت خائف تھے۔ شیطان نے ان سے کہا ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ چنانچہ ان کے دل مطمئن ہوگئے اور وہ غضب ناک ہو کر آئے۔﴿فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ ﴾ ’’پس جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں ۔‘‘ مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوا اور شیطان نے جبریلu کو دیکھا کہ وہ ترتیب کے ساتھ فرشتوں کی صف بندی کر رہے ہیں تو سخت خوفزدہ ہوا ﴿ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ﴾ ’’تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا۔‘‘ یعنی پسپا ہو کر الٹے پاؤں واپس بھاگا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور جن کو اس نے دھوکہ اور فریب دیا تھا ان سے کہنے لگا ﴿ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ نہیں ہوں ، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے‘‘ یعنی میں ان فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ﴾ ’’مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ مجھے اس دنیا ہی میں عذاب نہ دے دے ﴿ وَاللّٰهُ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈال کر ان کے سامنے یہ بات مزین کر دی ہو کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، آج میں تمھارا رفیق ہوں اور جب وہ ان کو میدان جنگ میں لے آیا تو براء ت کا اظہار کرتے ہوئے پسپا ہو کر ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا١ؕ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ ﴾(الحشر: 59؍16، 17) ’’ان کی مثال شیطان کی سی ہے اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب اس نے کفر کیا تو کہنے لگا، میں تجھ سے بری ہوں ۔ میں تو اللہ، جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ۔ پس دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘‘
[49]﴿اِذۡ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اس وقت منافق اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان اپنی قلت اور مشرکین کی کثرت کے باوجود لڑائی کے لیے نکلے تو ضعیف الایمان لوگ جن کے دلوں میں شک و شبہ تھا، اہل ایمان سے کہنے لگے ﴿ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِيۡنُهُمۡ ﴾ ’’ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس دین نے انھیں اس ہلاکت انگیز مقام پر پہنچا دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ یہ بات وہ اہل ایمان کو حقیر اور کم عقل سمجھتے ہوئے کہتے تھے، حالانکہ وہ خود… اللہ کی قسم… کم عقل اور بے سمجھ تھے۔ کیونکہ جذبۂ ایمان مومن کو ایسے ہولناک مقامات میں کود جانے پر آمادہ کرتا ہے جہاں بڑے بڑے لشکر آگے بڑھنے سے گریز کرتے ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔ اگر تمام لوگ کسی شخص کو ذرہ بھر فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر اس کو نقصان پہنچانے پر اکٹھے ہو جائیں تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ مومن جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قضا و قدر میں حکمت والا اور نہایت رحمت کرنے والا ہے اس لیے جب وہ کوئی اقدام کرتا ہے تو وہ (مخالفین کی) کثرت اور قوت کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ گھبراتا ہے نہ بزدلی دکھاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ غالب ہے‘‘ کوئی طاقت اس کی طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔ ﴿حَكِيۡمٌ ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی قضا و قدر میں نہایت حکمت والا ہے۔
8:50وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ وَذُوقُواْ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ
اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔
[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘
8:51ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّـٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ
اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔
[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘
8:52كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيّٞ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ
اور کاش! دیکھیں آپ جبکہ جان قبض کرتے ہیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، فرشتے، مارتے ہیں وہ (فرشتے) ان کے چہروں کو اور ان کی پیٹھوں کو اور (کہتے ہیں) چکھو عذاب جلانے والا(50)یہ بسبب اس کے ہے جو آگے بھیجا تمھارے ہاتھوں نے اور یہ کہ بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر(51)جیسے عادت تھی آل فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، کفر کیا انھوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ تو پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، بے شک اللہ طاقت ور سخت سزا دینے والا ہے(52)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر آپ کفر کا ارتکاب کرنے والوں کو اس وقت دیکھیں جب موت کے فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہوں گے، ان کو سخت قلق ہوگا اور وہ سخت تکلیف اور کرب میں ہوں گے ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾ ’’مارتے ہیں وہ ان کے مونہوں پر اور ان کے پیچھے‘‘ اور ان سے کہتے ہیں ۔ ’’اپنی جان نکالو‘‘ ان کی جانیں نکلنے سے انکار کریں گی کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں کس دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾ ’’اور عذاب آتش چکھو۔‘‘ یعنی نہایت سخت اور جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔
[51] یہ عذاب تمھیں تمھارے رب کی طرف سے کسی ظلم و جور کی وجہ سے نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ یہ صرف تمھارے گناہوں کی پاداش ہے جن کی یہ تاثیر ہے جس نے یہ اثر دکھایا ہے۔
[52] اور اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ کیونکہ ان جھٹلانے والوں کی عادت اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کی ہلاکت ایسے ہی ہے ﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ١ۙ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’جیسے عادت آل فرعون کی تھی اور ان کی جو ان سے پہلے تھے‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں میں سے ﴿ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔‘‘اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو پکڑ لیا ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’ان کے گناہوں پر، یقینا اللہ طاقت ور ہے، سخت عذاب کرنے والا۔‘‘اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کے ساتھ جس کی گرفت کرنا چاہے تو اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ﴿مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا﴾(ھود: 11؍56) ’’زمین پر چلنے والا جو بھی جانور ہے اللہ نے اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ رکھا ہے۔‘‘
8:53ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرٗا نِّعۡمَةً أَنۡعَمَهَا عَلَىٰ قَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
یہ اس واسطے کہ بے شک اللہ نہیں ہے بدلنے والا کسی نعمت کا جو انعام کی ہو اس نے اوپر کسی قوم کے، یہاں تک کہ وہ خود ہی بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور بلاشبہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے(53) جیسے عادت تھی آلِ فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو تو ہلاک کردیا ہم نے ان کو بسبب ان کے گناہوں کےاور غرق کردیا ہم نے آل فرعون کواور سب تھے وہ ظالم(54)
[53]﴿ ذٰلِكَ ﴾ وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انھیں حاصل تھیں ، ان سے سلب کر لی گئی تھیں ، اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعۡمَةً اَنۡعَمَهَا عَلٰى قَوۡمٍ ﴾ ’’اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جو دی اس نے کسی قوم کو‘‘ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات‘‘ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار نہیں کرتے، پس جب وہ نعمتوں کی ناشکری کرتے اور ان کے بدلے کفر کرتے ہیں ... تب اللہ تعالیٰ ان سے ان نعمتوں کو چھین لیتا ہے اور ان نعمتوں کو اس طرح بدل ڈالتا ہے جس طرح انھوں نے اپنے رویے کو بدل ڈالا۔اس بارے میں اپنے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ حکمت اور عدل و احسان پر مبنی ہے۔ کیونکہ وہ ان کو عذاب نہیں دیتا مگر ان کے ظلم کے سبب سے اور بندے اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو عبرت ناک سزا دیتا ہے، جس سے وہ اپنے اولیا کے دل اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بولنے والے جو کچھ بولتے ہیں خواہ وہ آہستہ آواز سے بات کریں یا اونچی آواز میں ، اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو بندوں کے ضمیر میں مخفی اور ان کی نیتوں میں چھپا ہوا ہے، وہ اپنے بندوں کی تقدیر میں وہی کچھ جاری کرتا ہے جس کا اس کا علم اور اس کی مشیت تقاضا کرتے ہیں ۔
[54]﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’جیسی عادت آل فرعون کی۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی عادت ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کی جو ان سے پہلے لوگ تھے، انھوں نے رب کی آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جب ان کے پاس ان کے رب کی نشانیاں آئیں تو انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا۔‘‘ ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ ’’اور وہ سب‘‘ یعنی تمام ہلاک ہونے والے اور جن پر عذاب نازل کیا گیا۔ ﴿ كَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور نہ ان کو کسی ایسے جرم میں پکڑا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔ پس ان لوگوں کو، جو ان آیات کریمات کے مخاطب ہیں ، ظلم میں ان قوموں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرے گا جو ان فساق و فجار لوگوں پر نازل کیا تھا۔
8:54كَدَأۡبِ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَغۡرَقۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَۚ وَكُلّٞ كَانُواْ ظَٰلِمِينَ
یہ اس واسطے کہ بے شک اللہ نہیں ہے بدلنے والا کسی نعمت کا جو انعام کی ہو اس نے اوپر کسی قوم کے، یہاں تک کہ وہ خود ہی بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور بلاشبہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے(53) جیسے عادت تھی آلِ فرعون اوران لوگوں کی جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو تو ہلاک کردیا ہم نے ان کو بسبب ان کے گناہوں کےاور غرق کردیا ہم نے آل فرعون کواور سب تھے وہ ظالم(54)
[53]﴿ ذٰلِكَ ﴾ وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی قوموں پر نازل فرمایا تھا اور وہ نعمتیں جو انھیں حاصل تھیں ، ان سے سلب کر لی گئی تھیں ، اس کا سبب ان کے گناہ اور ان کا اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار کرنا تھا۔ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمۡ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعۡمَةً اَنۡعَمَهَا عَلٰى قَوۡمٍ ﴾ ’’اللہ بدلنے والا نہیں ہے اس نعمت کو جو دی اس نے کسی قوم کو‘‘ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو دین و دنیا کی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ان کو سلب نہیں کرتا بلکہ ان کو باقی رکھتا ہے اور اگر وہ شکر کرتے رہیں تو ان میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہی نہ بدل ڈالیں اپنے دلوں کی بات‘‘ یعنی جب تک کہ وہ اطاعت کے رویے کو بدل کر نافرمانی کا رویہ اختیار نہیں کرتے، پس جب وہ نعمتوں کی ناشکری کرتے اور ان کے بدلے کفر کرتے ہیں ... تب اللہ تعالیٰ ان سے ان نعمتوں کو چھین لیتا ہے اور ان نعمتوں کو اس طرح بدل ڈالتا ہے جس طرح انھوں نے اپنے رویے کو بدل ڈالا۔اس بارے میں اپنے بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ حکمت اور عدل و احسان پر مبنی ہے۔ کیونکہ وہ ان کو عذاب نہیں دیتا مگر ان کے ظلم کے سبب سے اور بندے اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو عبرت ناک سزا دیتا ہے، جس سے وہ اپنے اولیا کے دل اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بولنے والے جو کچھ بولتے ہیں خواہ وہ آہستہ آواز سے بات کریں یا اونچی آواز میں ، اللہ تعالیٰ سب کی باتیں سنتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو بندوں کے ضمیر میں مخفی اور ان کی نیتوں میں چھپا ہوا ہے، وہ اپنے بندوں کی تقدیر میں وہی کچھ جاری کرتا ہے جس کا اس کا علم اور اس کی مشیت تقاضا کرتے ہیں ۔
[54]﴿ كَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’جیسی عادت آل فرعون کی۔‘‘ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی عادت ﴿ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور ان کی جو ان سے پہلے لوگ تھے، انھوں نے رب کی آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جب ان کے پاس ان کے رب کی نشانیاں آئیں تو انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کردیا۔‘‘ ہر ایک کو اس کے جرم کے مطابق۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ ’’اور وہ سب‘‘ یعنی تمام ہلاک ہونے والے اور جن پر عذاب نازل کیا گیا۔ ﴿ كَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور نہ ان کو کسی ایسے جرم میں پکڑا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب نہ کیا ہو۔ پس ان لوگوں کو، جو ان آیات کریمات کے مخاطب ہیں ، ظلم میں ان قوموں کی مشابہت سے بچنا چاہیے، ورنہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرے گا جو ان فساق و فجار لوگوں پر نازل کیا تھا۔
8:55إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ
بے شک بدترین زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، پس وہ نہیں ایمان لاتے(55) وہ لوگ کہ عہد باندھا آپ نے ان سے، پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنا عہد ہر مرتبہ اور وہ (ذرا) نہیں ڈرتے(56) پس اگر پائیں آپ ان کو لڑائی میں تو بھگا دیں ان کے ذریعے سے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں(57)
[56,55] فرمایا ﴿ اِنَّ ﴾ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں ...، یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت... خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں ، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں ، اس پر پکے نہیں رہتے ﴿ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں میں بدتر ہیں اللہ کے ہاں ‘‘ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے۔
[57] لہذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لیے فرمایا۔ ﴿ فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي الۡحَرۡبِ ﴾ ’’پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ‘‘ جبکہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ﴿ فَشَرِّدۡ بِهِمۡ مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان بن جائیں ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی بعد میں آنے والے ﴿ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’نصیحت پکڑیں ۔‘‘ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں ، یہ ان لوگوں کے لیے زجر و توبیخ کا سبب ہیں ، جنھوں نے گناہ نہیں کیے بلکہ ان کے لیے بھی جنھوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں ۔اس عقوبت کے لیے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر.... اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو.... جب اس سے معاہدۂ امن کر لیا جائے تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں ۔
8:56ٱلَّذِينَ عَٰهَدتَّ مِنۡهُمۡ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهۡدَهُمۡ فِي كُلِّ مَرَّةٖ وَهُمۡ لَا يَتَّقُونَ
بے شک بدترین زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، پس وہ نہیں ایمان لاتے(55) وہ لوگ کہ عہد باندھا آپ نے ان سے، پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنا عہد ہر مرتبہ اور وہ (ذرا) نہیں ڈرتے(56) پس اگر پائیں آپ ان کو لڑائی میں تو بھگا دیں ان کے ذریعے سے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں(57)
[56,55] فرمایا ﴿ اِنَّ ﴾ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں ...، یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت... خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں ، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں ، اس پر پکے نہیں رہتے ﴿ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں میں بدتر ہیں اللہ کے ہاں ‘‘ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے۔
[57] لہذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لیے فرمایا۔ ﴿ فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي الۡحَرۡبِ ﴾ ’’پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ‘‘ جبکہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ﴿ فَشَرِّدۡ بِهِمۡ مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان بن جائیں ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی بعد میں آنے والے ﴿ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’نصیحت پکڑیں ۔‘‘ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں ، یہ ان لوگوں کے لیے زجر و توبیخ کا سبب ہیں ، جنھوں نے گناہ نہیں کیے بلکہ ان کے لیے بھی جنھوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں ۔اس عقوبت کے لیے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر.... اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو.... جب اس سے معاہدۂ امن کر لیا جائے تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں ۔
8:57فَإِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِهِم مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ
بے شک بدترین زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا، پس وہ نہیں ایمان لاتے(55) وہ لوگ کہ عہد باندھا آپ نے ان سے، پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنا عہد ہر مرتبہ اور وہ (ذرا) نہیں ڈرتے(56) پس اگر پائیں آپ ان کو لڑائی میں تو بھگا دیں ان کے ذریعے سے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں(57)
[56,55] فرمایا ﴿ اِنَّ ﴾ بے شک وہ لوگ جن میں یہ تین خصلتیں جمع ہیں ...، یعنی کفر، عدم ایمان اور خیانت... خیانت سے مراد یہ ہے کہ وہ جو عہد کرتے ہیں ، اس پر ثابت قدمی نہیں دکھاتے اور جو بات کرتے ہیں ، اس پر پکے نہیں رہتے ﴿ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں میں بدتر ہیں اللہ کے ہاں ‘‘ پس وہ گدھوں اور کتوں اور دیگر چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان کے اندر بھلائی معدوم ہے اور برائی متوقع ہے۔
[57] لہذا ان کو ختم کرنا اور ہلاک کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی بیماری دوسروں میں نہ پھیلے، اسی لیے فرمایا۔ ﴿ فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّهُمۡ فِي الۡحَرۡبِ ﴾ ’’پس جب تم ان کو حالت جنگ میں پاؤ‘‘ جبکہ تمھارے اور ان کے درمیان عہد و میثاق نہ ہو۔ ﴿ فَشَرِّدۡ بِهِمۡ مَّنۡ خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو ایسی سزا دو کہ دیکھ کر بھاگ جائیں ان کے پچھلے‘‘ یعنی ان کے ذریعے سے دوسروں کو سبق سکھا دیں اور ان کو ایسی سزا دیں کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لیے نشان بن جائیں ۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی بعد میں آنے والے ﴿ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’نصیحت پکڑیں ۔‘‘ ان کے کرتوتوں سے نصیحت پکڑیں تاکہ ان پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔ یہ سزاؤں اور حدود کے فوائد ہیں جو گناہوں پر مترتب ہوتی ہیں ، یہ ان لوگوں کے لیے زجر و توبیخ کا سبب ہیں ، جنھوں نے گناہ نہیں کیے بلکہ ان کے لیے بھی جنھوں نے گناہ کا ارتکاب کیا تاکہ وہ گناہ کا اعادہ نہ کریں ۔اس عقوبت کے لیے حالت جنگ کی قید لگانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کافر.... اگرچہ بہت زیادہ خیانت کا ارتکاب کرنے والا بد عہد ہو.... جب اس سے معاہدۂ امن کر لیا جائے تو اس عہد میں خیانت کرنا اور اسے عقوبت دینا جائز نہیں ۔
8:58وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوۡمٍ خِيَانَةٗ فَٱنۢبِذۡ إِلَيۡهِمۡ عَلَىٰ سَوَآءٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡخَآئِنِينَ
اور اگر آپ ڈریں کسی قوم کی بد عہدی سے تو پھینک دیں ان کی طرف (ان کا عہد) اوپر برابری کے، بے شک اللہ نہیں پسند کرتا بدعہدی کرنے والوں کو(58)
[58] یعنی جب آپﷺ کے اور کسی قوم کے درمیان جنگ نہ کرنے کا عہد اور میثاق ہو اور آپ کو اس قوم کی طرف سے خیانت اور بدعہدی کا خدشہ ہو یعنی ان کی طرف سے معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کے بغیر، ایسے قرائن و احوال ہوں جو عہد میں ان کی خیانت پر دلالت کرتے ہوں ﴿ فَانۢۡبِذۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو انھی کی طرف پھینک دیں ۔‘‘ ان کا عہد، یعنی ان کی طرف پھینک دیں اور ان کو اطلاع دے دیں کہ آپ کے درمیان اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ﴿عَلٰى سَوَآءٍ﴾ ’’تاکہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ‘‘ یعنی معاہدہ ٹوٹنے کے بارے میں آپﷺ کا علم اور ان کا علم مساوی ہو، آپ کے لیے جائز نہیں کہ آپ ان کے ساتھ بدعہدی کریں یا کوئی ایسی کوشش کریں کہ موجبات عہد اس سے مانع ہو، جب تک کہ آپ ان کو اس کے بارے میں آگاہ نہ کر دیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡخَآىِٕنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں سے سخت ناراض ہوتا ہے۔ اس لیے معاملے کا واضح ہونا نہایت ضروری ہے جو تمھیں خیانت سے بری کر دے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جب ان کی خیانت متحقق ہو جائے تو ان کی طرف معاہدہ پھینکنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کی طرف سے کوئی اخفا نہیں رہا بلکہ ان کی بد عہدی معلوم ہو چکی ہے علاوہ ازیں اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں اور نیز اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ﴾ ’’برابر‘‘ اور یہاں ان کی بد عہدی سب کو معلوم ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ اگر ان کی طرف سے کسی خیانت کا خدشہ نہ ہو یعنی ان کے اندر کوئی ایسی چیز نہ پائی جاتی ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتی ہو تو عہد کو ان کی طرف پھینکنا جائز نہیں بلکہ اس معاہدے کو مدت مقررہ تک پورا کرنا واجب ہے۔
8:59وَلَا يَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ سَبَقُوٓاْۚ إِنَّهُمۡ لَا يُعۡجِزُونَ
اور نہ گمان کریں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ وہ بچ نکلے، بے شک وہ نہیں عاجز کر سکتے (اللہ کو)(59)
[59] یعنی اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والے اور اس کی آیات کو جھٹلانے والے یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بازی لے گئے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور کفار کو مہلت دینے اور ان کو سزا دینے میں عجلت نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پنہاں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں کی آزمائش، ان کا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کو زاد راہ بنانا جس کے ذریعے سے وہ مقامات بلند پر پہنچتے ہیں اور ان کا اپنے آپ کو ان اخلاق و اوصاف سے متصف کرنا جن کے بغیر وہ اس منزل پر نہیں پہنچ سکتے تھے .... سب اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہی کا حصہ ہے۔
8:60وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا ٱسۡتَطَعۡتُم مِّن قُوَّةٖ وَمِن رِّبَاطِ ٱلۡخَيۡلِ تُرۡهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمۡ لَا تَعۡلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعۡلَمُهُمۡۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٖ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ
اور تیاری کرو ان (کافروں) کے لیے ، جتنی استطاعت رکھو تم، قوت کی اور (تیار) بندھے ہوئے گھوڑے (فراہم کرنے) کی، خوف زدہ کردو گے تم اس کے ذریعے سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور دوسروں کو ان کے علاوہ، نہیں جانتے تم ان کو، اللہ ہی جانتا ہے ان کواور جو بھی خرچ کرو گے تم کوئی چیز اللہ کی راہ میں، پورا دیا جائے گا تمھیں (اس کا اجر) اور تم نہیں ظلم کیے جاؤ گے (60)
[60] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں سے فرمایا: ﴿وَاَعِدُّوۡا ﴾ ’’اور تیار کرو تم‘‘یعنی اپنے کفار دشمنوں کے لیے تیار کرو جو تمھیں ہلاک کرنے اور تمھارے دین کے ابطال کے درپے رہتے ہیں ۔ ﴿ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ ﴾ ’’اپنی طاقت بھر قوت۔‘‘ یعنی قوت عقلیہ، قوت بدنیہ اور مختلف انواع کا اسلحہ، جو دشمن کے خلاف جنگ میں تمھاری مدد کرے۔ کفار کے خلاف اس تیاری میں وہ تمام صنعتیں آجاتی ہیں جن سے اسلحہ اور آلات حرب بنائے جاتے ہیں ، مثلاً: توپیں ، مشین گنیں ، بندوقیں ، جنگی طیارے، بری اور بحری سواریاں ، دفاعی قلعہ بندیاں ، مورچے اور دیگر دفاعی آلات حرب وغیرہ۔ نیز حکمت عملی اور سیاست کاری میں مہارت پیدا کرنا، جس کے ذریعے سے وہ آگے بڑھ سکیں اور دشمن کے شر سے اپنا دفاع کر سکیں ۔ نشانہ بازی، شجاعت اور جنگی منصوبہ سازی کی تعلیم حاصل کرنا۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ نے فرمایا:(اَلاَ اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ) ’’سن لو، قوت سے مراد تیر اندازی ہے‘‘(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمي… الخ، حدیث: 1917) کیونکہ عہد رسالت میں تیراندازی، جنگ کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھا۔ نیز ان گاڑیوں کی تیاری، جو جنگ میں ونقل و حرکت میں کام آتی ہیں ، جنگی استعداد میں شمار ہوتی ہیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾ ’’اور گھوڑوں کو تیار رکھ کر، کہ اس سے دھاک بٹھاؤ تم اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر‘‘ اس حکم کی علت، اس زمانے میں بھی موجود ہے اور وہ ہے دشمنوں کو مرعوب رکھنا۔ حکم کا دارومدار علت پر ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں ایسے آلات اور سامان حرب موجود ہوں جن کے ذریعے سے دشمن کو مذکورہ چیزوں سے زیادہ خوف زدہ رکھا جا سکتا ہو...، یعنی گاڑیاں اور ہوائی طیارے جو جنگ میں کام آتے ہیں اور جن کی ضرب بھی کاری ہے.... تو ان کو حاصل کر کے ان کے ذریعے سے جنگی استعداد بڑھانا فرض ہے۔ حتیٰ کہ اگر اس سامان حرب کو صنعت کی تعلیم حاصل کیے بغیر، حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو یہ تعلیم حاصل کرنا بھی فرض ہو گا کیونکہ فقہی قاعدہ ہے (مَالَا یَتِمُّ الْوَاجِبُ اِلَّا بِہٖ فَھُوَ وَاجِبٌ) ’’جس کے بغیر واجب کی تکمیل ممکن نہ ہو تو وہ بھی واجب ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّؔكُمۡ ﴾ میں ’’تمھارے دشمن‘‘ سے مراد وہ ہیں جن کے بارے میں تم جانتے ہو کہ وہ تمھارے دشمن ہیں ۔ ﴿ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور دوسروں پر ان کے سوا، جن کو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی جن کے بارے میں تمھیں معلوم نہیں جو اس وقت کے بعد، جب اللہ تم سے مخاطب ہے، تمھارے ساتھ لڑائی کریں گے۔ ﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ ﴾ ’’اللہ ان کو جانتا ہے‘‘ پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔دشمن کے خلاف جنگ میں جو چیز سب سے زیادہ مدد دیتی ہے وہ ہے کفار کے خلاف جہاد میں مال خرچ کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَيۡءٍ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں ‘‘ خواہ یہ قلیل ہو یا کثیر ﴿ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’وہ پورا پورا تمھیں دیا جائے گا‘‘ یعنی قیامت کے روز اس کا اجر کئی گنا کر کے ادا کیا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیے گئے مال کا ثواب سات سو گنا سے لے کر اس سے بھی زیادہ بڑھا کر دیا جائے گا۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور تمھاری حق تلفی نہ ہوگی‘‘ یعنی تمھارے لیے اس کے اجر و ثواب میں کچھ بھی کمی نہ کی جائے گی۔
8:61۞وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلۡمِ فَٱجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ
او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے خرچ کر دیتے۔ ﴿ مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں ، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کر دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا١ۚ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا﴾(آل عمران: 3؍103) ’’اور اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔‘‘
[64] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لیے (بھی) کافی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں ، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انھوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔
8:62وَإِن يُرِيدُوٓاْ أَن يَخۡدَعُوكَ فَإِنَّ حَسۡبَكَ ٱللَّهُۚ هُوَ ٱلَّذِيٓ أَيَّدَكَ بِنَصۡرِهِۦ وَبِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے خرچ کر دیتے۔ ﴿ مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں ، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کر دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا١ۚ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا﴾(آل عمران: 3؍103) ’’اور اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔‘‘
[64] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لیے (بھی) کافی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں ، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انھوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔
8:63وَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِهِمۡۚ لَوۡ أَنفَقۡتَ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مَّآ أَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوبِهِمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ أَلَّفَ بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّهُۥ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے خرچ کر دیتے۔ ﴿ مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں ، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کر دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا١ۚ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا﴾(آل عمران: 3؍103) ’’اور اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔‘‘
[64] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لیے (بھی) کافی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں ، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انھوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔
8:64يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَسۡبُكَ ٱللَّهُ وَمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
او ر اگر جھکیں وہ واسطے صلح کے تو جھک جائیں آپ بھی اس کے لیے اور بھروسہ کیجیے اللہ پر، بے شک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(61) اور اگر ارادہ کریں وہ یہ کہ دھوکہ دیں آپ کو تو بے شک کافی ہے آپ کو اللہ، وہی ہے جس نے تائید کی آ پ کی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے(62) اور الفت ڈال دی اس نے درمیان ان کے دلوں کے، اگر خرچ کر دیتے آپ جو کچھ زمین میں ہے سارا، نہیں الفت ڈال سکتے تھے آپ درمیان ان کے دلوں کے لیکن اللہ ہی نے الفت ڈال دی درمیان ان کے بے شک وہ زبردست، حکمت والا ہے(63) اے نبی! کافی ہے آپ کو اللہ اور وہ جنھوں نے پیروی کی آپ كی مومنوں میں سے(64)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنۡ جَنَحُوۡا ﴾ ’’اگر وہ مائل ہوں ۔‘‘ یعنی جنگ کرنے والے کفار: ﴿ لِلسَّلۡمِ ﴾ ’’صلح کی طرف۔‘‘ یعنی صلح اور ترک قتال کی طرف ﴿ فَاجۡنَحۡ لَهَا وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’تو آپ بھی اس (صلح) کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ کریں ‘‘ یعنی جو چیز وہ طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو دے دو۔ کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں ، مثلاً :(۱) ہر وقت طلب عافیت مطلوب ہے اور اگر وہ طلب عافیت میں ابتدا کرتے ہیں تو اس کا مثبت جواب دینا اولیٰ ہے۔ (۲) اس سے تمھاری قوتیں جمع ہوں گی اور کسی دوسرے وقت اگر ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہو جائے تو تمھاری یہ جنگی استعداد تمھارے کام آئے گی۔ (۳) اگر تم نے صلح کر لی اور ایک دوسرے سے مامون ہوگئے اور ایک دوسرے کے اطوار کی معرفت حاصل کر لی۔ تو اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ غالب آتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔پس ہر وہ شخص جو عقل و بصیرت سے بہرہ ور ہے اگر وہ انصاف سے کام لیتا ہے تو وہ اسلام کو، اس کے اوامر و نواہی کی خوبی، مخلوق کے ساتھ اس کے حسن معاملہ اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کی بنا پر دوسرے ادیان پر ترجیح دے گا۔ وہ یہ بھی دیکھے گا کہ کسی بھی پہلو سے اس میں کوئی ظلم و جور نہیں اور کثرت سے لوگ اس کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔ تب یہ صلح کفار کے خلاف مسلمانوں کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔
[63,62] اس صلح میں صرف ایک بات کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں کفار کا مقصد مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے ذریعے سے صرف وقت اور مہلت حاصل کرنا نہ ہو .... اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ کفار کے مکر و فریب کے مقابلے میں ان کے لیے کافی ہے اور اس مکر و فریب کا ضرر انھی کی طرف لوٹے گا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡۤا اَنۡ يَّخۡدَعُوۡكَ فَاِنَّ حَسۡبَكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو آپ کو اللہ کافی ہے‘‘ یعنی آپ کو جو ایذا پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے وہی ہے جو آپ کے مصالح اور امور ضروریہ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور کفایت اس سے پہلے بھی تھی جس پر آپ کا قلب مطمئن تھا۔ ﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد سے اور مومنوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔‘‘ یعنی وہی ہے جس نے آسمانی مدد کے ذریعے سے آپ کی اعانت فرمائی اور یہ اس کی طرف سے ایسی مدد ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی نیز اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمانا یہ ہے کہ ان کو آپ کی مدد پر مقرر فرما دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا‘‘ پس وہ اکٹھے ہوگئے اور اس سبب سے، ان کی قوت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طاقت کے سوا کسی اور کی کوشش اور طاقت کے سبب سے نہ تھا۔ ﴿ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اگر آپ خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے سارا‘‘ اس شدید نفرت اور افتراق کے ہوتے ہوئے جو ان میں پایا جاتا تھا اگر آپ زمین کا تمام سونا، چاندی وغیرہ ان کے دلوں کو جوڑنے کے لیے خرچ کر دیتے۔ ﴿ مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پھر بھی آپ ان کے دلوں کو کبھی جوڑ نہ سکتے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی دلوں کو بدلنے پر قادر نہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’لیکن اللہ نے الفت ڈال دی ان میں ، بے شک وہ غالب ہے حکمت والا‘‘ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی اور ان کے افتراق اور تفرقہ کے بعد ان کو اکٹھا اور متحد کر دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءًؔ فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا١ۚ وَؔكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡؔقَذَكُمۡ مِّنۡهَا﴾(آل عمران: 3؍103) ’’اور اللہ کی نعمت کو، جو تم پر ہوئی یاد کرو، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، پس اللہ نے تمھیں اس سے بچا لیا۔‘‘
[64] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسۡبُكَ اللّٰهُ ﴾ ’’اے نبی اللہ آپ کو کافی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ کے متبعین اہل ایمان کے لیے (بھی) کافی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے، جو اس کے رسول کے اطاعت گزار ہیں ، کافی ہونے کا اور ان کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ ہے۔ جب انھوں نے ایمان اور اتباع رسول کے سبب کو اختیار کیا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دین و دنیا کی پریشانیوں سے ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی کفایت تو صرف اپنی شرط کے معدوم ہونے پر معدوم ہوتی ہے۔
8:65يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ حَرِّضِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ عَلَى ٱلۡقِتَالِۚ إِن يَكُن مِّنكُمۡ عِشۡرُونَ صَٰبِرُونَ يَغۡلِبُواْ مِاْئَتَيۡنِۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّاْئَةٞ يَغۡلِبُوٓاْ أَلۡفٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ
اے نبی! ابھاریے مومنوں کو اوپر لڑائی کے، اگر ہوں گے تم میں سے بیس صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپر۔ اوراگر ہوں گے تم میں سے ایک سو تو غالب آئیں گے وہ ہزار پر، ان میں سے جنھوں نے کفر کیا، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے(65) اب تخفیف کردی اللہ نے تم سے اور جان لیا اس نے کہ تمھارے اندر کمزوری ہے۔ پس اگر ہوں گے تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپراوراگر ہوں گے تم میں سے ایک ہزار تو غالب آئیں گے وہ دو ہزار پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(66)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلَى الۡقِتَالِ﴾ ’’اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء: 4؍104) ’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘﴿ اِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے‘‘ ﴿ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ يَغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ١ۚ وَاِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ مِّؔائَةٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ یعنی کفار ﴿ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘ یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت ، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں ۔
[66] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اس حکم میں تخفیف کر دی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا﴾ ’’اب بوجھ ہلکا کر دیا اللہ نے تم پر سے اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔‘‘اسی لیے اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس حکم میں تخفیف کر دی جائے، چنانچہ اب اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر غالب ہوں گے۔ ﴿وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ان آیات کریمہ کا اسلوب اگرچہ اہل ایمان کے بارے میں خبر کا ہے کہ جب وہ اس معینہ تعداد تک پہنچتے ہیں تو وہ مقابلے میں کفار کی مذکورہ تعداد پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو شجاعت ایمانی سے نوازا ہے۔ مگر اس کا معنی اور حقیقی منشا امر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو پہلے حکم دیا کہ ایک مومن کو (میدان جنگ میں )دس کافروں کے مقابلے سے فرار نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح دس مومنوں کو سو کافروں اور سو مومنوں کو ہزار کافروں کے مقابلے سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ پھر اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے سے دوگنا کفار کے مقابلے سے فرار نہ ہوں ۔ اگر کفار کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو تو اس صورت میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا جائز ہے۔ مگر دو امور اس کی تردید کرتے ہیں ۔(۱)یہ حکم خبر کے اسلوب میں ہے اور خبر کا اصول یہ ہے کہ یہ اپنے باب کے مطابق استعمال ہوتی ہے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر اور امر واقع کی خبر دینا ہے۔(۲) اس عدد مذکور کو صبر کی قید کے ساتھ مقید کیا گیا ہے یعنی انھوں نے صبر کو مشق کے ذریعے سے اپنی عادت بنا لیا ہو۔اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ صابر نہ ہوں تو ان کے لیے فرار جائز ہے خواہ کافر ان سے کم ہی کیوں نہ ہوں ۔ یہ اس صورت میں ہے جب نقصان پہنچنے کا اندیشہ غالب ہو، جیسا کہ حکمت الہیہ کا تقاضا ہے۔پہلے نکتے کا جواب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ ﴾ سے لے کر ﴿ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ تک... اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر لازم اور حتمی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس تعداد میں تخفیف فرما دی۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت کریمہ کا پیرایہ اگرچہ خبر کا ہے مگر اس سے مراد امر ہے۔اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکم کو خبر کے پیرائے میں بیان کرنے میں ایک انوکھا نکتہ پنہاں ہے، جو امر کے اسلوب میں ہرگز نہ پایا جاتا.... اور وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے دلوں کے لیے تقویت اور بشارت ہے کہ وہ عنقریب کافروں پر غالب آئیں گے۔دوسرے نکتے کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو صبر کی صفت سے مقید کرنا درحقیقت ان کو صبر کی ترغیب دینا ہے یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم وہ تمام اسباب اختیار کرو جو صبر کے موجب ہیں ۔جب وہ صبر کا التزام کرتے ہیں تو تمام اسباب ایمانی اور اسباب مادی اس امر کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے... یعنی اہل ایمان کی قلیل تعداد کو فتح و نصرت سے نوازنا۔
8:66ٱلۡـَٰٔنَ خَفَّفَ ٱللَّهُ عَنكُمۡ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمۡ ضَعۡفٗاۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّاْئَةٞ صَابِرَةٞ يَغۡلِبُواْ مِاْئَتَيۡنِۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمۡ أَلۡفٞ يَغۡلِبُوٓاْ أَلۡفَيۡنِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِينَ
اے نبی! ابھاریے مومنوں کو اوپر لڑائی کے، اگر ہوں گے تم میں سے بیس صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپر۔ اوراگر ہوں گے تم میں سے ایک سو تو غالب آئیں گے وہ ہزار پر، ان میں سے جنھوں نے کفر کیا، اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے(65) اب تخفیف کردی اللہ نے تم سے اور جان لیا اس نے کہ تمھارے اندر کمزوری ہے۔ پس اگر ہوں گے تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے تو غالب آئیں گے وہ دو سوپراوراگر ہوں گے تم میں سے ایک ہزار تو غالب آئیں گے وہ دو ہزار پر، اللہ کے حکم سےاور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے(66)
[65] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلَى الۡقِتَالِ﴾ ’’اے نبی! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو۔‘‘ یعنی آپ انھیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو، یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پرمرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کیے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنۡ تَكُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ يَاۡلَمُوۡنَ كَمَا تَاۡلَمُوۡنَ١ۚ وَتَرۡجُوۡنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرۡجُوۡنَ﴾(النساء: 4؍104) ’’اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے تم اللہ سے ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔‘‘﴿ اِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’اے مومنو! اگر ہوں تم میں سے‘‘ ﴿ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ يَغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ١ۚ وَاِنۡ يَّؔكُنۡ مِّؔنۡكُمۡ مِّؔائَةٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’بیس شخص ثابت قدم رہنے والے تو غالب ہوں گے وہ دو سو پر اور اگر ہوں تم میں سے سو شخص تو غالب ہوں گے ہزار کافروں پر‘‘ یعنی ایک مومن دس کافروں کا مقابلہ کرے گا اور اس کا سبب یہ ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ یعنی کفار ﴿ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے‘‘ یعنی انھیں کوئی علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے کیا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ پس یہ کفار زمین میں اقتدار، تغلب اور اس میں فساد پھیلانے کے لیے لڑتے ہیں اور تم (اے مسلمانو)! اس جنگ کا مقصد سمجھتے ہو کہ یہ جنگ اعلائے کلمۃ اللہ، دین کے غلبہ، کتاب اللہ کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی کامیابی کے حصول کے لیے ہے اور یہ تمام امور شجاعت ، صبر و ثبات اور اقدام علی القتال کے اسباب ہیں ۔
[66] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے اس حکم میں تخفیف کر دی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا﴾ ’’اب بوجھ ہلکا کر دیا اللہ نے تم پر سے اور جان لیا کہ تم میں کمزوری ہے۔‘‘اسی لیے اللہ کی رحمت اور اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس حکم میں تخفیف کر دی جائے، چنانچہ اب اگر تم میں سے سو آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر اور اگر ہزار ہوں تو وہ دو ہزار پر غالب ہوں گے۔ ﴿وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مدد اور تائید کے ذریعے سے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ان آیات کریمہ کا اسلوب اگرچہ اہل ایمان کے بارے میں خبر کا ہے کہ جب وہ اس معینہ تعداد تک پہنچتے ہیں تو وہ مقابلے میں کفار کی مذکورہ تعداد پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو شجاعت ایمانی سے نوازا ہے۔ مگر اس کا معنی اور حقیقی منشا امر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو پہلے حکم دیا کہ ایک مومن کو (میدان جنگ میں )دس کافروں کے مقابلے سے فرار نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح دس مومنوں کو سو کافروں اور سو مومنوں کو ہزار کافروں کے مقابلے سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ پھر اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے سے دوگنا کفار کے مقابلے سے فرار نہ ہوں ۔ اگر کفار کی تعداد دوگنا سے زیادہ ہو تو اس صورت میں کفار کے مقابلے سے بھاگنا جائز ہے۔ مگر دو امور اس کی تردید کرتے ہیں ۔(۱)یہ حکم خبر کے اسلوب میں ہے اور خبر کا اصول یہ ہے کہ یہ اپنے باب کے مطابق استعمال ہوتی ہے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر اور امر واقع کی خبر دینا ہے۔(۲) اس عدد مذکور کو صبر کی قید کے ساتھ مقید کیا گیا ہے یعنی انھوں نے صبر کو مشق کے ذریعے سے اپنی عادت بنا لیا ہو۔اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ صابر نہ ہوں تو ان کے لیے فرار جائز ہے خواہ کافر ان سے کم ہی کیوں نہ ہوں ۔ یہ اس صورت میں ہے جب نقصان پہنچنے کا اندیشہ غالب ہو، جیسا کہ حکمت الہیہ کا تقاضا ہے۔پہلے نکتے کا جواب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ ﴾ سے لے کر ﴿ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ تک... اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر لازم اور حتمی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس تعداد میں تخفیف فرما دی۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت کریمہ کا پیرایہ اگرچہ خبر کا ہے مگر اس سے مراد امر ہے۔اس بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکم کو خبر کے پیرائے میں بیان کرنے میں ایک انوکھا نکتہ پنہاں ہے، جو امر کے اسلوب میں ہرگز نہ پایا جاتا.... اور وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے دلوں کے لیے تقویت اور بشارت ہے کہ وہ عنقریب کافروں پر غالب آئیں گے۔دوسرے نکتے کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو صبر کی صفت سے مقید کرنا درحقیقت ان کو صبر کی ترغیب دینا ہے یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم وہ تمام اسباب اختیار کرو جو صبر کے موجب ہیں ۔جب وہ صبر کا التزام کرتے ہیں تو تمام اسباب ایمانی اور اسباب مادی اس امر کے حصول کی خوشخبری دیتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے... یعنی اہل ایمان کی قلیل تعداد کو فتح و نصرت سے نوازنا۔
8:67مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُۥٓ أَسۡرَىٰ حَتَّىٰ يُثۡخِنَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ ٱلدُّنۡيَا وَٱللَّهُ يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)
[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔
[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)
[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا)﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔
8:68لَّوۡلَا كِتَٰبٞ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمۡ فِيمَآ أَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)
[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔
[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)
[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا)﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔
8:69فَكُلُواْ مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلَٰلٗا طَيِّبٗاۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
نہیں لائق کسی نبی کے کہ ہوں اس کے پاس قیدی(اور وہ انھیں قتل نہ کرے) یہاں تک کہ وہ خوب خوں ریزی کرلے زمین میں، ارادہ کرتے ہوتم سامان دنیا کااوراللہ ارادہ کرتا ہے آخرت کااوراللہ زبردست، حکمت والا ہے(67) اگر نہ ہوتی (ایک بات) لکھی ہوئی اللہ کی طرف سے پہلے ہی تو پہنچتا تم کو اس (کے بدلے) میں جو لیا تم نے، عذاب بڑا(68) پس کھاؤ تم اس سے جو لیا تم نے غنیمت کا مال، حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(69)
[67] یہ غزوہ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انھوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لیے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کر کے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗۤ اَسۡرٰى حَتّٰى يُثۡخِنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے۔‘‘ یعنی نبی کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہ رہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہو .... تو محض فدیہ کی خاطر (کفار کو قتل کرنے کی بجائے) قیدی بنانا شروع کر دے۔ یہ فدیہ اس مصلحت کی نسبت سے بہت حقیر ہے جو ان کے قلع قمع اور ان کے شر کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے جب تک ان میں شر اور حملہ کرنے کی قوت موجود ہے اس وقت تک بہتر یہی ہے کہ ان کو (قتل کرنے کی بجائے) جنگی قیدی نہ بنایا جائے۔ جب خونریزی کے بعد کفار کا قلع قمع اور مشرکین کے شر کا سدباب ہو جائے اور ان کا معاملہ کمزور پڑ جائے تب ان کو (میدان جنگ میں ) قیدی بنانے اور ان کی جان بخشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ یعنی تم ان کی جان بخشی کر کے اور اس کے عوض فدیہ لے کر ﴿ عَرَضَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’دنیاوی مال و متاع لینا‘‘یعنی تم کسی ایسی مصلحت کی خاطر ان کی جان بخشی نہیں کر رہے جو دین کی طرف راجع ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اللہ آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔‘‘ مگر اللہ تعالیٰ دین کو عزت سے نواز کر، اپنے اولیاء کی مدد کر کے اور دیگر قوموں پر انھیں غلبہ بخش کر تمھارے لیے آخرت کی بھلائی چاہتا ہے پس وہ تمھیں انھی امور کا حکم دیتا ہے جو اس منزل مراد پر پہنچاتے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کامل غلبے کا مالک ہے اگر وہ کسی لڑائی کے بغیر کفار پر فتح دینا چاہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر وہ حکمت والا ہے وہ تمھیں ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے۔
[68]﴿ لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ ﴾ ’’اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر مقرر نہ ہو چکی ہوتی اور تمھارے لیے غنائم کو حلال نہ کر دیا گیا ہوتا اور اے امت مسلمہ ... تم سے عذاب کو نہ اٹھا لیا گیا ہوتا ﴿ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تو تم نے جو فدیہ حاصل کیا ہے اس کی پاداش میں تمھیں عذاب عظیم آلیتا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے ’’اگر بدر کے روز (قیدیوں کے فدیہ کے معاملے میں ) عذاب نازل ہوتا تو عمر(t) کے سوا کوئی نہ بچتا۔ (تفسیر الدر المنثور: 3؍366)
[69]﴿ فَكُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’پس کھاؤ تم جو تم کو غنیمت میں ملا، حلال پاکیزہ‘‘ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس کے لیے غنائم کو حلال کر دیا حالانکہ اس سے قبل کسی امت پر غنائم کو حلال نہیں کیا گیا تھا۔ ﴿ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے اور جس نے شرک نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔ (اگر چاہے گا)﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے کہ اس نے تم پر مال غنیمت کو مباح کیا اور اس کو تمھارے لیے حلال اور پاک قرار دیا۔
8:70يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّمَن فِيٓ أَيۡدِيكُم مِّنَ ٱلۡأَسۡرَىٰٓ إِن يَعۡلَمِ ٱللَّهُ فِي قُلُوبِكُمۡ خَيۡرٗا يُؤۡتِكُمۡ خَيۡرٗا مِّمَّآ أُخِذَ مِنكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے نبی! کہہ دیجیے! ان سے جو تمھارے ہاتھوں میں(گرفتار) قیدی ہیں، اگر جانے گا اللہ تمھارے دلوں میں بھلائی تو دے گا وہ تمھیں زیادہ بہتر اس سے جو (فدیے میں) لیا گیا تم سے اور بخش دے گا تمھیں اوراللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(70) اور اگر ارادہ کریں وہ آپ سے خیانت کا تو تحقیق وہ خیانت کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے تو قدرت دی اللہ نے (آپ کو) ان پراور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے(71)
[70] یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے عرض کیا کہ انھوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں ۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِيۡۤ اَيۡدِيۡكُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤى١ۙ اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّؔمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’اے نبی ان سے کہہ دو! جو تمھارے ہاتھوں میں قیدی ہیں ، اگر اللہ تمھارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا تو تمھیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے‘‘ یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ﴾ ’’اور (اللہ تعالیٰ) تمھارے گناہ بخش دے گا‘‘ اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباسt سے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس کے بعد انھیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباسt آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں ۔ انھوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔
[71]﴿ وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡا خِيَانَتَكَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ آپﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کر کے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡكَنَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو وہ خیانت کر چکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا‘‘ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ اور یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمھاری کفایت کا ذمہ لیا۔
8:71وَإِن يُرِيدُواْ خِيَانَتَكَ فَقَدۡ خَانُواْ ٱللَّهَ مِن قَبۡلُ فَأَمۡكَنَ مِنۡهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اے نبی! کہہ دیجیے! ان سے جو تمھارے ہاتھوں میں(گرفتار) قیدی ہیں، اگر جانے گا اللہ تمھارے دلوں میں بھلائی تو دے گا وہ تمھیں زیادہ بہتر اس سے جو (فدیے میں) لیا گیا تم سے اور بخش دے گا تمھیں اوراللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(70) اور اگر ارادہ کریں وہ آپ سے خیانت کا تو تحقیق وہ خیانت کرچکے ہیں اللہ سے اس سے پہلے تو قدرت دی اللہ نے (آپ کو) ان پراور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے(71)
[70] یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے عرض کیا کہ انھوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا۔ مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں ۔ فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِيۡۤ اَيۡدِيۡكُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤى١ۙ اِنۡ يَّعۡلَمِ اللّٰهُ فِيۡ قُلُوۡبِكُمۡ خَيۡرًا يُّؤۡتِكُمۡ خَيۡرًا مِّؔمَّاۤ اُخِذَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’اے نبی ان سے کہہ دو! جو تمھارے ہاتھوں میں قیدی ہیں ، اگر اللہ تمھارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا تو تمھیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے‘‘ یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ﴾ ’’اور (اللہ تعالیٰ) تمھارے گناہ بخش دے گا‘‘ اور تمھیں جنت میں داخل کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباسt سے اپنا وعدہ پورا کر دیا، اس کے بعد انھیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباسt آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں ۔ انھوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔
[71]﴿ وَاِنۡ يُّرِيۡدُوۡا خِيَانَتَكَ ﴾ ’’اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ آپﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کر کے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰهَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡكَنَ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو وہ خیانت کر چکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا‘‘ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ اور یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمھاری کفایت کا ذمہ لیا۔
8:72إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَواْ وَّنَصَرُوٓاْ أُوْلَـٰٓئِكَ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يُهَاجِرُواْ مَا لَكُم مِّن وَلَٰيَتِهِم مِّن شَيۡءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُواْۚ وَإِنِ ٱسۡتَنصَرُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ فَعَلَيۡكُمُ ٱلنَّصۡرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوۡمِۭ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٞۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی، یہی لوگ ہیں کہ بعض ان کے حمایتی ہیں بعض کےاور وہ جو ایمان لائے اور نہیں ہجرت کی انھوں نے، نہیں ہے تمھارے لیے ان کی حمایت سے کچھ بھی، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں۔ اوراگر وہ مدد طلب کریں تم سے دین(کے کام) میں تو تم پر واجب ہے مدد کرنا مگر مقابلے میں اس قوم کے کہ تمھارے درمیان اوران کے درمیان کوئی عہد ہواور اللہ ان کو جو تم عمل کرتے ہودیکھنے والا ہے(72)
[72] یہ موالات اور محبت کا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے درمیان.....جو ایمان لائے، جنھوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا .... اور انصار کے درمیان قائم کیا، جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کرامy کو پناہ دی، اپنے گھر، مال اور خود ان کی ذات کے بارے میں ان کی مدد کی۔ یہ سب لوگ، اپنے کامل ایمان اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل اتصال کی بنا پر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يُهَاجِرُوۡا مَا لَكُمۡ مِّنۡ وَّلَايَتِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ حَتّٰى يُهَاجِرُوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی، تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں ، جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں ‘‘ کیونکہ انھوں نے تم سے علیحدہ ہو کر تمھاری ولایت و دوستی کا رشتہ ایسے وقت میں منقطع کر لیا جبکہ تمھیں مردوں کی مدد کی سخت ضرورت تھی اور چونکہ انھوں نے ہجرت نہیں کی اس لیے مومنین کی طرف سے ان کی کوئی دوستی نہیں ۔ البتہ ﴿ وَاِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں ۔‘‘ یعنی اگر کوئی قوم ان کے خلاف لڑائی کرے اور یہ اس لڑائی میں تم سے مدد مانگیں ﴿فَعَلَيۡكُمُ النَّصۡرُ ﴾’’تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔‘‘ یعنی تم پر ان کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمن کے خلاف لڑنا واجب ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے لڑتے ہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب نہیں ۔﴿ اِلَّا عَلٰى قَوۡمٍۭؔ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ مِّؔيۡثَاقٌ ﴾ ’’مگر ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہوچکا ہے (مدد نہیں کرنی چاہیے) ۔ ‘‘ یعنی جن کے ساتھ تمھارا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے اور وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی اگر ان کے ساتھ لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کے خلاف ان مومنوں کی مدد نہ کرو کیونکہ تمھارے اور ان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے احوال اور رویے کو جانتا ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جو تمھارے احوال کے لائق ہیں ۔
8:73وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍۚ إِلَّا تَفۡعَلُوهُ تَكُن فِتۡنَةٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَفَسَادٞ كَبِيرٞ
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، بعض ان کے حمایتی ہیں بعض کے۔ اگر (مسلمانو!) نہ کرو گے تم ایسا(باہم حمایت) تو ہوگا فتنہ زمین میں اور فساد بڑا(73)
[73] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے درمیان موالات کا رشتہ قائم کر دیا تو اس نے آگاہ فرمایا کہ چونکہ کفار کو ان کے کفر نے اکٹھا کر دیا ہے اس لیے وہ ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور ان جیسے کفار کے سوا ان کا کوئی ولی اور دوست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا تَفۡعَلُوۡهُ ﴾ ’’تو (مومنو) اگر تم (بھی) یہ (کام) نہ کرو گے۔‘‘ یعنی اگر تم مومنوں کے ساتھ موالات اور کفار کے ساتھ عداوت کے اصول پر عمل نہیں کرو گے یعنی تم اہل ایمان کی حمایت اور کفار سے دشمنی نہیں کرو گے یا تم کفار کی حمایت کرو گے اور اہل ایمان سے دشمنی رکھو گے ﴿ تَكُنۡ فِتۡنَةٌ فِي الۡاَرۡضِ وَفَسَادٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔‘‘ یعنی حق و باطل اور مومن و کافر کے اختلاط سے ایک ایسی برائی جنم لے گی جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اور بہت سی بڑی بڑی عبادات ، مثلاً: جہاد اور ہجرت وغیرہ معدوم ہو جائیں گی۔ جب اہل ایمان صرف اہل ایمان ہی کو اپنا دوست اور حمایتی نہیں بنائیں گے تو شریعت اور دین کے اس قسم کے مقاصد فوت ہو جائیں گے۔
گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتہ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے، چنانچہ فرمایا:
8:74وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَواْ وَّنَصَرُوٓاْ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ حَقّٗاۚ لَّهُم مَّغۡفِرَةٞ وَرِزۡقٞ كَرِيمٞ
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا انھوں نے اللہ کی راہ میں اور (اسی طرح) وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی(ان کی) یہی ہیں مومن سچے، انھی کے لیے ہے مغفرت اور روزی باعزت(74) اور وہ لوگ جو ایمان لائے بعد میں اور ہجرت کی انھوں نے اور جہاد کیا تمھارے ساتھ (مل کر)، پس یہ لوگ تم ہی میں سے ہیں اور رشتے دار بعض ان میں سے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے اللہ کی کتاب میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(75)
[74]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنھوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔‘‘ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انھوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی ہے۔ ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو ہو جائیں گی اور ان کی لغزشیں ختم ہو جائیں گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یعنی ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انھیں بہت جلد ثواب عطا کر دیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں ۔
[75] اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں ، نیکیوں میں ان کی اتباع کریں ، ایمان لائیں ، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں ‘‘ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی ... اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتی کہ نبی مصطفیﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی۔ جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔ ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ ’’اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں ‘‘ اس لیے میت کی وراثت صرف انھی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا وہ میت کا عصبہ ہیں ۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذوالارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ اس کے احاطہ علم میں تمھارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔
8:75وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ مَعَكُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مِنكُمۡۚ وَأُوْلُواْ ٱلۡأَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلَىٰ بِبَعۡضٖ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا انھوں نے اللہ کی راہ میں اور (اسی طرح) وہ لوگ جنھوں نے (مہاجرین کو) جگہ دی اور مدد کی(ان کی) یہی ہیں مومن سچے، انھی کے لیے ہے مغفرت اور روزی باعزت(74) اور وہ لوگ جو ایمان لائے بعد میں اور ہجرت کی انھوں نے اور جہاد کیا تمھارے ساتھ (مل کر)، پس یہ لوگ تم ہی میں سے ہیں اور رشتے دار بعض ان میں سے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے اللہ کی کتاب میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(75)
[74]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنھوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔‘‘ یعنی مہاجرین و انصار ﴿ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ﴾ یعنی وہی سچے مومن ہیں کیونکہ انھوں نے ہجرت، نصرت دین، ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق کی ہے۔ ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو ہو جائیں گی اور ان کی لغزشیں ختم ہو جائیں گی ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور عزت کی روزی۔‘‘ یعنی ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انھیں بہت جلد ثواب عطا کر دیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں ۔
[75] اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں ، نیکیوں میں ان کی اتباع کریں ، ایمان لائیں ، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں ‘‘ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی ... اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتی کہ نبی مصطفیﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خاص اخوت تھی۔ جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی۔ ﴿ وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ﴾ ’’اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں ‘‘ اس لیے میت کی وراثت صرف انھی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا وہ میت کا عصبہ ہیں ۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذوالارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ اس کے احاطہ علم میں تمھارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔