al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 7 · 206 verses
7:1الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:2كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيۡكَ فَلَا يَكُن فِي صَدۡرِكَ حَرَجٞ مِّنۡهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ
الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:3ٱتَّبِعُواْ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۗ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ
الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:4وَكَم مِّن قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأۡسُنَا بَيَٰتًا أَوۡ هُمۡ قَآئِلُونَ
الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:5فَمَا كَانَ دَعۡوَىٰهُمۡ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ
الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:6فَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرۡسِلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَنَسۡـَٔلَنَّ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:7فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِم بِعِلۡمٖۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ
الٓـمٓصٓ(1)(یہ) کتاب،اتاری گئی ہے آپ کی طرف،پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے،تاکہ ڈرائیں آپ اس کے ذریعے اور نصیحت ہے مومنوں کے لیے(2)تم پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی ہے تمھاری طرف،تمھارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو تم اس کے سوا(اور) دوستوں کی بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہوتم(3)اور بہت سی بستیاں ہیں کہ ہلاک کردیا ہم نے ان کو،پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب رات کو یا جبکہ وہ دوپہر کو آرام کررہے تھے(4) پھر نہ تھی ان کی پکار جب آگیا ان کے پاس ہمارا عذاب،مگر یہ کہ کہا انھوں نے!بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(5)پس ہم پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ بھیجے گئے ان کی طرف(رسول) اور ضرورپوچھیں گے ہم بھیجے گئے(رسولوں)سے (6) پھر ہم بیان کریں گے(سب کچھ) ان پر ساتھ علم کےاور نہ تھے ہم غائب(7)
[2,1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ سے قرآن کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’یہ کتاب اتاری گئی ہے آپ پر‘‘ یعنی یہ نہایت جلیل القدر کتاب جو ان امور پر مشتمل ہے جن کے بندے محتاج ہیں اور اس میں تمام مطالب الہیہ اور مقاصد شرعیہ محکم اور مفصل طور پر موجود ہیں ﴿فَلَا يَؔكُنۡ فِيۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس آپ کا سینہ اس (کے پہنچانے) سے تنگ نہ ہو‘‘ یعنی آپ کے دل میں کوئی تنگی اور شک و شبہ نہ ہو۔ بلکہ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ حکمت والی اور قابل تعریف ہستی کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور سب سے سچا کلام ہے۔ ﴿ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ ﴾(حم السجدہ: 41؍42) ’’باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے‘‘ اس لیے آپ کے سینے کو کشادہ اور آپ کے دل کو مطمئن ہونا چاہیے۔ پس آپ اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو کھول کر بیان کیجیے اور کسی کی ملامت اور مخالفت سے نہ ڈریے۔ ﴿ لِتُنۡذِرَ بِهٖ ﴾ ’’تاکہ آپ اس کے ذریعے سے (لوگوں کو) ڈرائیں ۔‘‘ اس کتاب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو ڈرائیے اور ان کو وعظ و نصیحت کیجیے۔ پس اس طرح معاندین حق پر حجت قائم ہو جائے گی۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہوگی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾(الذاریات: 51؍55) ’’نصیحت کیجیے کیونکہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘اہل ایمان کو اس کے ذریعے سے صراط مستقیم، ظاہری اور باطنی اعمال کی یاددہانی ہوگی اور ان امور کے بارے میں بھی یاد دہانی ہوگی جو بندے اور اس کے سلوک کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بندوں کو اپنی کتاب کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پیروی کرو اس چیز کی جو اتاری گئی تمھاری طرف‘‘ یعنی اس کتاب کی جو میں تمھاری خاطر نازل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ جو تمھاری تربیت کی تکمیل چاہتا ہے اس مقصد کے لیے اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، اگر تم اس کتاب کی پیروی کرو گے تو تمھاری تربیت مکمل ہو جائے گی، تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت پوری ہو جائے گی اور تمھیں بہترین اور بلند ترین اعمال کی طرف راہنمائی نصیب ہوگی۔﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دوست نہ بناؤ، جن کی خواہشات کی تم پیروی کرو اور ان کی خاطر تم حق کو چھوڑ دو ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو‘‘ اگر تم نصیحت حاصل کر لیتے اور مصلحت کو پہچان لیتے تو تم ضرر رساں چیز کو نفع بخش چیز پر اور دشمن کو دوست پر کبھی ترجیح نہ دیتے۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا ﴾ ’’اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں ، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآىِٕلُوۡنَ﴾ ’’راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے‘‘ یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
[5]﴿ فَمَا كَانَ دَعۡوٰىهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’جب ان کو ہمارے عذاب نے آلیا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ظالم تھے۔‘‘جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَؔكَمۡ قَصَمۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ كَانَتۡ ظَالِمَةً وَّاَنۡشَاۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ۰۰ فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَرۡؔكُضُوۡنَؕ۰۰ لَا تَرۡؔكُضُوۡا وَارۡجِعُوۡۤا اِلٰى مَاۤ اُتۡرِفۡتُمۡ فِيۡهِ وَمَسٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ۰۰ فَمَا زَالَتۡ تِّؔلۡكَ دَعۡوٰىهُمۡ حَتّٰى جَعَلۡنٰهُمۡ حَصِيۡدًا خٰمِدِيۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍11-15) ’’کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ظالم تھیں اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو پیدا کیا۔ پس جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو لگے اس سے بھاگنے۔ اب نہ بھاگو۔ ان نعمتوں کی طرف لوٹو جن کے تم مزے لوٹا کرتے تھے اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ۔ شاید تم سے پوچھا جائے، کہنے لگے ہائے ہماری ہلاکت! بے شک ہم ہی ظالم تھے۔ وہ اس طرح پکارتے رہے اور ہم نے انھیں کھیتی کی طرح کاٹ کر ڈھیر کر دیا‘‘۔
[6]﴿فَلَنَسۡئَلَنَّ۠ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہم ان قوموں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف ہم نے انبیا و مرسلین کو مبعوث کیا تھا‘‘ کہ انھوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(القصص: 28؍65) ’’اور جس روز وہ (اللہ) انھیں پکار کر کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ ﴿ وَ لَنَسۡئَلَنَّ۠ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔‘‘ یعنی ہم رسولوں سے ان کے رب کے پیغام کو پہنچانے کے بارے میں ضرور پوچھیں گے اور یہ بھی ضرور پوچھیں گے کہ ان کی امتوں نے کیا جواب دیا۔
[7]﴿فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم ان کے حالات بیان کریں گے۔‘‘ یعنی ہم تمام مخلوق کو بتائیں گے کہ وہ کیا عمل کرتے رہے تھے ﴿ بِعِلۡمٍ ﴾ ’’اپنے علم سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ان کو ان کے اعمال کے بارے میں بتائے گا ﴿ وَّمَا كُنَّا غَآىِٕبِيۡنَ ﴾ ’’ہم کسی بھی وقت غیر موجود نہ تھے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلۃ: 58؍6) ’’اللہ نے ان کے تمام اعمال کو محفوظ رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں ۔‘‘اور فرمایا : ﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَمَا كُنَّا عَنِ الۡخَلۡقِ غٰفِلِيۡنَ﴾(المومنون: 23؍17) ’’ہم نے تمھارے اوپر سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔‘‘
پھر اعمال کی جزا بیان فرمائی، چنانچہ فرمایا:
7:8وَٱلۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذٍ ٱلۡحَقُّۚ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
اور(اعمال کا) وزن اس دن حق ہے، پھر جو شخص کہ بھاری ہوگئی میزان اس( کے نیک اعمال) کی تو وہی لوگ ہیں کامیاب(8) اور جو شخص کہ ہلکی ہوگئی میزان اس کی،تو یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو بوجہ اس کے تھے وہ ہماری آیتوں کے ساتھ بے انصافی کرتے(9)
[8] یعنی قیامت کے روز اعمال کا وزن عدل و انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ ’’تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔‘‘ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پا لیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔
[9]﴿وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ ’’اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے۔‘‘ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنا نقصان کیا‘‘ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ﴿ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بے انصافی کرتے تھے‘‘ یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انھوں نے نہیں کی۔
7:9وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَظۡلِمُونَ
اور(اعمال کا) وزن اس دن حق ہے، پھر جو شخص کہ بھاری ہوگئی میزان اس( کے نیک اعمال) کی تو وہی لوگ ہیں کامیاب(8) اور جو شخص کہ ہلکی ہوگئی میزان اس کی،تو یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو بوجہ اس کے تھے وہ ہماری آیتوں کے ساتھ بے انصافی کرتے(9)
[8] یعنی قیامت کے روز اعمال کا وزن عدل و انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ کسی بھی لحاظ سے کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ ’’تو جن لوگوں کے وزن بھاری ہوں گے۔‘‘ یعنی جن کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو وہی نجات پانے والے ہوں گے۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو ناپسندیدہ امور سے نجات حاصل کریں گے اور اپنے محبوب امور کو پا لیں گے جن کو بہت بڑا نفع اور دائمی سعادت حاصل ہوگی۔
[9]﴿وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ ’’اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے۔‘‘ یعنی جن کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا، ان کا معاملہ اس کے مطابق ہوگا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنا نقصان کیا‘‘ کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو کر دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے ﴿ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’اس واسطے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بے انصافی کرتے تھے‘‘ یعنی ان آیات کریمہ کی اطاعت جس طرح کرنا ان پر واجب تھی انھوں نے نہیں کی۔
7:10وَلَقَدۡ مَكَّنَّـٰكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيهَا مَعَٰيِشَۗ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
اور ، البتہ تحقیق قدرت دی ہم نے تمھیں زمین میں اور بنادیے ہم نے تمھارے لیے اس میں اسباب گزران،بہت ہی کم تم شکر کرتے ہو(10)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ معاش و مسکن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان جتلاتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا مہیا کیا‘‘ جس سے تم زمین میں گھر بناتے ہو، کھیتی باڑی کرتے ہو اور بعض دیگر وجوہ سے اس سے استفادہ کرتے ہو ﴿ وَجَعَلۡنَا لَكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ﴾ ’’اور مقرر کر دیں ہم نے اس میں تمھارے لیے روزیاں ‘‘ تمام معاش کا دارومدار ان چیزوں پر ہے جو درختوں ، نباتات، معدنیات، مختلف قسم کی صنعتوں اور تجارت سے ہوتی ہیں ۔ وہی ہے جس نے تمھیں یہ تمام چیزیں مہیا کیں اور مختلف اسباب کو تمھارے لیے مسخر کیا ﴿ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کا بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو، جس نے انواع و اقسام کی نعمتوں سے تمھیں نوازا اور مختلف مصائب کو تم سے دور کیا۔
7:11وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔
[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘
7:12قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَۖ قَالَ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِي مِن نَّارٖ وَخَلَقۡتَهُۥ مِن طِينٖ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔
[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘
7:13قَالَ فَٱهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَٱخۡرُجۡ إِنَّكَ مِنَ ٱلصَّـٰغِرِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔
[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘
7:14قَالَ أَنظِرۡنِيٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔
[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘
7:15قَالَ إِنَّكَ مِنَ ٱلۡمُنظَرِينَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے تمھیں، پھر صورتیں بنائیں ہم نے تمھاری، پھر کہا ہم نے فرشتوں سے سجدہ کرو تم آدم کو،پس سجدہ کیا انھوں نے سوائے ابلیس کے،نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے(11)کہا(اللہ)!کس چیز نے منع کیا تجھے اس سے کہ تو سجدہ کرے،جبکہ میں نے حکم دیا تھاتجھ کو؟اس نے کہا،میں بہتر ہوں اس سے،پیدا کیا تونے مجھے آگ سے اور پیداکیا تو نے اس کو مٹی سے(12)فرمایاپس اتر تو اس(آسمان)سے،پس نہیں لائق تھا واسطے تیرے یہ کہ تکبر کرے تو اس میں،سو نکل جاتو،بلاشبہ تو ذلیلوں میں سے ہے(13)اس نے کہا!مہلت دے تومجھے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں گے(14) کہا اللہ نے!تو مہلت دیے گئے(لوگوں) میں سے ہے(15)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی آدم سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے تمھیں پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارے جد امجد آدم کی اصل اور اس کے مادے کی تخلیق کی، جس سے تم سب نکلے ہو ﴿ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ﴾ ’’پھر تمھاری صورت شکل بنائی۔‘‘ پھر ہم نے تمھیں بہترین صورت اور بہترین قامت عطا کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے جس سے اس کی باطنی صورت کی تکمیل ہوئی، پھر باعزت فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے اکرام و احترام اور اس کی فضیلت کے اعتراف کے طور پر اسے سجدہ کریں ، چنانچہ انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ﴿فَسَجَدُوۡۤا ﴾ ’’پس انھوں نے سجدہ کیا۔‘‘ یعنی تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ﴿ اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ﴾ مگر ابلیس نے تکبر اور خود پسندی کی بنا پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔
[12] اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ ﴾ ’’تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا‘‘ جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا، میں نے اسے وہ شرف اور فضیلت عطا کی جو کسی اور کو عطا نہیں کی تو نے میرے حکم کی نافرمانی کر کے میری اہانت اور تحقیر کا ارتکاب کیا ﴿ قَالَ﴾ ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾ ’’میں اس سے بہتر ہوں ‘‘ پھر اس نے اپنے اس باطل دعوے کی دلیل دیتے ہوئے کہا: ﴿ خَلَقۡتَنِيۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ ﴾’’تو نے مجھے آگ سے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا ہے‘‘ اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ وہ مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے اس مخلوق سے افضل ہو، جس کی تخلیق مٹی سے ہے۔ کیونکہ آگ مٹی پر غالب ہے اور اوپر اٹھ سکتی ہے۔شیطان کا یہ قیاس فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔(۱)یہ قیاس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مقابلے میں ہے کہ آدم کو سجدہ کیا جائے اور جب قیاس نص سے معارض ہو تو وہ باطل ہے۔ کیونکہ قیاس کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ جس معاملے میں نص موجود نہ ہو اس کا حکم منصوص علیہ امور کے احکام کے بالکل قریب اور ان کے تابع ہو۔ رہا وہ قیاس جو منصوص علیہ احکام کے معارض ہو اور اس کو معتبر قرار دینے سے نصوص کا لغو ہونا لازم آتا ہو تو یہ قیاس بدترین قیاس ہے۔(۲) ابلیس کا مجرد یہ کہنا ﴿ اَنَا خَيۡرٌ مِّؔنۡهُ﴾’’میں اس (آدم)سے بہتر ہوں ‘‘ ابلیس خبیث کے نقص کے لیے کافی ہے۔ اس نے اپنے نقص پر اپنی خود پسندی، تکبر اور بلا علم اللہ تعالیٰ کی طرف قول منسوب کرنے کو دلیل بنایا اس سے بڑا اور کون سا نقص ہو سکتا ہے؟(۳) ابلیس نے آگ کو مٹی اور گارے کے مادہ پر فوقیت دے کر جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے۔ کیونکہ مٹی کے مادے میں خشوع، سکون اور سنجیدگی ہے۔ اس مٹی ہی سے زمین کی برکتیں ظاہر ہوتی ہیں ، مثلاً: مختلف انواع و اجناس کے درخت اور نباتات وغیرہ۔ اس کے برعکس آگ میں خفت، طیش اور جلانے کی خاصیت ہے۔
[13] اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا ﴾ ’’تو اس سے اترجا۔‘‘ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَا يَكُوۡنُ لَكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا ﴾ ’’تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں ) رہ کر تکبر کرے‘‘ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں ۔ ﴿فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ﴾ ’’پس نکل جا تو ذلیل ہے۔‘‘ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
[15,14] جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا:﴿ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴾ ’’تجھ کو مہلت دی گئی‘‘
7:16قَالَ فَبِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَٰطَكَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ
اس نے کہا!پس بوجہ اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھے،ضرور بیٹھوں گا میں ان(کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستے پر(16) پھر ضرورآؤں گامیں ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور نہیں پائے گا تو ان کی اکثريت کو شکرگزار(17)
[16] جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ ﴾ ’’جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے‘‘ یعنی مخلوق کے لیے ﴿صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’تیرے سیدھے راستے پر۔‘‘اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
[17]﴿ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآىِٕلِهِمۡ ﴾ ’’پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے‘‘ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطراف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسااوقات غفلت غالب آجاتی ہے تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لیے کہنے لگا ﴿وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لیے متنبہ فرمایا ہے تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کر سکیں ۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔
7:17ثُمَّ لَأٓتِيَنَّهُم مِّنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَيۡمَٰنِهِمۡ وَعَن شَمَآئِلِهِمۡۖ وَلَا تَجِدُ أَكۡثَرَهُمۡ شَٰكِرِينَ
اس نے کہا!پس بوجہ اس کے کہ گمراہ کیا تو نے مجھے،ضرور بیٹھوں گا میں ان(کو گمراہ کرنے) کے لیے تیرے سیدھے راستے پر(16) پھر ضرورآؤں گامیں ان کے پاس ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور نہیں پائے گا تو ان کی اکثريت کو شکرگزار(17)
[16] جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِيۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ ﴾ ’’جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے‘‘ یعنی مخلوق کے لیے ﴿صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَ﴾ ’’تیرے سیدھے راستے پر۔‘‘اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
[17]﴿ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآىِٕلِهِمۡ ﴾ ’’پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے‘‘ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطراف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسااوقات غفلت غالب آجاتی ہے تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لیے کہنے لگا ﴿وَلَا تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ﴾ ’’اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘‘ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں ۔‘‘شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لیے متنبہ فرمایا ہے تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کر سکیں ۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔
7:18قَالَ ٱخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُومٗا مَّدۡحُورٗاۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَأَمۡلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمۡ أَجۡمَعِينَ
کہا اللہ نے!نکل جا اس سے حقیر اور دھتکاراہوا، البتہ جو پیروی کرے گا تیری ان میں سےتو ضرور بھروں گا میں جہنم کو تم سب سے(18)
[18] یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اخۡرُجۡ مِنۡهَا ﴾ ’’نکل یہاں سے‘‘ یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں ﴿ مَذۡءُوۡمًؔا ﴾ بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے ﴿ مَّدۡحُوۡرًؔا﴾ ’’مردود ہو کر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’میں تم سے جہنم کو بھردوں گا۔‘‘ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا ﴿ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’تم سب سے‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس کے شر اور فتنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا
7:19وَيَـٰٓـَٔادَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ فَكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)
[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘
[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘
[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔
[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟
[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
7:20فَوَسۡوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وُۥرِيَ عَنۡهُمَا مِن سَوۡءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيۡنِ أَوۡ تَكُونَا مِنَ ٱلۡخَٰلِدِينَ
اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)
[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘
[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘
[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔
[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟
[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
7:21وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ
اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)
[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘
[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘
[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔
[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟
[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
7:22فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٖۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفَانِ عَلَيۡهِمَا مِن وَرَقِ ٱلۡجَنَّةِۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمۡ أَنۡهَكُمَا عَن تِلۡكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ لَكُمَا عَدُوّٞ مُّبِينٞ
اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)
[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘
[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘
[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔
[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟
[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
7:23قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
اور اے آدم!رہ تو اور تیری بیوی جنت میں اور کھاؤ جہاں سے چاہو تم دونوں اور مت قریب جانا تم دونوں اس درخت کے کہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے(19) پس وسوسہ ڈالا ان دونوں(کو بہکانے) کے لیے شیطان نے،تاکہ ظاہر کردے وہ ان کے لیے جو کہ چھپائی گئی تھیں ان سے،شرم گاہیں ان کی،اور کہا(شیطان نے) نہیں روکا تم دونوں کو،تمھارے رب نے اس درخت سے مگر (اس لیے) کہ کہیں ہوجاؤ تم فرشتے،یاہوجاؤ تم ہمیشہ رہنے والوں میں سے(20) اور قسم کھائی اس نے ان کے سامنے کہ میں تم دونوں کے لیے خیر خواہوں میں سے ہوں(21) پس پھسلا دیا (شیطان نے)ان کو دھوکے سے، پھر جب چکھاانھوں نے اس درخت سے توظاہر ہوگئیں ان کے لیے شرم گاہیں ان کی اور لگے وہ چپکانے اوپر اپنے پتے جنت کے(ستر ڈھانکنے كے لیے) اور آواز دی ان کو ان کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمھیں اس درخت سے؟اور (نہیں) کہا تھا میں نے تمھیں کہ شیطان تم دونوں کا دشمن ہے کھلا؟(22) کہا انھوں نے اے ہمارے رب!ظلم کیا ہم نے اپنے آپ پر،اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور (نہ) رحم کیا تو نے ہم پرتو ہو جائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(23)
[19] یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu اور ان کی بیوی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو سکون کے لیے عطا فرمائی تھی، حکم دیا کہ وہ جنت میں جہاں سے جو جی میں آئے کھائیں اور جنت سے متمتع ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین درخت کا پھل کھانے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس چیز کا درخت تھا؟ اس درخت کے تعین میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس درخت کا پھل کھانے کی تحریم پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول دلیل ہے ﴿ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تم دونوں گناہ گاروں میں سے ہو جاؤ گے‘‘
[20] آدمu اور ان کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پابندی کی، یہاں تک کہ ان کا دشمن ابلیس اپنے مکر و فریب سے ان کے پاس گھس آیا اور اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا، ان کو فریب میں مبتلا کر دیا اور ان کے سامنے بناوٹ سے کام لیتے ہوئے کہنے لگا:﴿ مَا نَهٰؔىكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰؔذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَكَيۡنِ ﴾ ’’تم کو نہیں روکا تمھارے رب نے اس درخت سے مگر اس لیے کہ کہیں تم ہو جاؤ فرشتے‘‘ یعنی فرشتوں کی جنس میں سے ﴿اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں میں سے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الۡخُلۡدِ وَمُلۡكٍ لَّا يَبۡلٰى ﴾(طٰہ: 20؍120) ’’کیا میں تجھے ایسا درخت بتاؤں جس کا پھل ہمیشہ کی زندگی عطا کرے اور ایسا اقتدار جو کبھی زائل نہ ہو۔‘‘
[21] یہ سب کچھ کہنے کے ساتھ ساتھ اس نے اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں تو تمھارا خیر خواہ ہوں ۔‘‘ یعنی میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمھاری خیر خواہی کرنے والا ہوں ۔
[22] پس آدمu شیطان کے دھوکے میں آگئے اور اس حال میں عقل پر شہوت نفس غالب آگئی۔ ﴿فَدَلّٰىهُمَا ﴾ ’’پس نیچے لے آیا ان دونوں کو‘‘ یعنی شیطان نے آدم و حواء کو ان کے بلند مرتبے سے، جو کہ گناہوں سے دوری پر مبنی تھا، اتار کر نافرمانی کی گندگی میں لتھیڑ دیا اور انھوں نے آگے بڑھ کر اس شجر ممنوعہ کے پھل کو کھا لیا ﴿ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡاٰتُهُمَا ﴾ ’’پس جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو ان پر ان کی شرم گاہیں کھل گئیں ‘‘ یعنی دونوں کا ستر ظاہر ہوگیا اس سے پہلے ان کا ستر چھپا ہوا تھا۔ پس اس حالت میں تقویٰ سے باطنی عریانی نے ظاہری لباس میں اپنا اثر دکھایا۔ حتی کہ وہ لباس اتر گیا اور ان کا ستر ظاہر ہوگیا اور جب ان پر ان کا ستر ظاہر ہوا تو وہ بہت شرمسار ہوئے اور جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنے ستر کو چھپانے لگے۔ ﴿وَنَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے آواز دی ﴿ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلۡ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تمھیں کہا نہیں تھا کہ شیطان تمھارا کھلا دشمن ہے‘‘ پھر تم نے اپنے دشمن کی اطاعت کر کے ممنوعہ کام کا ارتکاب کیوں کیا؟
[23] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر احسان کیا اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر کے اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا١ٚ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی ہم سے وہ گناہ سرزد ہوگیا جس سے تو نے ہمیں روکا تھا۔ ہم نے گناہ کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو سخت نقصان پہنچایا اور اگر تو نے گناہ اور اس کی عقوبت کے آثار کو نہ مٹایا اور اس قسم کی خطاؤں سے توبہ قبول کر کے معافی کے ذریعے سے ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نے سخت خسارے کا کام کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ وَعَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۰۰ ثُمَّ اجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدٰؔى ﴾(طٰہ: 20؍121، 122) ’’اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ سے بھٹک گیا، پھر اس کے رب نے اس پر نوازش کی اور اس پر توجہ فرمائی اور راہ نمائی کی۔‘‘یہ رویہ آدمu کا تھا۔ مگر اس کے برعکس ابلیس اپنی سرکشی پر جما رہا اور نافرمانی سے باز نہ آیا۔ پس جو کوئی آدم کی طرح اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے ندامت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرتا ہے اور گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا رب اسے چن لیتا ہے اور سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے اور جو کوئی ابلیس کی طرح اپنے گناہ اور نافرمانی پر جم جاتا ہے اور اس کی نافرمانیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دوری کے سوا اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
7:24قَالَ ٱهۡبِطُواْ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ وَلَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُسۡتَقَرّٞ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٖ
کہا(اللہ نے) اُترو تم،ایک تمھارا،دوسرے کادشمن ہے،اور تمھارے لیے زمین میں ٹھہرنااور فائده اٹھانا ہے ایک وقت(معین) تک(24) فرمایا اسی(زمین) میں زندہ رہو گے تم اور اسی میں مرو گے تم اور اسی سے(روزقیامت)نکالے جاؤ گے(25) اے بنی آدم!تحقیق اتارا ہم نے تم پر ایسا لباس جو چھپاتا ہے تمھاری شرم گاہیں اور(اتارا) لباس زینت، اورلباس تقویٰ کا،یہ بہت بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ (لوگ)نصیحت حاصل کریں(26)
[24]یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور حوا i کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔﴿ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ ﴾ کا جملہ (اِھِبْطُوْا)کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء iاور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمھارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمھارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔[25] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدمu، ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندر ان کے لیے ایک ایسی زندگی مقرر کر دی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتیٰ کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کر دیے جائیں گے، پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں ، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل کرے گا۔
[26] پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام اشیا ، مثلاً: کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں ۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کر دیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ بنا بریں فرمایا:﴿ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيۡرٌ﴾’’اور جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔‘‘ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا یہ ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لیے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لیے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں ۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہو جائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہو جائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑے گا۔﴿ذٰلِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ غور کریں ‘‘ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمھیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔
7:25قَالَ فِيهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُونَ
کہا(اللہ نے) اُترو تم،ایک تمھارا،دوسرے کادشمن ہے،اور تمھارے لیے زمین میں ٹھہرنااور فائده اٹھانا ہے ایک وقت(معین) تک(24) فرمایا اسی(زمین) میں زندہ رہو گے تم اور اسی میں مرو گے تم اور اسی سے(روزقیامت)نکالے جاؤ گے(25) اے بنی آدم!تحقیق اتارا ہم نے تم پر ایسا لباس جو چھپاتا ہے تمھاری شرم گاہیں اور(اتارا) لباس زینت، اورلباس تقویٰ کا،یہ بہت بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ (لوگ)نصیحت حاصل کریں(26)
[24]یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور حوا i کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔﴿ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ ﴾ کا جملہ (اِھِبْطُوْا)کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء iاور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمھارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمھارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔[25] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدمu، ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندر ان کے لیے ایک ایسی زندگی مقرر کر دی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتیٰ کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کر دیے جائیں گے، پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں ، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل کرے گا۔
[26] پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام اشیا ، مثلاً: کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں ۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کر دیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ بنا بریں فرمایا:﴿ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيۡرٌ﴾’’اور جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔‘‘ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا یہ ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لیے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لیے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں ۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہو جائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہو جائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑے گا۔﴿ذٰلِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ غور کریں ‘‘ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمھیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔
7:26يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسٗا يُوَٰرِي سَوۡءَٰتِكُمۡ وَرِيشٗاۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡرٞۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ
کہا(اللہ نے) اُترو تم،ایک تمھارا،دوسرے کادشمن ہے،اور تمھارے لیے زمین میں ٹھہرنااور فائده اٹھانا ہے ایک وقت(معین) تک(24) فرمایا اسی(زمین) میں زندہ رہو گے تم اور اسی میں مرو گے تم اور اسی سے(روزقیامت)نکالے جاؤ گے(25) اے بنی آدم!تحقیق اتارا ہم نے تم پر ایسا لباس جو چھپاتا ہے تمھاری شرم گاہیں اور(اتارا) لباس زینت، اورلباس تقویٰ کا،یہ بہت بہتر ہے۔یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ (لوگ)نصیحت حاصل کریں(26)
[24]یعنی اللہ تعالیٰ نے جناب آدم اور حوا i کو جمع کے صیغے کے ساتھ مخاطب کر کے نیچے اترنے کا حکم دیا کیونکہ ابلیس تو اس سے قبل اتارا جا چکا تھا، پھر سب زمین کی طرف اتارے گئے۔ آدم و حوا کے ساتھ ابلیس کو بھی بتکرار حکم دیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ ابلیس انسان سے کبھی جدا نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔﴿ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ ﴾ کا جملہ (اِھِبْطُوْا)کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر نصب کے مقام پر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم و حواء iاور شیطان سے کہا کہ سب جنت سے نکل کر زمین پر اتر جاؤ درآں حالیکہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو زمین پر تمھارا ٹھکانا ہے، اس وقت تک، جب تک تمھارا زمین میں رہنا مقدر ہے۔[25] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آدمu، ان کی بیوی اور ان کی اولاد کو زمین پر اتار دیا تو ان کو زمین کے اندر ان کے قیام کے احوال کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ زمین کے اندر ان کے لیے ایک ایسی زندگی مقرر کر دی ہے جس کے تعاقب میں موت ہے جو ابتلاء و امتحان سے لبریز ہے۔ وہ اسی دنیا میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی طرف اپنے رسول بھیجے گا، ان پر کتاب نازل کرے گا۔ حتیٰ کہ ان پر موت آئے گی اور وہ اسی زمین میں دفن کر دیے جائیں گے، پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس دنیا سے نکال کر حقیقی گھر میں ، جو دائمی قیام کا گھر ہے، داخل کرے گا۔
[26] پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو ضروری لباس مہیا فرمایا۔ وہ لباس جس سے خوبصورتی مقصود ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام اشیا ، مثلاً: کھانا پینا، سواری اور بیویاں وغیرہ عطا کیں ۔ اس کی تکمیل کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دیگر ضروریات مہیا کیں اور ان پر واضح کر دیا کہ یہ سب کچھ بالذات مقصود نہیں ہے بلکہ یہ لباس اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں ان کا مددگار ثابت ہو۔ بنا بریں فرمایا:﴿ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ١ۙ ذٰلِكَ خَيۡرٌ﴾’’اور جو تقویٰ کا لباس ہے وہ سب سے اچھا ہے۔‘‘ یعنی تقویٰ کا لباس، حسی لباس سے بہتر ہے۔ کیونکہ لباس تقویٰ بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے کبھی پرانا اور بوسیدہ نہیں ہوتا اور لباس تقویٰ قلب و روح کا جمال ہے۔ رہا حسی اور ظاہری لباس تو اس کی انتہا یہ ہے کہ یہ ایک محدود وقت کے لیے ظاہری ستر کو ڈھانپتا ہے یا انسان کے لیے خوبصورتی کا باعث بنتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا اور کوئی فائدہ نہیں ۔ نیز فرض کیا یہ لباس موجود نہیں تب زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس کا ظاہری ستر منکشف ہو جائے گا جس کا اضطراری حالت میں منکشف ہونا نقصان دہ نہیں اور اگر لباس تقویٰ معدوم ہو جائے تو باطنی ستر کھل جائے گا اور اسے رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا پڑے گا۔﴿ذٰلِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ غور کریں ‘‘ یعنی یہ مذکورہ لباس جس سے تم ایسی چیزوں کو یاد کرتے ہو جو تمھیں نفع و نقصان دیتی ہیں اور اس ظاہری لباس سے تم اپنے باطن کی ستر پوشی میں مدد لیتے ہو۔
7:27يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ كَمَآ أَخۡرَجَ أَبَوَيۡكُم مِّنَ ٱلۡجَنَّةِ يَنزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡءَٰتِهِمَآۚ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمۡ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡۗ إِنَّا جَعَلۡنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوۡلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ
اے بنی آدم! نہ فتنے میں ڈال دے تمھیں شیطان جس طرح نکلوایا تھا اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے،جبکہ اترواتا تھاوہ ان دونوں سے ان کا لباس تاکہ دکھادے ان کو شرم گاہیں ان کی،یقینا وہ دیکھتا ہے تمھیں وہ اور اس کا قبیلہ جہاں سے نہیں دیکھتے تم ان کو، یقینا ہم نے بنادیا شیطانوں کو دوست ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے(27)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ اولاد آدم کو ڈراتا ہے کہ شیطان کہیں تمھارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ کرے جو اس نے تمھارے جد امجد آدمu کے ساتھ کیا تھا، چنانچہ فرماتا ہے ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! نہ بہکائے تم کو شیطان‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے گناہ اور معاصی کو آراستہ کر کے تمھیں ان کی طرف بلائے اور ترغیب دے اور تم اس کی اطاعت کر لو ﴿ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَنَّةِ ﴾ ’’جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا‘‘ اور انھیں بلند ترین مقام سے اتار کرفرو ترین مقام پر پہنچا دیا۔ پس اس سے بچو وہ تمھارے ساتھ بھی وہی کچھ کرنا چاہتا ہے، وہ تمھیں گمراہ کرنے کی کوشش میں ذرہ بھر کوتاہی نہیں کرتا جب تک کہ تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے، اس لیے تم اس سے اپنا بچاؤ کرتے رہو اور اس کے مقابلے میں زرہ بکتر پہنے رکھو اور جن راستوں سے داخل ہو کر وہ تم پر شب خون مارتا ہے، ان راستوں سے غافل نہ رہو۔ ﴿اِنَّهٗ ﴾ ’’بے شک وہ‘‘ دائمی طور پر تمھاری نگرانی کرتا ہے ﴿ يَرٰىكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ ﴾ ’’وہ اور اس کے قبیلے کے شیاطین جن تمھیں اس مقام سے دیکھتے ہیں ‘‘ ﴿ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ١ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘ پس عدم ایمان ہی انسان اور شیطان کے درمیان دوستی اور موالات کے عقد کا موجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّهٗ لَيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ۰۰ اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡنَ۰۰ ﴾(النحل: 16؍99-100) ’’جو مومن ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اس کا اختیار تو ان لوگوں پر ہے جو اس کو اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کے سبب سے اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔‘‘
7:28وَإِذَا فَعَلُواْ فَٰحِشَةٗ قَالُواْ وَجَدۡنَا عَلَيۡهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَاۗ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأۡمُرُ بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
اور جب کرتے ہیں وہ کوئی بے حیائی کا کام،تو کہتے ہیں پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو اور اللہ ے حکم دیا ہمیں اس کا، کہہ دیجیے!یقینا اللہ نہیں حکم دیتا بے حیائی کا،کیا کہتے ہو تم اللہ پر وہ باتیں جو نہیں جانتے تم؟(28) کہہ دیجیے!حکم دیا ہے میرے رب نے انصاف کا،اور(یہ کہ) سیدھے(قبلہ رخ) کرو اپنے چہرے ہر نماز کے وقت اور پکارو اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت، جیسے پہلے پیداکیا اس نے تمھیں،لوٹو گے تم(ویسے ہی)(29) ایک فریق کو ہدایت دی اس نے اور ایک فریق ثابت ہوگئی اوپر ان کے ضلالت۔ یقینا انھوں نے بنا لیا شیطان کو دوست سوائے اللہ کے،اور وه گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ہدایت یافتہ ہیں(30)
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً ﴾ ’’جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں ۔‘‘ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے‘‘ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا﴾ ’’اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے‘‘ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے، جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں ‘‘ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہو سکتا ہے؟
[29] پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے ﴿ قُلۡ اَمَرَ رَبِّيۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ﴿وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ ﴾ ’’اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ ﴿ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر‘‘ یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے، یعنی تمھاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿كَمَا بَدَاَكُمۡ ﴾ ’’جیسے پہلی مرتبہ تمھاری ابتدا کی‘‘ ﴿ تَعُوۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم پھر پیدا ہوگے۔‘‘ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔
[30]﴿فَرِيۡقًا ﴾ ’’ایک فریق کو‘‘ یعنی تم میں سے ایک فریق کو ﴿ هَدٰؔى ﴾ ’’اس نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کیے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا ﴿ وَفَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ﴾’’اور ایک فریق، ثابت ہو گئی اس پر گمراہی‘‘ چونکہ انھوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کیے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کر دیا۔﴿ اِنَّهُمُ اتَّؔخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمن کی ولایت اور دوستی سے نکل گئے اور انھوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کر لیا، اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لیے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ‘‘ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انھوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامر و نواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں ۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیکہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کر سکتا تھا لیکن اس نے اپنے گمان کو ہی سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔
7:29قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ
اور جب کرتے ہیں وہ کوئی بے حیائی کا کام،تو کہتے ہیں پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو اور اللہ ے حکم دیا ہمیں اس کا، کہہ دیجیے!یقینا اللہ نہیں حکم دیتا بے حیائی کا،کیا کہتے ہو تم اللہ پر وہ باتیں جو نہیں جانتے تم؟(28) کہہ دیجیے!حکم دیا ہے میرے رب نے انصاف کا،اور(یہ کہ) سیدھے(قبلہ رخ) کرو اپنے چہرے ہر نماز کے وقت اور پکارو اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت، جیسے پہلے پیداکیا اس نے تمھیں،لوٹو گے تم(ویسے ہی)(29) ایک فریق کو ہدایت دی اس نے اور ایک فریق ثابت ہوگئی اوپر ان کے ضلالت۔ یقینا انھوں نے بنا لیا شیطان کو دوست سوائے اللہ کے،اور وه گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ہدایت یافتہ ہیں(30)
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً ﴾ ’’جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں ۔‘‘ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے‘‘ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا﴾ ’’اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے‘‘ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے، جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں ‘‘ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہو سکتا ہے؟
[29] پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے ﴿ قُلۡ اَمَرَ رَبِّيۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ﴿وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ ﴾ ’’اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ ﴿ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر‘‘ یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے، یعنی تمھاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿كَمَا بَدَاَكُمۡ ﴾ ’’جیسے پہلی مرتبہ تمھاری ابتدا کی‘‘ ﴿ تَعُوۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم پھر پیدا ہوگے۔‘‘ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔
[30]﴿فَرِيۡقًا ﴾ ’’ایک فریق کو‘‘ یعنی تم میں سے ایک فریق کو ﴿ هَدٰؔى ﴾ ’’اس نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کیے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا ﴿ وَفَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ﴾’’اور ایک فریق، ثابت ہو گئی اس پر گمراہی‘‘ چونکہ انھوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کیے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کر دیا۔﴿ اِنَّهُمُ اتَّؔخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمن کی ولایت اور دوستی سے نکل گئے اور انھوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کر لیا، اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لیے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ‘‘ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انھوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامر و نواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں ۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیکہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کر سکتا تھا لیکن اس نے اپنے گمان کو ہی سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔
7:30فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُۚ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُواْ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُم مُّهۡتَدُونَ
اور جب کرتے ہیں وہ کوئی بے حیائی کا کام،تو کہتے ہیں پایا ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو اور اللہ ے حکم دیا ہمیں اس کا، کہہ دیجیے!یقینا اللہ نہیں حکم دیتا بے حیائی کا،کیا کہتے ہو تم اللہ پر وہ باتیں جو نہیں جانتے تم؟(28) کہہ دیجیے!حکم دیا ہے میرے رب نے انصاف کا،اور(یہ کہ) سیدھے(قبلہ رخ) کرو اپنے چہرے ہر نماز کے وقت اور پکارو اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے اطاعت، جیسے پہلے پیداکیا اس نے تمھیں،لوٹو گے تم(ویسے ہی)(29) ایک فریق کو ہدایت دی اس نے اور ایک فریق ثابت ہوگئی اوپر ان کے ضلالت۔ یقینا انھوں نے بنا لیا شیطان کو دوست سوائے اللہ کے،اور وه گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ہدایت یافتہ ہیں(30)
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کا حال بیان کرتا ہے جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً ﴾ ’’جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں ۔‘‘ فحش سے مراد ہر وہ کام ہے جو برا اور انتہائی قبیح ہو۔ عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا ﴾ ’’کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے‘‘ اور وہ اس بارے میں سچے ہیں ﴿وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا﴾ ’’اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے‘‘ وہ اس فحش کام کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔‘‘ یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کمال کے لائق نہیں کہ وہ اپنے بندوں کو فحش کاموں کا حکم دے، اللہ نے اس فحش کام کا حکم دیا ہے، جس کا ارتکاب یہ مشرک کرتے ہیں نہ کسی اور فحش کام کا۔ ﴿اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو جو تم کو معلوم نہیں ‘‘ اور اس سے بڑا اور کون سا بہتان ہو سکتا ہے؟
[29] پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے ﴿ قُلۡ اَمَرَ رَبِّيۡ بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ﴿وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ ﴾ ’’اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ ﴿ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر‘‘ یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے، یعنی تمھاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿كَمَا بَدَاَكُمۡ ﴾ ’’جیسے پہلی مرتبہ تمھاری ابتدا کی‘‘ ﴿ تَعُوۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم پھر پیدا ہوگے۔‘‘ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔
[30]﴿فَرِيۡقًا ﴾ ’’ایک فریق کو‘‘ یعنی تم میں سے ایک فریق کو ﴿ هَدٰؔى ﴾ ’’اس نے ہدایت دی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کیے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا ﴿ وَفَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ﴾’’اور ایک فریق، ثابت ہو گئی اس پر گمراہی‘‘ چونکہ انھوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کیے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کر دیا۔﴿ اِنَّهُمُ اتَّؔخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَؔ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر‘‘ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمن کی ولایت اور دوستی سے نکل گئے اور انھوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کر لیا، اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لیے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ‘‘ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انھوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامر و نواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں ۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیکہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کر سکتا تھا لیکن اس نے اپنے گمان کو ہی سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔
7:31۞يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ
اے بنی آدم! اختیار کروتم اپنی زینت ہر نماز کے وقت،اور کھاؤ اور پیو اور نہ اسراف کرویقینا وہ نہیں پسند کرتا اسراف کرنے والوں کو(31)
[31] اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم پر لباس نازل کرنے کے بعد جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپتے ہیں اور زینت اختیار کرتے ہیں ، فرمایا:﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِيۡنَتَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ ﴾ ’’اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزین کیا کرو۔‘‘ یعنی ہر نماز کے وقت، خواہ نماز فرض ہو یا نفل، اپنے ستر کو ڈھانپو کیونکہ ستر ڈھانپنا ہی بدن کی زینت ہے جیسے ستر کو کھولنا بدن کو قبیح اور بدنما بنا دیتا ہے۔اس آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس زینت سے مراد لباس کی نظافت ہو۔ پس اس صورت میں آیت کریمہ میں نماز کے اندر ستر ڈھانپنے، زینت اختیار کرنے اور لباس کو میل کچیل اور نجاست سے پاک رکھنے کا حکم ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا ﴾ ’’اور کھاؤ اور پیو۔‘‘ یعنی ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ پیو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کی ہیں ﴿ وَلَا تُسۡرِفُوۡا ﴾ ’’اور (ان میں ) اسراف نہ کرو۔‘‘اسراف سے یا تو یہ مراد ہے کہ ماکولات کو اس مقدار سے زیادہ استعمال کرنا جو انسان کو کفایت کرتی ہے کیونکہ ماکولات کو زیادہ کھانے کی حرص جسم کو نقصان دیتی ہے۔ یا اس سے مراد ہے ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں حد سے زیادہ خرچ کرنا۔ یا مراد ہے حلال سے تجاوز کر کے حرام میں پڑنا۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ (اللہ) اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ کیونکہ حد سے تجاوز کرنے پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ اسراف انسان کے جسم اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسراف بسا اوقات انسان کو ایسی حالت تک پہنچا دیتا ہے کہ وہ ان نفقات سے بھی عاجز رہ جاتا ہے جو اس پر واجب ہیں ۔اس آیت کریمہ میں کھانے پینے کا حکم ہے اور کھانا پینا چھوڑنے اور اس میں اسراف کرنے کی ممانعت ہے۔
7:32قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِيٓ أَخۡرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزۡقِۚ قُلۡ هِيَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا خَالِصَةٗ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
کہہ دیجیے!کس نے حرام کی زینت اللہ کی،وہ جوپیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے؟ اور پاکیزہ چیزیں رزق کی؟ کہہ دیجیے! یہ ان لوگوں کے لیے(بھی) ہیں جو ایمان لائے،زندگی میں دنیا کی،جبکہ خاص ہوں گی(ان کے لیے) دن قیامت کے،اس طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیات ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (32) کہہ دیجیے! بے شک حرام ٹھہرایا ہے میرے رب نے بے حیائی کی باتوں کو،جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ،اور گناہ کو اور ظلم کو بغیر حق کے،اور یہ کہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اللہ کے اس چیز کو کہ نہیں اتاری اللہ نے اس کی کوئی دلیل،اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں تم جانتے(33)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیرکرتا ہے جو تکلف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے ﴿قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِيۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ، ان کو کس نے حرام کیا ہے؟‘‘ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں ؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے طیبات کو اس لیے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں ۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لیے مباح کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿ قُلۡ هِيَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾کہہ دیجیے! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں ، خالص انھی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن‘‘ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لیے خالص ہیں نہ ان کے لیے مباح بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان کے لیے جو جانتے ہیں ‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چنانچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں ۔
[33] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محرمات کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تمام شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! بے شک میرے رب نے حرام کیا ہے بے حیائی کی باتوں کو‘‘ یعنی بڑے بڑے گناہ جن کی برائی اور قباحت کی وجہ سے ان کو فحش اور سخت قبیح سمجھا جاتا ہے ، مثلاً: زنا، سدومیت (عمل قوم لوط) وغیرہ۔ ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں ‘‘ یعنی وہ فواحش جن کا تعلق بدن کی حرکات سے ہے اور وہ فواحش جن کا تعلق قلب کی حرکات سے ہے ، مثلاً: تکبر، خود پسندی، ریا اور نفاق وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاِثۡمَ وَالۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ﴾ ’’اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو‘‘ یعنی گناہ کے اعمال جو گناہ میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں سزا کے موجب ہیں اور (بَغْی) سے مراد ہے لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس میں ان پر زیادتی وغیرہ۔ پس اس میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شرک پر کوئی دلیل و برہان نازل نہیں فرمائی بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توحید کی تائید کے لیے دلائل و براہین نازل فرمائے ہیں اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ بسااوقات شرک اصغر بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے، مثلاً:ریا اور غیر اللہ کی قسم وغیرہ۔﴿ وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اس بات کو کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی اس کے اسماء و صفات اور افعال اور اس کی شریعت کے بارے میں لاعلمی پر مبنی بات کہنا۔ ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو ان میں مشغول ہونے سے روکا ہے کیونکہ یہ امور مفاسد عامہ اور مفاسد خاصہ پر مشتمل ہیں اور یہ امور ظلم و تعدی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں جسارت و جرأت کے موجب، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر دست درازی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تغیر و تحریف کا باعث ہیں ۔
7:33قُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
کہہ دیجیے!کس نے حرام کی زینت اللہ کی،وہ جوپیدا کی اس نے اپنے بندوں کے لیے؟ اور پاکیزہ چیزیں رزق کی؟ کہہ دیجیے! یہ ان لوگوں کے لیے(بھی) ہیں جو ایمان لائے،زندگی میں دنیا کی،جبکہ خاص ہوں گی(ان کے لیے) دن قیامت کے،اس طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیات ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (32) کہہ دیجیے! بے شک حرام ٹھہرایا ہے میرے رب نے بے حیائی کی باتوں کو،جو ظاہر ہوں ان میں سے اور جو پوشیدہ،اور گناہ کو اور ظلم کو بغیر حق کے،اور یہ کہ شریک ٹھہراؤ تم ساتھ اللہ کے اس چیز کو کہ نہیں اتاری اللہ نے اس کی کوئی دلیل،اور یہ کہ کہو تم اوپر اللہ کے وہ جو نہیں تم جانتے(33)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص پر نکیرکرتا ہے جو تکلف میں پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حلال ٹھہرائی ہوئی پاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے ﴿قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِيۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ زینت و آرائش کی چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ، ان کو کس نے حرام کیا ہے؟‘‘ انواع و اصناف کے لباس، طیبات رزق یعنی ماکولات و مشروبات کی تمام اقسام کو کس نے حرام قرار دیا ہے؟ یعنی وہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حرام کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہیں ؟ کون ان کو اس بارے میں تنگی میں مبتلا کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے وسعت رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے طیبات کو اس لیے وسیع کیا تاکہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مدد لیں ۔ اس نے ان چیزوں کو صرف اپنے مومن بندوں کے لیے مباح کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿ قُلۡ هِيَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾کہہ دیجیے! یہ نعمتیں اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں ، خالص انھی کے واسطے ہوں گی قیامت کے دن‘‘ یعنی ان نعمتوں کے بارے میں ان پر کوئی تاوان نہیں ہوگا۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ وہ ان نعمتوں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں تو یہ نعمتیں ان کے لیے خالص ہیں نہ ان کے لیے مباح بلکہ ان نعمتوں کو استعمال کرنے پر ان کو سزا دی جائے گی اور قیامت کے روز ان سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کی توضیح کرتے ہیں اور ہم ان کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ان کے لیے جو جانتے ہیں ‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چنانچہ وہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں اور ان کو سمجھتے ہیں ۔
[33] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محرمات کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تمام شریعتوں میں حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! بے شک میرے رب نے حرام کیا ہے بے حیائی کی باتوں کو‘‘ یعنی بڑے بڑے گناہ جن کی برائی اور قباحت کی وجہ سے ان کو فحش اور سخت قبیح سمجھا جاتا ہے ، مثلاً: زنا، سدومیت (عمل قوم لوط) وغیرہ۔ ﴿ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ ﴾ ’’جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں ‘‘ یعنی وہ فواحش جن کا تعلق بدن کی حرکات سے ہے اور وہ فواحش جن کا تعلق قلب کی حرکات سے ہے ، مثلاً: تکبر، خود پسندی، ریا اور نفاق وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاِثۡمَ وَالۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ﴾ ’’اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو‘‘ یعنی گناہ کے اعمال جو گناہ میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں سزا کے موجب ہیں اور (بَغْی) سے مراد ہے لوگوں کے جان و مال اور عزت و ناموس میں ان پر زیادتی وغیرہ۔ پس اس میں وہ تمام گناہ داخل ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شرک پر کوئی دلیل و برہان نازل نہیں فرمائی بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توحید کی تائید کے لیے دلائل و براہین نازل فرمائے ہیں اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ بسااوقات شرک اصغر بھی اسی زمرے میں آجاتا ہے، مثلاً:ریا اور غیر اللہ کی قسم وغیرہ۔﴿ وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور اس بات کو کہ اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی اس کے اسماء و صفات اور افعال اور اس کی شریعت کے بارے میں لاعلمی پر مبنی بات کہنا۔ ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور بندوں کو ان میں مشغول ہونے سے روکا ہے کیونکہ یہ امور مفاسد عامہ اور مفاسد خاصہ پر مشتمل ہیں اور یہ امور ظلم و تعدی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی جناب میں جسارت و جرأت کے موجب، اللہ تعالیٰ کے بندوں پر دست درازی اور اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں تغیر و تحریف کا باعث ہیں ۔
7:34وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٞۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ
اور ہرامت کے لیے ایک وقت(معین) ہے،سو جب آجائے گا ان کا (معین) وقت تو نہ پیچھے ہوں گے وہ(اس سے) لمحہ بھر اور نہ آگے ہوں گے(34)
[34] یعنی اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال کر زمین پر آباد کر دیا اور ان کے لیے ایک مدت مقرر کر دی۔ قوموں میں سے کوئی قوم اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، تمام قومیں اکٹھی ہو کر اس مدت مقررہ سے آگے ہو سکتی ہیں نہ ان کے افراد۔
7:35يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ
اے بنی آدم!اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں،تو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور(اپنی) اصلاح کرلی تو نہ ہوگا کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(35) اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور تکبر کیا ان سے، یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(36)
[35] جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال دیا تو ان کو رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے آزمایا۔ یہ رسول ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور اس کے احکام ان پر واضح کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی جس نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہا اور اس شخص کا خسارہ بیان کیا جس نے رسولوں کی دعوت کا جواب نہ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’پس جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا۔‘‘ یعنی جو ان امور سے بچ گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، مثلاً: شرک اور دیگر کبیرہ اور صغیرہ گناہ ﴿ وَاَصۡلَحَ ﴾ ’’اور اس نے (ظاہری اور باطنی اعمال کی) اصلاح کر لی‘‘ ﴿ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔‘‘ یعنی وہ اس شر کے خوف سے مامون ہوں گے جس سے دیگر لوگ خوفزدہ ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’نہ وہ (گزرے ہوئے واقعات پر) غمگین ہوں گے۔‘‘ جب ان سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو انھیں کامل امن اور ابدی فلاح و سعادت حاصل ہوگئی۔
[36]﴿وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا عَنۡهَاۤ ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا‘‘ یعنی ان آیات پر ان کے دل ایمان لائے نہ ان کے جوارح نے ان آیات کے احکام کی اطاعت کی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح انھوں نے ہماری آیات کی اہانت کی اور ان کی تکذیب پر جمے رہے، اسی طرح ان کو ہمیشہ رہنے والے عذاب کے ذریعے سے رسوا کیا جائے گا۔
7:36وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
اے بنی آدم!اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں،تو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور(اپنی) اصلاح کرلی تو نہ ہوگا کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(35) اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور تکبر کیا ان سے، یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(36)
[35] جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال دیا تو ان کو رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے آزمایا۔ یہ رسول ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور اس کے احکام ان پر واضح کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی جس نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہا اور اس شخص کا خسارہ بیان کیا جس نے رسولوں کی دعوت کا جواب نہ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’پس جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا۔‘‘ یعنی جو ان امور سے بچ گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، مثلاً: شرک اور دیگر کبیرہ اور صغیرہ گناہ ﴿ وَاَصۡلَحَ ﴾ ’’اور اس نے (ظاہری اور باطنی اعمال کی) اصلاح کر لی‘‘ ﴿ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔‘‘ یعنی وہ اس شر کے خوف سے مامون ہوں گے جس سے دیگر لوگ خوفزدہ ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’نہ وہ (گزرے ہوئے واقعات پر) غمگین ہوں گے۔‘‘ جب ان سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو انھیں کامل امن اور ابدی فلاح و سعادت حاصل ہوگئی۔
[36]﴿وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا عَنۡهَاۤ ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا‘‘ یعنی ان آیات پر ان کے دل ایمان لائے نہ ان کے جوارح نے ان آیات کے احکام کی اطاعت کی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح انھوں نے ہماری آیات کی اہانت کی اور ان کی تکذیب پر جمے رہے، اسی طرح ان کو ہمیشہ رہنے والے عذاب کے ذریعے سے رسوا کیا جائے گا۔
7:37فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ قَالُوٓاْ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا وَشَهِدُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ كَٰفِرِينَ
پس کو ن زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ یا جھٹلایا اس کی آیات کو؟ یہ لوگ ہیں کہ پہنچے گا انھیں ان کا حصہ لکھے ہوئے سے، یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے قاصد جو قبض کریں گے ان کی روحیں تو وہ کہیں گے! کہاں ہیں وہ کہ تھے تم پکارتے (ان کو) سوائے اللہ کے؟وہ کہیں گے!وہ گم ہو گئے ہم سے،اور گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے(37)کہے گا (اللہ)! داخل ہو جاؤ تم ہمراہ ان امتوں کے جو گزر چکیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، آگ میں۔جب بھی داخل ہوگی ایک امت تو لعنت کرے گی اپنے جیسی دوسری امت کو،یہاں تک کہ جب اکٹھے ہوں گے وہ اس میں سب،تو کہے گی ان کی پچھلی جماعت ان کی پہلی جماعت کی بابت،اے ہمارے رب!انھوں نے گمراہ کیا تھاہمیں،پس دے تو ان کو عذاب دگنا آگ کا، کہے گا(اللہ تم میں سے) ہر ایک کے لیے دگنا(عذاب) ہے لیکن تم نہیں جانتے (38) اور کہے گی ان کی پہلی جماعت ان کی پچھلی جماعت کو،پس نہیں ہے تمھارے لیے ہم پر کوئی فضیلت سو چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کماتے(39)
[37] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات و صفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ ﴿ اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ﴾ ’’یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انھیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔‘‘ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں ﴿قَالُوۡۤا ﴾ یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’ وہ (بت اور تمھارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے؟‘‘ اب ضرورت کا وقت آ گیا ہے اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں ؟ (تو ان کو بلاؤ)﴿ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہو گئے‘‘ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں ۔
[38] فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ ﴾ ’’ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہو جاؤ۔ ﴿ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں ‘‘ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو، یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔ اس لیے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے ﴿ فِي النَّارِ ﴾ اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہو۔سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں داخل ہوگی ﴿ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا ﴾ ’’اپنی جیسی جماعت پرلعنت کرے گی۔‘‘ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾(العنکبوت: 29؍25) ’’قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘﴿ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَؔكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی جب جہنم میں ، اولین و آخرین، قائدین، رؤسا، ان کے پیروکار اور مقلدین سب جمع ہو جائیں گے ﴿قَالَتۡ اُخۡرٰىهُمۡ﴾ ’’تو کہیں گے ان کے پچھلے‘‘ یعنی رؤسا و قائدین کے پیروکار ﴿ لِاُوۡلٰىهُمۡ ﴾ ’’پہلوں کو‘‘ یعنی وہ اپنے سرداروں اور رؤسا کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے گمراہ کیا تھا۔۔ کہیں گے: ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾’’اے ہمارے رب! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب انھیں کئی گنا عذاب دے کیونکہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ناپاک اعمال کو ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کیا۔[39]﴿وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو‘‘ یعنی سردار اپنے پیروکاروں سے کہیں گے: ﴿ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ﴾ ’’پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی‘‘ یعنی ہم گمراہی، ضلالت اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے میں مشترک ہیں ۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت ہے؟ ﴿قَالَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿لِكُلِّ ضِعۡفٌ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گنا عذاب ہے‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے‘‘ لیکن یہ معلوم ہے کہ سرداروں اور ائمہ ضلالت کو ان کے پیروکاروں کی نسبت زیادہ سخت اور برا عذاب دیا جائے گا۔ جیسے ائمہ ہُدیٰ کو ان کے متبعین کے ثواب کے مقابلے میں زیادہ بڑی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل: 16؍88) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم انھیں عذاب پر عذاب دیں گے اس پاداش میں کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔‘‘یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی تمام اقسام جہنم میں ہمیشہ رہیں گی، اس کی اتھاہ گہرائی میں سب اکٹھے ہوں گے اگرچہ عذاب کی مقدار میں ان کے اعمال، عناد، ظلم اور افترا پردازی کے مطابق تفاوت ہوگا اور ان کی وہ محبت و مودت جو دنیا میں ان کے مابین تھی، قیامت کے روز دشمنی اور ایک دوسرے پر لعنت میں بدل جائے گی۔
7:38قَالَ ٱدۡخُلُواْ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِكُم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ فِي ٱلنَّارِۖ كُلَّمَا دَخَلَتۡ أُمَّةٞ لَّعَنَتۡ أُخۡتَهَاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعٗا قَالَتۡ أُخۡرَىٰهُمۡ لِأُولَىٰهُمۡ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمۡ عَذَابٗا ضِعۡفٗا مِّنَ ٱلنَّارِۖ قَالَ لِكُلّٖ ضِعۡفٞ وَلَٰكِن لَّا تَعۡلَمُونَ
پس کو ن زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ یا جھٹلایا اس کی آیات کو؟ یہ لوگ ہیں کہ پہنچے گا انھیں ان کا حصہ لکھے ہوئے سے، یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے قاصد جو قبض کریں گے ان کی روحیں تو وہ کہیں گے! کہاں ہیں وہ کہ تھے تم پکارتے (ان کو) سوائے اللہ کے؟وہ کہیں گے!وہ گم ہو گئے ہم سے،اور گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے(37)کہے گا (اللہ)! داخل ہو جاؤ تم ہمراہ ان امتوں کے جو گزر چکیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، آگ میں۔جب بھی داخل ہوگی ایک امت تو لعنت کرے گی اپنے جیسی دوسری امت کو،یہاں تک کہ جب اکٹھے ہوں گے وہ اس میں سب،تو کہے گی ان کی پچھلی جماعت ان کی پہلی جماعت کی بابت،اے ہمارے رب!انھوں نے گمراہ کیا تھاہمیں،پس دے تو ان کو عذاب دگنا آگ کا، کہے گا(اللہ تم میں سے) ہر ایک کے لیے دگنا(عذاب) ہے لیکن تم نہیں جانتے (38) اور کہے گی ان کی پہلی جماعت ان کی پچھلی جماعت کو،پس نہیں ہے تمھارے لیے ہم پر کوئی فضیلت سو چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کماتے(39)
[37] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات و صفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ ﴿ اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ﴾ ’’یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انھیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔‘‘ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں ﴿قَالُوۡۤا ﴾ یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’ وہ (بت اور تمھارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے؟‘‘ اب ضرورت کا وقت آ گیا ہے اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں ؟ (تو ان کو بلاؤ)﴿ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہو گئے‘‘ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں ۔
[38] فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ ﴾ ’’ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہو جاؤ۔ ﴿ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں ‘‘ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو، یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔ اس لیے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے ﴿ فِي النَّارِ ﴾ اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہو۔سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں داخل ہوگی ﴿ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا ﴾ ’’اپنی جیسی جماعت پرلعنت کرے گی۔‘‘ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾(العنکبوت: 29؍25) ’’قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘﴿ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَؔكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی جب جہنم میں ، اولین و آخرین، قائدین، رؤسا، ان کے پیروکار اور مقلدین سب جمع ہو جائیں گے ﴿قَالَتۡ اُخۡرٰىهُمۡ﴾ ’’تو کہیں گے ان کے پچھلے‘‘ یعنی رؤسا و قائدین کے پیروکار ﴿ لِاُوۡلٰىهُمۡ ﴾ ’’پہلوں کو‘‘ یعنی وہ اپنے سرداروں اور رؤسا کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے گمراہ کیا تھا۔۔ کہیں گے: ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾’’اے ہمارے رب! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب انھیں کئی گنا عذاب دے کیونکہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ناپاک اعمال کو ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کیا۔[39]﴿وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو‘‘ یعنی سردار اپنے پیروکاروں سے کہیں گے: ﴿ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ﴾ ’’پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی‘‘ یعنی ہم گمراہی، ضلالت اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے میں مشترک ہیں ۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت ہے؟ ﴿قَالَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿لِكُلِّ ضِعۡفٌ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گنا عذاب ہے‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے‘‘ لیکن یہ معلوم ہے کہ سرداروں اور ائمہ ضلالت کو ان کے پیروکاروں کی نسبت زیادہ سخت اور برا عذاب دیا جائے گا۔ جیسے ائمہ ہُدیٰ کو ان کے متبعین کے ثواب کے مقابلے میں زیادہ بڑی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل: 16؍88) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم انھیں عذاب پر عذاب دیں گے اس پاداش میں کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔‘‘یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی تمام اقسام جہنم میں ہمیشہ رہیں گی، اس کی اتھاہ گہرائی میں سب اکٹھے ہوں گے اگرچہ عذاب کی مقدار میں ان کے اعمال، عناد، ظلم اور افترا پردازی کے مطابق تفاوت ہوگا اور ان کی وہ محبت و مودت جو دنیا میں ان کے مابین تھی، قیامت کے روز دشمنی اور ایک دوسرے پر لعنت میں بدل جائے گی۔
7:39وَقَالَتۡ أُولَىٰهُمۡ لِأُخۡرَىٰهُمۡ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِن فَضۡلٖ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡسِبُونَ
پس کو ن زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ یا جھٹلایا اس کی آیات کو؟ یہ لوگ ہیں کہ پہنچے گا انھیں ان کا حصہ لکھے ہوئے سے، یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے قاصد جو قبض کریں گے ان کی روحیں تو وہ کہیں گے! کہاں ہیں وہ کہ تھے تم پکارتے (ان کو) سوائے اللہ کے؟وہ کہیں گے!وہ گم ہو گئے ہم سے،اور گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے(37)کہے گا (اللہ)! داخل ہو جاؤ تم ہمراہ ان امتوں کے جو گزر چکیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، آگ میں۔جب بھی داخل ہوگی ایک امت تو لعنت کرے گی اپنے جیسی دوسری امت کو،یہاں تک کہ جب اکٹھے ہوں گے وہ اس میں سب،تو کہے گی ان کی پچھلی جماعت ان کی پہلی جماعت کی بابت،اے ہمارے رب!انھوں نے گمراہ کیا تھاہمیں،پس دے تو ان کو عذاب دگنا آگ کا، کہے گا(اللہ تم میں سے) ہر ایک کے لیے دگنا(عذاب) ہے لیکن تم نہیں جانتے (38) اور کہے گی ان کی پہلی جماعت ان کی پچھلی جماعت کو،پس نہیں ہے تمھارے لیے ہم پر کوئی فضیلت سو چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کماتے(39)
[37] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات و صفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ ﴿ اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ﴾ ’’یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انھیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔‘‘ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں ﴿قَالُوۡۤا ﴾ یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’ وہ (بت اور تمھارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے؟‘‘ اب ضرورت کا وقت آ گیا ہے اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں ؟ (تو ان کو بلاؤ)﴿ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہو گئے‘‘ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں ۔
[38] فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ ﴾ ’’ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہو جاؤ۔ ﴿ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں ‘‘ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو، یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔ اس لیے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے ﴿ فِي النَّارِ ﴾ اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہو۔سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں داخل ہوگی ﴿ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا ﴾ ’’اپنی جیسی جماعت پرلعنت کرے گی۔‘‘ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾(العنکبوت: 29؍25) ’’قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘﴿ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَؔكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی جب جہنم میں ، اولین و آخرین، قائدین، رؤسا، ان کے پیروکار اور مقلدین سب جمع ہو جائیں گے ﴿قَالَتۡ اُخۡرٰىهُمۡ﴾ ’’تو کہیں گے ان کے پچھلے‘‘ یعنی رؤسا و قائدین کے پیروکار ﴿ لِاُوۡلٰىهُمۡ ﴾ ’’پہلوں کو‘‘ یعنی وہ اپنے سرداروں اور رؤسا کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے گمراہ کیا تھا۔۔ کہیں گے: ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾’’اے ہمارے رب! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب انھیں کئی گنا عذاب دے کیونکہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ناپاک اعمال کو ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کیا۔[39]﴿وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو‘‘ یعنی سردار اپنے پیروکاروں سے کہیں گے: ﴿ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ﴾ ’’پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی‘‘ یعنی ہم گمراہی، ضلالت اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے میں مشترک ہیں ۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت ہے؟ ﴿قَالَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿لِكُلِّ ضِعۡفٌ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گنا عذاب ہے‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے‘‘ لیکن یہ معلوم ہے کہ سرداروں اور ائمہ ضلالت کو ان کے پیروکاروں کی نسبت زیادہ سخت اور برا عذاب دیا جائے گا۔ جیسے ائمہ ہُدیٰ کو ان کے متبعین کے ثواب کے مقابلے میں زیادہ بڑی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل: 16؍88) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم انھیں عذاب پر عذاب دیں گے اس پاداش میں کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔‘‘یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی تمام اقسام جہنم میں ہمیشہ رہیں گی، اس کی اتھاہ گہرائی میں سب اکٹھے ہوں گے اگرچہ عذاب کی مقدار میں ان کے اعمال، عناد، ظلم اور افترا پردازی کے مطابق تفاوت ہوگا اور ان کی وہ محبت و مودت جو دنیا میں ان کے مابین تھی، قیامت کے روز دشمنی اور ایک دوسرے پر لعنت میں بدل جائے گی۔
7:40إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ أَبۡوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِي سَمِّ ٱلۡخِيَاطِۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُجۡرِمِينَ
یقینا وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور تکبر کیا ان سے، نہیں کھولے جائیں ان کے لیے دروازے آسمان کے اور نہ داخل ہوں گے وہ جنت میں،یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ ناکے میں سوئی کے،اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم مجرموں کو(40)ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر(اسی کا) اوڑھنا ہوگا،اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم ظالموں کو(41)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں ۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انھوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیے۔۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحیں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہو سکیں گی جس طرح انھوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف التفات نہ کیا کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اہل ایمان کی روحیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مطیع ہیں ، اس کی آیات کی تصدیق کرنے والی ہیں ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوں گی اور عالم علوی میں وہاں پہنچ جائیں گی جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا اور اپنے رب کے قرب اور اس کی رضا کا لطف اٹھائیں گی۔اہل جہنم کے بارے میں فرمایا:﴿ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ حَتّٰى يَـلِجَ الۡجَمَلُ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ‘‘ یعنی معروف اونٹ۔ ﴿ فِيۡ سَمِّ الۡؔخِيَاطِ ﴾ ’’سوئی کے ناکے میں ‘‘ یعنی جب تک کہ اونٹ جو کہ سب سے بڑا حیوان ہے، سوئی کے ناکے میں سے جو کہ سب سے تنگ گزرنے کی جگہ ہے، نہ گزر جائے۔ یہ کسی چیز کو محال کے ساتھ معلق کرنے کے باب میں سے ہے، یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا محال ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾(المائدۃ: 5؍72) ’’جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔‘‘اور یہاں فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے جرائم بہت زیادہ اور جن کی سرکشی بے انتہا ہے۔
[41]﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ ﴾ ’’ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہے‘‘ یعنی ان کے نیچے آگ کے بچھونے ہوں گے ﴿ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ﴾ ’’ان کے اوپر سے اوڑھنا‘‘ یعنی عذاب کے بادل ہوں گے جو ان پر چھائے ہوئے ہوں گے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو‘‘ اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کو ہم ان کے جرم کے مطابق جزا دیتے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
7:41لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٞ وَمِن فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٖۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّـٰلِمِينَ
یقینا وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور تکبر کیا ان سے، نہیں کھولے جائیں ان کے لیے دروازے آسمان کے اور نہ داخل ہوں گے وہ جنت میں،یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ ناکے میں سوئی کے،اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم مجرموں کو(40)ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر(اسی کا) اوڑھنا ہوگا،اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم ظالموں کو(41)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں ۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انھوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیے۔۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحیں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہو سکیں گی جس طرح انھوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف التفات نہ کیا کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اہل ایمان کی روحیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مطیع ہیں ، اس کی آیات کی تصدیق کرنے والی ہیں ، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوں گی اور عالم علوی میں وہاں پہنچ جائیں گی جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا اور اپنے رب کے قرب اور اس کی رضا کا لطف اٹھائیں گی۔اہل جہنم کے بارے میں فرمایا:﴿ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّةَ حَتّٰى يَـلِجَ الۡجَمَلُ ﴾ ’’وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ‘‘ یعنی معروف اونٹ۔ ﴿ فِيۡ سَمِّ الۡؔخِيَاطِ ﴾ ’’سوئی کے ناکے میں ‘‘ یعنی جب تک کہ اونٹ جو کہ سب سے بڑا حیوان ہے، سوئی کے ناکے میں سے جو کہ سب سے تنگ گزرنے کی جگہ ہے، نہ گزر جائے۔ یہ کسی چیز کو محال کے ساتھ معلق کرنے کے باب میں سے ہے، یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا محال ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾(المائدۃ: 5؍72) ’’جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔‘‘اور یہاں فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو‘‘ یعنی وہ لوگ جن کے جرائم بہت زیادہ اور جن کی سرکشی بے انتہا ہے۔
[41]﴿لَهُمۡ مِّنۡ جَهَنَّمَ مِهَادٌ ﴾ ’’ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہے‘‘ یعنی ان کے نیچے آگ کے بچھونے ہوں گے ﴿ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ﴾ ’’ان کے اوپر سے اوڑھنا‘‘ یعنی عذاب کے بادل ہوں گے جو ان پر چھائے ہوئے ہوں گے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو‘‘ اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کو ہم ان کے جرم کے مطابق جزا دیتے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
7:42وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے اچھے،نہیں تکلیف دیتے ہم کسی جان کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی،یہ لوگ ہیں جنتی،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(42) اور نکال دیں گے ہم جوہوگا ان کے سینوں میں کینہ بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں،اور کہیں گے وہ،سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہدایت دی ہمیں اس کی اور نہ تھے ہم کہ ہدایت پاتے اگر نہ ہوتی یہ بات کہ ہدایت دی ہم کو اللہ نے، البتہ تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے اور آواز دیے جائیں گے وہ کہ یہ جنت ہے،وارث بنائے گئے ہوتم اس کے بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے(43)
[42] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں ۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے اور بسااوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ ﴾ ’’ہم ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں ‘‘ اور اس کی مقدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا اس حال میں اس پر فرض ہے کہ وہ استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اگر بعض فرائض و واجبات کی تعمیل سے عاجز ہو اور ان کو بجا لانے پر قادر نہ ہو تو یہ فرائض اس پر سے ساقط ہو جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾(البقرۃ: 2؍286) ’’اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص پر صرف وہی چیز فرض کرتا ہے جسے سر انجام دینے کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا : ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾(الطلاق: 65؍7) ’’اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اسی کے مطابق جو اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ﴾(الحج: 22؍78) ’’اور (اللہ تعالیٰ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن: 64؍16)’’پس جہاں تک طاقت ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ عاجز ہونے کی صورت میں واجب کی ادائیگی لازم نہیں اور نہ اضطراری صورت حال میں محرمات سے اجتناب واجب رہتا ہے۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’ایسے ہی لوگ‘‘ یعنی ایمان اور عمل صالح سے متصف لوگ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’اہل بہشت ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی انھیں جنت سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ وہ خود جنت کے بدلے کوئی اور چیز چاہیں گے۔ کیونکہ انھیں جنت میں انواع و اقسام کی لذتیں حاصل ہوں گی، تمام خواہشات پوری ہوں گی، انھیں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی اور اس سے بلند تر کسی مقام کی طلب نہ ہوگی۔
[43]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی ہو گی‘‘ یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہوگا کہ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ اور بغض اور ایک دوسرے سے مقابلے کی جو رغبت موجود تھی، اللہ تعالیٰ اس کو زائل اور ختم کر دے گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی اور باصفا دوست ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾(الحجر: 15؍47) ’’اور ان کے دلوں میں جو کینہ اور کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم عطا کرے گا جس پر ہر ایک کو خوشی اور مسرت ہوگی اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ جو نعمتیں اسے عطا ہوئی ہیں ان سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں اس لیے وہ حسد اور بغض سے محفوظ و مامون رہیں گے۔ کیونکہ حسد اور بغض کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ ﴾’’بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں ‘‘ یعنی وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے نہریں نکال لیں گے۔ اگر وہ یہ نہریں اپنے محلات میں لے جانا چاہیں یا اپنے بلند و بالا خانوں میں یا پھولوں سے سجے ہوئے باغات کی روشوں میں لے جانا چاہیں تو لے جائیں گے۔ یہ ایسی نہریں ہوں گی جن میں گڑھے نہیں ہوں گے اور بھلائیاں ہوں گی جن کی کوئی حد نہ ہوگی۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو دیکھیں گے ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا ﴾ ’’کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہم پر احسان فرمایا، ہمارے دلوں میں الہام فرمایا اور اس پر ایمان لے آئے اور ایسے اعمال کیے جو نعمتوں کے اس گھر تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت کی حتیٰ کہ اس نے ہمیں اس جنت میں داخل کر دیا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ رب کریم جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں ، ظاہری اور باطنی اتنی نعمتوں سے نوازا کہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا۔ ﴿وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔‘‘ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنی ہدایت اور اتباع رسل سے نہ نوازا ہوتا تو ہمارے نفوس میں ہدایت کو قبول کرنے کی قابلیت نہ تھی۔ ﴿لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ﴾’’یقینا لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات‘‘ یعنی جب وہ ان نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہوں گے جن کے بارے میں انبیا و مرسلین نے خبر دی تھی اور یہ خبر ان کے لیے علم الیقین کے بعد حق الیقین بن گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی اور ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کا انبیا و رسل نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ سب کچھ حق الیقین ہے جو انبیا و مرسلین لے کر مبعوث ہوئے۔ جس میں کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال نہیں ۔﴿وَنُوۡدُوۡۤا ﴾ ’’اور منادی کردی جائے گی۔‘‘ تہنیت و اکرام اور سلام و احترام کے طور پر انھیں پکارا جائے گا ﴿ اَنۡ تِلۡكُمُ الۡجَنَّةُ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے‘‘ یعنی تم اس کے وارث ہو اور یہ تمھاری جاگیر ہے جبکہ جہنم کافروں کی جاگیر ہوگی۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اپنے اعمال کے بدلے میں ‘‘ سلف میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے جہنم سے نجات پائیں گے، اس کی رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنیں گے اور اس کی منازل کو باہم تقسیم کریں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے بلکہ اس کی رحمت کی بلند ترین نوع ہے۔
7:43وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلّٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡلَآ أَنۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُۖ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلۡحَقِّۖ وَنُودُوٓاْ أَن تِلۡكُمُ ٱلۡجَنَّةُ أُورِثۡتُمُوهَا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے اچھے،نہیں تکلیف دیتے ہم کسی جان کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ہی،یہ لوگ ہیں جنتی،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(42) اور نکال دیں گے ہم جوہوگا ان کے سینوں میں کینہ بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں،اور کہیں گے وہ،سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہدایت دی ہمیں اس کی اور نہ تھے ہم کہ ہدایت پاتے اگر نہ ہوتی یہ بات کہ ہدایت دی ہم کو اللہ نے، البتہ تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے اور آواز دیے جائیں گے وہ کہ یہ جنت ہے،وارث بنائے گئے ہوتم اس کے بسبب اس کے جو تھے تم عمل کرتے(43)
[42] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے نافرمان ظالموں کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، تب اس نے اہل اطاعت بندوں کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو دل سے ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کرتے رہے۔‘‘ یعنی اپنے جوارح سے نیک عمل کرتے رہے۔ پس اس طرح وہ ایمان و عمل، اعمال ظاہرہ اور اعمال باطنہ کو جمع کرتے ہیں اور بیک وقت فعل واجب اور ترک محرمات پر عمل کرتے ہیں ۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ایک عام لفظ ہے جو واجب اور مستحب تمام نیکیوں کو شامل ہے اور بسااوقات بعض نیکیاں بندے کی مقدرت سے باہر ہوتی ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ ﴾ ’’ہم ہر نفس کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف کرتے ہیں ‘‘ اور اس کی مقدرت سے بڑھ کر اس پر بوجھ نہیں ڈالتے۔ لہٰذا اس حال میں اس پر فرض ہے کہ وہ استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرے اگر بعض فرائض و واجبات کی تعمیل سے عاجز ہو اور ان کو بجا لانے پر قادر نہ ہو تو یہ فرائض اس پر سے ساقط ہو جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا﴾(البقرۃ: 2؍286) ’’اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص پر صرف وہی چیز فرض کرتا ہے جسے سر انجام دینے کی وہ طاقت رکھتا ہے۔ فرمایا : ﴿لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾(الطلاق: 65؍7) ’’اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر صرف اسی کے مطابق جو اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِي الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ﴾(الحج: 22؍78) ’’اور (اللہ تعالیٰ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘فرمایا : ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن: 64؍16)’’پس جہاں تک طاقت ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ عاجز ہونے کی صورت میں واجب کی ادائیگی لازم نہیں اور نہ اضطراری صورت حال میں محرمات سے اجتناب واجب رہتا ہے۔﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’ایسے ہی لوگ‘‘ یعنی ایمان اور عمل صالح سے متصف لوگ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’اہل بہشت ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی انھیں جنت سے نکالا نہیں جائے گا اور نہ وہ خود جنت کے بدلے کوئی اور چیز چاہیں گے۔ کیونکہ انھیں جنت میں انواع و اقسام کی لذتیں حاصل ہوں گی، تمام خواہشات پوری ہوں گی، انھیں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی اور اس سے بلند تر کسی مقام کی طلب نہ ہوگی۔
[43]﴿ وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ﴾ ’’اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی ہو گی‘‘ یہ اہل جنت پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہوگا کہ دنیا میں ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کینہ اور بغض اور ایک دوسرے سے مقابلے کی جو رغبت موجود تھی، اللہ تعالیٰ اس کو زائل اور ختم کر دے گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے بھائی اور باصفا دوست ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَنَزَعۡنَا مَا فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾(الحجر: 15؍47) ’’اور ان کے دلوں میں جو کینہ اور کدورت ہوگی ہم اسے نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کو اکرام و تکریم عطا کرے گا جس پر ہر ایک کو خوشی اور مسرت ہوگی اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ جو نعمتیں اسے عطا ہوئی ہیں ان سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں اس لیے وہ حسد اور بغض سے محفوظ و مامون رہیں گے۔ کیونکہ حسد اور بغض کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ ﴾’’بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں ‘‘ یعنی وہ جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے نہریں نکال لیں گے۔ اگر وہ یہ نہریں اپنے محلات میں لے جانا چاہیں یا اپنے بلند و بالا خانوں میں یا پھولوں سے سجے ہوئے باغات کی روشوں میں لے جانا چاہیں تو لے جائیں گے۔ یہ ایسی نہریں ہوں گی جن میں گڑھے نہیں ہوں گے اور بھلائیاں ہوں گی جن کی کوئی حد نہ ہوگی۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اس لیے جب وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کو دیکھیں گے ﴿قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ هَدٰؔىنَا لِهٰؔذَا ﴾ ’’کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔‘‘ یعنی وہ پکار اٹھیں گے ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہم پر احسان فرمایا، ہمارے دلوں میں الہام فرمایا اور اس پر ایمان لے آئے اور ایسے اعمال کیے جو نعمتوں کے اس گھر تک پہنچاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت کی حتیٰ کہ اس نے ہمیں اس جنت میں داخل کر دیا۔ بہت ہی اچھا ہے وہ رب کریم جس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں ، ظاہری اور باطنی اتنی نعمتوں سے نوازا کہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا۔ ﴿وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور اگر اللہ ہم کو راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔‘‘ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اپنی ہدایت اور اتباع رسل سے نہ نوازا ہوتا تو ہمارے نفوس میں ہدایت کو قبول کرنے کی قابلیت نہ تھی۔ ﴿لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ﴾’’یقینا لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات‘‘ یعنی جب وہ ان نعمتوں سے متمتع ہو رہے ہوں گے جن کے بارے میں انبیا و مرسلین نے خبر دی تھی اور یہ خبر ان کے لیے علم الیقین کے بعد حق الیقین بن گئی۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے سامنے یہ بات متحقق ہوگئی اور ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کا انبیا و رسل نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ سب کچھ حق الیقین ہے جو انبیا و مرسلین لے کر مبعوث ہوئے۔ جس میں کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال نہیں ۔﴿وَنُوۡدُوۡۤا ﴾ ’’اور منادی کردی جائے گی۔‘‘ تہنیت و اکرام اور سلام و احترام کے طور پر انھیں پکارا جائے گا ﴿ اَنۡ تِلۡكُمُ الۡجَنَّةُ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’یہ جنت ہے، وارث ہوئے تم اس کے‘‘ یعنی تم اس کے وارث ہو اور یہ تمھاری جاگیر ہے جبکہ جہنم کافروں کی جاگیر ہوگی۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اپنے اعمال کے بدلے میں ‘‘ سلف میں سے کسی نے فرمایا ہے کہ اہل جنت اللہ تعالیٰ کے عفو کی وجہ سے جہنم سے نجات پائیں گے، اس کی رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنیں گے اور اس کی منازل کو باہم تقسیم کریں گے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے بلکہ اس کی رحمت کی بلند ترین نوع ہے۔
7:44وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقّٗا فَهَلۡ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقّٗاۖ قَالُواْ نَعَمۡۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُۢ بَيۡنَهُمۡ أَن لَّعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور پکار کر کہیں گے جنتی،دوزخیوں کو کہ تحقیق پایا ہم نے جووعدہ کیا تھا ہم سے ہمارے رب نے سچا،’توکیا پایا ہے تم نے بھی جو وعدہ کیا تھا تمھارے رب نے تم سے،سچا؟کہیں گے وہ ہاں، پھر اعلان کرے گا ایک اعلان کرنے والا درمیان ان کے کہ لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے(44) وہ لوگ جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے تھے اس میں کجی،اور وہ ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے تھے(45)
[45,44] اللہ تعالیٰ، یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہو جائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیا و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا ﴾ ’’کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچاپالیا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچا پایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کر دیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لیے بیان کیا تھا ﴿ فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا ﴾’’بھلا جو وعدہ تمھارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا؟‘‘ یعنی تمھارے کفر اور معاصی پر تمھارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا؟﴿ قَالُوۡا نَعَمۡ ﴾’’وہ کہیں گے، ہاں !‘‘ ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہو سکتی ہے؟ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جائے گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ۔﴿ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔‘‘ پکارنے والا اہل جہنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا ﴿ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ لعنت ہے اللہ کی‘‘ یعنی ہر بھلائی سے بُعد اور محرومی ﴿ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں پر‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انھوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں ۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یہ کفار ﴿يَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی‘‘ یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے منکر تھے‘‘ یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو نفس کی شہوات محرمہ کو محور بنانے، آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے ناامیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں ، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔
7:45ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ كَٰفِرُونَ
اور پکار کر کہیں گے جنتی،دوزخیوں کو کہ تحقیق پایا ہم نے جووعدہ کیا تھا ہم سے ہمارے رب نے سچا،’توکیا پایا ہے تم نے بھی جو وعدہ کیا تھا تمھارے رب نے تم سے،سچا؟کہیں گے وہ ہاں، پھر اعلان کرے گا ایک اعلان کرنے والا درمیان ان کے کہ لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے(44) وہ لوگ جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے تھے اس میں کجی،اور وہ ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے تھے(45)
[45,44] اللہ تعالیٰ، یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہو جائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیا و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا ﴾ ’’کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچاپالیا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچا پایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کر دیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لیے بیان کیا تھا ﴿ فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا ﴾’’بھلا جو وعدہ تمھارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا؟‘‘ یعنی تمھارے کفر اور معاصی پر تمھارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا؟﴿ قَالُوۡا نَعَمۡ ﴾’’وہ کہیں گے، ہاں !‘‘ ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہو سکتی ہے؟ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جائے گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ۔﴿ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔‘‘ پکارنے والا اہل جہنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا ﴿ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ لعنت ہے اللہ کی‘‘ یعنی ہر بھلائی سے بُعد اور محرومی ﴿ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں پر‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انھوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں ۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یہ کفار ﴿يَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی‘‘ یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے منکر تھے‘‘ یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو نفس کی شہوات محرمہ کو محور بنانے، آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے ناامیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں ، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔
7:46وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٞۚ وَعَلَى ٱلۡأَعۡرَافِ رِجَالٞ يَعۡرِفُونَ كُلَّۢا بِسِيمَىٰهُمۡۚ وَنَادَوۡاْ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ أَن سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۚ لَمۡ يَدۡخُلُوهَا وَهُمۡ يَطۡمَعُونَ
اور ان کے درمیان پردہ ہوگااوراوپر اعراف کے کچھ لوگ ہوں گے، جو پہچانتے ہوں گے ہر ایک کو ان کی خاص علامات سےاور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلام ہوتم پر، نہ داخل ہوئے ہوں گے وہ جنت میں (ابھی تک) اور وہ امید رکھتے ہوں گے(46) اور جب پھیری جائیں گی ان کی آنکھیں طرف دوزخیوں کی،تو وہ کہیں گے!اے ہمارے رب!نہ کر تو ہمیں ساتھ ظالم لوگوں کے(47) اور پکار کر کہیں گے اعراف والے کچھ ایسے لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی خاص علامات سے، کہیں گے کہ نہیں فائدہ دیا تمھیں تمھارے جتھے نے اور(نہ اس نے) جو تھے تم تکبر کرتے(48) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت قسمیں کھاتے تھے تم کہ نہیں پہنچائے گا ان کو اللہ رحمت،(ان سے تو کہہ دیا گیا) داخل ہوجاؤ تم جنت میں نہیں ہے کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے(49)
[46] یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ’’مقام اعراف‘‘ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں ۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جا سکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جا سکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں ۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے ﴿اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سلامتی ہے تم پر‘‘ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔
[47]﴿وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ﴾ ’’اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی‘‘ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا‘‘ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ و سلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومی طور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔
[48] عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔‘‘اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ۔۔۔ کہیں گے:﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ ﴾ ’’آج تمھاری جماعت تمھارے کچھ کام نہ آئی۔‘‘ یہاں تمھارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لیے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمھارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمھارے تکبر نے تمھیں کیا فائدہ دیا؟
[49] پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اب یہ وہی ہیں ‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ﴾’’جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خود پسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ ﴿ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ مستقبل میں تمھیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾ اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون اور مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا مَرُّوۡا بِهِمۡ يَتَغَامَزُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَۙ۰۰ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَؕ۰۰ فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَۙ۰۰ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ۰۰﴾(المطففین:83؍29-35) ’’وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں ۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہو جائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہو جائیں ۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔
7:47۞وَإِذَا صُرِفَتۡ أَبۡصَٰرُهُمۡ تِلۡقَآءَ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور ان کے درمیان پردہ ہوگااوراوپر اعراف کے کچھ لوگ ہوں گے، جو پہچانتے ہوں گے ہر ایک کو ان کی خاص علامات سےاور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلام ہوتم پر، نہ داخل ہوئے ہوں گے وہ جنت میں (ابھی تک) اور وہ امید رکھتے ہوں گے(46) اور جب پھیری جائیں گی ان کی آنکھیں طرف دوزخیوں کی،تو وہ کہیں گے!اے ہمارے رب!نہ کر تو ہمیں ساتھ ظالم لوگوں کے(47) اور پکار کر کہیں گے اعراف والے کچھ ایسے لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی خاص علامات سے، کہیں گے کہ نہیں فائدہ دیا تمھیں تمھارے جتھے نے اور(نہ اس نے) جو تھے تم تکبر کرتے(48) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت قسمیں کھاتے تھے تم کہ نہیں پہنچائے گا ان کو اللہ رحمت،(ان سے تو کہہ دیا گیا) داخل ہوجاؤ تم جنت میں نہیں ہے کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے(49)
[46] یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ’’مقام اعراف‘‘ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں ۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جا سکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جا سکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں ۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے ﴿اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سلامتی ہے تم پر‘‘ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔
[47]﴿وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ﴾ ’’اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی‘‘ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا‘‘ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ و سلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومی طور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔
[48] عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔‘‘اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ۔۔۔ کہیں گے:﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ ﴾ ’’آج تمھاری جماعت تمھارے کچھ کام نہ آئی۔‘‘ یہاں تمھارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لیے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمھارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمھارے تکبر نے تمھیں کیا فائدہ دیا؟
[49] پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اب یہ وہی ہیں ‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ﴾’’جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خود پسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ ﴿ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ مستقبل میں تمھیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾ اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون اور مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا مَرُّوۡا بِهِمۡ يَتَغَامَزُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَۙ۰۰ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَؕ۰۰ فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَۙ۰۰ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ۰۰﴾(المطففین:83؍29-35) ’’وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں ۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہو جائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہو جائیں ۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔
7:48وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَعۡرَافِ رِجَالٗا يَعۡرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمۡ قَالُواْ مَآ أَغۡنَىٰ عَنكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُونَ
اور ان کے درمیان پردہ ہوگااوراوپر اعراف کے کچھ لوگ ہوں گے، جو پہچانتے ہوں گے ہر ایک کو ان کی خاص علامات سےاور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلام ہوتم پر، نہ داخل ہوئے ہوں گے وہ جنت میں (ابھی تک) اور وہ امید رکھتے ہوں گے(46) اور جب پھیری جائیں گی ان کی آنکھیں طرف دوزخیوں کی،تو وہ کہیں گے!اے ہمارے رب!نہ کر تو ہمیں ساتھ ظالم لوگوں کے(47) اور پکار کر کہیں گے اعراف والے کچھ ایسے لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی خاص علامات سے، کہیں گے کہ نہیں فائدہ دیا تمھیں تمھارے جتھے نے اور(نہ اس نے) جو تھے تم تکبر کرتے(48) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت قسمیں کھاتے تھے تم کہ نہیں پہنچائے گا ان کو اللہ رحمت،(ان سے تو کہہ دیا گیا) داخل ہوجاؤ تم جنت میں نہیں ہے کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے(49)
[46] یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ’’مقام اعراف‘‘ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں ۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جا سکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جا سکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں ۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے ﴿اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سلامتی ہے تم پر‘‘ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔
[47]﴿وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ﴾ ’’اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی‘‘ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا‘‘ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ و سلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومی طور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔
[48] عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔‘‘اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ۔۔۔ کہیں گے:﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ ﴾ ’’آج تمھاری جماعت تمھارے کچھ کام نہ آئی۔‘‘ یہاں تمھارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لیے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمھارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمھارے تکبر نے تمھیں کیا فائدہ دیا؟
[49] پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اب یہ وہی ہیں ‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ﴾’’جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خود پسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ ﴿ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ مستقبل میں تمھیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾ اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون اور مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا مَرُّوۡا بِهِمۡ يَتَغَامَزُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَۙ۰۰ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَؕ۰۰ فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَۙ۰۰ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ۰۰﴾(المطففین:83؍29-35) ’’وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں ۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہو جائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہو جائیں ۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔
7:49أَهَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحۡمَةٍۚ ٱدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَآ أَنتُمۡ تَحۡزَنُونَ
اور ان کے درمیان پردہ ہوگااوراوپر اعراف کے کچھ لوگ ہوں گے، جو پہچانتے ہوں گے ہر ایک کو ان کی خاص علامات سےاور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلام ہوتم پر، نہ داخل ہوئے ہوں گے وہ جنت میں (ابھی تک) اور وہ امید رکھتے ہوں گے(46) اور جب پھیری جائیں گی ان کی آنکھیں طرف دوزخیوں کی،تو وہ کہیں گے!اے ہمارے رب!نہ کر تو ہمیں ساتھ ظالم لوگوں کے(47) اور پکار کر کہیں گے اعراف والے کچھ ایسے لوگوں کو جنھیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی خاص علامات سے، کہیں گے کہ نہیں فائدہ دیا تمھیں تمھارے جتھے نے اور(نہ اس نے) جو تھے تم تکبر کرتے(48) کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی بابت قسمیں کھاتے تھے تم کہ نہیں پہنچائے گا ان کو اللہ رحمت،(ان سے تو کہہ دیا گیا) داخل ہوجاؤ تم جنت میں نہیں ہے کوئی خوف تم پر اور نہ تم غمگین ہوگے(49)
[46] یعنی اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ایک حجاب ہوگا جسے ’’مقام اعراف‘‘ کہا جائے گا۔ یہ مقام جنت میں شامل ہوگا نہ جہنم میں ۔ اس مقام سے جنت اور جہنم دونوں میں جھانکا جا سکے گا اور جنتیوں اور جہنمیوں کے احوال کو دیکھا جا سکے گا۔ اس مقام اعراف میں کچھ لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل جہنم کو ان کی ان علامات کے ذریعے سے پہچانتے ہوں گے جو ان کی امتیازی علامات ہیں ۔ جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو پکار کر کہیں گے ﴿اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’سلامتی ہے تم پر‘‘ یعنی وہ ان پر سلام کہیں گے۔ وہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے البتہ وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں امید تب ہی جاگزیں کرتا ہے جب وہ ان کو اپنی تکریم سے نوازنے کا ارادہ کرتا ہے۔
[47]﴿وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ﴾ ’’اور جب ان کی نظر اہل جہنم کی طرف جائے گی‘‘ تو ان کو بہت ہی ہولناک اور قبیح منظر دیکھنے کو ملے گا۔ تو وہ پکار اٹھیں گے ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب ہم کو ظالموں کے ساتھ نہ کرنا‘‘ اہل اعراف جب اہل جنت کو دیکھیں گے تو وہ بھی جنت میں ان کی معیت کی خواہش کریں گے اور وہ ان کو تحیہ و سلام پیش کریں گے اور جب غیر اختیاری طور پر ان کی نظریں اہل جہنم کی طرف اٹھیں گی تو وہ عمومی طور پر ان کی حالت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں گے۔
[48] عمومی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَنَادٰۤى اَصۡحٰؔبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’اور اعراف والے پکاریں گے ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے۔‘‘اور وہ اہل جہنم ہوں گے، وہ دنیا میں شرف و آبرو اور مال و اولاد والے تھے۔۔۔۔ ان کو اکیلے عذاب میں مبتلا دیکھ کر کہ اب ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ۔۔۔ کہیں گے:﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ ﴾ ’’آج تمھاری جماعت تمھارے کچھ کام نہ آئی۔‘‘ یہاں تمھارے وہ جتھے کام نہ آئے جن کی مدد سے دنیا میں اپنی تکالیف دور کیا کرتے تھے۔ دنیاوی مطالب کے حصول کے لیے ان کو وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ آج ہر چیز مضمحل ہوگئی اور کچھ بھی تمھارے کام نہ آیا اور اسی طرح حق، حق لانے والے اور حق کی اتباع کرنے والوں کے مقابلے میں تمھارے تکبر نے تمھیں کیا فائدہ دیا؟
[49] پھر وہ اہل جنت کی طرف، جو دنیا میں کمزور و ناتواں اور محتاج ہوا کرتے تھے۔۔۔ اشارہ کر کے اہل جہنم سے کہیں گے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اب یہ وہی ہیں ‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا ﴿ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ﴾’’جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اللہ اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی تم لوگ اہل ایمان کے ساتھ نفرت اور حقارت کا اظہار کرتے ہوئے نہایت خود پسندی کے ساتھ قسمیں اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے نہیں نوازے گا۔ اب تم اپنی قسموں میں جھوٹے ہوگئے ہو۔ اس چیز کی حقیقت تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دی ہے جسے تم کسی شمار میں نہیں لایا کرتے تھے۔﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’تم جنت میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اپنے اعمال کے صلہ میں جنت میں داخل ہو جاؤ یعنی کمزور اور ناتواں لوگوں کو اکرام و احترام کے ساتھ کہا جائے گا کہ اپنے نیک اعمال کی جزا کے طور پر جنت میں داخل ہوجاؤ ﴿ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ مستقبل میں تمھیں کسی تکلیف کا خوف نہ ہوگا ﴿ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾ اور جو کچھ گزر گیا ہے تم اس پر غمزدہ نہیں ہو گے۔ بلکہ تم محفوظ و مامون اور مطمئن اور ہر بھلائی پر فرحاں و شاداں ہو گے۔۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اَجۡرَمُوۡا كَانُوۡا مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يَضۡحَكُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا مَرُّوۡا بِهِمۡ يَتَغَامَزُوۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤى اَهۡلِهِمُ انۡقَلَبُوۡا فَـكِهِيۡنَٞۖ۰۰وَاِذَا رَاَوۡهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَۙ۰۰ وَمَاۤ اُرۡسِلُوۡا عَلَيۡهِمۡ حٰؔفِظِيۡنَؕ۰۰ فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَۙ۰۰ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنۡظُرُوۡنَؕ۰۰﴾(المطففین:83؍29-35) ’’وہ مجرم جو دنیا میں اہل ایمان پر ہنسا کرتے تھے جب ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت سے اشارے کیا کرتے تھے اپنے گھر واپس لوٹتے تو اکڑفوں کے ساتھ اتراتے ہوئے لوٹتے اور جب اہل ایمان کو دیکھتے تو کہتے یہ تو گمراہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج اہل ایمان کافروں پر ہنسیں گے اور اپنے تختوں پر بیٹھے کافروں کا حال دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘اہل علم اور مفسرین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اصحاب اعراف سے کیا مراد ہے اور ان کے اعمال کیا ہیں ۔ اس بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ نہ تو ان کی برائیاں زیادہ ہوں گی جس کی بنا پر وہ جہنم میں داخل ہو جائیں اور نہ ان کی نیکیاں زیادہ ہوں گی کہ جنت میں داخل ہو جائیں ۔ پس جب تک اللہ چاہے گا یہ لوگ مقام اعراف میں قیام کریں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں جنت میں داخل کرے گا کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرتی اور غالب آتی ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔
7:50وَنَادَىٰٓ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ أَنۡ أَفِيضُواْ عَلَيۡنَا مِنَ ٱلۡمَآءِ أَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُۚ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ
اور پکار کر کہیں گے دوزخی،جنتیوں کو، یہ کہ ڈالو تم ہم پر کچھ پانی سے یا(پھینکو) کچھ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ نے،کہیں گے جنتی! بے شک اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں اوپر کافروں کے(50) وہ لوگ جنھوں نے بنالیا اپنے دین کو تماشہ اور کھیل اور دھوکے میں ڈالے رکھا ان کو زندگانئ دنیا نے، پس آج ہم بھلادیں گے انھیں جیسے بھلا دیا تھا انھوں نے ملاقات کو اپنے اس دن کی اور جو تھے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے(51) اور البتہ لائے ہم ان کے پاس ایسی کتاب کہ مفصل بیان کیا ہم نے اس کو ساتھ علم کے،وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(52) نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس کے انجام(قیامت) کا جس دن آئے گا انجام اس کا،تو کہیں گے وہ لوگ جو بھولے ہوئے تھے اس کو اس سے پہلے،تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے، پس کیا ہمارے لیے کوئی سفارشی ہیں کہ وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا لوٹادیے جائیں ہم،تو عمل کریں گے علاوہ ان کے جو تھے ہم(پہلے) عمل کرتے،تحقیق خسارے میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو اورگم ہوگیا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(53)
[52-50] جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بے انتہا بھوک اور انتہائی تکلیف دہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لیے بلائیں گے اور کہیں گے ﴿ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمھیں عطا کیا ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا ﴾ ’’اللہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے‘‘ یعنی جنت کا پانی اور کھانا ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کافروں پر۔‘‘ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انھوں نے اس دین کو .... جس پر قائم رہنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انھیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، کھیل تماشہ بنا لیا ﴿ لَهۡوًا وَّلَعِبًا ﴾’’تماشا اور کھیل‘‘ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انھوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کر لیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔﴿ وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب و زینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے ﴿ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰىهُمۡ ﴾ ’’پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے‘‘ یعنی انھیں عذاب میں چھوڑے دے رہے ہیں ﴿ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَؔ يَوۡمِهِمۡ هٰؔذَا﴾ ’’جیسا انھوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں ﴿ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔‘‘حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و جحود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ﴿ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ﴾ ’’ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔‘‘ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے ﴿ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’خبرداری سے‘‘ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لیے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ ﴿ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لیے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد و ضلالت کے درمیان فرق واضح اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہو جاتی ہے۔
[53] وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انھوں نے اس کے اوامر و منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لیے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ ﴾ ’’کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے‘‘ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ جناب یوسفu نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 12؍100) ’’یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا‘‘ فرمایا: ﴿يَوۡمَ يَاۡتِيۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے‘‘ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے سفارش تلاش کرتے ہوئے اور اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے ﴿ قَدۡ جَآءَؔتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ١ۚ فَهَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَؔ فَيَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ ﴾ ’’بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں ‘‘ ﴿ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے‘‘ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے ﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾(المدثر: 74؍48) ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔‘‘ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا تاکہ وہ نیک عمل کر سکیں ، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28)’’اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹے ہیں ‘‘۔﴿ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بے شک نقصان میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو‘‘ جبکہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لیے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں ۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے‘‘ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب میں ہی نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیا و مرسلین علیہ السلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔
7:51ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ دِينَهُمۡ لَهۡوٗا وَلَعِبٗا وَغَرَّتۡهُمُ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَاۚ فَٱلۡيَوۡمَ نَنسَىٰهُمۡ كَمَا نَسُواْ لِقَآءَ يَوۡمِهِمۡ هَٰذَا وَمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ
اور پکار کر کہیں گے دوزخی،جنتیوں کو، یہ کہ ڈالو تم ہم پر کچھ پانی سے یا(پھینکو) کچھ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ نے،کہیں گے جنتی! بے شک اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں اوپر کافروں کے(50) وہ لوگ جنھوں نے بنالیا اپنے دین کو تماشہ اور کھیل اور دھوکے میں ڈالے رکھا ان کو زندگانئ دنیا نے، پس آج ہم بھلادیں گے انھیں جیسے بھلا دیا تھا انھوں نے ملاقات کو اپنے اس دن کی اور جو تھے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے(51) اور البتہ لائے ہم ان کے پاس ایسی کتاب کہ مفصل بیان کیا ہم نے اس کو ساتھ علم کے،وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(52) نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس کے انجام(قیامت) کا جس دن آئے گا انجام اس کا،تو کہیں گے وہ لوگ جو بھولے ہوئے تھے اس کو اس سے پہلے،تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے، پس کیا ہمارے لیے کوئی سفارشی ہیں کہ وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا لوٹادیے جائیں ہم،تو عمل کریں گے علاوہ ان کے جو تھے ہم(پہلے) عمل کرتے،تحقیق خسارے میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو اورگم ہوگیا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(53)
[52-50] جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بے انتہا بھوک اور انتہائی تکلیف دہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لیے بلائیں گے اور کہیں گے ﴿ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمھیں عطا کیا ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا ﴾ ’’اللہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے‘‘ یعنی جنت کا پانی اور کھانا ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کافروں پر۔‘‘ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انھوں نے اس دین کو .... جس پر قائم رہنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انھیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، کھیل تماشہ بنا لیا ﴿ لَهۡوًا وَّلَعِبًا ﴾’’تماشا اور کھیل‘‘ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انھوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کر لیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔﴿ وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب و زینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے ﴿ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰىهُمۡ ﴾ ’’پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے‘‘ یعنی انھیں عذاب میں چھوڑے دے رہے ہیں ﴿ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَؔ يَوۡمِهِمۡ هٰؔذَا﴾ ’’جیسا انھوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں ﴿ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔‘‘حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و جحود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ﴿ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ﴾ ’’ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔‘‘ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے ﴿ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’خبرداری سے‘‘ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لیے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ ﴿ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لیے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد و ضلالت کے درمیان فرق واضح اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہو جاتی ہے۔
[53] وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انھوں نے اس کے اوامر و منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لیے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ ﴾ ’’کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے‘‘ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ جناب یوسفu نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 12؍100) ’’یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا‘‘ فرمایا: ﴿يَوۡمَ يَاۡتِيۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے‘‘ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے سفارش تلاش کرتے ہوئے اور اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے ﴿ قَدۡ جَآءَؔتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ١ۚ فَهَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَؔ فَيَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ ﴾ ’’بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں ‘‘ ﴿ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے‘‘ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے ﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾(المدثر: 74؍48) ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔‘‘ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا تاکہ وہ نیک عمل کر سکیں ، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28)’’اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹے ہیں ‘‘۔﴿ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بے شک نقصان میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو‘‘ جبکہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لیے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں ۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے‘‘ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب میں ہی نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیا و مرسلین علیہ السلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔
7:52وَلَقَدۡ جِئۡنَٰهُم بِكِتَٰبٖ فَصَّلۡنَٰهُ عَلَىٰ عِلۡمٍ هُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
اور پکار کر کہیں گے دوزخی،جنتیوں کو، یہ کہ ڈالو تم ہم پر کچھ پانی سے یا(پھینکو) کچھ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ نے،کہیں گے جنتی! بے شک اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں اوپر کافروں کے(50) وہ لوگ جنھوں نے بنالیا اپنے دین کو تماشہ اور کھیل اور دھوکے میں ڈالے رکھا ان کو زندگانئ دنیا نے، پس آج ہم بھلادیں گے انھیں جیسے بھلا دیا تھا انھوں نے ملاقات کو اپنے اس دن کی اور جو تھے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے(51) اور البتہ لائے ہم ان کے پاس ایسی کتاب کہ مفصل بیان کیا ہم نے اس کو ساتھ علم کے،وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(52) نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس کے انجام(قیامت) کا جس دن آئے گا انجام اس کا،تو کہیں گے وہ لوگ جو بھولے ہوئے تھے اس کو اس سے پہلے،تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے، پس کیا ہمارے لیے کوئی سفارشی ہیں کہ وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا لوٹادیے جائیں ہم،تو عمل کریں گے علاوہ ان کے جو تھے ہم(پہلے) عمل کرتے،تحقیق خسارے میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو اورگم ہوگیا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(53)
[52-50] جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بے انتہا بھوک اور انتہائی تکلیف دہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لیے بلائیں گے اور کہیں گے ﴿ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمھیں عطا کیا ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا ﴾ ’’اللہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے‘‘ یعنی جنت کا پانی اور کھانا ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کافروں پر۔‘‘ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انھوں نے اس دین کو .... جس پر قائم رہنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انھیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، کھیل تماشہ بنا لیا ﴿ لَهۡوًا وَّلَعِبًا ﴾’’تماشا اور کھیل‘‘ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انھوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کر لیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔﴿ وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب و زینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے ﴿ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰىهُمۡ ﴾ ’’پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے‘‘ یعنی انھیں عذاب میں چھوڑے دے رہے ہیں ﴿ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَؔ يَوۡمِهِمۡ هٰؔذَا﴾ ’’جیسا انھوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں ﴿ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔‘‘حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و جحود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ﴿ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ﴾ ’’ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔‘‘ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے ﴿ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’خبرداری سے‘‘ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لیے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ ﴿ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لیے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد و ضلالت کے درمیان فرق واضح اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہو جاتی ہے۔
[53] وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انھوں نے اس کے اوامر و منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لیے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ ﴾ ’’کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے‘‘ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ جناب یوسفu نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 12؍100) ’’یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا‘‘ فرمایا: ﴿يَوۡمَ يَاۡتِيۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے‘‘ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے سفارش تلاش کرتے ہوئے اور اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے ﴿ قَدۡ جَآءَؔتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ١ۚ فَهَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَؔ فَيَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ ﴾ ’’بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں ‘‘ ﴿ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے‘‘ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے ﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾(المدثر: 74؍48) ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔‘‘ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا تاکہ وہ نیک عمل کر سکیں ، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28)’’اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹے ہیں ‘‘۔﴿ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بے شک نقصان میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو‘‘ جبکہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لیے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں ۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے‘‘ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب میں ہی نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیا و مرسلین علیہ السلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔
7:53هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأۡوِيلَهُۥۚ يَوۡمَ يَأۡتِي تَأۡوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلۡحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُواْ لَنَآ أَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ قَدۡ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ
اور پکار کر کہیں گے دوزخی،جنتیوں کو، یہ کہ ڈالو تم ہم پر کچھ پانی سے یا(پھینکو) کچھ اس میں سے جو رزق دیا ہے تمھیں اللہ نے،کہیں گے جنتی! بے شک اللہ نے حرام کردی ہیں یہ دونوں چیزیں اوپر کافروں کے(50) وہ لوگ جنھوں نے بنالیا اپنے دین کو تماشہ اور کھیل اور دھوکے میں ڈالے رکھا ان کو زندگانئ دنیا نے، پس آج ہم بھلادیں گے انھیں جیسے بھلا دیا تھا انھوں نے ملاقات کو اپنے اس دن کی اور جو تھے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے(51) اور البتہ لائے ہم ان کے پاس ایسی کتاب کہ مفصل بیان کیا ہم نے اس کو ساتھ علم کے،وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(52) نہیں انتظار کرتے وہ مگر اس کے انجام(قیامت) کا جس دن آئے گا انجام اس کا،تو کہیں گے وہ لوگ جو بھولے ہوئے تھے اس کو اس سے پہلے،تحقیق آئے تھے رسول ہمارے رب کے ساتھ حق کے، پس کیا ہمارے لیے کوئی سفارشی ہیں کہ وہ سفارش کریں ہمارے لیے یا لوٹادیے جائیں ہم،تو عمل کریں گے علاوہ ان کے جو تھے ہم(پہلے) عمل کرتے،تحقیق خسارے میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو اورگم ہوگیا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(53)
[52-50] جب اہل جہنم کو عذاب پوری طرح گھیر لے گا، جب وہ بے انتہا بھوک اور انتہائی تکلیف دہ پیاس میں مبتلا ہوں گے تو وہ اہل جنت کو پکار کر مدد کے لیے بلائیں گے اور کہیں گے ﴿ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی دی تم کو اللہ نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھانا تمھیں عطا کیا ہے، اہل جنت ان کو جواب میں کہیں گے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا ﴾ ’’اللہ نے ان دونوں کو حرام کر دیا ہے‘‘ یعنی جنت کا پانی اور کھانا ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کافروں پر۔‘‘ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور انھوں نے اس دین کو .... جس پر قائم رہنے کا انھیں حکم دیا گیا تھا اور اس پر انھیں بڑے اجر کا وعدہ کیا گیا تھا، کھیل تماشہ بنا لیا ﴿ لَهۡوًا وَّلَعِبًا ﴾’’تماشا اور کھیل‘‘ یعنی ان کے دل غافل اور دین سے گریزاں تھے اور انھوں نے دین کا تمسخر اڑایا۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے دین کے بدلے لہو و لعب کو اختیار کر لیا اور دین قیم کے عوض لہو و لعب کو چن لیا۔﴿ وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ یعنی دنیا نے اپنی زیب و زینت سے اور دنیا کی طرف بلانے والوں کی کثرت نے انھیں دھوکے میں ڈال دیا۔ پس وہ دنیا سے مطمئن ہو کر اس سے خوش اور راضی ہوگئے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسے بھول گئے ﴿ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰىهُمۡ ﴾ ’’پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے‘‘ یعنی انھیں عذاب میں چھوڑے دے رہے ہیں ﴿ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَؔ يَوۡمِهِمۡ هٰؔذَا﴾ ’’جیسا انھوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو‘‘ گویا کہ وہ صرف دنیا ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ان کے سامنے کوئی مقصد اور کوئی جزا نہیں ﴿ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اور جیسا کہ وہ ہماری آیتوں کے منکر تھے۔‘‘حال یہ ہے کہ ان کا یہ کفر و جحود اس بنا پر نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی روشن دلیلوں کو سمجھنے سے قاصر تھے ﴿ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ﴾ ’’ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔‘‘ بلکہ ہم تو ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے کر آئے جس میں ہم نے وہ تمام مطالب کھول کھول کر بیان کر دیے ہیں مخلوق جن کی محتاج ہوتی ہے ﴿ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’خبرداری سے‘‘ یعنی ہر زمان و مکان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے کہ ان کے لیے کیا درست ہے اور کیا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کھول کھول کر بیان کرنا اس ہستی کا سا نہیں جو معاملات کا علم نہیں رکھتی اور بعض احوال اس سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور اس سے کوئی نامناسب فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بیان کرنا اس ہستی کا سا ہے جس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ ﴿ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘ یعنی اس کتاب کے ذریعے سے اہل ایمان کے لیے گمراہی میں سے ہدایت واضح ہو جاتی ہے۔ حق و باطل اور رشد و ضلالت کے درمیان فرق واضح اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ دنیا و آخرت میں بھلائی اور سعادت کا نام ہے اور ان سے اس رحمت کے ذریعے سے گمراہی اور شقاوت دور ہو جاتی ہے۔
[53] وہ لوگ جو عذاب کے مستحق ٹھہرے، وہ اس عظیم کتاب پر ایمان نہ لائے تھے اور انھوں نے اس کے اوامر و منہیات کے احکام کی تعمیل نہیں کی تھی اب ان کے لیے کوئی چارہ سوائے اس کے نہیں رہا کہ وہ اس عذاب کے مستحق ہوں اور وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے جس کے بارے میں قرآن نے آگاہ فرمایا تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ ﴾ ’’کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے‘‘ یعنی کیا وہ اس امر کے واقع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر دی گئی ہے، جیسا کہ جناب یوسفu نے اس وقت فرمایا تھا جب ان کا خواب سچا ہوگیا ﴿هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 12؍100) ’’یہ حقیقت ہے میرے خواب کی جو اس سے قبل میں نے دیکھا‘‘ فرمایا: ﴿يَوۡمَ يَاۡتِيۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’جس دن ظاہر ہو جائے گا اس کا مضمون، کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے‘‘ یعنی جو کچھ بیت گیا ہے اس پر ندامت اور تاسف کا اظہار کرتے ہوئے، اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے سفارش تلاش کرتے ہوئے اور اس چیز کا اقرار کر کے جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کہیں گے ﴿ قَدۡ جَآءَؔتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ١ۚ فَهَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَؔ فَيَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ ﴾ ’’بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات، سو اب کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں تو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں ‘‘ ﴿ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے‘‘ حالانکہ دنیا کی طرف واپس لوٹنے کا وقت گزر چکا ہے ﴿ فَمَا تَنۡفَعُهُمۡ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيۡنَ﴾(المدثر: 74؍48) ’’پس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔‘‘ان کی دنیا میں واپس لوٹنے کی التجا تاکہ وہ نیک عمل کر سکیں ، محض جھوٹ ہے ان کا مقصد تو محض اس عذاب کو دور کرنا ہے جو ان پر وارد ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28)’’اگر انھیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔ بے شک یہ جھوٹے ہیں ‘‘۔﴿ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’بے شک نقصان میں ڈالا انھوں نے اپنے آپ کو‘‘ جبکہ وہ منافع سے محروم ہوگئے اور ہلاکت کی راہوں پر جا نکلے۔ یہ خسارہ مال اور اثاثوں یا اولاد کا خسارہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا خسارہ ہے کہ متاثرین کے لیے اس کی کوئی تلافی ہی نہیں ۔ ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو جائے گا ان سے جو وہ افتراء کیا کرتے تھے‘‘ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات نفس اور شیطان کے وعدوں کے مطابق بہتان طرازی کیا کرتے تھے اور اب ان کے سامنے وہ کچھ آگیا جو ان کے کسی حساب میں ہی نہ تھا۔ ان کے سامنے ان کا باطل اور گمراہی اور انبیا و مرسلین علیہ السلام کی صداقت روز روشن کی طرح واضح ہوگئی۔
7:54إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
یقینا تمھارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں ، پھر وہ مستوی ہوگیا اوپر عرش کے،وہ ڈھانپتا ہے رات سے دن کو،طلب کرتی ہے(رات) اس (دن) کو جلدی جلدی،اور (پیداکیے)سورج اور چاند اور تارے درآں حالیکہ وہ(سب) تابع ہیں اللہ کے حکم کے، آگاہ رہو! اسی کے لیے ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا،بہت بابرکت ہے اللہ،رب جہانوں کا(54)
[54] اللہ تبارک و تعالیٰ واضح کرتا ہے کہ وہ اکیلا رب معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’بے شک تمھارا رب وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو‘‘ اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، زمین و آسمان کی وسعت، ان کی عظمت، ان کے محکم ہونے، ان کے مہارت کے ساتھ بنے ہونے اور ان کی انوکھی تخلیق کے باوصف ﴿ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ﴾ ’’چھ دن میں ‘‘ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق پوری کر دی اور ان کے اندر اپنے تمام امور ودیعت کر دیے۔ ﴿اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ عرش پر جا ٹھہرا۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ عرش عظیم پر مستوی ہوا اور عرش عظیم تمام آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے، سب پر محیط ہے۔ اللہ تعالیٰ عرش عظیم پر اس طرح مستوی ہوا جس طرح اس کے جلال، اس کی عظمت اور اس کی سلطنت کے لائق ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی ہوا، اس کا اقتدار تمام ممالک کو شامل ہے، اس نے اپنے تمام احکام تکوینی اور احکام دینی جاری فرمائے۔ بنابریں فرمایا:﴿يُغۡشِي الَّيۡلَ ﴾ ’’اڑھاتا ہے وہ رات کو‘‘ ﴿ النَّهَارَ ﴾ ’’دن پر‘‘ یعنی اندھیری رات روشن دن کو ڈھانپ لیتی ہے اور زمین پر اندھیرا چھا جاتا ہے، انسان آرام کرتے ہیں اور مخلوقات اپنے اپنے مسکنوں میں دن بھر کے آنے جانے اور تھکاوٹ سے آرام پاتے ہیں ۔ ﴿ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا ﴾ ’’کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا‘‘ جب رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور یہ گردش لیل و نہار ہمیشہ جاری رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کی بساط لپیٹ دے گا اور بندے اس جہان فانی سے دوسرے جہان میں منتقل ہو جائیں گے۔ ﴿وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِهٖ ﴾’’اور پیدا کیے سورج، چاند اور تارے، تابع دار اپنے حکم کے‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے اس کی تسخیر و تدبیر سے مسخر ہیں ۔ جو اس کے اوصاف کمال کی دلیل ہے۔ پس ان کی تخلیق اور ان کا اتنا بڑا ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور اس کائنات کا محکم، مضبوط اور منظم ہونا اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پر دلالت کرتا ہے اور سورج، چاند اور ستاروں میں جو ضروری اور بعض دیگر فوائد اور مصالح رکھے گئے ہیں ، وہ اس کے بے کراں علم اور بے پایاں رحمت پر دلیل ہیں ۔ نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔﴿اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾ ’’اسی کے لیے ہے پیدا کرنا بھی اور حکم بھی۔‘‘ یعنی وہی تخلیق کا مالک ہے جس سے تمام مخلوقات مخلوق علوی، مخلوق سفلی، ان کے اعیان، اوصاف اور افعال صادر ہوتے ہیں اور امر کا بھی مالک ہے جو شریعت و نبوت کو متضمن ہے۔ پس ’’تخلیق‘‘ اس کے احکام کونی و قدری کو اور ’’امر‘‘ احکام دینی و شرعی کو متضمن ہے اور احکام جزا کا اجراء داربقا میں ہوگا ﴿ تَبٰرَكَ اللّٰهُ ﴾ یعنی وہ بلند اور عظمت والا ہے اس کی بھلائی اور احسان بہت زیادہ ہے، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اپنی عظمت اوصاف اور کمال صفات کی بنا پر بہت بابرکت ہے اور مخلوق کو بے پایاں بھلائی اور بے شمار نیکی سے نواز کر دوسروں کو بھی برکت عطا کرتا ہے۔ پس اس کائنات میں جو برکات نظر آتی ہیں وہ اس کی رحمت کے آثار ہیں ۔ بنابریں فرمایا:﴿ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’بڑا بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صفت عظمت و جلال کا ذکر فرمایا جو عقل مندوں کی اس حقیقت کی طرف راہ نمائی کرتی ہے کہ تمام حوائج میں وہی اکیلا معبود مقصود ہے۔ تو اب اس چیز کا حکم دیا جو اس حقیقت پر مترتب ہوتی ہے۔
7:55ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةًۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُعۡتَدِينَ
پکارو تم اپنے رب کو آہ وزاری کرتے ہوئے اور چپکے چپکے،تحقیق وہ نہیں پسند کرتا حد سے تجاوز کرنے والوں کو(55) اور نہ فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کےاور پکارو اللہ كو خوف اور طمع کرتے ہوئے، یقینا اللہ کی رحمت قریب ہے احسان کرنے والوں کے(56)
[55] ’’دعا‘‘ میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی سے۔‘‘ یعنی گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں ۔ ﴿ وَّخُفۡيَةً ﴾ ’’اور چپکے سے۔‘‘ یعنی بآواز بلند اور اعلانیہ نہ گڑگڑائیں جس سے ریا کا خدشہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لیے آہ و زاری کریں ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لیے درست نہیں یا وہ سرے سے سوال کرنا ہی چھوڑ دے یا وہ بہت زیادہ بلند آواز میں دعا مانگے۔ یہ تمام امور تجاوز حدود میں شامل ہیں جو ممنوع ہیں ۔
[56]﴿وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘ یعنی اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ ﴿بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا ﴾ ’’اس کی اصلاح کے بعد‘‘ یعنی اطاعت اور نیکی کے ذریعے سے اس کی اصلاح کر لینے کے بعد۔ کیونکہ معاصی، اخلاق، اعمال اور رزق کو فاسد کر دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ﴾(الروم: 30؍41)’’لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے بحر و بر میں فساد پھیل گیا۔‘‘ جیسے نیکیوں سے اخلاق، اعمال، رزق اور دنیا و آخرت کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے۔﴿وَادۡعُوۡهُ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾ ’’اور اس (اللہ) سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہو۔‘‘ اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے پکارو۔ نیز یہ امید بھی رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرمائے گا اور اس بات سے بھی ڈرو کہ کہیں اللہ تعالیٰ دعا کو رد نہ کر دے۔ اس بندے کی طرح دعا نہ مانگو جو ناز و ادا کے ذریعے سے اپنے رب کے سامنے جرأت اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔ جو خود پسندی کا شکار ہے اور جس نے اپنے نفس کو اس کی اصل حیثیت سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور نہ اس شخص کی طرح دعا مانگو جو غافل دل کے ساتھ دعا مانگتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آداب دعا کے بارے میں جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دعا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو اور دعائے خفی اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو متضمن ہے۔ دعا کا چھپانا اور اس کا اخفاء یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ سے خائف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دعا کی قبولیت کی امید رکھتا ہو، غافل دل کے ساتھ دعا نہ کرے، اپنے آپ کو مامون نہ سمجھے اور نہ قبولیت دعا کے بارے میں بے پروائی کا اظہار کرے اور یہ چیز دعا میں احسان کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر عبادت میں احسان یہ ہے کہ بندہ اس عبادت میں اپنی پوری جدوجہد صرف کر دے، اسے نہایت کامل طریقے سے ادا کرے اور کسی طور بھی اس میں نقص واقع نہ ہونے دے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر پہنچنے والے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے والے لوگ۔ پس بندہ جتنا زیادہ احسان کے مقام پر فائز ہوگا اتنی ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے قریب ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں احسان کی ترغیب ہے، جو مخفی نہیں ۔
7:56وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَا وَٱدۡعُوهُ خَوۡفٗا وَطَمَعًاۚ إِنَّ رَحۡمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٞ مِّنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
پکارو تم اپنے رب کو آہ وزاری کرتے ہوئے اور چپکے چپکے،تحقیق وہ نہیں پسند کرتا حد سے تجاوز کرنے والوں کو(55) اور نہ فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کےاور پکارو اللہ كو خوف اور طمع کرتے ہوئے، یقینا اللہ کی رحمت قریب ہے احسان کرنے والوں کے(56)
[55] ’’دعا‘‘ میں دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں شامل ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اسے پکاریں ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی سے۔‘‘ یعنی گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور جم کر اس کی عبادت کریں ۔ ﴿ وَّخُفۡيَةً ﴾ ’’اور چپکے سے۔‘‘ یعنی بآواز بلند اور اعلانیہ نہ گڑگڑائیں جس سے ریا کا خدشہ ہو بلکہ چھپ چھپ کر خالص اللہ تعالیٰ کے لیے آہ و زاری کریں ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘ یعنی تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ بھی حد سے تجاوز ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسی چیزوں کا سوال کرے جو بندے کے لیے درست نہیں یا وہ سرے سے سوال کرنا ہی چھوڑ دے یا وہ بہت زیادہ بلند آواز میں دعا مانگے۔ یہ تمام امور تجاوز حدود میں شامل ہیں جو ممنوع ہیں ۔
[56]﴿وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘ یعنی اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ ﴿بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا ﴾ ’’اس کی اصلاح کے بعد‘‘ یعنی اطاعت اور نیکی کے ذریعے سے اس کی اصلاح کر لینے کے بعد۔ کیونکہ معاصی، اخلاق، اعمال اور رزق کو فاسد کر دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ﴾(الروم: 30؍41)’’لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے بحر و بر میں فساد پھیل گیا۔‘‘ جیسے نیکیوں سے اخلاق، اعمال، رزق اور دنیا و آخرت کے احوال کی اصلاح ہوتی ہے۔﴿وَادۡعُوۡهُ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾ ’’اور اس (اللہ) سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہو۔‘‘ اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اسے پکارو۔ نیز یہ امید بھی رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرمائے گا اور اس بات سے بھی ڈرو کہ کہیں اللہ تعالیٰ دعا کو رد نہ کر دے۔ اس بندے کی طرح دعا نہ مانگو جو ناز و ادا کے ذریعے سے اپنے رب کے سامنے جرأت اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے۔ جو خود پسندی کا شکار ہے اور جس نے اپنے نفس کو اس کی اصل حیثیت سے بڑھ کر حیثیت دی ہے اور نہ اس شخص کی طرح دعا مانگو جو غافل دل کے ساتھ دعا مانگتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آداب دعا کے بارے میں جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دعا میں صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو اور دعائے خفی اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو متضمن ہے۔ دعا کا چھپانا اور اس کا اخفاء یہ ہے کہ دل اللہ تعالیٰ سے خائف ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دعا کی قبولیت کی امید رکھتا ہو، غافل دل کے ساتھ دعا نہ کرے، اپنے آپ کو مامون نہ سمجھے اور نہ قبولیت دعا کے بارے میں بے پروائی کا اظہار کرے اور یہ چیز دعا میں احسان کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر عبادت میں احسان یہ ہے کہ بندہ اس عبادت میں اپنی پوری جدوجہد صرف کر دے، اسے نہایت کامل طریقے سے ادا کرے اور کسی طور بھی اس میں نقص واقع نہ ہونے دے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’اللہ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مقام احسان پر پہنچنے والے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے والے لوگ۔ پس بندہ جتنا زیادہ احسان کے مقام پر فائز ہوگا اتنی ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے قریب ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں احسان کی ترغیب ہے، جو مخفی نہیں ۔
7:57وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا سُقۡنَٰهُ لِبَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَنزَلۡنَا بِهِ ٱلۡمَآءَ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ كَذَٰلِكَ نُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت سے،یہاں تک کہ جب وہ اٹھاتی ہیں بھاری بادل کو،تو ہانکتے ہیں ہم ان کو ایک شہر مردہ کی طرف، پھر اتارتے ہیں ہم ان کے ذریعے پانی، پھر نکالتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے ہر طرح کے میوے، اسی طرح نکالیں گے ہم مُردوں کو(قبروں سے) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو(57) اور شہرپاکیزہ(عمدہ زمین) نکلتی ہے اس کی انگوری اپنے رب کے حکم سےاور جو(زمین) خراب ہے، نہیں نکلتی (اس کی انگوری) مگر ناقص، اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے جو شکر کرتے ہیں(58)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ بُشۡرًۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’اور وہی ہے جو چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والى اس کی رحمت (بارش) سے پہلے‘‘ یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو زمین سے اٹھاتی ہیں اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اس کے برسنے سے قبل ان کے دلوں میں خوشی کے کنول کھل اٹھتے ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتۡ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں ‘‘ یعنی ہوائیں ﴿ سَحَابًا ثِقَالًا ﴾ ’’بھاری بادلوں کو‘‘ بعض ہوائیں ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں ، بعض دوسری ہوائیں ان کو اکٹھا کرتی ہیں اور کچھ ہوائیں ان کو بار دار کرتی ہیں ﴿ سُقۡنٰهُ لِبَلَدٍ مَّؔيِّتٍ ﴾ ’’تو ہانک دیتے ہیں ہم اس (بادل) کو ایک مردہ شہر کی طرف‘‘ اس علاقے کے حیوانات ہلاکت کے قریب اور وہاں کے باسی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو چلے تھے ﴿ فَاَنۡزَلۡنَا بِهِ الۡمَآءَؔ ﴾ ’’پھر اس (بادل) سے مینہ برساتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بادل کے ذریعے سے ہم نے اس مردہ زمین پر خوب پانی برسایا، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو مسخر کیا جو بادلوں کو پانی سے لبریز کرتی ہے اور دوسری ہوا اللہ کے حکم سے ان بادلوں کو لخت لخت کر کے بکھیرتی ہے ﴿ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ﴾ ’’پھر نکالتے ہیں ہم اس سے ہر طرح کے پھل‘‘ پس وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر خوش ہو جاتے ہیں اور اس کی بھلائی سے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ﴿كَذٰلِكَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی جس طرح ہم نے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو نباتات کے ذریعے سے زندہ کیا اسی طرح ہم مردوں کو، جب وہ اپنی قبروں میں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی بن چکے ہوں گے، زندہ کریں گے۔ یہ استدلال بہت واضح ہے دونوں امور میں کوئی فرق نہیں ۔ زندگی بعد موت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرنا۔۔۔۔۔ حالانکہ اس کا انکار کرنے والا اس کے نظائر کا مشاہدہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ عناد اور محسوسات کے انکار کے زمرے میں آتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چشم غفلت سے دیکھنے کی بجائے چشم عبرت سے ان میں غور کرنے اور تدبر و تفکر کی ترغیب دی گئی ہے۔
[58] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان مختلف قطعات زمین میں تفاوت کا ذکر فرمایا ہے جن پر بارش برستی ہے۔ ﴿وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ ﴾ ’’اور جو شہر پاکیزہ ہے‘‘ یعنی جس کی مٹی اور اصل پاکیزہ ہے، جب اس پر بارش اترتی ہے ﴿ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ ﴾ ’’اس کا سبزہ نکلتا ہے‘‘ جو اس کے لیے تیار ہوتی ہے ﴿ بِـاِذۡنِ رَبِّهٖ ﴾ ’’اس کے رب کے حکم سے‘‘ یہ نباتات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ظاہر ہوتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو اشیا کے وجود میں اسباب کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے۔ ﴿ وَالَّذِيۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَؔكِدًا ﴾ ’’اور جو خراب زمین ہے اس میں سے خراب اور خسیس نباتات ہی نکلتی ہیں ‘‘ جس میں کوئی فائدہ اور کوئی برکت نہیں ہوتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لیے پھیر پھیر کربیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم آیات کی مختلف انواع اور مثالیں ان لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اقرار کر کے اس کے شکر گزار ہوتے ہیں اور ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق تصرف کرتے ہیں ۔ پس یہی لوگ ہیں جو ان احکام اور مطالب الہٰیہ سے مستفید ہوتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تفصیل بیان کی ہے کیونکہ وہ ان احکام الہیہ کو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت خیال کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس پہنچی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس نعمت کا محتاج سمجھتے ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرتے ہیں اور ان احکام میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی استعداد کے مطابق ان کے سامنے ان احکام کے معانی بیان کر دیتا ہے۔ یہ دلوں کے لیے ایک مثال ہے جب ان پر وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے یہ مادۂ حیات ہے اور بادل بارش کا مادہ ہے۔ قلوب طاہرہ کے پاس جب وحی آتی ہے تو اسے قبول کرتے ہیں اور اسے سیکھتے ہیں اور اپنی فطرت کی پاکیزگی اور اپنے عنصر کی اچھائی کے مطابق نشوونما پاتے ہیں ۔ قلوب خبیثہ، جن میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی جب ان کے پاس وحی آتی ہے تو وہ قابل قبول مقام و محل نہیں پاتی بلکہ وہ انھیں غافل اور روگرداں یا مخالفت کرنے والے پاتی ہے۔ پس اس کی مثال اس بارش کی مانند ہے جو شور زدہ زمین، ریت کے ٹیلوں اور چٹانوں پر برستی ہے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحۡتَمَلَ السَّيۡلُ زَبَدًا رَّابِيًا …﴾(الرعد: 13؍17)الخ ’’اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنے اپنے اندازے کے مطابق ندی نالے بہہ نکلے اور پانی نے پھولا ہوا جھاگ اٹھایا۔ ‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیا و مرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کر دیا۔۔۔۔ اور کیسے انبیا و مرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔
7:58وَٱلۡبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَٱلَّذِي خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ إِلَّا نَكِدٗاۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَشۡكُرُونَ
اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں خوشخبری دینے والی پہلے اپنی رحمت سے،یہاں تک کہ جب وہ اٹھاتی ہیں بھاری بادل کو،تو ہانکتے ہیں ہم ان کو ایک شہر مردہ کی طرف، پھر اتارتے ہیں ہم ان کے ذریعے پانی، پھر نکالتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے ہر طرح کے میوے، اسی طرح نکالیں گے ہم مُردوں کو(قبروں سے) تاکہ تم نصیحت حاصل کرو(57) اور شہرپاکیزہ(عمدہ زمین) نکلتی ہے اس کی انگوری اپنے رب کے حکم سےاور جو(زمین) خراب ہے، نہیں نکلتی (اس کی انگوری) مگر ناقص، اسی طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے جو شکر کرتے ہیں(58)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ بُشۡرًۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهٖ ﴾ ’’اور وہی ہے جو چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والى اس کی رحمت (بارش) سے پہلے‘‘ یعنی وہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بادلوں کو زمین سے اٹھاتی ہیں اور مخلوق اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے اور اس کے برسنے سے قبل ان کے دلوں میں خوشی کے کنول کھل اٹھتے ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتۡ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اٹھا لاتی ہیں ‘‘ یعنی ہوائیں ﴿ سَحَابًا ثِقَالًا ﴾ ’’بھاری بادلوں کو‘‘ بعض ہوائیں ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں ، بعض دوسری ہوائیں ان کو اکٹھا کرتی ہیں اور کچھ ہوائیں ان کو بار دار کرتی ہیں ﴿ سُقۡنٰهُ لِبَلَدٍ مَّؔيِّتٍ ﴾ ’’تو ہانک دیتے ہیں ہم اس (بادل) کو ایک مردہ شہر کی طرف‘‘ اس علاقے کے حیوانات ہلاکت کے قریب اور وہاں کے باسی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو چلے تھے ﴿ فَاَنۡزَلۡنَا بِهِ الۡمَآءَؔ ﴾ ’’پھر اس (بادل) سے مینہ برساتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بادل کے ذریعے سے ہم نے اس مردہ زمین پر خوب پانی برسایا، اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا کو مسخر کیا جو بادلوں کو پانی سے لبریز کرتی ہے اور دوسری ہوا اللہ کے حکم سے ان بادلوں کو لخت لخت کر کے بکھیرتی ہے ﴿ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ﴾ ’’پھر نکالتے ہیں ہم اس سے ہر طرح کے پھل‘‘ پس وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر خوش ہو جاتے ہیں اور اس کی بھلائی سے خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ﴿كَذٰلِكَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو تاکہ تم نصیحت پکڑو‘‘ یعنی جس طرح ہم نے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو نباتات کے ذریعے سے زندہ کیا اسی طرح ہم مردوں کو، جب وہ اپنی قبروں میں ریزہ ریزہ ہو کر مٹی بن چکے ہوں گے، زندہ کریں گے۔ یہ استدلال بہت واضح ہے دونوں امور میں کوئی فرق نہیں ۔ زندگی بعد موت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کا انکار کرنا۔۔۔۔۔ حالانکہ اس کا انکار کرنے والا اس کے نظائر کا مشاہدہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ عناد اور محسوسات کے انکار کے زمرے میں آتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو چشم غفلت سے دیکھنے کی بجائے چشم عبرت سے ان میں غور کرنے اور تدبر و تفکر کی ترغیب دی گئی ہے۔
[58] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان مختلف قطعات زمین میں تفاوت کا ذکر فرمایا ہے جن پر بارش برستی ہے۔ ﴿وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ ﴾ ’’اور جو شہر پاکیزہ ہے‘‘ یعنی جس کی مٹی اور اصل پاکیزہ ہے، جب اس پر بارش اترتی ہے ﴿ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ ﴾ ’’اس کا سبزہ نکلتا ہے‘‘ جو اس کے لیے تیار ہوتی ہے ﴿ بِـاِذۡنِ رَبِّهٖ ﴾ ’’اس کے رب کے حکم سے‘‘ یہ نباتات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ظاہر ہوتی ہیں اور جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو اشیا کے وجود میں اسباب کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے۔ ﴿ وَالَّذِيۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَؔكِدًا ﴾ ’’اور جو خراب زمین ہے اس میں سے خراب اور خسیس نباتات ہی نکلتی ہیں ‘‘ جس میں کوئی فائدہ اور کوئی برکت نہیں ہوتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لیے پھیر پھیر کربیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم آیات کی مختلف انواع اور مثالیں ان لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اقرار کر کے اس کے شکر گزار ہوتے ہیں اور ان نعمتوں میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق تصرف کرتے ہیں ۔ پس یہی لوگ ہیں جو ان احکام اور مطالب الہٰیہ سے مستفید ہوتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تفصیل بیان کی ہے کیونکہ وہ ان احکام الہیہ کو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت خیال کرتے ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس پہنچی ہے اور وہ اپنے آپ کو اس نعمت کا محتاج سمجھتے ہوئے اسے خوشی خوشی قبول کرتے ہیں اور ان احکام میں غور و فکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی استعداد کے مطابق ان کے سامنے ان احکام کے معانی بیان کر دیتا ہے۔ یہ دلوں کے لیے ایک مثال ہے جب ان پر وحی الٰہی کا نزول ہوتا ہے یہ مادۂ حیات ہے اور بادل بارش کا مادہ ہے۔ قلوب طاہرہ کے پاس جب وحی آتی ہے تو اسے قبول کرتے ہیں اور اسے سیکھتے ہیں اور اپنی فطرت کی پاکیزگی اور اپنے عنصر کی اچھائی کے مطابق نشوونما پاتے ہیں ۔ قلوب خبیثہ، جن میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی جب ان کے پاس وحی آتی ہے تو وہ قابل قبول مقام و محل نہیں پاتی بلکہ وہ انھیں غافل اور روگرداں یا مخالفت کرنے والے پاتی ہے۔ پس اس کی مثال اس بارش کی مانند ہے جو شور زدہ زمین، ریت کے ٹیلوں اور چٹانوں پر برستی ہے تو ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتۡ اَوۡدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحۡتَمَلَ السَّيۡلُ زَبَدًا رَّابِيًا …﴾(الرعد: 13؍17)الخ ’’اللہ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنے اپنے اندازے کے مطابق ندی نالے بہہ نکلے اور پانی نے پھولا ہوا جھاگ اٹھایا۔ ‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل میں سے ایک اچھا حصہ ذکر فرمایا تو اب اس کی تائید میں انبیائے کرام کا، جو اس کی توحید کے داعی تھے اور اس رویے کا جو ان کی امتوں کے منکرین توحید کی طرف سے پیش آیا، اسے بیان فرما رہا ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے اہل توحید کی تائید فرمائی اور انبیا و مرسلین سے عناد رکھنے والوں اور ان کی اطاعت نہ کرنے والوں کو ہلاک کر دیا۔۔۔۔ اور کیسے انبیا و مرسلین کی دعوت ایک ہی دین اور ایک ہی عقیدہ پر متفق تھی۔
7:59لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ
البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔
7:60قَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔
7:61قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي ضَلَٰلَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔
7:62أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمۡ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ
البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔
7:63أَوَعَجِبۡتُمۡ أَن جَآءَكُمۡ ذِكۡرٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنكُمۡ لِيُنذِرَكُمۡ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔
7:64فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيۡنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمًا عَمِينَ
البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کے،پس اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے،یقینا میں اندیشہ کرتا ہوں تم پر عذاب کا بڑے دن کے(59) کہا سرداروں نے اس کی قوم میں سے! بے شک ہم تو دیکھتے ہیں تجھے گمراہی ظاہر میں(60) کہا نوح نے اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ کوئی گمراہی لیکن میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(61) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کرتا ہوں تمھاری اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو نہیں جانتے تم(62) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے اوپر ایک ایسے آدمی کے جو تم میں سے ہے؟ تاکہ ڈرائے تمھیں اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم رحم کیے جاؤ(63) پس جھٹلایاانھوں نے نوح کو تونجات دی ہم نے اسے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیاہم نے ان کو جنھوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو،بلاشبہ وہ لوگ تھے(دل کے) اندھے(64)
[59] چنانچہ جناب نوحu، جو اولین رسول ہیں ، کے بارے میں فرمایا:﴿لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ ﴾ ’’ہم نے نوحu کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔‘‘ حضرت نوح کفار کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے جبکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ جناب نوح نے ان سے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ ﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ‘‘ کیونکہ وہی خالق و رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے اور اس کے سوا ہر چیز مخلوق اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر و تصرف کے تحت ہے اور کسی معاملے میں اسے کوئی اختیار نہیں ، پھر انھیں عدم اطاعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے‘‘ یہ ان کے لیے جناب نوحu کی خیر خواہی اور شفقت ہے کہ وہ ان کے بارے میں ابدی عذاب اور دائمی بدبختی سے خائف ہیں جیسے ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین مخلوق پر ان کے ماں باپ سے زیادہ شفقت رکھتے تھے۔
[60] جب نوحu نے ان سے یہ بات کہی تو انھوں نے حضرت نوحu کو بدترین جواب دیا ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سرداروں نے کہا۔‘‘ یعنی سرداروں اور دولت مند راہنماؤں نے کہا، حق کے سامنے تکبر کرنا اور انبیا و مرسلین کی اطاعت نہ کرنا، ہمیشہ سے ان کی عادت رہی ہے ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا‘‘ انھوں نے اسی پر بس نہیں کی.... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے..... کہ انھوں نے انبیا و رسل کی اطاعت نہیں کی بلکہ وہ جناب نوح سے تکبر کے ساتھ پیش آئے اور ان کی عیب چینی کی اور ان کو گمراہی سے منسوب کیا پھر انھوں نے آں جناب کو مجرد گمراہ کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ایسی گمراہی سے منسوب کیا جو ہر ایک پر واضح ہوتی ہے۔ یہ انکار حق اور عناد کی بدترین قسم ہے جو کمزور لوگوں میں عقل و فہم نہیں چھوڑتی یہ وصف تو قوم نوح پر منطبق ہوتا ہے جو بتوں کو خدا مانتے ہیں جن کو انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے پتھروں کو تراش کر بنایا ہے۔ جو سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کے کوئی کام آسکتے ہیں ۔ انھوں نے ان خداؤں کو وہی مقام دے دیا جو اس کائنات کو پیدا کرنے والے کا مقام ہے اور ان کے تقرب کے حصول کی خاطر مختلف عبادات ان کے لیے مقرر کر دیں ۔ اگر ان کا ذہن نہ ہوتا جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوتی ہے تو ان کے بارے میں یہی فیصلہ ہوتا کہ فاتر العقل لوگ ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ عقل مند ہیں ۔
[62,61] نوحu نے نہایت لطیف پیرائے میں جواب دیا جو ان میں رقت پیدا کرے شاید کہ وہ اطاعت کرنے لگیں ۔ ﴿ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ ضَلٰلَةٌ ﴾ ’’اے میری قوم! مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے۔‘‘ یعنی میں کسی بھی مسئلہ میں کسی طرح بھی گمراہ نہیں ہوں بلکہ میں تو ہدایت یافتہ اور راہ ہدایت دکھانے والا ہوں ۔ بلکہ آنجناب کی راہ نمائی، دیگر اولوالعزم رسولوں کی راہ نمائی کی جنس سے ہے اور راہنمائی کی نہایت اعلیٰ اور کامل ترین نوع ہے اور یہ ہے رسالت کاملہ و تامہ کی راہ نمائی۔ بنابریں فرمایا ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے‘‘ یعنی جو میرا، تمھارا اور تمام مخلوق کا رب ہے، جو مختلف انواع کی ربوبیت کے ذریعے سے مخلوق کو نوازتا ہے، اس کی سب سے بڑی ربوبیت یہ ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسول بھیجے جو انھیں اعمال صالحہ، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ کا حکم دیتے ہیں اور ان کے منافی اور متضاد امور سے روکتے ہیں ۔ ﴿ اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنۡصَحُ لَكُمۡ ﴾ ’’پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور خیرخواہی کرتا ہوں تمھاری‘‘ یعنی میری ذمہ داری نہایت خیر خواہی اور شفقت کے ساتھ تمھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے اوامر و نواہی وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ہے۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے‘‘ اس لیے جو چیز متعین ہے وہ یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور اگر تم علم رکھتے ہو تو میرے حکم کی تعمیل کرو۔
[63]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی۔‘‘ یعنی تم اس حالت پر کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے وہ یہ کہ تمھارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعے سے، جس کی حقیقت، صداقت اور حال سے تم واقف ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یاد دہانی، نصیحت اور خیر خواہی آئی؟ یہ صورت حال تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے جس کو شکر گزاری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ ﴿ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ وَلِتَتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ تمھیں دردناک عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تم ظاہری اور باطنی طور پر تقویٰ پر عمل کر کے اپنے لیے نجات کے اسباب مہیا کرو۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت حاصل ہوتی ہے۔
[64] مگر ان کی بابت جناب نوحu کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں ﴿ فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس انھوں نے اس کو جھٹلایا، پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں ‘‘ یعنی اس کشتی میں ان کو نجات دی جس کو بنانے کا اللہ تعالیٰ نے نوحu کو حکم دیا تھا اور ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ تمام حیوانات میں سے ایک ایک جوڑا، اپنے گھر والوں اور اپنے ساتھی اہل ایمان کو اس کشتی میں سوار کر لیں ۔ انھوں نے ان سب کو سوار کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کے ذریعے سے ان کو نجات دی۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ ﴾ ’’اور غرق کر دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو، بے شک وہ لوگ اندھے تھے‘‘ یعنی وہ ہدایت سے اندھے تھے، انھوں نے حق کو دیکھ لیا تھا، اللہ تعالیٰ نے جناب نوحu کے ہاتھ پر ان کو ایسی ایسی کھلی نشانیاں دکھائی تھیں کہ عقلمند لوگ ان پر ایمان لے آتے ہیں مگر انھوں نے حضرت نوحu کا تمسخر اڑایا، آنجناب کے ساتھ گستاخی سے پیش آئے اور ان کاانکار کیا۔
7:65۞وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمۡ هُودٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥٓۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:66قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِي سَفَاهَةٖ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:67قَالَ يَٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِي سَفَاهَةٞ وَلَٰكِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:68أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنَا۠ لَكُمۡ نَاصِحٌ أَمِينٌ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:69أَوَعَجِبۡتُمۡ أَن جَآءَكُمۡ ذِكۡرٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنكُمۡ لِيُنذِرَكُمۡۚ وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوحٖ وَزَادَكُمۡ فِي ٱلۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةٗۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:70قَالُوٓاْ أَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَحۡدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:71قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُمۡ رِجۡسٞ وَغَضَبٌۖ أَتُجَٰدِلُونَنِي فِيٓ أَسۡمَآءٖ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٖۚ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:72فَأَنجَيۡنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَقَطَعۡنَا دَابِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۖ وَمَا كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ
اور(بھیجا ہم نے) طرف عاد کی ان کے بھائی ہود کو، اس نے کہا،اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی، نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے کیا پس نہیں ڈرتے تم؟ (65) کہا ان چودھریوں نے جنھوں نے کفر کیا تھا اس کی قوم میں سے، بلاشبہ ہم دیکھتے ہیں تجھے بے وقوفی میں،اور یقینا ہم گمان کرتے ہیں تجھے جھوٹوں میں سے (66) کہا (ہود نے) اے میری قوم!نہیں ہے میرے ساتھ بے وقوفی لیکن میں تو رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(67) پہنچاتا ہوں تمھیں پیغامات اپنے رب کے،اور میں تمھارے لیے خیر خواہ ہوں،امین ہوں(68) کیا تعجب کرتے ہو تم اس بات سے کہ آئی تمھارے پاس نصیحت تمھارے رب کی طرف سے،اوپر ایسے آدمی کے جو تم ہی میں سے ہے تاکہ ڈرائے وہ تمھیں اور یاد کروجبکہ اس نے بنایا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد قوم نوح کے اور زیادہ دیا تمھیں قدوقامت میں پھیلاؤ،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی تاکہ تم فلاح پاؤ(69) انھوں نے کہا! کہا آیا ہے تو ہمارے پاس ، اس لیے کہ عبادت کریں ہم اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں انھیں جن کی تھے عبادت کرتے ہمارے باپ دادا؟پس لے آتوہم پر وہ(عذاب)جس سے ڈراتاہے تو ہمیں،اگر ہے تو سچوں میں سے(70) کہا (ہودنے)تحقیق ثابت ہوگیا تم پر تمھارے رب کی طرف سے عذاب اورغضب،کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں کہ رکھ لیے ہیں وہ تم نے اور تمھارے آباؤاجداد نے؟نہیں نازل فرمائی اللہ نے ان کی کوئی دلیل،سو انتظار کروتم،بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں(71) پھر نجات دی ہم نے ہود کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے، ساتھ اپنی رحمت کے،اور کاٹ دی ہم نے جڑ ان کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اورنہ تھے وہ ایمان لانے والے(72)
[65]﴿وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا ﴾ ’’اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے عاد اولیٰ کی طرف، جو سرزمین یمن میں آباد تھے ان کے نسبی بھائی ہودu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک اور زمین میں سرکشی سے روکتے تھے ﴿قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ، پس کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ اپنے اس رويے پر قائم رہتے ہوئے تمھیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا؟
[66] مگر انھوں نے حضرت ہودu کی بات مانی نہ ان کی اطاعت کی۔ ﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے اور ان کی رائے میں عیب چینی کرتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىكَ فِيۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’ہم تجھے بیوقوف اور بے راہ رو سمجھتے ہیں اور ہمارا ظن یہ ہے کہ تو جھوٹا ہے۔‘‘ان کے سامنے حقیقت بدل گئی اور ان کا اندھا پن مستحکم ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنے نبی (u) کی مذمت کی اور ایسے وصف کو ان کی طرف منسوب کیا جس سے خود متصف تھے۔ حالانکہ ہودu لوگوں میں سب سے زیادہ اس وصف سے دور تھے۔ درحقیقت وہ خود بیوقوف اور جھوٹے تھے۔اس شخص سے بڑھ کر کون بیوقوف ہو سکتا ہے جو سب سے بڑے حق کو ٹھکراتا اور اس کا انکار کرتا ہے۔ جو تکبر سے راہ ہدایت دکھانے والوں اور خیر خواہوں کی اطاعت نہیں کرتا۔ جو اپنے دل و جاں سے ہر سرکش شیطان کی اطاعت کرتا ہے اور غیر مستحق ہستیوں کی عبادت کرتا ہے چنانچہ وہ پتھروں اور درختوں کی عبادت کرتا ہے جو اس کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون جھوٹا ہو سکتا ہے جو ان مذکورہ امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے؟
[67]﴿قَالَ يٰقَوۡمِ لَيۡسَ بِيۡ سَفَاهَةٌ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اے میری قوم، میں بے عقل نہیں ‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی بیوقوف نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول، راہ ہدایت دکھانے والے اور ہدایت یافتہ ہیں ﴿ وَّلٰكِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’میں جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں ۔‘‘
[68]﴿اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ وَاَنَا لَكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’میں پہنچاتا ہوں تم کو اپنے رب کے پیغام اور میں تمھارا خیرخواہ ہوں ، اعتماد کے لائق‘‘ پس تم پر فرض ہے کہ تم میری رسالت کو مانتے ہوئے اور بندوں کے رب کی اطاعت کرتے ہوئے اسے قبول کرو۔
[69]﴿اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَؔكُمۡ ﴾ ’’کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔‘‘ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢۡ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ ﴾ ’’اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد‘‘ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمۡ فِي الۡخَلۡقِ بَصۜۡطَةً ﴾ ’’اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ‘‘ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’کامیاب ہو جاؤ‘‘ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
[70]جناب ہودu نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہودu کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔﴿ قَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے ہودu کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں ، کہا ﴿ اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ﴾ ’’کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں ، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
[71]﴿قَالَ ﴾ ہودu نے ان سے کہا ﴿ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ ﴾ ’’تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوۡنَنِيۡ فِيۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں ۔‘‘ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں ۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔﴿ فَانۡتَظِرُوۡۤا ﴾ ’’پس تم انتظار کرو۔‘‘ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ﴾ ’’میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں ‘‘ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
[72] بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں فریقین کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ ﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ ﴾ پس ہم نے ہودu کو نجات دے دی ﴿ وَالَّذِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کو جو ایمان لائے تھے‘‘ ﴿ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنَّا ﴾ ’’اس کے ساتھ، اپنی رحمت سے‘‘ کیونکہ وہی ہے جس نے ان کی ایمان کی طرف راہ نمائی کی اور ان کے ایمان کو ایسا سبب بنایا جس کے ذریعے سے وہ اس کی رحمت حاصل کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو نجات عطا کردی۔ ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔‘‘ یعنی ہم نے سخت عذاب کے ذریعے سے ان کی جڑ کاٹ دی اور اس عذاب نے ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نامبارک سخت ہوا مسلط کر دی۔ وہ جس چیز پر بھی چلتی اسے ریزہ ریزہ کرتی چلی جاتی۔ پس وہ ہلاک کر دیے گئے اور وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ پس ان لوگوں کا انجام دیکھو جن کو اس انجام سے ڈرایا گیا تھا، ان پر حجت قائم کی گئی تھی مگر انھوں نے تسلیم نہ کیا، ان کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا مگر وہ ایمان نہ لائے۔ تب ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ﴿ وَاُتۡبِعُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً وَّيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ١ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّعَادٍ قَوۡمِ هُوۡدٍ﴾(ھود: 11؍60) ’’اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کرتی رہی اور قیامت کے روز بھی یہ لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ دیکھو عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور دیکھو ہود کی قوم عاد پر پھٹکار ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور جڑ کاٹ دی ہم نے ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے‘‘ یعنی وہ کسی طرح بھی ایمان نہ لائے تھے بلکہ تکذیب اور عناد ان کا وصف، تکبر اور فساد ان کی صفت تھی۔
7:73وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:74وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعۡدِ عَادٖ وَبَوَّأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورٗا وَتَنۡحِتُونَ ٱلۡجِبَالَ بُيُوتٗاۖ فَٱذۡكُرُوٓاْ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:75قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِمَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُمۡ أَتَعۡلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحٗا مُّرۡسَلٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلَ بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:76قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا بِٱلَّذِيٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:77فَعَقَرُواْ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَقَالُواْ يَٰصَٰلِحُ ٱئۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:78فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:79فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّـٰصِحِينَ
اور (بھیجاہم نے) طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو(صالح نے) کہا: اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمھارے لیے خاص نشانی،پس چھوڑدو تم اسے کہ چرتی پھرے اللہ کی زمین میں،اور مت ہاتھ لگانا اسے ساتھ برائی کے،ورنہ پکڑلے گا تمھیں عذاب دردناک(73) اور یاد کرو جبکہ اس نے بنالیا تمھیں ایک دوسرے کا جانشین بعد عاد کے اور ٹھکانا دیا تمھیں زمین میں،بناتے ہوتم اس کی نرم(مٹی) سے محلات اور(بناتے ہوتم) تراش کر پہاڑوں کو گھر،پس یاد کرو تم نعمتیں اللہ کی اور مت پھرو زمین میں فسادی بن کر(74) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے واسطے ان لوگوں کے جو کمزور سمجھے جاتے تھے،جو ایمان لے آئے تھے ان میں سے،کیا تم جانتے ہو کہ صالح فرستادہ ہے اپنے رب کا؟ کہا انھوں نے یقینا ہم اس چیز پر کہ بھیجا گیا ہے وہ ساتھ اس کے،ایمان لاتے ہیں(75) کہا انھوں نے جنھوں نے تکبر کیا یقینا ہم ساتھ اس چیز کے کہ ایمان لائے ہوتم اس پر،کفر کرتے ہیں (76) پس کاٹ ڈالیں انھوں نے ٹانگیں اونٹنی کی اور سرکشی کی اپنے رب کے حکم سے،اور کہا اے صالح!لے آہم پروہ عذاب کہ ڈراتا ہے تو ہمیں(اس سے) اگر ہے تو بھیجے ہوئے(رسولوں) میں سے(77) تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے(78) پس پھرا وہ ان سے،اورکہا: اے میری قوم!بلاشبہ پہنچادیا تھا میں تمھیں پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی تھی میں نے تمھاری،اور لیکن نہیں پسند کرتے تم خیر خواہوں کو(79)
[73]﴿ وَاِلٰى ثَمُوۡدَ ﴾ ’’اور ثمود کی طرف‘‘ ثمود عرب بائدہ کا معروف قبیلہ ہے جو جزیرۃ العرب اور ارض حجاز میں حجر اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھا ﴿اَخَاهُمۡ صٰؔلِحًا ﴾ اللہ تعالیٰ نے صالحu کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا جو انھیں توحید اور ایمان کی دعوت دیتے تھے اور انھیں شرک اور اللہ تعالیٰ کے ہمسر گھڑنے سے روکتے تھے۔ ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ﴾ ’’انھوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ صالحu کی دعوت بھی وہی تھی جو ان کے بھائی دیگر انبیا و مرسلین کی دعوت تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا اور یہ واضح کر دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا کوئی الٰہ نہیں ﴿ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے۔‘‘ یعنی ایک خارق عادت دلیل تمھارے پاس آگئی ہے جو آسمانی معجزہ ہے اور انسان اس قسم کی نشانی پیش کرنے پر قادر نہیں ، پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿هٰؔذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمۡ اٰيَةً ﴾ ’’یہی اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے معجزہ ہے۔‘‘ یہ شرف و فضل کی حامل اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کی طرف اس کی اضافت اس کے شرف کی باعث ہے اور اس میں تمھارے لیے ایک عظیم نشانی ہے۔ صالحu نے اس اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجہ بیان فرمائی ﴿ لَّهَا شِرۡبٌ وَّلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٍ مَّعۡلُوۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍155) ’’ایک دن اس کے پانی پینے کی باری ہے اور ایک مقررہ دن تمھارے پانی پینے کی باری ہے۔‘‘ان کے ہاں ایک بہت بڑا کنواں تھا جو ’’اونٹنی والا کنواں ‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ اسی کنوئیں سے وہ اور اونٹنی اپنی اپنی باری کے مطابق پانی پیتے تھے۔ ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لیے مقرر تھا وہ اس اونٹنی کے تھنوں سے دودھ پیتے تھے۔ ایک دن لوگوں کے لیے مقرر تھا، اس دن وہ کنوئیں پر پانی لینے کی غرض سے آتے تو اونٹنی وہاں سے چلی جاتی۔ ان کے نبی صالحu نے ان سے کہا ﴿ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِيۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں ‘‘ تم پر اس اونٹنی کا کچھ بھی بوجھ اور ذمہ داری نہیں ﴿وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور نہ ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح‘‘ یعنی اس کی کونچیں وغیرہ کاٹنے کی نیت سے اسے مت چھونا۔ ﴿فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ورنہ تمھیں ایک دردناک عذاب آ لے گا۔‘‘
[74]﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَكُمۡ خُلَفَآءَ ﴾ ’’اور یاد کرو جب اس نے تمھیں جانشین بنایا۔‘‘ یعنی یاد کرو اس وقت کو، جب زمین میں تمھیں جانشین بنایا، تم اس زمین سے فائدہ اٹھاتے ہو اور اپنے مقاصد حاصل کرتے ہو:﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ عَادٍ ﴾ ’’عاد کے بعد‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا اور ان کے بعد تمھیں ان کاجانشین مقرر کیا۔ ﴿ وَّبَوَّاَ كُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تمھیں زمین پر آباد کیا۔‘‘ یعنی اس نے زمین میں تمھیں ٹھکانہ عطا کیا اور اس نے تمھیں وہ اسباب مہیا کیے جن کے ذریعے سے تم اپنے ارادوں اور مقاصد کو پورا کرتے ہو۔ ﴿ تَتَّؔخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا ﴾ ’’اور بناتے ہو تم نرم زمین میں محل‘‘ یعنی نرم اور ہموار زمین پر، جہاں پہاڑ نہیں ہوتے ۔۔۔ تم قصر تعمیر کرتے ہو ﴿ وَّتَنۡحِتُوۡنَ الۡؔجِبَالَ بُيُوۡتًا ﴾’’اور پہاڑوں کو تراش تراش کربناتے ہو گھر‘‘ جیسا کہ پہاڑوں میں ان کے آثار اور مساکن وغیرہ دیکھ کر اب تک مشاہدہ ہوا ہے اور جب تک یہ پہاڑ باقی ہیں یہ آثار بھی باقی رہیں گے۔﴿ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ اس نے تمھیں اپنے فضل و کرم، رزق اور قوت سے نوازا۔ ﴿ وَلَا تَعۡثَوۡا فِي الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔‘‘ یعنی فساد اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے ذریعے سے زمین کو مت اجاڑو کیونکہ گناہ آباد شہروں کو بیابان بنا دیتے ہیں ، چنانچہ ان کے شہر ان سے خالی ہوگئے اور ان کے مساکن بے آباد اجڑے ہوئے باقی رہ گئے۔
[75]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ اس کی قوم کے وہ رؤسا اور اشراف، جنھوں نے تکبر سے حق کو ٹھکرایا۔ انھوں نے کہا ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا﴾ ’’ان لوگوں سے جو کمزور تھے‘‘ چونکہ تمام مستضعفین مومن نہ تھے ﴿ لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰؔلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کہ جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح کو اس کے رب نے بھیجا ہے؟‘‘ یعنی انھوں نے ان مستضعفین سے کہا جو صالح پر ایمان لے آئے تھے کہ آیا صالح (u) سچا ہے یا جھوٹا؟ مستضعفین نے جواب دیا ﴿اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ہم کو تو جو وہ لے کر آیا، اس پر یقین ہے‘‘ یعنی توحید الٰہی، اس کے بارے میں خبر اور اللہ کے اوامر و نواہی۔ ان سب پر ہم ایمان رکھتے ہیں ۔
[76]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِيۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ان لوگوں نے کہا جنھوں نے تکبر کیا، جس پر تم کو یقین ہے، ہم اس کو نہیں مانتے‘‘ تکبر نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حق کی اطاعت نہ کریں جس کی اطاعت قوم صالح کے کمزور و ناتواں لوگ کر رہے ہیں ۔
[77]﴿فَعَقَرُوا النَّاقَةَ﴾ ’’پس انھوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر دیا‘‘ جس کے بارے میں جناب صالحu نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ لگایا تو ان پر دردناک عذاب نازل ہوگا ﴿ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ ﴾’’اور سرکشی کی انھوں نے اپنے رب کے حکم سے‘‘ یعنی انھوں نے سخت دلی کا مظاہرہ کیا اور اس کے حکم کو تکبر سے ٹھکرا دیا کہ جس کے خلاف اگر کوئی سرکشی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب کا مزا چکھاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ عذاب نازل کیا جو دوسروں پر نازل نہیں کیا۔﴿ وَقَالُوۡا﴾ ان افعال کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ انھوں نے جناب الٰہی میں جسارت کرتے ہوئے، اسے عاجز سمجھتے ہوئے اور اپنے کرتوتوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بلکہ ان پر فخر کرتے ہوئے کہا ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ ﴾ ’’اے صالح! لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا ہے‘‘ یعنی جس عذاب کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے ﴿ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡن ﴾ اگر تو رسول ہے۔ ﴿ فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ ﴾(ھود: 11؍65) ’’صالح نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ اٹھا لو یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔‘‘
[78]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ﴾ ’’پس آ پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے‘‘ وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے منہ پڑے رہ گئے۔ اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کی جڑ کاٹ دی۔
[79]﴿فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس صالح ان سے منہ پھیر کر چل دیے‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل فرمایا تو صالحu ان کو چھوڑ کر چل دیے ﴿ وَقَالَ ﴾ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ان کو ہلاک کر دینے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّيۡ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور تمھاری خیر خواہی کی۔‘‘ یعنی میں ان تمام احکامات کو تم تک پہنچا چکا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمھاری طرف مبعوث کیا تھا۔ میں تمھاری ہدایت کا بہت متمنی تھا اور میں نے تمھیں صراط مستقیم اور دین قیم پر گامزن کرنے کی بہت کوشش کی۔ ﴿وَلٰكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے‘‘ بلکہ تم نے خیر خواہوں کی بات کو ٹھکرا دیا اور ہر دھتکارے ہوئے شیطان کی اطاعت کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس قصہ کے ضمن میں بہت سے مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ صالحu کی اونٹنی ایک نہایت سخت اور چکنی چٹان سے اس وقت برآمد ہوئی تھی جب کفار نے صالح uسے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پتھر نے اونٹنی کو اسی طرح جنم دیا تھا جس طرح کوئی حاملہ اپنے بچے کو جنم دیتی ہے۔ ان کے دیکھتے دیکھتے یہ اونٹنی پتھر میں سے برآمد ہوئی۔ جب انھوں نے اونٹنی کو ہلاک کیا تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ یہ بچہ تین بار بلبلایا، اس کے سامنے پہاڑ پھٹ گیا اور اونٹنی کا یہ بچہ پہاڑ کے اس شگاف میں داخل ہوگیا۔ نیز ان مفسرین کے مطابق صالحu نے کفار سے فرمایا تھا کہ تم پر عذاب کے نازل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ان مذکورہ تین دنوں میں پہلے دن تمھارے چہرے زرد، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑ جائیں گے اور جیسے حضرت صالحu نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ان مفسرین کا بیان کردہ یہ قصہ اسرائیلیات میں شمار ہوتا ہے جن کو اللہ کی کتاب کی تفسیر میں نقل کرنا مناسب نہیں ۔ قرآن مجید میں بھی کوئی ایسی چیز وارد نہیں ہوئی جو کسی بھی پہلو سے اس کی صداقت پر دلالت کرتی ہو بلکہ اس کے برعکس اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور ذکر فرماتا کیونکہ یہ واقعہ بہت تعجب انگیز، عبرت انگیز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہوتا اللہ تعالیٰ کبھی اس کو مہمل نہ چھوڑتا اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا اور یوں یہ قصہ ناقابل اعتماد ذرائع سے نقل نہ ہوتا۔ بلکہ قرآن کریم اس قصہ کے بعض مشمولات کی تکذیب کرتا ہے۔ صالحu نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:﴿ تَمَتَّعُوۡا فِيۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ ﴾(ہود: ؍11۔65) ’’اپنے گھروں میں تین دن اور فائدہ حاصل کرلو۔‘‘ یعنی اس بہت ہی تھوڑے سے وقت میں نعمتوں اور لذتوں سے استفادہ کر لو کیونکہ اس کے بعد تمھارے حصے میں کوئی لذت نہ ہوگی اور ان لوگوں کے لیے کون سی لذت اور نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے، جن کو ان کے نبی نے عذاب کے وقوع کی وعید سنائی ہو اور اس عذاب کے مقدمات کا بھی ذکر کر دیا ہو اور یہ عذاب روز بروز بتدریج اسی طریقے سے واقع ہو رہا ہو، جو سب کو شامل ہو کیونکہ ان کے چہروں کا سرخ، زرد اور پھر سیاہ ہو جانا اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ کیا یہ قصہ قرآن کے بیان کردہ واقعات کے خلاف اور متضاد نہیں؟جو کچھ قرآن بیان کرتا ہے وہی کافی ہے اور وہی راہ ہدایت ہے۔ ہاں ! جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت ہو جائے اور وہ کتاب اللہ کے خلاف نہ ہو تو سر آنکھوں پر اور یہی وہ چیز ہے جس کی اتباع کا قرآن نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾(الحشر: 59؍7) ’’جو کچھ رسول تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ اسرائیلی روایات سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ، اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایسے امور کو، جن کا جھوٹ ہونا قطعی نہ ہو، بنی اسرائیل سے روایت کرنا جائز ہے۔ تب بھی ان کے ذریعے سے کتاب اللہ کی تفسیر کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ کتاب اللہ کے معانی یقینی ہیں اور ان اسرائیلیات کی تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تکذیب۔ پس دونوں میں اتفاق ناممکن ہے۔
7:80وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
7:81إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
7:82وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوهُم مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
7:83فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
7:84وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔
7:85وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ فَأَوۡفُواْ ٱلۡكَيۡلَ وَٱلۡمِيزَانَ وَلَا تَبۡخَسُواْ ٱلنَّاسَ أَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بَعۡدَ إِصۡلَٰحِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:86وَلَا تَقۡعُدُواْ بِكُلِّ صِرَٰطٖ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبۡغُونَهَا عِوَجٗاۚ وَٱذۡكُرُوٓاْ إِذۡ كُنتُمۡ قَلِيلٗا فَكَثَّرَكُمۡۖ وَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:87وَإِن كَانَ طَآئِفَةٞ مِّنكُمۡ ءَامَنُواْ بِٱلَّذِيٓ أُرۡسِلۡتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٞ لَّمۡ يُؤۡمِنُواْ فَٱصۡبِرُواْ حَتَّىٰ يَحۡكُمَ ٱللَّهُ بَيۡنَنَاۚ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:88۞قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لَنُخۡرِجَنَّكَ يَٰشُعَيۡبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَكَ مِن قَرۡيَتِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۚ قَالَ أَوَلَوۡ كُنَّا كَٰرِهِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:89قَدِ ٱفۡتَرَيۡنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنۡ عُدۡنَا فِي مِلَّتِكُم بَعۡدَ إِذۡ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنۡهَاۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَاۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًاۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡنَاۚ رَبَّنَا ٱفۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِٱلۡحَقِّ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡفَٰتِحِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:90وَقَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا إِنَّكُمۡ إِذٗا لَّخَٰسِرُونَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:91فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:92ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيۡبٗا كَأَن لَّمۡ يَغۡنَوۡاْ فِيهَاۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيۡبٗا كَانُواْ هُمُ ٱلۡخَٰسِرِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:93فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡۖ فَكَيۡفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوۡمٖ كَٰفِرِينَ
اور(بھیجاہم نے) طرف مدین کی ان کے بھائی شعیب کو اس نے کہا،اے میری قوم!عبادت کرو تم اللہ کی،نہیں ہے تمھارے لیے کوئی معبود سوائے اس کے تحقیق آگئی تمھارے پاس واضح دلیل تمھارے رب کی طرف سے،پس پورا کرو تم ماپ اور تول کواور مت کم کر کے دو لوگوں کو ان کی چیزیں،اور مت فساد کرو تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگرہو تم مومن(85) اور مت بیٹھو تم ہر ایک راستے پر،ڈراتے ہو تم اور روکتے ہواللہ کے راستے سے اس شخص کو جو ایمان لائے ساتھ اس کے،اور تلاش کرتے ہوتم اس(راہ)میں کجی اور یاد کرو جبکہ تھے تم تھوڑے پس اس نے زیادہ کیا تمھیں۔ اور دیکھو!کیسا ہوا تھا انجام فسادیوں کا(86) اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے جو ایمان لایا اس پر کہ بھیجا گیاہوں میں ساتھ اس کے،اور ایک گروہ ہے کہ نہیں ایمان لایا وہ، پس صبر کرو تم،یہاں تک کہ فیصلہ کرے اللہ ہمارے درمیان،اور وہ سب سے بہتر فیصلے کرنے والا ہے(87) کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے تکبر کیا اس کی قوم میں سے، ہم ضرو ر نکال دیں گے تجھے اے شعیب! اوران لوگوں کو بھی جو ایمان لائے تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا لوٹ آؤ گے تم ہمارے دین میں۔(شعیب نے ) کہا، کیا اگرچہ ہوں ہم کراہت کرنے والے بھی(88)تحقیق (پھر تو ) باندھا ہم نے اللہ پر جھوٹ! اگر لوٹ آئیں ہم تمھارے دین میں بعد اس کے کہ نجات دی ہمیں اللہ نے اس سے اور نہیں ہے لائق ہمارے لیے کہ لوٹ آئیں ہم اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ، ہمارا رب، گھیر لیا ہے ہمارے رب نے ہر چیز کو (اپنے) علم سے، اوپر اللہ ہی کے بھروسہ کیا ہم نے، اے ہمارے رب! تو فیصلہ فرما ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ساتھ حق کےاور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (89) اور کہا ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے کہ اگر اتباع کیا تم نے شعیب کا تو یقینا تم اس وقت ، البتہ خسارہ اٹھانے والے ہو گے(90)پس پکڑ لیا انھیں زلزلے نے تو ہوگئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے ہوئے(91)وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو،(یوں ہوگئے) گویا کہ وہ کبھی نہیں بسے تھے ان میں وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا شعیب کو، تھے وہی خسارہ پانے والے(92) پھر منہ پھیرا(شعیب نے) ان سے اور کہا، اے میری قوم! البتہ تحقیق پہنچا دیے میں نے تمھیں پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی میں نے تمھاری، پس کیوں غم کھاؤں میں اوپر کافروں کے؟(93)
[85]﴿وَاِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’مدین کی طرف‘‘ یعنی ایک معروف قبیلہ کی طرف ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘ مبعوث کیا جو نسب میں ان کے بھائی تھے۔ جو انھیں اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے اور ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ وہ ان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو کم چیزیں نہ دیں اور کثرت معاصی کے ارتکاب سے زمین میں فساد نہ پھیلائیں ۔ ﴿ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور زمین میں خرابی مت ڈالو اس کی اصلاح کے بعد، یہ بہتر ہے تمھارے لیے اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اس کے تقرب کی خاطر گناہوں کو ترک کرنا، بندے کے لیے ان گناہوں کے ارتکاب سے۔۔۔ جو اللہ جبار کی ناراضی اور جہنم کے عذاب کا باعث ہے۔۔۔۔ بہتر اور فائدہ مند ہے۔
[86]﴿وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ ﴾ ’’اور ہر راستے پر نہ بیٹھا کرو۔‘‘ یعنی لوگوں کے لیے راستوں پر گھات لگا کر نہ بیٹھو جہاں کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور تم ان راستوں سے لوگوں کو ڈراتے ہو۔ ﴿ تُوۡعِدُوۡنَ ﴾ ’’ڈراتے ہو۔‘‘ اور ان پر چلنے سے ان کو دھمکاتے ہو۔ ﴿وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی راہ راست پر چلنا چاہتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہو۔ ﴿وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ کے راستے میں کجی چاہتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی میں اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہو۔تم پر اور دوسرے لوگوں پر واجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے راستے کی تعظیم اور احترام کرو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ اس کی رضا کی منزل اور عزت والے گھر تک پہنچنے کے لیے اس پر گامزن ہوں اور اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اپنے بندوں کو اپنی عظیم رحمت سے نوازے۔ تمھیں تو چاہیے کہ تم اس کی مدد کرو، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دو اور اس کا دفاع کرو۔ نہ اس کے برعکس کہ تم اس راستے کے راہزن بن کر اس کو مسدود کر دو اور لوگوں کو اس راستے سے روکو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی، اللہ تعالیٰ کے ساتھ عداوت اور سب سے درست اور معتدل راستے کو ٹیڑھا کرنا ہے اور تم ان لوگوں کو برا بھلا کہتے ہو جو اس راستے پر گامزن ہیں ۔ ﴿ وَاذۡكُرُوۡۤا﴾ اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو ﴿ اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَؔكُمۡ ﴾ ’’جبکہ تم تھوڑے تھے، پس اس نے تم کو زیادہ کر دیا‘‘ یعنی تمھیں بیویاں ، نسل اور صحت عطا کر کے تمھاری تعداد کو بڑھایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں کسی وبا اور کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا جو تعداد کو کم کر دیتی ہے نہ تم پر کوئی ایسا دشمن مسلط کیا جو تمھیں ہلاک کر دیتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں تتر بتر کیا....بلکہ یہ اللہ کا تم پر انعام ہے کہ اس نے تمھیں مجتمع رکھا، تمھیں بے حساب رزق اور کثرت نسل سے نوازا۔ ﴿وَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا‘‘ کیونکہ تم ان کی جمعیت میں تشتت اور افتراق اور ان کے گھروں میں وحشت اور ہلاکت کے مناظر کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے۔ انھوں نے اپنے بارے میں اپنے پیچھے کوئی اچھے تذکرے نہیں چھوڑے بلکہ اس کے برعکس اس دنیا میں بھی لعنت ان کا پیچھا کر رہی ہے اور قیامت کے روز بھی ان کو رسوائی اور فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔
[87]﴿وَاِنۡ كَانَ طَآىِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِيۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآىِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم میں سے ایک فرقہ ایمان لایا اس پر جو میرے ہاتھ بھیجا گیا اور ایک فرقہ ایمان نہیں لایا‘‘ اور ایمان نہ لانے والا گروہ ان میں سے اکثریت کا گروہ ہے ﴿ فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا١ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ہمارے درمیان اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ پس وہ حق کو ماننے والے کی مدد کرے گا اور حق کا ابطال کرنے والے پر عذاب واقع کرے گا۔
[88]﴿قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’کہا ان سرداروں نے جو متکبر تھے اس کی قوم میں سے‘‘ اس سے مراد ان کے اشراف اور بڑے آدمی ہیں جنھوں نے اپنی لذات میں مستغرق ہو کر اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی، جب ان کے پاس حق آیا اور انھوں نے دیکھ لیا کہ حق ان کی خواہشات نفس کے خلاف ہے تو انھوں نے نہایت تکبر سے حق کو ٹھکرا دیا اور اپنے نبی شعیبu اور ان مستضعفین سے کہنے لگے جو حضرت شعیبu کے ساتھ تھے۔ ﴿لَنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا ﴾’’ہم ضرور نکال دیں گے اے شعیب تجھ کو اور ان کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے اپنے شہر سے یا یہ کہ تم لوٹ آؤ اپنے دین میں ‘‘ انھوں نے حق کے خلاف بہیمانہ قوت استعمال کی اور انھوں نے کسی اصول، کسی ذمہ اور کسی حق کی پاسداری نہ کی۔ انھوں نے تو صرف اپنی خواہشات نفس کی رعایت اور ان کی پیروی کی اور اپنی ناقص عقل کے پیچھے لگے جو ان کے قول فاسد پر دلالت کرتی ہے۔ پس جناب شعیب سے کہنے لگے ’’یا تو تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہمارے دین میں واپس لوٹنا ہوگا یا ہم تجھے اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔‘‘جناب شعیبu ان کے ایمان لانے کی امید میں ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے مگر وہ اب تک ایمان نہ لائے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انھوں نے آنجنابu کو دھمکی دی کہ اگر وہ ان کی پیروی نہیں کریں گے تو وہ ان کو ان کے اس وطن سے جلا وطن کر دیں گے جس میں رہنے کے جناب شعیب اور ان کے اصحاب زیادہ مستحق ہیں ۔﴿ قَالَ ﴾ شعیبu نے ان کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَوۡؔ كُنَّا كٰرِهِيۡنَ ﴾ ’’خواہ ہم (تمھارے دین سے) بیزار ہی ہوں ۔‘‘ یعنی کیا ہم ناپسند کرتے ہوئے بھی تمھارے باطل دین اور ملت کی اتباع کریں ؟ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمھارا دین باطل ہے۔ اس دین کی طرف تو صرف اسی کو دعوت دی جاتی ہے جو اس میں کوئی رغبت رکھتا ہو اور وہ شخص جو علی الاعلان لوگوں کو اس دین کی پیروی سے روکتا ہے اور جو کوئی اس دین کی اتباع کرتا ہے اس کو برا کہتا ہے تو وہ کیوں کر اس دین کی دعوت دے سکتا ہے؟
[89]﴿قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِيۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰؔىنَا اللّٰهُ مِنۡهَا﴾ ’’اگر ہم اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے، تمھارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھ دیا۔‘‘ یعنی تم گواہ رہو کہ اگر ہم تمھاری ملت اور دین میں واپس لوٹ آئے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے اور اس کے شر سے ہمیں بچا لیا ہے... تو ہم جھوٹے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرنے والے ہیں ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی افتراء پرداز نہیں جو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے حالانکہ وہ ایک، یکتا اور بے نیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ اقتدار میں کوئی شریک۔ ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ ﴾’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی ہم جیسے لوگوں کے لیے ممکن نہیں کہ ہم اس دین میں پھر لوٹ آئیں کیونکہ یہ بالکل محال ہے۔ جناب شعیبu نے متعدد وجوہ سے کفار کو اس بات سے مایوس کر دیا کہ وہ ان کی موافقت کریں گے۔(۱)حضرت شعیبu اور ان کے اصحاب ان کے دین کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے سخت بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کا دین شرک پر مبنی تھا۔(۲)جناب شعیب نے ان کے دین کو جھوٹ قرار دیا تھا اور ان کو اس بات پر گواہ بنایا تھا کہ اگر انھوں نے اور ان کے اصحاب نے کفار کے دین کی اتباع کی تو وہ جھوٹے ہیں ۔(۳)انھوں نے علی الاعلان اعتراف کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار کے دین سے بچا کر ان پر احسان کیا ہے۔(۴) ان کی استقامت پر مبنی حالت پر غور کریں ، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی جو تعظیم، اس کی عبودیت کا جو اعتراف، نیز اس بات کا اعتراف کہ وہی الٰہ واحد ہے صرف وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا اعلان کہ مشرکین کے گھڑے ہوئے معبود سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑا فریب ہیں ..... ان امور کو دیکھتے ہوئے یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان کو ہدایت سے نوازنے کے بعد وہ ان کے دین میں واپس لوٹیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عقل سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کو پہچانتے ہیں ۔اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تمام مخلوقات میں نافذ اس کے ارادے میں غور کیا جائے، جس سے باہر نکلنا کسی کے لیے ممکن نہیں خواہ پے درپے اسباب مہیا ہوں اور قوتیں باہم موافق ہوں ..... تو وہ اپنے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ وہ عنقریب فلاں فعل سر انجام دیں گے یا اس کو چھوڑ دیں گے۔ بنابریں شعیبu نے استثناء کا اسلوب استعمال کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَمَا يَكُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ﴾ ’’اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ، ہاں اللہ جو ہمارا رب ہے وہ چاہے تو۔‘‘ یعنی ہمارے لیے یا کسی اور کیلیے اللہ تعالیٰ کی مشیت سے، جو اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے، باہر نکلنا ممکن نہیں ۔ ﴿ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا﴾ ’’گھیرے ہوئے ہے ہمارا پروردگار سب چیزوں کو اپنے علم میں ‘‘ پس وہ جانتا ہے کہ بندوں کے لیے کیا درست ہے اور کس چیز کے ذریعے سے وہ بندوں کی تدبیر کرے ﴿ عَلَى اللّٰهِ تَوَؔكَّلۡنَا﴾’’ہمارا اللہ ہی پر بھروسا ہے۔‘‘ یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ پر اعتماد ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور جہنم کے تمام راستوں سے ہمیں بچائے گا۔ کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور وہ اس کے دین اور دنیا کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے۔﴿ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اے ہمارے رب فیصلہ کر ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ‘‘ یعنی ظالم اور حق کے خلاف عناد رکھنے والے کے مقابلے میں مظلوم اور صاحب حق کی مدد فرما۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ﴾’’اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی دو اقسام ہیں :(۱)اللہ تعالیٰ باطل میں سے حق کو، گمراہی میں سے ہدایت کو بیان کر کے نیز یہ واضح کر کے کہ کون صراط مستقیم پر گامزن ہے اور کون اس سے منحرف ہے .... فیصلہ کرتا ہے یہ اس کا علمی فیصلہ ہے۔(۲) ظالموں کو سزا دینے اور صالحین کو نجات اور اکرام عطا کرنے کے لیے جو فیصلہ کرتا ہے وہ اس کا جزائی فیصلہ ہے۔ پس اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حق اور انصاف کے ساتھ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ انھیں ایسی آیات و علامات دکھا دے جو فریقین کے مابین فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں ۔
[90]﴿وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی ان کی قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب کی اتباع سے ڈراتے ہوئے کہا ﴿ لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔‘‘ ان کے نفس نے ان کے لیے مزین کر دیا تھا کہ رشد و ہدایت کی اتباع سراسر خسارہ اور شقاوت ہے انھیں یہ معلوم نہیں کہ خسارہ تو تمام تر خود گمراہی میں پڑے رہنے اور دوسروں کو گمراہ کرنے میں ہے اور جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو اس وقت انھیں یہ حقیقت معلوم ہوئی۔
[91]﴿فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’پس ایک شدید زلزلے نے ان کو آ لیا۔‘‘ ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘ یعنی وہ خشک کٹے ہوئے درخت کی مانند پچھاڑے ہوئے مردہ پڑے تھے۔
[92] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت کی اطلاع دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، گویا کبھی وہ وہاں بسے ہی نہ تھے‘‘ یعنی گویا کہ وہ گھروں میں رہتے ہی نہ تھے اور گویا کہ انھوں نے گھروں کے صحنوں سے کبھی استفادہ کیا تھا نہ ان کی چھاؤں میں کبھی وقت گزارا تھا۔ اور وہ اس دیار کے دریاؤں کے کنارے چراگاہوں میں رہے تھے نہ انھوں نے اس کے درختوں کے پھل کھائے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا اور ان کو لہو و لعب اور لذات کی دنیا سے نکال کر حزن و غم، عقوبت اور ہلاکت کے گڑھوں میں منتقل کر دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا، وہی ہوئے خسارہ اٹھانے والے‘‘ یعنی وہ پوری طرح خسارے میں گھرے ہوئے ہیں کیونکہ قیامت کے روز وہ خود اور ان کے گھر والے سخت خسارے میں ہوں گے اور یہی واضح خسارہ ہے نہ کہ وہ جن کو انھوں نے کہا تھا۔ ﴿لَىِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّـكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بے شک تم خسارے میں پڑ گئے۔‘‘
[93] پس جب وہ ہلاک ہوگئے تو ان کا نبی (u) ان سے منہ پھیر کر چل دیا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ اور ان کی موت کے بعد ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہوا ﴿ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰؔلٰتِ رَبِّيۡ﴾ ’’اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے۔‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور اسے کھول کھول کر بیان کر دیا حتیٰ کہ یہ پیغام تمھیں پوری طرح پہنچ گیا اور تمھارے دلوں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا۔ ﴿ وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے تمھاری خیر خواہی کی‘‘ مگر تم نے میری خیر خواہی کو قبول کیا، نہ تم نے میری بات مانی بلکہ اس کے برعکس تم نے نافرمانی کی اور سرکشی اختیار کی۔ ﴿ فَكَـيۡفَ اٰسٰى عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ﴾ ’’تو میں کافروں پر رنج و غم کیوں کروں ۔‘‘ یعنی میں ایسے لوگوں کے انجام پر کیوں کر غمزدہ ہو سکتا ہوں جن میں کوئی بھلائی نہ تھی، بھلائی ان کے پاس آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا، اسے قبول نہ کیا، یہ لوگ شر کے سوا کسی چیز کے لائق نہ تھے۔ پس یہ اس چیز کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی ہلاکت پر افسوس کیا جائے بلکہ ان کی ہلاکت اور استیصال پر تو خوش ہونا چاہیے۔اے اللہ! فضیحت اور رسوائی سے تیری پناہ! اس سے بڑھ کر کون سی بدبختی اور سزا ہو سکتی ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ جائیں کہ مخلوق میں سب سے زیادہ خیر خواہ ہستی بھی ان سے براء ت کا اظہار کرے۔
7:94وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّآ أَخَذۡنَآ أَهۡلَهَا بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر پکڑا ہم نے اس کے رہنے والوں کو ساتھ سختی اور تکلیف کے تاکہ وہ گڑگڑائیں(94) پھر بدل کردے دی ہم نے (ان کو) برائی کی جگہ اچھائی، یہاں تک کہ جب زیادہ ہوگئے وہ اور کہا پہنچی تھی ہمارے آباؤ اجداد کو بھی سختی اور راحت تو پکڑ لیا ہم نے انھیں یکایک اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے(95)
[94]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِيٍّ ﴾ ’’اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی‘‘ جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں ، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے ﴿ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ ﴿ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ ’’سختی اور تکلیف میں ‘‘ یعنی محتاجی، مرض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی جب ان پر مصیبت نازل ہو تو شاید ان کے نفس جھک جائیں ۔ ﴿ يَضَّرَّعُوۡنَ ﴾ ’’عاجزی اور زاری کریں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑگڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ۔
[95]﴿ثُمَّ ﴾ پھر جب ان کو ابتلا نے کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ اپنے تکبر پر جمے رہے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ بَدَّلۡنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الۡحَسَنَةَ ﴾ ’’بدل دی ہم نے برائی کی جگہ بھلائی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں اضافہ کر دیا، ان کو جسمانی عافیت دی اور ان سے آزمائش اور تکالیف کو دور کر دیا۔ ﴿حَتّٰى عَفَوۡا ﴾’’حتی کہ ان کی تعداد زیادہ ہوگئی‘‘ ان کے رزق میں اضافہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم میں مزے اڑانے لگے اور وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان پر کیا مصیبتیں نازل ہوئی تھیں ۔﴿ وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّؔآءُ ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، کہ پہنچتی رہی ہے ہمارے باپ دادا کو بھی مصیبت اور خوشی‘‘ یعنی رنج و راحت کا آنا تو ایک عادت جاریہ ہے، اولین و آخریں تمام لوگوں پر رنج و راحت کے حالات آتے رہتے ہیں ۔ کبھی وہ راحت میں ہوتے ہیں اور کبھی رنج و غم سے دوچار ہوتے ہیں ، انقلابات زمانہ اور گردش ایام کے ساتھ ساتھ کبھی وہ خوش ہوتے ہیں اور کبھی غم زدہ۔ وہ ان مصائب اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت اور تنبیہ سمجھتے ہیں نہ استدراج اور نکیر۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا اسی میں شاداں و فرحاں رہے اور دنیا ان کے لیے سب سے زیادہ خوش کن چیز تھی۔ ﴿فَاَخَذۡنٰهُمۡ ﴾ ’’کہ ہم نے (عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑ لیا۔‘‘ ﴿ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اچانک اور ان کو خبر نہ تھی‘‘ یعنی ہلاکت ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ عطا کیا ہے وہ اسے حاصل کرنے پر قادر تھے اور یہ سب کچھ ان سے زائل ہوگا نہ ان سے واپس لیا جائے گا۔
7:95ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلۡحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَواْ وَّقَالُواْ قَدۡ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر پکڑا ہم نے اس کے رہنے والوں کو ساتھ سختی اور تکلیف کے تاکہ وہ گڑگڑائیں(94) پھر بدل کردے دی ہم نے (ان کو) برائی کی جگہ اچھائی، یہاں تک کہ جب زیادہ ہوگئے وہ اور کہا پہنچی تھی ہمارے آباؤ اجداد کو بھی سختی اور راحت تو پکڑ لیا ہم نے انھیں یکایک اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے(95)
[94]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِيۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِيٍّ ﴾ ’’اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی‘‘ جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتا اور جن برائیوں میں وہ مبتلا ہیں ، ان برائیوں سے وہ ان کو روکتا۔ مگر وہ اس کی اطاعت نہ کرتے ﴿ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’مگر ہم مواخذہ کرتے وہاں کے لوگوں کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا۔ ﴿ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ ’’سختی اور تکلیف میں ‘‘ یعنی محتاجی، مرض اور دیگر مصائب کے ذریعے سے۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی جب ان پر مصیبت نازل ہو تو شاید ان کے نفس جھک جائیں ۔ ﴿ يَضَّرَّعُوۡنَ ﴾ ’’عاجزی اور زاری کریں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے گڑگڑائیں اور حق کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ۔
[95]﴿ثُمَّ ﴾ پھر جب ان کو ابتلا نے کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ اپنے تکبر پر جمے رہے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے گئے ﴿ بَدَّلۡنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الۡحَسَنَةَ ﴾ ’’بدل دی ہم نے برائی کی جگہ بھلائی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے رزق میں اضافہ کر دیا، ان کو جسمانی عافیت دی اور ان سے آزمائش اور تکالیف کو دور کر دیا۔ ﴿حَتّٰى عَفَوۡا ﴾’’حتی کہ ان کی تعداد زیادہ ہوگئی‘‘ ان کے رزق میں اضافہ ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و کرم میں مزے اڑانے لگے اور وہ اس بات کو بھول گئے کہ ان پر کیا مصیبتیں نازل ہوئی تھیں ۔﴿ وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّؔآءُ ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، کہ پہنچتی رہی ہے ہمارے باپ دادا کو بھی مصیبت اور خوشی‘‘ یعنی رنج و راحت کا آنا تو ایک عادت جاریہ ہے، اولین و آخریں تمام لوگوں پر رنج و راحت کے حالات آتے رہتے ہیں ۔ کبھی وہ راحت میں ہوتے ہیں اور کبھی رنج و غم سے دوچار ہوتے ہیں ، انقلابات زمانہ اور گردش ایام کے ساتھ ساتھ کبھی وہ خوش ہوتے ہیں اور کبھی غم زدہ۔ وہ ان مصائب اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت اور تنبیہ سمجھتے ہیں نہ استدراج اور نکیر۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا اسی میں شاداں و فرحاں رہے اور دنیا ان کے لیے سب سے زیادہ خوش کن چیز تھی۔ ﴿فَاَخَذۡنٰهُمۡ ﴾ ’’کہ ہم نے (عذاب کے ذریعے سے) ان کو پکڑ لیا۔‘‘ ﴿ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اچانک اور ان کو خبر نہ تھی‘‘ یعنی ہلاکت ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو کچھ عطا کیا ہے وہ اسے حاصل کرنے پر قادر تھے اور یہ سب کچھ ان سے زائل ہوگا نہ ان سے واپس لیا جائے گا۔
7:96وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذۡنَٰهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
اور اگر بے شک بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو کھول دیتے ہم ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(96) کیا پس بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب رات کواور وہ سوئے ہوئے ہوں؟(97)اور کیا بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب دن چڑھے اور وہ کھیل رہے ہوں؟(98) کیا پس بے خوف ہوگئے وہ اللہ کی تدبیر سے، پس نہیں بے خوف ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر خسارہ پانے والے لوگ ہیں(99)
[96] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔‘‘ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘
[97]﴿اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى ﴾ ’’کیا بستیوں والے (جنھوں نے انبیاء کی تکذیب کی)، اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں ؟‘‘ ﴿ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ﴾ ’’اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿ بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’راتوں رات، جبکہ وہ سوئے ہوئے ہوں ‘‘ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں ۔
[98]﴿اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ ’’کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جبکہ وہ کھیلتے ہوں ‘‘ یعنی کون سی چیز انھیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انھوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کر لیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں ؟
[99]﴿ اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں اللہ کے داؤ سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جزا و سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات سے بہت خوف دلایا گیا ہے کہ بندے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہو جائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایۂ ایمان سلب ہو جائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عِلٰی دِیْنِکَ )(جامع الترمذي، کتاب الدعوات، باب دعاء: یا مقلب القلوب...، حدیث: 3522) ’’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔‘‘اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لیے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے کیونکہ بندہ.... خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو.... اس کی سلامتی یقینی نہیں ۔
7:97أَفَأَمِنَ أَهۡلُ ٱلۡقُرَىٰٓ أَن يَأۡتِيَهُم بَأۡسُنَا بَيَٰتٗا وَهُمۡ نَآئِمُونَ
اور اگر بے شک بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو کھول دیتے ہم ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(96) کیا پس بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب رات کواور وہ سوئے ہوئے ہوں؟(97)اور کیا بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب دن چڑھے اور وہ کھیل رہے ہوں؟(98) کیا پس بے خوف ہوگئے وہ اللہ کی تدبیر سے، پس نہیں بے خوف ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر خسارہ پانے والے لوگ ہیں(99)
[96] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔‘‘ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘
[97]﴿اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى ﴾ ’’کیا بستیوں والے (جنھوں نے انبیاء کی تکذیب کی)، اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں ؟‘‘ ﴿ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ﴾ ’’اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿ بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’راتوں رات، جبکہ وہ سوئے ہوئے ہوں ‘‘ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں ۔
[98]﴿اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ ’’کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جبکہ وہ کھیلتے ہوں ‘‘ یعنی کون سی چیز انھیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انھوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کر لیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں ؟
[99]﴿ اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں اللہ کے داؤ سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جزا و سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات سے بہت خوف دلایا گیا ہے کہ بندے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہو جائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایۂ ایمان سلب ہو جائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عِلٰی دِیْنِکَ )(جامع الترمذي، کتاب الدعوات، باب دعاء: یا مقلب القلوب...، حدیث: 3522) ’’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔‘‘اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لیے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے کیونکہ بندہ.... خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو.... اس کی سلامتی یقینی نہیں ۔
7:98أَوَأَمِنَ أَهۡلُ ٱلۡقُرَىٰٓ أَن يَأۡتِيَهُم بَأۡسُنَا ضُحٗى وَهُمۡ يَلۡعَبُونَ
اور اگر بے شک بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو کھول دیتے ہم ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(96) کیا پس بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب رات کواور وہ سوئے ہوئے ہوں؟(97)اور کیا بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب دن چڑھے اور وہ کھیل رہے ہوں؟(98) کیا پس بے خوف ہوگئے وہ اللہ کی تدبیر سے، پس نہیں بے خوف ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر خسارہ پانے والے لوگ ہیں(99)
[96] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔‘‘ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘
[97]﴿اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى ﴾ ’’کیا بستیوں والے (جنھوں نے انبیاء کی تکذیب کی)، اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں ؟‘‘ ﴿ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ﴾ ’’اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿ بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’راتوں رات، جبکہ وہ سوئے ہوئے ہوں ‘‘ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں ۔
[98]﴿اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ ’’کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جبکہ وہ کھیلتے ہوں ‘‘ یعنی کون سی چیز انھیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انھوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کر لیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں ؟
[99]﴿ اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں اللہ کے داؤ سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جزا و سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات سے بہت خوف دلایا گیا ہے کہ بندے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہو جائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایۂ ایمان سلب ہو جائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عِلٰی دِیْنِکَ )(جامع الترمذي، کتاب الدعوات، باب دعاء: یا مقلب القلوب...، حدیث: 3522) ’’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔‘‘اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لیے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے کیونکہ بندہ.... خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو.... اس کی سلامتی یقینی نہیں ۔
7:99أَفَأَمِنُواْ مَكۡرَ ٱللَّهِۚ فَلَا يَأۡمَنُ مَكۡرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
اور اگر بے شک بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو کھول دیتے ہم ان پر برکتیں آسمان اور زمین کی لیکن انھوں نے جھٹلایا تو پکڑ لیا ہم نے انھیں بوجہ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(96) کیا پس بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب رات کواور وہ سوئے ہوئے ہوں؟(97)اور کیا بے خوف ہوگئے بستیوں والے اس سے کہ آجائے ان کے پاس ہمارا عذاب دن چڑھے اور وہ کھیل رہے ہوں؟(98) کیا پس بے خوف ہوگئے وہ اللہ کی تدبیر سے، پس نہیں بے خوف ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر خسارہ پانے والے لوگ ہیں(99)
[96] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کے لیے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکر و استدراج کے طور پر انھیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لیے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دارومدار ہے اور انھیں بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی محنت اور مشقت کے وافر رزق عطا کرتا مگر وہ ایمان لائے نہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کی بداعمالیوں کے سبب سے ان کو عذاب اور مصائب میں مبتلا کر دیا۔‘‘ان سے برکات چھین لیں اور کثرت کے ساتھ ان پر آفتیں نازل کیں ۔ یہ ان کے اعمال کی سزا کا کچھ حصہ ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے برے اعمال کی پوری سزا دنیا ہی میں دے دے تو روئے زمین پر کوئی جاں دار نہ بچے گا۔ ﴿ ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِي النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾(الروم:30؍41) ’’بحر و بر میں لوگوں کی بداعمالیوں کے سبب سے فساد پھیل گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘
[97]﴿اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى ﴾ ’’کیا بستیوں والے (جنھوں نے انبیاء کی تکذیب کی)، اپنے آپ کو مامون سمجھتے ہیں ؟‘‘ ﴿ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ﴾ ’’اس بات سے کہ آئے ان کے پاس ہمارا عذاب‘‘ یعنی ہمارا سخت عذاب ﴿ بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’راتوں رات، جبکہ وہ سوئے ہوئے ہوں ‘‘ یعنی ان کے آرام کی گھڑیوں میں اور ان کی غفلت کے اوقات میں ۔
[98]﴿اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰۤى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ﴾ ’’کیا بے خوف ہیں بستیوں والے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے، جبکہ وہ کھیلتے ہوں ‘‘ یعنی کون سی چیز انھیں محفوظ و مامون رکھ سکتی ہے حالانکہ انھوں نے عذاب الٰہی کے تمام اسباب کو اکٹھا کر لیا ہے اور بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا جن میں سے بعض جرائم ہلاکت کے موجب ہیں ؟
[99]﴿ اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا وہ بے خوف ہو گئے ہیں اللہ کے داؤ سے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دے کر فریب میں مبتلا کر رہا ہے جسے وہ نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چال بہت سخت ہے۔ ﴿فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’پس اللہ کے داؤ سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ سمجھتا ہے وہ اعمال کی جزا و سزا کی تصدیق کرتا ہے، نہ وہ انبیاء و مرسلین پر حقیقی ایمان رکھتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات سے بہت خوف دلایا گیا ہے کہ بندے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ جتنا کچھ ایمان رکھتا ہے اس کے ضیاع سے بے خوف ہو جائے، وہ ہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اسے ایسی آزمائش سے دوچار نہ کر دے کہ جس سے اس کا سرمایۂ ایمان سلب ہو جائے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا رہے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عِلٰی دِیْنِکَ )(جامع الترمذي، کتاب الدعوات، باب دعاء: یا مقلب القلوب...، حدیث: 3522) ’’اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔‘‘اور فتنوں کے وقوع کے وقت وہ ہر اس سبب کے حصول کے لیے کوشاں رہے جو اس کو شر سے نجات دے کیونکہ بندہ.... خواہ اس کا حال کیسا ہی کیوں نہ ہو.... اس کی سلامتی یقینی نہیں ۔
7:100أَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِ أَهۡلِهَآ أَن لَّوۡ نَشَآءُ أَصَبۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡۚ وَنَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ
کیا نہیں واضح ہوئی، ان لوگوں کے لیے جو وارث بنے زمین کے بعد (ہلاک ہونے) اس کے رہنے والوں کے، یہ بات کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں ان کو بوجہ ان کے گناہوں کےاور مہر لگا دیں اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ(کچھ) نہ سنیں(100)یہ بستیاں ہیں، بیان کرتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں ان کی اور البتہ تحقیق آئے ان کے پاس رسول ان کے، ساتھ واضح دلیلوں کے، پس نہ ہوئے وہ (اس لائق) کہ ایمان لاتے، اس پر جسے جھٹلا چکے تھے وہ پہلے، اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ دلوں پر کفر کرنے والوں کے(101) اورنہیں پایا ہم نے ان کے اکثر کے لیے کوئی عہد(کا پاس) اور بلاشبہ پایا ہم نے ان کے اکثر کو نافرمان ہی(102)
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ۔‘‘ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، زمین میں وارث بنی ہیں ؟ پھر انھوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کر دیا۔ کیا انھیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ ﴿وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں ، پس وہ نہ سنیں ‘‘، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں ، انھیں نصیحت کرے مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے مگر وہ راہ نمائی حاصل نہ کریں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہو جاتے ہیں ... ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہو سکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انھیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔
[101]﴿تِلۡكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’وہ بستیاں ‘‘ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآىِٕهَا﴾ ’’ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں ‘‘ جس سے عبرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لیے نصیحت ہے ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾’’اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کر دینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو تقویت بخشی۔ مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا، نہ ان کے کسی کام آئی۔﴿ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے‘‘ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کر دینے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔‘‘﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔
[102]﴿وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ﴾ ’’ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اکثر ان میں پائے نافرمان‘‘ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بے راہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لیے پہلے ہی سعادت لکھ دی گئی تھی۔ اور رہے اکثر لوگ تو انھوں نے ہدایت سے رو گردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔
7:101تِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآئِهَاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ مِن قَبۡلُۚ كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
کیا نہیں واضح ہوئی، ان لوگوں کے لیے جو وارث بنے زمین کے بعد (ہلاک ہونے) اس کے رہنے والوں کے، یہ بات کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں ان کو بوجہ ان کے گناہوں کےاور مہر لگا دیں اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ(کچھ) نہ سنیں(100)یہ بستیاں ہیں، بیان کرتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں ان کی اور البتہ تحقیق آئے ان کے پاس رسول ان کے، ساتھ واضح دلیلوں کے، پس نہ ہوئے وہ (اس لائق) کہ ایمان لاتے، اس پر جسے جھٹلا چکے تھے وہ پہلے، اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ دلوں پر کفر کرنے والوں کے(101) اورنہیں پایا ہم نے ان کے اکثر کے لیے کوئی عہد(کا پاس) اور بلاشبہ پایا ہم نے ان کے اکثر کو نافرمان ہی(102)
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ۔‘‘ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، زمین میں وارث بنی ہیں ؟ پھر انھوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کر دیا۔ کیا انھیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ ﴿وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں ، پس وہ نہ سنیں ‘‘، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں ، انھیں نصیحت کرے مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے مگر وہ راہ نمائی حاصل نہ کریں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہو جاتے ہیں ... ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہو سکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انھیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔
[101]﴿تِلۡكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’وہ بستیاں ‘‘ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآىِٕهَا﴾ ’’ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں ‘‘ جس سے عبرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لیے نصیحت ہے ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾’’اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کر دینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو تقویت بخشی۔ مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا، نہ ان کے کسی کام آئی۔﴿ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے‘‘ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کر دینے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔‘‘﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔
[102]﴿وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ﴾ ’’ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اکثر ان میں پائے نافرمان‘‘ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بے راہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لیے پہلے ہی سعادت لکھ دی گئی تھی۔ اور رہے اکثر لوگ تو انھوں نے ہدایت سے رو گردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔
7:102وَمَا وَجَدۡنَا لِأَكۡثَرِهِم مِّنۡ عَهۡدٖۖ وَإِن وَجَدۡنَآ أَكۡثَرَهُمۡ لَفَٰسِقِينَ
کیا نہیں واضح ہوئی، ان لوگوں کے لیے جو وارث بنے زمین کے بعد (ہلاک ہونے) اس کے رہنے والوں کے، یہ بات کہ اگر ہم چاہیں تو سزا دیں ان کو بوجہ ان کے گناہوں کےاور مہر لگا دیں اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ(کچھ) نہ سنیں(100)یہ بستیاں ہیں، بیان کرتے ہیں ہم آپ پر کچھ خبریں ان کی اور البتہ تحقیق آئے ان کے پاس رسول ان کے، ساتھ واضح دلیلوں کے، پس نہ ہوئے وہ (اس لائق) کہ ایمان لاتے، اس پر جسے جھٹلا چکے تھے وہ پہلے، اسی طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ دلوں پر کفر کرنے والوں کے(101) اورنہیں پایا ہم نے ان کے اکثر کے لیے کوئی عہد(کا پاس) اور بلاشبہ پایا ہم نے ان کے اکثر کو نافرمان ہی(102)
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں ۔‘‘ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، زمین میں وارث بنی ہیں ؟ پھر انھوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کر دیا۔ کیا انھیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انھیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے؟ کیونکہ اولین و آخرین کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے۔ ﴿وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں ، پس وہ نہ سنیں ‘‘، یعنی جب اللہ تعالیٰ انھیں تنبیہ کرے تو وہ متنبہ نہ ہوں ، انھیں نصیحت کرے مگر وہ نصیحت نہ پکڑیں اور اللہ تعالیٰ آیات اور عبرتوں کے ذریعے سے ان کی راہ نمائی کرے مگر وہ راہ نمائی حاصل نہ کریں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتا ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے پس ان کے دلوں پر میل کچیل جم جاتا ہے اور وہ زنگ آلود ہو جاتے ہیں ... ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے حق ان میں داخل نہیں ہو سکتا، بھلائی ان تک پہنچ نہیں سکتی۔ وہ کوئی ایسی بات نہیں سن سکتے جو انھیں فائدہ دے۔ وہ تو صرف وہی بات سن سکتے ہیں جو ان کے خلاف حجت بنے گی۔
[101]﴿تِلۡكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’وہ بستیاں ‘‘ یعنی وہ بستیاں جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآىِٕهَا﴾ ’’ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کی کچھ خبریں ‘‘ جس سے عبرت حاصل کرنے والوں کو عبرت حاصل ہوتی ہے، ظالموں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور اہل تقویٰ کے لیے نصیحت ہے ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾’’اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان جھٹلانے والوں کے پاس ان کے رسول آئے جو ان کو ان امور کی طرف دعوت دیتے تھے جن میں ان کی سعادت تھی، اللہ تعالیٰ نے ظاہر معجزات کے ذریعے سے ان رسولوں کی تائید کی اور حق کو کامل طور پر واضح کر دینے والے دلائل کے ذریعے سے ان کو تقویت بخشی۔ مگر اس چیز نے انھیں کوئی فائدہ دیا، نہ ان کے کسی کام آئی۔﴿ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے‘‘ یعنی ان کی تکذیب اور حق کو پہلی مرتبہ رد کر دینے کے سبب سے، اللہ تعالیٰ ایمان کی طرف ان کی راہ نمائی نہیں کرے گا، یہ حق کو ٹھکرا دینے کی سزا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے (ویسے ہی پھر ایمان نہیں لائیں گے) ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیں گے۔‘‘﴿كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘یعنی سزا کے طور پر اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا۔
[102]﴿وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ﴾ ’’ہم نے ان ہی سے اکثر میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی ہم نے اکثر قوموں میں جن کی طرف رسول بھیجے گئے، عہد کی پاسداری نہیں دیکھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی وصیت کا التزام اور اس پر ثابت قدمی، جو اس نے تمام جہانوں کو کر رکھی ہے اور نہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ان احکام کی تعمیل کی ہے جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے ان تک پہنچائے ہیں ۔ ﴿ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اکثر ان میں پائے نافرمان‘‘ یعنی ہم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل بھاگنے اور بے راہ رو ہو کر خواہشات نفس کی پیروی کرنے والے ہی پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مبعوث فرما کر، کتابیں نازل کر کے اپنے بندوں کو آزمایا ہے اور ان کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے عہد اور اس کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ مگر بہت کم لوگوں نے اس کے حکم کی تعمیل کی، یعنی صرف ان لوگوں نے جن کے لیے پہلے ہی سعادت لکھ دی گئی تھی۔ اور رہے اکثر لوگ تو انھوں نے ہدایت سے رو گردانی کی اور ان تعلیمات کو تکبر سے ٹھکرا دیا جو رسول لے کر آئے تھے۔ پس اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے۔
7:103ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَظَلَمُواْ بِهَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:104وَقَالَ مُوسَىٰ يَٰفِرۡعَوۡنُ إِنِّي رَسُولٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:105حَقِيقٌ عَلَىٰٓ أَن لَّآ أَقُولَ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّۚ قَدۡ جِئۡتُكُم بِبَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَرۡسِلۡ مَعِيَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:106قَالَ إِن كُنتَ جِئۡتَ بِـَٔايَةٖ فَأۡتِ بِهَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:107فَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٞ مُّبِينٞ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:108وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:109قَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٞ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:110يُرِيدُ أَن يُخۡرِجَكُم مِّنۡ أَرۡضِكُمۡۖ فَمَاذَا تَأۡمُرُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:111قَالُوٓاْ أَرۡجِهۡ وَأَخَاهُ وَأَرۡسِلۡ فِي ٱلۡمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:112يَأۡتُوكَ بِكُلِّ سَٰحِرٍ عَلِيمٖ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:113وَجَآءَ ٱلسَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوٓاْ إِنَّ لَنَا لَأَجۡرًا إِن كُنَّا نَحۡنُ ٱلۡغَٰلِبِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:114قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ لَمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:115قَالُواْ يَٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلۡقِيَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحۡنُ ٱلۡمُلۡقِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:116قَالَ أَلۡقُواْۖ فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:117۞وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنۡ أَلۡقِ عَصَاكَۖ فَإِذَا هِيَ تَلۡقَفُ مَا يَأۡفِكُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:118فَوَقَعَ ٱلۡحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:119فَغُلِبُواْ هُنَالِكَ وَٱنقَلَبُواْ صَٰغِرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:120وَأُلۡقِيَ ٱلسَّحَرَةُ سَٰجِدِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:121قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:122پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:123قَالَ فِرۡعَوۡنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكۡرٞ مَّكَرۡتُمُوهُ فِي ٱلۡمَدِينَةِ لِتُخۡرِجُواْ مِنۡهَآ أَهۡلَهَاۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:124لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:125قَالُوٓاْ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:126وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنۡ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَاۚ رَبَّنَآ أَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرٗا وَتَوَفَّنَا مُسۡلِمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:127وَقَالَ ٱلۡمَلَأُ مِن قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوۡمَهُۥ لِيُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيِۦ نِسَآءَهُمۡ وَإِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَٰهِرُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:128قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِ ٱسۡتَعِينُواْ بِٱللَّهِ وَٱصۡبِرُوٓاْۖ إِنَّ ٱلۡأَرۡضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:129قَالُوٓاْ أُوذِينَا مِن قَبۡلِ أَن تَأۡتِيَنَا وَمِنۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَاۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:130وَلَقَدۡ أَخَذۡنَآ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقۡصٖ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:131فَإِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡحَسَنَةُ قَالُواْ لَنَا هَٰذِهِۦۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٞ يَطَّيَّرُواْ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓۗ أَلَآ إِنَّمَا طَـٰٓئِرُهُمۡ عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:132وَقَالُواْ مَهۡمَا تَأۡتِنَا بِهِۦ مِنۡ ءَايَةٖ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:133فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلۡجَرَادَ وَٱلۡقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَٰتٖ مُّفَصَّلَٰتٖ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:134وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ ٱلرِّجۡزُ قَالُواْ يَٰمُوسَى ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَۖ لَئِن كَشَفۡتَ عَنَّا ٱلرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:135فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ ٱلرِّجۡزَ إِلَىٰٓ أَجَلٍ هُم بَٰلِغُوهُ إِذَا هُمۡ يَنكُثُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:136فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡيَمِّ بِأَنَّهُمۡ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُواْ عَنۡهَا غَٰفِلِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:137وَأَوۡرَثۡنَا ٱلۡقَوۡمَ ٱلَّذِينَ كَانُواْ يُسۡتَضۡعَفُونَ مَشَٰرِقَ ٱلۡأَرۡضِ وَمَغَٰرِبَهَا ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۖ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلۡحُسۡنَىٰ عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُواْۖ وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهُۥ وَمَا كَانُواْ يَعۡرِشُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:138وَجَٰوَزۡنَا بِبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ ٱلۡبَحۡرَ فَأَتَوۡاْ عَلَىٰ قَوۡمٖ يَعۡكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصۡنَامٖ لَّهُمۡۚ قَالُواْ يَٰمُوسَى ٱجۡعَل لَّنَآ إِلَٰهٗا كَمَا لَهُمۡ ءَالِهَةٞۚ قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:139إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٞ مَّا هُمۡ فِيهِ وَبَٰطِلٞ مَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:140قَالَ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡغِيكُمۡ إِلَٰهٗا وَهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:141وَإِذۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ ءَالِ فِرۡعَوۡنَ يَسُومُونَكُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِ يُقَتِّلُونَ أَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُونَ نِسَآءَكُمۡۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٞ مِّن رَّبِّكُمۡ عَظِيمٞ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:142۞وَوَٰعَدۡنَا مُوسَىٰ ثَلَٰثِينَ لَيۡلَةٗ وَأَتۡمَمۡنَٰهَا بِعَشۡرٖ فَتَمَّ مِيقَٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرۡبَعِينَ لَيۡلَةٗۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَٰرُونَ ٱخۡلُفۡنِي فِي قَوۡمِي وَأَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيلَ ٱلۡمُفۡسِدِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:143وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِيٓ أَنظُرۡ إِلَيۡكَۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِي وَلَٰكِنِ ٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡجَبَلِ فَإِنِ ٱسۡتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوۡفَ تَرَىٰنِيۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكّٗا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقٗاۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبۡحَٰنَكَ تُبۡتُ إِلَيۡكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:144قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّي ٱصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِي وَبِكَلَٰمِي فَخُذۡ مَآ ءَاتَيۡتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:145وَكَتَبۡنَا لَهُۥ فِي ٱلۡأَلۡوَاحِ مِن كُلِّ شَيۡءٖ مَّوۡعِظَةٗ وَتَفۡصِيلٗا لِّكُلِّ شَيۡءٖ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٖ وَأۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَأۡخُذُواْ بِأَحۡسَنِهَاۚ سَأُوْرِيكُمۡ دَارَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:146سَأَصۡرِفُ عَنۡ ءَايَٰتِيَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَإِن يَرَوۡاْ كُلَّ ءَايَةٖ لَّا يُؤۡمِنُواْ بِهَا وَإِن يَرَوۡاْ سَبِيلَ ٱلرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلٗا وَإِن يَرَوۡاْ سَبِيلَ ٱلۡغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلٗاۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُواْ عَنۡهَا غَٰفِلِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:147وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلۡأٓخِرَةِ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡۚ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:148وَٱتَّخَذَ قَوۡمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٌۚ أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيهِمۡ سَبِيلًاۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُواْ ظَٰلِمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:149وَلَمَّا سُقِطَ فِيٓ أَيۡدِيهِمۡ وَرَأَوۡاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّواْ قَالُواْ لَئِن لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَيَغۡفِرۡ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:150وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗا قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُونِي مِنۢ بَعۡدِيٓۖ أَعَجِلۡتُمۡ أَمۡرَ رَبِّكُمۡۖ وَأَلۡقَى ٱلۡأَلۡوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأۡسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيۡهِۚ قَالَ ٱبۡنَ أُمَّ إِنَّ ٱلۡقَوۡمَ ٱسۡتَضۡعَفُونِي وَكَادُواْ يَقۡتُلُونَنِي فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ ٱلۡأَعۡدَآءَ وَلَا تَجۡعَلۡنِي مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:151قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِأَخِي وَأَدۡخِلۡنَا فِي رَحۡمَتِكَۖ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:152إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ ٱلۡعِجۡلَ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٞ مِّن رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٞ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُفۡتَرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:153وَٱلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ ثُمَّ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِهَا وَءَامَنُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:154وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى ٱلۡغَضَبُ أَخَذَ ٱلۡأَلۡوَاحَۖ وَفِي نُسۡخَتِهَا هُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلَّذِينَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:155وَٱخۡتَارَ مُوسَىٰ قَوۡمَهُۥ سَبۡعِينَ رَجُلٗا لِّمِيقَٰتِنَاۖ فَلَمَّآ أَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ أَهۡلَكۡتَهُم مِّن قَبۡلُ وَإِيَّـٰيَۖ أَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَّآۖ إِنۡ هِيَ إِلَّا فِتۡنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَن تَشَآءُ وَتَهۡدِي مَن تَشَآءُۖ أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَاۖ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡغَٰفِرِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:156۞وَٱكۡتُبۡ لَنَا فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِنَّا هُدۡنَآ إِلَيۡكَۚ قَالَ عَذَابِيٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنۡ أَشَآءُۖ وَرَحۡمَتِي وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٖۚ فَسَأَكۡتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤۡمِنُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:157ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:158قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:159وَمِن قَوۡمِ مُوسَىٰٓ أُمَّةٞ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:160وَقَطَّعۡنَٰهُمُ ٱثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ أَسۡبَاطًا أُمَمٗاۚ وَأَوۡحَيۡنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسۡتَسۡقَىٰهُ قَوۡمُهُۥٓ أَنِ ٱضۡرِب بِّعَصَاكَ ٱلۡحَجَرَۖ فَٱنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ ٱثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنٗاۖ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٖ مَّشۡرَبَهُمۡۚ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡغَمَٰمَ وَأَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰۖ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:161وَإِذۡ قِيلَ لَهُمُ ٱسۡكُنُواْ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةَ وَكُلُواْ مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُولُواْ حِطَّةٞ وَٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدٗا نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيٓـَٰٔتِكُمۡۚ سَنَزِيدُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:162فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡ قَوۡلًا غَيۡرَ ٱلَّذِي قِيلَ لَهُمۡ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَظۡلِمُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:163وَسۡـَٔلۡهُمۡ عَنِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلَّتِي كَانَتۡ حَاضِرَةَ ٱلۡبَحۡرِ إِذۡ يَعۡدُونَ فِي ٱلسَّبۡتِ إِذۡ تَأۡتِيهِمۡ حِيتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعٗا وَيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُونَ لَا تَأۡتِيهِمۡۚ كَذَٰلِكَ نَبۡلُوهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:164وَإِذۡ قَالَتۡ أُمَّةٞ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُونَ قَوۡمًا ٱللَّهُ مُهۡلِكُهُمۡ أَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ قَالُواْ مَعۡذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:165فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦٓ أَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذۡنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ بِعَذَابِۭ بَـِٔيسِۭ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:166فَلَمَّا عَتَوۡاْ عَن مَّا نُهُواْ عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:167وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَن يَسُومُهُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:168وَقَطَّعۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ أُمَمٗاۖ مِّنۡهُمُ ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنۡهُمۡ دُونَ ذَٰلِكَۖ وَبَلَوۡنَٰهُم بِٱلۡحَسَنَٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:169فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٞ وَرِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَأۡخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلۡأَدۡنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغۡفَرُ لَنَا وَإِن يَأۡتِهِمۡ عَرَضٞ مِّثۡلُهُۥ يَأۡخُذُوهُۚ أَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِم مِّيثَٰقُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِيهِۗ وَٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:170وَٱلَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُصۡلِحِينَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:171۞وَإِذۡ نَتَقۡنَا ٱلۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٞ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُۥ وَاقِعُۢ بِهِمۡ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱذۡكُرُواْ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ
پھر بھیجا ہم نے بعد ان کے موسیٰ کو ساتھ اپنی آیات کے، فرعون اور کے درباریوں کی طرف پس ظلم کیا انھوں نے ساتھ ان کے، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا(103) اور کہا موسیٰ نے اے فرعون! بلاشبہ میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے(104) سزاوار ہے(میرے لیے) یہ بات کہ نہ کہوں میں اللہ پر مگر حق، تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ واضح دلیل کے، تمھارے رب کی طرف سے، پس بھیج دے تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو(105)اس نے کہا، اگر ہے تو آیا ساتھ کسی (بڑی) نشانی کے تو لے آ اسے، اگر ہے تو سچوں سے(106)پس ڈال دیا موسیٰ نے اپنا عصا تو دفعتہ وہ اژدھا تھا ظاہر(107)اور (باہر) نکالا اس نے اپنا ہاتھ، تب وہ سفید چمکتا ہوا تھادیکھنے والوں کے لیے (108) کہا سرداروں نے فرعون کی قوم میں سے، یقینا یہ تو جادو گر ہے بڑا ماہر(109)چاہتا ہے وہ یہ کہ نکال دے تمھیں، تمھاری زمین سے تو کیا مشورہ دیتے ہو تم؟(110) انھوں نے کہا، مہلت دے اسے اوراس کے بھائی کو اور بھیج تو شہروں میں اکٹھے کرنے والے(111)لے آئیں وہ تیرے پاس ہر جادوگر ماہر کو(112) اورآئے جادوگر فرعون کے پاس (اور)کہا یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا اگر ہوئے ہم غالب؟(113)فرعون نے کہا، ہاں اور بلاشبہ تم البتہ مقرب لوگوں میں سے ہو گے(114)انھوں نے کہا، اے موسیٰ ! یا تو تو ڈالے اور یا یہ کہ ہم ہی ہوں(پہلے) ڈالنے والے(115)(موسیٰ نے) کہا! تم ہی ڈالو، پس جب انھوں نے ڈالیں(لاٹھیاں) تو جادو کردیا آنکھوں پر لوگوں کی اور ڈرادیا انھیں اور لائے وہ جادو بہت بڑا (116) اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی کہ ڈال تو(بھی) اپنا عصا، (جب اس نے ڈالا) تو یکایک وہ نگلنے لگا وہ (جھوٹ) جو وہ گھڑتے تھے(117) پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگیا جو کچھ کہ تھے وہ کر رہے(118)پس مغلوب ہوگئے وہ (جادوگر) وہاں اور لوٹے وہ ذلیل و خوار (119)اور گرا دیے گئے جادوگر(چہروں کے بل) سجدہ کرتے ہوئے(120) انھوں نے کہا! ایمان لائے ہم رب العالمین پر (121) ربِ موسیٰ اور ہارون پر(122) کہا فرعون نے! (کیا) ایمان لے آئے ہوتم اس پرپہلے اس سے کہ اجازت دوں میں تمھیں؟ یقینا یہ مکر ہے، مکر کیا ہے تم نے یہ اس شہر میں تاکہ نکال دو تم اس (شہر) سے اس کے رہنے والوں کو، پس عنقریب جان لو گے تم(123) ، البتہ ضرورکاٹوں کا میں تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے، پھر ضرور سولی پر لٹکاؤں گا میں تم سب کو(124)انھوں نے کہا! یقینا ہم طرف اپنے رب ہی کی لوٹنے والے ہیں(125) اور نہیں سزا دے رہا تو ہمیں مگر اس کی کہ ایمان لائے ہم آیات پر اپنے رب کی، جب آئیں وہ ہمارے پاس۔ اے ہمارے رب! ڈال دے اوپر ہمارے صبر اور فوت کر ہمیں جبکہ ہم مسلمان ہوں(126) اور کہا چودھریوں نے فرعون کی قوم میں سے کیا چھوڑتا ہے تو موسیٰ اوراس کی قوم کو تاکہ فساد کریں وہ زمین میں اور چھوڑ دے وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو؟ کہا(فرعون نے) عنقریب قتل کردیں گے ہم ان کے بیٹے اور زندہ رہنے دیں گے ان کی عورتیں، (بیٹیاں) اور بلاشبہ ہم اوپر ان کے غالب ہیں(127)کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے مدد طلب کرو تم اللہ سے اور صبر کرو، یقینا زمین تو اللہ ہی کی ہے، وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سےاور (اچھا) انجام تو متقیوں ہی کے لیے ہے(128)کہا انھوں نے ایذاء دیے گئے ہم پہلے اس سے کہ آئے تو ہمارے پاس اور بعد اس کے کہ آگیا تو ہمارے پاس (موسیٰ نے) کہا، امید ہے کہ تمھارا رب ہلاک کردے گا تمھارے دشمن کو اور جانشین بنا دے گا تمھیں زمین میں، پھر وہ دیکھے گا کہ کیسے عمل کرتے ہو تم؟(129) اور البتہ تحقیق پکڑا ہم نے آل فرعون کو ساتھ قحط سالیوں کے اور ساتھ نقصان کرنے کے پھلوں میں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں(130) پھر جب آتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے ہمارے لیے ہی ہے یہ اور اگر پہنچتی انھیں کوئی برائی تو نحوست پکڑتے ساتھ موسیٰ کے اور ان لوگوں کے جو اس کے ساتھ تھے، خبردار! ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے لیکن اکثران کے نہیں جانتے(131) اورانھوں نے کہا جو بھی لائے تو ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ جادو کرے تو ہم پر ساتھ اس کے تو بھی نہیں ہیں ہم تیرے لیے ایمان لانے والے(132)پس بھیجا ہم نے اوپر ان کے طوفان اور ٹڈی دل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، (تمام) نشانیاں الگ الگ، پھربھی تکبر کیا انھوں نے اور تھے ہی وہ لوگ مجرم (133) اور جب واقع ہوتا اوپر ان کے عذاب تو کہتے، اے موسیٰ! دعا کر تو ہمارے لیے اپنے رب سے بہ سبب اس کے جو عہد کیا اس نے تجھ سے، اگر دور کردے تو ہم سے یہ عذاب تو ضرور ایمان لے آئیں گے ہم تجھ پراور ضرور بھیج دیں گے ہم تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو(134) پس جب ہٹا دیتے ہم ان پر سے عذاب، ایک وقت تک کہ وہ پہنچنے والے ہوتے اس کو، تب وہ عہد توڑ دیتے(135)پس انتقام لیا ہم نے اس سے ، پھر غرق کردیا انھیں سمندر میں بوجہ اس کے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غفلت کرنے والے(136)اور وارث کردیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے اس زمین کی مشرقی اور مغربی جہتوں کا وہ (زمین) کہ برکت رکھی تھی ہم نے اس میں اور پورا ہوا وعدہ آپ کے رب کا اچھا، اوپر بنی اسرائیل کے بوجہ اس کے جو صبر کیا انھوں نےاور تباہ کردیں ہم نے وہ (فیکٹریاں) کہ تھا بناتا (ان کو) فرعون اوراس کی قوم اوران (محلات) کو جو تھے وہ بلند کرتے(137)اور پاراتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے تو آئے وہ اوپر ایسے لوگوں کے جو عبادت میں لگے ہوئے تھے اپنے بتوں کی، انھوں نے کہا، اے موسیٰ! بنا دے تو ہمارے لیے ایک معبود جس طرح کہ ہیں ان کے معبود (موسیٰ نے)کہا، بلاشبہ تم لوگ تو (یکسر) جاہل ہو(138) یقینا یہ لوگ، تباہ ہونے والاہے وہ (مذہب) کہ وہ اس میں (مشغول) ہیں۔ اور باطل ہے جو کچھ کہ ہیں وہ عمل کرتے(139)(موسیٰ نے) کہا کیا سوائے اللہ کے تلاش کروں میں تمھارے لیے معبود جبکہ اسی نے فضیلت دی ہے تمھیں جہانوں پر(140) اور جب نجات دی ہم نے تمھیں آل فرعون سے وہ دیتے تھے تمھیں بد ترین عذاب، قتل کردیتے تھے وہ بیٹے تمھارے اور زندہ رہنے دیتے تھے عورتیں (بیٹیاں) تمھاری اور اس میں آزمائش تھی تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی(141)اور وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا اور پورا کیا ہم نے ان کو ساتھ دس راتوں کے تو پوری ہوگئی مدت مقررہ اس کے رب کی چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے میری جانشینی کرنا میری قوم میں اور اصلاح کرنا (ان کی) اور نہ پیروی کرنا راستے کی فساد کرنے والوں کے(142)اور جب آئے موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر اور کلام کیا ان سے ان کے رب نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! دکھا مجھے (اپنی جھلک) کہ دیکھوں میں تجھے، کہا ہر گز نہیں دیکھ سکے گا تو مجھے لیکن دیکھ تو طرف اس پہاڑ کی پس اگر ٹھہر رہا وہ اپنی جگہ پر توضرور دیکھ سکے گا تو بھی مجھے، پھر جب جلوہ ڈالا اس کے رب نے پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ بے ہوش ہوکر، پھر جب ہوش میں آئے تو کہا پاک ہے تو توبہ کی میں نے تیری طرف اور میں ہوں سب سے پہلا مومن(143)کہا(اللہ نے) اے موسیٰ! بلاشبہ میں نے چن لیا ہے تجھے اوپر لوگوں کے، اپنے پیغامات (پہنچانے) اور اپنی ہمکلامی کے لیے پس لے لے تو جو دیا میں نے تجھے اور ہوجا تو شکر گزاروں میں سے (144)اور لکھ دی ہم نے اس (موسیٰ) کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل ہر ایک شے کی، سو پکڑ لے تو ان کو ساتھ قوت کے اور حکم دے اپنی قوم کو کہ پکڑیں وہ اچھی باتیں ان کی عنقریب دکھاؤں گا میں تمھیں گھر فاسقوں کا(145)اور البتہ پھیردوں گا میں اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق اور اگر دیکھ لیں وہ ہر نشانی تو بھی نہ ایمان لائیں گے وہ ساتھ ان کےاوراگر دیکھ لیں وہ راہ ہدایت تو نہ پکڑیں اسے (اپنے لیے) راستہ اور اگر دیکھ لیں وہ راستہ گمراہی کا تو پکڑ لیں اسے (اپنے لیے) راستہ، یہ اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تھے وہ ان سے غافل(146)اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں اور ملاقات کو آخرت کی، برباد ہوگئے ان کے عمل، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ مگر ان کاموں کا جو تھے وہ کرتے(147) اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے بعد (جانے) اس (موسیٰ) کے، اپنے زیورات سے ایک بچھڑا، جو ایک جسم تھا، اس کی آواز تھی گائے کی، کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ وہ نہیں کلام کرتا ان سے اورنہیں بتلاتا انھیں کوئی راستہ؟ بنا لیا انھوں نے اسے (معبود) اور تھے وہ ظالم(148)اور جب نادم ہوئے وہ اور دیکھا انھوں نے کہ بلاشبہ گمراہ ہوگئے ہیں وہ تو کہا انھوں نے اگر نہ رحم کیا ہم پر ہمارے رب نے اور نہ بخشا ہمیں تو ضرور ہوجائیں گے ہم خسارہ پانے والوں میں سے(149)اور جب واپس آئے موسیٰ کی طرف اپنی قوم کی غضب ناک، افسوس کرتے ہوئے تو کہا، بری ہے جو جانشینی کی تم نے میری، میرے (جانے کے )بعد، کیا جلدی کی تم نے اپنے رب کے حکم سے؟ اور ڈال دیں تختیاں اور پکڑ لیا سر اپنے بھائی کا، کھینچتے تھے اس کو اپنی طرف، کہا (ہارون) نے اے میرے ماں جائے! بے شک ان لوگوں نے کمزور سمجھا مجھےاور قریب تھا کہ وہ قتل ہی کر دیتے مجھے، پس نہ ہنسا مجھ پر دشمنوں کو اور نہ (شامل) کر تو مجھے ساتھ ان لوگوں کے جو ظالم ہیں(150) کہا(موسیٰ نے) اے میرے رب! تو بخش دے مجھے اور میرے بھائی کواور داخل فرما ہمیں اپنی رحمت میں اور تو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا(151)بے شک وہ لوگ جنھوں نے بنایا بچھڑے کو(معبود) عنقریب پہنچے گا انھیں غضب ان کے رب کی طرف سےاور ذلت زندگانی ٔ دنیا میں اوراسی طرح سزا دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو(152) اور وہ لوگ جنھوں نے عمل کیے برے، پھر توبہ کی بعد ان کے اور ایمان لے آئے تو یقینا آپ کا رب اس کے بعد البتہ بہت بخشنے والا ہے نہایت مہربان(153)اور جب ٹھنڈا ہوا موسیٰ کا غصہ تو اٹھا لیں اس نے تختیاں اوران کے مضامین میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے(154)اور منتخب کیے موسی نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے مقررہ وقت کے لیے پس جب پکڑ لیا ان کو زلزلے نے تو کہا موسیٰ نے اے میرے رب! اگر چاہتا تو تو ہلاک کردیتا انھیں پہلے اس سے اور مجھے بھی، کیا ہلاک کرتا ہے تو ہمیں بوجہ اس کے جو کیا بیوقوفوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر آزمائش تیری، گمراہ کرتا ہے تو ساتھ اس (آزمائش) کے جسے چاہتا ہےاور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے پس بخش دے ہمیں اور رحم فرما ہم پر اورتو ہے بہترین بخشنے والا(155)اور لکھ دے تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی، یقینا ہم نے رجوع کیا تیری طرف، کہا (اللہ نے) میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں وہ جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت، اس نے گھیر رکھا ہے ہر ایک چیز کو پس عنقریب لکھ دوں گا میں یہ (رحمت) ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں اور دیتے ہیں زکاۃاور وہ لوگ کہ وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں(156)وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس رسول کا، جو نبی ٔ امی ہے، وہ جو پاتے ہیں وہ اس کو لکھا ہوا اپنے ہاں تورات اور انجیل میں، وہ حکم دیتا ہے انھیں اچھے کاموں کااور روکتا ہے انھیں برے کاموں سےاور وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ان پر ناپاک چیزیں اور اتارتا ہے ان سے ان کے بوجھ اور وہ طوق جو تھے اوپر ان کے پس وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے اور تعظیم کی اس کی اور مدد کی اس کی اور اتباع کیا اس نور کا جو نازل کیا گیا ساتھ اس کے یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(157)کہہ دیجیے اے لوگو! یقینا میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف، وہ ذات کہ اسی کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اورزمین کی، نہیں ہے کوئی معبود(برحق) مگر وہی ، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے، پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے جو نبی ٔ امی ہے وہ جو (خود بھی) ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اوراس کے کلمات کےاور اتباع کرو اس کا تاکہ تم ہدایت پاؤ(158)اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک جماعت ہے جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کے اور ساتھ اسی (حق) کے وہ عدل کرتی ہے(159) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں بارہ قبیلوں کے لحاظ سے (بارہ) جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے طرف موسیٰ کی جب پانی مانگا اس سے اس کی قوم نے، یہ کہ مار تو لاٹھی اپنی (اس) پتھر پر، (اس نے ماری) تو پھوٹ پڑے اس(پتھر) سے بارہ چشمے، تحقیق جان لیا ہر قبیلے نے اپنا گھاٹاور سایہ کیا ہم نے اوپر ان کے بادلوں کااورنازل کیا اوپر ان کے من اور سلویٰ (اور کہا) کھاؤ تم ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہیں ظلم کیا انھوں نے ہم پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(160) اور جب کہا گیا ان سے، ٹھہرو تم اس بستی میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو تم اور کہو معاف کردے ہمیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے، بخش دیں گے ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں، عنقریب زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو(161)پس بدل دیا ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا تھا ان میں سے، بات کو، مخالف اس بات کے جوکہی گئی تھی ان سے تو بھیجا ہم نے اوپر ان کے عذاب آسمان سے بوجہ اس کے جو تھے وہ ظلم کرتے(162) اور پوچھیے ان (لوگوں) سے اس بستی کے بارے میں جو تھی ساحل سمندر پر، جب وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ہفتے کے (دن کے) بارے میں جبکہ آتی تھیں ان کے پاس مچھلیاں ان کی، ان کے ہفتے کے دن میں ظاہر (پانی کے اوپر) اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا تو نہ آتیں وہ ان کے پاس اسی طرح ہم آزماتے تھے انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(163) اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کیوں وعظ کرتے ہوتم ایسی قوم کو کہ اللہ ہلاک کرنے والا ہے انھیں یا عذاب دینے والا ہے انھیں عذاب سخت تو انھوں نے کہا، معذرت پیش کرنے کے لیے تمھارے رب کی طرف اور شاید کہ وہ ڈر جائیں(164) پس جب بھلا دیا انھوں نے جو نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو روکتے تھے برے کام سےاور پکڑ لیا ہم نے ان کو جنھوں نے ظلم کیا، ساتھ بدترین عذاب کے، بوجہ اس کے جو تھے وہ نافرمانی کرتے(165) پس جب سرکشی کی انھوں نے اس سے کہ روکے گئے تھے وہ اس سے تو کہا ہم نے ان کو ہو جاؤ تم بندر ذلیل(166) اور (یاد کرو) جب جتلا دیا آپ کے رب نے کہ وہ ضرور بھیجتا رہے گا اوپر ان کے روز قیامت تک ایسے شخص کو جو چکھا تا رہے گا انھیں برا عذاب، بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ جلدی سزا دینے والا ہے اور یقینا وہ البتہ بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے(167) اور جدا جدا کردیا ہم نے انھیں زمین میں کئی گروہ بناکر، کچھ ان میں سے صالح تھے اور کچھ ان میں سے علاوہ اس کےاور آزمایا ہم نے انھیں ساتھ نعمتوں اور تکلیفوں کے تاکہ وہ رجوع کریں(اللہ کی طرف)(168) پھر جانشین بنے بعد ان کے ناخلف جو وارث ہوئے کتاب (تورات) کے، وہ لے لیتے سامان اس ادنیٰ (دنیا) کا اور کہتے کہ عنقریب بخش دیا جائے گا ہمیں اوراگر آئے ان کے پاس(پھر) سامان اس جیسا ہی تو وہ لے لیں اسے (بھی)، کیا نہیں لیا گیا ان سے پختہ وعدہ کتاب میں یہ کہ وہ نہ کہیں اوپر اللہ کے سوائے حق کے؟ حالانکہ انھوں نے پڑھ لیا ہے جو کچھ اس میں ہے اور گھر آخرت کا بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (169)اور وہ لوگ جو مضبوطی سے پکڑتے ہیں کتاب کو اور قائم کیا انھوں نے نماز کو تو یقینا ہم نہیں ضائع کرتے اجر اصلاح کرنے والوں کا(170)اور جب اٹھایا ہم نے پہاڑ کو اوپر ان کے، گویا کہ وہ ایک سائبان ہے اور یقین کر لیا تھا انھوں نے کہ یقینا وہ (پہاڑ) گرنے والا ہے ان پر، (کہا ہم نے) پکڑو اس(تورات) کو جودی ہم نے تمھیں، ساتھ قوت کے اور یاد کرو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ(171)
[103] پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہu کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ ﴿ فَظَلَمُوۡا بِهَا ﴾ ’’پس ظلم کیا انھوں نے ان کے مقابلے میں ‘‘ بایں صورت کہ انھوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انھوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا۔ ﴿فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا‘‘ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کر دیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم ٹھہرایا اور قیامت کے روز بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہے گی۔ بہت برا ہے وہ انعام جو ان کو ملا ہے۔
[104] یہ مجمل بیان تھا، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَقَالَ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ (u) نے فرمایا‘‘ یعنی موسیٰu نے فرعون کے پاس آکر اسے ایمان کی دعوت دی اور فرمایا: ﴿ يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّيۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’اے فرعون، میں رب العالمین کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں ‘‘ یعنی میں ایک عظیم ہستی کی طرف سے بھیجا گیا رسول ہوں جو عالم علوی اور عالم سفلی تمام جہانوں کا رب ہے جو مختلف تدابیرالہیہ کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ ان جملہ تدابیر میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کو مہمل نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انبیاء و مرسلین کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر ان کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرنے کی جراء ت نہیں کر سکتا کہ اسے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے درآں حالیکہ اسے رسول نہ بنایا گیا ہو۔
[105]جب اس عظیم ہستی کی یہ شان ہے اور اس نے مجھے اپنی رسالت کے لیے چن لیا ہے۔ تو مجھ پر فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھوں اور اس کی طرف وہی بات منسوب کروں جو حق ہے اور اگر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ اور کہوں تو وہ مجھے بہت جلد عذاب میں مبتلا کر دے گا اور وہ مجھے ایسے پکڑے گا جیسے ایک غالب اور قادر ہستی پکڑتی ہے۔ پس یہ امر اس بات کا موجب ہے کہ وہ موسیٰu کی اتباع کریں اور ان کے حکم کی تعمیل کریں ، خاص طور پر جبکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل آگئی ہے جو اس حق پر دلالت کرتی ہے جو موسیٰu لے کر آئے۔ اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ آنجناب کی رسالت کے مقاصد پر عمل درآمد کریں ۔ اس رسالت کے دو عظیم مقاصد ہیں ۔(۱)وہ موسیٰu پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں ۔(۲) بنی اسرائیل کو آزاد کر دیں جو ایسی قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ جو انبیاء علیہ السلام کی اولاد اور یعقوبu کا سلسلہ ہے اور موسیٰu، اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں ۔
[106] فرعون نے موسیٰu سے کہا ﴿ قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ دکھاؤ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔‘‘
[107]﴿فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ واضح طور پر سانپ بن گیا‘‘ جو بھاگ رہا تھا اور وہ سب کھلی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔
[108]﴿وَّنَزَعَ يَدَهٗ ﴾ ’’حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان سے نکالا‘‘ ﴿ فَاِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ دیکھنے والوں کو (بغیر کسی عیب اور مرض کے) سفید نظر آتا تھا۔‘‘ یہ دو بڑے معجزے جو موسیٰu کی تعلیم اور ان کی صداقت پر دلالت کرتے تھے کہ وہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہیں۔
[109] مگر وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے اگر ان کے پاس تمام معجزات آجائیں وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ بنابریں ﴿قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’قوم فرعون کے جو سردار تھے وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے معجزات کو دیکھا اور ان معجزات نے ان کو مبہوت کر دیا تو وہ ایمان نہ لائے وہ معجزات کے لیے فاسد تاویلات تلاش کرنے لگے اور بولے ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’یہ بڑا ماہر جادوگر ہے۔‘‘ یعنی یہ اپنے جادو میں بہت ماہر ہے۔
[110] پھر وہ کمزور عقل اور کم فہم لوگوں کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے ﴿ يُّرِيۡدُ ﴾ یعنی اس فعل سے موسیٰu کا ارادہ ہے ﴿ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ ﴾ ’’کہ وہ تمھیں تمھارے وطن سے نکال باہر کرے۔‘‘ ﴿فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴾ ’’اب تمھاری کیا صلاح ہے‘‘ یعنی انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ موسیٰ (u) کے ساتھ کیسے نبٹا جائے اور ان کے زعم کے مطابق موسیٰ کے ضرر سے کیسے بچا جائے۔ کیونکہ موسیٰ u جو کچھ لے کر آئے ہیں اگر اس کا مقابلہ کسی ایسی چیز سے نہ کیا جائے جو اسے باطل اور بے اثر کر دے تو موسیٰ کے معجزات عوام میں سے اکثر لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کریں گے۔
[112,111] تب وہ ایک رائے پر متفق ہوئے اور انھوں نے فرعون سے کہا ﴿ اَرۡجِهۡ وَاَخَاهُ ﴾ ’’(فی الحال) موسیٰ(u) اور اس کے بھائی کے معاملے کو معاف رکھیے۔‘‘ یعنی دونوں بھائیوں کو روک کر ان کو مہلت دو اور تمام شہروں میں ہرکارے دوڑا دو جو مملکت کے لوگوں کو اکٹھا کریں اور تمام ماہر جادوگروں کو لے آئیں تاکہ وہ موسیٰ (u) کے معجزات کا مقابلہ کر سکیں ، چنانچہ انھوں نے موسیٰ u سے کہا ’’ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں گے نہ تم اس کے خلاف کرو گے اور یہ مقابلہ ایک ہموار میدان میں ہوگا۔‘‘موسیٰu نے جواب میں فرمایا:﴿ مَوۡعِدُؔكُمۡ يَوۡمُ الزِّيۡنَةِ وَاَنۡ يُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًى ۰۰ فَتَوَلّٰى فِرۡعَوۡنُ فَجَمَعَ كَيۡدَهٗ ثُمَّ اَتٰى ﴾(طٰہ: 20؍59۔60)’’تمھارے لیے مقابلے کا دن عید کا روز مقرر ہے اور یہ کہ تمام لوگ چاشت کے وقت اکٹھے ہو جائیں ۔ فرعون لوٹ گیا۔ اس نے اپنی تمام چالیں جمع کیں پھر مقابلے کے لیے آ گیا‘‘۔
[113]﴿ وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جادوگر فرعون کے پاس آپہنچے۔‘‘ جادوگر غالب آنے کی صورت میں انعام کا مطالبہ کرتے ہوئے فرعون کے پاس آئے اور کہنے لگے ﴿ اِنَّ لَنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر ہم مقابلے میں کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام دیا جائے گا؟‘‘
[114]﴿قَالَ ﴾ فرعون نے کہا ﴿نَعَمۡ﴾ ہاں تمھیں انعام سے نوازا جائے گا ﴿ وَاِنَّـكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠ ﴾ ’’(اور اس پر مستزاد یہ کہ) تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔‘‘ فرعون نے جادوگروں کو انعام و اکرام دینے، ان کو اپنے مقربین میں شامل کرنے اور ان کی قدر و منزلت بڑھانے کا وعدہ کر لیا تاکہ وہ موسیٰu کے مقابلے میں اپنی پوری طاقت صرف کر دیں ۔
[115] جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰu کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے موسیٰu کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِيَ ﴾ ’’اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔‘‘ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّـكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ﴾ ’’یا ہم ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں ۔
[116]﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے کہا ﴿اَلۡقُوۡا﴾ ’’ڈالو تم‘‘ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰu کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا﴾ ’’پس جب انھوں نے ڈالیں ۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں ۔ ﴿ سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ﴾ ’’اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔‘‘ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
[117]﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے‘‘ پس موسیٰu نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِيَ ﴾ ’’وہ فوراً‘‘ یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ﴾ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
[118]﴿ فَوَقَعَ الۡحَقُّ ﴾ ’’تو حق ثابت ہوگیا۔‘‘ یعنی اس بھرے مجمع میں حق واضح طور پر نمایاں اور ظاہر ہوگیا ﴿ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ وہ کرتے تھے سب باطل ہوگیا۔‘‘
[119]﴿فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ ﴾ ’’اس مقام پر وہ مغلوب ہوگئے۔‘‘ ﴿ وَانۡقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ﴾ ’’اور وہ حقیر بن کر رہ گئے‘‘ ان کا باطل مضمحل اور ان کا جادو نابود ہوگیا اور انھیں وہ مقصد حاصل نہ ہو سکا جس کے حصول کا وہ گمان رکھتے تھے۔
[122-120] جادوگروں پر حق عظیم واضح ہوگیا جو جادو کی مختلف اقسام اور جزئیات کو پہچانتے تھے جو کہ دوسرے لوگ نہ پہچانتے تھے... وہ جناب موسیٰ کے معجزات کی عظمت کے قائل ہوگئے پس انھوں نے پہچان لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ ہے جو کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ﴿ وَاُلۡقِيَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِيۡنَ۰۰قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰رَبِّ مُوۡسٰؔى وَهٰؔرُوۡنَ﴾ ’’جادوگر سجدے میں گر پڑے اور کہنے لگے کہ ہم جہاں کے پروردگار پر ایمان لائے (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر۔‘‘ یعنی موسیٰu جن معجزات اور دلائل کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں ۔
[123]﴿ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے ان کے ایمان لانے پر ان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾ ’’کیا تم اس پر میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے؟‘‘ وہ خبیث شخص ،جابر حکمران تھا وہ ادیان و مذاہب کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتا تھا۔ ان لوگوں کے ہاں اور خود اس کے نزدیک بھی یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ وہ اطاعت کا حق دار ہے اور ان کے اندر اس کا حکم نافذ ہے اور اس کے حکم سے سرتابی کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ۔ ان حالات کا شکار ہو کر قومیں انحطاط پذیر ہوتی ہیں ان کی عقل کمزور اور اس کی قوت نفوذ کم ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾(الزخرف: 43؍54) ’’پس اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انھوں نے اس کی بات مان لی۔‘‘یہاں فرعون نے کہا ﴿ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَكُمۡ﴾’’اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ یعنی یہ تمھاری طرف سے سوء ادبی اور میرے حضور بہت بڑی جسارت ہے، پھر اس نے اپنی قوم کے سامنے فریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ﴿ اِنَّ هٰؔذَا لَمَؔكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا ﴾ ’’بے شک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہل شہر کو یہاں سے نکال دو۔‘‘ یعنی موسیٰ(u) تمھارا سردار ہے تم نے اس کے ساتھ مل کر سازش کی تاکہ تم اس کے غلبہ حاصل کرنے میں مدد کرو، پھر تم اس کی اطاعت کرو، پھر تمام لوگ یا اکثر لوگ تمھاری اطاعت کریں اور تم سب مل کر یہاں کے لوگوں کو نکال باہر کرو۔ یہ سب جھوٹ تھا، فرعون خود بھی جانتا تھا اصل صورت احوال یہ تھی کہ موسیٰu کی ان میں سے کسی جادوگر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی، فرعون اور اس کے ہرکاروں کے حکم پر ان جادوگروں کو جمع کیا گیا تھا اور موسیٰu نے وہاں جو کچھ کر دکھایا تھا وہ معجزہ تھا۔ تمام جادوگران کو نیچا دکھانے سے عاجز رہے اور حق ان کے سامنے واضح ہوگیا اور وہ جناب موسیٰ پر ایمان لے آئے۔ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ تم کس سزا سے دوچار ہونے والے ہو۔
[124]﴿لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ﴾ ’’میں تمھارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا۔‘‘ وہ خبیث شخص سمجھتا تھا کہ یہ جادوگر زمین میں فساد برپا کرنے والے ہیں لہذا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو فسادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دوں گا… یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں ﴿ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّـكُمۡ ﴾ ’’پھر تم کو سولی دوں گا۔‘‘ یعنی کھجور کے تنوں پر تم سب کو سولی دے دوں گا۔ ﴿اَجۡمَعِيۡن ﴾ ’’سب کو۔‘‘ یعنی یہ سزا تم میں سے کسی ایک کو نہیں دوں گا بلکہ تم سب اس سزا کا مزہ چکھو گے۔
[125] ایمان لانے والے جادوگروں کو جب فرعون نے دھمکی دی تو انھوں نے کہا ﴿قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’ہم تو اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں ‘‘ یعنی ہمیں تمھاری سزا کی کوئی پروا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتر ہے اور وہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔
[126]﴿وَمَا تَنۡقِمُ مِنَّاۤ ﴾ ’’تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔‘‘ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا﴾ ’’سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں ‘‘ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا ﴾ ’’ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر‘‘... جیسا کہ ’’صَبْرًا‘‘ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمیں مسلمان مارنا۔‘‘ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں ۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
[127] یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰu پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُ مُوۡسٰؔى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں ۔‘‘ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔﴿ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ﴾ ’’وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے‘‘ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ (u) کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا:﴿ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡيٖ نِسَآءَهُمۡ﴾ ’’ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے‘‘ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قٰهِرُوۡنَ﴾ ’’اور ہم ان پر غالب ہیں ‘‘ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
[128]﴿ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهِ ﴾ ’’موسیٰ (u) نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ ان حالات میں ، جن میں وہ کچھ کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ موسیٰu نے ان کو وصیت کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اللہ سے مدد طلب کرو‘‘ یعنی اس چیز کے حصول میں جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے اور اس چیز کو دور ہٹانے میں جو تمھارے لیے ضرر رساں ہے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو۔ اس پر اعتماد کرو، وہ تمھارے معاملے کو پورا کرے گا۔ ﴿ وَاصۡبِرُوۡا﴾ ’’اور صبر کرو۔‘‘ یعنی مصائب و ابتلاء کے دور ہونے کی امید رکھتے ہوئے صبر کا التزام کرو۔ ﴿ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ﴾ ’’زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے‘‘ فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت نہیں کہ وہ اس زمین میں حکم چلائیں ﴿ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾’’وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، بناتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق زمین کی حکمرانی باری باری لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ مگر اچھا انجام متقین کا ہوتا ہے کیونکہ اس حکمرانی کی مدت میں اگر ان کو امتحان میں ڈالا جائے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی حکمت کے تحت۔ تب بھی بالآخر کامیابی انھی کے لیے ہے۔﴿ وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ ’’اور اچھا انجام‘‘ ﴿ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’متقین کے لیے ہے‘‘ یعنی جو اپنی قوم کے بارے میں تقویٰ اختیار کرتے ہیں ۔ یہ بندۂ مومن کا وظیفہ ہے کہ مقدور بھر ایسے اسباب مہیا کرتا رہے جن کے ذریعے سے وہ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی اذیت سے اپنی ذات کو بچا سکے اور جب وہ ایسا کرنے سے عاجز آجائے تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے اور اچھے وقت کا انتظار کرے۔
[129]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰu سے کہا ﴿اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا ﴾ ’’ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے‘‘ کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنۢۡ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا﴾ ’’اور آپ کے آنے کے بعد بھی‘‘ ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ ﴾ جناب موسیٰu نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّؔكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے‘‘ یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو‘‘ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
[130] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔‘‘ ﴿وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں ۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
[131]﴿ فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ان کو بھلائی‘‘ یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوۡا لَنَا هٰؔذِهٖ﴾ تو کہتے ’’ہم اس کے مستحق تھے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ﴾ ’’اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی‘‘ یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗ ﴾ ’’تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی‘‘ یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ (u) کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے‘‘ اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں ۔
[132]﴿ وَقَالُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی انھوں نے موسیٰu پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں ۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں ۔
[133]﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ ﴾ ’’ہم نے ان پر طوفان بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس میں ان کی کھیتیاں اور باغات ڈوب گئے اور انھیں بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ﴿ وَالۡجَرَادَ ﴾ ’’اور ٹڈیاں ‘‘ ہم نے ان پر ٹڈی دل بھیجا جو ان کے باغات، کھیتوں اور ہر قسم کی نباتات کو چٹ کر گیا۔ ﴿ وَالۡقُمَّلَ ﴾ ’’اور جوئیں ۔‘‘ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد چھوٹی ٹڈی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس سے مراد معروف جوں ہے۔ ﴿وَالضَّفَادِعَ﴾ ’’اور مینڈک‘‘ پس مینڈکوں نے ان کے برتنوں وغیرہ کو بھر دیا، ان کے لیے سخت تکلیف اور قلق کا باعث بنے۔ ﴿ الدَّمَ ﴾’’اور خون‘‘ یا تو اس سے مراد نکسیر ہے یا اس سے مراد یہ ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ ان کا پینے والا پانی خون میں بدل جاتا تھا، وہ خون کے سوا کچھ نہیں پی سکتے تھے اور کچھ نہیں پکا سکتے تھے۔﴿اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ﴾ ’’نشانیاں جدا جدا‘‘ یہ اس بات کے واضح دلائل تھے کہ وہ جھوٹے اور ظالم ہیں اور موسیٰu حق اور صداقت پر ہیں ۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ ’’پس انھوں نے تکبر کیا۔‘‘ جب انھوں نے ان معجزات الٰہی کو دیکھا تو تکبر کرنے لگے ﴿ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ لوگ تھے ہی گناہ گار۔‘‘ یعنی پہلے ہی سے ان کا معاملہ یہ تھا کہ وہ مجرموں کی قوم تھی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اور ان کو گمراہی پر برقرار رکھا۔
[134]﴿ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ ﴾ ’’اور جب ان پر عذاب واقع ہوا‘‘ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد طاعون ہو، جیسا کہ بہت سے مفسرین کی رائے ہے اور اس سے مراد وہ عذاب بھی ہو سکتا ہے جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آچکا ہے یعنی طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک اور خون۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب تھیں … یعنی جب ان پر ان میں سے کوئی عذاب نازل ہوتا۔ ﴿ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’تو کہتے اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اس عہد کی وجہ سے جو اللہ نے تجھ سے کیا ہوا ہے‘‘ یعنی وہ موسیٰu کو سفارشی بناتے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وحی اور شریعت کا عہد کر رکھا ہے اور کہتے:﴿لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اگر دور کر دیا تو نے ہم سے یہ عذاب تو بے شک ہم ایمان لے آئیں گے تجھ پر اور جانے دیں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔‘‘وہ اس بارے میں سخت جھوٹے تھے اور اس بات سے ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہ تھا کہ ان سے وہ عذاب دور ہو جائے جو ان پر نازل ہو چکا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ جب عذاب ایک بار دور ہوگیا، دوبارہ کوئی عذاب واقع نہیں ہوگا۔
[135]﴿ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ ﴾ ’’پھر جب ہم ایک مدت کے لیے جس تک ان کو پہنچنا تھا ان سے عذاب دور کردیتے۔‘‘ یعنی جب ایک مدت تک ان سے عذاب دور کر دیا جاتا جس مدت تک اللہ تعالیٰ نے ان کی بقا مقدر کی تھی۔ یہ عذاب ہمیشہ کے لیے ان سے دور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک مقرر وقت تک کے لیے اس عذاب کو ہٹایا جاتا تھا۔ ﴿ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’تو اسی وقت عہد توڑ ڈالتے‘‘ وہ موسیٰu پر ایمان لانے اور بنی اسرائیل کو آزاد کر دینے کے عہد کو، جو انھوں نے جناب موسیٰ سے کیا تھا توڑ دیتے۔ وہ موسیٰu پر ایمان لائے نہ انھوں نے بنی اسرائیل کو آزاد کیا بلکہ وہ اپنے کفر پر جمے رہے اور اسی میں سرگرداں رہے اور بنی اسرائیل کو تعذیب دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا۔
[136]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے‘‘ یعنی جب ان کی ہلاکت کے لیے مقرر کیا ہوا وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر وہاں سے نکل جائیں اور ان کو آگاہ فرما دیا کہ فرعون اپنی فوجوں کے ساتھ ضرور اس کا پیچھا کرے گا۔ ﴿ فَاَرۡسَلَ فِرۡعَوۡنُ فِي الۡمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيۡنَ﴾(الشعراء: 26؍53) ’’پس فرعون نے تمام شہروں میں اپنے نقیب روانہ کر دیے۔‘‘ تاکہ وہ لوگوں کو جمع کر کے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور کہلا بھیجا۔ ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرۡذِمَةٌ قَلِيۡلُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّهُمۡ لَنَا لَغَآىِٕظُوۡنَۙ۰۰وَاِنَّا لَجَمِيۡعٌ حٰؔذِرُوۡنَؕ۰۰فَاَخۡرَجۡنٰهُمۡ۠ مِّنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ۰۰وَّكُنُوۡزٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَؕ۰۰فَاَتۡبَعُوۡهُمۡ۠ مُّشۡرِقِيۡنَ۰۰فَلَمَّا تَرَآءَؔ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰؔبُ مُوۡسٰۤى اِنَّا لَمُدۡرَؔكُوۡنَۚ۰۰قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيۡ سَيَهۡدِيۡنِ۰۰فَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ١ؕ فَانۡفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِۚ۰۰وَاَزۡلَفۡنَا ثَمَّ الۡاٰخَرِيۡنَۚ۰۰وَاَنۡجَيۡنَا مُوۡسٰؔى وَمَنۡ مَّعَهٗۤ اَجۡمَعِيۡنَۚ۰۰ثُمَّ اَغۡرَقۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ۰۰ ﴾(الشعراء: 26؍54۔66) ’’یہ لوگ ایک نہایت قلیل سی جماعت ہے اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں اور ہم سب تیار اور چوکنے ہیں ۔ پس ہم نے ان کو باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا اور اس طرح ان کو خزانوں اور اچھے مکانوں سے بے دخل کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا۔ پس سورج نکلتے ہی انھوں نے ان کا تعاقب کیا اور جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے اصحاب نے کہا ہم تو پکڑ لیے گئے۔ موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں ، میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا یوں لگا جیسے بہت بڑا پہاڑ ہو اور ہم وہاں دوسروں کو قریب لے آئے۔ اور موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو ہم نے نجات دی پھر دوسروں کو غرق کر دیا‘‘۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ فِي الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے ان کو دریا میں ڈبودیا اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے اور ان سے بے پروائی کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کے آیات الٰہی کو جھٹلانے اور حق سے روگردانی کرنے کے سبب سے، جس پر یہ آیات دلالت کرتی ہیں ، ہم نے ان کو غرق کر دیا۔
[137]﴿ وَاَوۡرَثۡنَا الۡقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وارث کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور سمجھے جاتے تھے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جو زمین میں کمزور لوگ تھے جو آل فرعون کی خدمت پر مامور تھے اور آل فرعون ان کو بدترین عذاب دیا کرتے تھے۔ ﴿ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا ﴾ ’’اس زمین کے مشرق و مغرب کا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا۔ یہاں (ارض) سے مراد سرزمین مصر ہے،(بنو اسرائیل کا مصر سے نکلنے کے بعد تاریخی طورپر دوبارہ مصر جانا ثابت نہیں۔ اس لیے یہاں زمین سے مراد، جس کا وارث اور حکمران بنو اسرائیل کو بنایا گیا، شام و فلسطین کا علاقہ ہے۔ اس علاقے پر عمالقہ کی حکمرانی تھی۔ حضرت موسیٰ اور ہارونi کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نونu نے عمالقہ کو شکست دی اور بنو اسرائیل کے لیے یہاں آنے کا راستہ ہموار کیا۔ قرآن کے الفاظ ’’ہم نے اس زمین میں برکت رکھی۔‘‘ سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ قرآن نے دوسرے مقام (بني إسرائیل:17؍1) پر ارض فلسطین ہی کو بابرکت کہا ہے۔ (ص۔ی) جہاں بنی اسرائیل کو مطیع اور غلام بنا کر رکھا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سرزمین کا مالک بنا دیا اور ان کو اس کی حکمرانی عطا کر دی۔ ﴿ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا١ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ ’’جس میں برکت رکھی ہے ہم نے اور پورا ہو گیا نیکی کا وعدہ تیرے رب کا بنی اسرائیل پر بسبب ان کے صبر کرنے کے‘‘ اور یہ اس وقت ہوا جب موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا١ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍128)’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اچھا انجام تو پرہیزگاروں کے لیے ہے‘‘۔﴿وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ ﴾ ’’اور تباہ کر دیا ہم نے جو کچھ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے‘‘ یعنی ہم نے ان کی حیران کن عالی شان عمارتیں اور سجے سجائے گھر تباہ کر دیے ﴿ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ ﴾ ’’اور (وہ انگور کے باغات تباہ کر دیے) جو وہ چھتریوں پر چڑھاتے تھے۔‘‘یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے باعث خالی پڑے ہیں ۔ بے شک اس میں علم رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے۔
[138]﴿ وَجٰؔوَزۡنَا بِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ ﴾ ’’اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَ تَوۡا ﴾ ’’پس وہ پہنچے۔‘‘ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰۤى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ﴾ ’’ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰu سے کہا ﴿ يٰمُوۡسَى اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ﴾’’اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔‘‘ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ ﴾ ’’تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو‘‘ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
[139] بنابریں موسیٰu نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
[140] فرمایا ﴿ قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡؔكُمۡ اِلٰهًا ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ۔‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے‘‘ اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰؔكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’اور جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تمھیں فرعون اور آل فرعون سے نجات دی ﴿ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دیتے تھے وہ تم کو برا عذاب‘‘ انھوں نے تم پر بدترین عذاب مسلط کر رکھا تھا۔ ﴿يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ١ؕ وَفِيۡ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’کہ مار ڈالتے تھے تمھارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تھے تمھاری عورتوں کو اور اس میں ‘‘ یعنی ان کے عذاب سے نجات میں ۔ ﴿ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے جلیل ترین نعمت اور بے پایاں احسان تھا۔‘‘ یا اس کا معنی یہ ہیں کہ آل فرعون کی طرف سے تم پر جو عذاب مسلط تھا اس میں ، ’’تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
[142] پس جب حضرت موسیٰu نے ان کو وعظ و نصیحت کی تو وہ اس سے باز آگئے۔جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلا کر اور زمین میں اقتدار عطا کر کے ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی تو اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ شرعی احکام اور صحیح عقائد پر مشتمل کتاب نازل کر کے ان پر معنوی نعمت کی بھی تکمیل کر دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس راتیں اور شامل کر کے چالیس راتوں کی معیاد پوری کر دی تاکہ موسیٰu اللہ تعالیٰ کے وعدے کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لیں ۔ تاکہ اس کے نزول کا موقع ان کے ہاں ایک عظیم موقع ہو اور اس کے نزول کا انھیں اشتیاق ہو۔ جب موسیٰu اپنے رب کے مقرر کردہ وعدے پر جانے لگے تو انھوں نے ہارونu سے بنی اسرائیل کے بارے میں ، جن پر وہ بہت شفقت فرماتے تھے، وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ ﴾ ’’میرے بعد تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے اندر میرے خلیفہ ہو، ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو میں کیا کرتا تھا ﴿ وَاَصۡلِحۡ ﴾ ’’اصلاح کرتے رہنا۔‘‘ یعنی اصلاح کے راستے پر گامزن رہنا۔ ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’اور مفسدوں کی راہ مت چلنا‘‘ یہاں مفسدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔
[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔
[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔
[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔
[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔
[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔
[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔
[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔
[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔
[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔
[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔
[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔
[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔
[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔
[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘
[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔
[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔
[159] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤى اُمَّةٌ ﴾ ’’موسیٰ کی قوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ‘‘ ﴿ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’جو راہ بتلاتے ہیں حق کی اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ یعنی لوگوں کو تعلیم دے کر ان کی راہ نمائی کرتے ہیں ، ان کو فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے آپس کے جھگڑوں کے فیصلوں میں حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا١ؕ۫ وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ﴾(السجدۃ: 32؍24) ’’اور ان میں سے ہم نے راہ نما بنائے جو ہمارے حکم کے مطابق راہ نمائی کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے رہے اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے رہے‘‘۔اس آیت کریمہ میں امت موسیٰu کی فضیلت بیان ہوئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر پیشوا مقرر کیے جو اس کے حکم سے پیشوائی کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ کو یہاں بیان کرنا درحقیقت گزشتہ آیات کے مضامین سے احتراز کی ایک قسم ہے کیونکہ گزشتہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایسے معایب بیان فرمائے ہیں جو کمال کے منافی اور ہدایت کی ضد ہیں ۔ بسا اوقات کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ مذکورہ معایب میں بنی اسرائیل کے تمام لوگ شامل ہیں بنابریں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو راست رو، ہدایت یافتہ اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے تھے۔
[160]﴿ وَقَطَّعۡنٰهُمُ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو تقسیم کر دیا۔‘‘ ﴿ اثۡنَتَيۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا﴾ ’’بارہ قبیلوں (کی شکل) میں ، بڑی بڑی جماعتیں ‘‘ یعنی بارہ قبیلے بنا دیے جو ایک دوسرے کو پہچانتے تھے اور باہم الفت رکھتے تھے۔ حضرت یعقوبu کے ہر بیٹے کی اولاد ایک قبیلہ بنی۔ ﴿ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰۤى اِذِ اسۡتَسۡقٰىهُ قَوۡمُهٗۤ﴾ ’’اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی طرف، جب مانگا اس کی قوم نے اس سے پانی‘‘ یعنی جب انھوں نے موسیٰu سے مطالبہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں پانی عطا کرے جسے وہ خود پئیں اور اپنے مویشیوں کو پلائیں اور اس مطالبے کی وجہ یہ تھی ...واللہ اعلم... کہ وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جہاں پانی بہت کم دستیاب تھا۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے موسیٰu کی طرف وحی فرمائی ﴿ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ﴾ ’’اپنی لاٹھی اس پتھر پر مار‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ مذکورہ پتھر کوئی معین پتھر ہو اور اس میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ (اَلْحَجَر)اسم جنس کے لیے استعمال ہوا ہو جو ہر پتھر کو شامل ہے.... پس حضرت موسیٰu نے پتھر پر عصا مارا ﴿ فَانۢۡبـَجَسَتۡ ﴾ ’’(اس پتھر سے) پھوٹ پڑے‘‘ ﴿ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا ﴾’’بارہ چشمے‘‘ آہستہ آہستہ بہتے ہوئے۔﴿ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ﴾ ’’سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔‘‘ ان بارہ قبائل کے درمیان اس پانی کو تقسیم کر دیا گیا اور ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ مقرر کر دیا گیا اور انھوں نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا۔ پس انھوں نے اطمینان کا سانس لیا اور تھکاوٹ اور مشقت سے راحت پائی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام تھا۔ ﴿ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ ﴾ ’’اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا‘‘ پس یہ بادل انھیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ﴾ ’’اور اتارا ہم نے اوپر ان کے من‘‘ اس سے مراد میٹھا میوہ ہے ﴿ وَالسَّلۡوٰى ﴾ اس سے مراد پرندوں کا گوشت ہے، یہ بہترین اور لذیذ ترین قسم کے پرندوں کا گوشت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی راحت اور اطمینان کے لیے ان پر بیک وقت سایہ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لیے میٹھے میوے اور گوشت عطا کیا۔ ان سے کہا گیا:﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ١ؕ وَمَا ظَلَمُوۡنَا ﴾ ’’وہ ستھری چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمھیں دیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر جو چیز واجب قرار دی تھی اسے پورا نہ کر کے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر کے ہم پر ظلم نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو ہر بھلائی سے محروم کر لیا اور اپنے نفس کو شر اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں مبتلا کیا۔ یہ سب کچھ اس مدت کے دوران ہوا جب وہ بیابان میں سرگرداں تھے۔
[161] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةَ ﴾ ’’جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔‘‘ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ’’ایلیاء‘‘ یعنی ’’قدس‘‘ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ ﴾ ’’اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔‘‘ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوۡلُوۡا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا ﴾ ’’اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيۡٓــٰٔتِكُمۡ۠١ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو‘‘ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
[162] مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِيۡ قِيۡلَ لَهُمۡ ﴾ ’’دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا‘‘ پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان پر بھیجا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان سے سخت عذاب۔‘‘ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
[163]﴿وَسۡـَٔؔلۡهُمۡ ﴾ ’’ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے‘‘ ﴿ عَنِ الۡقَرۡيَةِ الَّتِيۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ﴾ ’’اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی‘‘ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِي السَّبۡتِ ﴾ ’’جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں ، ہفتے کے روز شکار نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا ﴾ ’’جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر‘‘ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں ۔ ﴿ وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ﴾ ’’اور جب سبت کا دن نہ ہوتا‘‘ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس نہ آتیں ۔‘‘ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے‘‘ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
[164]پس انھوں نے شکار کے لیے حیلہ کیا، وہ سمندر کے کنارے گڑھے کھود لیتے اور ان گڑھوں میں جال لگا دیتے۔ جب سبت کا دن آتا تو مچھلیاں ان گڑھوں میں آکر جال میں پھنس جاتیں اور وہ اس روز ان مچھلیوں کو نہ پکڑتے۔ جب اتوار کا دن آتا تو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ حیلہ ان میں بہت زیادہ ہوگیا اور اس بارے میں بنی اسرائیل تین گروہوں میں منقسم ہوگئے۔(۱)ان میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جنھوں نے علی الاعلان سبت کے قانون کو توڑنے کی جسارت کی۔(۲)دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے اعلانیہ ان کو ایسا کرنے سے روکا اور ان پر نکیر کی۔(۳) تیسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے انکار کرنے والوں کے انکار ہی کو کافی سمجھا (اور خود خاموش رہے) اور انھوں نے منع کرنے والوں سے کہا ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ایسے لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ نے ہلاک کرنا یا سخت عذاب دینا ہے‘‘ گویا وہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کو نصیحت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو اللہ تعالیٰ کے محارم کا ارتکاب کرتے ہیں اور خیر خواہوں کی بات پر کان نہیں دھرتے بلکہ اس کے برعکس ظلم اور تعدی پر جمے ہوئے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور ان کو سزا دے گا یا تو ان کو ہلاک کرے گا یا ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ نصیحت کرنے والے کہتے تھے کہ ہم تو ان کو نصیحت کرتے رہیں گے اور ان کو برائیوں سے روکتے رہیں گے۔ ﴿مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تمھارے رب کے ہاں عذر پیش کر سکیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور شاید کہ وہ پرہیز گار بن جائیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس نافرمانی کو ترک کر دیں جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں ، ہم ان کی ہدایت سے مایوس نہیں ہیں ، بسااوقات ان میں نصیحت کارگر ہو جاتی ہے اور ملامت اثر کر جاتی ہے اور برائی پر نکیر کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معذرت ہو تاکہ اس شخص پر حجت قائم ہو سکے جسے روکا گیا یا اسے کسی کام کا حکم دیا گیا ہو.... اور شاید اللہ تعالیٰ اسے ہدایت عطا کر دے اور وہ امرونہی کے تقاضوں پر عمل کر سکے۔
[165]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ ﴾ ’’جب انھوں نے اس چیز کو بھلادیا جس کی ان کو یاد دہانی کرائی گئی تھی‘‘ اور وہ اپنی گمراہی اور نافرمانی پر جمے رہے۔ ﴿اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ ﴾ ’’ہم نے ان کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے‘‘ اپنے بندوں کے بارے میں یہی سنت الٰہی ہے کہ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ اس عذاب سے نجات پاتے ہیں جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے رہے ہیں ۔ ﴿ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’اور پکڑ لیا ہم نے ظالموں کو‘‘ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ﴿ بِعَذَابٍۭ بَىِٕيۡسٍۭؔ ﴾ ’’برے عذاب میں ‘‘ یعنی سخت عذاب میں ۔ ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘رہا وہ گروہ جو برائی سے روکنے والوں سے کہا کرتا تھا: ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے‘‘… اہل تفسیر میں ان کی نجات اور ان کی ہلاکت کے بارے میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کو صرف ظالموں کے ساتھ مخصوص کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظالموں میں ذکر نہیں کیا۔ پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سزا خاص طور پر صرف ان لوگوں کو ملی تھی جنھوں نے سبت کی پابندی کو توڑا تھا۔ نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض کفایہ ہے جب کچھ لوگ اس فرض کو ادا کر رہے ہوں تو دوسرے لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھتے ہوئے اسے ناپسند کریں ۔ علاوہ ازیں انھوں نے (ان بدکردار لوگوں پر) ان الفاظ میں نکیر کی ﴿ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡ مَا ِ۟ ١ۙ اللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا ﴾ ’’تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا انھیں سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘پس انھوں نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار کر دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ان کا یہ فعل سخت ناپسند تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔
[166]﴿فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’پھر جب وہ بڑھ گئے اس کام میں جس سے وہ روکے گئے تھے‘‘ یعنی وہ نہایت سنگ دل ہوگئے۔ ان میں نرمی آئی نہ انھوں نے نصیحت حاصل کی۔ ﴿ قُلۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے ان سے کہا‘‘ یعنی قضا و قدر کی زبان میں ۔ ﴿ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِىِٕيۡنَ ﴾ ’’ہو جاؤ تم بندر ذلیل‘‘ پس وہ اللہ کے حکم سے بندر بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
[167] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ باقی بچ گئے تھے ان پر ذلت اور محکومی مسلط کر دی گئی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ ﴾ ’’جب تیرے رب نے آگاہ کردیا تھا‘‘ یعنی واضح طور پر بتا دیا۔ ﴿ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ﴾ ’’کہ ضرور بھیجتا رہے گا یہود پر قیامت کے دن تک ایسے شخص کو جو ان کو برا عذاب دیا کرے گا‘‘ جو ان کو ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک تیرا رب جلد عذاب کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اس شخص کو بہت جلد سزا دیتا ہے جو اس کی نافرمانی کرتا ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی اس پر جلدی سے عذاب بھیج دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنَّهٗ لَغَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو کوئی توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرتا ہے، اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی نیکیوں کو قبول فرماتا ہے وہ اسے ان نیکیوں پر انواع و اقسام کے ثواب عطا کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ سے ذلیل و خوار اور دوسروں کے محکوم چلے آرہے ہیں ان کی اپنی کوئی رائے نہیں اور نہ (دنيا كی انصاف پسند قوموں میں)ان کا کوئی مدد کرنے والا ہے۔
[168]﴿وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ اُمَمًا﴾ ’’اور ہم نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین میں منتشر کر دیا۔‘‘جبکہ پہلے وہ مجتمع تھے۔ ﴿ مِنۡهُمُ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’کچھ ان میں نیک ہیں ‘‘ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو پورا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور بعض اور طرح کے ہیں ۔‘‘ اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نیکی کے کم تر درجے پر فائز ہیں یا تو وہ نیکی میں متوسط قسم کے لوگ ہیں یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ ﴿وَبَلَوۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے اپنی عادت اور سنت کے مطابق ان کو آزمایا ﴿ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ ﴾ ’’خوبیوں میں اور برائیوں میں ‘‘ یعنی آسانی اور تنگی کے ذریعے سے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ لوٹ آئیں ۔‘‘ شاید کہ وہ ہلاکت کی وادی سے واپس لوٹ آئیں جس میں وہ مقیم ہیں اور اس ہدایت کی طرف رجوع کریں جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔ پس ان میں ہمیشہ سے نیک، بد اور متوسط لوگ موجود رہے ہیں ۔
[169]﴿فَخَلَفَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ ﴾ ’’پھر پیچھے آئے ان کے ناخلف‘‘ ان کا شر بڑھ گیا ﴿ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ ﴾ ’’وہ (ان کے بعد)کتاب کے وارث بن گئے‘‘ اور کتاب کے بارے میں لوگوں کا مرجع بن گئے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق کتاب میں تصرف شروع کر دیا۔ ان پر مال خرچ کیا جاتا تھا تاکہ وہ ناحق فتوے دیں اور حق کے خلاف فیصلے کریں اور ان کے اندر رشوت پھیل گئی۔﴿ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰؔذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’لیتے سامان ادنیٰ زندگی کا اور کہتے‘‘ یعنی یہ اقرار کرتے ہوئے کہ یہ ظلم اور گناہ ہے، کہتے ﴿ سَيُغۡفَرُ لَنَا﴾ ’’ہم کو معاف ہو جائے گا‘‘ ان کا یہ قول حقیقت سے خالی ہے کیونکہ درحقیقت یہ استغفار ہے نہ مغفرت کی طلب ہے۔ اگر انھوں نے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی ہوتی تو اپنے کیے پر ان کو ندامت ہوتی اور اس کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرتے.... مگر اس کے برعکس جب ان کو اور مال اور رشوت پیش کی جاتی تو اسے لے لیتے تھے۔ پس انھوں نے آیات الٰہی کو بہت تھوڑی قیمت پر فروخت کر دیا اور اچھی چیز کے بدلے گھٹیا چیز لے لی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان پر نکیر کرتے ہوئے اور ان کی جسارت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّؔيۡثَاقُ الۡكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَقَّ ﴾ ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا کہ نہ بولیں اللہ پر سوائے سچ کے‘‘ پس انھیں کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہشات نفس کے تحت اور طمع و حرص کی طرف میلان کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف باطل قول منسوب کرتے ہیں ۔ ﴿وَ﴾ دراں حالیکہ ﴿دَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ﴾ ’’انھوں نے اس کتاب کے مشمولات کو پڑھ بھی لیا ہے۔‘‘ پس انھیں اس بارے میں کوئی اشکال نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے جان بوجھ کر کیا ہے اور ان کو اس معاملے میں پوری بصیرت حاصل تھی اور ان کا یہ رویہ بہت بڑا گناہ، سخت ملامت کا موجب اور بدترین سزا کا باعث ہے اور یہ ان میں عقل کی کمی اور ان کی بے وقوفی پر مبنی رائے ہے کہ انھوں نے آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡن﴾ ’’اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں ‘‘ یعنی جو ان امور سے بچتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام ٹھہرا دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے خلاف فیصلے کے عوض رشوت کھانے سے اور دیگر محرمات سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ کیا تم میں وہ عقل نہیں جو یہ موازنہ کر سکے کہ کس چیز کو کس چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے اور کون سی چیز اس بات کی مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ اور کوشش کی جائے اور اسے دیگر تمام چیزوں پر مقدم رکھا جائے... عقل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ انجام پر نظر رکھتی ہے۔ رہا وہ شخص جو جلدی حاصل ہونے والی اور ختم ہو جانے والی نہایت حقیر اور خسیس چیز پر نظر رکھتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والی بہت بڑی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اس کے پاس عقل اور رائے کہاں ہے؟
[170] حقیقی عقل مند وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں وصف بیان کیا ہے ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ ﴾ ’’جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی علم و عمل کے لحاظ سے کتاب اللہ سے تمسک کرتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم رکھتے ہیں ۔ کتاب اللہ کے احکام و اخبار کا علم، جلیل ترین علم ہے۔ وہ کتاب اللہ کے اوامر کا علم رکھتے ہیں جن میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دلوں کا سرور، روح کی فرحت اور ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ ان مامورات میں سب سے بڑی چیز، جس کی پابندی واجب ہے، ظاہری اور باطنی طور پر نماز قائم کرنا ہے۔ بنابریں اس کی فضیلت و شرف، اس کے ایمان کی میزان و معیار ہونے اور اس کے قیام کا دوسری عبادات کے قیام کا سبب ہونے کے باعث اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان کا عمل تمام تر بھلائی پر مبنی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’ہم اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔‘‘ ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اپنے قول و اعمال اور نیتوں میں خود اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں ۔یہ آیت کریمہ اور اس نوع کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو فساد اور ضرر رساں امور کے ساتھ مبعوث نہیں کیا بلکہ اصلاح اور نفع رساں احکام کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور دنیا و آخرت کی اصلاح کی خاطر ان کو بھیجا گیا ہے۔ پس جو کوئی جتنا زیادہ صالح ہے اتنا ہی زیادہ ان کی اتباع کے قریب ہے۔
[171] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ ﴾ ’’اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ ان کے اوپر‘‘ یعنی جب انھوں نے تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر عمل کو لازم کر دیا اور ان کے سروں پر پہاڑ کو معلق کر دیا۔ پہاڑ ان پر یوں تھا ﴿ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ ’’گویا کہ وہ سائبان ہو اور وہ سمجھے کہ پہاڑ ان پر گرنے کو ہے۔‘‘ ان سے کہا گیا۔ ﴿خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ ﴾ ’’پکڑو جو ہم نے دیا ہے تم کو زور سے‘‘ یعنی پوری کوشش اور جہد سے پکڑے رہو۔ ﴿ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ ﴾ ’’اور یاد رکھو جو اس میں ہے‘‘ درس، مباحثے اور عمل کے ذریعے سے اس کے مضامین کو یاد رکھو۔ ﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘ جب تم یہ سب کچھ کر لو گے تو امید ہے کہ تم پرہیزگار بن جاؤ گے۔
7:172وَإِذۡ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِيٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَأَشۡهَدَهُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ أَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ شَهِدۡنَآۚ أَن تَقُولُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنۡ هَٰذَا غَٰفِلِينَ
اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔
7:173أَوۡ تَقُولُوٓاْ إِنَّمَآ أَشۡرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةٗ مِّنۢ بَعۡدِهِمۡۖ أَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ
اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔
7:174وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ
اور جب پکڑا( نکالا) آپ کے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کواور گواہ بنایا انھیں اوپر ان کی جانوں کے،(اور پوچھا) کیا نہیں ہوں میں تمھارا رب؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں! گواہی دیتے ہیں ہم (تاکہ نہ) کہو تم دن قیامت کے کہ ہم تو تھے اس بات سے غافل(172) یا (نہ) کہو تم بے شک شرک کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور تھے ہم اولاد (ان کی) بعد ان کے، کیا پس تو ہلاک کرتا ہے ہمیں بوجہ اس (فعل) کے جو کیا تھا گمراہ لوگوں نے(173) اوراسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں اور تاکہ وہ رجوع کریں(174)
[173,172] یعنی انسانوں کی صلبوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کے درمیان قرن بعد قرن سلسلہ تناسل و توالد جاری ہوا۔ ﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو ان کی ماؤں کے بطنوں اور ان کے آباء کی صلبوں سے نکالا ﴿اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ﴾ ’’اقرار کرایا ان سے ان کی جانوں پر، کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟‘‘ یعنی ان کی فطرت میں اپنے رب ہونے، ان کا خالق و مالک ہونے کا اقرار ودیعت کر کے اپنی ربوبیت کے اثبات کا اقرار کروایا۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ ہاں ! ہم نے اقرار کیا‘‘.... کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دین حنیف پر پیدا کیا ہے۔ پس ہرشخص کو دین حنیف پر تخلیق کیا گیا ہے۔ مگر عقل پر عقائد فاسدہ کے غلبہ کی وجہ سے کبھی کبھی فطرت میں تغیر و تبدل واقع ہو جاتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَالُوۡا بَلٰى شَهِدۡنَا١ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰؔذَا غٰفِلِيۡنَ﴾ ’’وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں ، کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔‘‘ یعنی ہم نے تمھارا امتحان لیا حتی کہ تم نے اس بات کا اقرار کیا، جو تمھارے نزدیک ثابت ہے کہ اللہ تمھارا رب ہے اور ہم نے یہ امتحان اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز انکار نہ کر دو اور کسی بھی چیز کا اقرار نہ کرو اور یہ دعویٰ کرنے لگو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوئی اور اس بارے میں تمھارے پاس کوئی علم نہ تھا بلکہ اس بارے میں تم بالکل لاعلم اور غافل تھے۔ پس آج تمھاری حجت منقطع ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی حجت تم پر قائم ہوگئی۔ یا تم ایک اور حجت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہو ﴿اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَؔكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’یہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا تھا اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد ہوئے۔‘‘پس ہم ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے باطل میں ہم نے ان کی پیروی کی۔ ﴿اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تو ہم کو ایسے فعل پر ہلاک کرتا ہے جو گمراہوں نے کیا‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمھاری فطرت میں ایسی چیز ودیعت کر دی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ تمھارے آباء و اجداد کے پاس تھا وہ باطل تھا اور حق وہ ہے جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں اور یہ حق اس چیز کے خلاف اور اس پر غالب ہے جس پر تم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا۔ہاں ! کبھی کبھی اپنے گمراہ آباء و اجداد کے بعض ایسے اقوال اور فاسد نظریات بندے کے سامنے آتے ہیں جنھیں وہ حق سمجھ بیٹھتا ہے اور ان کو حق سمجھنے کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے براہین، اس کے دلائل اور آفاق و انفس میں اس کی آیات سے گریز کرتا ہے۔ اس کا یہ گریز اور اہل باطل کے نظریات کی طرف اس کا متوجہ ہونا اس کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ باطل کو حق پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ان آیات کریمہ کی تفسیر میں یہی قرین صواب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے جناب آدمu کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکال کر ان سے عہد لیا اور ان کو خود ان کی ذات پر گواہ بنایا اور انھوں نے یہ گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان کو جو حکم دیا تھا اس کو دنیا و آخرت میں ان کے کفر و عناد میں ان کے ظلم کے خلاف ان پر حجت بنایا.... مگر آیت کریمہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس قول کی تائید کرتی ہو یا اس سے مناسبت رکھتی ہو... نہ حکمت الٰہی اس کا تقاضا کرتی ہے۔ اور واقعہ اس کا شاہد ہے، اس لیے کہ وہ عہد اور میثاق جس کا یہ لوگ ذکر کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی ذریت کو ان کی پیٹھ سے نکالا اس وقت وہ چیونٹی کی مانند تھی، یہ عہد کسی کو یاد نہیں اور نہ کسی آدمی کے خیال میں اس میثاق کا گزر ہوا ہے ... پس اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو بندوں کے خلاف کیسے دلیل بنا سکتا ہے جس کی انھیں کوئی خبر ہی نہیں جس کی کوئی حقیقت ہے نہ اثر؟(آیت ﴿واذااخذ ربك…﴾ کی تفسیر میں مفسرین کی زیادہ تر دو رائے ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے فاضل مفسر رحمہ اللہ نے اختیار کی ہے کہ ربوبیت الٰہی کا اقرار و اعتراف اور اس کی گواہی سے مراد، توحید الٰہی پر انسان کی تخلیق ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں اللہ کی عظمت و محبت اور اس کی وحدانیت ودیعت کردی گئی ہے، حافظ ابن کثیر کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔ اس تفسیر کی رو سے عالم واقعات میں ایسا نہیں ہوا ہے، بلکہ یہ ایک تمثیل ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تمثیل نہیں ہے۔بلکہ ایک واقعہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صلب آدم سے (براہ راست) پیدا ہونے والے انسانوں کو اور پھر بنی آدم کی صلبوں سے نسلاً بعد نسل پیدا ہونے والے انسانوں کو چیونٹی کی شکل میں نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہدو اقرار لیا۔ اس کی تائید میں بعض صحیح احادیث بھی ہیں اور صحابۂ کرام کے آثار و اقوال بھی اس کی مختصر تفصیل تفسیر ’’احسن البیان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی لیے امام شوکانی نے اسی تفسیر کو راجح اور صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں فاضل مفسر کا اس دوسری رائے کو یکسر غیر صحیح قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ باقی رہا یہ اعتراض کہ یہ عہد و اقرار کسی کو یاد ہی نہیں ہے تو اس پر گرفت کیوں کر صحیح ہوسکتی ہے؟ تو یہی اعتراض پہلی تفسیر پر بھی ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کا انسان کی فطرت میں ودیعت کردینا کیا اس با کے لیے کافی ہے کہ وہ اس کی پابندی کرے‘ جب کہ اسے اس بات کا شعور و ادراک ہی نہیں ہے؟ اس کی جو توجیہ ہوسکتی ہے، دوسری تفسیر میں بھی وہی توجیہ ہے (ص۔ی)
[174] چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں ‘‘ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں ، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ۔
7:175وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱلَّذِيٓ ءَاتَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
7:176وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخۡلَدَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلۡكَلۡبِ إِن تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ أَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَثۚ ذَّـٰلِكَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۚ فَٱقۡصُصِ ٱلۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
7:177سَآءَ مَثَلًا ٱلۡقَوۡمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَأَنفُسَهُمۡ كَانُواْ يَظۡلِمُونَ
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
7:178مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِيۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
اور پڑھیے ان پر خبر اس شخص کی کہ دی تھیں ہم نے اسے اپنی آیتیں، پس نکل گیا وہ ان سے تو پیچھے لگا لیا اس کو شیطان نے پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے(175) اوراگر چاہتے ہم تو البتہ بلند کرتے اس کو بسبب ان (آیات) کے لیکن وہ جھک پڑا طرف زمین کی اور پیچھے لگ گیا وہ اپنی خواہش کے، پس مثال اس کی مانند مثال کتے کی ہے کہ اگر بوجھ لا دے تو اس پر تو بھی وہ ہانپتا ہے یا چھوڑ دے تو اس کو تو بھی ہانپتا ہے، یہی مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پس بیان کریں آپ یہی واقعات تاکہ وہ غور و فکر کریں(176) بری ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اوراپنی جانوں پر تھے وہ ظلم کرتے(177) جسے ہدایت دے اللہ پس وہی ہے ہدایت یافتہ اور جسے گمراہ کردے (اللہ) تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(178)
[175]﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِيۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا ﴾’’اور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ‘‘ یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانۡسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ ’’پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا)﴿ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔‘‘ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
[176] کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے‘‘ یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ ﴾ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ ہو رہا زمین کا‘‘ یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ﴾ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ ﴾ ’’تو اس کی مثال۔‘‘ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الۡكَلۡبِ١ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُؔكۡهُ يَلۡهَثۡ﴾ ’’جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے‘‘ یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں ۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
[177]﴿ سَآءَؔ مَثَلَا ِ۟ الۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انھوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔‘‘ یعنی اس شخص کی بہت بری مثال ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی کے ذریعے سے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ پس ان کی مثال بدترین مثال ہے۔ یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، احتمال ہے کہ اس سے کوئی معین شخص مراد ہو جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور بندوں کو تنبیہ کے لیے یہ قصہ بیان کیا اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اسم جنس ہو اور اس کے عموم میں ہر وہ شخص شامل ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کا علم عطا کیا ہو اور وہ ان سے نکل بھاگا ہو۔ان آیات کریمہ میں علم پر عمل کرنے کی ترغیب ہے۔ نیز یہ کہ علم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ صاحب علم کو رفعت عطا کرتا اور شیطان سے بچاتا ہے۔ نیز ان آیات کریمہ میں علم پر عدم عمل سے ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ اگر علم پر عمل نہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عمل نہ کرنے والے کو اسفل سافلین کے درجے پر اتار دیتا ہے اور اس پر شیطان کو مسلط کر دیتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے اور شہوات میں دھنس جاتا ہے تو یہ چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے۔
[178] پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ راہ راست دکھانا اور گمراہ کرنا صرف اسی اکیلے کے قبضۂ قدرت میں ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ ﴾ ’’جس کو اللہ ہدایت دے۔‘‘ یعنی نیکیوں کی توفیق عطا کر کے اللہ تعالیٰ جسے راہ راست دکھا دے اور ناپسندیدہ امور سے بچا لے اور ان چیزوں کے علم سے نواز دے جنھیں وہ نہیں جانتا تھا ﴿فَهُوَ الۡمُهۡتَدِيۡ﴾ ’’تو وہی حقیقی ہدایت یافتہ ہے‘‘ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو ترجیح دی۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کردے۔‘‘ یعنی جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بھلائی کی توفیق سے محروم کر کے وہ گمراہ کر دے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالنے والے ہیں ۔ خبردار! یہی کھلا خسارہ ہے۔
7:179وَلَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ
اور البتہ تحقیق پیدا کیے ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جن اورانسان، ان کے دل ہیں (لیکن) نہیں سمجھتے وہ ساتھ ان کے (حق کو) اوران کی آنکھیں ہیں (لیکن) نہیں دیکھتے وہ ساتھ ان کےاوران کے کان ہیں(لیکن) نہیں سنتے وہ ساتھ ان کے(حق)، یہی لوگ ہیں مانند چوپایوں کےبلکہ وہ (ان سے) بھی زیادہ گمراہ ہیں، یہی لوگ ہیں غافل(179)
[179] اللہ تبارک و تعالیٰ راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ لوگوں اور شیطان لعین کے پیروکاروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ ذَرَاۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی ہم نے پیدا کیا اور پھیلایا ﴿ لِجَهَنَّمَ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ﴾ ’’جہنم کے لیے بہت سے جن اور آدمی‘‘ پس چوپائے بھی ان سے بہتر حالت میں ہیں ۔ ﴿ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ بِهَا﴾ ’’ان کے دل ہیں ، جن سے وہ سمجھتے نہیں ‘‘ یعنی علم اور سمجھ ان تک راہ نہیں پاتے، سوائے ان کے خلاف قیام حجت کے ﴿ وَلَهُمۡ اَعۡيُنٌ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ بِهَا﴾ ’’ان کی آنکھیں ہیں ، جن سے وہ دیکھتے نہیں ‘‘ یعنی وہ ان آنکھوں سے اس طرح نہیں دیکھتے کہ دیکھنا ان کے لیے فائدہ مند ہو بلکہ انھوں نے اپنی بینائی کی منفعت اور فائدے کو کھو دیا۔ ﴿ وَلَهُمۡ اٰذَانٌ لَّا يَسۡمَعُوۡنَ بِهَا﴾ ’’ان کے کان ہیں ، جن سے وہ سنتے نہیں ‘‘ وہ ان کانوں سے اس طرح نہیں سنتے کہ ان کے دلوں تک معانی و مفاہیم پہنچ جائیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان اوصاف قبیحہ کے حامل ہیں ﴿كَالۡاَنۡعَامِ﴾ ’’چوپاؤں کی مانند ہیں ‘‘ جو عقل سے محروم ہیں ۔ انھوں نے فانی چیزوں کو ان چیزوں پر ترجیح دی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں پس ان سے عقل کی خاصیت سلب کر لی گئی۔ ﴿بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ ﴾ ’’بلکہ وہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ چوپاؤں سے بھی زیادہ گمراہ اور بے سمجھ ہیں کیونکہ بہائم سے تو وہ کام لیے جاتے ہیں جن کاموں کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے، ان کے ذہن ہیں جن کے ذریعے سے وہ مضرت و منفعت کا ادراک کرتے ہیں ۔ بنابریں چوپایوں کا حال ان کے حال سے اچھا ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں غافل‘‘ جو سب سے زیادہ نفع مند چیز سے غافل ہیں وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی اطاعت اور اس کے ذکر سے غافل ہیں حالانکہ ان کو دل، کان اور آنکھیں عطا کی گئیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں ان سے مدد لیں لیکن انھوں نے اس مقصد کے برعکس امور کے لیے ان کو استعمال کیا۔ پس یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے تخلیق کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جھونکنے کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ لوگ اہل جہنم کے اعمال سر انجام دے رہے ہیں ۔رہا وہ شخص جو ان جوارح کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے، جس کا قلب اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی محبت کے رنگ میں رنگ جاتا ہے اور وہ اللہ سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ پس ایسے ہی لوگ اہل جنت ہیں اور وہ اہل جنت کے اعمال سرانجام دیتے ہیں ۔
7:180وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَـٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے، سو تم پکارو اسے ساتھ ان (ناموں) کےاور چھوڑ دو ان لوگوں کو کج روی اختیار کرتے ہیں اس کے ناموں میں عنقریب بدلہ دیے جائیں گے وہ اس کا جو تھے وہ عمل کرتے(180)
[180] یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے جلال کی عظمت اور اس کے اوصاف کی وسعت کو بیان کرتی ہے نیز یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اسمائے حسنیٰ ہیں ، یعنی اس کا ہر نام اچھا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام ایک عظیم صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے ان اسماء کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے۔ اگر یہ اسماء صفات پر دلالت نہ کرتے بلکہ محض علم ہوتے تو یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہ ہوتے اس طرح اگر یہ اسماء کسی ایسی صفت پر دلالت کرتے جو صفت کمال نہ ہو بلکہ اس کے برعکس صفت نقص یا صفت منقسم ہوتے یعنی بہ یک وقت مدح و قدح پر دلالت کرتے تب بھی یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہیں کہلا سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم پوری صفت پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ اسم مشتق ہے اور وہ اس صفت کے تمام معنی کو شامل ہے۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک (اَلْعَلِیم) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے علم کا مالک ہے جو عام ہے اور تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، پس زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں ۔ اس کا اسم مبارک (اَلرَّحِیم) دلالت کرتا ہے کہ وہ عظیم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (اَلْقَدِیر) دلالت کرتا ہے کہ وہ قدرت عامہ کا مالک ہے کوئی چیز بھی اس کی قدرت کو عاجز اور لاچار نہیں کر سکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کا کامل طور پر (حُسْنٰی) ہونا یہ ہے کہ اس کو ان اسماء حسنیٰ کے سوا کسی اور اسم سے نہ پکارا جائے بنابریں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾’’پس اس کو انھی ناموں سے پکارو‘‘ اور اس دعا میں دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں شامل ہیں ۔ پس ہر مطلوب میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اس اسم مبارک سے پکارا جائے جو اس مطلوب سے مناسبت رکھتا ہے۔پس دعا مانگنے والا یوں دعا مانگے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ’’اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر‘‘ ’’اے رزق دینے والے مجھے رزق عطا کر‘‘ اور ’’اے لطف و کرم کے مالک مجھے اپنے لطف سے نواز...‘‘ وغیرہ۔﴿ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِيۡۤ اَسۡمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ، عنقریب ان کو ان کے عملوں کا بدلہ دیا جائے گا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کی پاداش میں انھیں سخت سزا اور عذاب دیا جائے گا اور الحاد کی حقیقت یہ ہے کہ ان اسماء کو ان معانی سے ہٹا کر جن کے لیے ان کو وضع کیا گیا ہے، دوسری طرف موڑنا، (اور اس کی مختلف صورتیں ہیں )۔ (۱) ان ناموں سے ایسی ہستیوں کو موسوم کرنا جو ان ناموں کی مستحق نہیں ، مثلاً: مشرکین کا اپنے معبودوں کو ان ناموں سے موسوم کرنا۔ (۲) ان اسماء کے اصل معانی مراد کی نفی اور ان میں تحریف کر کے، ان کے کوئی اور معانی گھڑ لینا، جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں ۔ (۳) ان اسماء سے دوسروں کو تشبیہ دینا۔ پس واجب ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں الحاد سے بچا جائے اور اسماء میں الحاد کرنے والوں سے دور رہا جائے۔ صحیح حدیث میں نبئ اکرمﷺ سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کر لیتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الشروط، باب مایجوزمن الاشتراط والثنیا فی الإقرار… الخ، ح: 2736)
7:181وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَآ أُمَّةٞ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ
اوران میں سے جنھیں پیدا کیا ہم نے ایک جماعت جو رہنمائی کرتی ہے ساتھ حق کےاور ساتھ اسی کے وہ عدل کرتی ہے(181)
[181]﴿ وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان تمام لوگوں میں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک ایسا گروہ بھی ہے جو فضیلت کا مالک ہے، جو خود کامل ہے اور دوسروں کی حق کی طرف راہ نمائی کرتا ہے، یہ لوگ حق کا علم رکھتے ہیں ، اس پر عمل کرتے ہیں ، حق کی تعلیم دیتے، اس کی طرف بلاتے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ﴿ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ‘‘ جب وہ لوگوں کے مال، خون، حقوق اور ان کے مقالات وغیرہ کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں تو حق کی بنیاد پر انصاف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ائمہ ہدی اور تاریکیوں میں روشن قندیل ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان، عمل صالح، حق کی وصیت اور صبر کی وصیت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ رسالت کے بعد ہے اور خود ان کے مراتب میں ان کے احوال اور قدر و منزلت کے مطابق تفاوت ہے۔پس پاک ہے وہ ذات جو اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتی ہے، مختص کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تکذیب کی، جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہونے والی کتاب اور ہدایت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ، پس انھوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو قبول نہ کیا ﴿سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان کو آہستہ آہستہ ایسی جگہ سے پکڑیں گے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہوگی‘‘ یعنی اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کو وافر رزق بہم پہنچاتا ہے۔
7:182وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
7:183وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
7:184أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٌ
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
7:185أَوَلَمۡ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ وَأَنۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقۡتَرَبَ أَجَلُهُمۡۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
7:186مَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُۥۚ وَيَذَرُهُمۡ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
7:187يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّيۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقۡتِهَآ إِلَّا هُوَۚ ثَقُلَتۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا تَأۡتِيكُمۡ إِلَّا بَغۡتَةٗۗ يَسۡـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ
سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے واقع ہونا اس کا؟ کہہ دیجیے! یقینا اس کا علم نزدیک میرے رب ہی کے ہے، نہیں ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی، بھاری (حادثہ) ہے وہ (قیامت) آسمانوں اورزمین میں، نہیں آئے گی وہ تمھارے پاس مگر اچانک ہی، وہ (لوگ) سوال کرتے ہیں آپ سے گویا کہ آپ پوری تحقیق کرچکے ہیں اس کی بابت، فرما دیجیے! اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(187) کہہ دیجیے! نہیں اختیار رکھتا میں اپنی جان کے لیے نفع کا اور نہ نقصان کا مگر جو چاہے اللہ اوراگر ہوتا میں جانتا غیب تو البتہ بہت حاصل کرلیتا میں بھلائیاں اور نہ پہنچتی مجھے تکلیف ، نہیں ہوں میں (کچھ بھی) مگر ڈرانے والا (کافروں کو) اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں(188)
[187] اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپﷺ سے پوچھتے ہیں ۔ ﴿ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا ﴾ ’’قیامت کے بارے میں ، کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔‘‘ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ ﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ ﴿ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾ ’’وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔‘‘ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا ﴿ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معاملہ ان کے لیے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے بہت خوف زدہ ہیں ۔ ﴿ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾ ’’اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔‘‘ یہ گھڑی اچانک انھیں اس طرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لیے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا ﴾’’یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔‘‘ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انھوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ۔ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اسی لیے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال نہیں کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انھوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔
[188]﴿قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِيۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے نفس کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا‘‘ اس لیے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں ، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ﴿وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَا سۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ١ۛۖۚ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوۡٓءُ﴾ ’’اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی‘‘ یعنی میں وہ اسباب مہیا کر لیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ ﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور اخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَّبَشِيۡرٌ ﴾ ’’اور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔‘‘ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبئ اکرمﷺ کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لیے حضورﷺ کو پکارتا ہے.... کیونکہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا نہ چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرر دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپﷺ کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدے پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لیے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لیے حد درجہ بیان اور توضیح ہے۔
7:188قُل لَّآ أَمۡلِكُ لِنَفۡسِي نَفۡعٗا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ وَلَوۡ كُنتُ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ لَٱسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ ٱلۡخَيۡرِ وَمَا مَسَّنِيَ ٱلسُّوٓءُۚ إِنۡ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ وَبَشِيرٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
سوال کرتے ہیں آپ سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے واقع ہونا اس کا؟ کہہ دیجیے! یقینا اس کا علم نزدیک میرے رب ہی کے ہے، نہیں ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی، بھاری (حادثہ) ہے وہ (قیامت) آسمانوں اورزمین میں، نہیں آئے گی وہ تمھارے پاس مگر اچانک ہی، وہ (لوگ) سوال کرتے ہیں آپ سے گویا کہ آپ پوری تحقیق کرچکے ہیں اس کی بابت، فرما دیجیے! اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(187) کہہ دیجیے! نہیں اختیار رکھتا میں اپنی جان کے لیے نفع کا اور نہ نقصان کا مگر جو چاہے اللہ اوراگر ہوتا میں جانتا غیب تو البتہ بہت حاصل کرلیتا میں بھلائیاں اور نہ پہنچتی مجھے تکلیف ، نہیں ہوں میں (کچھ بھی) مگر ڈرانے والا (کافروں کو) اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں(188)
[187] اللہ تبارک و تعالیٰ جناب محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَكَ ﴾ ’’آپ سے پوچھتے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ جھٹلانے والے اور تلبیس کی غرض سے سوال کرنے والے آپﷺ سے پوچھتے ہیں ۔ ﴿ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰؔىهَا ﴾ ’’قیامت کے بارے میں ، کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔‘‘ یعنی وہ وقت کب ہوگا جب قیامت کی گھڑی آئے گی اور مخلوق میں قیامت قائم ہوگی۔ ﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے‘‘ یعنی قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ ﴿ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَ﴾ ’’وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا۔‘‘ یعنی وہ وقت جو اس کے قائم ہونے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے، صرف اللہ تعالیٰ ہی ظاہر کرے گا ﴿ ثَقُلَتۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’وہ بھاری بات ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ یعنی زمین و آسمان کے رہنے والوں پر قیامت کی گھڑی مخفی ہے، اس گھڑی کا معاملہ ان کے لیے نہایت شدید اور وہ اس گھڑی سے بہت خوف زدہ ہیں ۔ ﴿ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً﴾ ’’اور وہ ناگہاں تم پر آجائے گی۔‘‘ یہ گھڑی اچانک انھیں اس طرح آئے گی کہ وہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہوگی اور اس کے لیے وہ تیار بھی نہ ہوں گے۔ ﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَا ﴾’’یہ آپ سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔‘‘ وہ اس گھڑی کے بارے میں آپ سے سوال کرنے کے بہت خواہش مند ہیں گویا کہ آپ اس سوال کے متعلق پورا علم رکھتے ہیں اور انھوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ باوجود اس بات کے کہ آپ کو اپنے رب کی بابت کمال علم حاصل ہے اور یہ کہ رب سے کون سی بات پوچھنی فائدہ مند ہے، آپ ایسے سوال کی پروا نہیں کرتے تھے جو مصلحت سے خالی ہوتا اور جس کا جاننا ناممکن ہوتا، قیامت کی گھڑی کو کوئی رسول جانتا ہے نہ کوئی مقرب فرشتہ۔ اور اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل حکمت اور وسیع علم کی بنا پر مخلوق سے مخفی رکھا ہے۔﴿ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اس قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اسی لیے وہ اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی خواہش کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جو ان اہم امور کے بارے میں تو سوال نہیں کرتے، جن کے بارے میں علم حاصل کرنا ان پر فرض ہے اور ان امور کے بارے میں سوال کرتے ہیں جن کے بارے میں حصول علم کی کوئی سبیل نہیں ہوتی، نہ ان سے یہ مطالبہ ہی کیا جائے گا کہ انھوں نے اس کا علم حاصل کیوں نہیں کیا۔
[188]﴿قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِيۡ نَفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تو اپنے نفس کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا‘‘ اس لیے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں ، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ﴿وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَا سۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ١ۛۖۚ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوۡٓءُ﴾ ’’اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی‘‘ یعنی میں وہ اسباب مہیا کر لیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہو جاتے ہیں ۔ اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ ﴿ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ ﴾ ’’میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور اخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَّبَشِيۡرٌ ﴾ ’’اور خوشخبری سنانے والا ہوں ۔‘‘ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں ۔ مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبئ اکرمﷺ کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لیے حضورﷺ کو پکارتا ہے.... کیونکہ رسول اللہﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا نہ چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرر دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپﷺ کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدے پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لیے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لیے حد درجہ بیان اور توضیح ہے۔
7:189۞هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ إِلَيۡهَاۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيفٗا فَمَرَّتۡ بِهِۦۖ فَلَمَّآ أَثۡقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ ءَاتَيۡتَنَا صَٰلِحٗا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
7:190فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحٗا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَاۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
7:191أَيُشۡرِكُونَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
7:192وَلَا يَسۡتَطِيعُونَ لَهُمۡ نَصۡرٗا وَلَآ أَنفُسَهُمۡ يَنصُرُونَ
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
7:193وَإِن تَدۡعُوهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمۡۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ أَدَعَوۡتُمُوهُمۡ أَمۡ أَنتُمۡ صَٰمِتُونَ
وہی ہے (اللہ) جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے اور بنایا اس نے اس سے اس کا جوڑاتاکہ وہ سکون حاصل کرے اس سے، پس جب صحبت کی اس نے بیوی سے تو اٹھایا اس نے حمل ہلکا، پس وہ لیے پھرتی رہی اس کو، سو جب بوجھل ہو گئی وہ تو دعا کی ان دونوں نے اللہ، اپنے رب سے کہ اگر دیا تو نے ہمیں تندرست (بچہ) تو ہوں گے ہم شکر گزاروں میں سے(189) پس جب دیا اللہ نے انھیں تندرست (بچہ) تو بنا لیے انھوں نے اللہ کے شریک اس میں جو دیا تھا اس نے انھیں پس بلند تر ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں(190) کیا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ان کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز بھی اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191) اور نہیں طاقت رکھتے وہ، ان (مشرکین) کی مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(192) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہیں پیروی کریں گے وہ تمھاری، برابر ہے اوپر تمھارے خواہ تم بلاؤ ان کو یا ہوتم خاموش رہنے والے(193)
[189]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔‘‘اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’ایک جان سے۔‘‘ اور وہ ہیں ابوالبشر آدمu۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾ ’’اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا‘‘ یعنی آدمu سے ان کی بیوی حوا [ کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا ﴾ ’’تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے‘‘ چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں ۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا ﴾ ’’سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔‘‘ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا ﴾ ’’حمل رہا ہلکا ساحمل‘‘ یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ ﴾ ’’پس جب‘‘ یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثۡقَلَتۡ ﴾ ’’بوجھل ہوگئی‘‘ یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنۡ اٰتَيۡتَنَا ﴾ ’’دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو‘‘ یعنی بچہ ﴿صَالِحًا ﴾ ’’صحیح و سالم‘‘ یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔‘‘
[190]﴿ فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا ﴾ ’’پس جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے۔‘‘ یعنی ان کی دعا قبول کرتے ہوئے جب ان کو صحیح سالم بچہ عطا کیا اور اس بارے میں ان پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دی ﴿ جَعَلَا لَهٗ شُرَؔكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰىهُمَا ﴾ ’’تو اس میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس بچے کے عطا ہونے پر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔ جس کو اکیلا اللہ تعالیٰ وجود میں لایا ہے اس نے یہ نعمت عطا کی ہے اور اسی نے یہ بچہ عطا کر کے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ پس انھوں نے اپنے بیٹے کو غیر اللہ کا بندہ بنا دیا۔ یا تو اسے غیر اللہ کے بندے کے طور پر موسوم کر دیا ، مثلاً: ’’عبدالحارث‘‘ ’’عبدالعزیٰ‘‘ اور ’’عبدالکعبہ‘‘ وغیرہ۔ یا انھوں نے یہ کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان نعمتوں سے نوازا جن کا شمار کسی بندے کے بس سے باہر ہے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کیا۔کلام میں یہ انتقال نوع سے جنس کی طرف انتقال کی قسم شمار ہوتا ہے کیونکہ کلام کی ابتدا آدم اور حوا کے بارے میں ہے پھر کلام آدم و حوا سے جنس کی طرف منتقل ہوگیا.... اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شرک، آدم و حوا کی ذریت میں بہت کثرت سے موجود ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے شرک کے بطلان کا اقرار کروایا ہے نیز یہ کہ وہ اس بارے میں سخت ظالم ہیں ، خواہ یہ شرک اقوال میں ہو یا افعال میں .... کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ان سب کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس جان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان میں سے ان کے جوڑے پیدا کیے پھر ان کے درمیان مودت و محبت پیدا کی جس کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے پاس سکون پاتے ہیں ، ایک دوسرے کے لیے الفت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف ان کی راہ نمائی فرمائی جس سے شہوت، لذت، اولاد اور نسل حاصل ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے وقت مقررہ تک ماؤں کے بطن میں اولاد کو وجود عطا کیا۔ وہ بڑی امیدوں کے ساتھ اولاد کی پیدائش کا انتظار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صحیح سالم ماں کے پیٹ سے باہر لائے۔ پس (اس دعا کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نعمت پوری کر دی اور ان کو ان کا مطلوب عطا کر دیا۔ تب کیا اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اسی کے لیے اطاعت کو خالص کریں ؟
[192,191] مگر معاملہ اس کے برعکس ہے، انھوں نے ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا ﴿ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ لَهُمۡ﴾ ’’جو پیدا نہ کریں کوئی چیز بھی اور وہ پیدا ہوئے ہیں اور نہیں کر سکتے وہ ان کے لیے‘‘ یعنی اپنے عبادت گزاروں کے لیے ﴿ نَصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ﴾ ’’مدد اور نہ اپنی ہی مدد کریں ‘‘ کسی کی مدد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں ۔جب (شریک ٹھہرائی ہوئی اس ہستی کی) یہ حالت ہو کہ وہ پیدا نہ کر سکتی ہو، ایک ذرہ بھی پیدا کرنے پر قادر نہ ہو بلکہ وہ خود مخلوق ہو اور وہ اپنے عبادت گزار سے کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو بلکہ خود اپنی ذات سے بھی کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرنے پر قادر نہ ہو تو بھلا اس کو اللہ کے ساتھ کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ بلاشبہ یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی حماقت ہے۔
[193]﴿ وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ﴾ ’’اور اگر تم ان کو پکارو۔‘‘ یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، پکارو ﴿ اِلَى الۡهُدٰؔى لَا يَتَّبِعُوۡؔكُمۡ١ؕ سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴾ ’’راستے کی طرف تو نہ چلیں تمھاری پکار پر، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا چپکے ہو رہو‘‘ ان معبودوں سے تو انسان ہی اچھا ہے کیونکہ یہ معبود سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ یہ کسی کی راہ نمائی کر سکتے ہیں نہ ان کی راہ نمائی کی جا سکتی ہے۔ ایک عقل مند شخص جب ان تمام امور کو مجرد طور پر اپنے تصور میں لاتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی الوہیت باطل ہے اور جو کوئی ان کی عبادت کرتا ہے وہ بے وقوف ہے۔
7:194إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمۡثَالُكُمۡۖ فَٱدۡعُوهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لَكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘
7:195أَلَهُمۡ أَرۡجُلٞ يَمۡشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَيۡدٖ يَبۡطِشُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ يُبۡصِرُونَ بِهَآۖ أَمۡ لَهُمۡ ءَاذَانٞ يَسۡمَعُونَ بِهَاۗ قُلِ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ
بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘
7:196إِنَّ وَلِـِّۧيَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡكِتَٰبَۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّـٰلِحِينَ
بے شک وہ لوگ جنھیں پکارتے ہوتم اللہ کو چھوڑ کر،(وہ تو) بندے ہیں تم جیسے ہی، سو پکارو تم انھیں، پس چاہیے کہ جواب دیں وہ تمھیں، اگر ہوتم سچے(194) کیا ان کے ایسے پیر ہیں کہ چلتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے ہاتھ ہیں کہ پکڑتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کی ایسی آنکھیں ہیں کہ دیکھتے ہیں وہ ان سے؟ کیا ان کے ایسے کان ہیں کہ وہ سنتے ہیں ان سے؟ کہہ دیجیے! بلاؤ تم اپنے شریکوں کو، پھر تدبیر کرو تم میرے خلاف اورنہ مہلت دو تم مجھے(195) بلاشبہ میرا کار ساز تو اللہ ہی ہے جس نے نازل کیا ہے یہ کتاب اور وہی کارسازی کرتا ہے صالحین کی(196)
[194] یہ بتوں کے پوجنے والے مشرکین کو مقابلے کی دعوت ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُكُمۡ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، تم جیسے ہی بندے ہیں ‘‘ ان کے اور تمھارے درمیان کوئی فرق نہیں ، تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے غلام ہو۔ اگر تم اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہو کہ یہ ہستیاں جن کو تم نے معبود بنارکھا ہے عبادت کی مستحق ہیں ﴿ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكُمۡ ﴾ ’’تو تم انھیں پکارو، پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کا جواب دیں ۔‘‘پس اگر وہ تمھاری پکار کا جواب دے دیں اور تمھارا مطلوب حاصل ہو جائے.... ورنہ ثابت ہوگیا کہ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو اور اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان لگا رہے ہو۔
[195] یہ چیز کوئی وضاحت کی محتاج نہیں کیونکہ اگر تم ان کی طرف دیکھو تو ان کی شکل ہی دلالت کرتی ہے کہ ان کے پاس کوئی نفع مند چیز نہیں ... ان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ، پکڑنے کے لیے ہاتھ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان نہیں ۔ یہ تمام اعضاء و قویٰ سے محروم ہیں جو انسان میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ جواب نہیں دے سکتے۔ تو یہ تمھاری ہی مانند بندے ہیں بلکہ تم ان سے زیادہ کامل اور ان سے زیادہ طاقت ور ہو۔ تب کس بنا پر تم ان کی عبادت کرتے ہو؟ ﴿ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پکارو اپنے شریکوں کو، پھر برائی کرو میرے حق میں اور مجھ کو ڈھیل نہ دو‘‘ یعنی اگر تمھارے معبود اور تم خود مجھے برائی اور تکلیف پہنچانے کے لیے اکٹھے ہو جاؤ اور مجھے کوئی ڈھیل اور مہلت بھی نہ دو، تب بھی تم مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچا سکو گے۔
[196]﴿ اِنَّ وَلِيِّۧ َاللّٰهُ ﴾ ’’میرا حمایتی تو اللہ ہے‘‘ جو میری سرپرستی کرتا ہے، پس مجھے ہر قسم کی منفعت عطا کرتا ہے اور ہر قسم کے ضرر سے بچاتا ہے۔ ﴿ الَّذِيۡ نَزَّلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’جس نے کتاب نازل فرمائی۔‘‘ جس میں ہدایت، شفا اور روشنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے خاص بندوں کی دینی تربیت کے لیے، سرپرستی ہے۔ ﴿ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی‘‘ وہ لوگ جن کی نیتیں ، اعمال اور اقوال پاک ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا١ۙ يُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾(البقرۃ: 2؍257) ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا دوست اور سرپرست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔‘‘پس صالح مومن، جب ایمان اور تقویٰ کے ذریعے سے اپنے رب کو اپنا دوست اور سرپرست بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی ہستی کو اپنا دوست نہیں بناتے جو کسی کو نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان تو اللہ تعالیٰ ان کا دوست اور مددگار بن جاتا ہے، ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے، ان کے دین و دنیا کی بھلائی اور مصالح میں ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے ایمان کے ذریعے سے ان سے ہر ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُدٰؔفِعُ عَنِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾(الحج: 22؍38) ’’اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ان کے دشمنوں کو ہٹاتا ہے۔‘‘
7:197وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَطِيعُونَ نَصۡرَكُمۡ وَلَآ أَنفُسَهُمۡ يَنصُرُونَ
اور وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، نہیں استطاعت رکھتے وہ تمھاری مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(197) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہ سنیں وہ اور دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھ رہے ہیں وہ طرف آپ کی حالانکہ وہ نہیں دیکھتے(198)
[198,197] یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کر سکتے ہیں ۔ ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں ۔ تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں ۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو ان کو غور سے دیکھے گا تو پہچان لے گا کہ یہ تو جامد پتھر ہیں جن میں کوئی حرکت ہے نہ زندگی۔ تب کس بنا پر مشرکین نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ الٰہ ٹھہرا لیا؟ کون سی مصلحت اور کون سے فائدے کی خاطر یہ لوگ ان کے پاس اعتکاف کرتے ہیں اور مختلف عبادات کے ذریعے سے ان کا تقرب حاصل کرتے ہیں ؟جب اس چیز کی معرفت حاصل ہوگئی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر مشرکین اور ان کے معبود، جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، اکٹھے ہو کر ان لوگوں کے خلاف چالیں چل لیں جن کو زمین اور آسمانوں کی تخلیق کرنے والے نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے اور اپنے نیک بندوں کے احوال کا والی ہے، وہ اپنی چال سے ذرہ بھر نقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پوری قوت اور کامل اقتدار کا مالک ہے اور وہ شخص بھی قوی ہے جو اس کے جلال کی پناہ لیتا اور اس پر بھروسہ کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَتَرٰىهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ میں ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی (تب اس کے معنی یہ ہوں گے) اے اللہ کے رسول! آپ سمجھتے ہیں کہ مشرکین آپ کو اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں تاکہ جھوٹے میں سے سچے کا امتیاز ہو سکے۔ مگر وہ آپﷺ کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور وہ جمال و کمال اور صدق کی ان علامتوں کو نہیں دیکھ سکتے جن کے ذریعے سے پہچاننے والے حقیقت کو پہچانتے ہیں ۔
7:198وَإِن تَدۡعُوهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ لَا يَسۡمَعُواْۖ وَتَرَىٰهُمۡ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُونَ
اور وہ جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، نہیں استطاعت رکھتے وہ تمھاری مدد کرنے کی اورنہ اپنی ہی وہ مدد کر سکتے ہیں(197) اور اگر بلاؤ تم انھیں طرف ہدایت کی تو نہ سنیں وہ اور دیکھتے ہیں آپ ان کو کہ دیکھ رہے ہیں وہ طرف آپ کی حالانکہ وہ نہیں دیکھتے(198)
[198,197] یہ آیت بھی ان بتوں کی عبادت کے عدم استحقاق کو بیان کرتی ہے جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود اپنی مدد کرنے کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں نہ اپنے عبادت گزاروں کی مدد کر سکتے ہیں ۔ ان میں قوت عقل ہے نہ جواب دینے کی طاقت۔ اگر تو ان کو ہدایت کی طرف بلائے تو ان کی طرف نہیں آئیں گے کیونکہ یہ تو زندگی کے بغیر محض تصویریں ہیں ۔ تو ان کو دیکھے گا کہ گویا وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ دیکھ نہیں سکتے کیونکہ مصوروں نے ان کو انسانوں وغیرہ جانداروں کی صورت دی ہے، ان کی آنکھیں اور دیگر اعضاء بنائے ہیں ۔ جب تو ان کی طرف دیکھے گا تو کہہ اٹھے گا کہ یہ زندہ ہیں مگر جب تو ان کو غور سے دیکھے گا تو پہچان لے گا کہ یہ تو جامد پتھر ہیں جن میں کوئی حرکت ہے نہ زندگی۔ تب کس بنا پر مشرکین نے ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ الٰہ ٹھہرا لیا؟ کون سی مصلحت اور کون سے فائدے کی خاطر یہ لوگ ان کے پاس اعتکاف کرتے ہیں اور مختلف عبادات کے ذریعے سے ان کا تقرب حاصل کرتے ہیں ؟جب اس چیز کی معرفت حاصل ہوگئی تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر مشرکین اور ان کے معبود، جن کی یہ عبادت کرتے ہیں ، اکٹھے ہو کر ان لوگوں کے خلاف چالیں چل لیں جن کو زمین اور آسمانوں کی تخلیق کرنے والے نے اپنی سرپرستی میں لے رکھا ہے اور اپنے نیک بندوں کے احوال کا والی ہے، وہ اپنی چال سے ذرہ بھر نقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ وہ کامل طور پر عاجز اور ان کے معبود بھی عاجز ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ پوری قوت اور کامل اقتدار کا مالک ہے اور وہ شخص بھی قوی ہے جو اس کے جلال کی پناہ لیتا اور اس پر بھروسہ کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَتَرٰىهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ میں ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی تکذیب کی (تب اس کے معنی یہ ہوں گے) اے اللہ کے رسول! آپ سمجھتے ہیں کہ مشرکین آپ کو اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں تاکہ جھوٹے میں سے سچے کا امتیاز ہو سکے۔ مگر وہ آپﷺ کی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور وہ جمال و کمال اور صدق کی ان علامتوں کو نہیں دیکھ سکتے جن کے ذریعے سے پہچاننے والے حقیقت کو پہچانتے ہیں ۔
7:199خُذِ ٱلۡعَفۡوَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡعُرۡفِ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡجَٰهِلِينَ
اختیار کیجیے درگزر کو اور حکم کیجیے نیک کام کا اور اعراض کیجیے جاہلوں سے(199)
[199]یہ آیت کریمہ لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق اور ان کے ساتھ رويے کے بارے میں جامع آیت ہے۔ لوگوں کے ساتھ معاملے میں مناسب رویہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر، آسان اعمال و اخلاق اور نرمی سے پیش آیا جائے، ان کو کسی ایسی بات کا مکلف نہ کیا جائے جس کو ان کی طبائع قبول نہ کریں بلکہ ہر شخص کی بات اور اچھے یا برے فعل کو قبول کیا جائے، ان کی کوتاہی سے درگزر کیا جائے اور ان کے نقائص سے چشم پوشی کی جائے۔ کسی چھوٹے کے ساتھ اس کے چھوٹا ہونے، کسی ناقص العقل کے ساتھ اس کے نقص اور کسی محتاج کے ساتھ اس کی محتاجی کی بنا پر تکبر سے پیش نہ آیا جائے بلکہ تمام لوگوں کے ساتھ لطف و کرم کا اور احوال کے تقاضے کے مطابق معاملہ کیا جائے کہ جس سے ان کے سینے کھل جائیں ۔﴿ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ ﴾ ’’اور حکم کیجیے نیک کام کرنے کا‘‘ یعنی ہر قریب اور بعید شخص کو اچھی بات، اچھے فعل اور کامل اخلاق کا حکم دیجیے۔ آپ جو کچھ لوگوں کو عطا کریں وہ تعلیم علم ہو یا کسی بھلائی کی ترغیب دینا، جیسے صلہ رحمی یا والدین کے ساتھ حسن سلوک یا لوگوں کے درمیان صلح کروانا یا نفع بخش خیر خواہی یا صائب رائے یا نیکی اور تقویٰ پر معاونت یا برائی پر زجر و توبیخ یا کسی دینی یا دنیاوی بھلائی کی طرف راہ نمائی۔ چونکہ جاہل کی طرف سے تکلیف اور اذیت کا پہنچنا ایک لابدی امر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جاہل سے اعراض اور درگزر سے کام لیا جائے اور اس کی جہالت کا مقابلہ نہ کیا جائے، پس جو کوئی آپ کو اپنے قول و فعل سے اذیت دیتا ہے آپ اس کو اذیت نہ دیں ، جو آپ کو محروم کرتا ہے آپ اس کو محروم نہ کریں ، جو آپ سے قطع تعلق کرتا ہے آپ اس سے تعلق جوڑے رکھیں اور جو آپ پر ظلم کرتا ہے آپ اس کے ساتھ انصاف کریں ۔
رہی یہ بات کہ بندۂ مومن کو شیاطین جن کے ساتھ کیسا معاملہ کرنا چاہیے؟ تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
7:200وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔
7:201إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ إِذَا مَسَّهُمۡ طَـٰٓئِفٞ مِّنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ تَذَكَّرُواْ فَإِذَا هُم مُّبۡصِرُونَ
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔
7:202وَإِخۡوَٰنُهُمۡ يَمُدُّونَهُمۡ فِي ٱلۡغَيِّ ثُمَّ لَا يُقۡصِرُونَ
اوراگر ابھارے آپ کو شیطان کا کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقینا وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے(200)بے شک وہ لوگ جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا جب پہنچتا ہے انھیں کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے چونک پڑتے ہیں، پھر ناگہاں وہ سوجھ بوجھ والے ہوجاتے ہیں(201)اور بھائی ان (شیاطین) کے، کھینچتے ہیں وہ انھیں گمراہی میں پھر نہیں وہ کمی کرتے(202)
[200]﴿ وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’ابھارے آپ کو شیطان کی چھیڑ‘‘ یعنی کسی وقت اور کسی حال میں بھی اگر آپ شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ، بھلائی کے راستے میں رکاوٹ، برائی کی ترغیب اور اکتاہٹ محسوس کریں ﴿ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیجئے‘‘ اور اس کی حفاظت میں آکر محفوظ ہو جائیے ﴿ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک وہ سننے والا ہے۔‘‘ آپ جو کچھ کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ آپ کی نیت، آپ کی کمزوری اور آپ کی پناہ لینے کی قوت کو خوب جانتا ہے، وہ آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھے گا اور آپ کو اس کے وسوسوں سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ۰۰مَلِكِ النَّاسِۙ۰۰اِلٰهِ النَّاسِۙ۰۰مِنۡ شَرِّ الۡوَسۡوَاسِ١ۙ۬ الۡؔخَنَّاسِ۪ۙ۰۰الَّذِيۡ يُوَسۡوِسُ فِيۡ صُدُوۡرِ النَّاسِۙ۰۰مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ۰۰﴾(الناس: 114؍1-6) ’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب کی، لوگوں کے بادشاہ حقیقی کی، لوگوں کے معبود کی، شیطان وسوسہ انداز کی برائی سے، شیطان پیچھے ہٹ جانے والے سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ اندازی کرتا ہے خواہ وہ شیطان جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے‘‘۔
[201] جب بندے کا غافل ہو جانا اور اس شیطان کا اس کو کچھ نہ کچھ شکار کر لینا لابدی امر ہے، جو ہمیشہ گھات لگائے رہتا اور بندے کی غفلت کا منتظر رہتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے والوں سے بچ جانے والوں کی علامت ذکر کی ہے... اور صاحب تقویٰ جب شیطانی وسوسے کو محسوس کر لیتا ہے اور وہ کسی فعل واجب کو ترک کر کے یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر کے گناہ کر بیٹھتا ہے تو فوراً اسے تنبیہ ہوتی ہے، وہ غور کرتا ہے کہ شیطان کہاں سے حملہ آور ہوا ہے اور کون سے دروازے سے داخل ہوا ہے۔ وہ ان تمام لوازم ایمان کو یاد کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب قرار دیے ہیں تو اسے بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے اور جو اس سے کوتاہی واقع ہوئی ہے توبہ اور نیکیوں کی کثرت کے ذریعے سے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس وہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے دھتکار دیتا ہے اور شیطان نے اس سے جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اس پر پانی پھیر دیتا ہے۔
[202] رہے شیاطین کے بھائی اور ان کے دوست تو یہ جب کسی گناہ میں پڑ جاتے ہیں تو یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں ، گناہ پر گناہ کرتے ہیں اور گناہ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، پس شیاطین بھی ان کو بد راہ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ نہایت آسانی سے ان کے تابع ہو جاتے ہیں اور برائی کے ارتکاب میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے تو وہ ان کی بدراہی کے بہت خواہش مند ہو جاتے ہیں ۔
7:203وَإِذَا لَمۡ تَأۡتِهِم بِـَٔايَةٖ قَالُواْ لَوۡلَا ٱجۡتَبَيۡتَهَاۚ قُلۡ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ مِن رَّبِّيۚ هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
اور جب نہیں لاتے آپ ان کے پاس کوئی نشانی تو کہتے ہیں، کیوں نہیں خود بنالایا تو؟ کہہ دیجیے! میں تو پیروی کرتا ہوں صرف اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف میرے رب کی طرف سے، یہ روشن دلائل ہیں تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(203)
[203] یہ جھٹلانے والے آپ کے ساتھ عناد رکھتے ہی رہیں گے خواہ ان کے پاس رشد و ہدایت پر کتنے ہی دلائل کیوں نہ آجائیں ۔ پس جب آپ ان کو کوئی ایسی دلیل دیتے ہیں جو آپ کی صداقت پر دلالت کرتی ہے تو یہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ﴿ وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’اور جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے۔‘‘ یعنی جب ان کے حسب خواہش آیات و معجزات نہیں لاتے ﴿ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنالی۔‘‘ یعنی کہتے ہیں کہ تم فلاں آیت اور فلاں معجزہ کیوں نہیں لاتے گویا کہ آیات اور معجزات آپ نازل کرتے ہیں اور تمام مخلوقات کی تدبیر آپ کرتے ہیں ۔ حالانکہ انھیں اس بات کا علم نہیں کہ آپ تو کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے..... (یا وہ یوں کہتے ہیں کہ) تم نے ان آیات کو اپنے پاس سے کیوں نہیں گھڑ لیا۔ ﴿قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ مِنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میں تو اس حکم کی اتباع کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔‘‘ پس میں تو اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان بندہ اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہوں ۔ وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو معجزات نازل کرتا ہے وہ اپنی حمد و ثنا اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق آیات اور معجزات بھیجتا ہے۔اگر تم ایسی نشانی اور معجزہ چاہتے ہو جو مرور اوقات کے ساتھ کمزور نہ ہو اور ایسی حجت چاہتے ہو جو کسی بھی لمحہ باطل نہ ہو تو ﴿ هٰؔذَا﴾ ’’یہ‘‘ یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے دانائی ہے‘‘ جن کے ذریعے سے الٰہی مطالب اور انسانی مقاصد کو پرکھا جاتا ہے۔ یہ قرآن عظیم دلیل اور مدلول ہے۔ جو کوئی اس میں تدبر کرتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ، حکمت والے اور قابل تعریف کی طرف سے نازل کردہ ہے، باطل جس کے سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے اور یہ قرآن ہر اس شخص کے خلاف حجت ہے جس کے پاس یہ پہنچتا ہے۔ مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ورنہ جو کوئی اس پر ایمان لاتا ہے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت ہے‘‘ تو یہ قرآن گمراہی کے اندھىرے میں اس کے لیے ہدایت کا نور ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت ہے‘‘ اور بدبختیوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ پس مومن قرآن سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے اور اس کی اتباع کرتا ہے، اپنی دنیا و آخرت میں سعادت مند ہے اور جو کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا وہ دنیا و آخرت میں گمراہ اور بدبخت ہے۔
7:204وَإِذَا قُرِئَ ٱلۡقُرۡءَانُ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ
اور جب پڑھا جائے قرآن تو غور سے (کان لگا کر) سنو تم اس کواور خاموش رہوتاکہ تم رحم کیے جاؤ(204)
[204] یہ ہر اس شخص کے لیے ایک عام حکم ہے جو کتاب اللہ کی تلاوت سنتا ہے، وہ اسے غور سے سننے اور خاموش رہنے پر مامور ہے۔ استماع اور انصات کے درمیان فرق یہ ہے کہ (انْصَات) ’’چپ رہنا‘‘ ظاہر میں بات چیت اور ایسے امور میں مشغولیت کو ترک کرنے کا نام ہے جن کی وجہ سے وہ غور سے سن نہیں سکتا اور (اسْتِمَاع) ’’سننا‘‘ یہ ہے کہ سننے کے لیے پوری توجہ مبذول کی جائے، قلب حاضر ہو اور جو چیز سنے اس میں تدبر کرے۔کتاب اللہ کی تلاوت کے وقت جو کوئی ان دونوں امور کا التزام کرتا ہے وہ خیر کثیر، بے انتہا علم، دائمی تجدید شدہ ایمان، بہت زیادہ ہدایت اور دین میں بصیرت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے حصول رحمت کو ان دونوں امور پر مترتب قرار دیا ہے اور یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس کے سامنے کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے اور وہ اسے غور سے نہ سنے اور خاموش نہ رہے تو رحمت کے بہت بڑے حصے سے محروم ہو جاتا ہے، وہ خیر کثیر حاصل نہیں کر پاتا اور قرآن سننے والے کو سخت تاکید ہے کہ جہری نمازوں میں ، جبکہ امام قراء ت کرے، وہ توجہ سے سنے اور خاموش رہے کیونکہ اسے چپ رہنے کا حکم ہے۔ یہاں تک کہ اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ نماز کے اندر امام کی قراء ت کے وقت خاموش رہنا سورۂ فاتحہ وغیرہ پڑھنے سے اولیٰ ہے۔(یہ مؤلف کتاب کی اپنی رائے ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، مرحوم کی یہ رائے صحیح نہیں، کیونکہ یہ نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔ احادیث میں وضاحت موجود ہے کہ امام ہر آیت پر وقف کر کے سورۂ فاتحہ پڑھے اور اس وقفے میں مقتدی بھی سورۂ فاتحہ پڑھتے جائیں۔ کیونکہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اس طرح وقفوں اور سکتات میں سورۂ فاتحہ پڑھنے سے استماع اور انصات کی بھی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور حدیث پر بھی عمل ہو جاتا ہے، ہاں البتہ سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ اور پڑھنا جائز نہیں۔ (ص ۔ ی)
7:205وَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعٗا وَخِيفَةٗ وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ
اور یاد کیجیے اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئےاورایسی آواز سے کہ کم ہوپکار کر بات کرنے سے، صبح اور شام کواورنہ ہوں آپ غافلوں میں سے(205) بے شک وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے پاس ہیں، نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور تسبیح بیان کرتے ہیں وہ اس کی اوراسی کو وہ سجدہ کرتے ہیں(206)
[205] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریعے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفیﷺ کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں ۔ ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی اور تذلل سے‘‘ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ اپنی زبان سے ذکر کریں ﴿وَّخِيۡفَةً﴾ ’’اور ڈرتے ہوئے‘‘ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے دل میں ، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علامت یہ ہے کہ بندہ خیر خواہی کے ساتھ اپنے عمل کی اصلاح اور تکمیل میں پیہم کوشاں رہتا ہے۔ ﴿ وَّدُوۡنَ الۡجَهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو‘‘ یعنی متوسط رویہ اختیار کیجیے ﴿وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍110) ’’اپنی نماز بلند آواز سے پڑھیے نہ بہت آہستہ آواز سے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کیجیے۔‘‘﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور دن کے آخری حصے میں ۔‘‘ ان دونوں اوقات کو دیگر اوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ ﴿ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ پس وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم رہ گئے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبودیت میں ہر فلاح و سعادت سے روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر بدبختی اور ناکامی کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ آداب ذکر ہیں جن کی بندے کو رعایت رکھنی چاہیے جیسا کہ رعایت رکھنے کا حق ہے یعنی دن اور رات کے اوقات میں ، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں ، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پر سکون حالت میں ، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب و وقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
[206] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں ...اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے... تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے، نہ تمھاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری عبادت کے ذریعے سے تمھیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کر سکو۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ ﴾ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے‘‘ بلکہ اس کی عبادت کے لیے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں ۔ ﴿ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿وَلَهٗ ﴾ ’’اور اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ﴿ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’سجدے کرتے ہیں ۔‘‘ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔
7:206إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسۡجُدُونَۤ۩
اور یاد کیجیے اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئےاورایسی آواز سے کہ کم ہوپکار کر بات کرنے سے، صبح اور شام کواورنہ ہوں آپ غافلوں میں سے(205) بے شک وہ (فرشتے) جو آپ کے رب کے پاس ہیں، نہیں تکبر کرتے وہ اس کی عبادت سے اور تسبیح بیان کرتے ہیں وہ اس کی اوراسی کو وہ سجدہ کرتے ہیں(206)
[205] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر قلب کے ذریعے سے، زبان کے ذریعے سے اور قلب اور زبان دونوں کے ذریعے سے ہوتا ہے اور یہ ذکر اپنی نوع اور احوال کے اعتبار سے کامل ترین ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول جناب محمد مصطفیﷺ کو اصلاً اور دیگر اہل ایمان کو تبعاً حکم دیا ہے کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں ۔ ﴿ تَضَرُّعًا ﴾ ’’عاجزی اور تذلل سے‘‘ ذکر کی مختلف انواع کے تکرار کے ساتھ اپنی زبان سے ذکر کریں ﴿وَّخِيۡفَةً﴾ ’’اور ڈرتے ہوئے‘‘ اور آپ کی حالت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنے دل میں ، اللہ تعالیٰ سے خائف اور ڈرتے ہوں مبادا کہ آپ کا عمل قبول نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے خوف کی علامت یہ ہے کہ بندہ خیر خواہی کے ساتھ اپنے عمل کی اصلاح اور تکمیل میں پیہم کوشاں رہتا ہے۔ ﴿ وَّدُوۡنَ الۡجَهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ ﴾ ’’اور ایسی آواز سے جو کہ پکار کر بولنے سے کم ہو‘‘ یعنی متوسط رویہ اختیار کیجیے ﴿وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍110) ’’اپنی نماز بلند آواز سے پڑھیے نہ بہت آہستہ آواز سے بلکہ درمیان کا راستہ اختیار کیجیے۔‘‘﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ ﴾ ’’اور دن کے آخری حصے میں ۔‘‘ ان دونوں اوقات کو دیگر اوقات پر فضیلت حاصل ہے۔ ﴿ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔ پس وہ دنیا اور آخرت کی بھلائی سے محروم رہ گئے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبودیت میں ہر فلاح و سعادت سے روگردانی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہر بدبختی اور ناکامی کی طرف متوجہ رہے۔یہ وہ آداب ذکر ہیں جن کی بندے کو رعایت رکھنی چاہیے جیسا کہ رعایت رکھنے کا حق ہے یعنی دن اور رات کے اوقات میں ، خاص طور پر دن کے دونوں کناروں میں ، نہایت اخلاص، خشوع و خضوع، عاجزی، تذلل کے ساتھ، پر سکون حالت میں ، قلب و لسان کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، نہایت ادب و وقار سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور بہت توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کی جائے۔ غفلت کو دور کر کے حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ غافل اور مشغول دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔
[206] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں جو ہمیشہ اس کی عبادت اور خدمت میں مصروف رہتے ہیں ...اور وہ ہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے... تاکہ تمھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری کثرت عبادت سے کوئی کمی پوری کرنی چاہتا ہے، نہ تمھاری عبادت کے ذریعے سے ذلت سے نکل کر معزز ہونا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھاری عبادت کے ذریعے سے تمھیں ہی فائدہ دینا چاہتا ہے تاکہ تم اس کے ہاں اپنے اعمال سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کر سکو۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے اشراف فرشتے ﴿ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِهٖ ﴾ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے‘‘ بلکہ اس کی عبادت کے لیے سرافگندہ اور اپنے رب کے احکام کے سامنے مطیع ہیں ۔ ﴿ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ رات دن اس کی تسبیح میں مگن رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی نہیں کرتے۔ ﴿وَلَهٗ ﴾ ’’اور اس کے لیے۔‘‘ یعنی اللہ وحدہ لا شریک کے لیے ﴿ يَسۡجُدُوۡنَ ﴾ ’’سجدے کرتے ہیں ۔‘‘ پس بندوں کو ان ملائکہ کرام کی پیروی کرنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ، علم والے بادشاہ حقیقی کی عبادت میں مصروف رہنا چاہیے۔