al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 9 · 129 verses
9:1بَرَآءَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
(یہ) دست برداری ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے، ان لوگوں سے کہ عہد کر رکھا تھا تم نے (ان) مشرکین سے(1) پس چلو پھرو تم زمین میں چار مہینے اورجان لوکہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کو اور یہ کہ بلاشبہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو(2)
[2,1] یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں ۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں ۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔
9:2فَسِيحُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُخۡزِي ٱلۡكَٰفِرِينَ
(یہ) دست برداری ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے، ان لوگوں سے کہ عہد کر رکھا تھا تم نے (ان) مشرکین سے(1) پس چلو پھرو تم زمین میں چار مہینے اورجان لوکہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کو اور یہ کہ بلاشبہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو(2)
[2,1] یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے تمام مشرکین و معاندین سے اظہار براء ت ہے، انھیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں اس مدت میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں ۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں ۔یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لیے معاہدہ ہے یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لیے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پورا کیاجائے گا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا... اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار کیا اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی کوئی پروا نہیں کی۔
9:3وَأَذَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦٓ إِلَى ٱلنَّاسِ يَوۡمَ ٱلۡحَجِّ ٱلۡأَكۡبَرِ أَنَّ ٱللَّهَ بَرِيٓءٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ وَرَسُولُهُۥۚ فَإِن تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۖ وَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
اور اعلان ہے اللہ اوراس کے رسول کی جانب سے لوگوں کی طرف، دن حج اکبر کے، کہ بے شک اللہ دست بردار ہے مشرکین سے اوراس کا رسول (بھی)، پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ بہتر ہے تمھارے لیے اوراگر تم نے منہ پھیر ے رکھا تو جان لو کہ بے شک تم نہیں عاجز کرنے والے اللہ کواور خوشخبری دے دیجیے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، عذاب درد ناک کی(3)
[3] یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فتح مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہو جائے گا جنھوں نے رسول اللہﷺ اور آپ کے صحابہy کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطہ ارضی سے جلا وطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آ گیا تو نبی اکرمﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے.... اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بریء الذمہ ہے۔ رسول اللہﷺ کے ہاں اب ان کے لیے کوئی عہد اور میثاق نہیں ۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن ۹ ہجری تھا۔حضرت ابوبکرt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالبt نے براء ت کا اعلان کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ ﴿فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ١ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّـكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِي اللّٰهِ﴾ ’’پس اگر تم توبہ کر لو تو تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ ﴿وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوش خبری سنادو۔‘‘ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلا وطنی کی صورت میں انھیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا۔ جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
9:4إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّم مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ثُمَّ لَمۡ يَنقُصُوكُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَمۡ يُظَٰهِرُواْ عَلَيۡكُمۡ أَحَدٗا فَأَتِمُّوٓاْ إِلَيۡهِمۡ عَهۡدَهُمۡ إِلَىٰ مُدَّتِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
مگر وہ لوگ جن سے تم نے عہد کر رکھا ہے، مشرکین میں سے، پھر نہیں کمی کی انھوں نے تمھارے ساتھ ذرا بھی اورنہ مدد کی تمھارے خلاف کسی کی، سو پورا کرو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت(مقررہ) تک۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(4)
[4] یعنی یہ تمام مشرکین سے کامل اور براء ت مطلق کا اظہار ہے۔ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’سوائے ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے‘‘ اور وہ اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں ہوا جو نقض عہد کا موجب ہو۔ انھوں نے معاہدے میں کوئی کوتاہی کی ہے نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے معاہدے کو، اس کی مدت مقررہ تک پورا کرو خواہ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ.... کیونکہ اسلام خیانت کا حکم نہیں دیتا وہ تو معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو‘‘ وہ لوگ جنھوں نے ان ذمہ داریوں کو ادا کیا جن کا انھیں حکم دیا گیا اور شرک، خیانت اور دیگر گناہوں سے بچے۔
9:5فَإِذَا ٱنسَلَخَ ٱلۡأَشۡهُرُ ٱلۡحُرُمُ فَٱقۡتُلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ حَيۡثُ وَجَدتُّمُوهُمۡ وَخُذُوهُمۡ وَٱحۡصُرُوهُمۡ وَٱقۡعُدُواْ لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٖۚ فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَخَلُّواْ سَبِيلَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
پس جب گزر جائیں مہینے حرمت والے تو قتل کرو مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ تم انھیں اور پکڑو انھیں اور گھیرے میں لیے رکھو ان کو اور بیٹھو ان کی تاک میں ہر گھات پر ، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(5)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ ﴾ ’’پس جب گزر جائیں مہینے پناہ کے‘‘ یعنی وہ مہینے جن میں معاہد مشرکین کے خلاف جنگ کو حرام ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آسانی کے چار ماہ ہیں اور جن کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ مدت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس مدت کو پورا کیا جائے.... اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔ ﴿ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ ﴾ ’’پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔‘‘ یعنی وہ کسی زمانے میں جہاں کہیں بھی ہوں ۔ ﴿ وَخُذُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو قیدی بناؤ‘‘ ﴿ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کو گھیر لو۔‘‘ یعنی ان پر زمین تنگ کر دو، اللہ کی اس زمین میں انھیں اس طرح نہ چھوڑ دو کہ وہ کھلے دندناتے پھرتے رہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے عبادت گاہ بنایا ہے۔ یہ لوگ اس زمین پر رہنے کے قابل نہیں بلکہ وہ اس زمین سے بالشت بھر جگہ کے بھی مستحق نہیں ۔ کیونکہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ، ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کے دین سے خالی ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ ﴾ ’’اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھو۔‘‘ یعنی ہر گھاٹی اور ہر راستے میں گھات لگا کر بیٹھو جہاں سے وہ گزرتے ہیں ۔ ان کے خلاف جہاد کے لیے پوری طرح تیار رہو اور جہاد میں اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور ان کے خلاف اس وقت تک جہاد کرتے رہو جب تک کہ وہ اپنے شرک سے توبہ نہ کر لیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اپنے شرک سے۔ ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ﴾ ’’اور نماز پڑھنے لگیں ۔‘‘ یعنی اسے اس کے حقوق کے ساتھ ادا کریں ۔ ﴿ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دینے لگیں ۔‘‘ مستحقین کو زکاۃ دیں ۔ ﴿ فَخَلُّوۡا سَبِيۡلَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کی راہ چھوڑ دو۔‘‘ یعنی ان کو چھوڑ دو اب وہ تمھارے برابر ہیں ان کے وہی حقوق ہیں جو تمھارے ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمھارے ذمے ہیں ۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کا شرک اور ان کے دیگر کم تر گناہ بخش دیتا ہے۔ انھیں توبہ کی توفیق بخش کر اور پھر اس توبہ کو قبول کر کے انھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی نماز قائم کرنے یا زکاۃ ادا کرنے سے رکے گا، اس کے خلاف اس وقت تک جنگ کی جائے گی جب تک کہ وہ نماز قائم نہیں کرتا اور زکاۃ ادا نہیں کرتا۔ جیسا کہ جناب ابوبکر صدیقt نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا تھا۔
9:6وَإِنۡ أَحَدٞ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٱسۡتَجَارَكَ فَأَجِرۡهُ حَتَّىٰ يَسۡمَعَ كَلَٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبۡلِغۡهُ مَأۡمَنَهُۥۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡلَمُونَ
اور اگر کوئی مشرکین میں سے پناہ مانگے آپ سے تو پناہ دے دیں اس کوتاکہ سنے وہ کلام اللہ کا، پھر پہنچا دیں اس کو اس کے امن کی جگہ پر۔ یہ اس سبب سے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ نہیں علم رکھتے(6)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ کا گزشتہ ارشاد ﴿ فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡهُرُ الۡحُرُمُ فَاقۡتُلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَيۡثُ وَجَدۡتُّمُوۡهُمۡ وَخُذُوۡهُمۡ وَاحۡصُرُوۡهُمۡ وَاقۡعُدُوۡا لَهُمۡ كُلَّ مَرۡصَدٍ ﴾ تمام اشخاص کے لیے اور تمام احوال میں ایک عام حکم ہے اگر مصلحت ان میں سے کسی کو قریب کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ جائز بلکہ واجب ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ اسۡتَجَارَكَ ﴾ ’’اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے‘‘ یعنی وہ یہ چاہے کہ آپ اس کو ضرر سے بچا لیں تو اس مقصد کے لیے اس کو پناہ دے دیں تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے اور اسلام میں اچھی طرح غور و فکر کر لے۔ ﴿ فَاَجِرۡهُ حَتّٰى يَسۡمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ﴾ ’’تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔‘‘ یعنی پھر اگر وہ اسلام قبول کر لے تو بہتر ورنہ اسے امن کی جگہ پہنچا دیں یعنی وہ جگہ جہاں وہ مامون ہو اور اس کا سبب یہ ہے کہ کفار بے علم لوگ ہیں ۔ بسااوقات ان کا کفر پر قائم رہنا جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے، جب یہ سبب زائل ہو جاتا ہے تو وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ اور آپ کی امت کو احکام میں اس کے نمونے کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور وہ یہ کہ کفار میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کی خواہش کرے تو اس کو امان دے دیں ۔اس آیت کریمہ میں اہل سنت والجماعت کے مذہب پر صریح دلیل ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور غیر مخلوق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور اس نے اس کی اضافت اپنی طرف کی ہے جیسے صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہوتی ہے.... نیز اس سے معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں کے مذہب کا بطلان ثابت ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے.... کتنے ہی دلائل ہیں جو ان کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ ان کی تفصیل کا مقام نہیں ۔
9:7كَيۡفَ يَكُونُ لِلۡمُشۡرِكِينَ عَهۡدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمۡ عِندَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۖ فَمَا ٱسۡتَقَٰمُواْ لَكُمۡ فَٱسۡتَقِيمُواْ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَّقِينَ
کیوں کر ہو سکتا ہے واسطے مشرکوں کے عہد، نزدیک اللہ کے اور نزدیک اس کے رسول کے سوائے ان لوگوں کے جن سے عہد کیا تم نے نزدیک مسجد حرام کے، پس جب تک سیدھے رہیں وہ تمھارے لیے تو سیدھے رہو تم بھی ان کے لیے ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(7)
[7] یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَيۡفَ يَكُوۡنُ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ عَهۡدٌ عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ رَسُوۡلِهٖۤ ﴾ ’’کیوں کر ہو مشرکین کے لیے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک‘‘ کیا انھوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے؟ یا انھوں نے رسول اللہﷺ اور اہل ایمان کو اذیت دینی چھوڑ دی ہے؟.... (بلکہ) انھوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی.... کیا انھوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو؟ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ ﴾ ’’سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا‘‘ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا ﴿ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’مسجد حرام کے پاس‘‘ پس اس عہد میں .... خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر... ان کے لیے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ ﴿ فَمَا اسۡتَقَامُوۡا لَكُمۡ فَاسۡتَقِيۡمُوۡا۠ لَهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو بے شک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔‘‘
بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
9:8كَيۡفَ وَإِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ لَا يَرۡقُبُواْ فِيكُمۡ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ يُرۡضُونَكُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَتَأۡبَىٰ قُلُوبُهُمۡ وَأَكۡثَرُهُمۡ فَٰسِقُونَ
کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)
[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔
[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘
[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔
[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا:﴿ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ‘‘ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والے لوگوں کے واسطے‘‘ پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
9:9ٱشۡتَرَوۡاْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلٗا فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)
[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔
[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘
[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔
[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا:﴿ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ‘‘ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والے لوگوں کے واسطے‘‘ پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
9:10لَا يَرۡقُبُونَ فِي مُؤۡمِنٍ إِلّٗا وَلَا ذِمَّةٗۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُعۡتَدُونَ
کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)
[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔
[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘
[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔
[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا:﴿ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ‘‘ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والے لوگوں کے واسطے‘‘ پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
9:11فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُاْ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِۗ وَنُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ
کیوں کر (رہ سکتا ہے عہد) درآں حالیکہ اگر غالب آجائیں وہ تم پر تو نہیں خیال کریں گے وہ تمھارے بارے میں رشتے داری کا اورنہ کسی عہد کا، وہ خوش کرتے ہیں تمھیں ساتھ اپنے مونہوں کے اور انکار کرتے ہیں دل ان کے اوراکثر ان کے نافرمان ہیں(8) بیچا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو مول تھوڑے پر اور روکا (لوگوں کو) اس کے راستے سے، پس بے شک برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(9) نہیں خیال کرتے وہ کسی مومن کے بارے میں رشتے داری کا اور نہ کسی عہد کا اور یہ لوگ، وہی ہیں حد سے نکل جانے والے(10) پس اگر وہ توبہ کرلیں اور قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ تو وہ تمھارے بھائی ہیں دین میں اور ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(11)
[8]﴿ كَيۡفَ﴾ ’’کیسے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لیے کیسے عہد و میثاق ہو سکتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّظۡهَرُوۡا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ۔‘‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ ﴿ لَا يَرۡقُبُوۡا فِيۡكُمۡ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً﴾ ’’تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہدکا۔‘‘ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمھارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے بلکہ وہ تمھیں بدترین عذاب دیں گے۔ پس اگر وہ غالب آجائیں تو ان کے ساتھ تمھارا یہ حال ہوگا۔ اگر وہ تم سے ڈر کر تمھارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمھیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ ﴿يُرۡضُوۡنَؔكُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَتَاۡبٰى قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے تمھیں خوش کر دیتے ہیں اور ان کے دل تمھاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں ‘‘ بلکہ وہ تمھارے حقیقی دشمن ہیں اور تمھارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاَكۡثَرُهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے اکثر بدعہد ہیں ‘‘ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔
[9]﴿ اِشۡتَرَوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ﴾ ’’یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے خسیس عوض کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ سَآءَؔ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں ۔‘‘
[10]﴿ لَا يَرۡقُبُوۡنَ فِيۡ مُؤۡمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً﴾ ’’وہ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔‘‘ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں ... وہ ایمان ہے۔
[11] اس لیے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی تمھارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمھارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمنی کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَابُوۡا ﴾ ’’اگر وہ توبہ کرلیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں ﴿ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں ‘‘ اور اس عداوت کو فراموش کر دو جب وہ مشرک تھے تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا تو فرمایا:﴿ وَنُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں ‘‘ ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والے لوگوں کے واسطے‘‘ پس سیاق کلام انھی کی طرف ہے، انھی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے اور انھی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔اے اللہ! اے رب العالمین! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
9:12وَإِن نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُم مِّنۢ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمۡ فَقَٰتِلُوٓاْ أَئِمَّةَ ٱلۡكُفۡرِ إِنَّهُمۡ لَآ أَيۡمَٰنَ لَهُمۡ لَعَلَّهُمۡ يَنتَهُونَ
اور اگر توڑ دیں وہ قسمیں اپنی، بعد اپنے عہد کر لینے کے اور طعن کریں تمھارے دین میں،تو لڑو تم (ان) پیشوایان کفر سے، بے شک نہیں(معتبر) قسمیں ان کی تاکہ وہ باز آجائیں(12) کیا نہیں لڑو گے تم ان لوگوں سے کہ توڑ دیں انھوں نے قسمیں اپنی اور ارادہ کیا تھا انھوں نے نکالنے کا رسول کو اورانھوں ہی نے (لڑائی) شروع کی تم سے پہلے پہل کیا ڈرتے ہوتم ان سے؟ پس اللہ زیادہ حق دار ہے کہ ڈرو تم اس سے، اگر ہو تم مومن(13) لڑو تم ان سے کہ عذاب دے ان کو اللہ تمھارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے ان کو اور مدد کرے تمھاری ان کے مقابلے پر اور شفا بخشے سینوں کومومن قوم کے(14)اور دور کردے وہ غصہ ان کے دلوں کا اور توجہ فرماتا ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(15)
[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَىِٕمَّةَ الۡكُفۡرِ ﴾’’ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔‘‘ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں ۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔﴿ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ يَنۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’باز آجائیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں ۔
[13] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِـاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا‘‘ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمۡ بَدَءُوۡؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾’’اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے‘‘ جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔﴿ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔‘‘ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے‘‘ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخۡزِهِمۡ ﴾ ’’اور رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنۡصُرۡؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تم کو ان پر غالب کر دے گا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾’’ اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے ‘‘
[15]﴿وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن‘‘ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں ۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔
9:13أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوۡمٗا نَّكَثُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ وَهَمُّواْ بِإِخۡرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍۚ أَتَخۡشَوۡنَهُمۡۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَوۡهُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
اور اگر توڑ دیں وہ قسمیں اپنی، بعد اپنے عہد کر لینے کے اور طعن کریں تمھارے دین میں،تو لڑو تم (ان) پیشوایان کفر سے، بے شک نہیں(معتبر) قسمیں ان کی تاکہ وہ باز آجائیں(12) کیا نہیں لڑو گے تم ان لوگوں سے کہ توڑ دیں انھوں نے قسمیں اپنی اور ارادہ کیا تھا انھوں نے نکالنے کا رسول کو اورانھوں ہی نے (لڑائی) شروع کی تم سے پہلے پہل کیا ڈرتے ہوتم ان سے؟ پس اللہ زیادہ حق دار ہے کہ ڈرو تم اس سے، اگر ہو تم مومن(13) لڑو تم ان سے کہ عذاب دے ان کو اللہ تمھارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے ان کو اور مدد کرے تمھاری ان کے مقابلے پر اور شفا بخشے سینوں کومومن قوم کے(14)اور دور کردے وہ غصہ ان کے دلوں کا اور توجہ فرماتا ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(15)
[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَىِٕمَّةَ الۡكُفۡرِ ﴾’’ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔‘‘ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں ۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔﴿ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ يَنۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’باز آجائیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں ۔
[13] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِـاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا‘‘ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمۡ بَدَءُوۡؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾’’اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے‘‘ جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔﴿ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔‘‘ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے‘‘ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخۡزِهِمۡ ﴾ ’’اور رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنۡصُرۡؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تم کو ان پر غالب کر دے گا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾’’ اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے ‘‘
[15]﴿وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن‘‘ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں ۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔
9:14قَٰتِلُوهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ بِأَيۡدِيكُمۡ وَيُخۡزِهِمۡ وَيَنصُرۡكُمۡ عَلَيۡهِمۡ وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٖ مُّؤۡمِنِينَ
اور اگر توڑ دیں وہ قسمیں اپنی، بعد اپنے عہد کر لینے کے اور طعن کریں تمھارے دین میں،تو لڑو تم (ان) پیشوایان کفر سے، بے شک نہیں(معتبر) قسمیں ان کی تاکہ وہ باز آجائیں(12) کیا نہیں لڑو گے تم ان لوگوں سے کہ توڑ دیں انھوں نے قسمیں اپنی اور ارادہ کیا تھا انھوں نے نکالنے کا رسول کو اورانھوں ہی نے (لڑائی) شروع کی تم سے پہلے پہل کیا ڈرتے ہوتم ان سے؟ پس اللہ زیادہ حق دار ہے کہ ڈرو تم اس سے، اگر ہو تم مومن(13) لڑو تم ان سے کہ عذاب دے ان کو اللہ تمھارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے ان کو اور مدد کرے تمھاری ان کے مقابلے پر اور شفا بخشے سینوں کومومن قوم کے(14)اور دور کردے وہ غصہ ان کے دلوں کا اور توجہ فرماتا ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(15)
[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَىِٕمَّةَ الۡكُفۡرِ ﴾’’ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔‘‘ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں ۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔﴿ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ يَنۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’باز آجائیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں ۔
[13] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِـاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا‘‘ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمۡ بَدَءُوۡؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾’’اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے‘‘ جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔﴿ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔‘‘ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے‘‘ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخۡزِهِمۡ ﴾ ’’اور رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنۡصُرۡؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تم کو ان پر غالب کر دے گا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾’’ اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے ‘‘
[15]﴿وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن‘‘ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں ۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔
9:15وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوبِهِمۡۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور اگر توڑ دیں وہ قسمیں اپنی، بعد اپنے عہد کر لینے کے اور طعن کریں تمھارے دین میں،تو لڑو تم (ان) پیشوایان کفر سے، بے شک نہیں(معتبر) قسمیں ان کی تاکہ وہ باز آجائیں(12) کیا نہیں لڑو گے تم ان لوگوں سے کہ توڑ دیں انھوں نے قسمیں اپنی اور ارادہ کیا تھا انھوں نے نکالنے کا رسول کو اورانھوں ہی نے (لڑائی) شروع کی تم سے پہلے پہل کیا ڈرتے ہوتم ان سے؟ پس اللہ زیادہ حق دار ہے کہ ڈرو تم اس سے، اگر ہو تم مومن(13) لڑو تم ان سے کہ عذاب دے ان کو اللہ تمھارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے ان کو اور مدد کرے تمھاری ان کے مقابلے پر اور شفا بخشے سینوں کومومن قوم کے(14)اور دور کردے وہ غصہ ان کے دلوں کا اور توجہ فرماتا ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے(15)
[12] اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو... اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِ عَهۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمھارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمھیں نقصان پہنچایا ﴿ وَطَعَنُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دین میں طعن کرنے لگیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشنیع کو شامل ہے۔ ﴿ فَقَاتِلُوۡۤا اَىِٕمَّةَ الۡكُفۡرِ ﴾’’ تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔‘‘ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمن کے دین میں طعن و تشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں ۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیروکار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن و تشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے درپے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔﴿ اِنَّهُمۡ لَاۤ اَيۡمَانَ لَهُمۡ ﴾ یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں ۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ ﴾ ’’شاید کہ وہ‘‘ یعنی ان کے ساتھ تمھارے لڑائی کرنے میں ﴿ يَنۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’باز آجائیں ۔‘‘ یعنی تمھارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں ۔
[13] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَا تُقَاتِلُوۡنَ قَوۡمًا نَّـكَثُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ وَهَمُّوۡا بِـاِخۡرَاجِ الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنھوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا‘‘ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے۔ نیز انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کو جلا وطن کر دیں اور اس مقصد کے لیے انھوں نے امکان بھر کوشش کی۔ ﴿ وَهُمۡ بَدَءُوۡؔكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾’’اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے‘‘ جبکہ انھوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمھارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے.... درآں حالیکہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا.... بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنو بکر کی مدد کی۔ بنو خزاعہ رسول اللہﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔﴿ اَتَخۡشَوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔‘‘ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو؟ ﴿ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشَوۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمھیں سخت تاکید کی ہے۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں یہ سب اہل ایمان کے لیے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ قَاتِلُوۡهُمۡ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ بِاَيۡدِيۡكُمۡ ﴾ ’’ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمھارے ہاتھوں سے‘‘ یعنی قتل کے ذریعے سے ﴿ وَيُخۡزِهِمۡ ﴾ ’’اور رسوا کرے گا ان کو‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمھاری مدد کرتا ہے۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے ﴿ وَيَنۡصُرۡؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور تم کو ان پر غالب کر دے گا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔﴿ وَيَشۡفِ صُدُوۡرَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾’’ اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے ‘‘
[15]﴿وَيُذۡهِبۡ غَيۡظَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’ اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن‘‘ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں ۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں، چنانچہ انھیں قتل و رسوا کرکے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخور اعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زائل کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَيَتُوۡبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔‘‘ یعنی ان برسرپیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کر لے، اسلام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لیے ناپسندیدہ کر دے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے، چنانچہ وہ اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔
9:16أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تُتۡرَكُواْ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَلِيجَةٗۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
کیا تم نے گمان کرلیا ہے کہ تم (یوں ہی) چھوڑ دیے جاؤ گے، جبکہ ابھی نہیں جانا اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا تم میں سے اورنہیں بنایا انھوں نے سوائے اللہ کے اورنہ سوائے اس کے رسول کے اورنہ مومنین کے کوئی دلی دوست اور اللہ خوب خبردار ہے ان سے جو تم عمل کرتے ہو(16)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے ﴿اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَؔكُوۡا ﴾ ’’کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے‘‘ یعنی تمھیں کسی آزمائش اور امتحان میں مبتلا کیے بغیر اور تمھیں کوئی ایسا حکم دیے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ ﴿ وَلَمَّا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جٰؔهَدُوۡا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنھوں نے جہاد کیا ہے‘‘ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کر دے جو قوت میں موجود ہے تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ۔ ﴿ وَلَمۡ يَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوۡلِهٖ وَلَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَلِيۡجَةً﴾ ’’اور نہیں بنایا انھوں نے اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا، کوئی دوست‘‘ یعنی انھوں نے کفار کو اپنا دوست نہیں بنایا۔ بلکہ وہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد اس لیے مشروع فرمایا تاکہ اس سے یہ عظیم مقصد حاصل ہو سکے اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ سچے لوگ جنھوں نے اپنے آپ کو صرف دین کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان جھوٹے لوگوں سے ممیز ہو جائیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دلی دوست اور مددگار بناتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔‘‘ یعنی تم سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے پس وہ تمھاری اس طرح آزمائش کرتا ہے جس سے تمھاری پوری حقیقت ظاہر ہوجائے۔ اور وہ تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
9:17مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ
نہیں ہے لائق واسطے مشرکین کے یہ کہ آباد کریں وہ مسجدیں اللہ کی جبکہ وہ شہادت دینے والے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے عمل ان کے اورآگ ہی میں وہ ہمیشہ رہیں گے(17)یقینا صرف وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور قائم کی اس نے نماز اور ادا کی زکاۃ اور نہیں ڈرا وہ مگر اللہ ہی سے، سوامید ہے کہ وہی ہوں گے ہدایت یافتہ لوگوں میں سے(18)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ ﴾ ’’مشرکوں کو زیبا نہیں ۔‘‘ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ۔ ﴿ اَنۡ يَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو‘‘ یعنی عبادات، نماز اور مختلف انواع کی نیکیوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں ۔ ﴿شٰهِدِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ بِالۡكُفۡرِ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر (اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں ۔‘‘ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ١ۖۚ وَفِي النَّارِ هُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں ، ان کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو‘‘ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے ﴿ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرتا ہے ﴿ وَلَمۡ يَخۡشَ اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے‘‘ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے، ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکاۃ ہے نیز ان کو خشیت الٰہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے.... درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں ۔ ﴿ فَعَسٰۤى اُولٰٓىِٕكَ اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں ‘‘ لفظ (عَسٰی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں ۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں ۔
9:18إِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمۡ يَخۡشَ إِلَّا ٱللَّهَۖ فَعَسَىٰٓ أُوْلَـٰٓئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ
نہیں ہے لائق واسطے مشرکین کے یہ کہ آباد کریں وہ مسجدیں اللہ کی جبکہ وہ شہادت دینے والے ہیں اپنے نفسوں پر کفر کی، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے عمل ان کے اورآگ ہی میں وہ ہمیشہ رہیں گے(17)یقینا صرف وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور قائم کی اس نے نماز اور ادا کی زکاۃ اور نہیں ڈرا وہ مگر اللہ ہی سے، سوامید ہے کہ وہی ہوں گے ہدایت یافتہ لوگوں میں سے(18)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ ﴾ ’’مشرکوں کو زیبا نہیں ۔‘‘ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ۔ ﴿ اَنۡ يَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو‘‘ یعنی عبادات، نماز اور مختلف انواع کی نیکیوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں ۔ ﴿شٰهِدِيۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ بِالۡكُفۡرِ﴾ ’’جبکہ وہ اپنے آپ پر کفر (اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں ۔‘‘ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ١ۖۚ وَفِي النَّارِ هُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں ، ان کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو‘‘ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے ﴿ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرتا ہے ﴿ وَلَمۡ يَخۡشَ اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے‘‘ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے، ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق واجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکاۃ ہے نیز ان کو خشیت الٰہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے.... درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں ۔ ﴿ فَعَسٰۤى اُولٰٓىِٕكَ اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں ‘‘ لفظ (عَسٰی) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ اللہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں ۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں ۔
9:19۞أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
کیا ٹھہرا لیا ہے تم نے پانی پلانے کو حاجیوں کے اورآباد کرنے کو مسجد حرام کے، مانند اس شخص کے (عمل کے) جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ میں، نہیں برابر ہوسکتے وہ (دونوں) نزدیک اللہ کےاوراللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو(19)وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، وہ سب سے بڑھ کر ہیں درجے میں نزدیک اللہ کےاور یہی لوگ ہیں کامیاب(20) خوش خبری دیتا ہے ان کو ان کا رب، رحمت کی اپنی طرف سے اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان میں نعمت ہے ہمیشہ رہنے والی(21) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک، بے شک اللہ،اسی کے پاس ہے اجر بہت بڑا(22)
[19] جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَآجِّ ﴾ ’’کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو‘‘ یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں ، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔‘‘پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں ۔
[20] پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ‘‘ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور اپنی جانوں کے ساتھ‘‘ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠﴾ ’’ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے‘‘ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
[21]﴿ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ ﴾ ’’ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے‘‘ اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت کی‘‘ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اپنی رضامندی کی‘‘ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
[22]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر‘‘ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ’’ہو جا‘‘! تو وہ ہو جاتی ہے۔
9:20ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ
کیا ٹھہرا لیا ہے تم نے پانی پلانے کو حاجیوں کے اورآباد کرنے کو مسجد حرام کے، مانند اس شخص کے (عمل کے) جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ میں، نہیں برابر ہوسکتے وہ (دونوں) نزدیک اللہ کےاوراللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو(19)وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، وہ سب سے بڑھ کر ہیں درجے میں نزدیک اللہ کےاور یہی لوگ ہیں کامیاب(20) خوش خبری دیتا ہے ان کو ان کا رب، رحمت کی اپنی طرف سے اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان میں نعمت ہے ہمیشہ رہنے والی(21) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک، بے شک اللہ،اسی کے پاس ہے اجر بہت بڑا(22)
[19] جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَآجِّ ﴾ ’’کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو‘‘ یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں ، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔‘‘پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں ۔
[20] پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ‘‘ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور اپنی جانوں کے ساتھ‘‘ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠﴾ ’’ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے‘‘ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
[21]﴿ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ ﴾ ’’ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے‘‘ اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت کی‘‘ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اپنی رضامندی کی‘‘ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
[22]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر‘‘ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ’’ہو جا‘‘! تو وہ ہو جاتی ہے۔
9:21يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُم بِرَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَرِضۡوَٰنٖ وَجَنَّـٰتٖ لَّهُمۡ فِيهَا نَعِيمٞ مُّقِيمٌ
کیا ٹھہرا لیا ہے تم نے پانی پلانے کو حاجیوں کے اورآباد کرنے کو مسجد حرام کے، مانند اس شخص کے (عمل کے) جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ میں، نہیں برابر ہوسکتے وہ (دونوں) نزدیک اللہ کےاوراللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو(19)وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، وہ سب سے بڑھ کر ہیں درجے میں نزدیک اللہ کےاور یہی لوگ ہیں کامیاب(20) خوش خبری دیتا ہے ان کو ان کا رب، رحمت کی اپنی طرف سے اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان میں نعمت ہے ہمیشہ رہنے والی(21) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک، بے شک اللہ،اسی کے پاس ہے اجر بہت بڑا(22)
[19] جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَآجِّ ﴾ ’’کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو‘‘ یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں ، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔‘‘پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں ۔
[20] پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ‘‘ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور اپنی جانوں کے ساتھ‘‘ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠﴾ ’’ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے‘‘ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
[21]﴿ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ ﴾ ’’ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے‘‘ اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت کی‘‘ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اپنی رضامندی کی‘‘ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
[22]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر‘‘ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ’’ہو جا‘‘! تو وہ ہو جاتی ہے۔
9:22خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
کیا ٹھہرا لیا ہے تم نے پانی پلانے کو حاجیوں کے اورآباد کرنے کو مسجد حرام کے، مانند اس شخص کے (عمل کے) جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ میں، نہیں برابر ہوسکتے وہ (دونوں) نزدیک اللہ کےاوراللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو(19)وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، وہ سب سے بڑھ کر ہیں درجے میں نزدیک اللہ کےاور یہی لوگ ہیں کامیاب(20) خوش خبری دیتا ہے ان کو ان کا رب، رحمت کی اپنی طرف سے اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان میں نعمت ہے ہمیشہ رہنے والی(21) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک، بے شک اللہ،اسی کے پاس ہے اجر بہت بڑا(22)
[19] جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَآجِّ ﴾ ’’کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو‘‘ یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں ، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔‘‘پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں ۔
[20] پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ‘‘ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور اپنی جانوں کے ساتھ‘‘ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠﴾ ’’ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے‘‘ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
[21]﴿ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ ﴾ ’’ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے‘‘ اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت کی‘‘ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اپنی رضامندی کی‘‘ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
[22]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر‘‘ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ’’ہو جا‘‘! تو وہ ہو جاتی ہے۔
9:23يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست، اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پراور جو دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو یہی لوگ ہیں ظالم(23) کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا قبیلہ کنبہ اور وہ مال جو کمائے تم نے اور وہ تجارت کہ ڈرتے ہو تم اس کے مندے پڑ جانے سے اور وہ گھر کہ پسند کرتے ہو تم انھیں، زیادہ محبوب تمھیں، اللہ سے اوراس کے رسول سے اور جہاد کرنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو تم، یہاں تک کہ لائے اللہ اپنا حکم اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے ولے ہیں(24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے مومنو!‘‘ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو، جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست‘‘ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمھارے قریب ہیں ۔ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولیٰ ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ﴿اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡكُفؔۡرَ عَلَى الۡاِيۡمَانِ ﴾ ’’اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں ‘‘ یعنی اگر وہ برضا و رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔ ﴿ وَ مَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے، پس وہی لوگ ہیں ظالم‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا، چونکہ ولایت اور دوستی کی اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفار کو دوست بنانا، کفار کی اطاعت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔
[24] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی محبت کو اس محبت کے تابع کیا ہے۔فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ‘‘ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ﴿ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے بیٹے اور بھائی‘‘ یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔ ﴿ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری بیویاں اور دیگر عمومی رشتہ دار‘‘ ﴿ وَاَمۡوَالُ اِ۟ اقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ مال جو تم کماتے ہو‘‘ جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انھیں اس مال کی نسبت جو انھیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے، زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ﴿ وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا ﴾ ’’اور وہ سوداگری جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں ، مثلاً: ہر قسم کا سامان تجارت، مال کی قیمتیں ، برتن، اسلحہ، اشیائے استعمال، غلہ جات، کھیتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ ﴿ وَمَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ ﴾ ’’اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو‘‘ ان کی خوبصورتی، سجاوٹ اور ان کا تمھاری خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے۔ ﴿ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَجِهَادٍ فِيۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’اگر یہ تمام چیزیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘ تو تم فاسق و فاجر اور ظالم ہو۔ ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا ﴾ ’’تو انتظار کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ﴿ حَتّٰى يَاۡتِيَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے‘‘ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرۂ اطاعت سے باہر نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت فرض ہے اور دیگر تمام اشیا کی محبت پر مقدم ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دو امور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلو نہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہو مگر اس کو اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہو جاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کمی واقع ہو جاتی ہو... اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انھیں اپنی نصرت سے نوازا حتیٰ کہ ’’حنین‘‘ کی جنگ میں جبکہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں ، چنانچہ آپ صحابہ کرامy اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد چار ہزار تھی۔ کچھ مسلمانوں نے اس کثرت تعداد پر اتراتے ہوئے کہا ’’آج ہم پر کوئی غالب نہیں آسکے گا۔‘‘جب بنو ہوازن اور مسلمانوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو انھوں نے مسلمانوں پر یک بارگی حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور شکست کھا کر بھاگ اٹھے اور انھوں نے پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ سو کے لگ بھگ آدمی رہ گئے تھے جو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ڈٹے مشرکین سے لڑ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ اپنے خچر کو ایڑ لگا کر مشرکین کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ ( اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب) ’’میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘جب آپ نے مسلمانوں کی یہ ہزیمت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو، جو کہ بلند آواز شخص تھے، حکم دیا کہ وہ انصار اور باقی مسلمانوں کو آواز دیں ، چنانچہ انھوں نے پکار کر کہا :’’اے اصحاب بیعت رضوان! اے اصحاب سورہ بقرہ‘‘!جب بھاگنے والوں نے حضرت عباسt کی آواز سنی تو وہ یک بارگی واپس پلٹے اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ ان کے اموال اور عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں ۔
9:24قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست، اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پراور جو دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو یہی لوگ ہیں ظالم(23) کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا قبیلہ کنبہ اور وہ مال جو کمائے تم نے اور وہ تجارت کہ ڈرتے ہو تم اس کے مندے پڑ جانے سے اور وہ گھر کہ پسند کرتے ہو تم انھیں، زیادہ محبوب تمھیں، اللہ سے اوراس کے رسول سے اور جہاد کرنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو تم، یہاں تک کہ لائے اللہ اپنا حکم اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے ولے ہیں(24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے مومنو!‘‘ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو، جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست‘‘ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمھارے قریب ہیں ۔ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولیٰ ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ﴿اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡكُفؔۡرَ عَلَى الۡاِيۡمَانِ ﴾ ’’اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں ‘‘ یعنی اگر وہ برضا و رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔ ﴿ وَ مَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے، پس وہی لوگ ہیں ظالم‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا، چونکہ ولایت اور دوستی کی اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفار کو دوست بنانا، کفار کی اطاعت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔
[24] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی محبت کو اس محبت کے تابع کیا ہے۔فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ‘‘ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ﴿ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے بیٹے اور بھائی‘‘ یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔ ﴿ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری بیویاں اور دیگر عمومی رشتہ دار‘‘ ﴿ وَاَمۡوَالُ اِ۟ اقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ مال جو تم کماتے ہو‘‘ جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انھیں اس مال کی نسبت جو انھیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے، زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ﴿ وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا ﴾ ’’اور وہ سوداگری جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں ، مثلاً: ہر قسم کا سامان تجارت، مال کی قیمتیں ، برتن، اسلحہ، اشیائے استعمال، غلہ جات، کھیتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ ﴿ وَمَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ ﴾ ’’اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو‘‘ ان کی خوبصورتی، سجاوٹ اور ان کا تمھاری خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے۔ ﴿ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَجِهَادٍ فِيۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’اگر یہ تمام چیزیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘ تو تم فاسق و فاجر اور ظالم ہو۔ ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا ﴾ ’’تو انتظار کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ﴿ حَتّٰى يَاۡتِيَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے‘‘ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرۂ اطاعت سے باہر نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت فرض ہے اور دیگر تمام اشیا کی محبت پر مقدم ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دو امور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلو نہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہو مگر اس کو اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہو جاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کمی واقع ہو جاتی ہو... اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انھیں اپنی نصرت سے نوازا حتیٰ کہ ’’حنین‘‘ کی جنگ میں جبکہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں ، چنانچہ آپ صحابہ کرامy اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد چار ہزار تھی۔ کچھ مسلمانوں نے اس کثرت تعداد پر اتراتے ہوئے کہا ’’آج ہم پر کوئی غالب نہیں آسکے گا۔‘‘جب بنو ہوازن اور مسلمانوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو انھوں نے مسلمانوں پر یک بارگی حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور شکست کھا کر بھاگ اٹھے اور انھوں نے پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ سو کے لگ بھگ آدمی رہ گئے تھے جو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ڈٹے مشرکین سے لڑ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ اپنے خچر کو ایڑ لگا کر مشرکین کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ ( اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب) ’’میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘جب آپ نے مسلمانوں کی یہ ہزیمت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو، جو کہ بلند آواز شخص تھے، حکم دیا کہ وہ انصار اور باقی مسلمانوں کو آواز دیں ، چنانچہ انھوں نے پکار کر کہا :’’اے اصحاب بیعت رضوان! اے اصحاب سورہ بقرہ‘‘!جب بھاگنے والوں نے حضرت عباسt کی آواز سنی تو وہ یک بارگی واپس پلٹے اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ ان کے اموال اور عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں ۔
9:25لَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٖ وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡـٔٗا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ
البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بہت سی جگہوں میں اوردن حنین کے(بھی) جبکہ خوش فہمی میں ڈال دیا تھا تم کو تمھاری کثرت نے، پس نہ کام آئی وہ تمھارے کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود فراخی کے ، پھر لوٹے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے(25) پھر نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اورنازل کیے اس نے ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو اور عذاب دیا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیااور یہی سزا ہے کافروں کی(26) پھر توجہ فرمائے گا اللہ، بعد اس کے، جس پر چاہے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(27)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ نَصَرَؔكُمُ اللّٰهُ فِيۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ١ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ ﴾ ’’یقینا اللہ نے تمھاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن‘‘ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا۔ ﴿ اِذۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’جب تمھیں تمھاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کر دیا پس اس نے تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیا‘‘ تمھاری کثرت نے تمھیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’اورزمین تم پر تنگ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب تمھیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿ بِمَا رَحُبَتۡ ﴾ ’’اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود‘‘ ﴿ ثُمَّؔ وَلَّيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔‘‘
[26]﴿ ثُمَّؔ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی‘‘ سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے﴿ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا ﴾ ’’اور ایسے لشکر اتارے جو تمھیں نظر نہیں آتے تھے‘‘ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انھیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور کافروں کو عذاب دیا‘‘ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہے سزا کافروں کی‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔
[27]﴿ ثُمَّؔ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
9:26ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ
البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بہت سی جگہوں میں اوردن حنین کے(بھی) جبکہ خوش فہمی میں ڈال دیا تھا تم کو تمھاری کثرت نے، پس نہ کام آئی وہ تمھارے کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود فراخی کے ، پھر لوٹے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے(25) پھر نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اورنازل کیے اس نے ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو اور عذاب دیا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیااور یہی سزا ہے کافروں کی(26) پھر توجہ فرمائے گا اللہ، بعد اس کے، جس پر چاہے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(27)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ نَصَرَؔكُمُ اللّٰهُ فِيۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ١ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ ﴾ ’’یقینا اللہ نے تمھاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن‘‘ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا۔ ﴿ اِذۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’جب تمھیں تمھاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کر دیا پس اس نے تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیا‘‘ تمھاری کثرت نے تمھیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’اورزمین تم پر تنگ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب تمھیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿ بِمَا رَحُبَتۡ ﴾ ’’اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود‘‘ ﴿ ثُمَّؔ وَلَّيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔‘‘
[26]﴿ ثُمَّؔ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی‘‘ سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے﴿ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا ﴾ ’’اور ایسے لشکر اتارے جو تمھیں نظر نہیں آتے تھے‘‘ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انھیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور کافروں کو عذاب دیا‘‘ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہے سزا کافروں کی‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔
[27]﴿ ثُمَّؔ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
9:27ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بہت سی جگہوں میں اوردن حنین کے(بھی) جبکہ خوش فہمی میں ڈال دیا تھا تم کو تمھاری کثرت نے، پس نہ کام آئی وہ تمھارے کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود فراخی کے ، پھر لوٹے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے(25) پھر نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اورنازل کیے اس نے ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو اور عذاب دیا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیااور یہی سزا ہے کافروں کی(26) پھر توجہ فرمائے گا اللہ، بعد اس کے، جس پر چاہے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(27)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ نَصَرَؔكُمُ اللّٰهُ فِيۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ١ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ ﴾ ’’یقینا اللہ نے تمھاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن‘‘ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا۔ ﴿ اِذۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’جب تمھیں تمھاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کر دیا پس اس نے تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیا‘‘ تمھاری کثرت نے تمھیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’اورزمین تم پر تنگ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب تمھیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿ بِمَا رَحُبَتۡ ﴾ ’’اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود‘‘ ﴿ ثُمَّؔ وَلَّيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔‘‘
[26]﴿ ثُمَّؔ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی‘‘ سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے﴿ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا ﴾ ’’اور ایسے لشکر اتارے جو تمھیں نظر نہیں آتے تھے‘‘ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انھیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور کافروں کو عذاب دیا‘‘ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہے سزا کافروں کی‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔
[27]﴿ ثُمَّؔ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
9:28يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ مشرکین تو ناپاک ہیں، پس نہ قریب جائیں وہ مسجد حرام کے، بعد اپنے اس سال کےاوراگر تم خوف کرتے ہو مفلسی سے تو عنقریب غنی کردے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر اس نے چاہا، یقینا اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے(28)
[28]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! بے شک مشرکین‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی ﴿ نَجَسٌ ﴾ ’’ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے عقائد و اعمال میں ناپاک ہیں ۔اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لیے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس لیے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ پاک گھر سے مشرکین کو پاک رکھو۔ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾’’پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ‘‘ اور یہ ۹ ھ کا سال تھا جب حضرت ابوبکر صدیقt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالبt کو روانہ فرمایا کہ حج کے روز ’’براء ت‘‘ کا اعلان کر دیں ، چنانچہ انھوں نے اعلان کیا کہ سال رواں کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آئے گا اور نہ کوئی شخص عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔یہاں نجاست سے مراد بدن کی نجاست نہیں ۔ کیونکہ کافر کا بدن بھی دوسرے لوگوں کے بدن کی طرح پاک ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابیہ عورت کے ساتھ مباشرت جائز قرار دی ہے مگر اس کا پسینہ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اسے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار کے ساتھ بدنی اختلاط رکھتے چلے آئے ہیں مگر ان سے یہ بات منقول نہیں کہ انھوں نے کفار کو اس طرح ناپاک سمجھا ہو جس طرح وہ گندگی کو ناپاک سمجھتے ہیں ۔ درحقیقت اس سے مراد جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے..... معنوی نجاست، یعنی شرک ہے۔﴿ وَاِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةً ﴾ ’’(اے مسلمانو!) اگر تمھیں محتاجی کا خوف ہو۔‘‘ یعنی مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے روک دینے کی وجہ سے تمھارے اور ان کے درمیان دنیاوی امور میں قطع تعلق کی بنا پر فقر و احتیاج کے لاحق ہونے کا ڈر ہو۔ ﴿ فَسَوۡفَ يُغۡنِيۡكُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖۤ ﴾ ’’تو اللہ اپنے فضل سے تمھیں غنی کر دے گا‘‘ رزق کا ایک ہی دروازہ اور ایک ہی جگہ تو نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اگر رزق کا ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے تو بے شمار دوسرے دروازے کھل جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بے انتہا فضل و کرم اور بہت بڑے جود و سخا کا مالک ہے۔ خاص طور پر اس شخص کے لیے جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی چیز کو ترک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا کیونکہ اس نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو غنی کر دیا۔ انھیں اس قدر کشادہ رزق عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے مال داروں اور بادشاہوں میں شمار ہونے لگے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنۡ شَآءَ﴾ ’’اگر اس نے چاہا‘‘ اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا اس کی مشیت کے ساتھ معلق ہے کیونکہ دنیا کے اندر غنا کا حاصل ہونا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا، ہر ایک کو دیتا ہے، اپنے محبوب بندے کو بھی اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا مگر وہ ایمان اور دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ اس کا علم بڑا وسیع ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون غنا عطا کیے جانے کے لائق ہے اور کون ہے جو اس کے لائق نہیں اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔آیت کریمہ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ دلالت کرتی ہے کہ مشرکین مکہ بیت اللہ کی وجہ سے ریاست اور بادشاہی کے مالک تھے پھر فتح مکہ کے بعد حکومت اور اقتدار رسول اللہﷺ اور مومنین کے پاس آگیا اور مشرکین مکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جب نبی اکرمﷺ نے وفات پائی تو (وفات کے وقت) آپ نے حکم دیا کہ مشرکین کو سرزمین حجاز سے نکال دیا جائے۔ حجاز میں بیک وقت دو دین نہیں رہ سکتے.... اور یہ اس وجہ سے تاکہ ہر کافر کو مسجد حرام سے دور رکھا جائے۔ پس ہر کافر اللہ تعالیٰ کے حکم ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ میں داخل ہے۔
9:29قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٖ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ
لڑو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اورنہ یوم آخرت پر اورنہیں حرام سمجھتے اس چیز کو جس کو حرام ٹھہرایا اللہ نے اوراس کے رسول نے اورنہیں قبول کرتے دین حق کو، ان لوگوں میں سے جنھیں دی گئی کتاب، یہاں تک کہ دیں وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے، اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں(29)
[29] اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ قتال کا حکم ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے‘‘ ایسا ایمان جس کی تصدیق ان کے افعال و اعمال کرتے ہوں ۔ ﴿ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اور نہ حرام سمجھتے ہیں ان چیزوں کو جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے‘‘ یعنی محرمات کی تحریم میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی اتباع نہیں کرتے۔ ﴿ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور نہ وہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں ۔‘‘اگرچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک دین رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک باطل دین پر عمل پیرا ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دین میں تغیر و تبدل اور تحریف واقع ہوگئی ہے اور یہ (تحریف شدہ) وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیا یا وہ اس دین پر عمل پیرا ہیں جو منسوخ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع فرمایا تھا، پھر محمد مصطفیﷺ کی شریعت کے ذریعے سے منسوخ کر دیا۔ پس اس کے منسوخ ہونے کے بعد اس کے ساتھ تمسک کرنا جائز نہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو اپنے باطل نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ اس سے لوگوں کو اس سبب سے بہت نقصان پہنچتا ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور اس قتال و جہاد کی غایت و انتہا یہ مقرر کی ہے۔ ﴿ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں ‘‘ یعنی وہ مال ادا کریں جو ان کے خلاف مسلمانوں کے قتال ترک کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اپنے مال و متاع سمیت پر امن رہنے کا عوض ہے جو ہر سال ہر شخص سے اس کے حسب حال خواہ وہ امیر ہے یا غریب، وصول کیا جائے گا۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمرt اور دیگر سربراہان نے کیا تھا۔ ﴿عَنۡ يَّدٍ ﴾ ’’اپنے ہاتھوں سے‘‘ یعنی مطیع ہو کر اور اقتدار چھوڑ کر یہ مالی عوض ادا کریں اور اپنے ہاتھ سے ادا کریں اور اس کی ادائیگی کے لیے خادم وغیرہ نہ بھیجیں بلکہ یہ جزیہ صرف انھی کے ہاتھ سے وصول کیا جائے۔ ﴿ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ﴾ اور وہ زیردست اور مطیع بن کر رہیں ۔جب ان کا یہ حال ہو اور وہ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرنا، مسلمانوں کے غلبہ اور ان کے احکامات کے تحت آنا قبول کر لیں ، حالات ان کے شر اور فتنہ سے مامون ہوں ۔ وہ مسلمانوں کی ان شرائط کو تسلیم کر لیں جو ان پر عائد کی گئی ہوں جن سے ان کے اقتدار اور تکبر کی نفی ہوتی ہو اور جو ان کی زیردستی کی موجب ہوں .... تو مسلمانوں کے امام یا اس کے نائب پر واجب ہے کہ وہ ان کے ساتھ معاہدہ کر لے۔ اگر وہ معاہدے کو پورا نہ کریں اور زیردست رہ کر جزیہ ادا نہ کریں تو ان کو امان دینا جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ قتال کیا جائے یہاں تک کہ اطاعت کر لیں ۔اس آیت کریمہ سے جمہور اہل علم استدلال کرتے ہیں کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے لیا جائے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ رہے اہل کتاب کے علاوہ دیگر کفار تو ان کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا ذکر ہے جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کر لیں ۔ جزیہ ادا کرنے اور اس کے عوض مسلمانوں کے شہروں میں رہنے کے احکام میں مجوس بھی شامل ہیں ۔ رسول اللہﷺ نے علاقہ ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا، پھر امیر المومنین حضرت عمر فاروقt نے ایران کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب تمام کفار سے جزیہ قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ آیت کریمہ مشرکین عرب کے ساتھ قتال سے فراغت کے بعد اور اہل کتاب وغیرہ کے ساتھ قتال شروع ہونے پر نازل ہوئی ہے۔ تب یہ قید واقعہ کی خبر ہے اس کا مفہوم نہیں ۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مجوسیوں سے جزیہ لیا گیا ہے حالانکہ وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ نیز صحابہ کرامy اور بعد میں آنے والے مسلمانوں سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ جس قوم کے خلاف جنگ کرتے انھیں سب سے پہلے تین میں سے ایک چیز قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ (۱) اسلام قبول کرنا۔ (۲) جزیہ ادا کرنا۔ (۳) یا تلوار کا فیصلہ قبول کرنا... اور اس میں انھوں نے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں رکھا۔
9:30وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)
[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔
[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے ’’علماء‘‘ ہیں ۔ ﴿وَرُهۡبَانَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رہبان کو‘‘ اور (رُہْبَان) سے مراد ’’وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنھوں نے عبادت کے لیے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔‘‘ ﴿ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’رب، اللہ کے سوا‘‘ وہ ان کے لیے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں ) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں ۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لیے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں ۔ نیز یہ اپنے مشائخ و عباد کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں ، ان کی تعظیم کرتے ہیں ، ان کی قبروں کو بت بنا دیتے ہیں جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، جہاں جانور ذبح کرنے کی منتیں مانی جاتی ہیں ، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ ﴿ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ﴾ ’’اور مسیح ابن مریم کو۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا مسیح ابن مریم کو بھی معبود بنا لیا۔ اس حال میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے توسط سے ان کو دیا تھا۔ ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ ’’حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کے عبادت نہ کریں ۔‘‘ پس عبادت اور اطاعت کو صرف اسی کے لیے خالص کریں ۔ محبت اور دعا کے لیے صرف اسی کو مخصوص کریں ۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ ’’پاک ہے وہ اس سے‘‘ اور بلند ہے۔ ﴿ عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ‘‘ وہ پاک اور مقدس ہے، اس کی عظمت اور شان ان کے شرک اور بہتان طرازی سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ اس بارے میں نقص کے مرتکب ہیں اور اسے ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اوصاف و افعال میں ہر اس چیز سے منزہ اور بلند ہے جو اس کے کمال مقدس کے منافی ہے۔
[32] جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان کے قول کی کوئی دلیل اور ان کے اصول کی کوئی برہان تائید نہیں کرتی۔ ان کا قول محض ان کے منہ کی بات ہے اور ایک ایسا بہتان ہے جو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے.... تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں ۔‘‘ اس کے ذریعے سے ﴿ اَنۡ يُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں ‘‘ یہاں اللہ کے نور سے مراد اس کا دین ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجا اور کتابوں کے ذریعے سے نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو نور اس لیے کہا ہے کیونکہ جہالت اور ادیان باطلہ کے اندھیروں میں اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کی جاتی ہے کیونکہ دین، حق کے علم اور حق پر عمل کا نام ہے اور حق کے علاوہ ہر چیز اس کی ضد ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ اور ان کی مانند دیگر مشرکین چاہتے ہیں کہ وہ محض اپنی ایسی خالی خولی باتوں سے اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھا دیں ، جن کی اساس کسی دلیل پر قائم نہیں ۔ ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ ﴾ ’’اور اللہ نہ رہے گا بغیر پورا کیے اپنے نور کے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر کے رہے گا کیونکہ یہ نور ایسا غالب نور ہے کہ تمام مخلوق اگر اس کو بجھانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو اسے بجھا نہیں سکتی اور جس نے یہ نور نازل فرمایا ہے، تمام بندوں کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے ہر اس شخص سے، جو اس کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہے، اس نور کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر رہنے کا نہیں ، اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔‘‘ یعنی وہ اس نور کے ابطال اور اس کو رد کرنے میں پوری طرح کوشاں رہتے ہیں مگر ان کی یہ بھاگ دوڑ حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
[33] پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا ہے، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ‘‘ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دین حق کے ساتھ‘‘ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺ کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لیے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات، اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں ۔ جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لیے ضرر رساں ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ١ۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے، اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔‘‘ یعنی تاکہ حجت و برہان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے تمام ادیان پر اسے غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی ہے، وہ اس کے خلاف فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر سازش کا نقصان سازش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس نے جو ذمہ اٹھایا ہے وہ اسے ضرور نبھائے گا۔
9:31ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)
[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔
[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے ’’علماء‘‘ ہیں ۔ ﴿وَرُهۡبَانَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رہبان کو‘‘ اور (رُہْبَان) سے مراد ’’وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنھوں نے عبادت کے لیے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔‘‘ ﴿ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’رب، اللہ کے سوا‘‘ وہ ان کے لیے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں ) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں ۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لیے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں ۔ نیز یہ اپنے مشائخ و عباد کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں ، ان کی تعظیم کرتے ہیں ، ان کی قبروں کو بت بنا دیتے ہیں جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، جہاں جانور ذبح کرنے کی منتیں مانی جاتی ہیں ، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ ﴿ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ﴾ ’’اور مسیح ابن مریم کو۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا مسیح ابن مریم کو بھی معبود بنا لیا۔ اس حال میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے توسط سے ان کو دیا تھا۔ ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ ’’حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کے عبادت نہ کریں ۔‘‘ پس عبادت اور اطاعت کو صرف اسی کے لیے خالص کریں ۔ محبت اور دعا کے لیے صرف اسی کو مخصوص کریں ۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ ’’پاک ہے وہ اس سے‘‘ اور بلند ہے۔ ﴿ عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ‘‘ وہ پاک اور مقدس ہے، اس کی عظمت اور شان ان کے شرک اور بہتان طرازی سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ اس بارے میں نقص کے مرتکب ہیں اور اسے ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اوصاف و افعال میں ہر اس چیز سے منزہ اور بلند ہے جو اس کے کمال مقدس کے منافی ہے۔
[32] جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان کے قول کی کوئی دلیل اور ان کے اصول کی کوئی برہان تائید نہیں کرتی۔ ان کا قول محض ان کے منہ کی بات ہے اور ایک ایسا بہتان ہے جو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے.... تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں ۔‘‘ اس کے ذریعے سے ﴿ اَنۡ يُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں ‘‘ یہاں اللہ کے نور سے مراد اس کا دین ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجا اور کتابوں کے ذریعے سے نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو نور اس لیے کہا ہے کیونکہ جہالت اور ادیان باطلہ کے اندھیروں میں اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کی جاتی ہے کیونکہ دین، حق کے علم اور حق پر عمل کا نام ہے اور حق کے علاوہ ہر چیز اس کی ضد ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ اور ان کی مانند دیگر مشرکین چاہتے ہیں کہ وہ محض اپنی ایسی خالی خولی باتوں سے اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھا دیں ، جن کی اساس کسی دلیل پر قائم نہیں ۔ ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ ﴾ ’’اور اللہ نہ رہے گا بغیر پورا کیے اپنے نور کے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر کے رہے گا کیونکہ یہ نور ایسا غالب نور ہے کہ تمام مخلوق اگر اس کو بجھانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو اسے بجھا نہیں سکتی اور جس نے یہ نور نازل فرمایا ہے، تمام بندوں کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے ہر اس شخص سے، جو اس کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہے، اس نور کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر رہنے کا نہیں ، اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔‘‘ یعنی وہ اس نور کے ابطال اور اس کو رد کرنے میں پوری طرح کوشاں رہتے ہیں مگر ان کی یہ بھاگ دوڑ حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
[33] پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا ہے، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ‘‘ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دین حق کے ساتھ‘‘ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺ کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لیے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات، اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں ۔ جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لیے ضرر رساں ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ١ۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے، اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔‘‘ یعنی تاکہ حجت و برہان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے تمام ادیان پر اسے غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی ہے، وہ اس کے خلاف فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر سازش کا نقصان سازش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس نے جو ذمہ اٹھایا ہے وہ اسے ضرور نبھائے گا۔
9:32يُرِيدُونَ أَن يُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَيَأۡبَى ٱللَّهُ إِلَّآ أَن يُتِمَّ نُورَهُۥ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)
[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔
[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے ’’علماء‘‘ ہیں ۔ ﴿وَرُهۡبَانَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رہبان کو‘‘ اور (رُہْبَان) سے مراد ’’وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنھوں نے عبادت کے لیے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔‘‘ ﴿ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’رب، اللہ کے سوا‘‘ وہ ان کے لیے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں ) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں ۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لیے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں ۔ نیز یہ اپنے مشائخ و عباد کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں ، ان کی تعظیم کرتے ہیں ، ان کی قبروں کو بت بنا دیتے ہیں جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، جہاں جانور ذبح کرنے کی منتیں مانی جاتی ہیں ، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ ﴿ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ﴾ ’’اور مسیح ابن مریم کو۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا مسیح ابن مریم کو بھی معبود بنا لیا۔ اس حال میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے توسط سے ان کو دیا تھا۔ ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ ’’حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کے عبادت نہ کریں ۔‘‘ پس عبادت اور اطاعت کو صرف اسی کے لیے خالص کریں ۔ محبت اور دعا کے لیے صرف اسی کو مخصوص کریں ۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ ’’پاک ہے وہ اس سے‘‘ اور بلند ہے۔ ﴿ عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ‘‘ وہ پاک اور مقدس ہے، اس کی عظمت اور شان ان کے شرک اور بہتان طرازی سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ اس بارے میں نقص کے مرتکب ہیں اور اسے ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اوصاف و افعال میں ہر اس چیز سے منزہ اور بلند ہے جو اس کے کمال مقدس کے منافی ہے۔
[32] جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان کے قول کی کوئی دلیل اور ان کے اصول کی کوئی برہان تائید نہیں کرتی۔ ان کا قول محض ان کے منہ کی بات ہے اور ایک ایسا بہتان ہے جو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے.... تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں ۔‘‘ اس کے ذریعے سے ﴿ اَنۡ يُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں ‘‘ یہاں اللہ کے نور سے مراد اس کا دین ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجا اور کتابوں کے ذریعے سے نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو نور اس لیے کہا ہے کیونکہ جہالت اور ادیان باطلہ کے اندھیروں میں اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کی جاتی ہے کیونکہ دین، حق کے علم اور حق پر عمل کا نام ہے اور حق کے علاوہ ہر چیز اس کی ضد ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ اور ان کی مانند دیگر مشرکین چاہتے ہیں کہ وہ محض اپنی ایسی خالی خولی باتوں سے اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھا دیں ، جن کی اساس کسی دلیل پر قائم نہیں ۔ ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ ﴾ ’’اور اللہ نہ رہے گا بغیر پورا کیے اپنے نور کے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر کے رہے گا کیونکہ یہ نور ایسا غالب نور ہے کہ تمام مخلوق اگر اس کو بجھانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو اسے بجھا نہیں سکتی اور جس نے یہ نور نازل فرمایا ہے، تمام بندوں کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے ہر اس شخص سے، جو اس کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہے، اس نور کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر رہنے کا نہیں ، اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔‘‘ یعنی وہ اس نور کے ابطال اور اس کو رد کرنے میں پوری طرح کوشاں رہتے ہیں مگر ان کی یہ بھاگ دوڑ حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
[33] پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا ہے، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ‘‘ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دین حق کے ساتھ‘‘ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺ کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لیے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات، اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں ۔ جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لیے ضرر رساں ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ١ۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے، اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔‘‘ یعنی تاکہ حجت و برہان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے تمام ادیان پر اسے غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی ہے، وہ اس کے خلاف فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر سازش کا نقصان سازش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس نے جو ذمہ اٹھایا ہے وہ اسے ضرور نبھائے گا۔
9:33هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ
اور کہا یہودیوں نے، عزیر بیٹا ہے اللہ کا اور کہا نصاریٰ نے ، مسیح بیٹا ہے اللہ کا، یہ بات ہے ان کے مونہوں کی، (یوں) مشابہت کرتے ہیں وہ ان لوگوں کی بات کی جنھوں نے کفر کیا ان سے پہلے، ہلاک کرے ان کو اللہ، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں(30) بنا لیا انھوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو(اپنا) رب، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح ابن مریم کو(بھی) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ وہ عبادت کریں(صرف) ایک معبود کی، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں(31)وہ چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے اورانکار کرتا ہے اللہ مگر یہ کہ پورا کرے اپنا نور، اگرچہ ناخوش ہوں کافر(32) وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر، اگرچہ ناخوش ہوں مشرک(33)
[30] جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ قتال کا حکم دیا تو ان کے ان خبیث اقوال کا ذکر کیا، جو اہل ایمان کو، جن کے اندر اپنے دین اور اپنے رب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے، ان کے ساتھ جنگ کرنے، ان کے خلاف جدوجہد کرنے اور اس میں پوری کوشش صرف کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ عُزَيۡرُ ِ۟ ابۡنُ اللّٰهِ ﴾ ’’یہود نے کہا، عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ‘‘ ان کا یہ قول ان کے تمام عوام کا قول نہ تھا بلکہ ان میں سے ایک فرقے کا قول تھا، البتہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہودیوں کی سرشت میں خباثت اور شر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جس نے ان کو یہاں تک پہنچا دیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بات کہنے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال میں نقص ثابت کرنے کی جسارت کی۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت عزیرu کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے کا سبب یہ تھا کہ جب (غیر اسرائیلی مشرک) بادشاہوں نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کو تتر بتر کر دیا اور حاملین تورات کو قتل کر دیا، اس کے بعد انھوں نے جناب عزیر کو پایا کہ تمام تورات یا اس کا بیشتر حصہ ان کو حفظ ہے، حضرت عزیرu نے ان کو تورات اپنے حافظہ سے املا کروا دی اور انھوں نے تورات کو لکھ لیا۔ بنابریں انھوں نے حضرت عزیرu کے بارے میں یہ بدترین دعویٰ کیا۔ ﴿ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الۡمَسِيۡحُ ﴾ ’’اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح‘‘ عیسیٰ ابن مریم ﴿ ابۡنُ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی وہ قول جو یہ کہتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلُهُمۡ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’باتیں ہیں ان کے مونہوں کی‘‘ جس کی صداقت پر یہ لوگ کوئی حجت اور دلیل قائم نہیں کر سکے۔ جس شخص کو اس بات کی پروا نہ ہو کہ وہ کیا بولتا ہے اگر وہ کیسی بھی بات کرے تو اس کے بارے میں یہ چیز تعجب خیز نہیں کیونکہ اس کے پاس کوئی عقل اور کوئی دین نہیں جو اس کو ایسی بات کرنے سے روکے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يُضَاهِــُٔوۡنَ ﴾ ’’وہ مشابہت رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اپنے اس قول میں مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ان لوگوں کے قول کے جنھوں نے اس سے پہلے کفر کیا‘‘ یعنی ان کا قول مشرکین کے قول سے مشابہت رکھتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ۔ باطل ہونے میں ان کے اقوال باہم مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞۚ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’اللہ ان کو ہلاک کرے، کہاں پھرے جاتے ہیں ‘‘ یعنی وہ کیسے واضح اور خالص حق کو واضح طور پر باطل کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔
[31] یہ رویہ اگرچہ ایک بڑی امت سے بہت نادر اور عجیب سا لگتا ہے کہ وہ کسی ایسی بات پر متفق ہو جس کے بطلان پر ادنیٰ سا غور و فکر اور عقل اور سمجھ دلالت کرتے ہیں کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَحۡبَارَهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے ٹھہرا لیا اپنے احبار کو‘‘ (اَحْبَار) سے مراد ان کے ’’علماء‘‘ ہیں ۔ ﴿وَرُهۡبَانَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رہبان کو‘‘ اور (رُہْبَان) سے مراد ’’وہ عبادت گزار لوگ ہیں جنھوں نے عبادت کے لیے گوشہ نشینی اختیار کی ہے۔‘‘ ﴿ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’رب، اللہ کے سوا‘‘ وہ ان کے لیے ان امور کو حلال کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور یہ ان کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور ان امور کو حرام کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرایا ہے اور یہ (ان کی تقلید میں ) ان امور کو حرام قرار دے لیتے ہیں ۔ یہ احبار اور رہبان ان کے لیے ایسی شریعت اور اقوال مشروع کرتے ہیں جو انبیاء و رسل کے دین کے منافی ہیں اور یہ ان کی تقلید کرتے ہیں ۔ نیز یہ اپنے مشائخ و عباد کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں ، ان کی تعظیم کرتے ہیں ، ان کی قبروں کو بت بنا دیتے ہیں جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، جہاں جانور ذبح کرنے کی منتیں مانی جاتی ہیں ، دعائیں مانگی جاتی ہیں اور ان کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے۔ ﴿ وَالۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ﴾ ’’اور مسیح ابن مریم کو۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ کے سوا مسیح ابن مریم کو بھی معبود بنا لیا۔ اس حال میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین کے توسط سے ان کو دیا تھا۔ ﴿ وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ ’’حالانکہ انھیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کے عبادت نہ کریں ۔‘‘ پس عبادت اور اطاعت کو صرف اسی کے لیے خالص کریں ۔ محبت اور دعا کے لیے صرف اسی کو مخصوص کریں ۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ ’’پاک ہے وہ اس سے‘‘ اور بلند ہے۔ ﴿ عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان چیزوں سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ‘‘ وہ پاک اور مقدس ہے، اس کی عظمت اور شان ان کے شرک اور بہتان طرازی سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ اس بارے میں نقص کے مرتکب ہیں اور اسے ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اوصاف و افعال میں ہر اس چیز سے منزہ اور بلند ہے جو اس کے کمال مقدس کے منافی ہے۔
[32] جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ ان کے قول کی کوئی دلیل اور ان کے اصول کی کوئی برہان تائید نہیں کرتی۔ ان کا قول محض ان کے منہ کی بات ہے اور ایک ایسا بہتان ہے جو انھوں نے خود گھڑ لیا ہے.... تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں ۔‘‘ اس کے ذریعے سے ﴿ اَنۡ يُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں سے بجھا دیں ‘‘ یہاں اللہ کے نور سے مراد اس کا دین ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے بھیجا اور کتابوں کے ذریعے سے نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو نور اس لیے کہا ہے کیونکہ جہالت اور ادیان باطلہ کے اندھیروں میں اس کے ذریعے سے روشنی حاصل کی جاتی ہے کیونکہ دین، حق کے علم اور حق پر عمل کا نام ہے اور حق کے علاوہ ہر چیز اس کی ضد ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ اور ان کی مانند دیگر مشرکین چاہتے ہیں کہ وہ محض اپنی ایسی خالی خولی باتوں سے اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھا دیں ، جن کی اساس کسی دلیل پر قائم نہیں ۔ ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ ﴾ ’’اور اللہ نہ رہے گا بغیر پورا کیے اپنے نور کے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر کے رہے گا کیونکہ یہ نور ایسا غالب نور ہے کہ تمام مخلوق اگر اس کو بجھانے کے لیے اکٹھی ہو جائے تو اسے بجھا نہیں سکتی اور جس نے یہ نور نازل فرمایا ہے، تمام بندوں کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے ہر اس شخص سے، جو اس کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہے، اس نور کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہوا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَيَاۡبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنۡ يُّتِمَّ نُوۡرَهٗ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر رہنے کا نہیں ، اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔‘‘ یعنی وہ اس نور کے ابطال اور اس کو رد کرنے میں پوری طرح کوشاں رہتے ہیں مگر ان کی یہ بھاگ دوڑ حق کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
[33] پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کو، جس کی تکمیل اور حفاظت کا اس نے ذمہ اٹھایا ہے، واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ذات ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ‘‘ جو کہ علم نافع کا نام ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دین حق کے ساتھ‘‘ جو کہ عمل صالح کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب محمدﷺ کو جو دین دے کر مبعوث فرمایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات، اس کے افعال اور اس کے احکام و اخبار کے بارے میں باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ہر ایسے حکم پر مشتمل ہے جو بدن، روح اور قلب کے لیے نافع اور ان کی اصلاح کرتا ہے، یعنی دین میں اخلاص، اللہ تعالیٰ سے محبت اور اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہے، وہ مکارم اخلاق، محاسن عادات، اعمال صالحہ اور آداب نافعہ کے احکام پر مشتمل ہے اور ان تمام برے اخلاق اور برے اعمال سے روکتا ہے جو ان کی ضد ہیں ۔ جو دنیا و آخرت میں قلب و بدن کے لیے ضرر رساں ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ١ۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اس (دین) کو تمام دینوں پر غالب کرے، اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔‘‘ یعنی تاکہ حجت و برہان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے تمام ادیان پر اسے غالب کرے۔ اگرچہ مشرکین کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی ہے، وہ اس کے خلاف فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں مگر سازش کا نقصان سازش کرنے والے ہی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس نے جو ذمہ اٹھایا ہے وہ اسے ضرور نبھائے گا۔
9:34۞يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡأَحۡبَارِ وَٱلرُّهۡبَانِ لَيَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۗ وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے علماء اوردرویش ، البتہ کھاتے ہیں مال لوگوں کے باطل طریقے سےاور روکتے ہیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سےاور وہ لوگ جو جمع کرکے رکھتے ہیں سونا اور چاندی اورنہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں۔ پس خوش خبری دے دیجیے ان کو ساتھ عذاب درد ناک کے(34) جس دن کہ تپایا جائے گا وہ (مال) جہنم کی آگ میں، پھر داغا جائے گا اس سے ان کی پیشانیوں کو اوران کے پہلوؤں کو اوران کی پیٹھوں کو(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جو تم جمع کرکرکے رکھتے تھے اپنے نفسوں کے لیے، سو (مزہ) چکھو تم (اس کا) جو تھے تم جمع کرکر کے رکھتے(35)
[34] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں ۔ یہ احبار و رہبان وظائف لیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے۔ کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہ نمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال ہتھیانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو مال دے کر ایسا فتویٰ حاصل کرتے تھے یا ان سے ایسا فیصلہ کرواتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نہیں ہوتا تھا۔ ان احبار و رہبان کی ان دو حالتوں سے بچنا چاہیے :(۱) لوگوں کا مال ناحق لینا۔ (۲)لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ’’اور جو لوگ سونا اور چاندي جمع كرتے هيں ۔‘‘ يعني ان كو روك ركهتے هيں ۔ ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور ان کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی بھلائی کے راستوں میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں ۔ یہ وہ جمع کرنا ہے جو حرام ہے، یعنی مال کو روک رکھنا اور اسے وہاں خرچ نہ کرنا جہاں خرچ کرنا فرض ہے، مثلاً: زکاۃ ادا نہ کرنا، بیویوں اور دیگر اقارب کو نفقات واجبہ نہ دینا۔ ﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیجیے۔‘‘
[35] پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُحۡمٰؔى عَلَيۡهَا﴾ ’’جس دن اس (مال) کو گرم کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے مال پر آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’جہنم کی آگ میں ۔‘‘ یعنی ہر دینار اور ہر درہم پر علیحدہ علیحدہ آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ﴾ ’’(پھر اس سے قیامت کے روز) ان لوگوں کی پیشانیوں ، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔‘‘ جب بھی یہ دینار و درہم ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ان کو دوبارہ دن بھر تپایا جائے گا اور وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور انھیں زجر و توبیخ اور ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا۔ ﴿ هٰؔذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَؔ ﴾’’یہی وہ مال ہے جو تم سینت سینت کر رکھتے تھے اپنی جانوں کے لیے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس خزانے کے ذریعے سے تم نے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ میں انسان کے اپنے مال کے بارے میں انحراف کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ انحراف دو امور کے ذریعے سے ہوتا ہے۔(۱) انسان اس کو باطل کے راستے میں خرچ کرتا ہے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس سے اس کو صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، مثلاً:معاصی اور شہوات میں مال خرچ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اعانت حاصل نہیں ہوتی۔ اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے مال خرچ کرنا۔(۲) جہاں مال خرچ کرنا واجب ہو وہاں مال خرچ نہ کرنا اور کسی چیز سے روکنا درحقیقت اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔
9:35يَوۡمَ يُحۡمَىٰ عَلَيۡهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡۖ هَٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُونَ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک بہت سے علماء اوردرویش ، البتہ کھاتے ہیں مال لوگوں کے باطل طریقے سےاور روکتے ہیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے راستے سےاور وہ لوگ جو جمع کرکے رکھتے ہیں سونا اور چاندی اورنہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں۔ پس خوش خبری دے دیجیے ان کو ساتھ عذاب درد ناک کے(34) جس دن کہ تپایا جائے گا وہ (مال) جہنم کی آگ میں، پھر داغا جائے گا اس سے ان کی پیشانیوں کو اوران کے پہلوؤں کو اوران کی پیٹھوں کو(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جو تم جمع کرکرکے رکھتے تھے اپنے نفسوں کے لیے، سو (مزہ) چکھو تم (اس کا) جو تھے تم جمع کرکر کے رکھتے(35)
[34] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے اہل ایمان بندوں کو تحذیر ہے کہ وہ بہت سے احبار اور رہبان، یعنی اہل کتاب کے علماء اور عبادت گزاروں سے بچیں جو باطل یعنی ناحق طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور انھیں اللہ کے راستے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کے علم، ان کی عبادت اور ان کی پیشوائی کی وجہ سے لوگوں کے مال اور ان کے چندوں میں سے ان کے وظائف مقرر ہیں ۔ یہ احبار و رہبان وظائف لیتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ۔ ان کا اس طریقے سے وظائف لینا حرام اور ظلم ہے۔ کیونکہ لوگ ان پر اپنا مال اس لیے خرچ کرتے تھے تاکہ وہ راہ راست کی طرف ان کی راہ نمائی کریں اور ناحق طریقے سے لوگوں کا مال ہتھیانے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ لوگ ان کو مال دے کر ایسا فتویٰ حاصل کرتے تھے یا ان سے ایسا فیصلہ کرواتے تھے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق نہیں ہوتا تھا۔ ان احبار و رہبان کی ان دو حالتوں سے بچنا چاہیے :(۱) لوگوں کا مال ناحق لینا۔ (۲)لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ’’اور جو لوگ سونا اور چاندي جمع كرتے هيں ۔‘‘ يعني ان كو روك ركهتے هيں ۔ ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور ان کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی بھلائی کے راستوں میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں ۔ یہ وہ جمع کرنا ہے جو حرام ہے، یعنی مال کو روک رکھنا اور اسے وہاں خرچ نہ کرنا جہاں خرچ کرنا فرض ہے، مثلاً: زکاۃ ادا نہ کرنا، بیویوں اور دیگر اقارب کو نفقات واجبہ نہ دینا۔ ﴿ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ﴾ ’’تو انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیجیے۔‘‘
[35] پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ﴿ يَّوۡمَ يُحۡمٰؔى عَلَيۡهَا﴾ ’’جس دن اس (مال) کو گرم کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے مال پر آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’جہنم کی آگ میں ۔‘‘ یعنی ہر دینار اور ہر درہم پر علیحدہ علیحدہ آگ دہکائی جائے گی۔ ﴿ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡ﴾ ’’(پھر اس سے قیامت کے روز) ان لوگوں کی پیشانیوں ، ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔‘‘ جب بھی یہ دینار و درہم ٹھنڈے پڑ جائیں گے تو ان کو دوبارہ دن بھر تپایا جائے گا اور وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا اور انھیں زجر و توبیخ اور ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا۔ ﴿ هٰؔذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَؔ ﴾’’یہی وہ مال ہے جو تم سینت سینت کر رکھتے تھے اپنی جانوں کے لیے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تم نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس خزانے کے ذریعے سے تم نے اپنی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ میں انسان کے اپنے مال کے بارے میں انحراف کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ انحراف دو امور کے ذریعے سے ہوتا ہے۔(۱) انسان اس کو باطل کے راستے میں خرچ کرتا ہے جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس سے اس کو صرف نقصان ہی پہنچتا ہے، مثلاً:معاصی اور شہوات میں مال خرچ کرنا جس سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اعانت حاصل نہیں ہوتی۔ اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کے لیے مال خرچ کرنا۔(۲) جہاں مال خرچ کرنا واجب ہو وہاں مال خرچ نہ کرنا اور کسی چیز سے روکنا درحقیقت اس کی ضد کا حکم دینا ہے۔
9:36إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَٰتِلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ كَآفَّةٗ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ كَآفَّةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ
بے شک شمار مہینوں کا، نزدیک اللہ کے بارہ مہینے ہی ہیں،اللہ کی کتاب میں، جس دن کہ پیدا کیے اس نے آسمان اور زمین، ان میں سے چار (مہینے) ہیں حرمت والے، یہی ہے دین سیدھا، پس نہ ظلم کرو تم ان میں اپنی جانوں پراور لڑو تم مشرکوں سے اکٹھے جیسے وہ لڑتے ہیں تم سے اکٹھےاور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیز گاروں کے(36)
[36]﴿ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں ۔ ﴿ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا ﴾ ’’بارہ مہینے ہے‘‘ یہ وہی معروف مہینے ہیں ۔ ﴿ فِيۡؔ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی کتاب میں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم قدری میں ۔ ﴿ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’جس دن اس نے پیدا کیے تھے آسمان اور زمین‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیل و نہار جاری کیے، اس کے اوقات کی مقدار مقرر کی اور اس کو ان بارہ مہینوں میں تقسیم کیا۔ ﴿ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌؔ﴾’’ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ‘‘ اور یہ ہیں رجب، ذیقعد، ذوالحج اور محرم... اور ان کے احترام کی وجہ سے ان کو حرام مہینوں سے موسوم کیا گیا ہے۔ نیز ان کو اس وجہ سے بھی حرام مہینے کہا گیا ہے کہ ان میں قتال کرنا حرام ٹھہرایا گیا ہے۔﴿فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’پس ان میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر بارہ مہینوں کی طرف لوٹتی ہے اور یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس نے ان مہینوں کو بندوں کے لیے وقت کی مقدار کے تعین کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ پس ان مہینوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے معمور رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر اس کا شکر ادا کیا جائے۔ نیز یہ کہ اس نے ان مہینوں کو اپنے بندوں (کے مصالح) کے لیے مقرر فرمایا۔ پس اپنے آپ پر ظلم کرنے سے بچو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ضمیر چار حرام مہینوں کی طرف لوٹتی ہو یعنی ان کے لیے ممانعت ہے کہ وہ خاص طور پر ان چار مہینوں میں ظلم کریں ۔ حالانکہ تمام اوقات میں ظلم کرنے کی ممانعت ہے لیکن چونکہ ان چار مہینوں کی حرمت زیادہ ہے اور ان مہینوں میں دوسرے مہینوں کی نسبت ظلم کے گناہ کی شدت بھی زیادہ ہے، اس لیے ان مہینوں میں ظلم کرنے سے بطور خاص منع کیا گیا۔ان چار مہینوں میں ان علماء کے نزدیک، جو یہ کہتے ہیں کہ حرام مہینوں میں لڑائی کی تحریم منسوخ نہیں ، لڑائی کرنا ممنوع ہے۔ یہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم کے بارے میں عام نصوص پر عمل کرتے ہیں ۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ان مہینوں میں قتال کی تحریم منسوخ ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی عمومیت پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَقَاتِلُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ كَآفَّةً﴾ ’’اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں ۔‘‘ یعنی تمام قسم کے مشرکین اور رب العالمین کا انکار کرنے والوں سے لڑو اور لڑائی کے لیے کسی کو مخصوص نہ کرو بلکہ تمام مشرکین اور کفار کو اپنا دشمن سمجھو جیسا کہ تمھارے ساتھ ان کا رویہ ہے۔ وہ اہل ایمان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور شرارت سے کبھی نہیں چوکتے۔اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ ﴿ كَآفَّةً﴾ واؤ سے حال ہو، تب معنی یہ ہوگا کہ تم سب اکٹھے ہو کر مشرکین سے جنگ کرو، تب اس صورت میں تمام اہل ایمان پر جہاد کے لیے نکلنا فرض ہے۔ اس احتمال کے مطابق یہ آیت کریمہ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَا كَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِيَنۡفِرُوۡا كَآفَّةً﴾(التوبۃ: 9؍122)’’اہل ایمان کے لیے ضروری نہ تھا کہ وہ سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے۔‘‘کے لیے ناسخ قرار پائے گی۔﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی مدد، نصرت اور تائید کے ذریعے سے تقویٰ شعار لوگوں کے ساتھ ہے۔ پس تم اپنے ظاہر و باطن اور اطاعت الٰہی پر قائم رہنے میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کے حریص بنو۔ خاص طور پر کفار کے خلاف قتال کے وقت کیونکہ ایسی صورت حال میں ، جنگ میں شریک کفار دشمنوں کے معاملہ میں مومن سے تقویٰ کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔
9:37إِنَّمَا ٱلنَّسِيٓءُ زِيَادَةٞ فِي ٱلۡكُفۡرِۖ يُضَلُّ بِهِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يُحِلُّونَهُۥ عَامٗا وَيُحَرِّمُونَهُۥ عَامٗا لِّيُوَاطِـُٔواْ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ فَيُحِلُّواْ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُۚ زُيِّنَ لَهُمۡ سُوٓءُ أَعۡمَٰلِهِمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ
بے شک مہینے کو پیچھے ہٹا دینا تو زیادتی ہے کفر میں، گمراہ کیے جاتے ہیں اس کی وجہ سے کافر لوگ، حلال کرلیتے ہیں وہ اس کو ایک سال اور حرام کردیتے ہیں اس کو (دوسرے) سال تاکہ پوری کریں گنتی ان مہینوں کی جو حرام ٹھہرائے اللہ نے۔ پس وہ حلال کرلیتے ہیں جس کو حرام کیا اللہ نے، مزین کردیے گئے ان کے لیے برے عمل ان کےاور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(37)
[37]﴿النَّسِيۡٓءُ﴾’’تاخیر‘‘ وہ ہے جو اہل جاہلیت حرام مہینوں میں استعمال کیا کرتے تھے۔ یہ ان کی جملہ بدعات میں سے ایک بدعت تھی کہ جب انھیں حرام مہینوں میں سے کسی مہینے میں لڑائی کی ضرورت پڑتی تو وہ… اپنی فاسد آراء کے مطابق… سمجھتے تھے کہ حرام مہینوں کی گنتی کو پورا رکھا جائے جن کے اندر لڑائی حرام ہے۔ اور یہ کہ وہ بعض حرام مہینوں کو موخر یا مقدم کر دیتے تھے اور اس کی جگہ حلال مہینوں میں سے کسی مہینے کو حرام بنا لیتے تھے۔ جب ان حرام کی جگہ حلال مہینوں کو مقرر کر دیتے تو حرام مہینوں میں لڑائی کو حلال کر لیتے اور حلال مہینوں کو حرام قرار دے دیتے۔ ان کا یہ رویہ… جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے… ان کی طرف سے مزید کفر اور گمراہی کا رویہ ہے کیونکہ اس میں ایسے امور ہیں جن سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔(۱) انھوں نے ( نسئی)کو اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین قرار دے دیا حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں ۔(۲)انھوں نے دین کو بدل ڈالا، حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے ڈالا۔(۳)انھوں نے بزعم خود، اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے ساتھ فریب کیا۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ان کے دین کو گڈ مڈ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے دین میں حیلہ سازی اور فریب کاری کو استعمال کیا۔(۴) شریعت کی مخالفت میں بار بار کیے جانے والے اعمال پر دوام سے لوگوں کے دلوں سے ان کی قباحت زائل ہو جاتی ہے۔ بلکہ بسااوقات ایسے کام اچھے محسوس ہونے لگتے ہیں ، اس کے جو خطرناک نتائج نکلتے ہیں ، محتاج وضاحت نہیں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُحِلُّوۡنَهٗ عَامًا وَّيُحَرِّمُوۡنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــُٔوۡا۠ عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ﴾ ’’گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر، حلال کر لیتے ہیں اس مہینے کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں اس کو دوسرے برس تاکہ پوری کر لیں گنتی ان مہینوں کی جن کو اللہ نے حرمت والا قرار دیا ہے‘‘ یعنی حرام مہینوں کے عدد میں موافقت کریں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے انھیں حلال قرار دے لیں ﴿ زُيِّنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ اَعۡمَالِهِمۡ﴾ ’’ان کے برے اعمال ان کے لیے مزین کردیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی شیاطین نے ان کے سامنے ان کے برے اعمال کو مزین کر دیا اور ان کے دلوں میں جو عقائد مزین ہوگئے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو کفر کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور تکذیب نے ان کے دلوں میں جڑ پکڑ لی ہے ، لہٰذا ان کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آجائیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
9:38يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَا لَكُمۡ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ٱنفِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱثَّاقَلۡتُمۡ إِلَى ٱلۡأَرۡضِۚ أَرَضِيتُم بِٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا مِنَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ فَمَا مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا ہے تمھیں؟ جب کہا جاتا ہے تم سے کہ کوچ کرو راہ میں اللہ کی تو بوجھل ہوجاتے(اور گرے جاتے) ہو تم طرف زمین کی، کیا تم نے پسند کرلیا ہے دنیا کی زندگی کو بمقابلہ آخرت کے؟ پس نہیں ہے فائدہ دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلے میں مگر تھوڑا(38) اگر نہ کوچ کرو گے تم تو دے گا وہ تمھیں عذاب درد ناک اور بدل کر لے آئے گا کسی اور قوم کو سوائے تمھارے اورنہ بگاڑ سکو گے تم اس کا کچھ بھی اور اللہ ہر چیز پر خوب قادرہے(39)
[38] واضح رہے کہ اس سورۂ کریمہ کا اکثر حصہ غزوۂ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہﷺ نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زادِ راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو‘‘! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمھارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس ﴿ مَا لَكُمۡ اِذَا قِيۡلَ لَكُمُ انۡفِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَى الۡاَرۡضِ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ جب تمھیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو گرے جاتے ہو زمین پر‘‘ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ ﴿ اَرَضِيۡتُمۡ بِالۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔‘‘ یعنی تمھارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔﴿ فَمَا مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا‘‘ جس کی طرف تم مائل ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’مگر بہت تھوڑا‘‘ کیا اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نہیں نوازا جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا.... اول سے لے کر آخر تک.... آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں ؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اسی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے.... اللہ کی قسم! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔
[39] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب‘‘ دنیا اور آخرت میں ۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی کتاب اور شریعت کی مدافعت کی اور نہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں ۔نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چرانے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا وَّيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ وَلَا تَضُرُّوۡهُ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو تم کو دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لیے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لیے برابر ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کر سکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔
9:39إِلَّا تَنفِرُواْ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا وَيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيۡـٔٗاۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا ہے تمھیں؟ جب کہا جاتا ہے تم سے کہ کوچ کرو راہ میں اللہ کی تو بوجھل ہوجاتے(اور گرے جاتے) ہو تم طرف زمین کی، کیا تم نے پسند کرلیا ہے دنیا کی زندگی کو بمقابلہ آخرت کے؟ پس نہیں ہے فائدہ دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلے میں مگر تھوڑا(38) اگر نہ کوچ کرو گے تم تو دے گا وہ تمھیں عذاب درد ناک اور بدل کر لے آئے گا کسی اور قوم کو سوائے تمھارے اورنہ بگاڑ سکو گے تم اس کا کچھ بھی اور اللہ ہر چیز پر خوب قادرہے(39)
[38] واضح رہے کہ اس سورۂ کریمہ کا اکثر حصہ غزوۂ تبوک میں نازل ہوا ہے، جب رسول اللہﷺ نے رومیوں کے مقابلے میں جنگ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ اس وقت سخت گرمی کا موسم تھا، لوگوں کے پاس زادِ راہ بہت کم تھا اور ان کے معاشی حالات عسرت کا شکار تھے۔ اس کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں سستی آگئی تھی جو اللہ تعالیٰ کے عتاب کی موجب بنی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے اٹھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے ایمان والو‘‘! کیا تم ایمان کے تقاضوں اور یقین کے داعیوں کو نہیں جانتے؟ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کی جائے، اس کی رضا کے حصول، اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور تمھارے دین کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی طرف سرعت سے بڑھا جائے۔ پس ﴿ مَا لَكُمۡ اِذَا قِيۡلَ لَكُمُ انۡفِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اثَّاقَلۡتُمۡ اِلَى الۡاَرۡضِ﴾ ’’تمھیں کیا ہے کہ جب تمھیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو گرے جاتے ہو زمین پر‘‘ یعنی تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹھ رہے ہو اور راحت و آرام کی طرف مائل ہو رہے ہو۔ ﴿ اَرَضِيۡتُمۡ بِالۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا مِنَ الۡاٰخِرَةِ﴾’’کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔‘‘ یعنی تمھارا حال تو بس اس شخص جیسا ہے جو دنیا کی زندگی پر راضی ہے اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے اور آخرت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ گویا آخرت پر وہ ایمان ہی نہیں رکھتا۔﴿ فَمَا مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس نہیں ہے نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا‘‘ جس کی طرف تم مائل ہو جس کو تم نے آخرت پر ترجیح دے رکھی ہے۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’مگر بہت تھوڑا‘‘ کیا اللہ تعالیٰ نے تمھیں عقل سے نہیں نوازا جس کے ذریعے سے تم تمام معاملات کو تولو کہ کون سا معاملہ ہے جو ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟ کیا ایسا نہیں کہ یہ دنیا.... اول سے لے کر آخر تک.... آخرت کے ساتھ اس کی کوئی نسبت ہی نہیں ؟ اس دنیا میں انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے، یہ عمر اتنی نہیں کہ اسی کو مقصد بنا لیا جائے اور اس کے ماوراء کوئی مقصد ہی نہ ہو اور انسان کی کوشش، اس کی جہد اور اس کے ارادے اس انتہائی مختصر زندگی سے آگے نہ بڑھتے ہوں جو تکدر سے لبریز اور خطرات سے بھرپور ہے۔ تب کس بنا پر تم نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دے دی جو تمام نعمتوں کی جامع ہے جس میں وہ سب کچھ ہوگا نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تم اس آخرت میں ہمیشہ رہو گے.... اللہ کی قسم! وہ شخص جس کے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا ہے، جو صائب رائے رکھتا ہے اور جو عقل مندوں میں شمار ہوتا ہے، کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا۔
[39] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد کے لیے نہ نکلنے پر ان کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو وہ تم کو عذاب دے گا، دردناک عذاب‘‘ دنیا اور آخرت میں ۔ کیونکہ جہاد کے لیے بلانے پر، جہاد کے لیے گھر سے نہ نکلنا کبیرہ گناہ ہے جو سخت ترین عذاب کا موجب ہے کیونکہ اس میں شدید نقصان ہے بوقت ضرورت جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی منہیات کا ارتکاب ہے۔ جہاد سے گریز کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کی نہ اس کی کتاب اور شریعت کی مدافعت کی اور نہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی ان کے ان دشمنوں کے خلاف مدد کی جو ان کو ختم کرنا اور ان کے دین کو مٹانا چاہتے ہیں ۔نیز بسا اوقات ضعیف الایمان لوگ جہاد سے جی چرانے میں ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں بلکہ اس طرح دشمن کے خلاف جہاد کرنے والوں کی قوت ٹوٹ جاتی ہے۔ اس لیے جس کا یہ حال ہو تو وہ اسی قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سخت وعید سنائے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِلَّا تَنۡفِرُوۡا يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا وَّيَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ وَلَا تَضُرُّوۡهُ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’اگر تم نہ نکلو گے تو تم کو دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدلے میں لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت اور اپنے کلمہ کو بلند کرنے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ اس لیے اگر تم اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہو یا ان کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیتے ہو، اللہ کے لیے برابر ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ جس چیز کا ارادہ کرے تو وہ اسے بے بس نہیں کر سکتی اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا۔
9:40إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدۡ نَصَرَهُ ٱللَّهُ إِذۡ أَخۡرَجَهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ ٱثۡنَيۡنِ إِذۡ هُمَا فِي ٱلۡغَارِ إِذۡ يَقُولُ لِصَٰحِبِهِۦ لَا تَحۡزَنۡ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَنَاۖ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَيۡهِ وَأَيَّدَهُۥ بِجُنُودٖ لَّمۡ تَرَوۡهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلسُّفۡلَىٰۗ وَكَلِمَةُ ٱللَّهِ هِيَ ٱلۡعُلۡيَاۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اگہ نہ مدد کرو گے تم اس کی تو تحقیق مدد کی اس (پیغمبر) کی اللہ نے، جبکہ نکال دیا تھا اس کو ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، (وہ) دوسرا تھا دومیں سے، جب وہ دونوں تھے غار میں، جبکہ وہ کہہ رہا تھا اپنے ساتھی سے ، غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پس نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اس پر اورمدد کی اس کی ایسے لشکروں سے کہ نہیں دیکھا تم نے ان کواور کردی اس نے بات ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نیچی۔ اور بات اللہ کی وہی ہے بالااور اللہ بڑا زبردست بہت حکمت والا ہے(40)
[40] اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی مدد نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ تم سے بے نیاز ہے تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس نے انتہائی بدترین حالات میں بھی آپ کی مدد فرمائی۔ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب اس کو کافروں نے نکال دیا۔‘‘ جب کفار نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا، جب انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی اور وہ اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں ۔ آخر انھوں نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ ﴿ ثَانِيَ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’وہ دو میں سے دوسرا تھا‘‘ یعنی نبی کریمﷺ اور ابوبکر صدیقt ﴿ اِذۡ هُمَا فِي الۡغَارِ ﴾’’جب وہ دونوں غار میں تھے‘‘ یعنی جب رسول اللہﷺ اور ابوبکر صدیقt مکہ مکرمہ سے نکل کر مکہ سے نیچے کی طرف واقع غار ثور میں پناہ گزین ہوئے۔ دونوں اس وقت تک غار میں ٹھہرے رہے جب تک کہ ان کی تلاش کا معاملہ ٹھنڈا نہیں پڑ گیا۔ دونوں اصحاب شدید حرج اور مشقت کی حالت میں مبتلا رہے۔ جب ان کے دشمن ان کی تلاش میں ہر طرف پھیل گئے تاکہ ان کو پکڑ کر قتل کر دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی نصرت نازل فرمائی جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ﴾ ’’جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے۔‘‘ یعنی جب نبی اکرمﷺ نے اپنے ساتھی حضرت ابوبکرt سے، جبکہ وہ سخت غم زدہ اور قلق کا شکار تھے..... فرمایا:﴿ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا﴾ ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد، نصرت اور تائید ہمارے ساتھ ہے۔ ﴿فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ ﴾ ’’پس اتاری اللہ نے اپنی طرف سے اس پر سکینت‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ثابت قدمی، طمانیت اور ایسا سکون نازل فرمایا جو دل کی مضبوطی کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے جب آپ کا ساتھی گھبرایا تو آپ نے اس کو پرسکون کرتے ہوئے فرمایا ’’غم نہ کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘﴿ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡهَا﴾’’اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں ‘‘ اور وہ معزز فرشتے تھے جن کو اللہ نے آپ کا محافظ بنا دیا۔﴿ وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوا السُّفۡلٰى﴾’’اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار کو ساقط اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا کیونکہ کفار سخت غضب ناک تھے اور رسول اللہﷺ پر سخت غصہ تھا وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کو گرفتار کر کے قتل کر سکتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے بلکہ وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی مدافعت فرما کر آپ کو اپنی نصرت سے نوازا۔ یہی وہ مدد ہے جس کا اس مقام پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ مدد کی دو قسمیں ہیں ۔(۱)جب مسلمان دشمن کو زک پہنچانے کے خواہش مند ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خواہش اور مقصد کو پورا کرتا ہے اور وہ اپنے دشمن پر غالب آجاتے ہیں ۔(۲)مدد کی دوسری قسم مستضعفین کی مدد ہے جن کو ان کا طاقتور دشمن نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمن کو آپ سے دور کر کے اور دشمن سے آپ کا دفاع کر کے آپ کی مدد فرمائی اور شاید مدد و نصرت کی یہ قسم سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کی مدد کرنا، جب کفار نے دونوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا تھا.... نصرت کی اسی نوع میں شمار ہوتا ہے۔﴿ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الۡعُلۡيَا﴾ ’’اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلمات قدریہ اور کلمات دینیہ دیگر تمام کلمات پر غالب ہیں ۔ اس مفہوم کی چند دیگر آیات یہ ہیں ۔ ﴿ وَؔكَانَ حَقًّا عَلَيۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(الروم: 30؍47) ’’اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ﴾(غافر:40؍51) ’’ہم اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے، دنیا کی زندگی میں اور جس روز گواہ (گواہی دینے کے لیے) کھڑے ہوں گے، ضرور مدد کریں گے۔‘‘ ﴿وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات: 37؍173) ’’بے شک ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔‘‘پس اللہ تعالیٰ کا دین واضح دلائل، حیرت انگیز آیات اور تائید کرنے والے براہین کے ذریعے سے تمام ادیان پر غالب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ﴾ ’’اور اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب آسکتا ہے، نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔ ﴿ حَكِيۡمٌ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے۔‘‘ تمام اشیاء کو ان کے مناسب مقام پر رکھتا ہے وہ کبھی کبھی اپنے گروہ کی مدد کو کسی دوسرے وقت تک موخر کر دیتا ہے جس کا تقاضا حکمت الہیہ کرتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں جناب ابوبکر صدیقt کی فضیلت میں ایک ایسی خصوصیت بیان کی گئی ہے جو اس امت کے کسی اور فرد میں نہیں اور وہ ہے یہ منقبت جلیلہ اور صحبت جمیلہ... اور تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کریمہ سے یہی مراد ہے۔ بنابریں جن لوگوں نے ابوبکر صدیقt کی صحبت کا انکار کیا انھوں نے ظلم و تعدی اور کفر کا ارتکاب کیا کیونکہ اس نے قرآن کا انکار کیا جو اس صحبت کی تصریح کرتا ہے۔اس آیت کریمہ سے سکینت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ مصیبت اور خوف کے اوقات میں جب دل پریشان ہو جاتے ہیں تو سکینت اللہ تعالیٰ کی نعمت کاملہ ہے۔ یہ نعمت کاملہ بندۂ مومن کو اس کی اپنے رب کی معرفت، اپنے رب کے سچے وعدے پر اعتماد، اپنے ایمان اور اپنی شجاعت کے مطابق عطا ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حزن کبھی کبھار اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں اور صدیقین کو بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ بایں ہمہ جب بندۂ مومن پر یہ کیفیت نازل ہو تو بہتر یہ ہے کہ وہ اس کیفیت کو دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ حزن بندے کے دل کو کمزور اور اس کی عزیمت کو پراگندہ کر دیتا ہے۔
9:41ٱنفِرُواْ خِفَافٗا وَثِقَالٗا وَجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
کوچ کرو تم، ہلکے بھی اور بھاری بھی اور جہاد کرو ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہوتم علم رکھتے(41)اگر ہوتا مال جلد مل جانے والا اورسفر(بھی) درمیانہ تو ضرور پیروی کرتے وہ آپ کی لیکن دور دکھائی دی ان کو مسافت اور عنقریب وہ قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہم استطاعت رکھتے تو ضرور نکلتے ہم تمھارے ساتھ، ہلاک کررہے ہیں وہ اپنی ہی جانوں کواور اللہ جانتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں(42)
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ اِنۡفِرُوۡا خِفَافًا وَّثِقَالًا﴾ ’’نکلو ہلکے اور بوجھل‘‘ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لیے نکلو۔ ﴿ وَّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ تمھیں علم ہو۔‘‘ یعنی گھر بیٹھ رہنے کی نسبت، جان و مال سے جہاد کرنا تمھارے لیے بہتر ہے کیونکہ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کا حصول، اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور اس کی فوج اور اس کے گروہ میں داخل ہونا ہے۔
[42]﴿ لَوۡ كَانَ ﴾ ’’اگر ہوتا‘‘ ان کا گھروں سے نکلنا ﴿ عَرَضًا قَرِيۡبًا﴾ ’’جلد حاصل ہوجانے والا سامان۔‘‘ یعنی دنیوی نفع (مال غنیمت) سہل الحصول ہوتا۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ ہوتا ﴿ سَفَرًا قَاصِدًا ﴾ ’’سفر ہلکا‘‘ قریب اور آسان۔ ﴿ لَّاتَّبَعُوۡكَ ﴾ تو (زیادہ مشقت نہ ہونے کی وجہ سے) ضرور آپ کی پیروی کرتے۔ ﴿ وَلٰكِنۢۡ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ الشُّقَّةُ﴾’’لیکن لمبی نظر آئی ان کو مشقت‘‘ یعنی مسافت بہت طویل تھی اور سفر پرصعوبت تھا، لہٰذا وہ آپ کے ساتھ جہاد میں شرکت چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ اور یہ عبودیت کی علامات نہیں ہیں ۔ بندہ درحقیقت ہر حال میں اپنے رب کا عبادت گزار ہے، عبادت خواہ مشکل ہو یا آسان وہ اپنے رب کی عبودیت کو قائم کرتا ہے۔ یہی بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے۔﴿ وَسَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو ضرور آپ کے ساتھ نکلتے۔‘‘ یعنی وہ جہاد کے لیے نہ نکلنے اور پیچھے رہ جانے پر قسمیں اٹھا کر کہیں گے کہ وہ معذور تھے اور وہ جہاد کے لیے نکلنے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ﴿ يُهۡلِكُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ﴾ ’’اپنے تئیں ہلاک کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے، جھوٹ بولنے اور خلاف واقع خبر دینے پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔‘‘یہ عتاب منافقین کے لیے ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہو کر پیچھے بیٹھ رہے اور مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کیے۔ رسول اللہﷺ نے ان منافقین کو آزمائے بغیر کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے، ان کے محض معذرت پیش کرنے پر معاف فرما دیا، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان منافقین کا عذر قبول کرنے کی جلدی پر آپ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔
9:42لَوۡ كَانَ عَرَضٗا قَرِيبٗا وَسَفَرٗا قَاصِدٗا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلشُّقَّةُۚ وَسَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ يُهۡلِكُونَ أَنفُسَهُمۡ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
کوچ کرو تم، ہلکے بھی اور بھاری بھی اور جہاد کرو ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے اللہ کی راہ میں، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہوتم علم رکھتے(41)اگر ہوتا مال جلد مل جانے والا اورسفر(بھی) درمیانہ تو ضرور پیروی کرتے وہ آپ کی لیکن دور دکھائی دی ان کو مسافت اور عنقریب وہ قسمیں کھائیں گے اللہ کی کہ اگر ہم استطاعت رکھتے تو ضرور نکلتے ہم تمھارے ساتھ، ہلاک کررہے ہیں وہ اپنی ہی جانوں کواور اللہ جانتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں(42)
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اپنے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ اِنۡفِرُوۡا خِفَافًا وَّثِقَالًا﴾ ’’نکلو ہلکے اور بوجھل‘‘ یعنی تنگی اور فراخی، نشاط اور ناگواری، گرمی اور سردی تمام احوال میں جہاد کے لیے نکلو۔ ﴿ وَّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے راستے میں مال اور جان سے جہاد کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کر دو اور اپنی جان و مال کو کھپا دو۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ جس طرح جان کے ساتھ جہاد فرض ہے، اسی طرح بوقت ضرورت مال کے ساتھ بھی جہاد فرض ہے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ تمھیں علم ہو۔‘‘ یعنی گھر بیٹھ رہنے کی نسبت، جان و مال سے جہاد کرنا تمھارے لیے بہتر ہے کیونکہ جہاد میں اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کا حصول، اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت اور اس کی فوج اور اس کے گروہ میں داخل ہونا ہے۔
[42]﴿ لَوۡ كَانَ ﴾ ’’اگر ہوتا‘‘ ان کا گھروں سے نکلنا ﴿ عَرَضًا قَرِيۡبًا﴾ ’’جلد حاصل ہوجانے والا سامان۔‘‘ یعنی دنیوی نفع (مال غنیمت) سہل الحصول ہوتا۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ ہوتا ﴿ سَفَرًا قَاصِدًا ﴾ ’’سفر ہلکا‘‘ قریب اور آسان۔ ﴿ لَّاتَّبَعُوۡكَ ﴾ تو (زیادہ مشقت نہ ہونے کی وجہ سے) ضرور آپ کی پیروی کرتے۔ ﴿ وَلٰكِنۢۡ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ الشُّقَّةُ﴾’’لیکن لمبی نظر آئی ان کو مشقت‘‘ یعنی مسافت بہت طویل تھی اور سفر پرصعوبت تھا، لہٰذا وہ آپ کے ساتھ جہاد میں شرکت چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ اور یہ عبودیت کی علامات نہیں ہیں ۔ بندہ درحقیقت ہر حال میں اپنے رب کا عبادت گزار ہے، عبادت خواہ مشکل ہو یا آسان وہ اپنے رب کی عبودیت کو قائم کرتا ہے۔ یہی بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے۔﴿ وَسَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو ضرور آپ کے ساتھ نکلتے۔‘‘ یعنی وہ جہاد کے لیے نہ نکلنے اور پیچھے رہ جانے پر قسمیں اٹھا کر کہیں گے کہ وہ معذور تھے اور وہ جہاد کے لیے نکلنے کی استطاعت نہ رکھتے تھے۔ ﴿ يُهۡلِكُوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ﴾ ’’اپنے تئیں ہلاک کررہے ہیں ۔‘‘ یعنی جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے، جھوٹ بولنے اور خلاف واقع خبر دینے پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں ۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔‘‘یہ عتاب منافقین کے لیے ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہو کر پیچھے بیٹھ رہے اور مختلف قسم کے جھوٹے عذر پیش کیے۔ رسول اللہﷺ نے ان منافقین کو آزمائے بغیر کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے، ان کے محض معذرت پیش کرنے پر معاف فرما دیا، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان منافقین کا عذر قبول کرنے کی جلدی پر آپ کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔
9:43عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعۡلَمَ ٱلۡكَٰذِبِينَ
معاف کردیا اللہ نے آپ کو، کیوں اجازت دی آپ نے ان کو؟ یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے آپ کے لیے وہ لوگ جو سچے تھے اورجان لیتے آپ جھوٹوں کو(43) نہیں اجازت مانگتے آپ سے وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور یوم آخرت پر، اس سے کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاوراللہ خوب جاننے والا ہے پرہیز گاروں کو(44)بے شک اجازت تو وہی مانگتے ہیں آپ سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ اور یوم آخرت پراور شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کے دل، پس وہ اپنے شک میں پڑے تردد کررہے ہیں(45)
[43]﴿ عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَ﴾ ’’اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا‘‘ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ ﴾ ’’آپ نے (انھیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔‘‘ ﴿ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’حتیٰ کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں ۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے۔ بلکہ بغیر کسی عذر کے جہاد ترک کرنے کی اجازت مانگنا تو کجا، بغیر کسی ترغیب کے، ایمان اور بھلائی میں ان کی رغبت انھیں جہاد پر آمادہ رکھتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور اللہ متقین کو خوب جانتا ہے‘‘پس وہ انھیں اس بات کی جزا دے گا کہ انھوں نے تقویٰ کو قائم رکھا۔ متقین کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے آگاہ فرمایا کہ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ جہاد چھوڑنے کی اجازت نہیں مانگتے۔
[45]﴿اِنَّمَا يَسۡتَاۡذِنُكَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’آپ سے رخصت تو صرف وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘ یعنی ان کے اندر ایمان کامل اور یقین صادق نہیں ہے اسی لیے بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہے۔ قتال کے بارے میں وہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حاجت محسوس کرتے ہیں کہ وہ قتال ترک کرنے کی اجازت طلب کریں ۔ ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے شک میں متردد رہتے ہیں ۔‘‘
9:44لَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ
معاف کردیا اللہ نے آپ کو، کیوں اجازت دی آپ نے ان کو؟ یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے آپ کے لیے وہ لوگ جو سچے تھے اورجان لیتے آپ جھوٹوں کو(43) نہیں اجازت مانگتے آپ سے وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور یوم آخرت پر، اس سے کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاوراللہ خوب جاننے والا ہے پرہیز گاروں کو(44)بے شک اجازت تو وہی مانگتے ہیں آپ سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ اور یوم آخرت پراور شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کے دل، پس وہ اپنے شک میں پڑے تردد کررہے ہیں(45)
[43]﴿ عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَ﴾ ’’اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا‘‘ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ ﴾ ’’آپ نے (انھیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔‘‘ ﴿ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’حتیٰ کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں ۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے۔ بلکہ بغیر کسی عذر کے جہاد ترک کرنے کی اجازت مانگنا تو کجا، بغیر کسی ترغیب کے، ایمان اور بھلائی میں ان کی رغبت انھیں جہاد پر آمادہ رکھتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور اللہ متقین کو خوب جانتا ہے‘‘پس وہ انھیں اس بات کی جزا دے گا کہ انھوں نے تقویٰ کو قائم رکھا۔ متقین کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے آگاہ فرمایا کہ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ جہاد چھوڑنے کی اجازت نہیں مانگتے۔
[45]﴿اِنَّمَا يَسۡتَاۡذِنُكَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’آپ سے رخصت تو صرف وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘ یعنی ان کے اندر ایمان کامل اور یقین صادق نہیں ہے اسی لیے بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہے۔ قتال کے بارے میں وہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حاجت محسوس کرتے ہیں کہ وہ قتال ترک کرنے کی اجازت طلب کریں ۔ ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے شک میں متردد رہتے ہیں ۔‘‘
9:45إِنَّمَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱرۡتَابَتۡ قُلُوبُهُمۡ فَهُمۡ فِي رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُونَ
معاف کردیا اللہ نے آپ کو، کیوں اجازت دی آپ نے ان کو؟ یہاں تک کہ ظاہر ہوجاتے آپ کے لیے وہ لوگ جو سچے تھے اورجان لیتے آپ جھوٹوں کو(43) نہیں اجازت مانگتے آپ سے وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ اور یوم آخرت پر، اس سے کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاوراللہ خوب جاننے والا ہے پرہیز گاروں کو(44)بے شک اجازت تو وہی مانگتے ہیں آپ سے جو نہیں ایمان رکھتے اللہ اور یوم آخرت پراور شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کے دل، پس وہ اپنے شک میں پڑے تردد کررہے ہیں(45)
[43]﴿ عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَ﴾ ’’اللہ نے آپ سے درگزر فرمایا‘‘ اور آپ سے جو کچھ صادر ہوا اسے بخش دیا۔ ﴿ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ ﴾ ’’آپ نے (انھیں پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی۔‘‘ ﴿ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’حتیٰ کہ آپ پر وہ لوگ ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی آپ کو معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کو آزمانے کے بعد معلوم ہوتا کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے، تب آپ اس شخص کا عذر قبول فرماتے جو اس کا مستحق ہے اور اس شخص کا عذر قبول نہ فرماتے جو اس کا مستحق نہیں ۔
[44] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے اپنے جان و مال کے ذریعے سے جہاد ترک کرنے کی اجازت طلب نہیں کرتے۔ بلکہ بغیر کسی عذر کے جہاد ترک کرنے کی اجازت مانگنا تو کجا، بغیر کسی ترغیب کے، ایمان اور بھلائی میں ان کی رغبت انھیں جہاد پر آمادہ رکھتی ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالۡمُتَّقِيۡنَ۠﴾ ’’اور اللہ متقین کو خوب جانتا ہے‘‘پس وہ انھیں اس بات کی جزا دے گا کہ انھوں نے تقویٰ کو قائم رکھا۔ متقین کے بارے میں یہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے آگاہ فرمایا کہ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ جہاد چھوڑنے کی اجازت نہیں مانگتے۔
[45]﴿اِنَّمَا يَسۡتَاۡذِنُكَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَارۡتَابَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’آپ سے رخصت تو صرف وہی مانگتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘ یعنی ان کے اندر ایمان کامل اور یقین صادق نہیں ہے اسی لیے بھلائی میں ان کی رغبت بہت کم ہے۔ قتال کے بارے میں وہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حاجت محسوس کرتے ہیں کہ وہ قتال ترک کرنے کی اجازت طلب کریں ۔ ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اپنے شک میں متردد رہتے ہیں ۔‘‘
9:46۞وَلَوۡ أَرَادُواْ ٱلۡخُرُوجَ لَأَعَدُّواْ لَهُۥ عُدَّةٗ وَلَٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمۡ فَثَبَّطَهُمۡ وَقِيلَ ٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
اور اگر ارادہ کرتے وہ نکلنے کا تو ضرور تیار کرتے اس کے لیے کچھ سامان لیکن نہیں پسند کیا اللہ نے ان کے اٹھنے (جانے) کو، پس ان کو سست کردیا (روک دیا) اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم ساتھ بیٹھنے والوں کے(46) اگر وہ نکلتے تم میں (شامل ہوکر) تو نہ زیادہ کرتے تمھارے لیے مگر خرابی ہی ،اور البتہ دوڑاتے وہ (اپنے گھوڑے) تمھارے درمیان، تلاش کرتے ہوئے تمھارے اندر فتنہ اور تم میں(کچھ) جاسوس ہیں ان کے لیے اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(47) البتہ تحقیق تلاش کیا تھا انھوں نے فتنہ اس سے پہلے بھی اور الٹ پلٹ کرتے رہے آپ کے لیے معاملات کو، یہاں تک کہ آگیا حق اور غالب ہوگیا حکم اللہ کا جبکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے(48)
[46] اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرائن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لیے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں ۔ کیونکہ عذر جہاد کے لیے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندۂ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لیے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جہاد کے لیے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ یہ منافقین ﴿ لَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً ﴾ ’’اگر نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے ضرور کچھ سامان تیار کرتے‘‘ یعنی وہ تیاری کرتے اور ایسے تمام اسباب عمل میں لاتے جو ان کے بس میں تھے۔ چونکہ انھوں نے اس کے لیے تیاری نہیں کی اس لیے معلوم ہوا کہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ ہی نہ تھا ﴿ وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے پسند نہیں کیا ان کا اٹھنا‘‘ یعنی ان کا جہاد کے لیے تمھارے ساتھ نکلنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا ﴿فَثَبَّطَهُمۡ﴾ ’’سو روک دیا ان کو‘‘ اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تھا اور اس کی ان کو ترغیب بھی دی اور وہ ایسا کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی بنا پر ان کی اعانت نہ فرمائی، اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ ﴿ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا گیا، بیٹھے رہو، بیٹھنے والوں کے ساتھ‘‘ یعنی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
[47] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ خَرَجُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا زَادُوۡؔكُمۡ اِلَّا خَبَالًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ نکلتے تو تمھارے نقصان ہی میں اضافہ کرتے‘‘ (خَبالًا) یعنی ’’نقصان‘‘ ﴿ وَّ لَاۡؔاَوۡضَعُوۡا خِلٰلَكُمۡ ﴾ ’’اور گھوڑے دوڑاتے تمھارے درمیان‘‘ یعنی تمھارے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے اور تمھاری متحد جماعت میں تفرقہ پیدا کرتے۔ ﴿ يَبۡغُوۡنَكُمُ الۡفِتۡنَةَ ﴾ ’’بگاڑ کرانے کی تلاش میں ‘‘ یعنی وہ تمھارے درمیان فتنہ برپا کرنے اور عداوت پیدا کرنے کے بہت حریص ہیں ۔ ﴿ وَفِيۡكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے اندر‘‘ ضعیف العقل لوگ موجود ہیں ۔ جو ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لَهُمۡ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں ان کے لیے‘‘ یعنی ان کے دھوکے میں آکر ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ پس جب وہ تمھیں تنہا چھوڑ دینے، تمھارے درمیان فتنہ ڈالنے اور تمھیں تمھارے دشمنوں کے خلاف لڑنے سے باز رکھنے کے بہت حریص ہیں اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں ۔ تو کیا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اگر وہ جہاد کے لیے اہل ایمان کے ساتھ نکلتے تو انھیں کتنا زیادہ نقصان پہنچتا؟پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کتنی کامل ہے کہ اس نے ان کو اس سے باز رکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر رحم اور لطف و کرم کرتے ہوئے ان کے ساتھ جہاد کے لیے نکلنے سے ان کو روک دیا تاکہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢؔ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ پس وہ اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ کیسے ان کی فتنہ پردازی سے بچیں ، نیز وہ ان مفاسد کو واضح کرتا ہے جو ان کے ساتھ میل جول سے پیدا ہوتے ہیں ۔
[48] نیز اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ پہلے بھی ان کی شر انگیزی ظاہر ہو چکی ہے۔ ﴿ لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَةَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’وہ اس سے پہلے بھی بگاڑ تلاش کرتے رہے ہیں ‘‘ یعنی جب تم لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت بھی انھوں نے فتنہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ﴿ وَقَلَّبُوۡا لَكَ الۡاُمُوۡرَ ﴾ ’’اور الٹتے رہے ہیں آپ کے کام‘‘ یعنی انھوں نے افکار کو الٹ پلٹ کر ڈالا، تمھاری دعوت کو ناکام کرنے اور تمھیں تنہا کرنے کے لیے حیلہ سازیاں کیں اور اس میں انھوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ الۡحَقُّ وَظَهَرَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ حق آ گیا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ ناخوش تھے‘‘ پس ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور ان کا باطل مضمحل ہوگیا۔ سو اس قسم کے لوگ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرے اور اہل ایمان ان کے پیچھے رہ جانے کی پروا نہ کریں ۔
9:47لَوۡ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمۡ إِلَّا خَبَالٗا وَلَأَوۡضَعُواْ خِلَٰلَكُمۡ يَبۡغُونَكُمُ ٱلۡفِتۡنَةَ وَفِيكُمۡ سَمَّـٰعُونَ لَهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ
اور اگر ارادہ کرتے وہ نکلنے کا تو ضرور تیار کرتے اس کے لیے کچھ سامان لیکن نہیں پسند کیا اللہ نے ان کے اٹھنے (جانے) کو، پس ان کو سست کردیا (روک دیا) اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم ساتھ بیٹھنے والوں کے(46) اگر وہ نکلتے تم میں (شامل ہوکر) تو نہ زیادہ کرتے تمھارے لیے مگر خرابی ہی ،اور البتہ دوڑاتے وہ (اپنے گھوڑے) تمھارے درمیان، تلاش کرتے ہوئے تمھارے اندر فتنہ اور تم میں(کچھ) جاسوس ہیں ان کے لیے اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(47) البتہ تحقیق تلاش کیا تھا انھوں نے فتنہ اس سے پہلے بھی اور الٹ پلٹ کرتے رہے آپ کے لیے معاملات کو، یہاں تک کہ آگیا حق اور غالب ہوگیا حکم اللہ کا جبکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے(48)
[46] اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرائن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لیے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں ۔ کیونکہ عذر جہاد کے لیے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندۂ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لیے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جہاد کے لیے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ یہ منافقین ﴿ لَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً ﴾ ’’اگر نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے ضرور کچھ سامان تیار کرتے‘‘ یعنی وہ تیاری کرتے اور ایسے تمام اسباب عمل میں لاتے جو ان کے بس میں تھے۔ چونکہ انھوں نے اس کے لیے تیاری نہیں کی اس لیے معلوم ہوا کہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ ہی نہ تھا ﴿ وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے پسند نہیں کیا ان کا اٹھنا‘‘ یعنی ان کا جہاد کے لیے تمھارے ساتھ نکلنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا ﴿فَثَبَّطَهُمۡ﴾ ’’سو روک دیا ان کو‘‘ اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تھا اور اس کی ان کو ترغیب بھی دی اور وہ ایسا کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی بنا پر ان کی اعانت نہ فرمائی، اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ ﴿ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا گیا، بیٹھے رہو، بیٹھنے والوں کے ساتھ‘‘ یعنی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
[47] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ خَرَجُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا زَادُوۡؔكُمۡ اِلَّا خَبَالًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ نکلتے تو تمھارے نقصان ہی میں اضافہ کرتے‘‘ (خَبالًا) یعنی ’’نقصان‘‘ ﴿ وَّ لَاۡؔاَوۡضَعُوۡا خِلٰلَكُمۡ ﴾ ’’اور گھوڑے دوڑاتے تمھارے درمیان‘‘ یعنی تمھارے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے اور تمھاری متحد جماعت میں تفرقہ پیدا کرتے۔ ﴿ يَبۡغُوۡنَكُمُ الۡفِتۡنَةَ ﴾ ’’بگاڑ کرانے کی تلاش میں ‘‘ یعنی وہ تمھارے درمیان فتنہ برپا کرنے اور عداوت پیدا کرنے کے بہت حریص ہیں ۔ ﴿ وَفِيۡكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے اندر‘‘ ضعیف العقل لوگ موجود ہیں ۔ جو ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لَهُمۡ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں ان کے لیے‘‘ یعنی ان کے دھوکے میں آکر ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ پس جب وہ تمھیں تنہا چھوڑ دینے، تمھارے درمیان فتنہ ڈالنے اور تمھیں تمھارے دشمنوں کے خلاف لڑنے سے باز رکھنے کے بہت حریص ہیں اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں ۔ تو کیا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اگر وہ جہاد کے لیے اہل ایمان کے ساتھ نکلتے تو انھیں کتنا زیادہ نقصان پہنچتا؟پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کتنی کامل ہے کہ اس نے ان کو اس سے باز رکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر رحم اور لطف و کرم کرتے ہوئے ان کے ساتھ جہاد کے لیے نکلنے سے ان کو روک دیا تاکہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢؔ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ پس وہ اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ کیسے ان کی فتنہ پردازی سے بچیں ، نیز وہ ان مفاسد کو واضح کرتا ہے جو ان کے ساتھ میل جول سے پیدا ہوتے ہیں ۔
[48] نیز اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ پہلے بھی ان کی شر انگیزی ظاہر ہو چکی ہے۔ ﴿ لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَةَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’وہ اس سے پہلے بھی بگاڑ تلاش کرتے رہے ہیں ‘‘ یعنی جب تم لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت بھی انھوں نے فتنہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ﴿ وَقَلَّبُوۡا لَكَ الۡاُمُوۡرَ ﴾ ’’اور الٹتے رہے ہیں آپ کے کام‘‘ یعنی انھوں نے افکار کو الٹ پلٹ کر ڈالا، تمھاری دعوت کو ناکام کرنے اور تمھیں تنہا کرنے کے لیے حیلہ سازیاں کیں اور اس میں انھوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ الۡحَقُّ وَظَهَرَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ حق آ گیا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ ناخوش تھے‘‘ پس ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور ان کا باطل مضمحل ہوگیا۔ سو اس قسم کے لوگ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرے اور اہل ایمان ان کے پیچھے رہ جانے کی پروا نہ کریں ۔
9:48لَقَدِ ٱبۡتَغَوُاْ ٱلۡفِتۡنَةَ مِن قَبۡلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ ٱلۡأُمُورَ حَتَّىٰ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَظَهَرَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
اور اگر ارادہ کرتے وہ نکلنے کا تو ضرور تیار کرتے اس کے لیے کچھ سامان لیکن نہیں پسند کیا اللہ نے ان کے اٹھنے (جانے) کو، پس ان کو سست کردیا (روک دیا) اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم ساتھ بیٹھنے والوں کے(46) اگر وہ نکلتے تم میں (شامل ہوکر) تو نہ زیادہ کرتے تمھارے لیے مگر خرابی ہی ،اور البتہ دوڑاتے وہ (اپنے گھوڑے) تمھارے درمیان، تلاش کرتے ہوئے تمھارے اندر فتنہ اور تم میں(کچھ) جاسوس ہیں ان کے لیے اور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(47) البتہ تحقیق تلاش کیا تھا انھوں نے فتنہ اس سے پہلے بھی اور الٹ پلٹ کرتے رہے آپ کے لیے معاملات کو، یہاں تک کہ آگیا حق اور غالب ہوگیا حکم اللہ کا جبکہ وہ ناپسند کرنے والے تھے(48)
[46] اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہ جانے والے منافقین کی علامات اور قرائن سے ظاہر ہوگیا ہے کہ جہاد کے لیے نکلنے کا ان کا ارادہ ہی نہ تھا اور ان کی وہ معذرتیں جو وہ پیش کر رہے ہیں سب باطل ہیں ۔ کیونکہ عذر جہاد کے لیے نکلنے سے تب مانع ہوتا ہے جب بندۂ مومن پوری کوشش کر کے جہاد کے لیے نکلنے کے تمام اسباب استعمال کرنے کی سعی کرتا ہے، پھر کسی شرعی مانع کی وجہ سے جہاد کے لیے نکل نہیں سکتا تو یہی وہ شخص ہے جس کا عذر قبول ہے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ یہ منافقین ﴿ لَوۡ اَرَادُوا الۡخُرُوۡجَ لَاَعَدُّوۡا لَهٗ عُدَّةً ﴾ ’’اگر نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے ضرور کچھ سامان تیار کرتے‘‘ یعنی وہ تیاری کرتے اور ایسے تمام اسباب عمل میں لاتے جو ان کے بس میں تھے۔ چونکہ انھوں نے اس کے لیے تیاری نہیں کی اس لیے معلوم ہوا کہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ ہی نہ تھا ﴿ وَّلٰكِنۡ كَرِهَ اللّٰهُ انۢۡبِعَاثَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے پسند نہیں کیا ان کا اٹھنا‘‘ یعنی ان کا جہاد کے لیے تمھارے ساتھ نکلنا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہوا ﴿فَثَبَّطَهُمۡ﴾ ’’سو روک دیا ان کو‘‘ اللہ تعالیٰ نے قضا و قدر کے ذریعے سے ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا تھا اور اس کی ان کو ترغیب بھی دی اور وہ ایسا کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی بنا پر ان کی اعانت نہ فرمائی، اس نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ان کو جہاد کے لیے نکلنے سے باز رکھا۔ ﴿ وَقِيۡلَ اقۡعُدُوۡا مَعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا گیا، بیٹھے رہو، بیٹھنے والوں کے ساتھ‘‘ یعنی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھ رہو۔
[47] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ خَرَجُوۡا فِيۡكُمۡ مَّا زَادُوۡؔكُمۡ اِلَّا خَبَالًا ﴾ ’’اگر وہ تمھارے ساتھ نکلتے تو تمھارے نقصان ہی میں اضافہ کرتے‘‘ (خَبالًا) یعنی ’’نقصان‘‘ ﴿ وَّ لَاۡؔاَوۡضَعُوۡا خِلٰلَكُمۡ ﴾ ’’اور گھوڑے دوڑاتے تمھارے درمیان‘‘ یعنی تمھارے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے اور تمھاری متحد جماعت میں تفرقہ پیدا کرتے۔ ﴿ يَبۡغُوۡنَكُمُ الۡفِتۡنَةَ ﴾ ’’بگاڑ کرانے کی تلاش میں ‘‘ یعنی وہ تمھارے درمیان فتنہ برپا کرنے اور عداوت پیدا کرنے کے بہت حریص ہیں ۔ ﴿ وَفِيۡكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے اندر‘‘ ضعیف العقل لوگ موجود ہیں ۔ جو ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لَهُمۡ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں ان کے لیے‘‘ یعنی ان کے دھوکے میں آکر ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ پس جب وہ تمھیں تنہا چھوڑ دینے، تمھارے درمیان فتنہ ڈالنے اور تمھیں تمھارے دشمنوں کے خلاف لڑنے سے باز رکھنے کے بہت حریص ہیں اور تم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کو اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں ۔ تو کیا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اگر وہ جہاد کے لیے اہل ایمان کے ساتھ نکلتے تو انھیں کتنا زیادہ نقصان پہنچتا؟پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کتنی کامل ہے کہ اس نے ان کو اس سے باز رکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں پر رحم اور لطف و کرم کرتے ہوئے ان کے ساتھ جہاد کے لیے نکلنے سے ان کو روک دیا تاکہ وہ ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کریں جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان پہنچتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢؔ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ پس وہ اپنے بندوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ کیسے ان کی فتنہ پردازی سے بچیں ، نیز وہ ان مفاسد کو واضح کرتا ہے جو ان کے ساتھ میل جول سے پیدا ہوتے ہیں ۔
[48] نیز اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ پہلے بھی ان کی شر انگیزی ظاہر ہو چکی ہے۔ ﴿ لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَةَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’وہ اس سے پہلے بھی بگاڑ تلاش کرتے رہے ہیں ‘‘ یعنی جب تم لوگوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت بھی انھوں نے فتنہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ﴿ وَقَلَّبُوۡا لَكَ الۡاُمُوۡرَ ﴾ ’’اور الٹتے رہے ہیں آپ کے کام‘‘ یعنی انھوں نے افکار کو الٹ پلٹ کر ڈالا، تمھاری دعوت کو ناکام کرنے اور تمھیں تنہا کرنے کے لیے حیلہ سازیاں کیں اور اس میں انھوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ الۡحَقُّ وَظَهَرَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ حق آ گیا اور اللہ کا حکم غالب ہو گیا اور وہ ناخوش تھے‘‘ پس ان کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں اور ان کا باطل مضمحل ہوگیا۔ سو اس قسم کے لوگ اسی قابل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان سے بچنے کی تلقین کرے اور اہل ایمان ان کے پیچھے رہ جانے کی پروا نہ کریں ۔
9:49وَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ ٱئۡذَن لِّي وَلَا تَفۡتِنِّيٓۚ أَلَا فِي ٱلۡفِتۡنَةِ سَقَطُواْۗ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةُۢ بِٱلۡكَٰفِرِينَ
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں، اجازت دیجیے مجھے اورنہ فتنے میں ڈالیں مجھے۔ آگاہ رہو! فتنے میں تو وہ گر چکے ہیں اور بے شک جہنم یقینا گھیرنے والی ہے کافروں کو(49)
[49] اور ان منافقین میں کچھ وہ بھی تھے جو جہاد میں نہ جانے کی اجازت مانگتے تھے اور عجیب و غریب قسم کے عذر پیش کرتے تھے۔ کوئی یہ کہتا تھا ﴿ ائۡذَنۡ لِّيۡ﴾ ’’مجھے (پیچھے رہنے کی) اجازت دیجیے۔‘‘ ﴿ وَلَا تَفۡتِنِّيۡ﴾ ’’اور مجھے (گھر سے نکلنے کے باعث) فتنے میں نہ ڈالیے۔‘‘ کیونکہ جب میں بنی اصفر (رومیوں ) کی عورتوں کو دیکھوں گا تو صبر نہیں کر سکوں گا۔ جیسا کہ جدبن قیس نے کہا تھا.... اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے اس کا مقصد محض ریا اور نفاق تھا اور وہ اپنی زبان سے ظاہر کرتا تھا کہ اس کا مقصد اچھا ہے اور جہاد میں نکلنے سے وہ فتنہ اور شر میں مبتلا ہو جائے گا اور اگر وہ جہاد کے لیے نہ جائے تو عافیت میں ہوگا اور فتنہ سے محفوظ رہے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے فرمایا ﴿ اَلَا فِي الۡفِتۡنَةِ سَقَطُوۡا﴾ ’’خبردار، وہ تو گمراہی میں پڑ چکے‘‘ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ قائل اپنے قصد میں سچا ہے، تب بھی پیچھے رہ جانے میں بہت بڑے مفاسد اور عظیم فتنہ متحقق ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی، کبیرہ گناہ کے ارتکاب اور اس کے بہت بڑے بوجھ کو اٹھانے کی جسارت۔ رہا جہاد کے لیے نکلنا تو جہاد کے لیے نکلنے میں نہ نکلنے کی نسبت بہت تھوڑے مفاسد ہیں اور وہ بھی محض متوہم ہیں ۔ بایں ہمہ اس قائل کا مقصد پیچھے رہنے کے سوا کچھ بھی نہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بے شک جہنم گھیر رہی ہے کافروں کو‘‘ جہنم سے بھاگ کر ان کے لیے کوئی جائے پناہ اور کوئی مفر نہیں ، جہنم سے ان کے لیے گلو خلاصی ہے نہ نجات۔
9:50إِن تُصِبۡكَ حَسَنَةٞ تَسُؤۡهُمۡۖ وَإِن تُصِبۡكَ مُصِيبَةٞ يَقُولُواْ قَدۡ أَخَذۡنَآ أَمۡرَنَا مِن قَبۡلُ وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمۡ فَرِحُونَ
اگر پہنچتی ہے آپ کو بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچتی ہے آپ کو کوئی مصیبت تو کہتے ہیں وہ تحقیق ہم نے تو اختیار کر لی تھی (احتیاط) اپنے معاملے میں پہلے ہی اور پھرتے ہیں وہ شاداں و فرحاں(50) کہہ دیجیے! ہرگز نہیں پہنچے گا ہمیں مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے، وہی ہے کار ساز ہمارااور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن(51)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ، منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں ..... فرماتا ہے ﴿ اِنۡ تُصِبۡكَ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی‘‘مثلاً: فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیابی ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو بری لگتی ہے۔‘‘ یعنی ان کو غمزدہ کر دیتی ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكَ مُصِيۡبَةٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت‘‘مثلاً: آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی ﴿ يَّقُوۡلُوۡا ﴾ ’’تو کہتے ہیں ۔‘‘ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں ﴿ قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے ﴿ وَيَتَوَلَّوۡا وَّهُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾ ’’اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے‘‘ یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں ۔
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّنۡ يُّصِيۡبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا﴾ ’’کہہ دیجیے! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ هُوَ مَوۡلٰىنَا﴾ ’’وہی ہمارا کارساز ہے۔‘‘ یعنی وہ ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پر‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر ﴿ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یارومددگار رہے گا، دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔
9:51قُل لَّن يُصِيبَنَآ إِلَّا مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَنَا هُوَ مَوۡلَىٰنَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
اگر پہنچتی ہے آپ کو بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچتی ہے آپ کو کوئی مصیبت تو کہتے ہیں وہ تحقیق ہم نے تو اختیار کر لی تھی (احتیاط) اپنے معاملے میں پہلے ہی اور پھرتے ہیں وہ شاداں و فرحاں(50) کہہ دیجیے! ہرگز نہیں پہنچے گا ہمیں مگر وہی جو لکھ دیا اللہ نے ہمارے لیے، وہی ہے کار ساز ہمارااور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن(51)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ، منافقین کے بارے میں یہ واضح کرتے ہوئے کہ وہی حقیقی دشمن اور اسلام کے خلاف بغض رکھنے والے ہیں ..... فرماتا ہے ﴿ اِنۡ تُصِبۡكَ حَسَنَةٌ ﴾ ’’اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی‘‘مثلاً: فتح و نصرت اور دشمن کے خلاف آپ کی کامیابی ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو ان کو بری لگتی ہے۔‘‘ یعنی ان کو غمزدہ کر دیتی ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكَ مُصِيۡبَةٌ ﴾ ’’اور اگر آپ کو پہنچے کوئی مصیبت‘‘مثلاً: آپ کے خلاف دشمن کی کامیابی ﴿ يَّقُوۡلُوۡا ﴾ ’’تو کہتے ہیں ۔‘‘ آپ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے سلامت رہنے کی بنا پر نہایت فخر سے کہتے ہیں ﴿ قَدۡ اَخَذۡنَاۤ اَمۡرَنَا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ہم نے اس سے پہلے اپنا بچاؤ کر لیا تھا اور ہم نے ایسا رویہ رکھا جس کی وجہ سے ہم اس مصیبت میں گرفتار ہونے سے بچ گئے ﴿ وَيَتَوَلَّوۡا وَّهُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾ ’’اور پھر کر جائیں وہ خوشیاں کرتے ہوئے‘‘ یعنی وہ آپ کی مصیبت اور آپ کے ساتھ اس میں عدم مشارکت پر خوش ہوتے ہیں ۔
[51] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّنۡ يُّصِيۡبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا﴾ ’’کہہ دیجیے! ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ یعنی جو کچھ اس نے مقدر کر کے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ هُوَ مَوۡلٰىنَا﴾ ’’وہی ہمارا کارساز ہے۔‘‘ یعنی وہ ہمارے تمام دینی اور دنیاوی امور کا سرپرست ہے پس ہم پر اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا فرض ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پر‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ ہی پر ﴿ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔‘‘ یعنی اہل ایمان کو اپنے مصالح کے حصول اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اعتماد اور اپنے مطلوب و مقصود کی تحصیل کی خاطر اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی خائب و خاسر نہیں ہوتا اور جو غیروں پر تکیہ کرتا ہے تو وہ ایک تو بے یارومددگار رہے گا، دوسرے اپنی امیدوں کے حصول میں ناکام رہے گا۔
9:52قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُونَ بِنَآ إِلَّآ إِحۡدَى ٱلۡحُسۡنَيَيۡنِۖ وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ أَن يُصِيبَكُمُ ٱللَّهُ بِعَذَابٖ مِّنۡ عِندِهِۦٓ أَوۡ بِأَيۡدِينَاۖ فَتَرَبَّصُوٓاْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ
کہہ دیجیے! نہیں انتظار کرتے تم ہمارے معاملے میں مگر ایک کا دو بھلائیوں میں سے اور ہم انتظار کرتے ہیں تمھارے حق میں یہ کہ پہنچائے تمھیں اللہ عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سے، پس انتظار کرو تم، بلاشبہ ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں(52)
[52]آپ ان منافقین سے کہہ دیجیے جو تم لوگوں پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹنے کا انتظار کر رہے ہیں ’’تم ہمارے بارے میں کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ تم ہمارے بارے میں ایسی چیز کا انتظار کر رہے ہو جو مآل کار ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور وہ ہے دو میں سے ایک بھلائی۔‘‘(۱)دشمنوں پر فتح و نصرت اور اخروی اور دنیاوی ثواب کا حصول۔(۲)شہادت، جو مخلوق کے لیے سب سے اعلیٰ درجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے ارفع مقام ہے۔اور اے گروہ منافقین! ہم جو تمھارے بارے میں انتظار کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے توسط کے بغیر تمھیں عذاب دے گا یا ہمیں تم پر مسلط کر کے ہمارے ذریعے سے تمھیں عذاب میں مبتلا کرے گا، پس ہم تمھیں قتل کریں گے۔﴿فَتَرَبَّصُوۡۤا ﴾ ’’پس تم منتظر رہو۔‘‘ پس تم ہمارے بارے میں بھلائی کے منتظر رہو ﴿ اِنَّا مَعَكُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ۠ ﴾ ’’ہم تمھارے بارے میں (برائی کے) منتظر ہیں۔‘‘
9:53قُلۡ أَنفِقُواْ طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمۡ إِنَّكُمۡ كُنتُمۡ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ
کہہ دیجیے! خرچ کرو تم، خوشی سے یا نا خوشی سے، ہر گز نہیں قبول کیا جائے گا تم سے کیونکہ تم ہو قوم نافرمان(53) اور نہیں مانع ہوا ان کے، یہ کہ قبول کیے جائیں ان سے ان کے صدقات مگر یہ (امر کہ) بلاشبہ کفر کیا انھوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اورنہیں آتے وہ نماز کو مگر اس حال میں کہ وہ سست ہوتے ہیں اور نہیں خرچ کرتے وہ مگر ناگواری کے ساتھ(54)
[53] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَنۡفِقُوۡا طَوۡعًا ﴾ ’’خوشی سے خرچ کرو۔‘‘ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو ﴿ اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’یا ناخوشی سے‘‘ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ ﴿ لَّنۡ يُّتَقَبَّلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ ﴿اِنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے لوگ ہو۔
[54] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَمَا مَنَعَهُمۡ اَنۡ تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقٰتُهُمۡ اِلَّاۤ اَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور نہیں موقوف ہوا ان کے خرچ کا قبول ہونا مگر اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا۔‘‘ایمان، تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے اور یہ لوگ ایمان اور عمل صالح سے محروم لوگ ہیں حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب یہ لوگ نماز.... جو کہ افضل ترین بدنی عبادت ہے.... پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی یہ حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمۡ كُسَالٰى ﴾ ’’اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہوکر۔‘‘ یعنی نماز کے لیے بوجھل پن کے ساتھ اٹھتے ہیں چونکہ نماز ان پر گراں گزرتی ہے، اس لیے نماز پڑھنا ان کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔‘‘ یعنی وہ انشراح صدر اور ثبات نفس کے بغیر خرچ کرتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی مذمت کی انتہا ہے جو ان جیسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں ۔بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ نماز کے لیے آئے تو نشاط بدن اور نشاط قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے تو انشراح صدر اور ثبات قلب کے ساتھ خرچ کرے اور امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا ہے اور صرف اسی سے ثواب کی امید رکھے اور منافقین کی مشابہت اختیار نہ کرے۔
9:54وَمَا مَنَعَهُمۡ أَن تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقَٰتُهُمۡ إِلَّآ أَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَبِرَسُولِهِۦ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلصَّلَوٰةَ إِلَّا وَهُمۡ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمۡ كَٰرِهُونَ
کہہ دیجیے! خرچ کرو تم، خوشی سے یا نا خوشی سے، ہر گز نہیں قبول کیا جائے گا تم سے کیونکہ تم ہو قوم نافرمان(53) اور نہیں مانع ہوا ان کے، یہ کہ قبول کیے جائیں ان سے ان کے صدقات مگر یہ (امر کہ) بلاشبہ کفر کیا انھوں نے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اورنہیں آتے وہ نماز کو مگر اس حال میں کہ وہ سست ہوتے ہیں اور نہیں خرچ کرتے وہ مگر ناگواری کے ساتھ(54)
[53] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے صدقات کے بطلان اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَنۡفِقُوۡا طَوۡعًا ﴾ ’’خوشی سے خرچ کرو۔‘‘ یعنی بطیب خاطر خرچ کرو ﴿ اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’یا ناخوشی سے‘‘ یا اپنے اختیار کے بغیر ناگواری کے ساتھ خرچ کرو۔ ﴿ لَّنۡ يُّتَقَبَّلَ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا۔ ﴿اِنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے لوگ ہو۔
[54] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے فسق اور ان کے اعمال کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَمَا مَنَعَهُمۡ اَنۡ تُقۡبَلَ مِنۡهُمۡ نَفَقٰتُهُمۡ اِلَّاۤ اَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَبِرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور نہیں موقوف ہوا ان کے خرچ کا قبول ہونا مگر اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا۔‘‘ایمان، تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے اور یہ لوگ ایمان اور عمل صالح سے محروم لوگ ہیں حتیٰ کہ ان کی حالت تو یہ ہے کہ جب یہ لوگ نماز.... جو کہ افضل ترین بدنی عبادت ہے.... پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی یہ حالت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَهُمۡ كُسَالٰى ﴾ ’’اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہوکر۔‘‘ یعنی نماز کے لیے بوجھل پن کے ساتھ اٹھتے ہیں چونکہ نماز ان پر گراں گزرتی ہے، اس لیے نماز پڑھنا ان کے لیے بہت ہی مشکل ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا وَهُمۡ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔‘‘ یعنی وہ انشراح صدر اور ثبات نفس کے بغیر خرچ کرتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی مذمت کی انتہا ہے جو ان جیسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں ۔بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ نماز کے لیے آئے تو نشاط بدن اور نشاط قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے تو انشراح صدر اور ثبات قلب کے ساتھ خرچ کرے اور امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا ہے اور صرف اسی سے ثواب کی امید رکھے اور منافقین کی مشابہت اختیار نہ کرے۔
9:55فَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
پس نہ حیرت میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اورنہ ان کی اولاد، یقینا ارادہ کرتا ہے اللہ کہ عذاب دے ان کو ان کی وجہ سے دنیا کی زندگی ہی میں اور نکلیں ان کی جانیں، اس حال میں کہ وہ کافر ہوں(55) اور قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی کہ بے شک وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ نہیں ہیں وہ تم میں سے لیکن وہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ڈرتے ہیں(56) اگر پائیں وہ کوئی جائے پناہ یا غاریں یا کوئی اور گھس بیٹھنے کی جگہ تو ضرور بھاگ جائیں وہ اس کی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے(57)
[55] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں ۔ مال اور اولاد کی ایک ’’برکت‘‘ ان پر یہ ہوئی کہ انھوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا:﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔‘‘ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انھیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی مشقتوں سے کریں تو ان لذتوں کی ان مشقتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں اور ان لذات نے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیا ہے اس لیے یہ ان کے لیے اس دنیا میں بھی وبال ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا وبال یہ ہے کہ ان کا دل انھی لذات میں مگن رہتا ہے اور ان کے ارادے ان لذات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ لذات ان کی منتہائے مطلوب اور ان کی مرغوبات ہیں ، ان کے قلب میں آخرت کے لیے کوئی جگہ نہیں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ یہ لوگ دنیا سے اس حالت میں جائیں ﴿ وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور جب ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں ۔‘‘ یعنی اس حالت میں ان کی جان نکلے کہ ان کا رویہ انکار حق ہو۔ تب اس عذاب سے بڑھ کر کون سا عذاب ہے جو دائمی بدبختی اور کبھی دور نہ ہونے والی حسرت کا موجب ہے؟
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمۡ لَمِنۡكُمۡ١ؕ وَمَا هُمۡ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ‘‘ ان کی قسمیں اٹھانے میں ان کا مقصد یہ ہے ﴿ قَوۡمٌ يَّفۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوفزدہ ہیں ‘‘یعنی وہ گردش ایام سے خائف ہیں اور ان کے دل ایسی شجاعت سے محروم ہیں جو ان کو اپنے احوال بیان کرنے پر آمادہ کرے۔ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر انھوں نے اپنا حال ظاہر کر دیا اور کفار سے براء ت کا اظہار کر دیا تو ہر طرف سے لوگ ان کو اچک لیں گے۔ رہا وہ شخص جو دل کا مضبوط اور مستقل مزاج ہے تو یہ صفات اسے اپنا حال... خواہ وہ اچھا ہو یا برا.... بیان کرنے پر آمادہ رکھتی ہیں ۔ مگر اس کے برعکس منافقین کو بزدلی کی خلعت اور جھوٹ کا زیور پہنا دیا گیا ہے۔
[57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ يَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً ﴾ ’’اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں ‘‘ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ اَوۡ مَغٰرٰتٍ ﴾ ’’یا کوئی غار‘‘ جس میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿ اَوۡ مُدَّخَلًا﴾ ’’یا سرگھسانے کی جگہ‘‘ یعنی انھیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیں ﴿ لَّوَلَّوۡا اِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُوۡنَ ﴾ ’’تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے‘‘ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں ۔
9:56وَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمۡ لَمِنكُمۡ وَمَا هُم مِّنكُمۡ وَلَٰكِنَّهُمۡ قَوۡمٞ يَفۡرَقُونَ
پس نہ حیرت میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اورنہ ان کی اولاد، یقینا ارادہ کرتا ہے اللہ کہ عذاب دے ان کو ان کی وجہ سے دنیا کی زندگی ہی میں اور نکلیں ان کی جانیں، اس حال میں کہ وہ کافر ہوں(55) اور قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی کہ بے شک وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ نہیں ہیں وہ تم میں سے لیکن وہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ڈرتے ہیں(56) اگر پائیں وہ کوئی جائے پناہ یا غاریں یا کوئی اور گھس بیٹھنے کی جگہ تو ضرور بھاگ جائیں وہ اس کی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے(57)
[55] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں ۔ مال اور اولاد کی ایک ’’برکت‘‘ ان پر یہ ہوئی کہ انھوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا:﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔‘‘ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انھیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی مشقتوں سے کریں تو ان لذتوں کی ان مشقتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں اور ان لذات نے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیا ہے اس لیے یہ ان کے لیے اس دنیا میں بھی وبال ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا وبال یہ ہے کہ ان کا دل انھی لذات میں مگن رہتا ہے اور ان کے ارادے ان لذات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ لذات ان کی منتہائے مطلوب اور ان کی مرغوبات ہیں ، ان کے قلب میں آخرت کے لیے کوئی جگہ نہیں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ یہ لوگ دنیا سے اس حالت میں جائیں ﴿ وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور جب ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں ۔‘‘ یعنی اس حالت میں ان کی جان نکلے کہ ان کا رویہ انکار حق ہو۔ تب اس عذاب سے بڑھ کر کون سا عذاب ہے جو دائمی بدبختی اور کبھی دور نہ ہونے والی حسرت کا موجب ہے؟
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمۡ لَمِنۡكُمۡ١ؕ وَمَا هُمۡ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ‘‘ ان کی قسمیں اٹھانے میں ان کا مقصد یہ ہے ﴿ قَوۡمٌ يَّفۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوفزدہ ہیں ‘‘یعنی وہ گردش ایام سے خائف ہیں اور ان کے دل ایسی شجاعت سے محروم ہیں جو ان کو اپنے احوال بیان کرنے پر آمادہ کرے۔ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر انھوں نے اپنا حال ظاہر کر دیا اور کفار سے براء ت کا اظہار کر دیا تو ہر طرف سے لوگ ان کو اچک لیں گے۔ رہا وہ شخص جو دل کا مضبوط اور مستقل مزاج ہے تو یہ صفات اسے اپنا حال... خواہ وہ اچھا ہو یا برا.... بیان کرنے پر آمادہ رکھتی ہیں ۔ مگر اس کے برعکس منافقین کو بزدلی کی خلعت اور جھوٹ کا زیور پہنا دیا گیا ہے۔
[57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ يَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً ﴾ ’’اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں ‘‘ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ اَوۡ مَغٰرٰتٍ ﴾ ’’یا کوئی غار‘‘ جس میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿ اَوۡ مُدَّخَلًا﴾ ’’یا سرگھسانے کی جگہ‘‘ یعنی انھیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیں ﴿ لَّوَلَّوۡا اِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُوۡنَ ﴾ ’’تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے‘‘ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں ۔
9:57لَوۡ يَجِدُونَ مَلۡجَـًٔا أَوۡ مَغَٰرَٰتٍ أَوۡ مُدَّخَلٗا لَّوَلَّوۡاْ إِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُونَ
پس نہ حیرت میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اورنہ ان کی اولاد، یقینا ارادہ کرتا ہے اللہ کہ عذاب دے ان کو ان کی وجہ سے دنیا کی زندگی ہی میں اور نکلیں ان کی جانیں، اس حال میں کہ وہ کافر ہوں(55) اور قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی کہ بے شک وہ تم ہی میں سے ہیں، حالانکہ نہیں ہیں وہ تم میں سے لیکن وہ تو ایسے لوگ ہیں کہ ڈرتے ہیں(56) اگر پائیں وہ کوئی جائے پناہ یا غاریں یا کوئی اور گھس بیٹھنے کی جگہ تو ضرور بھاگ جائیں وہ اس کی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے(57)
[55] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کا مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالے کیونکہ یہ کوئی قابل رشک بات نہیں ۔ مال اور اولاد کی ایک ’’برکت‘‘ ان پر یہ ہوئی کہ انھوں نے اس مال اور اولاد کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی اور اس کی خاطر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، فرمایا:﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اللہ چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں ان کو عذاب دے۔‘‘ یہاں عذاب سے مراد وہ مشقت اور کوشش ہے جو اسے حاصل کرنے میں انھیں برداشت کرنی پڑتی ہے اور اس میں دل کی تنگی اور بدن کی مشقت ہے۔ اگر آپ اس مال کے اندر موجود ان کی لذات کا مقابلہ اس کی مشقتوں سے کریں تو ان لذتوں کی ان مشقتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں اور ان لذات نے چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیا ہے اس لیے یہ ان کے لیے اس دنیا میں بھی وبال ہیں ۔ ان کا سب سے بڑا وبال یہ ہے کہ ان کا دل انھی لذات میں مگن رہتا ہے اور ان کے ارادے ان لذات سے آگے نہیں بڑھتے، یہ لذات ان کی منتہائے مطلوب اور ان کی مرغوبات ہیں ، ان کے قلب میں آخرت کے لیے کوئی جگہ نہیں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ یہ لوگ دنیا سے اس حالت میں جائیں ﴿ وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور جب ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں ۔‘‘ یعنی اس حالت میں ان کی جان نکلے کہ ان کا رویہ انکار حق ہو۔ تب اس عذاب سے بڑھ کر کون سا عذاب ہے جو دائمی بدبختی اور کبھی دور نہ ہونے والی حسرت کا موجب ہے؟
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَيَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمۡ لَمِنۡكُمۡ١ؕ وَمَا هُمۡ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ وہ بے شک تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ‘‘ ان کی قسمیں اٹھانے میں ان کا مقصد یہ ہے ﴿ قَوۡمٌ يَّفۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو (تم سے) خوفزدہ ہیں ‘‘یعنی وہ گردش ایام سے خائف ہیں اور ان کے دل ایسی شجاعت سے محروم ہیں جو ان کو اپنے احوال بیان کرنے پر آمادہ کرے۔ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ اگر انھوں نے اپنا حال ظاہر کر دیا اور کفار سے براء ت کا اظہار کر دیا تو ہر طرف سے لوگ ان کو اچک لیں گے۔ رہا وہ شخص جو دل کا مضبوط اور مستقل مزاج ہے تو یہ صفات اسے اپنا حال... خواہ وہ اچھا ہو یا برا.... بیان کرنے پر آمادہ رکھتی ہیں ۔ مگر اس کے برعکس منافقین کو بزدلی کی خلعت اور جھوٹ کا زیور پہنا دیا گیا ہے۔
[57] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی بزدلی کی شدت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَوۡ يَجِدُوۡنَ مَلۡجَاً ﴾ ’’اگر وہ کوئی پناہ گاہ پا لیں ‘‘ تو جس وقت ان پر مصائب نازل ہوں تو یہ اس میں پناہ لے لیں ﴿ اَوۡ مَغٰرٰتٍ ﴾ ’’یا کوئی غار‘‘ جس میں یہ داخل ہو کر اسے اپنا ٹھکانا بنا لیں ﴿ اَوۡ مُدَّخَلًا﴾ ’’یا سرگھسانے کی جگہ‘‘ یعنی انھیں ایسی جگہ مل جائے جہاں یہ گھس بیٹھیں اور اس طرح اپنے آپ کو محفوظ کر لیں ﴿ لَّوَلَّوۡا اِلَيۡهِ وَهُمۡ يَجۡمَحُوۡنَ ﴾ ’’تو الٹے بھاگیں گے اسی طرف رسیاں تڑاتے‘‘ یعنی اس کی طرف تیزی سے بھاگیں گے۔ پس یہ ایسے ملکہ سے محروم ہیں جس کے ذریعے سے وہ ثابت قدمی پر قادر ہوں ۔
9:58وَمِنۡهُم مَّن يَلۡمِزُكَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ فَإِنۡ أُعۡطُواْ مِنۡهَا رَضُواْ وَإِن لَّمۡ يُعۡطَوۡاْ مِنۡهَآ إِذَا هُمۡ يَسۡخَطُونَ
اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات میں سوا گر دیے جائیں اس میں سے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر نہ دیے جائیں وہ اس میں سے تو جھٹ ناراض ہوجاتے ہیں(58) اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اوراس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہمارے لیے اللہ، عنقریب دے گا ہمیں اللہ اپنے فضل سے اوراس کا رسول بھی، بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں(59)
[58] یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انھیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ ﴿ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡهَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ يُعۡطَوۡا مِنۡهَاۤ اِذَا هُمۡ يَسۡخَطُوۡنَ ﴾ ’’پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔‘‘حالانکہ بندے کے لیے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘ ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوں جو میں لے کر آیا ہوں ۔‘‘( شرح السنۃ، حدیث: 104)
[59] یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے‘‘ یعنی انھیں کم یا زیادہ جو کچھ بھی دیا ہے ﴿ وَقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے‘‘ اور اس نے جو کچھ ہماری قسمت میں رکھا ہے ہم اس پر راضی ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی امید رکھیں ﴿ سَيُؤۡتِيۡنَا اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَرَسُوۡلُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰؔغِبُوۡنَ ﴾ ’’وہ اللہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول، بے شک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں ‘‘ یعنی اپنی منفعتوں کے حصول اور نقصانات سے بچنے کے لیے نہایت عاجزی سے اس سے دعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
9:59وَلَوۡ أَنَّهُمۡ رَضُواْ مَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ سَيُؤۡتِينَا ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَرَسُولُهُۥٓ إِنَّآ إِلَى ٱللَّهِ رَٰغِبُونَ
اور بعض ان میں سے وہ ہیں کہ طعن کرتے ہیں آپ پر صدقات میں سوا گر دیے جائیں اس میں سے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر نہ دیے جائیں وہ اس میں سے تو جھٹ ناراض ہوجاتے ہیں(58) اور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اوراس کے رسول نے اور کہتے کافی ہے ہمارے لیے اللہ، عنقریب دے گا ہمیں اللہ اپنے فضل سے اوراس کا رسول بھی، بے شک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں(59)
[58] یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انھیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ ﴿ فَاِنۡ اُعۡطُوۡا مِنۡهَا رَضُوۡا وَاِنۡ لَّمۡ يُعۡطَوۡا مِنۡهَاۤ اِذَا هُمۡ يَسۡخَطُوۡنَ ﴾ ’’پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہو جاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔‘‘حالانکہ بندے کے لیے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘ ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہوں جو میں لے کر آیا ہوں ۔‘‘( شرح السنۃ، حدیث: 104)
[59] یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اگر وہ راضی ہوتے اس پر جو دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے‘‘ یعنی انھیں کم یا زیادہ جو کچھ بھی دیا ہے ﴿ وَقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ ﴾ ’’اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے‘‘ اور اس نے جو کچھ ہماری قسمت میں رکھا ہے ہم اس پر راضی ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی امید رکھیں ﴿ سَيُؤۡتِيۡنَا اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَرَسُوۡلُهٗۤ١ۙ اِنَّـاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰؔغِبُوۡنَ ﴾ ’’وہ اللہ دے گا ہم کو اپنے فضل سے اور اس کا رسول، بے شک ہم تو اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں ‘‘ یعنی اپنی منفعتوں کے حصول اور نقصانات سے بچنے کے لیے نہایت عاجزی سے اس سے دعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
9:60۞إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
بے شک زکاۃ تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور ان اہل کاروں کے لیے ہے جو اس (کی وصولی) پر مقرر ہیں اوران کے لیے جن کی تالیف قلب منظور ہے اور (خرچ کرنا ہے) گردنیں (چھڑانے) میں اور تاوان(اور قرض) ادا کرنے والوں میں اوراللہ کی راہ اور مسافروں میں، (یہ) فریضہ ہے اللہ کی طرف سےاور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے(60)
[60]﴿ اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ ﴾’’صدقات و خیرات‘‘ یعنی زکاۃ واجب... اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مستحب صدقات ہر ایک شخص کو دیے جا سکتے ہیں ، ان صدقات کو خرچ کرنے کے لیے کسی کو مختص نہیں کیا گیا۔ جبکہ صدقات واجبہ صرف ان لوگوں پر خرچ کیے جائیں جن کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صدقات کے مصرف کو صرف انھی لوگوں میں محدود رکھا ہے۔ ان کی آٹھ اصناف ہیں ۔(۱، ۲)فقراء و مساکین، اس مقام پر یہ دو الگ اقسام ہیں جن میں تفاوت ہے، فقیر مسکین سے زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اصناف کے ذکر کی ابتداء ’’فقیر‘‘ سے کی ہے اور ابتداء کا طریقہ یہی ہے کہ پہلے سب سے اہم چیز کا، پھر اس سے کم تر مگر دوسروں سے اہم تر کا بیان ہوتا ہے۔ فقیر کی یہ تفسیر بیان کی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یا جس سے کفایت ہو سکتی ہو اس کے پاس اس کے نصف سے بھی کم ہو۔ مسکین اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے پاس کفایت سے نصف یا اس سے کچھ زیادہ موجود ہو مگر اس کے پاس پوری کفایت موجود نہ ہو۔ کیونکہ اگر اس کے پاس پوری کفایت موجود ہو تو وہ غنی ہوتا۔ پس فقراء اور مساکین کو اتنی زکاۃ دی جائے جس سے ان کا فقر و فاقہ اور مسکنت زائل ہو جائے۔(۳)وہ لوگ جو صدقات کی وصولی وغیرہ کے کام پر مامور ہوں اور یہ وہ لوگ ہیں جو صدقات کے ضمن میں کسی ذمہ داری میں مشغول ہوں ، ان کی وصولی کرنے والے، صدقات کے مویشیوں کو چرانے والے، ان کے نقل و حمل کا انتظام کرنے والے اور صدقات کا حساب کتاب لکھنے والے سب ’’عاملین‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں .... لہٰذا ان کو ان کے کام کا معاوضہ صدقات میں سے دیا جائے اور یہ ان کے کام کی اجرت ہے۔(۴) وہ لوگ جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔ ( مولفۃ القلوب) سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی اپنی قوم میں اطاعت کی جاتی ہے، جس کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو یا جس کے شر کا خوف ہو یا جس کو عطا کرنے سے اس کی قوت ایمان میں اضافہ ہوتا ہو یا اس جیسے کسی اور شخص کے اسلام قبول کرنے کی توقع ہو یا کسی ایسے شخص سے صدقات وصول ہونے کی توقع ہو جو صدقات ادا نہ کرتا ہو۔ اس صورت میں ﴿ وَالۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾کو صدقات میں سے دیا جا سکتا ہے جس میں کوئی مصلحت اور ان کی تالیف قلب مطلوب ہو۔(۵) گردنیں چھڑانے میں ، اس سے مراد وہ غلام ہیں جنھوں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کے ذریعے سے آزادی خرید رکھی ہو اور وہ غلامی سے اپنی گردن چھڑانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں ۔ پس زکاۃ کی مد سے ان کی مدد کی جا سکتی ہے اور وہ مسلمان جو کفار کی قید میں ہیں ان کو آزاد کرانے کے لیے بھی زکاۃ کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ مسلمان قیدی بدرجہ اولیٰ اس مد کے مستحق ہیں اور مستقلاً کسی غلام کو آزاد کرنے پر خرچ کرنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ بھی (وفی الرقاب )کے زمرے میں آتے ہیں ۔(۶)قرض داروں کی مدد کرنے میں .... قرض داروں کی دو قسمیں ہیں ۔(اول)وہ قرض دار جنھوں نے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے قرض اٹھایا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دو گروہوں کے درمیان کوئی فتنہ یا فساد پھیل جائے تو وہ آدمی ان دونوں کے درمیان پڑ کر ان کے مابین صلح کروا کر ان میں سے کسی ایک کی طرف سے یا سب کی طرف سے مالی تاوان ادا کر دے۔ اس قسم کے قرض دار پر زکاۃ کی مد میں سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ اس کے لیے زیادہ نشاط انگیز اور اس کے عزم کے لیے زیادہ قوت کا باعث ہو۔ وہ اگرچہ مال دار بھی ہو تب بھی اسے زکاۃ کی مد میں سے عطا کیا جا سکتا ہے۔(ثانی)دوسری قسم کا قرض دار وہ ہے جس نے کسی ذاتی ضرورت کی بنا پر قرض لیا مگر وہ عسرت کی وجہ سے قرض واپس نہ کر سکا۔ تو اسے صدقات میں سے اتنا مال عطا کیا جائے جس سے اس کے ذمہ سے قرض ادا ہو جائے۔(۷) اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے۔ یہ وہ مجاہدین ہیں جو رضاکارانہ جہاد میں شریک ہوتے ہیں جن کا نام باقاعدہ فوج میں درج نہیں ۔ ان کو زکاۃ کی مد میں سے اتنا مال عطا کیا جا سکتا ہے جو جہاد میں اس کی سواری، اسلحہ اور اس کے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کافی ہو تاکہ وہ اطمینان قلب کے ساتھ پوری طرح سے جہاد میں شریک ہو سکے۔ بہت سے فقہا یہ کہتے ہیں کہ اگر روزی کمانے پر قدرت رکھنے والا شخص اپنے آپ کو طلب علم کے لیے وقف کر دے تو اسے بھی زکاۃ میں سے مال دیا جائے۔ کیونکہ حصول علم بھی جہاد فی سبیل اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ نیز بعض فقہا کہتے ہیں کہ کسی فقیر کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے زکاۃ میں سے مال عطا کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ قول محل نظر ہے۔(لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج و عمرہ پر زکاۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو، ارواء الفلیل3؍372، علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمرy اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق s وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، راقم کی کتاب ’’زکوٰۃ، عشر اور صدقۃ الفطر‘‘ ص۱۰۳۔۱۰۴ مطبوعہ دارالسلام)۔(ص۔ی)(۸) مسافر ۔اور یہاں مسافر سے مراد وہ غریب الوطن ہے جو اپنے وطن سے دور پردیس میں منقطع ہو کر رہ گیا ہو۔ اسے زکاۃ کی مد میں سے اتنا مال عطا کیا جا سکتا ہے جو اسے اپنے وطن پہنچانے کے لیے کافی ہو۔ یہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں صرف انھی کو زکاۃ دی جا سکتی ہے ﴿ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے مقرر کردیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو فرض اور مقرر کیا ہے اور فریضہ زکاۃ اس کے علم اور اس کی حکمت کے تابع ہے۔ واضح رہے کہ صدقات کے یہ آٹھ مصارف دو امور کی طرف راجع ہیں ۔ (۱) وہ شخص جسے اس کی حاجت اور فائدے کے لیے زکاۃ دی جاتی ہے، مثلاً: فقیر اور مسکین وغیرہ۔ (۲) وہ شخص جسے اس لیے زکاۃ دی جاتی ہے کہ مسلمانوں کو اس کی ضرورت و حاجت ہوتی ہے اور اسلام کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال داروں کے مال میں سے یہ حصہ عوام و خواص، اسلام اور مسلمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے مقرر کیا ہے۔ مگر مال دار لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ صحیح معنوں میں شرعی طریقے سے ادا کریں تو مسلمانوں میں کوئی فقیر نہ رہے اور اسی طرح زکاۃ سے اتنا مال جمع ہو سکتا ہے جس سے سرحدوں کی حفاظت، کفار کے ساتھ جہاد اور دیگر تمام دینی مصالح کا انتظام ہو سکتا ہے۔
9:61وَمِنۡهُمُ ٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلنَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٞۚ قُلۡ أُذُنُ خَيۡرٖ لَّكُمۡ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِينَ وَرَحۡمَةٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡۚ وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ رَسُولَ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایذاء دیتے ہیں نبی کو اور کہتے ہیں، وہ تو کان ہے کہہ دیجیے! (وہ) کان ہے بھلائی کا تمھارے لیے، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین رکھتا ہے مومنوں(کی باتوں) پر اور رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سےاور وہ لوگ جو ایذاء دیتے ہیں رسول اللہ کو، ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(61) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمھارے سامنے تاکہ راضی کریں تمھیں، حالانکہ اللہ اوراس کا رسول زیادہ حق دار ہے اس کا کہ وہ اس کو راضی کریں، اگر ہیں وہ مومن(62) کیا نہیں معلوم ہوا انھیں کہ بے شک جو مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو بلاشبہ اس کے لیے ہے آگ جہنم کی، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں، یہ ہے رسوائی بہت بڑی(63)
[61] یعنی یہ منافقین ﴿ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِيَّ ﴾ ’’جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو ردی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرمﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌؔ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا)ہے۔‘‘اور انھیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لیے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کر لیتے ہیں کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں ، یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیر نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا..... اللہ ان کا برا کرے.... کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں ۔ کیونکہ اگر ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذرتوں پر اکتفا کریں ۔ پس انھوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا۔(۱) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی (ﷺ )کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی راہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تشریف لائے۔(۲)وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔(۳) وہ نبی کریمﷺ کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کر سکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند، بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمھاری بہتری کے لیے‘‘ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپﷺ اسے قبول فرما لیتے ہیں ۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور بہت سے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، جو جھوٹے عذر پیش کرتے تھے تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾(التوبۃ: 9؍95) ’’جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۔‘‘رہی یہ حقیقت کہ آپﷺ کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر‘‘ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے۔ ﴿ وَرَحۡمَةٌ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ﴾ ’’اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے‘‘ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں ۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انھوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں ۔‘‘ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ دنیا و آخرت میں ۔ اور دنیا میں ان کے لیے دردناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔
[62]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوۡؔكُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکہ تمھیں راضی کریں ‘‘ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں ۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَحَقُّ اَنۡ يُّرۡضُوۡهُ اِنۡ كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ ان کو راضی کریں اگر وہ مومن ہوں ‘‘ کیونکہ بندۂ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا۔
[63] اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لیے سخت وعید ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّهٗ مَنۡ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہو جائے ﴿ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡخِزۡيُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔‘‘جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کر لیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ!
9:62يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوكُمۡ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرۡضُوهُ إِن كَانُواْ مُؤۡمِنِينَ
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایذاء دیتے ہیں نبی کو اور کہتے ہیں، وہ تو کان ہے کہہ دیجیے! (وہ) کان ہے بھلائی کا تمھارے لیے، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین رکھتا ہے مومنوں(کی باتوں) پر اور رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سےاور وہ لوگ جو ایذاء دیتے ہیں رسول اللہ کو، ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(61) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمھارے سامنے تاکہ راضی کریں تمھیں، حالانکہ اللہ اوراس کا رسول زیادہ حق دار ہے اس کا کہ وہ اس کو راضی کریں، اگر ہیں وہ مومن(62) کیا نہیں معلوم ہوا انھیں کہ بے شک جو مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو بلاشبہ اس کے لیے ہے آگ جہنم کی، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں، یہ ہے رسوائی بہت بڑی(63)
[61] یعنی یہ منافقین ﴿ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِيَّ ﴾ ’’جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو ردی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرمﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌؔ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا)ہے۔‘‘اور انھیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لیے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کر لیتے ہیں کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں ، یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیر نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا..... اللہ ان کا برا کرے.... کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں ۔ کیونکہ اگر ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذرتوں پر اکتفا کریں ۔ پس انھوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا۔(۱) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی (ﷺ )کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی راہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تشریف لائے۔(۲)وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔(۳) وہ نبی کریمﷺ کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کر سکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند، بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمھاری بہتری کے لیے‘‘ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپﷺ اسے قبول فرما لیتے ہیں ۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور بہت سے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، جو جھوٹے عذر پیش کرتے تھے تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾(التوبۃ: 9؍95) ’’جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۔‘‘رہی یہ حقیقت کہ آپﷺ کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر‘‘ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے۔ ﴿ وَرَحۡمَةٌ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ﴾ ’’اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے‘‘ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں ۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انھوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں ۔‘‘ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ دنیا و آخرت میں ۔ اور دنیا میں ان کے لیے دردناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔
[62]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوۡؔكُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکہ تمھیں راضی کریں ‘‘ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں ۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَحَقُّ اَنۡ يُّرۡضُوۡهُ اِنۡ كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ ان کو راضی کریں اگر وہ مومن ہوں ‘‘ کیونکہ بندۂ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا۔
[63] اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لیے سخت وعید ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّهٗ مَنۡ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہو جائے ﴿ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡخِزۡيُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔‘‘جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کر لیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ!
9:63أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّهُۥ مَن يُحَادِدِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَأَنَّ لَهُۥ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدٗا فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡخِزۡيُ ٱلۡعَظِيمُ
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو ایذاء دیتے ہیں نبی کو اور کہتے ہیں، وہ تو کان ہے کہہ دیجیے! (وہ) کان ہے بھلائی کا تمھارے لیے، یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین رکھتا ہے مومنوں(کی باتوں) پر اور رحمت ہے ان کے لیے جو ایمان لائے تم میں سےاور وہ لوگ جو ایذاء دیتے ہیں رسول اللہ کو، ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(61) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تمھارے سامنے تاکہ راضی کریں تمھیں، حالانکہ اللہ اوراس کا رسول زیادہ حق دار ہے اس کا کہ وہ اس کو راضی کریں، اگر ہیں وہ مومن(62) کیا نہیں معلوم ہوا انھیں کہ بے شک جو مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو بلاشبہ اس کے لیے ہے آگ جہنم کی، ہمیشہ رہے گا وہ اس میں، یہ ہے رسوائی بہت بڑی(63)
[61] یعنی یہ منافقین ﴿ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِيَّ ﴾ ’’جو نبی کو ایذا دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو ردی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی اکرمﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌؔ﴾ ’’اور کہتے ہیں کہ وہ کان (کا کچا)ہے۔‘‘اور انھیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ان کی بدگوئی کی وجہ سے نبی اکرمﷺ کو دکھ پہنچتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ان میں سے کچھ باتیں آپ تک پہنچتی ہیں تو ہم آپ کے پاس معذرت پیش کرنے کے لیے آجاتے ہیں اور آپ ہماری معذرت قبول کر لیتے ہیں کیونکہ آپ کان کے کچے ہیں ، یعنی آپ سے جو کچھ کہا جاتا ہے آپ اسے تسلیم کرلیتے ہیں سچے اور جھوٹے میں تمیر نہیں کرتے۔ ان کا مقصد تو محض یہ تھا..... اللہ ان کا برا کرے.... کہ وہ اس بات کی کوئی پروا کریں نہ اس کو اہمیت دیں ۔ کیونکہ اگر ان کی کوئی بات آپ تک نہ پہنچے تو یہی ان کا مطلوب ہے اور اگر آپ تک وہ بات پہنچ جائے تو صرف باطل معذرتوں پر اکتفا کریں ۔ پس انھوں نے بہت سے پہلوؤں سے برائی کا رویہ اختیار کیا۔(۱) ان میں سب سے بری بات یہ ہے کہ وہ اپنے نبی (ﷺ )کو ایذا پہنچاتے ہیں جو ان کی راہنمائی اور ان کو ہلاکت اور شقاوت کے گڑھے سے نکال کر ہدایت اور سعادت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تشریف لائے۔(۲)وہ اس ایذا رسانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، یہ مجرد ایذا رسانی پر ایک قدر زائد ہے۔(۳) وہ نبی کریمﷺ کی عقل و دانش میں عیب نکالتے تھے، آپ کو عدم ادراک اور سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز نہ کر سکنے کی صفات سے متصف کرتے تھے۔ حالانکہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ عقل کامل سے بہرہ مند، بدرجہ اتم ادراک کے حامل، عمدہ رائے اور روشن بصیرت رکھنے والے تھے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے، کان ہیں تمھاری بہتری کے لیے‘‘ یعنی جو کوئی بھلی اور سچی بات کہتا ہے آپﷺ اسے قبول فرما لیتے ہیں ۔ رہا آپ کا صرف نظر کرنا اور بہت سے منافقین کے ساتھ سختی سے پیش نہ آنا، جو جھوٹے عذر پیش کرتے تھے تو یہ آپ کی کشادہ ظرفی، ان کے معاملے میں عدم اہتمام اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کی بنا پر تھا۔ ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾(التوبۃ: 9؍95) ’’جب تم واپس لوٹو گے تو یہ منافقین قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، پس تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر دو کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۔‘‘رہی یہ حقیقت کہ آپﷺ کے دل میں کیا ہے اور آپ کی رائے کیا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’وہ یقین کرتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مومنوں کی بات پر‘‘ جو سچے اور تصدیق کرنے والے ہیں اور وہ سچے اور جھوٹے کو خوب پہچانتا ہے اگرچہ وہ بہت سے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرتا ہے جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان میں سچائی معدوم ہے۔ ﴿ وَرَحۡمَةٌ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ﴾ ’’اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے‘‘ کیونکہ وہی آپ کی وجہ سے راہ راست پر گامزن ہوتے اور آپ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہیں ۔ رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو انھوں نے اس رحمت کو قبول نہ کیا بلکہ ٹھکرا دیا اور یوں وہ دنیا و آخرت کے گھاٹے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور وہ لوگ جو (قول و فعل کے ذریعے سے) رسول اللہ کو دکھ دیتے ہیں ۔‘‘ ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ دنیا و آخرت میں ۔ اور دنیا میں ان کے لیے دردناک عذاب یہ ہے کہ آپ کو دکھ پہنچانے والے اور آپ کی شان میں گستاخی کرنے اور ایذا پہنچانے والے کی حتمی سزا قتل ہے۔
[62]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَكُمۡ لِيُرۡضُوۡؔكُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکہ تمھیں راضی کریں ‘‘ اور ان کی طرف سے جو ایذا رسانی ہوئی وہ اس سے بری ٹھہریں ۔ پس ان کی غرض و غایت محض یہ ہے کہ تم ان سے راضی رہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَحَقُّ اَنۡ يُّرۡضُوۡهُ اِنۡ كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ وہ ان کو راضی کریں اگر وہ مومن ہوں ‘‘ کیونکہ بندۂ مومن اپنے رب کی رضا پر کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔ یہ آیت ان کے ایمان کی نفی پر دلالت کرتی ہے کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر دوسروں کی رضا کو مقدم رکھا۔
[63] اور یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت اور کھلی دشمنی ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دشمنی رکھتا ہے اس کے لیے سخت وعید ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّهٗ مَنۡ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں جانا کہ جو کوئی مقابلہ کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اہانت و تحقیر اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کر کے وہ اللہ اور اس کے رسول سے بہت دور اور ان کے مخالف ہو جائے ﴿ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡخِزۡيُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور اس میں وہ ہمیشہ رہے گا، یہ بڑی رسوائی کی بات ہے۔‘‘جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں کیونکہ وہ دائمی نعمتوں سے محروم ہوگئے اور بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب حاصل کر لیا۔ ان کے حال سے اللہ کی پناہ!
9:64يَحۡذَرُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُورَةٞ تُنَبِّئُهُم بِمَا فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلِ ٱسۡتَهۡزِءُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ مُخۡرِجٞ مَّا تَحۡذَرُونَ
ڈرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل کردی جائے ان پر کوئی سورت، جو بتا دے انھیں جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، کہہ دیجیے! تم مذاق کرتے رہو، بے شک اللہ ظاہر کرنے والا ہے وہ بات جس سے تم ڈرتے ہو(64) اوراگر آپ پوچھیں ان سے تو وہ ضرور کہیں گے، ہم تو تھے محض شغل کے طورپر باتیں اور دل لگی کرتے، کہہ دیجیے! کیا تم اللہ اوراس کی آیتوں اوراس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے تھے؟(65)(اب) عذر پیش نہ کرو، یقینا تم نے کفر کیا ہے بعد اپنے ایمان کے، اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو ہم عذاب دیں گے(دوسرے) گروہ کو، بسبب اس کے کہ بلاشبہ تھے وہ مجرم(66)
[64] اس سورۂ کریمہ کو ( اَلْفَاضِحَۃ)’’رسوا کرنے والی سورت‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’ان میں سے بعض ‘‘۔’’ان میں سے بعض‘‘ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ لیکن متعین طور پر اشخاص کے نام نہیں لیے، اس کے دو فائدے ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ سِتِّیر ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔(۲) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں ۔اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ﴾(الاحزاب: 33؍60۔61) ’’اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں ، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں ، پکڑے جائیں اور قتل کر دیے جائیں ۔‘‘ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُوۡرَةٌ تُنَبِّئُهُمۡ بِمَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾’’منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لیے سامان عبرت بن جاتے ہیں ۔﴿ قُلِ اسۡتَهۡزِءُوۡا﴾ ’’کہہ دو کہ ہنسی مذاق کیے جاؤ۔‘‘ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمھارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور یہ سورۃ نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔
[66,65] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر آپ ان سے دریافت کریں ۔‘‘ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن و تشنیع کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ’’ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے‘‘ ....ان کی مراد نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب کرام تھے .... ’’جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔‘‘(تفسیر طبری، 6؍220)جب انھیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی ہرزہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلۡعَبُ﴾ ’’ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی‘‘ یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے ہمارا کوئی مقصد تھا اور نہ طعن اور عیب جوئی ہی ہمارا مقصود تھا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقض ہے۔ بنابریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠ ۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘فرمایا:﴿ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآىِٕفَةٍ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں ۔‘‘ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ سے۔ ﴿نُعَذِّبۡ طَآىِٕفَةًۢ ﴾ ’’تو تم میں سے کسی دوسرے گروہ کو عذاب دیتے ہیں ‘‘ ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کیونکہ وہ۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ ﴿كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ گناہ گار تھے‘‘ یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں ۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش، اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ استہزا ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے، اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے یا ان کا تمسخر اڑاتا ہے یا ان کو ناقص گردانتا ہے یا رسول اللہﷺ سے استہزا کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہو جاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
9:65وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ
ڈرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل کردی جائے ان پر کوئی سورت، جو بتا دے انھیں جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، کہہ دیجیے! تم مذاق کرتے رہو، بے شک اللہ ظاہر کرنے والا ہے وہ بات جس سے تم ڈرتے ہو(64) اوراگر آپ پوچھیں ان سے تو وہ ضرور کہیں گے، ہم تو تھے محض شغل کے طورپر باتیں اور دل لگی کرتے، کہہ دیجیے! کیا تم اللہ اوراس کی آیتوں اوراس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے تھے؟(65)(اب) عذر پیش نہ کرو، یقینا تم نے کفر کیا ہے بعد اپنے ایمان کے، اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو ہم عذاب دیں گے(دوسرے) گروہ کو، بسبب اس کے کہ بلاشبہ تھے وہ مجرم(66)
[64] اس سورۂ کریمہ کو ( اَلْفَاضِحَۃ)’’رسوا کرنے والی سورت‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’ان میں سے بعض ‘‘۔’’ان میں سے بعض‘‘ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ لیکن متعین طور پر اشخاص کے نام نہیں لیے، اس کے دو فائدے ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ سِتِّیر ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔(۲) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں ۔اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ﴾(الاحزاب: 33؍60۔61) ’’اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں ، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں ، پکڑے جائیں اور قتل کر دیے جائیں ۔‘‘ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُوۡرَةٌ تُنَبِّئُهُمۡ بِمَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾’’منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لیے سامان عبرت بن جاتے ہیں ۔﴿ قُلِ اسۡتَهۡزِءُوۡا﴾ ’’کہہ دو کہ ہنسی مذاق کیے جاؤ۔‘‘ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمھارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور یہ سورۃ نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔
[66,65] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر آپ ان سے دریافت کریں ۔‘‘ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن و تشنیع کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ’’ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے‘‘ ....ان کی مراد نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب کرام تھے .... ’’جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔‘‘(تفسیر طبری، 6؍220)جب انھیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی ہرزہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلۡعَبُ﴾ ’’ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی‘‘ یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے ہمارا کوئی مقصد تھا اور نہ طعن اور عیب جوئی ہی ہمارا مقصود تھا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقض ہے۔ بنابریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠ ۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘فرمایا:﴿ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآىِٕفَةٍ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں ۔‘‘ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ سے۔ ﴿نُعَذِّبۡ طَآىِٕفَةًۢ ﴾ ’’تو تم میں سے کسی دوسرے گروہ کو عذاب دیتے ہیں ‘‘ ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کیونکہ وہ۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ ﴿كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ گناہ گار تھے‘‘ یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں ۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش، اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ استہزا ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے، اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے یا ان کا تمسخر اڑاتا ہے یا ان کو ناقص گردانتا ہے یا رسول اللہﷺ سے استہزا کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہو جاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
9:66لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ إِن نَّعۡفُ عَن طَآئِفَةٖ مِّنكُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَةَۢ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ
ڈرتے ہیں منافق اس بات سے کہ نازل کردی جائے ان پر کوئی سورت، جو بتا دے انھیں جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، کہہ دیجیے! تم مذاق کرتے رہو، بے شک اللہ ظاہر کرنے والا ہے وہ بات جس سے تم ڈرتے ہو(64) اوراگر آپ پوچھیں ان سے تو وہ ضرور کہیں گے، ہم تو تھے محض شغل کے طورپر باتیں اور دل لگی کرتے، کہہ دیجیے! کیا تم اللہ اوراس کی آیتوں اوراس کے رسول کے ساتھ مذاق کرتے تھے؟(65)(اب) عذر پیش نہ کرو، یقینا تم نے کفر کیا ہے بعد اپنے ایمان کے، اگر ہم معاف بھی کردیں ایک گروہ کو تم میں سے تو ہم عذاب دیں گے(دوسرے) گروہ کو، بسبب اس کے کہ بلاشبہ تھے وہ مجرم(66)
[64] اس سورۂ کریمہ کو ( اَلْفَاضِحَۃ)’’رسوا کرنے والی سورت‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’ان میں سے بعض ‘‘۔’’ان میں سے بعض‘‘ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ لیکن متعین طور پر اشخاص کے نام نہیں لیے، اس کے دو فائدے ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ سِتِّیر ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔(۲) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں ۔اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ عمومیت کا حامل اور زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ خوب خائف رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ وَّالۡمُرۡجِفُوۡنَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ لَنُغۡرِيَنَّكَ بِهِمۡ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوۡنَكَ فِيۡهَاۤ اِلَّا قَلِيۡلًا مَّلۡعُوۡنِيۡنَ١ۛۚ اَيۡنَمَا ثُقِفُوۡۤا اُخِذُوۡا وَقُتِّلُوۡا تَقۡتِيۡلًا ﴾(الاحزاب: 33؍60۔61) ’’اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو مدینہ میں بری بری افواہیں پھیلاتے ہیں ، اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہ بہت تھوڑے دن ہی آپ کے پڑوس میں رہ سکیں گے۔ وہ دھتکارے ہوئے جہاں بھی پائے جائیں ، پکڑے جائیں اور قتل کر دیے جائیں ۔‘‘ اور یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَيۡهِمۡ سُوۡرَةٌ تُنَبِّئُهُمۡ بِمَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾’’منافقین اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورت نازل ہو جو ان کو جتا دے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ یعنی وہ سورت ان کو ان کے کرتوتوں کے بارے میں آگاہ کر کے ان کی فضیحت کا سامان کرتی ہے اور ان کا بھید کھولتی ہے یہاں تک کہ ان کی کارستانیاں لوگوں کے سامنے عیاں ہو جاتی ہیں اور وہ دوسروں کے لیے سامان عبرت بن جاتے ہیں ۔﴿ قُلِ اسۡتَهۡزِءُوۡا﴾ ’’کہہ دو کہ ہنسی مذاق کیے جاؤ۔‘‘ یعنی استہزاء اور تمسخر کا تمھارا جو رویہ ہے اس پر قائم رہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کھول کر رہے گا اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور یہ سورۃ نازل فرمائی جو ان کے کرتوت بیان کر کے ان کو رسوا کرتی ہے اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔
[66,65] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر آپ ان سے دریافت کریں ۔‘‘ اس بارے میں جو وہ مسلمانوں اور ان کے دین کی بابت طعن و تشنیع کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ غزوہ تبوک کے موقع پر کہتا تھا ’’ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے‘‘ ....ان کی مراد نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب کرام تھے .... ’’جو کھانے میں پیٹو، زبان کے جھوٹے اور میدان جنگ میں بزدلی دکھانے والے ہیں۔‘‘(تفسیر طبری، 6؍220)جب انھیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی ہرزہ سرائی کا علم ہوگیا ہے تو معذرت کرتے اور یہ کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلۡعَبُ﴾ ’’ہم تو بات چیت کرتے تھے اور دل لگی‘‘ یعنی ہم تو ایک ایسی بات کہہ رہے تھے جس سے ہمارا کوئی مقصد تھا اور نہ طعن اور عیب جوئی ہی ہمارا مقصود تھا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا عدم عذر اور ان کا جھوٹ واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ سے، اس کے حکموں سے اور اس کے رسول سے ٹھٹھے کرتے تھے؟ تم بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ کیونکہ دین کی اساس اللہ تعالیٰ، اس کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم پر مبنی ہے۔ ان میں سے کسی کے ساتھ استہزاء کرنا اس اساس کے منافی اور سخت متناقض ہے۔ بنابریں جب وہ معذرت میں یہ بات کہتے ہوئے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے ان سے اس سے زیادہ کچھ نہ فرمایا ﴿ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ۠ ۰۰ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ ﴾ ’’کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ اب معذرتیں نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔‘‘فرمایا:﴿ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآىِٕفَةٍ مِّنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں ۔‘‘ ان کی توبہ و استغفار اور ان کی ندامت کی وجہ سے۔ ﴿نُعَذِّبۡ طَآىِٕفَةًۢ ﴾ ’’تو تم میں سے کسی دوسرے گروہ کو عذاب دیتے ہیں ‘‘ ﴿ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’کیونکہ وہ۔‘‘ یعنی اس سبب سے کہ ﴿كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ گناہ گار تھے‘‘ یعنی اپنے کفر و نفاق پر قائم ہیں ۔ یہ آیات کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جو کوئی اپنا بھید چھپاتا ہے خاص طور پر وہ بھید جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازش، اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ استہزا ہو تو اللہ تعالیٰ اس بھید کو کھول دیتا ہے، اس شخص کو رسوا کرتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے۔ اور جو کوئی کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت ثابتہ کے ساتھ کسی قسم کا استہزا کرتا ہے یا ان کا تمسخر اڑاتا ہے یا ان کو ناقص گردانتا ہے یا رسول اللہﷺ سے استہزا کرتا ہے یا آپ کو ناقص کہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر قسم کے گناہ کی توبہ قبول ہو جاتی ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
9:67ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ بَعۡضُهُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمُنكَرِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَقۡبِضُونَ أَيۡدِيَهُمۡۚ نَسُواْ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمۡۚ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
منافق مرد اور منافق عورتیں ان کے بعض بعض سے (، یعنی ایک جیسے ہی) ہیں، حکم دیتے ہیں وہ برے کام کا اور روکتے ہیں نیک کام سے۔ اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھ(خرچ کرنے سے)، بھلا دیا انھوں نے اللہ کو تو اس نے بھی بھلا دیا ان کو، بے شک منافقین، وہی ہیں نافرمان(67) وعدہ کیا ہے اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی (عذاب) کافی ہے ان کواور لعنت کی ان پر اللہ نےاوران کے لیے عذاب ہے دائمی(68)
[67]﴿ اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ۠ وَالۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں ۔‘‘ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لیے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں ۔ ﴿ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں ‘‘ اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور معروف سے روکتے ہیں ‘‘ معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں ۔ ﴿وَيَقۡبِضُوۡنَ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو‘‘ صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بخل کی صفت سے موصوف کیا ہے۔ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ ﴾ ’’وہ بھول گئے اللہ کو‘‘ پس وہ بہت کم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ۔ ﴿ فَنَسِيَهُمۡ ﴾ ’’تو وہ بھی بھول گیا ان کو‘‘ یعنی ان پر رحمت کرنے سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلائی کی توفیق عطا نہیں کرتا اور نہ ان کو جنت میں داخل کرے گا بلکہ وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں چھوڑ دے گا جہاں ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک منافق ہی نافرمان ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے فسق کو منافقین میں محصور کر دیا کیونکہ ان کا فسق دیگر فساق کے فسق سے زیادہ بڑا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو دیا جانے والا عذاب دوسروں کو دیے جانے والے عذاب کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ نیز اہل ایمان جب ان کے درمیان رہ رہے تھے تو ان منافقین کے باعث ان کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان سے بچنے کی نہایت سختی سے تاکید کی گئی۔
[68]﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ هِيَ حَسۡبُهُمۡ١ۚ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے اس میں ، وہی بس ہے ان کو اور لعنت کی ان پر اللہ نے اور ان کے لیے برقرار رہنے والا عذاب ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم اور لعنت میں اکٹھا کر دے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ دنیا میں بھی وہ کفر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار پر متفق تھے۔
9:68وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ هِيَ حَسۡبُهُمۡۚ وَلَعَنَهُمُ ٱللَّهُۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّقِيمٞ
منافق مرد اور منافق عورتیں ان کے بعض بعض سے (، یعنی ایک جیسے ہی) ہیں، حکم دیتے ہیں وہ برے کام کا اور روکتے ہیں نیک کام سے۔ اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھ(خرچ کرنے سے)، بھلا دیا انھوں نے اللہ کو تو اس نے بھی بھلا دیا ان کو، بے شک منافقین، وہی ہیں نافرمان(67) وعدہ کیا ہے اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی (عذاب) کافی ہے ان کواور لعنت کی ان پر اللہ نےاوران کے لیے عذاب ہے دائمی(68)
[67]﴿ اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ۠ وَالۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُهُمۡ مِّنۢۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں ۔‘‘ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لیے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں ۔ ﴿ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں ‘‘ اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور معروف سے روکتے ہیں ‘‘ معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں ۔ ﴿وَيَقۡبِضُوۡنَ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو‘‘ صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو بخل کی صفت سے موصوف کیا ہے۔ ﴿ نَسُوا اللّٰهَ ﴾ ’’وہ بھول گئے اللہ کو‘‘ پس وہ بہت کم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں ۔ ﴿ فَنَسِيَهُمۡ ﴾ ’’تو وہ بھی بھول گیا ان کو‘‘ یعنی ان پر رحمت کرنے سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلائی کی توفیق عطا نہیں کرتا اور نہ ان کو جنت میں داخل کرے گا بلکہ وہ ان کو جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں چھوڑ دے گا جہاں ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک منافق ہی نافرمان ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے فسق کو منافقین میں محصور کر دیا کیونکہ ان کا فسق دیگر فساق کے فسق سے زیادہ بڑا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کو دیا جانے والا عذاب دوسروں کو دیے جانے والے عذاب کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔ نیز اہل ایمان جب ان کے درمیان رہ رہے تھے تو ان منافقین کے باعث ان کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان سے بچنے کی نہایت سختی سے تاکید کی گئی۔
[68]﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ هِيَ حَسۡبُهُمۡ١ۚ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’وعدہ دیا ہے اللہ نے منافق مرد اور منافق عورتوں کو اور کافروں کو جہنم کی آگ کا، ہمیشہ رہیں گے اس میں ، وہی بس ہے ان کو اور لعنت کی ان پر اللہ نے اور ان کے لیے برقرار رہنے والا عذاب ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین اور کفار کو جہنم اور لعنت میں اکٹھا کر دے گا جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ دنیا میں بھی وہ کفر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار پر متفق تھے۔
9:69كَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنكُمۡ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرَ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا فَٱسۡتَمۡتَعُواْ بِخَلَٰقِهِمۡ فَٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِخَلَٰقِكُمۡ كَمَا ٱسۡتَمۡتَعَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُم بِخَلَٰقِهِمۡ وَخُضۡتُمۡ كَٱلَّذِي خَاضُوٓاْۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
(تم منافقو!) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوئے، تھے وہ زیادہ سخت تم سے قوت میں اورزیادہ تھے مال اور اولاد میں۔ پس فائدہ اٹھایا انھوں نے ساتھ اپنے حصے کےاور فائدہ اٹھایا تم نے بھی ساتھ اپنے حصے کے، جیسے فائدہ اٹھایا تھا ان لوگوں نے جو تم سے پہلے تھے، ساتھ اپنے حصے کے اور تم بھی فضول بحث میں الجھے، جیسے وہ فضولیات میں الجھے رہے، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے ان کے عمل دنیا اور آخرت میں اور یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(69) کیا نہیں آئی ان کو خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے ہوئے؟ قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور قوم ابراہیم اور مدین والوں اورالٹی بستیوں والوں کی، آئے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ، پس نہیں ہے اللہ کہ ظلم کرتا ان پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(70)
[70,69] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے، اے منافقو! تمھارا حال تم جیسے ان منافقین کی مانند ہے جنھوں نے تم سے پہلے نفاق اور کفر کا ارتکاب کیا۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور، تم سے زیادہ دولت مند اور تم سے زیادہ اولاد والے تھے۔ ان کے لیے جو حظوظ دنیا (دنیوی منافع اور حصے) مقدر کیے گئے تھے انھوں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے تقویٰ سے روگردانی کی۔ انبیائے کرام کے ساتھ نہایت حقارت اور استخفاف کے ساتھ پیش آئے اور اپنے اور انبیائے کرام کے معاملہ میں ان کا خوب تمسخر اڑایا۔ تم نے بھی دنیا کی لذتوں سے، جو تمھارے لیے مقدر کی گئی تھیں ، خوب فائدہ اٹھایا جیسے پہلے لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ تم بھی باطل اور ان منکرات میں ڈوبے ہوئے ہو جن میں تمھارے پیشرو ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے اعمال اکارت گئے اور ان اعمال نے ان کو دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ سراسر خسارے میں رہے۔ تم بھی سوء حال و مآل اور برے انجام میں انھی کی مانند ہو۔ ﴿فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ ﴾ ’’تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔‘‘ یعنی اپنے دنیاوی نصیب سے۔ اللہ تعالیٰ کی مراد کو نظر انداز کرتے ہوئے تم نے لذت و شہوت کے پہلو سے دنیا کو استعمال کیا۔ اس نصیبِ دنیا سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مدد لی، تمھارا عزم اور ارادہ ان دنیاوی نعمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں نے کیا تھا ﴿ وَخُضۡتُمۡ كَالَّذِيۡ خَاضُوۡا﴾ ’’اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔‘‘ یعنی تم بھی (پہلوں کی طرح) باطل اور جھوٹ میں مستغرق ہو اور حق کو ناکام کرنے کے لیے تم باطل کے ذریعے سے جھگڑتے ہو۔ پس یہ ہیں ان کے اعمال و علوم، نصیبِ دنیا سے استفادہ کرنا اور باطل میں مستغرق رہنا۔ اس لیے یہ بھی عذاب اور ہلاکت کے مستحق ہیں جیسے پہلے لوگ اس ہلاکت کے مستحق ٹھہرے جن کے وہی کرتوت تھے جو ان کے ہیں ۔ رہے اہل ایمان... اگر انھوں نے دنیاوی نعمتوں میں اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا ہے.... تو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مدد لینے کے لیے۔ رہے ان کے علوم تو یہ درحقیقت انبیاء و رسل کے علوم ہیں جو تمام مطالب عالیہ میں یقین کی منزل تک پہنچاتے ہیں اور باطل کو سر نگوں کرنے کے لیے حق کے ذریعے سے مجادلہ کی راہ پر گامزن کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ منافقین کو اس عذاب سے ڈراتا ہے جو ان سے پہلے جھٹلانے والی قوموں پر نازل ہوا تھا۔ جیسے قوم نوح ، عاد ، ثمود ، قوم ابراہیم ، اصحاب مدین اورالمؤتفکات ، یعنی قوم لوط کی بستیاں ﴿ اَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان سب کے پاس ان کے رسول واضح اور روشن حق لے کر آئے جو تمام اشیاء کے حقائق کو بیان کرتا ہے مگر انھوں نے اس حق کو جھٹلایا، تب ان پر وہی عذاب نازل ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، پس تمھارے اعمال بھی ان کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں تھا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی جسارت کی، اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر سرکش اور جبار کی بات کے پیچھے لگ گئے۔
9:70أَلَمۡ يَأۡتِهِمۡ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ قَوۡمِ نُوحٖ وَعَادٖ وَثَمُودَ وَقَوۡمِ إِبۡرَٰهِيمَ وَأَصۡحَٰبِ مَدۡيَنَ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتِۚ أَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ
(تم منافقو!) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوئے، تھے وہ زیادہ سخت تم سے قوت میں اورزیادہ تھے مال اور اولاد میں۔ پس فائدہ اٹھایا انھوں نے ساتھ اپنے حصے کےاور فائدہ اٹھایا تم نے بھی ساتھ اپنے حصے کے، جیسے فائدہ اٹھایا تھا ان لوگوں نے جو تم سے پہلے تھے، ساتھ اپنے حصے کے اور تم بھی فضول بحث میں الجھے، جیسے وہ فضولیات میں الجھے رہے، یہی لوگ ہیں کہ برباد ہوگئے ان کے عمل دنیا اور آخرت میں اور یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(69) کیا نہیں آئی ان کو خبر ان لوگوں کی جو ان سے پہلے ہوئے؟ قوم نوح اور عاد اور ثمود کی اور قوم ابراہیم اور مدین والوں اورالٹی بستیوں والوں کی، آئے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ، پس نہیں ہے اللہ کہ ظلم کرتا ان پر لیکن تھے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے(70)
[70,69] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے، اے منافقو! تمھارا حال تم جیسے ان منافقین کی مانند ہے جنھوں نے تم سے پہلے نفاق اور کفر کا ارتکاب کیا۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور، تم سے زیادہ دولت مند اور تم سے زیادہ اولاد والے تھے۔ ان کے لیے جو حظوظ دنیا (دنیوی منافع اور حصے) مقدر کیے گئے تھے انھوں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے تقویٰ سے روگردانی کی۔ انبیائے کرام کے ساتھ نہایت حقارت اور استخفاف کے ساتھ پیش آئے اور اپنے اور انبیائے کرام کے معاملہ میں ان کا خوب تمسخر اڑایا۔ تم نے بھی دنیا کی لذتوں سے، جو تمھارے لیے مقدر کی گئی تھیں ، خوب فائدہ اٹھایا جیسے پہلے لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔ تم بھی باطل اور ان منکرات میں ڈوبے ہوئے ہو جن میں تمھارے پیشرو ڈوبے ہوئے تھے۔ ان کے اعمال اکارت گئے اور ان اعمال نے ان کو دنیا و آخرت میں کوئی فائدہ نہ دیا اور وہ سراسر خسارے میں رہے۔ تم بھی سوء حال و مآل اور برے انجام میں انھی کی مانند ہو۔ ﴿فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِكُمۡ ﴾ ’’تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا۔‘‘ یعنی اپنے دنیاوی نصیب سے۔ اللہ تعالیٰ کی مراد کو نظر انداز کرتے ہوئے تم نے لذت و شہوت کے پہلو سے دنیا کو استعمال کیا۔ اس نصیبِ دنیا سے تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مدد لی، تمھارا عزم اور ارادہ ان دنیاوی نعمتوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں نے کیا تھا ﴿ وَخُضۡتُمۡ كَالَّذِيۡ خَاضُوۡا﴾ ’’اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔‘‘ یعنی تم بھی (پہلوں کی طرح) باطل اور جھوٹ میں مستغرق ہو اور حق کو ناکام کرنے کے لیے تم باطل کے ذریعے سے جھگڑتے ہو۔ پس یہ ہیں ان کے اعمال و علوم، نصیبِ دنیا سے استفادہ کرنا اور باطل میں مستغرق رہنا۔ اس لیے یہ بھی عذاب اور ہلاکت کے مستحق ہیں جیسے پہلے لوگ اس ہلاکت کے مستحق ٹھہرے جن کے وہی کرتوت تھے جو ان کے ہیں ۔ رہے اہل ایمان... اگر انھوں نے دنیاوی نعمتوں میں اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا ہے.... تو صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مدد لینے کے لیے۔ رہے ان کے علوم تو یہ درحقیقت انبیاء و رسل کے علوم ہیں جو تمام مطالب عالیہ میں یقین کی منزل تک پہنچاتے ہیں اور باطل کو سر نگوں کرنے کے لیے حق کے ذریعے سے مجادلہ کی راہ پر گامزن کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ منافقین کو اس عذاب سے ڈراتا ہے جو ان سے پہلے جھٹلانے والی قوموں پر نازل ہوا تھا۔ جیسے قوم نوح ، عاد ، ثمود ، قوم ابراہیم ، اصحاب مدین اورالمؤتفکات ، یعنی قوم لوط کی بستیاں ﴿ اَتَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی ان سب کے پاس ان کے رسول واضح اور روشن حق لے کر آئے جو تمام اشیاء کے حقائق کو بیان کرتا ہے مگر انھوں نے اس حق کو جھٹلایا، تب ان پر وہی عذاب نازل ہوا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، پس تمھارے اعمال بھی ان کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی تو یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں تھا۔ ﴿ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ انھوں نے خود ہی اپنے آپ پر ظلم کیا‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی جسارت کی، اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر سرکش اور جبار کی بات کے پیچھے لگ گئے۔
9:71وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٞ
اور مومن مرد اور مومن عورتیں، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، حکم دیتے ہیں وہ نیک کام کا اور روکتے ہیں برے کام سے اور قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃاور اطاعت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی، یہی لوگ ہیں، ضرور رحم فرمائے گا ان پر اللہ، بے شک اللہ ہے بہت زبردست خوب حکمت والا(71) وعدہ کیا ہے اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور پاکیزہ مکانوں کا، ہمیشہ رہنے والے باغوں میں اور رضا مندی اللہ کی سب سے بڑھ کر ہوگی، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(72)
[71] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ ﴾ ’’اہل ایمان مرد اور عورتیں ‘‘ ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔‘‘ یعنی محبت، موالات، منسوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والی و مددگار ہیں ۔ ﴿ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں ‘‘ ’’المعروف‘‘ ہر ایسے کام کے لیے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً: عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ۔ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے خود داخل ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے روکتے ہیں ‘‘ اور ہر وہ کام جو ’’المعروف‘‘ کے خلاف اور اس کے منافی ہو ’’المنکر‘‘ کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً: عقائد باطلہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق رذیلہ وغیرہ۔ ﴿ وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں داخل کرے گا اور انھیں اپنے احسان سے نوازے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ طاقتور اور غالب ہے، طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے، وہ ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ تخلیق کرتا ہے اور جو کچھ حکم دیتا ہے، اس پر اس کی حمد بیان کی جاتی ہے۔
[72] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس ثواب کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ‘‘ ان جنتوں میں ہر نعمت اور ہر فرحت جمع ہے اور تمام تکلیف دہ چیزوں سے بالکل خالی ہے، اس کے محلات، گھروں اور درختوں کے نیچے سے گہری نہریں بہہ رہی ہیں جو خوبصورت باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ان جنتوں میں جو بھلائیاں ہیں انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ اور وہ کسی اور جگہ منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’اور ستھرے مکانوں کا، ہمیشہ کے باغوں میں ‘‘ ان مسکنوں کو آراستہ اور خوبصورت بنا کر اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت کے نظارے، اس کی منازل اور آرام گاہیں بہت خوبصورت ہیں ۔ بلند مرتبہ مساکن کے تمام آلات اور ساز و سامان ان کے اندر مہیا کیے گئے ہیں ۔ تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی تمنا نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے بالا خانے تیار کر رکھے ہیں جو انتہائی خوبصورت اور پاک صاف ہیں ۔ جن کے اندر سے باہر کا نظارہ کیا جا سکے گا اور باہر سے اندر دیکھا جا سکے گا۔ پس یہ خوبصورت مساکن اس لائق ہیں کہ نفس ان میں سکون حاصل کریں ، دل ان کی طرف کھنچتے چلے آئیں اور ارواح ان کی مشتاق ہوں، اس لیے کہ وہ جنت عدن میں مقیم ہوں گے اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ کوچ کرنا اور کسی اور جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے۔﴿ وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کی رضامندی‘‘ جو وہ اہل جنت پر نازل فرمائے گا۔ ﴿ اَكۡبَرُ﴾ ’’سب سے بڑی ہوگی‘‘ ان تمام نعمتوں سے جو ان کو حاصل ہوں گی۔ ان کو حاصل ہونے والی تمام نعمتیں ان کے رب کے دیدار اور اس کی رضا کے بغیر اچھی نہ لگیں گی اور یہ وہ غایت مقصود ہے، عبادت گزار جس کا قصد رکھتے ہیں اور یہ وہ منتہائے مطلوب ہے، اہل محبت جس کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ پس زمین و آسمان کے رب کی رضا جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ کیونکہ ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوگا۔ ان سے ہر خوف دور ہوگا۔ ان کے تمام معاملات خوبصورت اور خوشگوار ہوں گے.... ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے جود و کرم سے ہمیں بھی ان کی معیت نصیب فرمائے۔
9:72وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّـٰتِ عَدۡنٖۚ وَرِضۡوَٰنٞ مِّنَ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اور مومن مرد اور مومن عورتیں، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، حکم دیتے ہیں وہ نیک کام کا اور روکتے ہیں برے کام سے اور قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکاۃاور اطاعت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی، یہی لوگ ہیں، ضرور رحم فرمائے گا ان پر اللہ، بے شک اللہ ہے بہت زبردست خوب حکمت والا(71) وعدہ کیا ہے اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور پاکیزہ مکانوں کا، ہمیشہ رہنے والے باغوں میں اور رضا مندی اللہ کی سب سے بڑھ کر ہوگی، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(72)
[71] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ ﴾ ’’اہل ایمان مرد اور عورتیں ‘‘ ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ﴾ ’’ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔‘‘ یعنی محبت، موالات، منسوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والی و مددگار ہیں ۔ ﴿ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں ‘‘ ’’المعروف‘‘ ہر ایسے کام کے لیے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً: عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ۔ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے خود داخل ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برائی سے روکتے ہیں ‘‘ اور ہر وہ کام جو ’’المعروف‘‘ کے خلاف اور اس کے منافی ہو ’’المنکر‘‘ کے زمرے میں آتا ہے، مثلاً: عقائد باطلہ، اعمال خبیثہ اور اخلاق رذیلہ وغیرہ۔ ﴿ وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا التزام کرتے ہیں ۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں داخل کرے گا اور انھیں اپنے احسان سے نوازے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ طاقتور اور غالب ہے، طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حکمت والا بھی ہے، وہ ہر چیز کو اس کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ تخلیق کرتا ہے اور جو کچھ حکم دیتا ہے، اس پر اس کی حمد بیان کی جاتی ہے۔
[72] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس ثواب کا ذکر فرماتا ہے جو اس نے اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’وعدہ دیا ہے اللہ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں کا کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ‘‘ ان جنتوں میں ہر نعمت اور ہر فرحت جمع ہے اور تمام تکلیف دہ چیزوں سے بالکل خالی ہے، اس کے محلات، گھروں اور درختوں کے نیچے سے گہری نہریں بہہ رہی ہیں جو خوبصورت باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ان جنتوں میں جو بھلائیاں ہیں انھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ اور وہ کسی اور جگہ منتقل ہونا نہ چاہیں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾’’اور ستھرے مکانوں کا، ہمیشہ کے باغوں میں ‘‘ ان مسکنوں کو آراستہ اور خوبصورت بنا کر اللہ تعالیٰ کے متقی بندوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ جنت کے نظارے، اس کی منازل اور آرام گاہیں بہت خوبصورت ہیں ۔ بلند مرتبہ مساکن کے تمام آلات اور ساز و سامان ان کے اندر مہیا کیے گئے ہیں ۔ تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی چیز کی تمنا نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے بالا خانے تیار کر رکھے ہیں جو انتہائی خوبصورت اور پاک صاف ہیں ۔ جن کے اندر سے باہر کا نظارہ کیا جا سکے گا اور باہر سے اندر دیکھا جا سکے گا۔ پس یہ خوبصورت مساکن اس لائق ہیں کہ نفس ان میں سکون حاصل کریں ، دل ان کی طرف کھنچتے چلے آئیں اور ارواح ان کی مشتاق ہوں، اس لیے کہ وہ جنت عدن میں مقیم ہوں گے اور یہ ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ کوچ کرنا اور کسی اور جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے۔﴿ وَرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کی رضامندی‘‘ جو وہ اہل جنت پر نازل فرمائے گا۔ ﴿ اَكۡبَرُ﴾ ’’سب سے بڑی ہوگی‘‘ ان تمام نعمتوں سے جو ان کو حاصل ہوں گی۔ ان کو حاصل ہونے والی تمام نعمتیں ان کے رب کے دیدار اور اس کی رضا کے بغیر اچھی نہ لگیں گی اور یہ وہ غایت مقصود ہے، عبادت گزار جس کا قصد رکھتے ہیں اور یہ وہ منتہائے مطلوب ہے، اہل محبت جس کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ پس زمین و آسمان کے رب کی رضا جنت کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ کیونکہ ان کا ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوگا۔ ان سے ہر خوف دور ہوگا۔ ان کے تمام معاملات خوبصورت اور خوشگوار ہوں گے.... ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے جود و کرم سے ہمیں بھی ان کی معیت نصیب فرمائے۔
9:73يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اے نبی! جہاد کیجیے کافروں اور منافقوں سے! اور سختی کیجیے ان پر!اوران کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے لوٹ کر جانے کی(73) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ نہیں کہی انھوں نے (کوئی بات) حالانکہ ضرور کہی انھوں نے بات کفر کی اور کفر کیا انھوں نے بعد اپنے اسلام کے اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کا جو وہ حاصل نہ کر سکے اورنہیں غصہ نکالا انھوں نے مگر اس بات پر کہ غنی کر دیا انھیں اللہ نے اوراس کے رسول نے اپنے فضل سے، پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ہوگا بہتر ان کے لیے اور اگر وہ منہ پھیریں تو عذاب دے گا ان کو اللہ عذاب بہت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے لیے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(74)
[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں ‘‘ بھرپور جہاد۔ ﴿ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر سختی کریں۔‘‘ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں ۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالادستی قبول کرتا ہے تو اس کے خلاف دلیل و برہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محاسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ﴿ وَ ﴾ اور آخرت میں تو ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ﴾ ’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘
[74]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوۡا١ؕ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡكُفۡرِ ﴾ ’’قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے نہیں کہا اور بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا‘‘ یعنی جب انھوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا ﴿لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾(المنافقون: 63؍8) ’’عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔‘‘اور وہ باتیں جو دین اور رسول (ﷺ ) کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں اٹھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انھوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡكُفۡرِ وَكَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِهِمۡ ﴾’’بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہو گئے وہ اسلام لانے کے بعد‘‘ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کو ظاہری طور پر دائرہ کفر سے نکال دیا تھا مگر ان کا یہ آخری کلام اسلام کے متناقض ہے جو انھیں کفر میں داخل کر دیتا ہے۔﴿ وَهَمُّوۡا بِمَا لَمۡ يَنَالُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جو انھیں نہیں ملی‘‘ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب انھوں نے غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کو دھوکے کے ساتھ قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان کے منصوبے کے بارے میں آگاہ فرما دیا، چنانچہ آپ نے کسی کو حکم دیا اور اس نے ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ان کا حال یہ ہے ﴿ مَا نَقَمُوۡۤا ﴾ یعنی ’’وہ رسول اللہﷺ پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں ‘‘ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کر دیا۔ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی۔ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنۡ يَّتُوۡبُوۡا يَكُ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّتَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔‘‘ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں ۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا١ۙ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’تو عذاب دے گا اللہ ان کو دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں ‘‘ دنیا میں ان کے لیے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبیﷺ کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پاتے تو حزن و غم کا شکار ہو جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں ‘‘ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ جو تکلیف دہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرمان نصیبی ہی ان کا نصیب بن جاتی ہے۔
9:74يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدۡ قَالُواْ كَلِمَةَ ٱلۡكُفۡرِ وَكَفَرُواْ بَعۡدَ إِسۡلَٰمِهِمۡ وَهَمُّواْ بِمَا لَمۡ يَنَالُواْۚ وَمَا نَقَمُوٓاْ إِلَّآ أَنۡ أَغۡنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضۡلِهِۦۚ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيۡرٗا لَّهُمۡۖ وَإِن يَتَوَلَّوۡاْ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَا لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
اے نبی! جہاد کیجیے کافروں اور منافقوں سے! اور سختی کیجیے ان پر!اوران کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے لوٹ کر جانے کی(73) وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ نہیں کہی انھوں نے (کوئی بات) حالانکہ ضرور کہی انھوں نے بات کفر کی اور کفر کیا انھوں نے بعد اپنے اسلام کے اور ارادہ کیا تھا انھوں نے اس کا جو وہ حاصل نہ کر سکے اورنہیں غصہ نکالا انھوں نے مگر اس بات پر کہ غنی کر دیا انھیں اللہ نے اوراس کے رسول نے اپنے فضل سے، پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ہوگا بہتر ان کے لیے اور اگر وہ منہ پھیریں تو عذاب دے گا ان کو اللہ عذاب بہت درد ناک دنیا میں اور آخرت میں اور نہیں ہوگا ان کے لیے زمین میں کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(74)
[73] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں ‘‘ بھرپور جہاد۔ ﴿ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان پر سختی کریں۔‘‘ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں ۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالادستی قبول کرتا ہے تو اس کے خلاف دلیل و برہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محاسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ﴿ وَ ﴾ اور آخرت میں تو ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ﴾ ’’ان کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ یعنی ان کی جائے قرار جہاں سے وہ کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘
[74]﴿ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوۡا١ؕ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡكُفۡرِ ﴾ ’’قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انھوں نے نہیں کہا اور بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا‘‘ یعنی جب انھوں نے اس شخص کی مانند بات کہی تھی جس نے یہ کہا تھا ﴿لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾(المنافقون: 63؍8) ’’عزت دار، ذلیل لوگوں کو مدینہ سے باہر نکال دیں گے۔‘‘اور وہ باتیں جو دین اور رسول (ﷺ ) کے ساتھ استہزاء کرتے ہوئے ایک کے بعد دوسرا کرتا تھا۔ جب ان کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہﷺ کو ان کی باتیں معلوم ہوگئی ہیں تو وہ قسمیں اٹھاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ انھوں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدۡ قَالُوۡا كَلِمَةَ الۡكُفۡرِ وَكَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِهِمۡ ﴾’’بے شک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا اور منکر ہو گئے وہ اسلام لانے کے بعد‘‘ گزشتہ وقت میں ان کے اسلام قبول کرنے نے اگرچہ ان کو ظاہری طور پر دائرہ کفر سے نکال دیا تھا مگر ان کا یہ آخری کلام اسلام کے متناقض ہے جو انھیں کفر میں داخل کر دیتا ہے۔﴿ وَهَمُّوۡا بِمَا لَمۡ يَنَالُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جو انھیں نہیں ملی‘‘ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب انھوں نے غزوۂ تبوک میں رسول اللہﷺ کو دھوکے کے ساتھ قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ان کے منصوبے کے بارے میں آگاہ فرما دیا، چنانچہ آپ نے کسی کو حکم دیا اور اس نے ان کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے سے روک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ان کا حال یہ ہے ﴿ مَا نَقَمُوۡۤا ﴾ یعنی ’’وہ رسول اللہﷺ پر صرف اس وجہ سے ناراض ہیں ‘‘ اور آپ کی عیب جوئی کرتے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے فضل سے ان کی محتاجی کے بعد ان کو غنی کر دیا۔ یہ نہایت ہی عجیب بات ہے کہ وہ اس ہستی کی اہانت کریں جو ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لانے اور محتاجی کے بعد غنا کا سبب بنی۔ کیا ان پر اس ہستی کا حق نہیں کہ وہ اس کی تعظیم اور توقیر کریں اور اس پر ایمان لائیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے توبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنۡ يَّتُوۡبُوۡا يَكُ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ ’’پس اگر وہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے‘‘ کیونکہ توبہ دنیا و آخرت کی سعادت کی اساس ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّتَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ منہ پھیر لیں۔‘‘ یعنی اگر وہ توبہ اور انابت سے منہ موڑ لیں ۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا١ۙ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’تو عذاب دے گا اللہ ان کو دردناک عذاب دنیا اور آخرت میں ‘‘ دنیا میں ان کے لیے عذاب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازتا ہے اور اپنے نبیﷺ کو عزت عطا کرتا ہے اور یہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر پاتے تو حزن و غم کا شکار ہو جاتے ہیں اور آخرت میں ان کو جہنم کا عذاب ملے گا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اور زمین میں ان کا کوئی دوست نہیں ‘‘ جو ان کے معاملات کی سرپرستی کرے اور ان کو ان کے مقصد تک پہنچائے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ جو تکلیف دہ امور کو ان سے دور کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی سے محروم ہوگئے تو پھر شر، خسران، بدبختی اور حرمان نصیبی ہی ان کا نصیب بن جاتی ہے۔
9:75۞وَمِنۡهُم مَّنۡ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنۡ ءَاتَىٰنَا مِن فَضۡلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ
اوربعض ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے عہد کیا اللہ سے ، البتہ اگر دیا ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے تو ہم ضرور صدقہ خیرات کریں گے اور ہوجائیں گے ہم صالحین میں سے(75)پس جب نواز دیا اس نے ان کو اپنے فضل سے تو بخل کیا انھوں نے اس کے ساتھ اور پھر گئے اور وہ روگرداں تھے(76)پس سزا دی انھیں اللہ نے نفاق (ڈال کر) ان کے دلوں میں، اس دن تک کہ ملیں گے وہ اس سے ، بسبب ان کے خلاف ورزی کرنے کے اللہ سے اپنے وعدے کی اور بسبب اس کے جو تھے وہ جھوٹ بولتے(77) کیا نہیں معلوم انھیں کہ یقینا اللہ جانتا ہے بھید ان کے اور سرگوشیاں ان کی اور یہ کہ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے غیب کی باتوں کو؟(78)
[75] ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿ لَىِٕنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے‘‘ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔
[76]﴿فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے‘‘ تو انھوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿ بَخِلُوۡا بِهٖ﴾ ’’بخل کیا ساتھ اس کے‘‘ ﴿ وَتَوَلَّوۡا ﴾ اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ روگردانی کرنے والے تھے‘‘ یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنے والے۔
[77] جب انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ ﴿ فَاَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقًا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس بطور سزا کر دیا نفاق ان کے دلوں میں ‘‘ یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوۡهُ وَبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘ پس بندۂ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے، اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں ، جو کہ صحیحین میں ثابت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث: 33)پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کر کے بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔
[78] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چنانچہ فرمایا ﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰىهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو۔‘‘پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنھیں وہ جانتا ہے۔یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ’’ثعلبہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔رسول اللہﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کر دیا۔پس جب وہ رسول اللہﷺ کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ’’یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے۔‘‘..... پس اس نے زکاۃ ادا نہ کی، زکاۃ کے تحصیل دار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یَا وَیْحَ ثَعْلبۃ) ’’افسوس ثعلبہ کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا، چنانچہ وہ زکاۃ لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد وہ زکاۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیقt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکرt نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکرt کی وفات کے بعد حضرت عمرt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانt کے عہد میں مر گیا۔(ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم، بیہقی‘ قرطبی‘ ہیثمی‘ عراقی‘ ابن حجر‘ سیوطی اور امام مناوی رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔اس قصے کی سند میں علی بن یزید‘ معان بن رفاعہ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزمa نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: المحلی: 11؍208، الاصابۃ: ترجمۃ ثعلبہ، مجمع الزوائد: 7؍32، الجامع لأحکام القرآن: 8؍210، فیض القدیر: 4؍257، فتح الباری: 3؍8، لباب النقول للسیوطی: 121، و تخریج الإحیاء للعراقي: 3؍338. (از محقق) اس لیے اس سے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاریt کو مراد لینا، یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کابیان ہے۔ (ص۔ی)
9:76فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُم مِّن فَضۡلِهِۦ بَخِلُواْ بِهِۦ وَتَوَلَّواْ وَّهُم مُّعۡرِضُونَ
اوربعض ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے عہد کیا اللہ سے ، البتہ اگر دیا ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے تو ہم ضرور صدقہ خیرات کریں گے اور ہوجائیں گے ہم صالحین میں سے(75)پس جب نواز دیا اس نے ان کو اپنے فضل سے تو بخل کیا انھوں نے اس کے ساتھ اور پھر گئے اور وہ روگرداں تھے(76)پس سزا دی انھیں اللہ نے نفاق (ڈال کر) ان کے دلوں میں، اس دن تک کہ ملیں گے وہ اس سے ، بسبب ان کے خلاف ورزی کرنے کے اللہ سے اپنے وعدے کی اور بسبب اس کے جو تھے وہ جھوٹ بولتے(77) کیا نہیں معلوم انھیں کہ یقینا اللہ جانتا ہے بھید ان کے اور سرگوشیاں ان کی اور یہ کہ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے غیب کی باتوں کو؟(78)
[75] ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿ لَىِٕنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے‘‘ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔
[76]﴿فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے‘‘ تو انھوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿ بَخِلُوۡا بِهٖ﴾ ’’بخل کیا ساتھ اس کے‘‘ ﴿ وَتَوَلَّوۡا ﴾ اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ روگردانی کرنے والے تھے‘‘ یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنے والے۔
[77] جب انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ ﴿ فَاَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقًا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس بطور سزا کر دیا نفاق ان کے دلوں میں ‘‘ یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوۡهُ وَبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘ پس بندۂ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے، اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں ، جو کہ صحیحین میں ثابت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث: 33)پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کر کے بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔
[78] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چنانچہ فرمایا ﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰىهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو۔‘‘پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنھیں وہ جانتا ہے۔یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ’’ثعلبہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔رسول اللہﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کر دیا۔پس جب وہ رسول اللہﷺ کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ’’یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے۔‘‘..... پس اس نے زکاۃ ادا نہ کی، زکاۃ کے تحصیل دار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یَا وَیْحَ ثَعْلبۃ) ’’افسوس ثعلبہ کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا، چنانچہ وہ زکاۃ لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد وہ زکاۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیقt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکرt نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکرt کی وفات کے بعد حضرت عمرt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانt کے عہد میں مر گیا۔(ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم، بیہقی‘ قرطبی‘ ہیثمی‘ عراقی‘ ابن حجر‘ سیوطی اور امام مناوی رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔اس قصے کی سند میں علی بن یزید‘ معان بن رفاعہ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزمa نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: المحلی: 11؍208، الاصابۃ: ترجمۃ ثعلبہ، مجمع الزوائد: 7؍32، الجامع لأحکام القرآن: 8؍210، فیض القدیر: 4؍257، فتح الباری: 3؍8، لباب النقول للسیوطی: 121، و تخریج الإحیاء للعراقي: 3؍338. (از محقق) اس لیے اس سے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاریt کو مراد لینا، یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کابیان ہے۔ (ص۔ی)
9:77فَأَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقٗا فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهُۥ بِمَآ أَخۡلَفُواْ ٱللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُواْ يَكۡذِبُونَ
اوربعض ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے عہد کیا اللہ سے ، البتہ اگر دیا ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے تو ہم ضرور صدقہ خیرات کریں گے اور ہوجائیں گے ہم صالحین میں سے(75)پس جب نواز دیا اس نے ان کو اپنے فضل سے تو بخل کیا انھوں نے اس کے ساتھ اور پھر گئے اور وہ روگرداں تھے(76)پس سزا دی انھیں اللہ نے نفاق (ڈال کر) ان کے دلوں میں، اس دن تک کہ ملیں گے وہ اس سے ، بسبب ان کے خلاف ورزی کرنے کے اللہ سے اپنے وعدے کی اور بسبب اس کے جو تھے وہ جھوٹ بولتے(77) کیا نہیں معلوم انھیں کہ یقینا اللہ جانتا ہے بھید ان کے اور سرگوشیاں ان کی اور یہ کہ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے غیب کی باتوں کو؟(78)
[75] ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿ لَىِٕنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے‘‘ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔
[76]﴿فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے‘‘ تو انھوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿ بَخِلُوۡا بِهٖ﴾ ’’بخل کیا ساتھ اس کے‘‘ ﴿ وَتَوَلَّوۡا ﴾ اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ روگردانی کرنے والے تھے‘‘ یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنے والے۔
[77] جب انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ ﴿ فَاَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقًا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس بطور سزا کر دیا نفاق ان کے دلوں میں ‘‘ یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوۡهُ وَبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘ پس بندۂ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے، اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں ، جو کہ صحیحین میں ثابت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث: 33)پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کر کے بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔
[78] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چنانچہ فرمایا ﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰىهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو۔‘‘پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنھیں وہ جانتا ہے۔یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ’’ثعلبہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔رسول اللہﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کر دیا۔پس جب وہ رسول اللہﷺ کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ’’یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے۔‘‘..... پس اس نے زکاۃ ادا نہ کی، زکاۃ کے تحصیل دار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یَا وَیْحَ ثَعْلبۃ) ’’افسوس ثعلبہ کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا، چنانچہ وہ زکاۃ لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد وہ زکاۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیقt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکرt نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکرt کی وفات کے بعد حضرت عمرt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانt کے عہد میں مر گیا۔(ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم، بیہقی‘ قرطبی‘ ہیثمی‘ عراقی‘ ابن حجر‘ سیوطی اور امام مناوی رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔اس قصے کی سند میں علی بن یزید‘ معان بن رفاعہ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزمa نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: المحلی: 11؍208، الاصابۃ: ترجمۃ ثعلبہ، مجمع الزوائد: 7؍32، الجامع لأحکام القرآن: 8؍210، فیض القدیر: 4؍257، فتح الباری: 3؍8، لباب النقول للسیوطی: 121، و تخریج الإحیاء للعراقي: 3؍338. (از محقق) اس لیے اس سے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاریt کو مراد لینا، یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کابیان ہے۔ (ص۔ی)
9:78أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوَىٰهُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
اوربعض ان میں سے وہ ہیں جنھوں نے عہد کیا اللہ سے ، البتہ اگر دیا ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے تو ہم ضرور صدقہ خیرات کریں گے اور ہوجائیں گے ہم صالحین میں سے(75)پس جب نواز دیا اس نے ان کو اپنے فضل سے تو بخل کیا انھوں نے اس کے ساتھ اور پھر گئے اور وہ روگرداں تھے(76)پس سزا دی انھیں اللہ نے نفاق (ڈال کر) ان کے دلوں میں، اس دن تک کہ ملیں گے وہ اس سے ، بسبب ان کے خلاف ورزی کرنے کے اللہ سے اپنے وعدے کی اور بسبب اس کے جو تھے وہ جھوٹ بولتے(77) کیا نہیں معلوم انھیں کہ یقینا اللہ جانتا ہے بھید ان کے اور سرگوشیاں ان کی اور یہ کہ بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے غیب کی باتوں کو؟(78)
[75] ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا ﴿ لَىِٕنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے ﴿ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکوکاروں میں سے ہو جائیں گے‘‘ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔
[76]﴿فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے‘‘ تو انھوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ ﴿ بَخِلُوۡا بِهٖ﴾ ’’بخل کیا ساتھ اس کے‘‘ ﴿ وَتَوَلَّوۡا ﴾ اور اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ روگردانی کرنے والے تھے‘‘ یعنی بھلائی کی طرف التفات نہ کرنے والے۔
[77] جب انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی۔ ﴿ فَاَعۡقَبَهُمۡ نِفَاقًا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’پس بطور سزا کر دیا نفاق ان کے دلوں میں ‘‘ یعنی ہمیشہ رہنے والا نفاق۔ ﴿ اِلٰى يَوۡمِ يَلۡقَوۡنَهٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوۡهُ وَبِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’جس دن تک کہ وہ اس سے ملیں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے خلاف کیا اللہ سے جو وعدہ اس سے کیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘ پس بندۂ مومن کو اس برے وصف سے بچنا چاہیے کہ اگر اس کو اس کا مقصد حاصل ہوگیا تو وہ فلاں کام کرے گا اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہ کرے، اس لیے بسااوقات اللہ تعالیٰ نفاق کے ذریعے سے اس کو سزا دیتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو سزا دی۔ ایک صحیح حدیث میں ، جو کہ صحیحین میں ثابت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں :جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب عہد کرے تو بد عہدی سے کام لے اور وعدہ کرے تو اسے پورا نہ کرے۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الإیمان، باب علامات المنافق، حدیث: 33)پس یہ منافق جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے فضل سے نوازا تو وہ ضرور صدقہ کرے گا اور نیک بن جائے گا۔ پس اس نے اپنی بات میں جھوٹ بولا، عہد کر کے بدعہدی کی اور وعدہ کر کے پورا نہ کیا۔
[78] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو یہ وعید سنائی جن سے یہ کام صادر ہوا چنانچہ فرمایا ﴿ اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰىهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’کیا انھیں معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے ان کا بھید اور ان کا مشورہ اور یہ کہ اللہ خوب جانتا ہے سب چھپی باتوں کو۔‘‘پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے ان اعمال کی جزا دے گا جنھیں وہ جانتا ہے۔یہ آیات کریمہ منافقین میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں جسے ’’ثعلبہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے نواز دے، اگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم سے نواز دیا تو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے گا، صلہ رحمی کرے گا اور راہ حق میں خرچ کرے گا۔رسول اللہﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس شخص کے پاس بکریوں کا ریوڑ تھا، وہ ریوڑ بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ اسے اس ریوڑ کو لے کر مدینہ منورہ سے باہر جانا پڑا۔ وہ نماز پنجگانہ میں سے کسی اکا دکا نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر اور دور چلا گیا یہاں تک کہ وہ صرف جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا تھا۔ جب بکریاں بہت زیادہ ہوگئیں تو وہ اور دور چلا گیا اور اس نے جماعت اور جمعہ دونوں میں حاضر ہونا بند کر دیا۔پس جب وہ رسول اللہﷺ کو نظر نہ آیا اور آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو اس کے حال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ آپ نے کسی کو اس کے گھر صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا۔ وہ ثعلبہ کے پاس آیا۔ ثعلبہ نے کہا ’’یہ تو جزیہ ہے، یہ تو جزیہ کی بہن ہے۔‘‘..... پس اس نے زکاۃ ادا نہ کی، زکاۃ کے تحصیل دار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو تمام امور سے آگاہ کیا آپ نے تین بار فرمایا (یَا وَیْحَ ثَعْلبۃ) ’’افسوس ثعلبہ کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘جب اس کے بارے میں اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس کے گھر والوں میں سے کوئی شخص اس کے پاس گیا اور اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا، چنانچہ وہ زکاۃ لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مگر آپ نے وہ زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد وہ زکاۃ لے کر حضرت ابوبکر صدیقt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت ابوبکرt نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ جناب ابوبکرt کی وفات کے بعد حضرت عمرt کی خدمت میں حاضر ہوا مگر انھوں نے بھی زکاۃ قبول نہ فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمانt کے عہد میں مر گیا۔(ثعلبہ کا یہ واقعہ بہت سے مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کو ماہر نقاد محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسے امام ابن حزم، بیہقی‘ قرطبی‘ ہیثمی‘ عراقی‘ ابن حجر‘ سیوطی اور امام مناوی رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ضعیف کہا ہے۔اس قصے کی سند میں علی بن یزید‘ معان بن رفاعہ اور قاسم بن عبدالرحمان ضعیف راوی ہیں اور ابن حزمa نے اس کو متن کے اعتبار سے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ دیکھیے: المحلی: 11؍208، الاصابۃ: ترجمۃ ثعلبہ، مجمع الزوائد: 7؍32، الجامع لأحکام القرآن: 8؍210، فیض القدیر: 4؍257، فتح الباری: 3؍8، لباب النقول للسیوطی: 121، و تخریج الإحیاء للعراقي: 3؍338. (از محقق) اس لیے اس سے حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاریt کو مراد لینا، یکسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اس آیت میں بھی دراصل منافقین ہی کے کردار کے ایک نمونے کابیان ہے۔ (ص۔ی)
9:79ٱلَّذِينَ يَلۡمِزُونَ ٱلۡمُطَّوِّعِينَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ وَٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهۡدَهُمۡ فَيَسۡخَرُونَ مِنۡهُمۡ سَخِرَ ٱللَّهُ مِنۡهُمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ
وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں فراخ دلی سے خیرات کرنے والے مومنوں پر، (ان کے) صدقات میں اور ان پر جو نہیں پاتے سوائے اپنی (تھوڑی سی) محنت مزدوری کے اور ٹھٹھا کرتے ہیں ان سے، ٹھٹھا کرے گا اللہ بھی ان سےاوران کے لیے عذاب ہے درد ناک(79)(برابر ہے) آپ مغفرت مانگیں ان کے لیے یا نہ مغفرت مانگیں ان کے لیے ، اگرآپ مغفرت مانگیں گے ان کے لیے ستر مرتبہ بھی تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ اوراس کے رسول کےاور اللہ نہیں ہدایت دیتا نافرمان لوگوں کو(80)
[79] یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے ...اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کر سکتے ہوں تو وہ ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے طعن و تشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے...‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی ﴿ اَلَّذِيۡنَ يَلۡمِزُوۡنَ ﴾ ’’جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں ‘‘ ﴿الۡمُطَّوِّعِيۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ فِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے)صدقات میں ۔‘‘ پس کہتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریاکاری اور فخر کا اظہار ہے۔﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ اِلَّا جُهۡدَهُمۡ ﴾ ’’جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے‘‘ پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ منافقین کہتے ’’اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بے نیاز ہے۔‘‘﴿ فَيَسۡخَرُوۡنَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔‘‘ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا ﴿ سَخِرَ اللّٰهُ مِنۡهُمۡ١ٞ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کر دیے ہیں جن سے بچنا ضروری تھا۔ (۱) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انھیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کر سکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(النور: 24؍19) ’’جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (۲)وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔(۳)طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔(۴)جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔(۵)اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہو سکتی ہے؟(۶) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔‘‘ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ.... اگرچہ ان سے بے نیاز ہے لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں .... فرماتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ﴾(الزلزال: 99؍7) ’’پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا‘‘چنانچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، وہ بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
[80]﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً ﴾ ’’آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں ، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے‘‘ ستر مرتبہ کا لفظ مبالغہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ورنہ اس کا مفہوم مخالف نہیں ہے ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ ’’تب بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا ﴿سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ اَسۡتَغۡفَرۡتَ لَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ لَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(المنافقون: 63؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے آپ ان کے لیے مغفرت مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو ان کی مغفرت سے مانع ہے چنانچہ فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا‘‘ اور کافر جب تک اپنے کفر پر قائم ہے اسے کوئی استغفار کام دے سکتا ہے نہ کوئی نیک عمل۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی فسق جن کا وصف بن چکا ہے جو فسق و فجور کے سوا کوئی اور چیز نہیں چن سکتے، جو اس کا بدل نہیں چاہتے۔ ان کے پاس واضح حق آتا ہے مگر یہ اسے ٹھکرا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیتا ہے۔
9:80ٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ أَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ إِن تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِينَ مَرَّةٗ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
وہ لوگ جو طعن کرتے ہیں فراخ دلی سے خیرات کرنے والے مومنوں پر، (ان کے) صدقات میں اور ان پر جو نہیں پاتے سوائے اپنی (تھوڑی سی) محنت مزدوری کے اور ٹھٹھا کرتے ہیں ان سے، ٹھٹھا کرے گا اللہ بھی ان سےاوران کے لیے عذاب ہے درد ناک(79)(برابر ہے) آپ مغفرت مانگیں ان کے لیے یا نہ مغفرت مانگیں ان کے لیے ، اگرآپ مغفرت مانگیں گے ان کے لیے ستر مرتبہ بھی تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ اوراس کے رسول کےاور اللہ نہیں ہدایت دیتا نافرمان لوگوں کو(80)
[79] یہ بھی منافقین کی رسوائی کا باعث بننے والی باتوں میں سے ہے ...اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... وہ اسلام اور مسلمانوں کے امور میں کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر زبان طعن دراز کر سکتے ہوں تو وہ ظلم و تعدی سے کام لیتے ہوئے طعن و تشنیع کرنے سے باز نہ آتے۔ جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اہل ایمان کو صدقات کی ترغیب دی تو مسلمانوں نے نہایت تیزی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ان میں سے ہر امیر و غریب نے اپنے حسب حال اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کیا۔ پس منافقین دولت مند مسلمانوں پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ صرف ریاء اور شہرت کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں اور کم حیثیت مسلمانوں سے کہتے ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے...‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی ﴿ اَلَّذِيۡنَ يَلۡمِزُوۡنَ ﴾ ’’جو عیب جوئی اور طعن کرتے ہیں ‘‘ ﴿الۡمُطَّوِّعِيۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ فِي الصَّدَقٰتِ ﴾ ’’ان مومنوں پر جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں (ان کے)صدقات میں ۔‘‘ پس کہتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں۔ صدقہ کرنے سے ان کا مقصد صرف ریاکاری اور فخر کا اظہار ہے۔﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘وہ ان لوگوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ اِلَّا جُهۡدَهُمۡ ﴾ ’’جو اپنی محنت کے سوا کچھ نہیں پاتے‘‘ پس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے راستے میں (تھوڑا سا) مال نکالتے ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ منافقین کہتے ’’اللہ تعالیٰ ان کے صدقات سے بے نیاز ہے۔‘‘﴿ فَيَسۡخَرُوۡنَ مِنۡهُمۡ﴾ ’’اس طرح وہ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔‘‘ ان کے تمسخر کے مقابلے میں ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا ﴿ سَخِرَ اللّٰهُ مِنۡهُمۡ١ٞ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ نے ان سے تمسخر کیا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے اس کلام میں متعدد ایسے امور اکٹھے کر دیے ہیں جن سے بچنا ضروری تھا۔ (۱) وہ مسلمانوں کے احوال کی تلاش میں رہتے تھے انھیں یہ خواہش رہتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی کوئی ایسی بات پائیں جس پر یہ اعتراض اور نکتہ چینی کر سکیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِي الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(النور: 24؍19) ’’جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (۲)وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور اسلام کے ساتھ بغض کی وجہ سے اہل ایمان پر ان کے ایمان کی وجہ سے زبان طعن دراز کرتے رہتے تھے۔(۳)طعنہ زنی اور چغل خوری کرنا حرام ہے بلکہ دنیاوی امور میں یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے اور نیکی کے کام میں طعنہ زنی تو سب سے بڑا گناہ ہے۔(۴)جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس کے بارے میں مناسب یہ ہے کہ نیکی کے اس کام میں اس کی اعانت اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے مگر ان منافقین کا مقصد تو صرف اسے نیکی کے کاموں سے باز رکھنا اور اس کی عیب جوئی کرنا تھا۔(۵)اللہ کے راستے میں مال کثیر خرچ کرنے والے کے بارے میں ان کا یہ فیصلہ کہ وہ ریاکار ہے سخت غلطی، غیب دانی کا دعویٰ اور اٹکل پچو ہے اور اس سے بڑی اور کون سی برائی ہو سکتی ہے؟(۶) قلیل مقدار میں صدقہ کرنے والے کی بابت ان کا یہ کہنا ’’اللہ تعالیٰ اس صدقہ سے بے نیاز ہے۔‘‘ایک ایسا کلام ہے جس کا مقصود باطل ہے کیونکہ صدقہ خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے صدقہ سے مستغنی ہے بلکہ وہ زمین اور آسمان کے تمام رہنے والوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے امور کا حکم دیا ہے جن کے وہ خود محتاج ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ.... اگرچہ ان سے بے نیاز ہے لیکن لوگ تو اس کے محتاج ہیں .... فرماتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ﴾(الزلزال: 99؍7) ’’پس جو ذرہ بھر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا‘‘چنانچہ ان کے اس قول میں نیکی سے باز رہنے کی جو ترغیب ہے، وہ بالکل ظاہر اور بین ہے، لہٰذا ان کی جزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تمسخر کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
[80]﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً ﴾ ’’آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں ، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے‘‘ ستر مرتبہ کا لفظ مبالغہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ورنہ اس کا مفہوم مخالف نہیں ہے ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ ’’تب بھی اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا ﴿سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ اَسۡتَغۡفَرۡتَ لَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ لَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(المنافقون: 63؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے آپ ان کے لیے مغفرت مانگیں یا نہ مانگیں اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو ان کی مغفرت سے مانع ہے چنانچہ فرمایا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَ رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا‘‘ اور کافر جب تک اپنے کفر پر قائم ہے اسے کوئی استغفار کام دے سکتا ہے نہ کوئی نیک عمل۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی فسق جن کا وصف بن چکا ہے جو فسق و فجور کے سوا کوئی اور چیز نہیں چن سکتے، جو اس کا بدل نہیں چاہتے۔ ان کے پاس واضح حق آتا ہے مگر یہ اسے ٹھکرا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ سزا دیتا ہے کہ وہ اس کے بعد ان کو توفیق سے محروم کر دیتا ہے۔
9:81فَرِحَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلَٰفَ رَسُولِ ٱللَّهِ وَكَرِهُوٓاْ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَالُواْ لَا تَنفِرُواْ فِي ٱلۡحَرِّۗ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرّٗاۚ لَّوۡ كَانُواْ يَفۡقَهُونَ
خوش ہوئے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، اپنے بیٹھ رہنے پر، بعد(جانے) رسول اللہ کے اورانھوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اوراپنی جانوں کے، اللہ کی راہ میں اور کہا انھوں نے ، نہ کوچ کرو تم (اس) گرمی میں، کہہ دیجیے! آگ جہنم کی (اس سے بھی) زیادہ سخت ہے گرمی میں، اگر ہوں وہ سمجھتے(81) پس چاہیے کہ ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ، بدلے میں ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(82) پس اگر واپس لے آئے آپ کو اللہ کسی گروہ کی طرف ان (منافقین) میں سے اور اجازت مانگیں وہ آپ سے نکلنے کی تو کہہ دیجیے! ہر گز نہ نکلو گے تم میرے ساتھ کبھی بھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ (مل کر) دشمن سے، بے شک تم راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر پہلی مرتبہ، سو بیٹھو (اب بھی) پیچھے رہنے والوں کے ساتھ(83)
[81] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ۠ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر‘‘ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ﴿ وَكَرِهُوۡۤا اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾’’اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں ‘‘ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں .... خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو.... تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں ، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں ﴿ لَا تَنۡفِرُوۡا فِي الۡحَرِّ﴾ ’’نہ کوچ کرو گرمی میں ‘‘ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لیے باہر نکلنا ہمارے لیے مشقت کا باعث ہے۔ پس انھوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا جا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کر لیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے‘‘
[82] کیونکہ انھوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انھوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہو جانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَلۡيَضۡحَكُوۡا قَلِيۡلًا وَّلۡيَبۡكُوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ‘‘ یعنی اس ختم ہو جانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں ۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہو جائیں وہ عنقریب دردناک عذاب میں خوب روئیں گے ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’بدلہ اس کا جو کماتے تھے‘‘ انھوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سرانجام دیے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔
[83]﴿ فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انھیں کوئی حزن و ملال نہ تھا ﴿ فَاسۡتَاۡذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ ﴾ ’’پس وہ اجازت چاہیں آپ سے نکلنے کی‘‘ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لیے آپ سے اجازت طلب کریں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ ’’تو ان سے کہیے‘‘ یعنی سزا کے طور پر۔ ﴿ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِيَ عَدُوًّا﴾ ’’تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰؔلِفِيۡنَ ﴾ ’’تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے)۔‘‘کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چنانچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔اس آیت کریمہ میں ان کے لیے تعزیر بھی ہے کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کر دیے گئے ہیں تو یہ چیز ان لوگوں کے لیے بھی زجروتوبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہو گی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔
9:82فَلۡيَضۡحَكُواْ قَلِيلٗا وَلۡيَبۡكُواْ كَثِيرٗا جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
خوش ہوئے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، اپنے بیٹھ رہنے پر، بعد(جانے) رسول اللہ کے اورانھوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اوراپنی جانوں کے، اللہ کی راہ میں اور کہا انھوں نے ، نہ کوچ کرو تم (اس) گرمی میں، کہہ دیجیے! آگ جہنم کی (اس سے بھی) زیادہ سخت ہے گرمی میں، اگر ہوں وہ سمجھتے(81) پس چاہیے کہ ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ، بدلے میں ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(82) پس اگر واپس لے آئے آپ کو اللہ کسی گروہ کی طرف ان (منافقین) میں سے اور اجازت مانگیں وہ آپ سے نکلنے کی تو کہہ دیجیے! ہر گز نہ نکلو گے تم میرے ساتھ کبھی بھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ (مل کر) دشمن سے، بے شک تم راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر پہلی مرتبہ، سو بیٹھو (اب بھی) پیچھے رہنے والوں کے ساتھ(83)
[81] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ۠ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر‘‘ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ﴿ وَكَرِهُوۡۤا اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾’’اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں ‘‘ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں .... خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو.... تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں ، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں ﴿ لَا تَنۡفِرُوۡا فِي الۡحَرِّ﴾ ’’نہ کوچ کرو گرمی میں ‘‘ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لیے باہر نکلنا ہمارے لیے مشقت کا باعث ہے۔ پس انھوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا جا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کر لیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے‘‘
[82] کیونکہ انھوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انھوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہو جانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَلۡيَضۡحَكُوۡا قَلِيۡلًا وَّلۡيَبۡكُوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ‘‘ یعنی اس ختم ہو جانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں ۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہو جائیں وہ عنقریب دردناک عذاب میں خوب روئیں گے ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’بدلہ اس کا جو کماتے تھے‘‘ انھوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سرانجام دیے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔
[83]﴿ فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انھیں کوئی حزن و ملال نہ تھا ﴿ فَاسۡتَاۡذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ ﴾ ’’پس وہ اجازت چاہیں آپ سے نکلنے کی‘‘ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لیے آپ سے اجازت طلب کریں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ ’’تو ان سے کہیے‘‘ یعنی سزا کے طور پر۔ ﴿ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِيَ عَدُوًّا﴾ ’’تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰؔلِفِيۡنَ ﴾ ’’تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے)۔‘‘کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چنانچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔اس آیت کریمہ میں ان کے لیے تعزیر بھی ہے کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کر دیے گئے ہیں تو یہ چیز ان لوگوں کے لیے بھی زجروتوبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہو گی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔
9:83فَإِن رَّجَعَكَ ٱللَّهُ إِلَىٰ طَآئِفَةٖ مِّنۡهُمۡ فَٱسۡتَـٔۡذَنُوكَ لِلۡخُرُوجِ فَقُل لَّن تَخۡرُجُواْ مَعِيَ أَبَدٗا وَلَن تُقَٰتِلُواْ مَعِيَ عَدُوًّاۖ إِنَّكُمۡ رَضِيتُم بِٱلۡقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٖ فَٱقۡعُدُواْ مَعَ ٱلۡخَٰلِفِينَ
خوش ہوئے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، اپنے بیٹھ رہنے پر، بعد(جانے) رسول اللہ کے اورانھوں نے ناپسند کیا کہ وہ جہاد کریں ساتھ اپنے مالوں اوراپنی جانوں کے، اللہ کی راہ میں اور کہا انھوں نے ، نہ کوچ کرو تم (اس) گرمی میں، کہہ دیجیے! آگ جہنم کی (اس سے بھی) زیادہ سخت ہے گرمی میں، اگر ہوں وہ سمجھتے(81) پس چاہیے کہ ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ، بدلے میں ان (عملوں) کے جو تھے وہ کماتے(82) پس اگر واپس لے آئے آپ کو اللہ کسی گروہ کی طرف ان (منافقین) میں سے اور اجازت مانگیں وہ آپ سے نکلنے کی تو کہہ دیجیے! ہر گز نہ نکلو گے تم میرے ساتھ کبھی بھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ (مل کر) دشمن سے، بے شک تم راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر پہلی مرتبہ، سو بیٹھو (اب بھی) پیچھے رہنے والوں کے ساتھ(83)
[81] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ۠ بِمَقۡعَدِهِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر‘‘ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزاد یہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ﴿ وَكَرِهُوۡۤا اَنۡ يُّجَاهِدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾’’اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں اپنے مالوں اور جانوں سے، اللہ کی راہ میں ‘‘ اور اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے، وہ اگر پیچھے رہ جائیں .... خواہ اس کا سبب کوئی عذر ہی کیوں نہ ہو.... تو اپنے پیچھے رہ جانے پر سخت غمگین ہوتے ہیں ، وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کریں ۔ کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان موجزن ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کی امید رکھتے ہیں ۔﴿ وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منافقین کہتے ہیں ﴿ لَا تَنۡفِرُوۡا فِي الۡحَرِّ﴾ ’’نہ کوچ کرو گرمی میں ‘‘ یعنی وہ کہتے ہیں گرمی کے موسم میں جہاد کے لیے باہر نکلنا ہمارے لیے مشقت کا باعث ہے۔ پس انھوں نے مختصر سی عارضی راحت کو ہمیشہ رہنے والی کامل راحت پر ترجیح دی۔ وہ اس گرمی سے گھبرا گئے جس سے سایہ میں بیٹھ کر بچا جا سکتا ہے جس کی شدت صبح و شام کے اوقات میں کم ہو جاتی ہے اور اس شدید ترین گرمی کو اختیار کر لیا جس کی شدت کو کوئی شخص برداشت کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اور وہ ہے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلۡ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جہنم کی آگ، کہیں زیادہ سخت گرم ہے، اگر وہ سمجھتے‘‘
[82] کیونکہ انھوں نے فانی چیز کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز پر ترجیح دی اور انھوں نے نہایت ہی خفیف اور ختم ہو جانے والی مشقت سے فرار ہو کر دائمی مشقت کو اختیار کر لیا۔ ﴿ فَلۡيَضۡحَكُوۡا قَلِيۡلًا وَّلۡيَبۡكُوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’پس ہنسیں وہ تھوڑا اور روئیں زیادہ‘‘ یعنی اس ختم ہو جانے والی دنیا سے خوب فائدہ اٹھائیں ۔ اس کی لذات سے فرحت حاصل کریں اور اس کے کھیل کود میں مگن ہو کر غافل ہو جائیں وہ عنقریب دردناک عذاب میں خوب روئیں گے ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’بدلہ اس کا جو کماتے تھے‘‘ انھوں نے کفر، نفاق اور اپنے رب کے احکام کی عدم اطاعت پر مبنی افعال سرانجام دیے تھے، یہ ان کی جزا ہے۔
[83]﴿ فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىِٕفَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پھر اگر لے جائے اللہ آپ کو ان میں سے کسی فرقے کی طرف‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذر کے بغیر پیچھے بیٹھ رہے تھے اور پھر اپنے پیچھے رہ جانے پر انھیں کوئی حزن و ملال نہ تھا ﴿ فَاسۡتَاۡذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ ﴾ ’’پس وہ اجازت چاہیں آپ سے نکلنے کی‘‘ یعنی جب وہ کسی اور غزوہ میں سہولت دیکھیں تو جہاد کے لیے آپ سے اجازت طلب کریں ۔ ﴿ فَقُلۡ ﴾ ’’تو ان سے کہیے‘‘ یعنی سزا کے طور پر۔ ﴿ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِيَ عَدُوًّا﴾ ’’تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے‘‘ پس اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بے نیاز کر دے گا۔ ﴿ اِنَّـكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰؔلِفِيۡنَ ﴾ ’’تم نے پسند کیا تھا بیٹھ رہنا پہلی مرتبہ، پس بیٹھے رہو تم پیچھے رہنے والوں کے ساتھ‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے (اور) جیسے یہ قرآن پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے (اب بھی نہیں لائیں گے)۔‘‘کیونکہ وہ شخص جو فرصت کے اوقات میں احکام کی بجا آوری میں سستی سے پیچھے رہ جاتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان احکام کی تعمیل کی توفیق عطا نہیں ہوتی، چنانچہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں ۔اس آیت کریمہ میں ان کے لیے تعزیر بھی ہے کیونکہ جب مسلمانوں کے نزدیک یہ چیز متحقق ہوگئی کہ یہ لوگ اپنی نافرمانی کی بنا پر جہاد کی توفیق سے محروم کر دیے گئے ہیں تو یہ چیز ان لوگوں کے لیے بھی زجروتوبیخ، عار اور عبرت کا باعث ہو گی جو ان کی طرح اس حرکت کا ارتکاب کریں گے۔
9:84وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰٓ أَحَدٖ مِّنۡهُم مَّاتَ أَبَدٗا وَلَا تَقُمۡ عَلَىٰ قَبۡرِهِۦٓۖ إِنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَمَاتُواْ وَهُمۡ فَٰسِقُونَ
اور نہ نماز پڑھیں آپ اوپر کسی کے ان میں سے جو مرجائے، کبھی بھی اورنہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر، بے شک انھوں نے کفر کیا ساتھ اللہ اوراس کے رسول کے اور مرے وہ اس حال میں کہ وہ نافرمان تھے(84)
[84]﴿ وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّؔنۡهُمۡ مَّؔاتَ ﴾ ’’اور آپ نہ نماز پڑھیں ان میں سے کسی پر جو مر جائے‘‘ منافقین میں سے اگر کوئی مر جائے ﴿ وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ﴾ ’’اور نہ کھڑے ہوں اس کی قبر پر‘‘ دفن کرنے کے بعد تاکہ آپ اس کے حق میں دعا کریں کیونکہ ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لیے دعا کرنا آپﷺ کی طرف سے ان کی شفاعت ہے اور شفاعت ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ مرے نافرمان‘‘ اور جو کافر ہے اور کفر ہی کی حالت میں مر گیا تو کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اس کے کام نہ آئے گی۔ اس آیت کریمہ میں دوسروں کے لیے عبرت اور زجر و توبیخ ہے۔ اسی طرح ہر اس شخص کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے جس کا کفر اور نفاق معلوم ہو۔نیز آیت کریمہ میں اہل ایمان کی نماز جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہو کر ان کے لیے دعا مانگنے کی مشروعیت کی دلیل ہے جیسا کہ اہل ایمان کے بارے میں نبی اکرمﷺ کا طریقہ تھا کیونکہ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ تقیید دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے بارے میں یہ چیز متحقق اور جائز ہے۔
9:85وَلَا تُعۡجِبۡكَ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَأَوۡلَٰدُهُمۡۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ أَنفُسُهُمۡ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
اور نہ حیرت میں ڈالیں آپ کو ان کے مال اوران کی اولاد، بے شک چاہتا ہے اللہ کہ عذاب دے ان کو ان کی وجہ سے دنیا میں اور نکلیں ان کی جانیں اس حال میں کہ وہ کافر ہی ہوں(85)
[85] اللہ تعالیٰ نے ان کو جو مال اور اولاد سے نواز رکھا ہے اس سے دھوکہ نہ کھائیے کیونکہ یہ مال اور اولاد ان کی تکریم کے لیے نہیں ، یہ ان کی تحقیر اور اہانت کے لیے ہے۔ فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ ان کو ان چیزوں کی وجہ سے دنیا میں عذاب میں رکھے‘‘ پس وہ اس کے حصول کے پیچھے لگے رہتے ہیں اس کے زوال سے خائف رہتے ہیں اور وہ اس مال سے لطف نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ مال کے حصول میں تکالیف اور مشقتیں برداشت کرتے رہتے ہیں ، مال اور اولاد ان کو اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غافل کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چل دیتے ہیں ۔ ﴿ وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں ‘‘ مال اور اولاد کی محبت نے ان سے ہر چیز سلب کر لی، ان کو موت نے آلیا تو ان کے دل ابھی تک دنیا سے چمٹے ہوئے تھے اور ان کے ذہن ابھی تک اس کے لیے سرگرم تھے۔
9:86وَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٌ أَنۡ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَجَٰهِدُواْ مَعَ رَسُولِهِ ٱسۡتَـٔۡذَنَكَ أُوْلُواْ ٱلطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ وَقَالُواْ ذَرۡنَا نَكُن مَّعَ ٱلۡقَٰعِدِينَ
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو ساتھ (مل کر) اس کے رسول کے تو اجازت مانگتے ہیں آپ سے مقدرت والے ان میں سے اور کہتے ہیں چھوڑ دیجیے ہمیں کہ ہوجائیں ہم ساتھ بیٹھنے والوں کے(86) راضی ہوگئے وہ اس پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کے اور مہر لگا دی گئی دلوں پر، پس وہ نہیں سمجھتے(87)
[86] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویے پر کوئی اثر نہیں کرتیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب اترتی ہے کوئی سورت‘‘ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو ﴿ اسۡتَاۡذَنَكَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ‘‘ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنھیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب کر دیا ہے اور ان پر اپنا معاملہ سہل کر دیا ہے؟ مگر وہ سستی اور کاہلی کا شکار رہے اور پیچھے بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے رہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا ذَرۡنَا نَؔكُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ہمیں چھوڑدو! ہو جائیں (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔‘‘
[87]﴿ رَضُوۡا بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ‘‘ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کے ساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلیں ۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہ نمائی کرے؟ ﴿وَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ یا ’’ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔‘‘ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں ۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لیے اس صورت حال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔
9:87رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ ٱلۡخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُونَ
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور جہاد کرو ساتھ (مل کر) اس کے رسول کے تو اجازت مانگتے ہیں آپ سے مقدرت والے ان میں سے اور کہتے ہیں چھوڑ دیجیے ہمیں کہ ہوجائیں ہم ساتھ بیٹھنے والوں کے(86) راضی ہوگئے وہ اس پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کے اور مہر لگا دی گئی دلوں پر، پس وہ نہیں سمجھتے(87)
[86] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویے پر کوئی اثر نہیں کرتیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ وَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب اترتی ہے کوئی سورت‘‘ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو ﴿ اسۡتَاۡذَنَكَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ‘‘ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنھیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب کر دیا ہے اور ان پر اپنا معاملہ سہل کر دیا ہے؟ مگر وہ سستی اور کاہلی کا شکار رہے اور پیچھے بیٹھ رہنے کی اجازت مانگتے رہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا ذَرۡنَا نَؔكُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ہمیں چھوڑدو! ہو جائیں (پیچھے) بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ۔‘‘
[87]﴿ رَضُوۡا بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’وہ راضی ہو گئے اس بات پر کہ رہیں وہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ‘‘ وہ کیوں کر اس بات پر راضی ہوگئے کہ وہ ان خواتین کے ساتھ پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلیں ۔ کیا ان کے پاس کوئی عقل اور سمجھ ہے جو اس پر ان کی راہ نمائی کرے؟ ﴿وَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ یا ’’ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔‘‘ پس وہ کسی بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتے اور ان کے دل ان افعال کے ارادے سے خالی ہیں جو خیر و فلاح پر مشتمل ہیں ۔ پس وہ اپنے مصالح و مفاد کو نہیں سمجھتے۔ اگر وہ حقیقی سمجھ رکھتے ہوتے تو وہ اپنے لیے اس صورت حال پر کبھی راضی نہ ہوتے۔ جس نے ان کو جواں مردوں کے مقام سے نیچے گرا رکھا ہے۔
9:88لَٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ جَٰهَدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡخَيۡرَٰتُۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
لیکن رسول(ﷺ) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے، انھوں نے جہاد کیا ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاور یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(88) تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(89)
[88] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں ﴿ الرَّسُوۡلُ ﴾ رسول مصطفیﷺ ﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ جٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انھوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔‘‘ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡخَيۡرٰتُ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (دنیا و آخرت) کی بے شمار بھلائیاں ہیں۔‘‘ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔‘‘ جو بلند ترین مطالب اور کامل ترین مرغوبات کے حصول میں کامیاب ہیں ۔
[89]﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی‘‘ ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو ان امور میں رغبت نہیں رکھتا جن میں اہل جنت رغبت رکھتے ہیں اور وہ اپنے دین اور دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والا شخص ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا ہے جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام: 6؍89) ’’اگر یہ کفار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں پر ایمان لانے کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ۔‘‘
9:89أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
لیکن رسول(ﷺ) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اس کے، انھوں نے جہاد کیا ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کےاور یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(88) تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(89)
[88] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں ﴿ الرَّسُوۡلُ ﴾ رسول مصطفیﷺ ﴿ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ جٰهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انھوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔‘‘ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے ہیں ۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡخَيۡرٰتُ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (دنیا و آخرت) کی بے شمار بھلائیاں ہیں۔‘‘ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔‘‘ جو بلند ترین مطالب اور کامل ترین مرغوبات کے حصول میں کامیاب ہیں ۔
[89]﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہی ہے بڑی کامیابی‘‘ ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو ان امور میں رغبت نہیں رکھتا جن میں اہل جنت رغبت رکھتے ہیں اور وہ اپنے دین اور دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑنے والا شخص ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لوگوں کو اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا ہے جب ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کی نظیر ہے ﴿فَاِنۡ يَّكۡفُرۡ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدۡ وَؔكَّؔلۡنَا بِهَا قَوۡمًا لَّيۡسُوۡا بِهَا بِكٰفِرِيۡنَ﴾(الانعام: 6؍89) ’’اگر یہ کفار ان باتوں کا انکار کرتے ہیں تو ہم نے ان باتوں پر ایمان لانے کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کر دیا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ۔‘‘
9:90وَجَآءَ ٱلۡمُعَذِّرُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ وَقَعَدَ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)
[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾’’نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں ‘‘ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کر دیا۔ بندۂ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہو جاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں ۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں ۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن..... جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے، اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہو گی، اس لیے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔
[92]﴿ وَّلَا عَلَى الَّذِيۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کو سواری دیں ‘‘ مگر انھوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿ قُلۡتَ ﴾ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ﴿ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ١۪ تَوَلَّوۡا وَّاَعۡيُنُهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوۡا مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے‘‘ کیونکہ وہ عاجز، بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں ۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کوئی حرج اور گناہ نہیں ، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا ... یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔
[93]﴿ اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ ’’الزام تو‘‘ یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَسۡتَاۡذِنُوۡنَكَ وَهُمۡ اَغۡنِيَآءُ﴾ ’’ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو جہاد کے لیے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ ﴿ رَضُوۡا ﴾ ’’وہ خوش ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں ۔ ﴿ بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں ۔‘‘ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہ اس وجہ سے اس حال پر راضی ہیں کہ ﴿ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘ اس لیے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہیں جانتے۔‘‘ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب کیا ہے۔
9:91لَّيۡسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرۡضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡسِنِينَ مِن سَبِيلٖۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)
[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾’’نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں ‘‘ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کر دیا۔ بندۂ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہو جاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں ۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں ۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن..... جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے، اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہو گی، اس لیے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔
[92]﴿ وَّلَا عَلَى الَّذِيۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کو سواری دیں ‘‘ مگر انھوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿ قُلۡتَ ﴾ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ﴿ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ١۪ تَوَلَّوۡا وَّاَعۡيُنُهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوۡا مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے‘‘ کیونکہ وہ عاجز، بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں ۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کوئی حرج اور گناہ نہیں ، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا ... یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔
[93]﴿ اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ ’’الزام تو‘‘ یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَسۡتَاۡذِنُوۡنَكَ وَهُمۡ اَغۡنِيَآءُ﴾ ’’ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو جہاد کے لیے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ ﴿ رَضُوۡا ﴾ ’’وہ خوش ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں ۔ ﴿ بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں ۔‘‘ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہ اس وجہ سے اس حال پر راضی ہیں کہ ﴿ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘ اس لیے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہیں جانتے۔‘‘ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب کیا ہے۔
9:92وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ قُلۡتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ تَوَلَّواْ وَّأَعۡيُنُهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَ
اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)
[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾’’نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں ‘‘ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کر دیا۔ بندۂ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہو جاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں ۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں ۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن..... جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے، اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہو گی، اس لیے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔
[92]﴿ وَّلَا عَلَى الَّذِيۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کو سواری دیں ‘‘ مگر انھوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿ قُلۡتَ ﴾ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ﴿ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ١۪ تَوَلَّوۡا وَّاَعۡيُنُهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوۡا مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے‘‘ کیونکہ وہ عاجز، بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں ۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کوئی حرج اور گناہ نہیں ، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا ... یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔
[93]﴿ اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ ’’الزام تو‘‘ یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَسۡتَاۡذِنُوۡنَكَ وَهُمۡ اَغۡنِيَآءُ﴾ ’’ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو جہاد کے لیے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ ﴿ رَضُوۡا ﴾ ’’وہ خوش ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں ۔ ﴿ بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں ۔‘‘ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہ اس وجہ سے اس حال پر راضی ہیں کہ ﴿ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘ اس لیے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہیں جانتے۔‘‘ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب کیا ہے۔
9:93۞إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَسۡتَـٔۡذِنُونَكَ وَهُمۡ أَغۡنِيَآءُۚ رَضُواْ بِأَن يَكُونُواْ مَعَ ٱلۡخَوَالِفِ وَطَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
اور آئے بہانہ کرنے والے دیہاتیوں میں سے تاکہ اجازت دی جائے ان کواور بیٹھ گئے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اوراس کے رسول سے، عنقریب پہنچے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب بہت درد ناک(90) نہیں ہے ضعیفوں پر اورنہ بیماروں پر اور نہ اوپر ان لوگوں کے جو نہیں پاتے وہ چیز کہ خرچ کریں، کوئی گناہ (پیچھے رہنے میں) جبکہ خیر خواہی کرتے ہیں وہ اللہ کی اوراس کے رسول کی، نہیں ہے نیکی کرنے والوں پر(گرفت کرنے کی) کوئی راہ اوراللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(91) اورنہ ان لوگوں پر کہ جب آئے وہ آپ کے پاس تاکہ سواری دیں آپ انھیں تو آپ نے کہا، نہیں پاتا میں ایسی چیز کہ سوار کروں میں تم کو اس پر تو وہ لوٹے جبکہ ان کی آنکھیں بہتی تھیں آنسوؤں سے، اس غم سے کہ نہیں پاتے وہ، جو وہ خرچ کریں(92) بے شک (گرفت کی) راہ تو اوپر ان لوگوں کے ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ہوجائیں وہ ساتھ پیچھے رہنے والی عورتوں کےاور مہر لگا دی اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں جانتے(93)
[90]﴿ وَجَآءَ الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠ مِنَ الۡاَعۡرَابِ لِيُؤۡذَنَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے سستی کی اور جہاد کے لیے نکلنے سے قاصر رہے، اس لیے آئے کہ انھیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انھیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں ... اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انھوں نے اعتذار کو بالکل ہی ترک کر دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿الۡمُعَذِّرُوۡنَ۠﴾ ’’عذر کرنے والے‘‘ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں اور رسول اللہﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آپ عذر پیش کرنے والے کا عذر قبول فرما لیا کرتے تھے۔ ﴿وَقَعَدَ الَّذِيۡنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور بیٹھ رہے وہ لوگ جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ اور اس کے رسول سے‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے دعوائے ایمان میں ، جو جہاد کے لیے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ان کے عمل نہ کرنے میں ، اللہ اور رسول سے جھوٹ بولا، پھر ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ سَيُصِيۡبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اب پہنچے گا ان کو جو کافر ہیں ان میں دردناک عذاب‘‘ دنیا و آخرت میں ۔
[91] اللہ تبارک و تعالیٰ نے معذرت پیش کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔ ان کی دو قسمیں ہیں : (۱)جو شرعی طور پر معذور ہیں ۔(۲) جو شرعی طور پر غیر معذور ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے معذور لوگوں کا ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے ﴿ لَيۡسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ ﴾ ’’نہیں ہے (حرج)کمزوروں پر۔‘‘جو کمزور جسم اور کمزور نظر والے ہیں جو جہاد کے لیے باہر نکلنے اور دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔﴿ وَلَا عَلَى الۡمَرۡضٰى ﴾ ’’اور نہ بیماروں پر‘‘ یہ آیت ان تمام امراض کو شامل ہے جن کی بنا پر مریض جہاد اور قتال کے لیے باہر نہیں نکل سکتا، مثلاً: لنگڑا پن، اندھا پن، بخار، نمونیہ اور فالج وغیرہ۔ ﴿ وَلَا عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ ان لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کو نہیں ہے‘‘ یعنی ان کے پاس زاد راہ ہے نہ سواری جس کے ذریعے سے وہ تیزی سے سفر کر سکیں ۔ پس ان مذکورہ لوگوں کے لیے کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی رکھتے ہوں ، صادق الایمان ہوں ، ان کی نیت اور ان کا عزم یہ ہو کہ اگر وہ جہاد پر قادر ہوئے تو وہ ضرور جہاد کریں گے اور ایسے کام کرتے ہوں جن پر وہ قدرت رکھتے ہیں ، مثلاً: لوگوں کو جہاد کی ترغیب دینا اور جہاد کے لیے ان کا حوصلہ بڑھانا۔ ﴿ مَا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾’’نیکی کرنے والوں پر کوئی راستہ نہیں ‘‘ یعنی ایسا راستہ جس سے نیکی کرنے والوں کو کوئی ضرر پہنچے کیونکہ انھوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھلائی سے کام لے کر ملامت کو ساقط کر دیا۔ بندۂ مومن جس چیز پر قادر ہے جب اس میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اس سے وہ امور ساقط ہو جاتے ہیں جن پر وہ قادر نہیں ۔ اس آیت کریمہ سے اس شرعی قاعدہ پر استدلال کیا جاتا ہے کہ جو کوئی کسی دوسرے شخص پر اس کی جان اور مال وغیرہ میں احسان کرتا ہے، پھر اس احسان کے نتیجے میں کوئی نقصان یا اتلاف واقع ہو جاتا ہے تو اس احسان کرنے والے پر کوئی ضمان نہیں ۔ کیونکہ وہ محسن ہے اور محسن پر کوئی گرفت نہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ غیر محسن..... جو کام کو عمدہ طریقے سے انجام نہ دے، اس کی حیثیت کوتاہی کرنے والے کی ہو گی، اس لیے اس پر ضمان عائد کیا جائے گا۔﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور بے پایاں رحمت ہی ہے کہ اس نے قدرت نہ رکھنے والے بے بس لوگوں کو معاف کر دیا ہے اور ان کی نیت کے مطابق ان کو وہ ثواب عطا کرتا ہے جو وہ قدرت رکھنے والوں کو عطا کرتا ہے۔
[92]﴿ وَّلَا عَلَى الَّذِيۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ ﴾ ’’اور نہ ان پر کوئی حرج ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آئیں تاکہ آپ ان کو سواری دیں ‘‘ مگر انھوں نے آپ کے پاس کوئی چیز نہ پائی ﴿ قُلۡتَ ﴾ اور آپ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ﴿ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ١۪ تَوَلَّوۡا وَّاَعۡيُنُهُمۡ تَفِيۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوۡا مَا يُنۡفِقُوۡنَ ﴾ ’’میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ میں تم کو اس پر سوار کراؤں تو وہ الٹے پھرے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اس غم میں کہ وہ خرچ کرنے کو کچھ نہیں پاتے‘‘ کیونکہ وہ عاجز، بے بس اور اپنی جان کو خرچ کرنے والے ہیں ۔ وہ انتہائی حزن و غم اور مشقت میں مبتلا ہیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے کوئی حرج اور گناہ نہیں ، جب ان سے گناہ ساقط ہوگیا تو معاملہ اپنی اصل کی طرف لوٹ گیا ... یعنی جو کوئی بھلائی کی نیت کرتا ہے اور اس کی اس نیت جازمہ کے ساتھ مقدور بھر اس کی کوشش بھی مقرون ہوتی ہے، اس کے باوجود وہ اس فعل کو بجا لانے پر قادر نہیں ہوتا تو اس کو فاعل کامل ہی شمار کیا جائے گا۔
[93]﴿ اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ ’’الزام تو‘‘ یعنی گناہ اور ملامت تو ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ يَسۡتَاۡذِنُوۡنَكَ وَهُمۡ اَغۡنِيَآءُ﴾ ’’ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر بھی آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو جہاد کے لیے نکلنے پر قادر ہیں اور ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ ﴿ رَضُوۡا ﴾ ’’وہ خوش ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے دین اور اپنی ذات کے بارے میں ۔ ﴿ بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ ﴾ ’’یہ کہ وہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ گھروں میں رہیں ۔‘‘ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ وہ اس وجہ سے اس حال پر راضی ہیں کہ ﴿ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘ اس لیے ان کے اندر کوئی بھلائی داخل نہیں ہو سکتی اور وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کو محسوس نہیں کرتے۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ نہیں جانتے۔‘‘ کہ یہ اس گناہ کی سزا ہے جس کا انھوں نے ارتکاب کیا ہے۔
9:94يَعۡتَذِرُونَ إِلَيۡكُمۡ إِذَا رَجَعۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡۚ قُل لَّا تَعۡتَذِرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ قَدۡ نَبَّأَنَا ٱللَّهُ مِنۡ أَخۡبَارِكُمۡۚ وَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
عذر پیش کریں گے وہ تمھارے سامنے جب لوٹو گے تم ان کی طرف ، فرما دیجیے! مت عذر پیش کرو، ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمھارا، تحقیق خبر دار کر دیا ہے ہمیں اللہ نے تمھارے حالات سے اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کو اوراس کا رسول بھی، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی جو جاننے والا ہے چھپی اور کھلی بات کو، پس خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے(94) عنقریب قسمیں کھائیں گے وہ اللہ کی تمھارے سامنے جب لوٹ کر جاؤ گے تم ان کی طرف تاکہ درگزر کرو تم ان سے، پس درگزر (ہی) کرو تم ان سے، یقینا وہ لوگ ناپاک ہیں اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے بدلے میں ان کاموں کے جو تھے وہ کماتے(95) قسمیں کھائیں گے وہ تمھارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، سو اگر تم راضی بھی ہو جاؤ ا سے تو یقینا اللہ نہیں راضی ہو گا ان لوگوں سے جو فاسق ہیں (96)
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ يَعۡتَذِرُوۡنَؔ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُلۡ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوۡنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[95]واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں :(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔‘‘ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾ ’’وہ ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی وہ ناپاک اور خبیث ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ ان کی پروا کی جائے، زجر و توبیخ اور سزا بھی ان کے لیے مفید نہیں ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ ﴿مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَحۡلِفُوۡنَؔ لَكُمۡ لِـتَرۡضَوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھائیں گے تمھارے لیے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ‘‘ یعنی وہ تم سے یہ آخری مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مجرد اعراض نہیں چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ گویا کہ انھوں نے کوئی کوتاہی کی ہی نہیں ﴿ فَاِنۡ تَرۡضَوۡا عَنۡهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی، اے مومنو! تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان لوگوں پر رضامندی کا اظہار کرو جن پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم اپنے رب کی رضا اور ناراضی میں اس کی موافقت کرو۔
[96] غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ہے: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان سے راضی نہیں ہوتا‘‘ تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اگر یہ یا کوئی اور جب بھی توبہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور ان پر راضی ہو جاتا ہے لیکن جب تک وہ اپنے فسق پر جمے رہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی رضا کا مانع موجود ہے... اور وہ ہے ان کا ان امور سے باہر نکلنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ، مثلاً: ایمان اور اطاعت اور ایسے امور میں داخل ہونا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں ، مثلاً: شرک، نفاق اور نافرمانی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی عذر کے بغیر جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جب اہل ایمان کے سامنے عذر پیش کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے میں ان کے پاس عذر تھا تو وہ چاہتے ہیں کہ تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر کے ان سے راضی رہو اور ان کا عذر قبول کر لو۔ رہا ان کا عذر قبول کرنا اور ان سے راضی ہونا تو اس میں ان سے کوئی محبت نہیں اور نہ ان کی کوئی تکریم ہے۔رہا ان سے اعراض کرنا تو اہل ایمان ان سے اس طرح اعراض کیا کرتے تھے جس طرح ناپاک اور ردی امور سے اعراض کیا جاتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ ﴾ سے اللہ تعالیٰ کے کلام کا اثبات ہوتا ہے اور اسی آیت کریمہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات بھی ہوتا ہے جو اس کی مشیت اور قدرت سے واقع ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کے عمل کو اس کے واقع ہونے کے بعد دیکھے گا۔ ان آیات کریمہ میں نیکو کاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فاسقین کے ساتھ ناراضی اور غصے کا اثبات ہوتا ہے۔
9:95سَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمۡ إِذَا ٱنقَلَبۡتُمۡ إِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُواْ عَنۡهُمۡۖ فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمۡۖ إِنَّهُمۡ رِجۡسٞۖ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ
عذر پیش کریں گے وہ تمھارے سامنے جب لوٹو گے تم ان کی طرف ، فرما دیجیے! مت عذر پیش کرو، ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمھارا، تحقیق خبر دار کر دیا ہے ہمیں اللہ نے تمھارے حالات سے اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کو اوراس کا رسول بھی، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی جو جاننے والا ہے چھپی اور کھلی بات کو، پس خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے(94) عنقریب قسمیں کھائیں گے وہ اللہ کی تمھارے سامنے جب لوٹ کر جاؤ گے تم ان کی طرف تاکہ درگزر کرو تم ان سے، پس درگزر (ہی) کرو تم ان سے، یقینا وہ لوگ ناپاک ہیں اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے بدلے میں ان کاموں کے جو تھے وہ کماتے(95) قسمیں کھائیں گے وہ تمھارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، سو اگر تم راضی بھی ہو جاؤ ا سے تو یقینا اللہ نہیں راضی ہو گا ان لوگوں سے جو فاسق ہیں (96)
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ يَعۡتَذِرُوۡنَؔ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُلۡ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوۡنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[95]واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں :(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔‘‘ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾ ’’وہ ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی وہ ناپاک اور خبیث ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ ان کی پروا کی جائے، زجر و توبیخ اور سزا بھی ان کے لیے مفید نہیں ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ ﴿مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَحۡلِفُوۡنَؔ لَكُمۡ لِـتَرۡضَوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھائیں گے تمھارے لیے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ‘‘ یعنی وہ تم سے یہ آخری مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مجرد اعراض نہیں چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ گویا کہ انھوں نے کوئی کوتاہی کی ہی نہیں ﴿ فَاِنۡ تَرۡضَوۡا عَنۡهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی، اے مومنو! تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان لوگوں پر رضامندی کا اظہار کرو جن پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم اپنے رب کی رضا اور ناراضی میں اس کی موافقت کرو۔
[96] غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ہے: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان سے راضی نہیں ہوتا‘‘ تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اگر یہ یا کوئی اور جب بھی توبہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور ان پر راضی ہو جاتا ہے لیکن جب تک وہ اپنے فسق پر جمے رہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی رضا کا مانع موجود ہے... اور وہ ہے ان کا ان امور سے باہر نکلنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ، مثلاً: ایمان اور اطاعت اور ایسے امور میں داخل ہونا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں ، مثلاً: شرک، نفاق اور نافرمانی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی عذر کے بغیر جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جب اہل ایمان کے سامنے عذر پیش کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے میں ان کے پاس عذر تھا تو وہ چاہتے ہیں کہ تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر کے ان سے راضی رہو اور ان کا عذر قبول کر لو۔ رہا ان کا عذر قبول کرنا اور ان سے راضی ہونا تو اس میں ان سے کوئی محبت نہیں اور نہ ان کی کوئی تکریم ہے۔رہا ان سے اعراض کرنا تو اہل ایمان ان سے اس طرح اعراض کیا کرتے تھے جس طرح ناپاک اور ردی امور سے اعراض کیا جاتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ ﴾ سے اللہ تعالیٰ کے کلام کا اثبات ہوتا ہے اور اسی آیت کریمہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات بھی ہوتا ہے جو اس کی مشیت اور قدرت سے واقع ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کے عمل کو اس کے واقع ہونے کے بعد دیکھے گا۔ ان آیات کریمہ میں نیکو کاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فاسقین کے ساتھ ناراضی اور غصے کا اثبات ہوتا ہے۔
9:96يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ لِتَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡۖ فَإِن تَرۡضَوۡاْ عَنۡهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرۡضَىٰ عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡفَٰسِقِينَ
عذر پیش کریں گے وہ تمھارے سامنے جب لوٹو گے تم ان کی طرف ، فرما دیجیے! مت عذر پیش کرو، ہرگز نہیں یقین کریں گے ہم تمھارا، تحقیق خبر دار کر دیا ہے ہمیں اللہ نے تمھارے حالات سے اور عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کو اوراس کا رسول بھی، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی جو جاننے والا ہے چھپی اور کھلی بات کو، پس خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے(94) عنقریب قسمیں کھائیں گے وہ اللہ کی تمھارے سامنے جب لوٹ کر جاؤ گے تم ان کی طرف تاکہ درگزر کرو تم ان سے، پس درگزر (ہی) کرو تم ان سے، یقینا وہ لوگ ناپاک ہیں اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے بدلے میں ان کاموں کے جو تھے وہ کماتے(95) قسمیں کھائیں گے وہ تمھارے سامنے تاکہ تم راضی ہو جاؤ ان سے، سو اگر تم راضی بھی ہو جاؤ ا سے تو یقینا اللہ نہیں راضی ہو گا ان لوگوں سے جو فاسق ہیں (96)
[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لیے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا: ﴿ يَعۡتَذِرُوۡنَؔ اِلَيۡكُمۡ اِذَا رَجَعۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔‘‘ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمھارے پاس معذرت کریں گے۔ ﴿ قُلۡ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے! ﴿ لَّا تَعۡتَذِرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكُمۡ ﴾ ’’تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمھاری بات نہیں مانیں گے‘‘ یعنی ہم تمھاری جھوٹی معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے ہمیں تمھارے حالات سے خبردار کر دیا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں سچا ہے اب معذرت پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ ایسی ایسی معذرتیں پیش کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو آگاہ فرمایا ہے وہ اس کے عین برعکس ہے اور یہ قطعاً محال ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے جھوٹ ہونے کی خبر دے رہا ہے وہ سچ ہو، اللہ تعالیٰ کی خبر تو صداقت کے بلند ترین مرتبے پر ہے۔ ﴿وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کا رسول تمھارے اعمال دیکھیں گے۔‘‘ یعنی دنیا میں کیونکہ عمل صداقت کی میزان ہے اور عمل کے ذریعے سے سچ اور جھوٹ میں امتیاز ہوتا ہے۔ رہے مجرد اقوال تو ان کی صداقت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ تُرَدُّوۡنَؔ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ﴾ ’’پھر تم غائب و حاضر کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ جس سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ ﴿ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمھیں بتائے گا۔‘‘ یعنی تم برا یا بھلا جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ فرمائے گا اور تم پر ذرہ بھر ظلم کیے بغیر اپنے عدل اور فضل سے تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[95]واضح رہے کہ برائی کا ارتکاب کرنے والے کے تین احوال ہیں :(۱)ظاہر اور باطن میں اس کی بات اور عذر کو قبول کیا جائے اور اس بنا پر اس کو معاف کر دیا جائے اور اس کی یہ حالت ہو جائے گویا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔(۲)اس کو سزا دی جائے اور اس کے گناہ پر فعلی تعزیر دی جائے۔(۳) گناہ کا ارتکاب کرنے والے سے اعراض کیا جائے اور اس نے جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کے بدلے میں عقوبت فعلی سے گریز کیا جائے۔یہ تیسرا رویہ ہے جس کی بابت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ منافقین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَيَحۡلِفُوۡنَؔ بِاللّٰهِ لَكُمۡ اِذَا انۡقَلَبۡتُمۡ اِلَيۡهِمۡ لِتُعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ١ؕ فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کی طرف واپس آؤ گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو، پس تم ان سے درگزر کرو۔‘‘ یعنی ان کو زجر و توبیخ کرو، نہ ان کو مارو پیٹو اور نہ ان کو قتل کرو ﴿ اِنَّهُمۡ رِجۡسٌ﴾ ’’وہ ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی وہ ناپاک اور خبیث ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ ان کی پروا کی جائے، زجر و توبیخ اور سزا بھی ان کے لیے مفید نہیں ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کے لیے یہی کافی ہے کہ ﴿مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يَحۡلِفُوۡنَؔ لَكُمۡ لِـتَرۡضَوۡا عَنۡهُمۡ﴾ ’’وہ قسمیں کھائیں گے تمھارے لیے تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ‘‘ یعنی وہ تم سے یہ آخری مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مجرد اعراض نہیں چاہتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ گویا کہ انھوں نے کوئی کوتاہی کی ہی نہیں ﴿ فَاِنۡ تَرۡضَوۡا عَنۡهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو اللہ تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔‘‘ یعنی، اے مومنو! تمھارے لیے مناسب نہیں کہ تم ان لوگوں پر رضامندی کا اظہار کرو جن پر اللہ تعالیٰ راضی نہیں بلکہ تم پر واجب ہے کہ تم اپنے رب کی رضا اور ناراضی میں اس کی موافقت کرو۔
[96] غور کیجیے اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا ہے: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنِ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا‘‘ اور یہ نہیں فرمایا: ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرۡضٰى عَنۡهُمۡ﴾ ’’ان سے راضی نہیں ہوتا‘‘ تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اگر یہ یا کوئی اور جب بھی توبہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور ان پر راضی ہو جاتا ہے لیکن جب تک وہ اپنے فسق پر جمے رہیں اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی رضا کا مانع موجود ہے... اور وہ ہے ان کا ان امور سے باہر نکلنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ، مثلاً: ایمان اور اطاعت اور ایسے امور میں داخل ہونا جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں ، مثلاً: شرک، نفاق اور نافرمانی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ ذکر فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کسی عذر کے بغیر جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والے منافقین جب اہل ایمان کے سامنے عذر پیش کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے میں ان کے پاس عذر تھا تو وہ چاہتے ہیں کہ تم ان کے معاملے کو نظر انداز کر کے ان سے راضی رہو اور ان کا عذر قبول کر لو۔ رہا ان کا عذر قبول کرنا اور ان سے راضی ہونا تو اس میں ان سے کوئی محبت نہیں اور نہ ان کی کوئی تکریم ہے۔رہا ان سے اعراض کرنا تو اہل ایمان ان سے اس طرح اعراض کیا کرتے تھے جس طرح ناپاک اور ردی امور سے اعراض کیا جاتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ نَبَّاَ نَا اللّٰهُ مِنۡ اَخۡبَارِكُمۡ ﴾ سے اللہ تعالیٰ کے کلام کا اثبات ہوتا ہے اور اسی آیت کریمہ میں اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ﴾ میں اللہ تعالیٰ کے افعال اختیاری کا اثبات بھی ہوتا ہے جو اس کی مشیت اور قدرت سے واقع ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ان کے عمل کو اس کے واقع ہونے کے بعد دیکھے گا۔ ان آیات کریمہ میں نیکو کاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا اور فاسقین کے ساتھ ناراضی اور غصے کا اثبات ہوتا ہے۔
9:97ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرٗا وَنِفَاقٗا وَأَجۡدَرُ أَلَّا يَعۡلَمُواْ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔
[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔
[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ‘‘ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَيَتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ﴾ ’’اور رسول کی دعائیں لینے میں ‘‘ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لیے رسولﷺ کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرۡبَةٌ لَّهُمۡ﴾ ’’سنو وہ بے شک ان کے لیے (موجب) قربت ہے۔‘‘ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے ﴿ سَيُدۡخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ﴾ ’’اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾’’بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے، اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لیے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انھیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انھیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔(۱)اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کر دیا اور اوامر و منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔(۲)کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔(۳)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص، اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس درشتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہیں ۔(۴) علم نافع، جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے، دین کے اصول و فروع کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں ، مثلاً:حدود ایمان، حدود اسلام، حدود احسان، تقویٰ، فلاح، اطاعت، نیکی، صلہ رحمی، بھلائی، کفر، نفاق، فسق و فجور، نافرمانی، زنا، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہو سکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہو سکتا ہے۔(۵) بندۂ مومن کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔
9:98وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغۡرَمٗا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ ٱلدَّوَآئِرَۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ
بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔
[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔
[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ‘‘ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَيَتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ﴾ ’’اور رسول کی دعائیں لینے میں ‘‘ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لیے رسولﷺ کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرۡبَةٌ لَّهُمۡ﴾ ’’سنو وہ بے شک ان کے لیے (موجب) قربت ہے۔‘‘ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے ﴿ سَيُدۡخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ﴾ ’’اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾’’بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے، اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لیے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انھیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انھیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔(۱)اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کر دیا اور اوامر و منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔(۲)کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔(۳)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص، اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس درشتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہیں ۔(۴) علم نافع، جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے، دین کے اصول و فروع کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں ، مثلاً:حدود ایمان، حدود اسلام، حدود احسان، تقویٰ، فلاح، اطاعت، نیکی، صلہ رحمی، بھلائی، کفر، نفاق، فسق و فجور، نافرمانی، زنا، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہو سکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہو سکتا ہے۔(۵) بندۂ مومن کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔
9:99وَمِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَٰتِ ٱلرَّسُولِۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرۡبَةٞ لَّهُمۡۚ سَيُدۡخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
بدوی(دیہاتی) زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ ان احکام کو جو نازل کیے اللہ نے اپنے رسول پراور اللہ خوب جاننے والا ، خوب حکمت والاہے(97) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو خیال کرتے ہیں اس کو ، جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں ) تاوان اور انتظار کرتے ہیں تم پر زمانے کی گردشوں کا، انھیں پر ہے گردش بری اور اللہ خوب سنتا جانتا ہے(98) اور کچھ بدوی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کےاورخیال کرتے ہیں اس کو جو خرچ کرتے ہیں ( دین کے لیے) قربت کاذریعہ اللہ کے ہاں اور( ذریعہ) دعائیں لینے کا رسول کی، آگاہ رہو! یقینا یہ (خرچ کرنا) قربت کاذریعہ ہے ان کے لیے ، عنقریب داخل کرے گا ان کو اللہ اپنی رحمت میں ، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(99)
[97] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَلۡاَعۡرَابُ ﴾ ’’بدوی‘‘ اس سے مراد صحرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں ﴿ اَشَدُّ كُفۡرًا وَّنِفَاقًا ﴾’’زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں ۔‘‘ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کا مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں ۔(۱) بدوی لوگ شریعت، اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں ۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں ﴿ وَّاَجۡدَرُ اَلَّا يَعۡلَمُوۡا حُدُوۡدَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ﴾ ’’اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، ان سے واقف نہ ہوں ۔‘‘ یعنی جو احکام شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ، مثلاً: اصول ایمان اور اوامر و نواہی وغیرہ... ان سے واقف نہ ہوں ۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدود سے واقف ہوں جو اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل فرمائی ہیں اور اس علم کے سبب سے ان میں خوبصورت تصورات اور نیکی کے ارادے جنم لیتے ہیں جن کے بارے میں یہ شہری لوگ جانتے ہیں ، بدوی ان کا علم نہیں رکھتے۔ (۲)شہریوں میں لطافت طبع پائی جاتی ہے اور ان میں داعی حق کی اطاعت کا جذبہ موجود ہوتا ہے جو بدویوں میں نہیں ہوتا۔(۳) شہری بدویوں کی نسبت اہل ایمان کے ساتھ زیادہ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ زیادہ اختلاط رکھتے ہیں ۔ بنا بریں وہ بدویوں کی نسبت بھلائی کے زیادہ اہل ہوتے ہیں ۔ ہر چند کہ کفار اور منافقین شہر اور دیہات دونوں جگہ پائے جاتے ہیں مگر دیہات میں شہر کی نسبت کفر و نفاق زیادہ شدید ہوتا ہے۔
[98](۴) بدوی مال و متاع کے زیادہ حریص ہوتے ہیں اور مال کے بارے میں ان میں زیادہ بخل پایا جاتا ہے۔بدویوں ہی میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ﴿ مَنۡ يَّؔتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ ﴾ ’’جو سمجھتے ہیں اس کو جسے وہ خرچ کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زکاۃ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کو ﴿ مَغۡرَمًا ﴾ ’’تاوان‘‘ یعنی خسارہ اور نقصان اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اخروی ثواب نہیں چاہتے اور بہت ناگواری سے زکاۃ و صدقات ادا کرتے ہیں ۔ ﴿ وَّيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىِٕرَ﴾ ’’اور انتظار کرتے ہیں وہ تم پر زمانے کی گردشوں کا‘‘ یعنی اہل ایمان کے ساتھ اپنے بغض اور عداوت کی بنا پر وہ تمھارے بارے میں گردش ایام اور مصائب زمانہ کے منتظر ہیں مگر یہ گردش ایام الٹا انھی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ﴿ عَلَيۡهِمۡ دَآىِٕرَةُ السَّوۡءِ ﴾ ’’یہ بری مصیبت انھی پر واقع ہوگی۔‘‘ رہے اہل ایمان تو ان کے لیے ان کے دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی اور ان کا انجام اچھا ہے ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ علم رکھنے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ وہ بندوں کی نیتوں کو خوب جانتا ہے اور بندوں سے جو اعمال اخلاص کے ساتھ اور اخلاص کے بغیر صادر ہوتے ہیں وہ ان سے بھی آگاہ ہے۔
[99] تمام اعراب قابل مذمت نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں ‘‘ بنا بریں وہ کفر و نفاق سے بچے ہوئے ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَيَتَّؔخِذُ مَا يُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے نزدیک ہونے میں شمار کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ اپنے صدقے پر ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے قرب کے قصد سے صدقہ دیتے ہیں ۔ ﴿ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ﴾ ’’اور رسول کی دعائیں لینے میں ‘‘ اور وہ اس صدقہ کو اپنے لیے رسولﷺ کی دعاؤں اور برکت کا وسیلہ بناتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی دعاؤں کے فائدہ مند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرۡبَةٌ لَّهُمۡ﴾ ’’سنو وہ بے شک ان کے لیے (موجب) قربت ہے۔‘‘ یعنی یہ صدقات اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہیں ۔ صدقات سے ان کا مال بڑھتا ہے اور اس میں برکت نازل ہوتی ہے ﴿ سَيُدۡخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيۡ رَحۡمَتِهٖ﴾ ’’اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔‘‘ وہ ان کو اپنے جملہ نیک بندوں میں شامل کرے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾’’بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ جو کوئی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنی رحمت کو اپنے تمام بندوں پر عام کرتا ہے، اس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے مومن بندوں کو ایسی رحمت کے لیے مخصوص کرتا ہے جس کے تحت وہ ان کو نیکیوں کی توفیق عطا کرتا ہے اور انھیں اپنے احکام کی خلاف ورزی سے محفوظ رکھتا ہے اور انھیں مختلف انواع کے ثواب عطا کرتا ہے۔(۱)اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ بدوی لوگ بھی شہروں میں رہنے والے لوگوں کی مانند ہیں ان میں قابل ستائش لوگ بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بدویوں کی محض اس بنا پر مذمت نہیں فرمائی کہ وہ صحراؤں میں رہنے والے ہیں بلکہ ان کی مذمت اس سبب کی بنا پر کی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کر دیا اور اوامر و منہیات کی عدم تعمیل کی ان سے زیادہ توقع ہوتی ہے۔(۲)کفر اور نفاق کم یا زیادہ اور حسب احوال سخت یا نرم ہوتا رہتا ہے۔(۳)یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ علم کو فضیلت حاصل ہے۔ علم سے محروم شخص، اس شخص کی نسبت شر کے زیادہ قریب ہے جو علم رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اعراب کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر بھی کیا ہے جو اس درشتی کا موجب ہے۔ ان سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان حدود سے ناواقف ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کی ہیں ۔(۴) علم نافع، جو سب سے زیادہ نفع مند علم ہے، دین کے اصول و فروع کی حدود کی معرفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی ہیں ، مثلاً:حدود ایمان، حدود اسلام، حدود احسان، تقویٰ، فلاح، اطاعت، نیکی، صلہ رحمی، بھلائی، کفر، نفاق، فسق و فجور، نافرمانی، زنا، شراب نوشی اور سود خوری وغیرہ کی حدود۔ ان حدود کی معرفت کے بعد ہی عارف ان حدود پر عمل پیرا ہو سکتا ہے جن پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا حرام ہونے کی صورت میں ترک کرنے پر قادر ہو سکتا ہے۔(۵) بندۂ مومن کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ ان حقوق کو ادا کرے جو اس کے ذمے عائد کیے گئے ہیں اور ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے میں کوشاں رہے اور نقصان سے بچتا رہے۔
9:100وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلۡأَوَّلُونَ مِنَ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحۡسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي تَحۡتَهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اور سبقت کرنے والے( قبول اسلام میں ) سب سے پہلے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ لوگ جنھوں نے اتباع کیا ان کا ساتھ احسان کے، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اللہ سے اور تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک ، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(100)
[100]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے‘‘ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، ہجرت، جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ ﴿ مِنَ الۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ ’’ہجرت کرنے والوں میں سے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بے دخل کر کے نکال دیا گیا، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں ۔ ﴿ وَالۡاَنۡصَارِ ﴾ ’’اور انصار میں سے۔‘‘ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مہاجرین سے پہلے، ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ)اور ایمان میں جگہ پکڑی، جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو عطا کیا گیا ہے وہ اس کے متعلق دل میں کوئی خلش نہیں پاتے اور مہاجرین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِـاِحۡسَانٍ ﴾ ’’اور جنھوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ‘‘ جنھوں نے عقائد، اقوال اور اعمال میں ان مہاجرین و انصار کی پیروی کی، یہی وہ لوگ ہیں جو مذمت سے بچے ہوئے ہیں ، جنھیں مدح کا بلند ترین درجہ اور اللہ کی طرف سے کرامت کا افضل ترین مقام حاصل ہے۔ ﴿ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’اللہ ان سے راضی ہو گیا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کی رضا جنت کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ ﴿ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔‘‘ بہنے والی وہ نہریں جو جنت، جنت کی خوبصورت پھلواریوں اور جنت کے عمدہ باغات کو سیراب کرتی ہیں ۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾’’ہمیشہ اس میں رہیں گے ابد تک۔‘‘ یعنی وہ اس جنت سے کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہیں گے نہ اس کو بدلنا کیونکہ وہ جب بھی کسی چیز کی تمنا کریں گے اس کو حاصل کر لیں گے اور جب بھی کسی چیز کا ارادہ کریں گے اس کو موجود پائیں گے۔﴿ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘ جہاں انھیں ان کے نفس کی ہر محبوب چیز، روح کی لذت، دلوں کی نعمت اور بدن کی شہوت حاصل ہوگی اور بچنے کے قابل ہر چیز کو ان سے دور رکھا جائے گا۔
9:101وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡۖ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٖ
اور بعض ان لوگوں میں سے جو تمھارے آس پاس ہیں دیہاتیوں میں سے، منافق ہیں اوربعض اہل مدینہ میں سے بھی، اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر، نہیں جانتے آپ انھیں ، ہم جانتے ہیں انھیں ، عنقریب ہم عذاب دیں گے ان کو دو مرتبہ ، پھر لوٹائے جائیں گے وہ طرف عذاب عظیم کی(101)
[101]﴿ وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ١ۛؕ وَمِنۡ اَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور تمھارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے‘‘ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں ﴿ مَرَدُوۡا عَلَى النِّفَاقِ﴾ ’’اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر‘‘ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے ﴿ لَا تَعۡلَمُهُمۡ﴾ ’’آپ ان کو نہیں جانتے۔‘‘ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کر سکیں ۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ ﴿ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ہم ان کو جانتے ہیں ، ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔‘‘ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ’’تثنیہ‘‘ کا لفظ اپنے حقیقی باب میں استعمال ہوا ہو، تب اس سے مراد دنیا کا عذاب اور آخرت کا عذاب ہے۔ پس دنیا میں اہل ایمان کی فتح و نصرت سے ان کو جو غم و ہموم اور سخت ناگواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ دنیا کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم ان کو نہایت سخت عذاب دیں گے، ان کو دگنا عذاب دیں گے اور بار بار عذاب دیں گے۔
9:102وَءَاخَرُونَ ٱعۡتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمۡ خَلَطُواْ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
وہ (کچھ) دوسرے وہ ہیں جنھوں نے اعتراف کیا اپنے گناہوں کا، ملایا انھوں نے ایک عمل اچھا اوردوسرا (عمل) برا، امید ہے کہ اللہ توجہ فرمائے گا ان پر، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے(102) آپ لیجیے! ان کے مالوں میں سے صدقہ(تاکہ) پاک کریں آپ انھیں اور تزکیہ کریں ان کا اس کے ذریعے سے اور دعا فرمائیں ان کے حق میں ، بلاشبہ آپ کی دعا (ذریعۂ) تسکین ہے ان کے لیےاور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے(103)
[102]﴿وَاٰخَرُوۡنَ ﴾ ’’اور دوسرے لوگ ہیں ‘‘ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ بلکہ تمام بلاد اسلامیہ کے لوگ ﴿اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔‘‘ ان پر نادم ہوئے، پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ﴿خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَيِّئًا﴾ ’’ملایا انھوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔‘‘ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لیے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بد اعمال کے ساتھ خلط ملط کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں ﴿عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ﴾’’ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کر لے۔‘‘اللہ تعالیٰ دو طرح سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔۱۔ اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔۲۔ پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے، کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا١ۚ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا﴾(فاطر:35؍41) ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بے شک وہ بہت حلم والا، بخشنے والا ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے، جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں ، جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کر دیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں ، وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو وہ خوف و رجاء کے مابین ہوتا ہے۔ وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔
[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور آپ کے قائم مقام کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو اہل ایمان کی تطہیر اور ان کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً ﴾ ’’لیں ان کے مالوں سے صدقہ‘‘ اس سے مراد فرض زکاۃ ہے ﴿ تُطَهِّرُهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کو پاک کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کو گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کریں ﴿ وَتُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کا تزکیہ کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کی نشوونما کریں ، ان کے اخلاق حسنہ، اعمال صالحہ اور ان کے دنیاوی اور دینی ثواب میں اضافہ کریں اور ان کے مالوں کو بڑھائیں ۔ ﴿ وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے حق میں دعا کیجیے‘‘ تمام مومنین کے لیے عام طور پر اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے مال کی زکاۃ آپ کی خدمت میں پیش کریں ﴿ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمۡ﴾ ’’آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔‘‘ یعنی آپ کی دعا ان کے لیے اطمینان قلب اور خوشی کا باعث ہے ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا‘‘ یعنی اللہ آپ کی دعا کو قبول کرنے کے لیے سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے، وہ ہر شخص کو اس کے عمل اور اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔نبی اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو صدقات کا حکم دیتے تھے اور صدقات کی وصولی کے لیے اپنے عمال بھیجا کرتے تھے، جب کوئی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے اور اس کے لیے برکت کی دعا فرماتے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اموال میں زکاۃ واجب ہے، جب یہ اموال تجارت کی غرض سے ہوں تو اس کا وجوب صاف ظاہر ہے کیونکہ مال تجارت نمو کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے مزید مال کمایا جاتا ہے، لہٰذا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زکاۃ فرض کی ہے اسے ادا کر کے فقرا سے ہمدردی کی جائے۔ مال تجارت کے علاوہ دیگر مال، اگر نمو اور اضافے کا حامل ہو، جیسے غلہ جات، پھل، مویشی، مویشیوں کا دودھ اور ان کی نسل وغیرہ تو اس میں زکاۃ واجب ہے۔ اگر مال نمو کے قابل نہ ہو تو اس میں زکاۃ واجب نہیں کیونکہ جب یہ مال خالص خوراک اور گزارے کے لیے ہے تو یہ ایسا مال نہیں ہے جسے انسان عادۃً متمول ہونے کے لیے رکھتا ہے جس سے مالی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ اس سے مالی فوائد کی بجائے صرف گزارہ کیا جاتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان اپنے مال کی زکاۃ ادا کیے بغیر ظاہری اور باطنی طور پر پاک نہیں ہو سکتا۔ زکاۃ کی ادائیگی کے سوا کوئی چیز اس کا کفارہ نہیں بن سکتی کیونکہ زکاۃ تطہیر اور پاکیزگی ہے جو زکاۃ کی ادائیگی پر موقوف ہے۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یا اس کے نائب کا زکاۃ ادا کرنے والے کے لیے برکت کی دعا کرنا مستحب ہے اور مناسب یہ ہے کہ امام بآواز بلند دعا کرے تاکہ اس سے زکاۃ ادا کرنے والے کو سکون قلب حاصل ہو۔اس آیت کریمہ سے یہ معنی بھی نکلتا ہے کہ مومن کے ساتھ نرم گفتگو اور اس کے لیے دعا وغیرہ اور ایسی باتوں کے ذریعے سے اس کو خوش رکھا جائے جن میں اس کے لیے طمانیت اور سکون قلب ہو۔
9:103خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَةٗ تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
وہ (کچھ) دوسرے وہ ہیں جنھوں نے اعتراف کیا اپنے گناہوں کا، ملایا انھوں نے ایک عمل اچھا اوردوسرا (عمل) برا، امید ہے کہ اللہ توجہ فرمائے گا ان پر، یقینا اللہ بہت بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے(102) آپ لیجیے! ان کے مالوں میں سے صدقہ(تاکہ) پاک کریں آپ انھیں اور تزکیہ کریں ان کا اس کے ذریعے سے اور دعا فرمائیں ان کے حق میں ، بلاشبہ آپ کی دعا (ذریعۂ) تسکین ہے ان کے لیےاور اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے(103)
[102]﴿وَاٰخَرُوۡنَ ﴾ ’’اور دوسرے لوگ ہیں ‘‘ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ بلکہ تمام بلاد اسلامیہ کے لوگ ﴿اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِهِمۡ﴾ ’’انھوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔‘‘ ان پر نادم ہوئے، پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ ﴿خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَيِّئًا﴾ ’’ملایا انھوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔‘‘ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہو سکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لیے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے نیک اعمال کو بد اعمال کے ساتھ خلط ملط کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ تو پس یہی وہ لوگ ہیں ﴿عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ﴾’’ممکن ہے اللہ ان کی توبہ قبول کر لے۔‘‘اللہ تعالیٰ دو طرح سے اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔۱۔ اپنے بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔۲۔ پھر بندے کے توبہ کرنے کے بعد اس توبہ کو قبول کرتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌؔ ﴾ ’’بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت اس کا وصف ہے، کوئی مخلوق اس کی مغفرت اور رحمت سے باہر نہیں بلکہ اس کی مغفرت اور رحمت کے بغیر تمام عالم علوی اور عالم سفلی باقی نہیں رہ سکتے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں پکڑ لے تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہیں بچے گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا١ۚ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا﴾(فاطر:35؍41) ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں ، اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کو تھام سکے بے شک وہ بہت حلم والا، بخشنے والا ہے۔‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے کہ اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے، جن کی عمریں برے اعمال میں صرف ہوتی ہیں ، جب وہ اپنی موت سے تھوڑا سا پہلے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے حضور توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر کے ان کی برائیوں سے درگزر کر دیتا ہے۔ پس یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس بندے کی نیکیاں اور گناہ ملے جلے ہوں ، وہ اپنے گناہوں کا معترف اور ان پر نادم ہو اور اس نے خالص توبہ کی ہو وہ خوف و رجاء کے مابین ہوتا ہے۔ وہ سلامتی کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور وہ بندہ جس کی نیکیاں اور گناہ خلط ملط ہوں مگر وہ اپنے گناہوں کا معترف ہو نہ ان پر نادم ہو بلکہ وہ ان گناہوں کے ارتکاب پر مصر ہو تو اس کے بارے میں سخت خوف ہے۔
[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور آپ کے قائم مقام کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو اہل ایمان کی تطہیر اور ان کے ایمان کی تکمیل کرتے ہیں ، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً ﴾ ’’لیں ان کے مالوں سے صدقہ‘‘ اس سے مراد فرض زکاۃ ہے ﴿ تُطَهِّرُهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کو پاک کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کو گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاک کریں ﴿ وَتُزَؔكِّيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کا تزکیہ کریں ۔‘‘ یعنی آپ ان کی نشوونما کریں ، ان کے اخلاق حسنہ، اعمال صالحہ اور ان کے دنیاوی اور دینی ثواب میں اضافہ کریں اور ان کے مالوں کو بڑھائیں ۔ ﴿ وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے حق میں دعا کیجیے‘‘ تمام مومنین کے لیے عام طور پر اور خاص طور پر اس وقت جب وہ اپنے مال کی زکاۃ آپ کی خدمت میں پیش کریں ﴿ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمۡ﴾ ’’آپ کی دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔‘‘ یعنی آپ کی دعا ان کے لیے اطمینان قلب اور خوشی کا باعث ہے ﴿وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’اور اللہ سننے والا‘‘ یعنی اللہ آپ کی دعا کو قبول کرنے کے لیے سنتا ہے ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کے تمام احوال اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے، وہ ہر شخص کو اس کے عمل اور اس کی نیت کے مطابق جزا دے گا۔نبی اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان کو صدقات کا حکم دیتے تھے اور صدقات کی وصولی کے لیے اپنے عمال بھیجا کرتے تھے، جب کوئی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے قبول فرما لیتے اور اس کے لیے برکت کی دعا فرماتے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اموال میں زکاۃ واجب ہے، جب یہ اموال تجارت کی غرض سے ہوں تو اس کا وجوب صاف ظاہر ہے کیونکہ مال تجارت نمو کا حامل ہوتا ہے اور اس کے ذریعے سے مزید مال کمایا جاتا ہے، لہٰذا عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زکاۃ فرض کی ہے اسے ادا کر کے فقرا سے ہمدردی کی جائے۔ مال تجارت کے علاوہ دیگر مال، اگر نمو اور اضافے کا حامل ہو، جیسے غلہ جات، پھل، مویشی، مویشیوں کا دودھ اور ان کی نسل وغیرہ تو اس میں زکاۃ واجب ہے۔ اگر مال نمو کے قابل نہ ہو تو اس میں زکاۃ واجب نہیں کیونکہ جب یہ مال خالص خوراک اور گزارے کے لیے ہے تو یہ ایسا مال نہیں ہے جسے انسان عادۃً متمول ہونے کے لیے رکھتا ہے جس سے مالی مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ اس سے مالی فوائد کی بجائے صرف گزارہ کیا جاتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان اپنے مال کی زکاۃ ادا کیے بغیر ظاہری اور باطنی طور پر پاک نہیں ہو سکتا۔ زکاۃ کی ادائیگی کے سوا کوئی چیز اس کا کفارہ نہیں بن سکتی کیونکہ زکاۃ تطہیر اور پاکیزگی ہے جو زکاۃ کی ادائیگی پر موقوف ہے۔اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ امام یا اس کے نائب کا زکاۃ ادا کرنے والے کے لیے برکت کی دعا کرنا مستحب ہے اور مناسب یہ ہے کہ امام بآواز بلند دعا کرے تاکہ اس سے زکاۃ ادا کرنے والے کو سکون قلب حاصل ہو۔اس آیت کریمہ سے یہ معنی بھی نکلتا ہے کہ مومن کے ساتھ نرم گفتگو اور اس کے لیے دعا وغیرہ اور ایسی باتوں کے ذریعے سے اس کو خوش رکھا جائے جن میں اس کے لیے طمانیت اور سکون قلب ہو۔
9:104أَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَأۡخُذُ ٱلصَّدَقَٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
کیا نہیں جانا انھوں نے اس بات کو کہ یقینا اللہ ہی قبول فرماتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور لیتا ہے صدقات اور یہ کہ بلاشبہ اللہ ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا؟(104)
[104] کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کے فضل و کرم کے فیضان عام کو نہیں جانتے؟ ﴿ يَقۡبَلُ التَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهٖ ﴾ ’’اللہ ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ توبہ کرنے والے بندوں کی، خواہ یہ توبہ کسی بھی گناہ سے کیوں نہ ہو بلکہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ ﴿وَيَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ ﴾’’اور صدقات لیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے بندوں کے صدقات قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور ان کے صدقات کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح کوئی شخص اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ کہ صدقہ میں دیا گیا کھجور کا ایک دانہ بڑے پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے اور اس صدقہ کا کیا حال ہوگا جو کھجور کے دانے سے بہت بڑا اور تعداد میں بہت زیادہ ہو۔﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ ﴾ ’’اور بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ توبہ کرنے والوں کی بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی بھی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے خواہ وہ بار بار گناہ کا ارتکاب کیوں نہ کرتا ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے سے اس وقت تک تنگ نہیں آتا جب تک کہ بندے توبہ کرنے سے تنگ نہ آجائیں اور اس کے دروازے سے بھاگ کر اس کے دشمن کو دوست نہ بنا لیں ۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ ’’بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ جس کی بے پایاں رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے لکھ دیا ہے جو زکاۃ دیتے ہیں ، اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کرتے ہیں ۔
9:105وَقُلِ ٱعۡمَلُواْ فَسَيَرَى ٱللَّهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُولُهُۥ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
اور کہہ دیجیے!عمل کرو تم، پس عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کواور اس کا رسول اور مومن بھی اور عنقریب لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف جو جاننے والا چھپی اورکھلی باتوں کو ، پھر خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ ان کے جو تھے تم عمل کرتے(105)
[105] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَقُلِ ﴾ ’’اور کہہ دیجیے‘‘ یعنی ان منافقین سے کہہ دیجیے! ﴿ اعۡمَلُوۡا﴾ ’’عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم جو اعمال بجا لانا چاہتے ہو بجا لاؤ، اپنے باطل پر جمے رہو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہے گا۔ ﴿ فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھ لے گا اللہ تمھارے کام کو اور اس کا رسول اور مومن‘‘ یعنی تمھارا عمل ضرور ظاہر ہو کر رہے گا ﴿ وَسَتُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جلد تم لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے، پس وہ تم کو ان عملوں کی خبر دے گا جو تم کرتے تھے۔‘‘ وہ اچھے ہوں گے یا برے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے جو اپنے باطل، سرکشی، گمراہی اور نافرمانی پر مصر ہے۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ تم جب بھی کوئی اچھا یا برا عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، وہ اس عمل کے بارے میں اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کو مطلع کر دے گا، خواہ وہ چھپے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں ۔
9:106وَءَاخَرُونَ مُرۡجَوۡنَ لِأَمۡرِ ٱللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيۡهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ
اور کچھ دوسرے لوگ بھی ہیں جو چھوڑ دیے گئے اللہ کے حکم کے( انتظار) میں یا تو وہ سزا دے گا انھیں یا متوجہ ہو گا ان پراور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(106)
[106]﴿وَاٰخَرُوۡنَ﴾ ’’اور کچھ دوسرے لوگ‘‘ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے والے کچھ دوسرے لوگ ﴿مُرۡجَوۡنَ لِاَمۡرِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کاکام اللہ کے حکم پر موقوف ہے۔‘‘ یعنی جن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موخر ہے ﴿ اِمَّا يُعَذِّبُهُمۡ وَاِمَّا يَتُوۡبُ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’چاہے ان کو عذاب دے، چاہے ان کی توبہ قبول کر لے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سخت تخویف ہے اور ان کو توبہ کرنے اور اپنے اس عمل پر نادم ہونے کی ترغیب دی گئی ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور ان کو توبہ کی توفیق نہ دے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
9:107وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مَسۡجِدٗا ضِرَارٗا وَكُفۡرٗا وَتَفۡرِيقَۢا بَيۡنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَإِرۡصَادٗا لِّمَنۡ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبۡلُۚ وَلَيَحۡلِفُنَّ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۖ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ
اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ایک مسجد ضرر پہنچانے اور کفر پھیلانے اور تفرقہ ڈالنے کے لیے درمیان مومنوں کےاور انتظار کرنے کے لیے اس شخص کا جس نے لڑائی کی اللہ اور اس کے رسول سے، پہلے اس سےاور ضرور قسمیں کھائیں گے وہ کہ نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر اچھائی کااور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (107) نہ کھڑے ہوں آپ اس مسجد (ضرار) میں کبھی بھی، البتہ وہ مسجد کہ بنیاد رکھی گئی ہے (اس کی) تقویٰ پر پہلے ہی دن سے، زیادہ حق دار ہے اس کی کہ کھڑے ہوں آپ اس میں ، اس میں تو ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں اس بات کہ کہ پاک ہوں وہ اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو(108) کیاپس وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ اور (اس کی) رضا مندی پر، (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص کہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اوپر کنارے کھوکھلے گرنے والے کے ، پس وہ (گڑھا) لے ہی گرا اس (شخص) کو آتش جہنم میں ؟ اور اللہ ہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو (109) ہمیشہ رہے گی عمارت ان کی، وہ جو انھوں نے بنائی تھی، شک ڈالنے والی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پاش پاش ہو جائیں دل ان کےاور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (110)
[107] اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لیے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے‘‘ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے ﴿ وَّكُفۡرًا﴾ ’’اور کفر کے لیے‘‘ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ ﴿ وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے‘‘ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہو جائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگیں ﴿ وَاِرۡصَادًا﴾ ’’اور گھات لگانے کے لیے‘‘ یعنی تیار کرنے کے لیے ﴿ لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لیے، جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی، مثلاً:ابوعامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں ۔ ابوعامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کر دیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا تاکہ رسول اللہﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا، چنانچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا... مگر وہ لعین راستے ہی میں مر گیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا، منافقین نے اس کی سازشوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی، چنانچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لیے کسی کو بھیجا، چنانچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا‘‘ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے ﴿ اِلَّا الۡحُسۡنٰى ﴾ ’’مگر بھلائی ہی کا‘‘ یعنی کمزور، معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَؔكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔
[108]﴿ لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس مسجد میں ، جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے، کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بے نیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں ۔ ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ ﴾ ’’البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی‘‘ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا... اس سے مراد مسجد قبا ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اس کے ذکر کی اقامت اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔یہ فضیلت والی مسجد ﴿ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ﴾ ’’زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں ۔‘‘ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے، اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَؔ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا﴾ ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں ‘‘ یعنی گناہوں ، میل کچیل، نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جدوجہد کرتا ہے اس لیے یہ لابدی ہے کہ اہل قبا گناہوں ، میل کچیل اور حدث سے پاک رہنے کے بہت حریص تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، جو نماز قائم کرنے والے، رسول اللہﷺ کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے، اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کو دیگر مساجد پر فضیلت بخشی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى تَقۡوٰى مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر‘‘ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے ﴿ وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اس کی رضامندی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے ﴿ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ ﴾ ’’زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے‘‘ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر، جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ فَانۡهَارَ بِهٖ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر وہ اس کو لے کر گر پڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ اس کے اندر ان کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں ۔
[110]﴿ لَا يَزَالُ بُنۡيَانُهُمُ الَّذِيۡ بَنَوۡا رِيۡبَةً فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انھوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ‘‘ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ ’’مگر یہ کہ ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے‘‘ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں ، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انھوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں ۔ ﴿ حَكِيۡمٌ ﴾ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ فللہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں :(۱)کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قریب موجود ہو، حرام ہے، نیز یہ کہ مسجد ضرار کو، جس کو تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو... منہدم کرنا واجب ہے۔(۲)کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے تب وہی کام ممنوع ہو جاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔(۳)ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے کیونکہ ان کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔(۴)اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔(۵) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا: ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ ﴾بنا بریں مسجد قبا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد کو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔(۶)آیات کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں ۔(الف)ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو... اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے... یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں ۔(ب)چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے)اس لیے مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لیے چن لیا... وہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔(ج)وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسولﷺ پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔(د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔
9:108لَا تَقُمۡ فِيهِ أَبَدٗاۚ لَّمَسۡجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقۡوَىٰ مِنۡ أَوَّلِ يَوۡمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِۚ فِيهِ رِجَالٞ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُواْۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلۡمُطَّهِّرِينَ
اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ایک مسجد ضرر پہنچانے اور کفر پھیلانے اور تفرقہ ڈالنے کے لیے درمیان مومنوں کےاور انتظار کرنے کے لیے اس شخص کا جس نے لڑائی کی اللہ اور اس کے رسول سے، پہلے اس سےاور ضرور قسمیں کھائیں گے وہ کہ نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر اچھائی کااور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (107) نہ کھڑے ہوں آپ اس مسجد (ضرار) میں کبھی بھی، البتہ وہ مسجد کہ بنیاد رکھی گئی ہے (اس کی) تقویٰ پر پہلے ہی دن سے، زیادہ حق دار ہے اس کی کہ کھڑے ہوں آپ اس میں ، اس میں تو ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں اس بات کہ کہ پاک ہوں وہ اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو(108) کیاپس وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ اور (اس کی) رضا مندی پر، (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص کہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اوپر کنارے کھوکھلے گرنے والے کے ، پس وہ (گڑھا) لے ہی گرا اس (شخص) کو آتش جہنم میں ؟ اور اللہ ہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو (109) ہمیشہ رہے گی عمارت ان کی، وہ جو انھوں نے بنائی تھی، شک ڈالنے والی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پاش پاش ہو جائیں دل ان کےاور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (110)
[107] اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لیے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے‘‘ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے ﴿ وَّكُفۡرًا﴾ ’’اور کفر کے لیے‘‘ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ ﴿ وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے‘‘ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہو جائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگیں ﴿ وَاِرۡصَادًا﴾ ’’اور گھات لگانے کے لیے‘‘ یعنی تیار کرنے کے لیے ﴿ لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لیے، جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی، مثلاً:ابوعامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں ۔ ابوعامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کر دیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا تاکہ رسول اللہﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا، چنانچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا... مگر وہ لعین راستے ہی میں مر گیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا، منافقین نے اس کی سازشوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی، چنانچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لیے کسی کو بھیجا، چنانچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا‘‘ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے ﴿ اِلَّا الۡحُسۡنٰى ﴾ ’’مگر بھلائی ہی کا‘‘ یعنی کمزور، معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَؔكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔
[108]﴿ لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس مسجد میں ، جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے، کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بے نیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں ۔ ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ ﴾ ’’البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی‘‘ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا... اس سے مراد مسجد قبا ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اس کے ذکر کی اقامت اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔یہ فضیلت والی مسجد ﴿ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ﴾ ’’زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں ۔‘‘ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے، اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَؔ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا﴾ ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں ‘‘ یعنی گناہوں ، میل کچیل، نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جدوجہد کرتا ہے اس لیے یہ لابدی ہے کہ اہل قبا گناہوں ، میل کچیل اور حدث سے پاک رہنے کے بہت حریص تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، جو نماز قائم کرنے والے، رسول اللہﷺ کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے، اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کو دیگر مساجد پر فضیلت بخشی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى تَقۡوٰى مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر‘‘ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے ﴿ وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اس کی رضامندی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے ﴿ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ ﴾ ’’زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے‘‘ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر، جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ فَانۡهَارَ بِهٖ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر وہ اس کو لے کر گر پڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ اس کے اندر ان کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں ۔
[110]﴿ لَا يَزَالُ بُنۡيَانُهُمُ الَّذِيۡ بَنَوۡا رِيۡبَةً فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انھوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ‘‘ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ ’’مگر یہ کہ ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے‘‘ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں ، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انھوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں ۔ ﴿ حَكِيۡمٌ ﴾ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ فللہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں :(۱)کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قریب موجود ہو، حرام ہے، نیز یہ کہ مسجد ضرار کو، جس کو تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو... منہدم کرنا واجب ہے۔(۲)کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے تب وہی کام ممنوع ہو جاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔(۳)ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے کیونکہ ان کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔(۴)اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔(۵) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا: ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ ﴾بنا بریں مسجد قبا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد کو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔(۶)آیات کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں ۔(الف)ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو... اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے... یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں ۔(ب)چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے)اس لیے مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لیے چن لیا... وہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔(ج)وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسولﷺ پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔(د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔
9:109أَفَمَنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقۡوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٍ خَيۡرٌ أَم مَّنۡ أَسَّسَ بُنۡيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٖ فَٱنۡهَارَ بِهِۦ فِي نَارِ جَهَنَّمَۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ایک مسجد ضرر پہنچانے اور کفر پھیلانے اور تفرقہ ڈالنے کے لیے درمیان مومنوں کےاور انتظار کرنے کے لیے اس شخص کا جس نے لڑائی کی اللہ اور اس کے رسول سے، پہلے اس سےاور ضرور قسمیں کھائیں گے وہ کہ نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر اچھائی کااور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (107) نہ کھڑے ہوں آپ اس مسجد (ضرار) میں کبھی بھی، البتہ وہ مسجد کہ بنیاد رکھی گئی ہے (اس کی) تقویٰ پر پہلے ہی دن سے، زیادہ حق دار ہے اس کی کہ کھڑے ہوں آپ اس میں ، اس میں تو ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں اس بات کہ کہ پاک ہوں وہ اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو(108) کیاپس وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ اور (اس کی) رضا مندی پر، (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص کہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اوپر کنارے کھوکھلے گرنے والے کے ، پس وہ (گڑھا) لے ہی گرا اس (شخص) کو آتش جہنم میں ؟ اور اللہ ہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو (109) ہمیشہ رہے گی عمارت ان کی، وہ جو انھوں نے بنائی تھی، شک ڈالنے والی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پاش پاش ہو جائیں دل ان کےاور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (110)
[107] اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لیے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے‘‘ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے ﴿ وَّكُفۡرًا﴾ ’’اور کفر کے لیے‘‘ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ ﴿ وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے‘‘ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہو جائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگیں ﴿ وَاِرۡصَادًا﴾ ’’اور گھات لگانے کے لیے‘‘ یعنی تیار کرنے کے لیے ﴿ لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لیے، جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی، مثلاً:ابوعامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں ۔ ابوعامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کر دیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا تاکہ رسول اللہﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا، چنانچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا... مگر وہ لعین راستے ہی میں مر گیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا، منافقین نے اس کی سازشوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی، چنانچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لیے کسی کو بھیجا، چنانچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا‘‘ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے ﴿ اِلَّا الۡحُسۡنٰى ﴾ ’’مگر بھلائی ہی کا‘‘ یعنی کمزور، معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَؔكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔
[108]﴿ لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس مسجد میں ، جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے، کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بے نیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں ۔ ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ ﴾ ’’البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی‘‘ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا... اس سے مراد مسجد قبا ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اس کے ذکر کی اقامت اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔یہ فضیلت والی مسجد ﴿ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ﴾ ’’زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں ۔‘‘ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے، اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَؔ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا﴾ ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں ‘‘ یعنی گناہوں ، میل کچیل، نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جدوجہد کرتا ہے اس لیے یہ لابدی ہے کہ اہل قبا گناہوں ، میل کچیل اور حدث سے پاک رہنے کے بہت حریص تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، جو نماز قائم کرنے والے، رسول اللہﷺ کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے، اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کو دیگر مساجد پر فضیلت بخشی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى تَقۡوٰى مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر‘‘ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے ﴿ وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اس کی رضامندی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے ﴿ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ ﴾ ’’زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے‘‘ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر، جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ فَانۡهَارَ بِهٖ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر وہ اس کو لے کر گر پڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ اس کے اندر ان کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں ۔
[110]﴿ لَا يَزَالُ بُنۡيَانُهُمُ الَّذِيۡ بَنَوۡا رِيۡبَةً فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انھوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ‘‘ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ ’’مگر یہ کہ ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے‘‘ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں ، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انھوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں ۔ ﴿ حَكِيۡمٌ ﴾ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ فللہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں :(۱)کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قریب موجود ہو، حرام ہے، نیز یہ کہ مسجد ضرار کو، جس کو تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو... منہدم کرنا واجب ہے۔(۲)کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے تب وہی کام ممنوع ہو جاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔(۳)ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے کیونکہ ان کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔(۴)اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔(۵) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا: ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ ﴾بنا بریں مسجد قبا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد کو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔(۶)آیات کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں ۔(الف)ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو... اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے... یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں ۔(ب)چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے)اس لیے مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لیے چن لیا... وہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔(ج)وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسولﷺ پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔(د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔
9:110لَا يَزَالُ بُنۡيَٰنُهُمُ ٱلَّذِي بَنَوۡاْ رِيبَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ایک مسجد ضرر پہنچانے اور کفر پھیلانے اور تفرقہ ڈالنے کے لیے درمیان مومنوں کےاور انتظار کرنے کے لیے اس شخص کا جس نے لڑائی کی اللہ اور اس کے رسول سے، پہلے اس سےاور ضرور قسمیں کھائیں گے وہ کہ نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر اچھائی کااور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (107) نہ کھڑے ہوں آپ اس مسجد (ضرار) میں کبھی بھی، البتہ وہ مسجد کہ بنیاد رکھی گئی ہے (اس کی) تقویٰ پر پہلے ہی دن سے، زیادہ حق دار ہے اس کی کہ کھڑے ہوں آپ اس میں ، اس میں تو ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں اس بات کہ کہ پاک ہوں وہ اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو(108) کیاپس وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ اور (اس کی) رضا مندی پر، (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص کہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اوپر کنارے کھوکھلے گرنے والے کے ، پس وہ (گڑھا) لے ہی گرا اس (شخص) کو آتش جہنم میں ؟ اور اللہ ہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو (109) ہمیشہ رہے گی عمارت ان کی، وہ جو انھوں نے بنائی تھی، شک ڈالنے والی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پاش پاش ہو جائیں دل ان کےاور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (110)
[107] اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لیے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے‘‘ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے ﴿ وَّكُفۡرًا﴾ ’’اور کفر کے لیے‘‘ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ ﴿ وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے‘‘ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہو جائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگیں ﴿ وَاِرۡصَادًا﴾ ’’اور گھات لگانے کے لیے‘‘ یعنی تیار کرنے کے لیے ﴿ لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لیے، جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی، مثلاً:ابوعامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں ۔ ابوعامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کر دیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا تاکہ رسول اللہﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا، چنانچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا... مگر وہ لعین راستے ہی میں مر گیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا، منافقین نے اس کی سازشوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی، چنانچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لیے کسی کو بھیجا، چنانچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا‘‘ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے ﴿ اِلَّا الۡحُسۡنٰى ﴾ ’’مگر بھلائی ہی کا‘‘ یعنی کمزور، معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَؔكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔
[108]﴿ لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس مسجد میں ، جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے، کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بے نیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں ۔ ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ ﴾ ’’البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی‘‘ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا... اس سے مراد مسجد قبا ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اس کے ذکر کی اقامت اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔یہ فضیلت والی مسجد ﴿ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ﴾ ’’زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں ۔‘‘ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے، اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَؔ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا﴾ ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں ‘‘ یعنی گناہوں ، میل کچیل، نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جدوجہد کرتا ہے اس لیے یہ لابدی ہے کہ اہل قبا گناہوں ، میل کچیل اور حدث سے پاک رہنے کے بہت حریص تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، جو نماز قائم کرنے والے، رسول اللہﷺ کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے، اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کو دیگر مساجد پر فضیلت بخشی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى تَقۡوٰى مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر‘‘ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے ﴿ وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اس کی رضامندی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے ﴿ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ ﴾ ’’زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے‘‘ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر، جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ فَانۡهَارَ بِهٖ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر وہ اس کو لے کر گر پڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ اس کے اندر ان کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں ۔
[110]﴿ لَا يَزَالُ بُنۡيَانُهُمُ الَّذِيۡ بَنَوۡا رِيۡبَةً فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انھوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ‘‘ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ ’’مگر یہ کہ ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے‘‘ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں ، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انھوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں ۔ ﴿ حَكِيۡمٌ ﴾ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ فللہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں :(۱)کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قریب موجود ہو، حرام ہے، نیز یہ کہ مسجد ضرار کو، جس کو تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو... منہدم کرنا واجب ہے۔(۲)کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے تب وہی کام ممنوع ہو جاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔(۳)ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے کیونکہ ان کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔(۴)اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔(۵) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا: ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ ﴾بنا بریں مسجد قبا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد کو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔(۶)آیات کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں ۔(الف)ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو... اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے... یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں ۔(ب)چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے)اس لیے مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لیے چن لیا... وہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔(ج)وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسولﷺ پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔(د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔
9:111۞إِنَّ ٱللَّهَ ٱشۡتَرَىٰ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَنفُسَهُمۡ وَأَمۡوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلۡجَنَّةَۚ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقۡتُلُونَ وَيُقۡتَلُونَۖ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقّٗا فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ وَٱلۡقُرۡءَانِۚ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِۚ فَٱسۡتَبۡشِرُواْ بِبَيۡعِكُمُ ٱلَّذِي بَايَعۡتُم بِهِۦۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
یقینا اللہ نے خرید لیا ہے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو بدلے اس کے کہ بلاشبہ ان کے لیے جنت ہے، وہ (مومن) لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں ، پس قتل کرتے ہیں وہ اور قتل کیے جاتے ہیں ، یہ وعدہ ہے اللہ کے ذمے سچا تورات اور انجیل اور قرآن میں اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے اپنے عہد کو اللہ سے (بڑھ کر) ؟ پس خوش ہو جاؤ تم اپنے اس سودے پر وہ جو سودا کیا تم نے اللہ سے اور یہی ہے کامیابی بہت بڑی(111)
[111] اللہ تبارک و تعالیٰ سچی خبر دیتا ہے۔ ایک عظیم بیع اور ایک بہت بڑے معاوضے کا سچا وعدہ کرتا ہے اور وہ بیع یہ ہے ﴿ اشۡتَرٰى ﴾ ’’اس نے خرید لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنفس نفیس خرید لیا ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’مومنوں سے ان کے جانوں اور ان کے مالوں کو‘‘ یعنی ان کی جان اور ان کے مال کی قیمت لگا دی گئی ہے اور یہ فروخت شدہ مال تجارت ہے۔ ﴿ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَنَّةَ﴾ ’’اس کے بدلے میں ان کے لیے (وہ) جنت ہے‘‘ جس میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی انواع و اقسام کی لذتیں ، فرحتیں ، مسرتیں ، خوبصورت حوریں اور دلکش مکانات ہوں گے۔اس عقد و بیع کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر، اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد میں ، اس کے کلمہ کو سربلند کرنے اور اس کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنی جان اور مال خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ يُقَاتِلُوۡنَؔ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَؔ وَيُقۡتَلُوۡنَؔ ﴾ ’’وہ لڑتے ہیں اللہ کے راستے میں ، پس مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں ‘‘ یہ عقد و بیع بہت سی تاکیدات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی ہے ﴿ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ﴾’’وعدہ ہو چکا ہے اس کے ذمے سچا تورات میں ، انجیل میں اور قرآن میں ۔‘‘ جو ان تمام کتابوں میں سب سے افضل و اعلیٰ کتاب ہے اور یہ کتابیں سب سے کامل کتابیں ہیں جو اس دنیا میں بھیجی گئیں اور ان کتابوں کو لانے والے سب سے کامل اور اولوالعزم رسول ہیں ، یہ تمام کتابیں اس سچے وعدے پر متفق ہیں ۔﴿ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا۠ ﴾ ’’اور کون ہے اللہ سے زیادہ قول کا پورا، پس خوشی کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر قائم رہنے والے مومنو! ﴿ بِبَيۡعِكُمُ الَّذِيۡ بَايَعۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’اس سودے پر جو تم نے اس سے کیا ہے‘‘ تاکہ تم اس کا عزم کر لو تاکہ تم ایک دوسرے کو خوشخبری دو اور ایک دوسرے کو جہاد کی ترغیب دو ﴿ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس سے بڑی اور جلیل القدر اور کوئی کامیابی نہیں کیونکہ یہ کامیابی ابدی سعادت، دائمی نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے، کو متضمن ہے۔اگر آپ اس معاہدۂ بیع کی قدر و منزلت کو جاننا چاہیں تو خریدار کی طرف دیکھیں کہ وہ کون ہے؟ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات گرامی ہے اور اس عوض کی طرف نظر کریں جو سب سے بڑا معاوضہ ہے اور اس معاوضے میں سب سے جلیل القدر چیز جنت ہے اور اس قیمت پر غور کریں جو اس معاوضے کے بدلے میں خرچ کی گئی ہے اور وہ ہے جان اور مال جو انسان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ہے اور اس ہستی کی طرف دیکھیں جس کے ہاتھ پر یہ معاہدۂ بیع منعقد ہوا ہے، وہ تمام رسولوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی ہے۔ یہ معاہدہ کون سی کتابوں میں رقم کیا گیا ہے... اللہ تعالیٰ کی عظیم کتابوں میں یہ معاہدہ تحریر کیا گیا ہے جو مخلوق میں سب سے افضل ہستیوں پر نازل کی گئی ہیں ۔
9:112ٱلتَّـٰٓئِبُونَ ٱلۡعَٰبِدُونَ ٱلۡحَٰمِدُونَ ٱلسَّـٰٓئِحُونَ ٱلرَّـٰكِعُونَ ٱلسَّـٰجِدُونَ ٱلۡأٓمِرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡحَٰفِظُونَ لِحُدُودِ ٱللَّهِۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
وہ (مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے،حمدکرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، حکم کرنے والے نیکی کا اور روکنے والے برائی سے اور حفاظت کرنے والے ہیں حدود اللہ کی اور خوش خبری سنا دیجیے مومنوں کو(112)
[112] گویا کہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ مومن کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخلے اور اس کی طرف سے عزت و اکرام کی خوشخبری ہے؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَلتَّآىِٕبُوۡنَ﴾ ’’توبہ کرنے والے‘‘ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت تمام گناہوں سے توبہ کا التزام کرنے والے ہیں ﴿الۡعٰبِدُوۡنَ﴾ ’’عبادت کرنے والے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے لیے عبودیت کی صفت سے متصف ہیں ، ہر وقت واجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی دائمی اطاعت کا التزام کرتے ہیں ۔ جس کی بنا پر بندہ عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ﴿الۡحٰؔمِدُوۡنَ﴾ ’’حمد کرنے والے‘‘ جو رنج و راحت، تنگ دستی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اعتراف کرتے رہتے ہیں ۔ دن رات ان نعمتوں کو یاد کر کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے اس کی مدح و ثنا میں مصروف رہتے ہیں ۔ ﴿السَّؔآىِٕحُوۡنَ۠﴾ ’’سیاحت کرنے والے‘‘ سیاحت کی تفسیر روزوں سے کی گئی ہے یا طلب علم کے لیے سفر کرنے سے کی گئی ہے اور سیاحت کی تفسیر اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت اور اس کی طرف دائمی انابت میں قلب کی سیاحت سے کی گئی ہے۔ مگر اس کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ سیاحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے حج، عمرہ، جہاد، طلب علم اور اقارب سے ملنے کے لیے سفر کرنا ہے۔ ﴿ الرّٰؔكِعُوۡنَ السّٰؔجِدُوۡنَ ﴾ ’’رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے‘‘ یعنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں جو رکوع و سجود پر مشتمل ہے۔ ﴿ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ ’’نیک بات کا حکم دینے والے ہیں ‘‘ اس میں تمام واجبات و مستحبات داخل ہیں ﴿ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’بری بات سے روکنے والے ہیں ۔‘‘ اس میں وہ تمام امور شامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے روکا ہے۔ ﴿ وَالۡحٰؔفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰهِ﴾’’اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر جو حدود نازل فرمائی ہیں ، یعنی اوامر و نواہی اور احکام میں کیا چیز داخل ہے اور کیا چیز داخل نہیں ہے، ان کا علم حاصل کر کے ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور ترکاً اور فعلاً ان کا التزام کرتے ہیں ۔﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور مومنوں کو خوش خبری سنا دیجیے‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے کس چیز کی خوشخبری ہے تاکہ یہ خوشخبری دین و دنیا اور آخرت کے ثواب کو شامل ہو جو ایمان پر مترتب ہوتا ہے۔ یہ خوشخبری ہر مومن کے لیے ہے۔ رہی اس خوشخبری کی مقدار اور اس کا وصف تو اہل ایمان کے احوال، ان کے ایمان کی قوت، ضعف اور اس کے تقاضے پر عمل کے مطابق ہوتی ہے۔
9:113مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن يَسۡتَغۡفِرُواْ لِلۡمُشۡرِكِينَ وَلَوۡ كَانُوٓاْ أُوْلِي قُرۡبَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُمۡ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
نہیں ہے لائق نبی کے اور (نہ) ان لوگوں کے جو ایمان لائے یہ کہ بخشش طلب کریں وہ( اللہ سے) مشرکوں کے لیے ، اگرچہ ہوں وہ قرابت دار ہی، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے یہ کہ بلاشبہ وہ دوزخی ہیں (113) اور نہیں تھا بخشش طلب کرنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مگر بوجہ ایک وعدے کے جو وعدہ کیا تھا ابراہیم نے اس سے، پھر جب واضح ہو گیا ابراہیم کے لیے یہ کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو بیزار ہو گیا ابراہیم اس سے، بے شک ابراہیم البتہ بہت آہ وزاری کرنے والے، بردبار تھے(114)
[113] یعنی نبیﷺ اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا۠ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠﴾ ’’کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔‘‘ ﴿ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اُولِيۡ قُرۡبٰى مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرمﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریمﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔
[114] اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا ﴿ عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم: 19؍47) ’’میں اپنے پروردگار سے آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ دعا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیمu نے اس وقت کیا تھا جب آنجنابu کو اپنے باپ کے انجام کا علم نہیں تھا۔جب ابراہیمu پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿ تَبَرَّاَ مِنۡهُ﴾ ’’تو اس سے بیزار ہوگئے۔‘‘ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ ابراہیمu بڑے نرم دل تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ﴾ ’’نہایت بردبار تھے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انھیں آپے سے باہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا: ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾(مریم: 19؍46) ’’میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ١ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ ﴾(مریم: 19؍47) ’’آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیمu کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیمu کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ﴾(الممتحنۃ: 60؍4) ’’ابراہیمu کے اس قول کے سوا جو انھوں نے باپ سے کہا تھا کہ میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
9:114وَمَا كَانَ ٱسۡتِغۡفَارُ إِبۡرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوۡعِدَةٖ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوّٞ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنۡهُۚ إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ لَأَوَّـٰهٌ حَلِيمٞ
نہیں ہے لائق نبی کے اور (نہ) ان لوگوں کے جو ایمان لائے یہ کہ بخشش طلب کریں وہ( اللہ سے) مشرکوں کے لیے ، اگرچہ ہوں وہ قرابت دار ہی، بعد اس کے کہ واضح ہو گیا ان کے لیے یہ کہ بلاشبہ وہ دوزخی ہیں (113) اور نہیں تھا بخشش طلب کرنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مگر بوجہ ایک وعدے کے جو وعدہ کیا تھا ابراہیم نے اس سے، پھر جب واضح ہو گیا ابراہیم کے لیے یہ کہ وہ دشمن ہے اللہ کا تو بیزار ہو گیا ابراہیم اس سے، بے شک ابراہیم البتہ بہت آہ وزاری کرنے والے، بردبار تھے(114)
[113] یعنی نبیﷺ اور اہل ایمان کے لائق ہے نہ ان کے لیے زیبا ہے۔ ﴿ اَنۡ يَّسۡتَغۡفِرُوۡا۠ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠﴾ ’’کہ وہ ان لوگوں کے لیے استغفار کریں جنھوں نے (کفر اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔‘‘ ﴿ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اُولِيۡ قُرۡبٰى مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمۡ اَنَّهُمۡ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اگرچہ وہ رشتے دار ہوں اس بات کے واضح ہو جانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں ‘‘ کیونکہ اس حال میں ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لیے غیر مفید ہے اس لیے یہ استغفار نبی اکرمﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق نہیں کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مر گئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہوگیا کسی شفاعت کرنے والے کی شفاعت اور ان کی بخشش کی دعا کرنے والے کی دعا ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی۔ نبی کریمﷺ اور اہل ایمان پر واجب ہے کہ اپنے رب کی رضا اور ناراضی کے بارے میں اس کی موافقت کریں جس کو اللہ تعالیٰ نے دوست بنایا ہے اس سے موالات رکھیں اور جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا دشمن قرار دیا ہے اس سے عداوت رکھیں اور جس شخص کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہو کہ وہ جہنمی ہے اس کے لیے استغفار کرنا اس کے منافی اور متناقض ہے۔
[114] اگر اللہ رحمن کے خلیل ابراہیمu نے اپنے باپ کے لیے استغفار کیا تھا ﴿ عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ﴾ تو ایک وعدے کی بنا پر تھا جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ان الفاظ میں کیا تھا ﴿ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيۡ حَفِيًّا ﴾(مریم: 19؍47) ’’میں اپنے پروردگار سے آپ کے لیے ضرور دعا کروں گا کہ وہ آپ کو بخش دے کیونکہ وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔‘‘ دعا کا یہ وعدہ حضرت ابراہیمu نے اس وقت کیا تھا جب آنجنابu کو اپنے باپ کے انجام کا علم نہیں تھا۔جب ابراہیمu پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اسے موت بھی کفر ہی پر آئے گی اور وعظ و نصیحت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا ﴿ تَبَرَّاَ مِنۡهُ﴾ ’’تو اس سے بیزار ہوگئے۔‘‘ یعنی اپنے رب کی موافقت اور اس کی اتباع میں اس سے بیزاری کا اعلان کر دیا۔ ﴿ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ ابراہیمu بڑے نرم دل تھے۔‘‘ حضرت ابراہیمu تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے اور بہت کثرت سے ذکر، دعا، استغفار کرنے والے اور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے تھے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ﴾ ’’نہایت بردبار تھے۔‘‘ یعنی وہ مخلوق الٰہی پر بہت مہربان اور اپنے حق میں ان سے صادر ہونے والی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرنے والے تھے۔ جہلاء کی جہالت انھیں آپے سے باہر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کسی مجرم کا مقابلہ جرم کے ذریعے سے نہیں کرتے تھے۔ ان کے باپ نے ان سے کہا: ﴿ لَاَرۡجُمَنَّكَ ﴾(مریم: 19؍46) ’’میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔‘‘ جواب میں آپ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ١ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيۡ ﴾(مریم: 19؍47) ’’آپ پر سلامتی ہو میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ پس تم پر واجب ہے کہ تم حضرت ابراہیمu کی پیروی اور ہر معاملے میں ملت ابراہیمu کی اتباع کرو، سوائے آپ کے اس قول کے ﴿ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ﴾(الممتحنۃ: 60؍4) ’’ابراہیمu کے اس قول کے سوا جو انھوں نے باپ سے کہا تھا کہ میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
9:115وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِلَّ قَوۡمَۢا بَعۡدَ إِذۡ هَدَىٰهُمۡ حَتَّىٰ يُبَيِّنَ لَهُم مَّا يَتَّقُونَۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
اور نہیں ہے اللہ (ایسا) کہ گمراہ کر دے کسی قوم کو بعد اس کے کہ ہدایت دی اس نے ان کو یہاں تک کہ واضح کر دے ان کے لیے وہ چیزیں کہ جن سے وہ بچیں، بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے(115) یقینا اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہ آسمانوں اور زمین کی، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مدد گار(116)
[115] یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام امور کو ان پر واضح کر دیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاضا کرتی ہے، پس وہ انھیں ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىهُمۡ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمۡ مَّا يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں ۔‘‘ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دیتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمھیں ان امور کی تعلیم دی جنھیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کر دی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔
[116]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہو سکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہےحالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ تم سے مضرتیں دور کر کے تمھاری مدد کرے۔
9:116إِنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۚ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ
اور نہیں ہے اللہ (ایسا) کہ گمراہ کر دے کسی قوم کو بعد اس کے کہ ہدایت دی اس نے ان کو یہاں تک کہ واضح کر دے ان کے لیے وہ چیزیں کہ جن سے وہ بچیں، بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے(115) یقینا اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہ آسمانوں اور زمین کی، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور نہیں ہے تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست اور نہ مدد گار(116)
[115] یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہدایت سے نوازتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کا حکم دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر اپنے احسان کی تکمیل کرتا ہے اور ان تمام امور کو ان پر واضح کر دیتا ہے جن کے وہ محتاج ہیں اور ضرورت جن کا تقاضا کرتی ہے، پس وہ انھیں ان کے دین کے امور کے بارے میں گمراہ اور جاہل نہیں چھوڑتا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کی دلیل ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت بندوں کی ان تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے جن کے وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں محتاج ہوتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ هَدٰؔىهُمۡ حَتّٰى يُبَيِّنَ لَهُمۡ مَّا يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’اللہ ایسا نہیں کہ وہ کسی قوم کو راہ راست دکھانے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان پر وہ امور واضح نہ کر دے جن سے وہ بچیں ۔‘‘ میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان پر وہ تمام امور واضح فرما دیتا ہے جن سے ان کو پرہیز کرنا چاہیے اور وہ ان پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو واضح حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دیتا ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اس کا کامل اور ہر چیز کو شامل علم ہی ہے کہ اس نے تمھیں ان امور کی تعلیم دی جنھیں تم نہ جانتے تھے اور ہر وہ چیز تم پر واضح کر دی ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔
[116]﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ؕ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ ’’بے شک اللہ ہی ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ زمین و آسمان کا مالک ہے وہ زندگی اور موت اور مختلف انواع کی تدابیر کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تدبیر کرتا ہے جب اس کی تدبیر کونی و قدری میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا تو تدبیر دینی میں، جو اس کی الوہیت سے متعلق ہے، کیوں کر خلل واقع ہو سکتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کیوں کر بیکار اور مہمل یا جاہل اور گمراہ چھوڑ سکتا ہےحالانکہ وہ اپنے بندوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں مختلف قسم کی منفعتیں عطا کرے۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ تم سے مضرتیں دور کر کے تمھاری مدد کرے۔
9:117لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِيِّ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ وَٱلۡأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ ٱلۡعُسۡرَةِ مِنۢ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٖ مِّنۡهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّهُۥ بِهِمۡ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
البتہ تحقیق توجہ فرمائی اللہ نے اوپر نبی اور مہاجرین اور انصار کے، وہ (مہاجرین و انصار) کہ جنھوں نے اتباع کیا آپ کا تنگی کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہو جائیں دل ایک فریق کے ان میں سے، پھر توجہ فرمائی اللہ نے ان پر، بلاشبہ اللہ ان پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے(117)اور (توجہ فرمائی اللہ نے) ان تین شخصوں پر، جو چھوڑ دیے گئے تھے (حکم الٰہی کے انتظار میں ) یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود فراخی کے اور تنگ ہو گئیں ان پر جانیں ان کی اور یقین کر لیا انھوں نے یہ کہ نہیں ہے کوئی جائے پناہ اللہ (کی ناراضی) سے مگر اسی کی طرف، پھر اللہ نے توجہ فرمائی ان پر تاکہ وہ توبہ کریں ، یقینا اللہ، وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا(118)
[117] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ ﴿ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ﴾ ’’مہربان ہوا وہ اپنے پیغمبر پر‘‘ ﴿وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ﴾ ’’اور مہاجرین اور انصار پر‘‘ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کر دیں ، انھیں بے شمار نیکیاں عطا کیں اور انھیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کیے، اسی لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِيۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ﴾ ’’جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں ‘‘ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لیے آپ کے ساتھ نکلے، سخت گرمی کا موسم تھا، سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنتے ہیں ۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے‘‘ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی، ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیغ قلب (دل کے پھر جانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا: ﴿ ثُمَّؔ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر وہ مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ ﴿ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔
[118]﴿ وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيۡنَ خُلِّفُوۡا﴾ ’’او ران تینوں پر بھی (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔‘‘ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کر لی جو اس غزوہ میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعy) ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔(صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب ﴿وعلي الثلاثۃ... الخ﴾ حدیث: 4677) ﴿ حَتّٰۤى اِذَا﴾ یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے ﴿ ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ﴾ ’’اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی‘‘ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود ﴿ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں ‘‘ جو کہ انھیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں ۔ پس کشادہ فضا ان کے لیے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لیے تنگ ہوگئی جو عادۃً کبھی ان کے لیے تنگ نہ تھی۔ یہ صورت حال صرف اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی انتہائی گھبراہٹ والا معاملہ ہو جو شدت اور مشقت میں اس حد تک پہنچ گیا ہو جس کی تعبیر ممکن نہ ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف‘‘ یعنی انھیں یقین ہوگیا اور اپنے حال کے ذریعے سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان سختیوں سے نجات دینے والا اور جس کے پاس پناہ لی جائے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی نہیں ، تب مخلوق کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہوگیا اور انھوں نے اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لیا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر اللہ ہی کے پاس پناہ لی۔ وہ پچاس راتوں تک اس شدت اور کیفیت میں مبتلا رہے۔ ﴿ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کو توبہ کی اجازت دے دی اور ان کو توبہ کی توفیق سے نواز دیا ﴿لِيَتُوۡبُوۡا﴾ ’’تاکہ وہ توبہ کریں ۔‘‘ تاکہ ان کی طرف سے توبہ واقع ہو اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ﴾ ’’بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے، بہت کثرت سے معاف کرتا ہے اور بہت کثرت سے لغزشوں اور نقائص کو بخش دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾عظیم رحمت اس کا وصف ہے جو ہر آن، ہر وقت اور ہر لحظہ اس کے بندوں پر نازل ہوتی رہتی ہے جس سے ان کے دنیاوی اور دینی امور سر انجام پاتے ہیں ۔(۱)ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنا، جلیل ترین مقصد اور بلند ترین منزل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کو اپنے خاص بندوں کا مقام و منزل قرار دیا ہے۔ جب بندے ایسے اعمال کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی منزل سے نوازتا ہے۔(۲)اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ان پر سایہ کناں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہلا دینے والے مصائب کے وقت ان کے ایمان میں ثابت قدمی اور استقامت عطا کرتا ہے۔(۳)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفس پر شاق گزرنے والی عبادت ایسی فضیلت کی حامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی۔ عبادت میں مشقت جتنی زیادہ ہوگی اجر اتنا ہی بڑا ہوگا۔(۴)بندے کی اپنے گناہ پر ندامت اور تاسف کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی گناہ کی پروا نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتا تو اس کی توبہ عیب دار اور کھوکھلی ہے اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے۔(۵) جب قلب مخلوق سے کٹ کر کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہو جائے تو یہ بھلائی اور شدت (تنگی)کے زوال کی علامت ہے۔(۶) ان تینوں اصحاب پر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان کو کسی ایسے وصف سے موصوف نہیں کیا جو ان کے لیے عار کا باعث ہو، چنانچہ فرمایا:﴿خُلِّفُوۡا ﴾ ’’جو پیچھے چھوڑ دیے گئے‘‘ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان ان کو پیچھے چھوڑ گئے تھے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو ان لوگوں سے پیچھے چھوڑ دیا گیا، جن کو ان کی معذرت کے قبول یا رد کے سلسلے میں علیحدہ کر دیا گیا تھا اور یہ کہ ان کا پیچھے رہ جانا بھلائی سے روگردانی کی بنا پر نہ تھا، اسی لیے ( تَخَلَّفُوا) کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔
9:118وَعَلَى ٱلثَّلَٰثَةِ ٱلَّذِينَ خُلِّفُواْ حَتَّىٰٓ إِذَا ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ أَنفُسُهُمۡ وَظَنُّوٓاْ أَن لَّا مَلۡجَأَ مِنَ ٱللَّهِ إِلَّآ إِلَيۡهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ لِيَتُوبُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
البتہ تحقیق توجہ فرمائی اللہ نے اوپر نبی اور مہاجرین اور انصار کے، وہ (مہاجرین و انصار) کہ جنھوں نے اتباع کیا آپ کا تنگی کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ٹیڑھے ہو جائیں دل ایک فریق کے ان میں سے، پھر توجہ فرمائی اللہ نے ان پر، بلاشبہ اللہ ان پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے(117)اور (توجہ فرمائی اللہ نے) ان تین شخصوں پر، جو چھوڑ دیے گئے تھے (حکم الٰہی کے انتظار میں ) یہاں تک کہ جب تنگ ہو گئی ان پر زمین باوجود فراخی کے اور تنگ ہو گئیں ان پر جانیں ان کی اور یقین کر لیا انھوں نے یہ کہ نہیں ہے کوئی جائے پناہ اللہ (کی ناراضی) سے مگر اسی کی طرف، پھر اللہ نے توجہ فرمائی ان پر تاکہ وہ توبہ کریں ، یقینا اللہ، وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا(118)
[117] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ ﴿ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ﴾ ’’مہربان ہوا وہ اپنے پیغمبر پر‘‘ ﴿وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ﴾ ’’اور مہاجرین اور انصار پر‘‘ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کر دیں ، انھیں بے شمار نیکیاں عطا کیں اور انھیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کیے، اسی لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ فِيۡ سَاعَةِ الۡعُسۡرَةِ﴾ ’’جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں ‘‘ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لیے آپ کے ساتھ نکلے، سخت گرمی کا موسم تھا، سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی تعداد زیادہ تھی۔ یہ ایسے حالات تھے جو لوگوں کے پیچھے رہنے کا باعث بنتے ہیں ۔ پس اس صورت میں وہ اللہ تعالیٰ سے مدد کے طلب گار ہوئے اور اس پر قائم رہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا كَادَ يَزِيۡغُ قُلُوۡبُ فَرِيۡقٍ مِّؔنۡهُمۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں ان میں سے کچھ لوگوں کے‘‘ یعنی ان کے دل آرام و راحت اور سکون کی طرف مائل تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا کی، ان کی تائید کی اور ان کو قوت سے نوازا اور زیغ قلب (دل کے پھر جانے) سے مراد ہے قلب کا صراط مستقیم سے انحراف کرنا۔ اگر یہ انحراف اصول دین میں ہو تو یہ کفر ہے اور اگر انحراف شرائع کے احکام میں ہو تو یہ انحراف اس حکم شریعت کے مطابق ہوگا جس سے انحراف کیا گیا ہے۔ یہ انحراف یا تو اس حکم شریعت پر عمل کی کوتاہی کے سبب سے ہوتا ہے یا اس شرعی حکم پر غیر شرعی طریقے سے عمل کرنے کے باعث ہوتا ہے فرمایا: ﴿ ثُمَّؔ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر وہ مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ ﴿ اِنَّهٗ بِهِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و رافت ہے کہ اس نے ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا پھر ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور ان کو اس توبہ پر ثابت قدم رکھا۔
[118]﴿ وَّعَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِيۡنَ خُلِّفُوۡا﴾ ’’او ران تینوں پر بھی (اللہ مہربان ہوا) جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔‘‘ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان تین حضرات کی توبہ قبول کر لی جو اس غزوہ میں جہاد کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نہ نکل سکے تھے۔ وہ تھے کعب بن مالک اور ان کے ساتھی (ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعy) ان کا قصہ صحاح اور سنن میں مشہور و معروف ہے۔(صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب ﴿وعلي الثلاثۃ... الخ﴾ حدیث: 4677) ﴿ حَتّٰۤى اِذَا﴾ یہاں تک کہ جب وہ بہت زیادہ غم زدہ ہوگئے ﴿ ضَاقَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ﴾ ’’اور زمین باوجود فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی‘‘ یعنی اپنی وسعت اور کشادگی کے باوجود ﴿ وَضَاقَتۡ عَلَيۡهِمۡ اَنۡفُسُهُمۡ﴾ ’’اور تنگ ہو گئیں ان پر ان کی جانیں ‘‘ جو کہ انھیں ہر چیز سے زیادہ محبوب تھیں ۔ پس کشادہ فضا ان کے لیے تنگ ہوگئی اور ہر محبوب چیز ان کے لیے تنگ ہوگئی جو عادۃً کبھی ان کے لیے تنگ نہ تھی۔ یہ صورت حال صرف اسی وقت ہوتی ہے جب کوئی انتہائی گھبراہٹ والا معاملہ ہو جو شدت اور مشقت میں اس حد تک پہنچ گیا ہو جس کی تعبیر ممکن نہ ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَيۡهِ﴾ ’’اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف‘‘ یعنی انھیں یقین ہوگیا اور اپنے حال کے ذریعے سے ان کو معلوم ہوگیا کہ ان سختیوں سے نجات دینے والا اور جس کے پاس پناہ لی جائے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا کوئی نہیں ، تب مخلوق کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہوگیا اور انھوں نے اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لیا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے بھاگ کر اللہ ہی کے پاس پناہ لی۔ وہ پچاس راتوں تک اس شدت اور کیفیت میں مبتلا رہے۔ ﴿ ثُمَّ تَابَ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’پھر مہربان ہوا ان پر‘‘ یعنی اللہ نے ان کو توبہ کی اجازت دے دی اور ان کو توبہ کی توفیق سے نواز دیا ﴿لِيَتُوۡبُوۡا﴾ ’’تاکہ وہ توبہ کریں ۔‘‘ تاکہ ان کی طرف سے توبہ واقع ہو اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ﴾ ’’بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بہت کثرت سے توبہ قبول کرتا ہے، بہت کثرت سے معاف کرتا ہے اور بہت کثرت سے لغزشوں اور نقائص کو بخش دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾عظیم رحمت اس کا وصف ہے جو ہر آن، ہر وقت اور ہر لحظہ اس کے بندوں پر نازل ہوتی رہتی ہے جس سے ان کے دنیاوی اور دینی امور سر انجام پاتے ہیں ۔(۱)ان آیات کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنا، جلیل ترین مقصد اور بلند ترین منزل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کو اپنے خاص بندوں کا مقام و منزل قرار دیا ہے۔ جب بندے ایسے اعمال کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور جن سے وہ راضی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی منزل سے نوازتا ہے۔(۲)اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم ان پر سایہ کناں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہلا دینے والے مصائب کے وقت ان کے ایمان میں ثابت قدمی اور استقامت عطا کرتا ہے۔(۳)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفس پر شاق گزرنے والی عبادت ایسی فضیلت کی حامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی۔ عبادت میں مشقت جتنی زیادہ ہوگی اجر اتنا ہی بڑا ہوگا۔(۴)بندے کی اپنے گناہ پر ندامت اور تاسف کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جو کوئی گناہ کی پروا نہیں کرتا اور گناہ کے ارتکاب پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتا تو اس کی توبہ عیب دار اور کھوکھلی ہے اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے۔(۵) جب قلب مخلوق سے کٹ کر کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہو جائے تو یہ بھلائی اور شدت (تنگی)کے زوال کی علامت ہے۔(۶) ان تینوں اصحاب پر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے ان کو کسی ایسے وصف سے موصوف نہیں کیا جو ان کے لیے عار کا باعث ہو، چنانچہ فرمایا:﴿خُلِّفُوۡا ﴾ ’’جو پیچھے چھوڑ دیے گئے‘‘ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان ان کو پیچھے چھوڑ گئے تھے یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو ان لوگوں سے پیچھے چھوڑ دیا گیا، جن کو ان کی معذرت کے قبول یا رد کے سلسلے میں علیحدہ کر دیا گیا تھا اور یہ کہ ان کا پیچھے رہ جانا بھلائی سے روگردانی کی بنا پر نہ تھا، اسی لیے ( تَخَلَّفُوا) کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔
9:119يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَكُونُواْ مَعَ ٱلصَّـٰدِقِينَ
اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے اور ہو ساتھ سچ بولنے والوں کے(119)
[119]﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور ان امور پر ایمان رکھنے والو! جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی منہیات سے اجتناب اور ان سے دور رہ کر تقویٰ کا التزام۔ ﴿وَؔكُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچوں کے ساتھ رہو۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے اقوال، افعال اور احوال میں سچے ہیں ۔ جن کے اقوال سچے ہیں ، جن کے اعمال و احوال صدق پر مبنی ہیں ، جو کسل مندی اور فتور سے خالی اور برے مقاصد سے محفوظ ہیں ، جو اخلاص اور نیک نیتی پر مشتمل ہیں ۔ صدق نیکی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ هٰؔذَا يَوۡمُ يَنۡفَعُ الصّٰؔدِقِيۡنَ صِدۡقُهُمۡ ﴾(المائدۃ: 5؍119) ’’آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی راست بازی فائدہ دے گی۔‘‘
9:120مَا كَانَ لِأَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ أَن يَتَخَلَّفُواْ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرۡغَبُواْ بِأَنفُسِهِمۡ عَن نَّفۡسِهِۦۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ لَا يُصِيبُهُمۡ ظَمَأٞ وَلَا نَصَبٞ وَلَا مَخۡمَصَةٞ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوۡطِئٗا يَغِيظُ ٱلۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنۡ عَدُوّٖ نَّيۡلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٞ صَٰلِحٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
نہیں لائق واسطے اہل مدینہ کے اور ان کے جو آس پاس ہیں ان کے دیہاتیوں میں سے، یہ کہ پیچھے رہ جائیں وہ( جہاد میں ) رسول اللہ سے اور نہ یہ(جائزہے) کہ رغبت رکھیں وہ اپنی جانوں سے بے پروا ہو کر رسول اللہ کی جان سے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ نہیں پہنچتی انھیں (کوئی تکلیف ، یعنی ) پیاس اور نہ تھکاوٹ اور نہ بھوک اللہ کے راستے میں اور نہیں روندتے (طے کرتے) وہ کسی مقام کو جو غضب ناک کردے کافروں کواور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کوئی کامیابی (غنیمت وغیرہ) مگر لکھا جاتا ہے ان کے لیے بدلے اس کے عمل صالح، بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر احسان کرنے والوں کا (120) اور نہیں خرچ کرتے وہ کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑااور نہیں طے کرتے وہ کوئی وادی مگر لکھا جاتاہے وہ( سب) ان کے لیے تاکہ جزادے انھیں اللہ بہترین (جزا) اس کی جو تھے و ہ عمل کرتے (121)
[120] اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے اردگرد رہنے والے اعراب کو، جو اسلام لائے اور انھوں نے اپنے اسلام کو صحیح کر لیا، ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے‘‘ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے ﴿ وَلَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں ‘‘ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر ﴿ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’رسول کی جان سے زیادہ‘‘ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں لیکن نبی کریمﷺ کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں بلکہ اس کے برعکس ان کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ نبی اکرمﷺ اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہﷺ کی تعظیم، آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذکر فرمایا جو جہاد کے لیے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا:﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ﴿ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت‘‘ یعنی تھکان اور مشقت ﴿ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں ۔‘‘ ﴿ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر‘‘ یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے﴿ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا﴾ ’’اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز‘‘ ، مثلاً: لشکر یا سریہ کے ذریعے سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ﴾ ’’مگر اس کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے‘‘ کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں ۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں ۔
[121] پھر فرمایا: ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا ﴾ ’’اور نہیں خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور نہیں طے کرتے کوئی میدان‘‘ یعنی دشمن کی طرف جانے کے لیے ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مگر لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے تاکہ بدلہ دے ان کو اللہ بہتر اس کام کا جو وہ کرتے تھے‘‘ اور اسی میں یہ اعمال بھی شامل ہیں جب ان میں خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو۔ان آیات کریمہ میں نفوس کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور ان کو شوق دلایا گیا ہے اور جہاد میں تکالیف پہنچنے پر ثواب کی امید دلائی گئی ہے نیز یہ کہ جہاد ان کے لیے ترقی درجات کا باعث ہے۔ نیز ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بندۂ مومن کے عمل پر مترتب ہونے والے آثار میں بہت بڑا اجر ہے۔
9:121وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةٗ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةٗ وَلَا يَقۡطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحۡسَنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
نہیں لائق واسطے اہل مدینہ کے اور ان کے جو آس پاس ہیں ان کے دیہاتیوں میں سے، یہ کہ پیچھے رہ جائیں وہ( جہاد میں ) رسول اللہ سے اور نہ یہ(جائزہے) کہ رغبت رکھیں وہ اپنی جانوں سے بے پروا ہو کر رسول اللہ کی جان سے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ نہیں پہنچتی انھیں (کوئی تکلیف ، یعنی ) پیاس اور نہ تھکاوٹ اور نہ بھوک اللہ کے راستے میں اور نہیں روندتے (طے کرتے) وہ کسی مقام کو جو غضب ناک کردے کافروں کواور نہیں حاصل کرتے وہ دشمن سے کوئی کامیابی (غنیمت وغیرہ) مگر لکھا جاتا ہے ان کے لیے بدلے اس کے عمل صالح، بے شک اللہ نہیں ضائع کرتا اجر احسان کرنے والوں کا (120) اور نہیں خرچ کرتے وہ کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑااور نہیں طے کرتے وہ کوئی وادی مگر لکھا جاتاہے وہ( سب) ان کے لیے تاکہ جزادے انھیں اللہ بہترین (جزا) اس کی جو تھے و ہ عمل کرتے (121)
[120] اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے اردگرد رہنے والے اعراب کو، جو اسلام لائے اور انھوں نے اپنے اسلام کو صحیح کر لیا، ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے‘‘ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے ﴿ وَلَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں ‘‘ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر ﴿ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’رسول کی جان سے زیادہ‘‘ یعنی اپنے نفس کی تو حفاظت کریں لیکن نبی کریمﷺ کے نفس زکیہ و کریمہ کی حفاظت سے روگردانی کریں بلکہ اس کے برعکس ان کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ نبی اکرمﷺ اہل ایمان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں ۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کو اپنی ذات پر مقدم رکھے اور آپ پر اپنی جان قربان کر دے۔ رسول اللہﷺ کی تعظیم، آپ سے محبت اور آپ پر کامل ایمان کی علامت یہ ہے کہ اہل ایمان آپ کو چھوڑ کر پیچھے نہ رہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کا ذکر فرمایا جو جہاد کے لیے نکلنے پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا:﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے ﴿ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ ﴾ ’’نہیں پہنچتی ان کو کوئی پیاس اور نہ محنت‘‘ یعنی تھکان اور مشقت ﴿ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور نہ بھوک اللہ کی راہ میں ۔‘‘ ﴿ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’اور نہیں قدم رکھتے کہیں جس سے کہ خفا ہوں کافر‘‘ یعنی ان کے دیار میں گھس جانے اور ان کے وطن پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے﴿ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا﴾ ’’اور نہیں چھینتے وہ دشمن سے کوئی چیز‘‘ ، مثلاً: لشکر یا سریہ کے ذریعے سے فتح و ظفر یا مال غنیمت کا حصول ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ﴾ ’’مگر اس کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے‘‘ کیونکہ یہ وہ آثار ہیں جو ان کے اعمال سے جنم لیتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے احسن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرتے ہیں ۔ پس یہ اعمال ان کے عمل کے آثار ہیں ۔
[121] پھر فرمایا: ﴿ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا ﴾ ’’اور نہیں خرچ کرتے ہیں کوئی خرچ چھوٹا اور نہ بڑا اور نہیں طے کرتے کوئی میدان‘‘ یعنی دشمن کی طرف جانے کے لیے ﴿ اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’مگر لکھ لیا جاتا ہے ان کے لیے تاکہ بدلہ دے ان کو اللہ بہتر اس کام کا جو وہ کرتے تھے‘‘ اور اسی میں یہ اعمال بھی شامل ہیں جب ان میں خیر خواہی اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو۔ان آیات کریمہ میں نفوس کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور ان کو شوق دلایا گیا ہے اور جہاد میں تکالیف پہنچنے پر ثواب کی امید دلائی گئی ہے نیز یہ کہ جہاد ان کے لیے ترقی درجات کا باعث ہے۔ نیز ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ بندۂ مومن کے عمل پر مترتب ہونے والے آثار میں بہت بڑا اجر ہے۔
9:122۞وَمَا كَانَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةٗۚ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرۡقَةٖ مِّنۡهُمۡ طَآئِفَةٞ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوۡمَهُمۡ إِذَا رَجَعُوٓاْ إِلَيۡهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَحۡذَرُونَ
اور نہیں لائق مومنوں کو یہ کہ نکلیں وہ (جہاد کے لیے) سارے کے سارے، پس کیوں نہیں نکلا ہر فرقے سے ان میں سے ایک گروہ تاکہ سمجھ حاصل کریں وہ دین میں اور تاکہ ڈرائیں وہ اپنی قوم کو جب لوٹ کر آئیں وہ ان کی طرف تاکہ وہ( پیچھے والے بھی) ڈریں ؟ (122)
[122] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان چیزوں سے آگاہ کرتے ہوئے جو ان کے لائق ہیں ، فرماتا ہے:﴿ وَمَا كَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِيَنۡفِرُوۡا كَآفَّةً﴾ ’’اور ایسے تو نہیں مومن کہ کوچ کریں سارے‘‘ یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام کے تمام مومن دشمن کے خلاف جنگ کے لیے نکل پڑیں کیونکہ اس طرح وہ مشقت میں پڑ جائیں گے اور بہت سے دیگر مصالح فوت ہو جائیں گے۔ ﴿ فَلَوۡلَا نَفَرَ مِنۡ كُلِّ فِرۡقَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’پس کیوں نہ نکلا ہر گروہ میں سے‘‘ یعنی شہروں ، قبیلوں اور خاندانوں میں سے ﴿ طَآىِٕفَةٌ ﴾ ’’ان کا ایک حصہ‘‘ جس سے ان کا مقصد اور کفایت حاصل ہو جاتی تو یہ بہتر تھا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ جو لوگ جہاد کے لیے نہیں نکلے اور پیچھے ٹھہر گئے ان کے نہ نکلنے میں کچھ مصالح تھے جو گھر سے نکلنے کی صورت میں ضائع ہو جاتے۔ پس فرمایا:﴿ لِّيَتَفَقَّهُوۡا فِي الدِّيۡنِ ﴾ ’’تاکہ وہ سمجھ حاصل کریں دین میں ‘‘ یعنی پیچھے بیٹھ رہنے والے ﴿ وَلِيُنۡذِرُوۡا قَوۡمَهُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’اور تاکہ ڈرائیں وہ اپنی قوم کو جب وہ لوٹیں ان کی طرف‘‘ تاکہ وہ علم شریعت حاصل کرتے، اس کے معانی کی معرفت حاصل کرتے اور پھر دوسروں کو تعلیم دیتے اور جب واپس لوٹتے تو اپنی قوم کو ڈراتے... اس سے علم کی فضیلت مستفاد ہوتی ہے خاص طور پر دین میں سمجھ کی فضیلت، نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تفقہ فی الدین بہت اہم معاملہ ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی قسم کا علم حاصل کرتا ہے تو اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اس علم کو اللہ کے بندوں میں پھیلائے۔ اس بارے میں ان کے ساتھ خیر خواہی کرے کیونکہ عالم سے علم کا پھیلنا اس کی برکت اور اس کا اجر ہے جو بڑھتا رہتا ہے۔رہا عالم کا اپنے آپ پر اقتصار کرنا، حکمت و دانائی اور بہترین نصیحت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت نہ دینا، جہال کو ان امور کی تعلیم دینا ترک کر دینا جو وہ نہیں جانتے... تو اس کے علم سے مسلمانوں کو کون سا فائدہ حاصل ہوا اور اس کے علم کا کیا نتیجہ نکلا؟ بس اس کی انتہا یہ ہے کہ اس عالم کے مر جانے کے ساتھ اس کا علم بھی موت کی آغوش میں چلا جائے گا۔ یہ اس شخص کی حرماں نصیبی کی انتہا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم و فہم سے نوازا۔نیز اس آیت کریمہ میں ایک اہم فائدہ کی طرف راہنمائی اور نہایت لطیف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مصالح عامہ میں سے ہر مصلحت کے لیے کچھ لوگوں کو تیار کریں جو ان مصالح کا انتظام کریں اور ان مصالح کے حصول کے لیے ہمہ وقت جدوجہد کریں اور وہ دیگر امور کی طرف التفات نہ کریں تاکہ ان مصالح کا اچھی طرح انتظام ہو تاکہ مسلمانوں کے مفادات کی تکمیل ہو اور تمام مسلمانوں کا مقصد ایک ہو اور وہ ہے ان کے دین و دنیا کے مصالح کا قیام۔ اگرچہ راستے مختلف ہوں ، مشرب متعدد ہوں ، کام ایک دوسرے سے جدا ہوں مگر مقصد ایک ہو۔ تمام امور میں یہ عام حکمت نافعہ ہے۔
9:123يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُواْ فِيكُمۡ غِلۡظَةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لڑو تم ان لوگوں سے جو قریب ہیں تمھارے کافروں میں سے اور چاہیے کہ پائیں وہ تمھارے اندر سختی اور جان لوتم! یقینا اللہ ساتھ ہے متقیوں کے(123)
[123] جنگی معاملات کی تدبیر میں اہل ایمان کی راہ نمائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کفار سے ابتدا کی جائے جو سب سے قریب ہیں ان کے ساتھ رویہ سخت رکھا جائے اور جنگ میں ان کا نہایت سختی، بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی تمھیں یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد تقویٰ کے مطابق نازل ہوتی ہے، اس لیے تقویٰ کا التزام کرو! اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے دشمن کے خلاف تمھیں نصرت سے نوازے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ يَلُوۡنَكُمۡ مِّنَ الۡكُفَّارِ ﴾ ’’قریب کے کافروں سے قتال کرو۔‘‘ عام ہے، تاہم جب مصلحت اس بات کا تقاضا کرے کہ ان کافروں کے ساتھ لڑائی کی جائے جو قریب نہیں ہیں تو اس وقت ایسا کرنا ضروری ہو گا اور یہ خاص حکم اس عموم سے مستثنیٰ ہو گا کیونکہ مصالح کی اقسام تو بے شمار ہیں ۔
9:124وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ فَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنٗاۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَزَادَتۡهُمۡ إِيمَٰنٗا وَهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت تو کچھ ان (منافقوں ) میں سے وہ ہیں جو (بطور استہزاء) کہتے ہیں ، تم میں سے کس کو زیادہ کیا ہے اس(سورت) نے ایمان میں ؟ پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے تو زیادہ کیا اس سورت نے ان کو ایمان میں اور وہ خوش ہوتے ہیں (124) اور لیکن وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں روگ ہے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس سورت نے) پلیدی میں ساتھ ان کی(پہلی) پلیدی کےاورمرے وہ اس حال میں کہ کافر تھے (125) کیا نہیں دیکھتے وہ (مومن) کہ بے شک وہ (منافق) فتنے میں مبتلا کیے جاتے ہیں ہر سال ایک بار یا دوبار؟ پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اورنہ وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں (126)
[124] نزول قرآن کے وقت منافقین اور اہل ایمان کا جو حال ہوتا ہے اور اس وقت ان کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے‘‘ جس کے اندر اوامر و نواہی نازل کیے گئے ہوں ، آپﷺ کے اپنے بارے میں خبر دی گئی ہو، امور غائبہ سے آگاہ کیا گیا ہو اور جہاد کی ترغیب دی گئی ہو۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ اَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هٰؔذِهٖۤ اِيۡمَانًا﴾ ’’تو ان میں سے بعض کہتے ہیں ، تم میں سے کس کا ایمان اس سورت نے زیادہ کیا؟‘‘ یعنی دونوں گروہوں میں سے اسے استفہام حاصل ہے جسے اس سورت پر ایمان حاصل ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا حال واقع بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾ ’’پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، ان کا ایمان اس سورت نے زیادہ کر دیا‘‘ اس سورت کے علم، اس کے فہم، اس پر اعتقاد، اس پر عمل، بھلائی کے کام میں رغبت اور برائی کے کام سے رکنے کے ذریعے سے ان لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جو اہل ایمان ہیں ۔ ﴿وَّهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وہ خوش خبری حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جو اپنی آیات سے نوازا ہے اور ان کا فہم حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشی ہے اس پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں ۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کو آیات الٰہی پر انشراح صدر، اطمینان قلب اور سرعت اطاعت حاصل ہے کیونکہ یہ آیات ان کو اس امر کی ترغیب دیتی ہیں ۔
[125]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اور لیکن جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی شک اور نفاق ہے ﴿فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا اِلٰى رِجۡسِهِمۡ ﴾ ’’پس ان کو اس سورت نے بڑھا دیا گندگی پرگندگی میں ‘‘ یعنی ان کے مرض کے ساتھ مرض اور ان کے شک کے ساتھ مزید شک کا اضافہ ہوتا گیا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا۔ ان کے خلاف عناد رکھا اور ان سے روگردانی کی تھی۔ بنابریں ان کا مرض بڑھ گیا تو اس مرض نے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یہاں تک کہ ﴿ مَاتُوۡا وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ مریں گے بھی تو کافر کے کافر۔‘‘ یہ ان کے لیے سزا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا، اس کے رسول کی نافرمانی کی اس لیے اس کی پاداش میں اس دن تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا، جس روز وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔
[126] اللہ تعالیٰ اس بات پر کہ وہ کفر و نفاق پر جمے ہوئے ہیں ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَوَلَا يَرَوۡنَ اَنَّهُمۡ يُفۡتَنُوۡنَ فِيۡ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوۡ مَرَّتَيۡنِ﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس ایک یا دو مرتبہ‘‘ یعنی جو ان کو مصیبت پہنچتی ہے یا امراض لاحق ہوتے ہیں یا اوامر الہیہ کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جاتی ہے ﴿ ثُمَّ لَا يَتُوۡبُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان برائیوں سے توبہ نہیں کرتے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں ﴿وَلَا هُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں ‘‘ یعنی کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے کہ وہ اسے اختیار کریں اور کیا چیز نقصان دیتی ہے کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ... جیسا کہ تمام قوموں میں اس کی عادت ہے... ان کو تنگ دستی، فراخی اور اوامر و نواہی کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں مگر وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں ۔ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو ٹٹولتا اور اس کی حفاظت کرتا رہے، اس کی تجدید اور نشوونما کرتا رہے تاکہ اس کا ایمان ترقی کی منازل کی طرف گامزن رہے۔
9:125وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا إِلَىٰ رِجۡسِهِمۡ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كَٰفِرُونَ
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت تو کچھ ان (منافقوں ) میں سے وہ ہیں جو (بطور استہزاء) کہتے ہیں ، تم میں سے کس کو زیادہ کیا ہے اس(سورت) نے ایمان میں ؟ پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے تو زیادہ کیا اس سورت نے ان کو ایمان میں اور وہ خوش ہوتے ہیں (124) اور لیکن وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں روگ ہے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس سورت نے) پلیدی میں ساتھ ان کی(پہلی) پلیدی کےاورمرے وہ اس حال میں کہ کافر تھے (125) کیا نہیں دیکھتے وہ (مومن) کہ بے شک وہ (منافق) فتنے میں مبتلا کیے جاتے ہیں ہر سال ایک بار یا دوبار؟ پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اورنہ وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں (126)
[124] نزول قرآن کے وقت منافقین اور اہل ایمان کا جو حال ہوتا ہے اور اس وقت ان کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے‘‘ جس کے اندر اوامر و نواہی نازل کیے گئے ہوں ، آپﷺ کے اپنے بارے میں خبر دی گئی ہو، امور غائبہ سے آگاہ کیا گیا ہو اور جہاد کی ترغیب دی گئی ہو۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ اَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هٰؔذِهٖۤ اِيۡمَانًا﴾ ’’تو ان میں سے بعض کہتے ہیں ، تم میں سے کس کا ایمان اس سورت نے زیادہ کیا؟‘‘ یعنی دونوں گروہوں میں سے اسے استفہام حاصل ہے جسے اس سورت پر ایمان حاصل ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا حال واقع بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾ ’’پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، ان کا ایمان اس سورت نے زیادہ کر دیا‘‘ اس سورت کے علم، اس کے فہم، اس پر اعتقاد، اس پر عمل، بھلائی کے کام میں رغبت اور برائی کے کام سے رکنے کے ذریعے سے ان لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جو اہل ایمان ہیں ۔ ﴿وَّهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وہ خوش خبری حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جو اپنی آیات سے نوازا ہے اور ان کا فہم حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشی ہے اس پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں ۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کو آیات الٰہی پر انشراح صدر، اطمینان قلب اور سرعت اطاعت حاصل ہے کیونکہ یہ آیات ان کو اس امر کی ترغیب دیتی ہیں ۔
[125]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اور لیکن جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی شک اور نفاق ہے ﴿فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا اِلٰى رِجۡسِهِمۡ ﴾ ’’پس ان کو اس سورت نے بڑھا دیا گندگی پرگندگی میں ‘‘ یعنی ان کے مرض کے ساتھ مرض اور ان کے شک کے ساتھ مزید شک کا اضافہ ہوتا گیا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا۔ ان کے خلاف عناد رکھا اور ان سے روگردانی کی تھی۔ بنابریں ان کا مرض بڑھ گیا تو اس مرض نے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یہاں تک کہ ﴿ مَاتُوۡا وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ مریں گے بھی تو کافر کے کافر۔‘‘ یہ ان کے لیے سزا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا، اس کے رسول کی نافرمانی کی اس لیے اس کی پاداش میں اس دن تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا، جس روز وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔
[126] اللہ تعالیٰ اس بات پر کہ وہ کفر و نفاق پر جمے ہوئے ہیں ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَوَلَا يَرَوۡنَ اَنَّهُمۡ يُفۡتَنُوۡنَ فِيۡ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوۡ مَرَّتَيۡنِ﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس ایک یا دو مرتبہ‘‘ یعنی جو ان کو مصیبت پہنچتی ہے یا امراض لاحق ہوتے ہیں یا اوامر الہیہ کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جاتی ہے ﴿ ثُمَّ لَا يَتُوۡبُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان برائیوں سے توبہ نہیں کرتے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں ﴿وَلَا هُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں ‘‘ یعنی کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے کہ وہ اسے اختیار کریں اور کیا چیز نقصان دیتی ہے کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ... جیسا کہ تمام قوموں میں اس کی عادت ہے... ان کو تنگ دستی، فراخی اور اوامر و نواہی کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں مگر وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں ۔ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو ٹٹولتا اور اس کی حفاظت کرتا رہے، اس کی تجدید اور نشوونما کرتا رہے تاکہ اس کا ایمان ترقی کی منازل کی طرف گامزن رہے۔
9:126أَوَلَا يَرَوۡنَ أَنَّهُمۡ يُفۡتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٖ مَّرَّةً أَوۡ مَرَّتَيۡنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمۡ يَذَّكَّرُونَ
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت تو کچھ ان (منافقوں ) میں سے وہ ہیں جو (بطور استہزاء) کہتے ہیں ، تم میں سے کس کو زیادہ کیا ہے اس(سورت) نے ایمان میں ؟ پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے تو زیادہ کیا اس سورت نے ان کو ایمان میں اور وہ خوش ہوتے ہیں (124) اور لیکن وہ لوگ کہ ان کے دلوں میں روگ ہے تو زیادہ کر دیا ان کو (اس سورت نے) پلیدی میں ساتھ ان کی(پہلی) پلیدی کےاورمرے وہ اس حال میں کہ کافر تھے (125) کیا نہیں دیکھتے وہ (مومن) کہ بے شک وہ (منافق) فتنے میں مبتلا کیے جاتے ہیں ہر سال ایک بار یا دوبار؟ پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اورنہ وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں (126)
[124] نزول قرآن کے وقت منافقین اور اہل ایمان کا جو حال ہوتا ہے اور اس وقت ان کے درمیان جو تفاوت ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے‘‘ جس کے اندر اوامر و نواہی نازل کیے گئے ہوں ، آپﷺ کے اپنے بارے میں خبر دی گئی ہو، امور غائبہ سے آگاہ کیا گیا ہو اور جہاد کی ترغیب دی گئی ہو۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ اَيُّكُمۡ زَادَتۡهُ هٰؔذِهٖۤ اِيۡمَانًا﴾ ’’تو ان میں سے بعض کہتے ہیں ، تم میں سے کس کا ایمان اس سورت نے زیادہ کیا؟‘‘ یعنی دونوں گروہوں میں سے اسے استفہام حاصل ہے جسے اس سورت پر ایمان حاصل ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا حال واقع بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾ ’’پس جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ، ان کا ایمان اس سورت نے زیادہ کر دیا‘‘ اس سورت کے علم، اس کے فہم، اس پر اعتقاد، اس پر عمل، بھلائی کے کام میں رغبت اور برائی کے کام سے رکنے کے ذریعے سے ان لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جو اہل ایمان ہیں ۔ ﴿وَّهُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وہ خوش خبری حاصل کرتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جو اپنی آیات سے نوازا ہے اور ان کا فہم حاصل کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشی ہے اس پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں ۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کو آیات الٰہی پر انشراح صدر، اطمینان قلب اور سرعت اطاعت حاصل ہے کیونکہ یہ آیات ان کو اس امر کی ترغیب دیتی ہیں ۔
[125]﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ ﴾ ’’اور لیکن جن کے دلوں میں روگ ہے‘‘ یعنی شک اور نفاق ہے ﴿فَزَادَتۡهُمۡ رِجۡسًا اِلٰى رِجۡسِهِمۡ ﴾ ’’پس ان کو اس سورت نے بڑھا دیا گندگی پرگندگی میں ‘‘ یعنی ان کے مرض کے ساتھ مرض اور ان کے شک کے ساتھ مزید شک کا اضافہ ہوتا گیا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا۔ ان کے خلاف عناد رکھا اور ان سے روگردانی کی تھی۔ بنابریں ان کا مرض بڑھ گیا تو اس مرض نے ان کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے یہاں تک کہ ﴿ مَاتُوۡا وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ مریں گے بھی تو کافر کے کافر۔‘‘ یہ ان کے لیے سزا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا، اس کے رسول کی نافرمانی کی اس لیے اس کی پاداش میں اس دن تک کے لیے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا، جس روز وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے۔
[126] اللہ تعالیٰ اس بات پر کہ وہ کفر و نفاق پر جمے ہوئے ہیں ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَوَلَا يَرَوۡنَ اَنَّهُمۡ يُفۡتَنُوۡنَ فِيۡ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوۡ مَرَّتَيۡنِ﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس ایک یا دو مرتبہ‘‘ یعنی جو ان کو مصیبت پہنچتی ہے یا امراض لاحق ہوتے ہیں یا اوامر الہیہ کے ذریعے سے ان کی آزمائش کی جاتی ہے ﴿ ثُمَّ لَا يَتُوۡبُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان برائیوں سے توبہ نہیں کرتے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں ﴿وَلَا هُمۡ يَذَّكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں ‘‘ یعنی کیا چیز انھیں فائدہ دیتی ہے کہ وہ اسے اختیار کریں اور کیا چیز نقصان دیتی ہے کہ وہ اس کو ترک کر دیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ... جیسا کہ تمام قوموں میں اس کی عادت ہے... ان کو تنگ دستی، فراخی اور اوامر و نواہی کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں مگر وہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں ۔ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو ٹٹولتا اور اس کی حفاظت کرتا رہے، اس کی تجدید اور نشوونما کرتا رہے تاکہ اس کا ایمان ترقی کی منازل کی طرف گامزن رہے۔
9:127وَإِذَا مَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ هَلۡ يَرَىٰكُم مِّنۡ أَحَدٖ ثُمَّ ٱنصَرَفُواْۚ صَرَفَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُم بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ
اور جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت تو دیکھتا ہے ایک ان کا طرف دوسرے کی کہ کیا دیکھ رہا ہے تمھیں کوئی شخص (مومنوں میں سے)؟ پھر پھر جاتے ہیں وہ، پھیر دیا اللہ نے ان کے دلوں کو بوجہ اس کے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے (127)
[127] یعنی وہ منافقین جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کے دلوں کا بھید کھول دے ﴿ وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ ﴾ ’’جب ان پر کوئی سورت نازل کی جاتی ہے‘‘ تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے مضامین پر عمل کریں ﴿ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ﴾ ’’تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں ۔‘‘ یعنی اس پر عمل نہ کرنے کا ارادہ اور عزم کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں ، وہ مناسب وقت کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کی نظروں سے چھپے رہیں اور کہتے ہیں ﴿ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا﴾ ’’کیا دیکھتا ہے تم کو کوئی مسلمان، پھر کھسک جاتے ہیں ‘‘ یعنی کھسک کر نکل جاتے ہیں اور منہ موڑ کر لوٹ جاتے ہیں ۔ تب اللہ ان کے عمل کی جنس ہی سے انھیں جزا دیتا ہے۔ پس جیسے انھوں نے عمل سے منہ پھیر لیا ﴿صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے دلوں کو (حق سے) پھیر دیا‘‘ یعنی روک دیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔‘‘ یعنی وہ ایسی سمجھ نہیں رکھتے جو ان کو فائدہ دے کیونکہ اگر وہ سمجھ رکھتے ہوتے تو جب بھی کوئی سورت نازل ہوتی، وہ اس پر ایمان لا کر اس کے احکام کی تعمیل کرتے۔ اس کا مقصد جہاد وغیرہ شرائع ایمان سے ان کی شدت نفور کو بیان کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے:﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ١ۙ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾(محمد: 47؍20)’’جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے، آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس شخص کی طرح دیکھنے لگتے ہیں جس پر موت کی غشی طاری ہو۔‘‘
9:128لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ
یقینا آگیا ہے تمھارے پاس ایک عظیم رسول تم میں سے، شاق (گراں ) ہے اس پر تمھارا تکلیف میں مبتلا ہونا، حریص ہے اوپر (بھلائی) تمھاری کے، ساتھ مومنوں کے نہایت شفیق و مہربان ہے (128) پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے! کافی ہے مجھے اللہ، نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اوروہی ہے رب عرش عظیم کا (129)
[128] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی اُمیﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ، وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہﷺ ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لیے کوشش کرنے والے ہیں ۔ ﴿ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ ﴾ ’’تمھاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔‘‘ یعنی آپﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمھیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’حریص ہیں تمھاری بھلائی پر‘‘ پس آپﷺ تمھارے لیے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمھیں بھلائی تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں ، ایمان تک تمھاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں ۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمھیں نفرت دلانے کے لیے پوری کوشش صرف کرتے ہیں ﴿ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے مہربان ہیں ۔‘‘ یعنی اہل ایمان کے لیے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں ۔ بنابریں آپ کا حق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپﷺ پر ایمان لانا، آپ کی تعظیم کرنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔
[129]﴿فَاِنۡ﴾ ’’پس اگر‘‘ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پھرجائیں ۔‘‘ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپﷺ اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ حَسۡبِيَ اللّٰهُ﴾ ’’اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں ) میرے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر توکل کیا۔‘‘ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لیے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔
9:129فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡعَظِيمِ
یقینا آگیا ہے تمھارے پاس ایک عظیم رسول تم میں سے، شاق (گراں ) ہے اس پر تمھارا تکلیف میں مبتلا ہونا، حریص ہے اوپر (بھلائی) تمھاری کے، ساتھ مومنوں کے نہایت شفیق و مہربان ہے (128) پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے! کافی ہے مجھے اللہ، نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اوروہی ہے رب عرش عظیم کا (129)
[128] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی اُمیﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ، وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہﷺ ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لیے کوشش کرنے والے ہیں ۔ ﴿ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ ﴾ ’’تمھاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔‘‘ یعنی آپﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمھیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’حریص ہیں تمھاری بھلائی پر‘‘ پس آپﷺ تمھارے لیے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمھیں بھلائی تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں ، ایمان تک تمھاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں ۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمھیں نفرت دلانے کے لیے پوری کوشش صرف کرتے ہیں ﴿ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے مہربان ہیں ۔‘‘ یعنی اہل ایمان کے لیے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں ۔ بنابریں آپ کا حق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپﷺ پر ایمان لانا، آپ کی تعظیم کرنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔
[129]﴿فَاِنۡ﴾ ’’پس اگر‘‘ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پھرجائیں ۔‘‘ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپﷺ اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ حَسۡبِيَ اللّٰهُ﴾ ’’اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں ) میرے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر توکل کیا۔‘‘ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لیے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔