QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

At-Tahrim

ٱلتَّحْرِيم

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 66 · 12 verses

66:1

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ تَبۡتَغِي مَرۡضَاتَ أَزۡوَٰجِكَۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ

اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔ [2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔ [3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔ [4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔ [5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
66:2

قَدۡ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ أَيۡمَٰنِكُمۡۚ وَٱللَّهُ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ

اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔ [2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔ [3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔ [4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔ [5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
66:3

وَإِذۡ أَسَرَّ ٱلنَّبِيُّ إِلَىٰ بَعۡضِ أَزۡوَٰجِهِۦ حَدِيثٗا فَلَمَّا نَبَّأَتۡ بِهِۦ وَأَظۡهَرَهُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهُۥ وَأَعۡرَضَ عَنۢ بَعۡضٖۖ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِۦ قَالَتۡ مَنۡ أَنۢبَأَكَ هَٰذَاۖ قَالَ نَبَّأَنِيَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡخَبِيرُ

اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔ [2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔ [3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔ [4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔ [5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
66:4

إِن تَتُوبَآ إِلَى ٱللَّهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوبُكُمَاۖ وَإِن تَظَٰهَرَا عَلَيۡهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ مَوۡلَىٰهُ وَجِبۡرِيلُ وَصَٰلِحُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ

اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔ [2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔ [3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔ [4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔ [5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
66:5

عَسَىٰ رَبُّهُۥٓ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبۡدِلَهُۥٓ أَزۡوَٰجًا خَيۡرٗا مِّنكُنَّ مُسۡلِمَٰتٖ مُّؤۡمِنَٰتٖ قَٰنِتَٰتٖ تَـٰٓئِبَٰتٍ عَٰبِدَٰتٖ سَـٰٓئِحَٰتٖ ثَيِّبَٰتٖ وَأَبۡكَارٗا

اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔ [2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔ [3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔ [4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔ [5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
66:6

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَأَهۡلِيكُمۡ نَارٗا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلَـٰٓئِكَةٌ غِلَاظٞ شِدَادٞ لَّا يَعۡصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاؤ تم اپنے نفسوں کو اور اپنے اہل (و عیال) کو اس آگ سے کہ ایندھن اس کا ہیں انسان اور پتھر، اس پر (مقرر) ہیں فرشتے نہایت سخت دل بڑے مضبوط، نہیں نافرمانی کرتے وہ اللہ کی جس کا حکم دے وہ انھیں اوروہ (وہی ) کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں وہ(6) [6] یعنی اے وہ لوگو جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے! ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے ﴿ قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا﴾ ’’اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ ‘‘ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے، اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا، اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں، جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف کے تحت ہوں، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ﴾ ’’جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔‘‘ جیسا کہ فرمایا:﴿ اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍98) ’’تم اور تمھارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرعبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں،تمھیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔‘‘ ﴿عَلَيۡهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ﴾ ’’جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔‘‘ ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت اور ان کا انتقام بہت برا ہو گا، جہنمی ان کی آوازیں سن کرگھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے، یہ فرشتے اپنی طاقت و قوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔‘‘ اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کے سر تسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا ذکر ہے۔
66:7

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَعۡتَذِرُواْ ٱلۡيَوۡمَۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

اے لوگو جنھوں نے کفر کیا! نہ عذر پیش کرو تم آج، یقیناً بدلہ دیے جاؤ گے تم جو کچھ تھے تم عمل کرتے(7) [7] یعنی قیامت کے روز ان الفاظ میں جہنمیوں کو زجر و توبیخ کی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡيَوۡمَ﴾ ’’اے کافرو! آج عذر مت پیش کرو۔‘‘ یعنی عذر پیش کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہو گیا، اب تو اعمال کی جزا و سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور تم نے اللہ تعالیٰ کے انکار، اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں اور اولیاء کے ساتھ جنگ کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا۔
66:8

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِي ٱللَّهُ ٱلنَّبِيَّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥۖ نُورُهُمۡ يَسۡعَىٰ بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَتۡمِمۡ لَنَا نُورَنَا وَٱغۡفِرۡ لَنَآۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! توبہ کرو تم اللہ کی طرف توبہ خالص ،امید ہے تمھارا رب یہ کہ دور کر دے تم سے تمھاری برائیاں اور وہ داخل کرے تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اس دن کہ نہیں رسوا کرے گا اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے اس کے ساتھ، ان کا نور دوڑتا ہو گا ان کے آگے اور ان کے دائیں ، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! پورا فرما ہمارے لیے ہمارا نور اور مغفرت فرما ہماری، بلاشبہ تو ہر چیز پر خوب قادر ہے(8) [8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں خالص توبہ کا حکم دیا ہے، اس پر ان کے ساتھ برائیاں مٹا دینے، جنتوں میں داخل کرنے اور فوز و فلاح کا وعدہ کیا ہے، جب قیامت کے دن اہل ایمان اپنے نور ایمان کے ساتھ اور اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے، اس کی خوشبو اور راحت سے متمتع ہو رہے ہوں گے اور اس روشنی کے بجھ جانے پر ڈریں گے جو منافقین کو دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے کہ وہ ان کے نور کو پورا کرے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے گا، ان کے پاس جو نور اور یقین ہو گا، اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انھیں نعمتوں بھری جنتوں اور رب کریم کے جوار میں پہنچا دے گا۔ یہ سب خالص توبہ کے آثار ہیں ۔خالص توبہ سے مراد وہ توبہ ہے جو ان تمام گناہوں کو شامل ہو جو بندے نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کیے ہیں، اس توبہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کے سوا کچھ مقصود نہ ہو، پھر بندہ تمام احوال میں اس توبہ پر قائم رہے۔
66:9

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ

اے نبی! آپ جہاد کیجیے کفار و منافقین سے اور سختی کیجیے ان پر اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور بری ہے وہ جگہ پھرنے کی(9) [9] اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے اور اس بارے میں ان پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں ان کے ساتھ دلیل کے ذریعے سے جہاد کرنا، ان کو اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا، گمراہی کی مختلف اقسام پر مبنی ان کے موقف کا ابطال کرنا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کے فیصلے کی اطاعت کرنے سے انکار کر دے، اس کے خلاف اسلحہ اور جنگ کے ذریعے سے جہاد کرنا، سب شامل ہے۔ پس ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان پر سختی کی جائے۔رہا جہاد کا پہلا مرتبہ، تو وہ اس ذریعے سے ہو جو بہترین ہے، پس کفار اور منافقین پر اور ان کے خلاف جہاد پر اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ اور آپ کی جماعت کو لگانا دنیا کے اندر ان کے لیے عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہو گا جو بہت بری جگہ ہے جس کی طرف ہر بدبخت اور خائب و خاسر شخص لوٹے گا۔ یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے لیے بیان کی ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ کافر کا مومن کے ساتھ اتصال اور مومن کا قرب کافر کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور مومن کا کافر کے ساتھ اتصال، مومن کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اگر مومن فرائض کو پورا کرتا ہے۔ گویا اس میں ازواج مطہرات کے لیے معصیت سے بچنے کی تنبیہ ہے نیز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتصال ان کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اگر انھوں نے برائی کی ہے، چنانچہ فرمایا:
66:10

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱمۡرَأَتَ نُوحٖ وَٱمۡرَأَتَ لُوطٖۖ كَانَتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَٰلِحَيۡنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗا وَقِيلَ ٱدۡخُلَا ٱلنَّارَ مَعَ ٱلدَّـٰخِلِينَ

بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12) [10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘ [11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3) [12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔
66:11

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱمۡرَأَتَ فِرۡعَوۡنَ إِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ٱبۡنِ لِي عِندَكَ بَيۡتٗا فِي ٱلۡجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِن فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12) [10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘ [11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3) [12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔
66:12

وَمَرۡيَمَ ٱبۡنَتَ عِمۡرَٰنَ ٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمَٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِۦ وَكَانَتۡ مِنَ ٱلۡقَٰنِتِينَ

بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12) [10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘ [11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3) [12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔