al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 67 · 30 verses
67:1تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
67:2ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡمَوۡتَ وَٱلۡحَيَوٰةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفُورُ
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
67:3ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ طِبَاقٗاۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلۡقِ ٱلرَّحۡمَٰنِ مِن تَفَٰوُتٖۖ فَٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ هَلۡ تَرَىٰ مِن فُطُورٖ
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
67:4ثُمَّ ٱرۡجِعِ ٱلۡبَصَرَ كَرَّتَيۡنِ يَنقَلِبۡ إِلَيۡكَ ٱلۡبَصَرُ خَاسِئٗا وَهُوَ حَسِيرٞ
بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:
67:5وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:6وَلِلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:7إِذَآ أُلۡقُواْ فِيهَا سَمِعُواْ لَهَا شَهِيقٗا وَهِيَ تَفُورُ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:8تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۖ كُلَّمَآ أُلۡقِيَ فِيهَا فَوۡجٞ سَأَلَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَذِيرٞ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:9قَالُواْ بَلَىٰ قَدۡ جَآءَنَا نَذِيرٞ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ كَبِيرٖ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:10وَقَالُواْ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ أَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيٓ أَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:11فَٱعۡتَرَفُواْ بِذَنۢبِهِمۡ فَسُحۡقٗا لِّأَصۡحَٰبِ ٱلسَّعِيرِ
اور البتہ تحقیق زینت دی ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے، اور بنایا ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کا ذریعہ، اور تیار کیا ہے ہم نے ان (شیطانوں) کے لیے عذاب بھڑکتی آگ کا(5) اور ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کے، عذاب جہنم ہے اور برا ٹھکانا ہے(وہ)(6) جب ڈالے جائیں گے وہ اس (جہنم) میں تو سنیں گے اس کا دہاڑنا جبکہ وہ جوش مار رہی ہو گی(7) قریب ہے کہ پھٹ پڑے گی غیظ (و غضب) سے، جب بھی ڈالا جائے گا اس میں کوئی گروہ تو پوچھیں گے ان سے اس کےمحافظ، کیا نہیں آیا تھا تمھارے پاس کوئی ڈرانے والا؟(8) وہ کہیں گے ہاں، یقیناً آیا تھا ہمارے پاس ایک ڈرانے والا تو جھٹلایا تھا ہم نے اسے اور کہا تھا ہم نے، نہیں نازل کی اللہ نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر گمراہی میں بہت بڑی (9) اور وہ کہیں گے، اگر ہم سنتے اور سمجھتے ہوتے تو نہ ہوتے ہم دوزخیوں میں (10) سو اعتراف کریں گے وہ اپنے گناہ (جرم) کا، پس دوری ہے واسطے دوزخیوں کے (11)
[5] یعنی ہم نے جمال بخشا ﴿ السَّمَآءَ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کے آسمان کو‘‘ جسے تم دیکھ رہے ہو اور جو تمھارے قریب اور متصل ہے۔ ﴿ بِمَصَابِيۡحَ﴾ ’’چراغوں کے ساتھ۔‘‘ اس سے مراد مختلف اقسام کی روشنیاں رکھنے والے ستارے ہیں کیونکہ اگر آسمان میں ستارے نہ ہوتے تو یہ ایک تاریک چھت ہوتی جس میں کوئی حسن و جمال نہ ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کو آسمان کی زینت، حسن و جمال اور راہ نما بنایا جن کے ذریعے سے بحر و بر میں راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر کہ اس نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا، اس امر کے منافی نہیں کہ بہت سے ستارے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوں کیونکہ آسمان شفاف ہوتے ہیں اور اگر آسمان دنیا پر ستارے نہ بھی ہوں، تو ساتوں آسمانوں کے ستاروں کے ذریعے سے آسمان دنیا کو زینت حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا﴾ اور بنیایا ہم نے چراغوں کو ﴿ رُجُوۡمًا لِّلشَّيٰطِيۡنِ﴾ ’’شیطانوں کو مارنے کا آلہ۔‘‘ جو آسمانوں سے خبر چوری کرنا چاہتے ہیں، پس یہ شہاب جنھیں ستاروں سے شیطان شیاطین پر پھینکا جاتا ہے، انھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا کے اندر شیاطین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ وَاَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے تیار کیا ہے۔ ﴿ عَذَابَ السَّعِيۡرِ﴾ ’’بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور اس کے بندوں کو گمراہ کیا۔
[6] اس لیے ان کی پیروی کرنے والے کفار انھی کی مانند ہیں، ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَلِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور برا ٹھکانا ہے۔‘‘ وہ ایسا ٹھکانا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بے حد رسوا کیا جائے گا۔
[7]﴿ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا فِيۡهَا﴾ جب ذلت اور رسوائی کے ساتھ ان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا ﴿ سَمِعُوۡا لَهَا شَهِيۡقًا﴾ تو وہ جہنم کی بہت بلند اور انتہائی کریہہ آواز سنیں گے ﴿ وَّهِيَ تَفُوۡرُ﴾ اور حالت یہ ہو گی کہ جہنم جوش مار رہی ہو گی۔
[8]﴿ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الۡغَيۡظِ﴾ ’’گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی۔‘‘ یعنی مجتمع ہونے کے باوجود، یوں لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائے گی، اور کفار پر مارے غیظ و غضب کے پھٹ کر ٹکڑے ہو جائے گی۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم ان کے ساتھ کیا کرے گی؟ جہنم کا داروغہ اہل جہنم کو جو زجر و توبیخ کرے گا، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿كُلَّمَاۤ اُلۡقِيَ فِيۡهَا فَوۡجٌ سَاَلَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ نَذِيۡرٌ﴾ ’’جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔‘‘ یعنی تمھارے اس حال اور تمھارے جہنم کے مستحق ہونے سے یوں لگتا ہے گویا کہ تمھیں اس کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور متنبہ کرنے والوں نے تمھیں کبھی اس سے متنبہ ہی نہیں کیا۔
[9]﴿ قَالُوۡا بَلٰى قَدۡ جَآءَنَا نَذِيۡرٌ١ۙ ۬ فَكَذَّبۡنَا وَقُلۡنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ١ۖ ۚ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ كَبِيۡرٍ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں، ضرور ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلادیا اور کہا کہ اللہ نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی، تم تو بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘ پس انھوں نے نبی کی تکذیبِ خاص اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہر چیز کی تکذیبِ عام کو جمع کر دیا۔ اور انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے متنبہ کرنے والے رسولوں کو علی الاعلان گمراہ کہا، حالانکہ وہی تو راہ دکھانے والے اور سیدھی راہ پر ہیں، پھر انھوں نے مجرد گمراہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی ’’گمراہی‘‘ کو ’’بہت بڑی گمراہی‘‘ قرار دیا ۔ تب کون سا عناد، تکبر اور ظلم اس کے مشابہ ہو سکتا ہے؟
[10]﴿ وَقَالُوۡا﴾ رشد و ہدایت کے اہل نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾ ’’اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے، تو دزخیوں میں نہ ہوتے۔‘‘ پس وہ اپنی ذات سے ہدایت کے تمام راستوں کی نفی کریں گے اور وہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اور رسول کی لائی ہوئی کتاب کو سننا اور عقل جو صاحب عقل کو فائدہ دیتی ہے، جو اسے حقائق اشیاء، بھلائی کو ترجیح دینے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرنے پر ٹھہراتی ہے جس کا انجام قابل مذمت ہو۔ مگر ان کے پاس تو سماعت ہے نہ عقل ۔ ان کا یہ رویہ اہل یقین و عرفان اور ارباب صدق و ایمان کے رویے کے برعکس ہے کیونکہ انھوں نے سمعی دلائل سے اپنے ایمان کی تائید کی اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جو کچھ رسولﷺ کر لے کر آئے انھوں نے اسے حصول علم، معرفت اور عمل کے لیے سنا،نیز انھوں نے عقلی دلائل کے ذریعے سے گمراہی میں سے ہدایت، قبیح میں سے حسين اور شر میں سے خیر کی معرفت حاصل کی، وہ اپنے ایمان میں منقول و معقول کی اقتدا کے مطابق تھے، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔پس پاک ہے وہ ذات جو بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنے فضل کے لیے مختص کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اپنے احسان سے بہرہ مند کرتی ہے اور جو بھلائی کے قابل نہیں ہوتا اسے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔
[11] یعنی ان کے لیے رحمت الٰہی سے دوری، خسارہ اور بدبختی ہے، وہ کتنے بدبخت اور کس قدر ہلاکت میں مبتلا ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ثواب کو کھو دیا اور جہنم کا ایندھن بنے، جو ان کے ابدان میں بھڑکتی رہے گی اور ان کے دلوں سے لپٹتی رہے گی!
67:12إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُم بِٱلۡغَيۡبِ لَهُم مَّغۡفِرَةٞ وَأَجۡرٞ كَبِيرٞ
بلاشبہ وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے، ان کے لیے مغفرت ہے اور اجر بہت بڑا (12)
[12] اللہ تعالیٰ نے بدبخت فاجروں کا ذکر کیا تو سعادت مند نیک لوگوں کا وصف بھی بیان کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَيۡبِ ﴾ بے شك وه لوگ جو اپنے تمام احوال میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پس وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ اس کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرتے ہیں جو ان کو دیا گیا ہے ﴿ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ﴾ ان کے لیے ان کے گناہوں کی بخشش ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا تو اس نے ان کو ان گناہوں کے شر اور جہنم کے عذاب سے بچا لیا۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے لیے ﴿ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ﴾ بڑا اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار رکھا ہے، یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، بہت بڑی بادشاہی، پیہم لذتیں، محلات، بلند بالا خانے، گوری چٹی خوبصورت عورتیں، خدمت گار اور خدمت کرنے والے لڑکے۔ اس سے بھی عظیم تر اور بڑا اجر رحمان کی رضا ہے جو جنت کے رہنے والوں کو حاصل ہو گی۔
67:13وَأَسِرُّواْ قَوۡلَكُمۡ أَوِ ٱجۡهَرُواْ بِهِۦٓۖ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
اور تم چھپا کر کرو اپنی بات یا پکار کر کرو اس کو، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (13) کیا (بھلا) نہیں جانے گا وہ جس نے (سب کو) پیدا کیا؟ اور وہ نہایت باریک بین ، خبردار (بھی) ہے (14)
[13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے وسیع علم، بے پایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَسِرُّوۡا قَوۡلَكُمۡ اَوِ اجۡهَرُوۡا بِهٖ﴾ ’’اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر ۔‘‘ یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ وہ سینے میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے، وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جا سکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے؟
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾ یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے وہ سینوں کے بھید کیوں کر نہ جانتی ہو گی؟ ﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾ اس کے علم و خبر بہت لطیف ہیں حتیٰ کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو ﴿ يَعۡلَمُ السِّرَّ وَاَخۡفٰى﴾(طٰہٰ:20؍7) ’’چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ (اَللَّطِیفُ) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے بچاتا ہے جہاں اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلیٰ مراتب پر فائز کرتا ہے، جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلیٰ مطالب و مقاصد تک پہنچاتا ہے۔
67:14أَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلۡخَبِيرُ
اور تم چھپا کر کرو اپنی بات یا پکار کر کرو اس کو، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (13) کیا (بھلا) نہیں جانے گا وہ جس نے (سب کو) پیدا کیا؟ اور وہ نہایت باریک بین ، خبردار (بھی) ہے (14)
[13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے وسیع علم، بے پایاں لطف و کرم کے بارے میں خبر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَسِرُّوۡا قَوۡلَكُمۡ اَوِ اجۡهَرُوۡا بِهٖ﴾ ’’اور تم پوشیدہ کہو یا ظاہر ۔‘‘ یعنی اس کے لیے دونوں برابر ہیں، دونوں میں سے کوئی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی، پس ﴿ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ وہ سینے میں چھپی ہوئی نیتوں اور ارادوں کو بھی جانتا ہے، وہ ان اقوال کو کیوں کر نہیں جانتا جن کو سنا جا سکتا ہے اور جن کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے؟
[14] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم پر عقلی دلیل سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾ یعنی وہ ہستی جس نے مخلوق کو نہایت مہارت سے اور بہترین طریقے سے پیدا کیا ہے وہ سینوں کے بھید کیوں کر نہ جانتی ہو گی؟ ﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾ اس کے علم و خبر بہت لطیف ہیں حتیٰ کہ وہ سینے کے بھیدوں، ضمیر کے رازوں، تمام چھپی ہوئی چیزوں، خفیہ امور اور غیوب کو جانتا ہے، وہی ہے جو ﴿ يَعۡلَمُ السِّرَّ وَاَخۡفٰى﴾(طٰہٰ:20؍7) ’’چھپی ہوئی اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔‘‘ (اَللَّطِیفُ) کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اپنے بندے اور دوست کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آتا ہے، اس کے ساتھ احسان اور نیکی اس طرح کرتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے شر سے بچاتا ہے جہاں اسے وہم و گمان نہیں ہوتا، وہ اسے ایسے اسباب کے ذریعے سے اعلیٰ مراتب پر فائز کرتا ہے، جو بندے کے تصور میں بھی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اسے ناگوار حالات کا مزا چکھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اسے جلیل القدر محبوبات اور اعلیٰ مطالب و مقاصد تک پہنچاتا ہے۔
67:15هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ ذَلُولٗا فَٱمۡشُواْ فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُواْ مِن رِّزۡقِهِۦۖ وَإِلَيۡهِ ٱلنُّشُورُ
وہ، وہ ذات ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو نرم (مسخر) سو چلو پھرو تم اس کے راستوں میں اور کھاؤ اس (اللہ) کے رزق میں سے اور اسی کی طرف ہے قبروں سے اٹھ کر جانا (15)
[15] یعنی وہی ہے جس نے زمین کو مسخر کر دیا اور اسے تمھارا مطیع کر دیا تاکہ تم اس میں ہر وہ چیز حاصل کر سکو جس سے تمھاری حاجات متعلق ہیں، مثلاً: باغات لگانا، عمارتیں تعمیر کرنا، کھیتیاں اگانا اور ایسی شاہراہیں بنانا جو تمھیں دور دراز ملکوں اور شہروں تک پہنچاتی ہیں ﴿ فَامۡشُوۡا فِيۡ مَنَاكِبِهَا﴾ ’’پس تم اس کی راہوں میں چلو پھرو۔‘‘ یعنی طلب رزق و مکاسب کے لیے ﴿ وَكُلُوۡا مِنۡ رِّؔزۡقِهٖ١ؕ وَاِلَيۡهِ النُّشُوۡرُ﴾ ’’اور اللہ کے رزق سے کھاؤ اور اسی کی طرف جی اٹھنے کے بعد جانا ہے۔‘‘ یعنی اس گھر سے منتقل ہو کر جسے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے امتحان گاہ اور ایسا وسیلہ بنایا ہے جس کے ذریعے سے آخرت کے گھر تک پہنچا جاتا ہے، تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا تاکہ وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا و سزا دے۔
67:16ءَأَمِنتُم مَّن فِي ٱلسَّمَآءِ أَن يَخۡسِفَ بِكُمُ ٱلۡأَرۡضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
67:17أَمۡ أَمِنتُم مَّن فِي ٱلسَّمَآءِ أَن يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبٗاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ كَيۡفَ نَذِيرِ
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
67:18وَلَقَدۡ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ
کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)
[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔
67:19أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ فَوۡقَهُمۡ صَـٰٓفَّـٰتٖ وَيَقۡبِضۡنَۚ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱلرَّحۡمَٰنُۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءِۭ بَصِيرٌ
کیا نہیں دیکھا انھوں نے (اڑتے) پرندوں کی طرف اپنے اوپر، پر پھیلاتے اور سمیٹتے ہوئے؟ نہیں تھا متا ان کو مگر (اللہ) رحمن ہی بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے(19)
[19] یہ عتاب ہے اور پرندوں کی حالت پر غور کرنے کی ترغیب ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخر کیا اور پھر ان کے لیے فضا اور ہوا کو مسخر کیا جس میں وہ پرواز کے لیے پر پھیلائے پھرتے ہیں، نیچے اترنے کے لیے اپنے پروں کو اکٹھا کرتے اور اس فضا میں اپنے ارادے اور ضرورت کے مطابق اِدھر اُدھر تیرتے پھرتے ہیں۔ ﴿ مَا يُمۡسِكُهُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ﴾ ’’انھیں اللہ رحمٰن ہی تھامے ہوئے ہے۔‘‘ پس رحمان ہی ہے جس نے ان کے لیے فضائے بسیط کو مسخر کیا اور ان کو ایسی حالت میں پیدا کیا جو پرواز کے لیے مناسب ہے۔ پس جو کوئی پرندوں کی حالت میں غور کر کے عبرت حاصل کرتا ہے تو ان کی یہ حالت اس کے لیے قدرت الٰہی اور عنایت ربانی پر دلالت کرتی ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍۭؔ بَصِيۡرٌ﴾ ’’بے شک ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔‘‘ وہ اپنے بندوں کی ان کے لائقِ احوال اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق تدبیر کرتا ہے۔
67:20أَمَّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي هُوَ جُندٞ لَّكُمۡ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ ٱلرَّحۡمَٰنِۚ إِنِ ٱلۡكَٰفِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ
بھلا کون ہے جو وہ لشکر ہو تمھارا، کہ وہ مدد کرے تمھاری سوائے رحمن کے؟ نہیں ہیں کافر مگر دھوکے ہی میں (20) بھلا کون ہے وہ جو وہ رزق دے تمھیں اگر روک لے رحمن اپنا رزق ؟بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور(حق سے)گریز پر (21)
[20] اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّـكُمۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
[21]﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ﴾ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوۡا﴾ جمے ہوئے ہیں ﴿ فِيۡ عُتُوٍّ﴾ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوۡرٍ﴾ ’’اور نفرت میں۔‘‘ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔
67:21أَمَّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي يَرۡزُقُكُمۡ إِنۡ أَمۡسَكَ رِزۡقَهُۥۚ بَل لَّجُّواْ فِي عُتُوّٖ وَنُفُورٍ
بھلا کون ہے جو وہ لشکر ہو تمھارا، کہ وہ مدد کرے تمھاری سوائے رحمن کے؟ نہیں ہیں کافر مگر دھوکے ہی میں (20) بھلا کون ہے وہ جو وہ رزق دے تمھیں اگر روک لے رحمن اپنا رزق ؟بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں سرکشی اور(حق سے)گریز پر (21)
[20] اللہ تعالیٰ اپنے امر سے دور بھاگنے اور حق سے روگردانی کرنے والے سرکشوں سے فرماتا ہے: ﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ جُنۡدٌ لَّـكُمۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ﴾ یعنی جب رحمٰن تمھارے ساتھ کوئی برائی کرنے اارادہ کرے تو کون سا تمھارا لشکر اس برائی کو تم سے دور کرسکتا ہے؟ یعنی رحمان کے سوا تمھارے دشمنوں کے خلاف کون تمھاری مدد کر سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا، عزت عطا کرنے والا اور ذلت سے ہم کنار کرنے والا ہے اور اس کے سوا تمام مخلوق کسی بندے کی مدد کے لیے اکٹھی ہو جائے تو کسی بھی دشمن کے خلاف اسے ذرہ بھر فائدہ نہیں دے سکتی۔پس کفار کا یہ جان لینے کے بعد کہ رحمان کے سوا کوئی ان کی مدد نہیں کر سکتا، اپنے کفر پر جمے رہنا فریب اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
[21]﴿ اَمَّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ يَرۡزُقُكُمۡ اِنۡ اَمۡسَكَ رِزۡقَهٗ﴾ یعنی رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اگر وہ تم سے رزق کو روک لے تو کون تمھارے لیے رزق بھیج سکتا ہے؟ کیونکہ مخلوق تو خود اپنے رزق پر قادر نہیں، دوسروں کو کیسے رزق دے سکتی ہے؟ بندوں کو جو نعمت عطا ہوتی ہے صرف اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ پس رزق عطا کرنے والی اور نعمتوں سے بہرہ ور کرنے والی ہی اس بات کی مستحق ہے کہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے۔مگر کفار ﴿لَّجُّوۡا﴾ جمے ہوئے ہیں ﴿ فِيۡ عُتُوٍّ﴾ حق کے معاملے میں سختی اور درشتی میں ﴿ وَّنُفُوۡرٍ﴾ ’’اور نفرت میں۔‘‘ یعنی حق سے دور بھاگتے ہیں۔
67:22أَفَمَن يَمۡشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجۡهِهِۦٓ أَهۡدَىٰٓ أَمَّن يَمۡشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ
کیا پس جو شخص چلتا ہے اوندھا اپنے چہرے کے بل، (وہ) زیادہ ہدایت والا ہے یا وہ شخص جو چلتا ہے سیدھا اوپر صراطِ مستقیم کے؟ (22)
[22] یعنی ان دو شخصوں میں سے کون زیادہ ہدایت کی راہ پر ہے؟ کیا وہ شخص جو گمراہی میں سرگشتہ پھرتا ہے، اپنے کفر میں غرق ہے، اور اس کی سمجھ الٹ گئی ہے اس کے نزدیک حق باطل اور باطل حق بن چکا ہے یا وہ شخص جو حق کا علم رکھنے والا، حق کو ترجیح دینے والا، حق پر عمل کرنے والا اور اپنے اقوال و افعال اور تمام احوال میں صراط مستقیم پر گامزن ہے؟ ان دونوں اشخاص کے احوال پر مجرد ایک نظر ڈالنے سے ہدایت یافتہ اور گمراہ کے درمیان فرق معلوم ہو جائے گا۔احوال، اقوال سے بڑے گواہ ہیں۔
67:23قُلۡ هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَكُمۡ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَۚ قَلِيلٗا مَّا تَشۡكُرُونَ
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
67:24قُلۡ هُوَ ٱلَّذِي ذَرَأَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَإِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
67:25وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
67:26قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡعِلۡمُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٞ
کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ہے جس نے پیدا کیا تمھیں اور اس نے بنائے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل ،بہت ہی کم شکر کرتے ہو تم (23)کہہ دیجیے! وہ (اللہ) وہ ذات ہے جس نے پھیلایا تمھیں زمین میں، اور اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم (24) اور کہتے ہیں وہ (کافر) ، کب ہو گا یہ وعدہ (قیامت) اگر ہو تم سچے؟ (25)کہہ دیجیے! بلاشبہ اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف ڈرانے والا ہوں صریح (26)
[23] اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہ وہی اکیلا معبود ہے، اپنے بندوں کو اپنے شکر کی طرف بلاتے ہوئے اور عبادت میں اپنے متفرد ہونے کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ﴾ یعنی وہی ہے جو کسی معاون اور مددگار کے بغیر تمھیں عدم سے وجود میں لایا، جب اس نے تمھیں پیدا کیا تو کانوں، آنکھوں اور دلوں کے ساتھ تمھارے وجود کی تکمیل کی جو بدن کے نافع ترین اور کامل ترین جسمانی اعضاء ہیں۔ مگر ان نعمتوں کے باوجود ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تم کم ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو‘‘ تم میں شکر گزار لوگ بہت کم اور شکر گزاری بہت کم ہے۔
[24]﴿ قُلۡ هُوَ الَّذِيۡ ذَرَاَكُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں زمین کے چاروں سمت پھیلا یااور اس کے کناروں تک تمھیں آباد کیا، تمھیں امر و نہی کا مکلف کیا، تمھیں نعمتوں سے سرفراز فرمایا جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، پھر اس کے بعد قیامت کے دن وہ تمھیں اکٹھا کرے گا۔ مگر یہ معاندین حق، جزا و سزا کے اس وعدے کا انکار کرتے ہیں۔
[25]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ﴾ اور تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔‘‘ انھوں نے ان کی صداقت کی علامت یہ رکھی کہ انھیں قیامت کے دن کی آمد کے وقت کے بارے میں آگاہ کریں جبکہ یہ ظلم اور عناد ہے۔
[26] پس اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں اور نہ اس خبر اور اس کے وقوع کے وقت کی خبر میں کوئی تلازم ہی ہے کیونکہ صداقت اپنے دلائل سے پہچانی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں، اس شخص کے لیے ادنیٰ سا شک نہیں رہتا جو توجہ کے ساتھ سنتا ہے۔
67:27فَلَمَّا رَأَوۡهُ زُلۡفَةٗ سِيٓـَٔتۡ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقِيلَ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
67:28قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَهۡلَكَنِيَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوۡ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلۡكَٰفِرِينَ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
67:29قُلۡ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ءَامَنَّا بِهِۦ وَعَلَيۡهِ تَوَكَّلۡنَاۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ هُوَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔
67:30قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرٗا فَمَن يَأۡتِيكُم بِمَآءٖ مَّعِينِۭ
پس جب وہ دیکھیں گے اس (عذاب قیامت) کو قریب ہی تو بگڑ جائیں گے چہرے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا اور کہا جائے گا، یہ ہے وہ جو تھے تم (دنیا میں) اس کو مانگتے (27) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہلاک کر دے مجھے اللہ اور ان کو بھی جو میرے ساتھ ہیں، یا وہ رحم کرے ہم پر تو کون ہے وہ جو پناہ دے کافروں کو عذاب درد ناک سے؟ (28) کہہ دیجیے! وہ (اللہ) نہایت مہربان ہے ہم ایمان لائے اس پر اور اسی پر توکل کیا ہم نے، پس عنقریب تم جان لوگے کون ہے وہ جو صریح گمراہی میں ہے؟(29) کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اگر ہو جائے تمھارا پانی گہرا تو کون ہے وہ کہ لے آئے وہ تمھارے پاس پانی بہتا ہوا؟ (30)
[27] کفار کی تکذیب اور اس بنا پر ان کے فریب کا محل و مقام اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اس دنیا میں ہیں، جب جزا و سزا کا دن ہو گا اور وہ عذاب کو ﴿زُلۡفَةً﴾ اپنے قریب دیکھیں گے تو یہ انھیں بہت برا لگے گا اور انھیں خوف زدہ کر دے گا، ان کے چہرے بدل جائیں گے، ان کی تکذیب پر انھیں زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا’’یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے۔ آج تم نے اسے عیاں دیکھ لیا ہے اور تمام معاملہ تمھارے سامنے ظاہر ہو گیا ہے، تمھارے تمام اسباب منقطع ہو گئے ہیں اور اب عذاب بھگتنے کے سوا کچھ باقی نہیں۔‘‘
[28] چونکہ رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے جو آپ کی دعوت کو ٹھکراتے تھے، آپ کی ہلاکت، اور آپ کے بارے میں گردش زمانہ کے منتظر تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں کہ اگر تمھاری آرزو پوری ہو بھی جائے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے تو یہ چیز تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور تم عذاب کے مستحق بن گئے۔ پس اب تمھیں درد ناک عذاب سے کون بچا سکتا ہے جس کا تم پر واقع ہونا حتمی ہے؟ تب میری ہلاکت کے بارے میں تمھاری مشقت اور حرص غیر مفید ہے اور وہ تمھارے کچھ کام نہیں آئے گی۔
[29] انھوں نے اپنے اس قول کا... کہ وہ ہدایت پر ہیں اور رسول ﷺ گمراہی پر ہیں... اعادہ کیا، اس کے اظہار میں جرأت دکھائی، اس پر جھگڑا اور لڑائی کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے حال اور آپ کی پیروی کرنے والوں کے حال سے آگاہ کر دیں جس سے ہر شخص پر ان کی ہدایت اور تقویٰ واضح ہو جائے اور وہ یہ کہنے کا حکم تھا:﴿ هُوَ الرَّحۡمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَعَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡنَا﴾ ’’ ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر توکل کیا۔‘‘ اور ایمان باطنی تصدیق اور اعمال باطنہ و ظاہرہ کو شامل ہے۔چونکہ تمام اعمال کا وجود اور ان کا کمال توکل پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال میں سے توکل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ورنہ توکل، ایمان اور اس کے جملہ لوازم میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوۡۤا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾(المائدہ:5؍23) ’’اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ جب رسولﷺ اور ان لوگوں کا یہ حال ہے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں، اور یہ ایسا حال ہے جو فلاح کے لیے متعین ہے اور جس پر سعادت موقوف ہے، اور آپ کے دشمنوں کا حال اس کے متضاد ہے، پس ان کے پاس ایمان ہے نہ توکل تب اس سے معلوم ہو گیا کہ کون ہدایت پر ہے اور کون کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔
[30] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ نعمتیں عطا کرنے میں اکیلا اور متفرد ہے ، خاص طور پر پانی کی نعمت جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَصۡبَحَ مَآؤُكُمۡ غَوۡرًؔا﴾ ’’کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمھارا پانی خشک ہوجائے ۔‘‘ یعنی گہرا چلا جائے ﴿ فَمَنۡ يَّاۡتِيۡكُمۡ بِمَآءٍ مَّعِيۡنٍ﴾ ’’پس کون ہے جو تمھارے لیے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے۔‘‘ جس کو تم خود پیتے ہو، اپنے مویشیوں کو پلاتے ہو اور اپنے باغات اور کھیتوں کو سیراب کرتے ہو ۔ یہ استفہام بمعنی نفی ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس پر قادر نہیں۔