al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 65 · 12 verses
65:1يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحۡصُواْ ٱلۡعِدَّةَۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ رَبَّكُمۡۖ لَا تُخۡرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخۡرُجۡنَ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ لَا تَدۡرِي لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذَٰلِكَ أَمۡرٗا
اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
65:2فَإِذَا بَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمۡسِكُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ فَارِقُوهُنَّ بِمَعۡرُوفٖ وَأَشۡهِدُواْ ذَوَيۡ عَدۡلٖ مِّنكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلشَّهَٰدَةَ لِلَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ يُوعَظُ بِهِۦ مَن كَانَ يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا
اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
65:3وَيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُۚ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَٰلِغُ أَمۡرِهِۦۚ قَدۡ جَعَلَ ٱللَّهُ لِكُلِّ شَيۡءٖ قَدۡرٗا
اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔
65:4وَٱلَّـٰٓـِٔي يَئِسۡنَ مِنَ ٱلۡمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمۡ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشۡهُرٖ وَٱلَّـٰٓـِٔي لَمۡ يَحِضۡنَۚ وَأُوْلَٰتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مِنۡ أَمۡرِهِۦ يُسۡرٗا
اور وہ عورتیں جو مایوس ہو گئیں حیض سے تمھاری (مطلقہ) عورتوں میں سے، اگر شک میں پڑو تم تو ان کی عدت ہے تین مہینے، اور (اسی طرح) ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا (ابھی) اور (جو) حمل والیاں ہیں ان کی عدت وضع حمل (بچہ جننا) ہے اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے اس کے کام میں آسانی(4) یہ حکم ہے اللہ کا، اس نے نازل کیا ہے اسے تمھاری طرف، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ دور کر دیتا ہے اس سے اس کی برائیاں اور زیادہ دیتا ہے اس کو اجر(5)
[4] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ يَىِٕسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآىِٕكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ﴾ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا ، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ﴾ ’’تین مہینے ہے‘‘ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ لَمۡ يَحِضۡنَ﴾ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے:﴿ وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ﴾(البقرہ:2؍228)’’اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘﴿ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ﴾ ’’اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت‘‘ یعنی ان کی عدت ﴿ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’وضع حمل تک ہے۔‘‘ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ يُسۡرًا﴾ یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔
[5]﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿ اَمۡرُ اللّٰهِ اَنۡزَلَهٗۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے۔‘‘ تاکہ تم اس پر چلو، اسے اپنا راہ نما بناؤ اور اس کی تعظیم کرو ﴿وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَـفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا﴾ ’’اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔‘‘ یعنی محذور اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہو گا۔
65:5ذَٰلِكَ أَمۡرُ ٱللَّهِ أَنزَلَهُۥٓ إِلَيۡكُمۡۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُعۡظِمۡ لَهُۥٓ أَجۡرًا
اور وہ عورتیں جو مایوس ہو گئیں حیض سے تمھاری (مطلقہ) عورتوں میں سے، اگر شک میں پڑو تم تو ان کی عدت ہے تین مہینے، اور (اسی طرح) ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا (ابھی) اور (جو) حمل والیاں ہیں ان کی عدت وضع حمل (بچہ جننا) ہے اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے اس کے کام میں آسانی(4) یہ حکم ہے اللہ کا، اس نے نازل کیا ہے اسے تمھاری طرف، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ دور کر دیتا ہے اس سے اس کی برائیاں اور زیادہ دیتا ہے اس کو اجر(5)
[4] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ مامور بہ طلاق، عورتوں کی عدت کے لیے ہے، اس لیے عدت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ يَىِٕسۡنَ مِنَ الۡمَحِيۡضِ مِنۡ نِّسَآىِٕكُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ﴾ وہ عورتیں جن کو حیض آتا تھا ، پھر بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا اور دوبارہ حیض آنے کی امید نہ رہی تو ان کی عدت ﴿ ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ﴾ ’’تین مہینے ہے‘‘ ہر حیض کے مقابلے میں ایک مہینہ مقرر کیا ہے۔ ﴿ وَّ الّٰٓـِٔيۡ لَمۡ يَحِضۡنَ﴾ یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا یا وہ بالغ عورتیں جن کو بالکل حیض نہیں آیا، ان عورتوں کی مانند ہیں جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہیں، ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ رہی وہ عورتیں جن کو حیض آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عدت اپنے اس ارشا د میں بیان فرمائی ہے:﴿ وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ﴾(البقرہ:2؍228)’’اور مطلقہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘﴿ وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ﴾ ’’اور حمل والی عورتوں کی مقررہ مدت‘‘ یعنی ان کی عدت ﴿ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’وضع حمل تک ہے۔‘‘ یعنی ان کے بطن میں جو ایک یا متعدد بچے ہیں، ان کو وہ جنم دے دیں، اس صورت میں مہینوں وغیرہ کا اعتبار نہ ہو گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّهٗ مِنۡ اَمۡرِهٖ يُسۡرًا﴾ یعنی جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے تمام امور کو آسان اور ہر مشکل کو سہل کر دیتا ہے۔
[5]﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ حکم جو اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے ﴿ اَمۡرُ اللّٰهِ اَنۡزَلَهٗۤ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے۔‘‘ تاکہ تم اس پر چلو، اسے اپنا راہ نما بناؤ اور اس کی تعظیم کرو ﴿وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَـفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّاٰتِهٖ وَيُعۡظِمۡ لَهٗۤ اَجۡرًا﴾ ’’اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔‘‘ یعنی محذور اس سے دور اور مطلوب اس کو حاصل ہو گا۔
65:6أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ وَإِن كُنَّ أُوْلَٰتِ حَمۡلٖ فَأَنفِقُواْ عَلَيۡهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ فَإِنۡ أَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأۡتَمِرُواْ بَيۡنَكُم بِمَعۡرُوفٖۖ وَإِن تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَهُۥٓ أُخۡرَىٰ
تم رکھو انھیں جہاں تم (خود) رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق اور نہ تکلیف دو تم انھیں تاکہ تنگی کرو تم ان پر اور اگر ہوں وہ (مطلقات) حمل والیاں تو تم خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ جن لیں وہ اپنا حمل ، پھر اگر وہ (بچے کو) دودھ پلائیں تمھارے لیے تو دو تم انھیں ان کی اجرت اور مشورہ کرو تم آپس میں دستور کے مطابق اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ پلائے گی اسے کوئی دوسری عورت(6) چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق اور جو شخص کہ تنگ کیا گیا ہو اس پر رزق اس کا تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو دیا ہے اس کو اللہ نے، نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو بھی مگر (اسی قدر) جو اس نے دیا ہے اس (نفس) کو عنقریب کر دے گا اللہ بعد تنگی کے آسانی(7)
[6] پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتیوں کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمایا اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ ﴿ وَلَا تُضَآرُّوۡهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوۡا عَلَيۡهِنَّ﴾ یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے، اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہ عدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آ کر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقات کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور مطلقات کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح سکونت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ مطلقات کو کوئی ضرر اور مشقت لاحق نہ ہو اور یہ عرف عام کی طرف راجع ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّ﴾ ’’اور اگر ہوں وہ۔‘‘ یعنی مطلقات ﴿ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَيۡهِنَّ حَتّٰى يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’حمل والیاں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘ اگر طلاق بائنہ ہے تو یہ نان و نفقہ اس حمل کی وجہ سے ہے جو اس کے پیٹ میں ہے اور اگر طلاق رجعی ہے تو یہ نفقہ خود اس کے لیے اور اس کے حمل کے لیے ہے۔ نان و نفقہ کی انتہا وضع حمل تک ہے۔ جب وضع حمل ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی یا نہیں پلائیں گی ؟ ﴿ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’پس اگر وہ بچے کو تمھارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔‘‘ یعنی طے شدہ اجرت اگر طے کی گئی ہو ورنہ وہ اجرت ادا کی جائے جو اس کے ہم مرتبہ لوگ ادا کرتے ہیں ﴿ وَاۡتَمِرُوۡا بَيۡنَكُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾یعنی میاں بیوی اور دیگر لوگ ایک دوسرے کو معروف کا حکم دیں اور معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں دنیا و آخرت کی کوئی منفعت اور مصلحت ہو کیونکہ باہم ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرنے میں غفلت برتنے سے ضرر اور شر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نیز باہم معروف کا حکم دینے میں نیکی اور تقویٰ پر تعاون ہے۔اس مقام پر اس بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اتمام عدت پر، مفارقت کے وقت شوہر اور بیوی کے درمیان، خاص طور پر جب ان دونوں کا مشترکہ بچہ ہو، غالب حالات میں بیوی اور بچے کے نفقہ کے بارے میں جدائی کے ساتھ ساتھ تنازع اور جھگڑا واقع ہو جاتا ہے، جدائی عموماً بغض اور کینہ سے مقرون ہوتی ہے، جس سے بہت سی چیزیں متاثر ہوتی ہیں، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کو نیکی، حسن معاشرت، عدم مشقت اور عدم منازعت کا حکم دیا جائے اور ان امور میں خیر خواہی کی جائے۔﴿ وَاِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ﴾ ’’اور اگر تم باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو۔‘‘ یعنی اگر دونوں میاں بیوی اس امر پر متفق نہ ہوں کہ (مطلقہ) بیوی اپنے بچے کو دودھ پلائے ﴿ فَسَتُرۡضِعُ لَهٗۤ اُخۡرٰى﴾ تو اس مطلقہ بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے ۔فرمایا: ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾(البقرہ:2؍233) ’’اگر تمھارا ارادہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، جب تم وہ اجرت معروف طریقے سے ادا کر دو جو تم نے طے کی تھی۔‘‘ یہ اس صورت میں ہے جب بچہ اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرتا ہو۔ اگر بچہ اپنی ماں کے سوا کسی عورت کا دودھ قبول نہ کرتا ہو، تو اس کی ماں رضاعت کے لیے متعین ہو گی اور ماں پر رضاعت واجب ہو گئی اور اگر وہ دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر دونوں میں اجرت پر اتفاق نہ ہو سکے تو اس کے لیے ہم مرتبہ دودھ پلانے والی کی اجرت ہے۔یہ حکم اس آیت کریمہ کے معنیٰ سے ماخوذ ہے کیونکہ بچہ جب حمل کی مدت کے دوران اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہ تو باہر نہیں آ سکتا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچے کے ولی پر نفقہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اور جب بچہ متولد ہوتا ہے اور وہ خوراک اپنی ماں سے یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے حاصل کر سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دونوں صورتیں مباح کر دی ہیں۔ چنانچہ بچہ اگرچہ ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی ماں کے سوا کہیں سے خوراک نہ لیتا ہوں تو وہ بمنزلہ حمل کے ہے اور اس کی خوراک کے لیے اس کی ماں کو مقرر کیا جائے گا۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نفقہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖ﴾ ’’وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔‘‘یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقراء خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ﴾ ’’اور جسے اس کا رزق نپا تلا ملے۔‘‘ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ﴿ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ اسی (رزق) میں خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾ ’’اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقہ وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ ﴿ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾ یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر سختی کو دور کر دے گا اور مشقت کو اٹھالے گا۔ کیونکہ ﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا۰۰ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرً﴾’’ (الانشراح: 94/4، 5) ’’بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
65:7لِيُنفِقۡ ذُو سَعَةٖ مِّن سَعَتِهِۦۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهُۥ فَلۡيُنفِقۡ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُۚ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰهَاۚ سَيَجۡعَلُ ٱللَّهُ بَعۡدَ عُسۡرٖ يُسۡرٗا
تم رکھو انھیں جہاں تم (خود) رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق اور نہ تکلیف دو تم انھیں تاکہ تنگی کرو تم ان پر اور اگر ہوں وہ (مطلقات) حمل والیاں تو تم خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ جن لیں وہ اپنا حمل ، پھر اگر وہ (بچے کو) دودھ پلائیں تمھارے لیے تو دو تم انھیں ان کی اجرت اور مشورہ کرو تم آپس میں دستور کے مطابق اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ پلائے گی اسے کوئی دوسری عورت(6) چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق اور جو شخص کہ تنگ کیا گیا ہو اس پر رزق اس کا تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو دیا ہے اس کو اللہ نے، نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو بھی مگر (اسی قدر) جو اس نے دیا ہے اس (نفس) کو عنقریب کر دے گا اللہ بعد تنگی کے آسانی(7)
[6] پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتیوں کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمایا اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ ﴿ وَلَا تُضَآرُّوۡهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوۡا عَلَيۡهِنَّ﴾ یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے، اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہ عدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آ کر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقات کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور مطلقات کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح سکونت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ مطلقات کو کوئی ضرر اور مشقت لاحق نہ ہو اور یہ عرف عام کی طرف راجع ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّ﴾ ’’اور اگر ہوں وہ۔‘‘ یعنی مطلقات ﴿ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَيۡهِنَّ حَتّٰى يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’حمل والیاں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘ اگر طلاق بائنہ ہے تو یہ نان و نفقہ اس حمل کی وجہ سے ہے جو اس کے پیٹ میں ہے اور اگر طلاق رجعی ہے تو یہ نفقہ خود اس کے لیے اور اس کے حمل کے لیے ہے۔ نان و نفقہ کی انتہا وضع حمل تک ہے۔ جب وضع حمل ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی یا نہیں پلائیں گی ؟ ﴿ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’پس اگر وہ بچے کو تمھارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔‘‘ یعنی طے شدہ اجرت اگر طے کی گئی ہو ورنہ وہ اجرت ادا کی جائے جو اس کے ہم مرتبہ لوگ ادا کرتے ہیں ﴿ وَاۡتَمِرُوۡا بَيۡنَكُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾یعنی میاں بیوی اور دیگر لوگ ایک دوسرے کو معروف کا حکم دیں اور معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں دنیا و آخرت کی کوئی منفعت اور مصلحت ہو کیونکہ باہم ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرنے میں غفلت برتنے سے ضرر اور شر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نیز باہم معروف کا حکم دینے میں نیکی اور تقویٰ پر تعاون ہے۔اس مقام پر اس بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اتمام عدت پر، مفارقت کے وقت شوہر اور بیوی کے درمیان، خاص طور پر جب ان دونوں کا مشترکہ بچہ ہو، غالب حالات میں بیوی اور بچے کے نفقہ کے بارے میں جدائی کے ساتھ ساتھ تنازع اور جھگڑا واقع ہو جاتا ہے، جدائی عموماً بغض اور کینہ سے مقرون ہوتی ہے، جس سے بہت سی چیزیں متاثر ہوتی ہیں، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کو نیکی، حسن معاشرت، عدم مشقت اور عدم منازعت کا حکم دیا جائے اور ان امور میں خیر خواہی کی جائے۔﴿ وَاِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ﴾ ’’اور اگر تم باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو۔‘‘ یعنی اگر دونوں میاں بیوی اس امر پر متفق نہ ہوں کہ (مطلقہ) بیوی اپنے بچے کو دودھ پلائے ﴿ فَسَتُرۡضِعُ لَهٗۤ اُخۡرٰى﴾ تو اس مطلقہ بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے ۔فرمایا: ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾(البقرہ:2؍233) ’’اگر تمھارا ارادہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، جب تم وہ اجرت معروف طریقے سے ادا کر دو جو تم نے طے کی تھی۔‘‘ یہ اس صورت میں ہے جب بچہ اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرتا ہو۔ اگر بچہ اپنی ماں کے سوا کسی عورت کا دودھ قبول نہ کرتا ہو، تو اس کی ماں رضاعت کے لیے متعین ہو گی اور ماں پر رضاعت واجب ہو گئی اور اگر وہ دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر دونوں میں اجرت پر اتفاق نہ ہو سکے تو اس کے لیے ہم مرتبہ دودھ پلانے والی کی اجرت ہے۔یہ حکم اس آیت کریمہ کے معنیٰ سے ماخوذ ہے کیونکہ بچہ جب حمل کی مدت کے دوران اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہ تو باہر نہیں آ سکتا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچے کے ولی پر نفقہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اور جب بچہ متولد ہوتا ہے اور وہ خوراک اپنی ماں سے یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے حاصل کر سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دونوں صورتیں مباح کر دی ہیں۔ چنانچہ بچہ اگرچہ ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی ماں کے سوا کہیں سے خوراک نہ لیتا ہوں تو وہ بمنزلہ حمل کے ہے اور اس کی خوراک کے لیے اس کی ماں کو مقرر کیا جائے گا۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نفقہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖ﴾ ’’وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔‘‘یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقراء خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ﴾ ’’اور جسے اس کا رزق نپا تلا ملے۔‘‘ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ﴿ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ اسی (رزق) میں خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾ ’’اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقہ وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ ﴿ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾ یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر سختی کو دور کر دے گا اور مشقت کو اٹھالے گا۔ کیونکہ ﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا۰۰ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرً﴾’’ (الانشراح: 94/4، 5) ’’بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘
65:8وَكَأَيِّن مِّن قَرۡيَةٍ عَتَتۡ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِۦ فَحَاسَبۡنَٰهَا حِسَابٗا شَدِيدٗا وَعَذَّبۡنَٰهَا عَذَابٗا نُّكۡرٗا
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
65:9فَذَاقَتۡ وَبَالَ أَمۡرِهَا وَكَانَ عَٰقِبَةُ أَمۡرِهَا خُسۡرًا
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
65:10أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدٗاۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَـٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۚ قَدۡ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكُمۡ ذِكۡرٗا
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
65:11رَّسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعۡمَلۡ صَٰلِحٗا يُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۖ قَدۡ أَحۡسَنَ ٱللَّهُ لَهُۥ رِزۡقًا
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔
65:12ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)
[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔