al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 64 · 18 verses
64:1يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ لَهُ ٱلۡمُلۡكُ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
64:2هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ فَمِنكُمۡ كَافِرٞ وَمِنكُم مُّؤۡمِنٞۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
64:3خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
64:4يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، اسی کے لیے بادشاہی ہے، اور اسی کے لیے (ہر قسم کی) حمد اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پس کچھ تم میں سے کافر ہیں اور کچھ تم میں سے مومن ہیں، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(2) اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور اس نے صورت بنائی تمھاری پس اچھی بنائیں تمھاری صورتیں، اور اسی کی طرف واپسی ہے(3) وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو تم اور جو ظاہر کرتے ہو تم، اور اللہ خوب جانتا ہے راز سینو ں کے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے عظیم اوصاف کے وسیع حصے پر مشتمل ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل الوہیت، بے پایاں غنا اور تمام مخلوق کے اس کے سامنے محتاج ہونے کا ذکر فرمایا ہے، نیز ذکر فرمایا کہ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اپنے رب کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، اقتدار تمام تر اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کے اقتدار سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حمد و ثنا کا صرف وہی مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ وہ صفات کمال کا مالک ہے، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے تمام اشیاء کو وجود بخشا، اس کے لیے حمد ہے اس بنا پر کہ اس نے احکام شریعت مشروع کیے اور مخلوق کو نعمتیں عطا کیں۔ اس کی قدرت سب کو شامل ہے، موجودات میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
[2] اس نے ذکر فرمایا کہ اس نے تمام بندوں کو تخلیق کیا ان میں مومن اور کافر بنائے۔ پس ان کا ایمان اور کفر تمام اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہے، یہی اس کی مشیت ہے، اس نے ان کو قدرت اور ارادہ عطا کیا جس کی بنا پر وہ امر و نہی میں سے جس چیز کا ارادہ کریں، اس کا اختیار رکھتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔‘‘
[3] اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی، جو مامورات و منہیات کا مکلف ہے، تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد باقی مخلوقات کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا :﴿ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ﴾ ’’اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو۔‘‘ یعنی تمام اجرام ارضی و فلکی اور ان چیزوں کو خوب اچھی طرح تخلیق فرمایا جو ان کے اندر ہیں ﴿بِالۡحَقِّ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی حکمت کے ساتھ اور اس غرض و غایت کے لیے، جو اللہ تعالیٰ کو مقصود و مطلوب ہے۔ ﴿ وَصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ﴾ ’’اور اس نے تمھاری صورت گری کی اور تمھاری بہترین صورتیں بنائیں۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ﴾(التین:95؍4) ’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ پس انسان صورت کے اعتبار سے تمام مخلوقات میں سب سے خوبصورت اور دلکش دکھائی دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے ۔پس وہ تمھیں تمھارے ایمان اور کفر کی جزا و سزا دے گا، تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے تمھیں عطا کیں کہ آیا تم نے ان نعمتوں پر شکر ادا کیا ہے یا نہیں۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عموم علم کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ ظاہر اور باطن، غیب اور حاضر سب کا علم رکھتا ہے ﴿وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَمَا تُعۡلِنُوۡنَ١ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو اور جو تمھارے سینوں کے اندر اچھے بھید چھپے ہوئے ہیں یا گندے، نیک نیتیں مستور ہیں یا برے مقاصد، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے تو ایک عقل مند دیدہ ور شخص پر یہ بات متعین ٹھہری کہ وہ اپنے باطن کی اخلاق رذیلہ سے حفاظت کرے اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونے کا حریص ہو اور اس کی کوشش کرے۔
64:5أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُ فَذَاقُواْ وَبَالَ أَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اس سے) پہلے، پس چکھا انھوں نے وبال اپنے کام کا؟ اور ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(5) یہ بوجہ اس کے ہے کہ بلاشبہ لاتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں تو وہ کہتے، کیا بشر راہ دکھائیں گے ہمیں؟ پس انھوں نے کفر کیا اور رو گردانی کی اور بے پروائی کی اللہ نے، اور اللہ بے پروا خوب قابل تعریف ہے(6)
[5] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے ، تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھا یا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا ﴿وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
[6] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے، اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے، مگر انھوں نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ اور کہنے لگے:﴿ اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَنَا﴾ ’’کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے؟‘‘ یعنی انھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انھیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ہم بھی تمھاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام علیہ السلام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہوں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اور اس طرح وہ شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو گئے۔ ﴿ فَكَـفَرُوۡا﴾ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ﴿ وَتَوَلَّوۡا﴾ اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے اور وہ ان کی پروانہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ﴾ وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے۔ وہ اپنے اقوال، افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
64:6ذَٰلِكَ بِأَنَّهُۥ كَانَت تَّأۡتِيهِمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٞ يَهۡدُونَنَا فَكَفَرُواْ وَتَوَلَّواْۖ وَّٱسۡتَغۡنَى ٱللَّهُۚ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٞ
کیا نہیں آئی تمھارے پاس خبر ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اس سے) پہلے، پس چکھا انھوں نے وبال اپنے کام کا؟ اور ان کے لیے ہے عذاب بہت درد ناک(5) یہ بوجہ اس کے ہے کہ بلاشبہ لاتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں تو وہ کہتے، کیا بشر راہ دکھائیں گے ہمیں؟ پس انھوں نے کفر کیا اور رو گردانی کی اور بے پروائی کی اللہ نے، اور اللہ بے پروا خوب قابل تعریف ہے(6)
[5] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور عظیم اوصاف کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی رضا کے حصول میں کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ناراضی سے اجتناب کیا جاتا ہے ، تب اس نے آگاہ فرمایا کہ اس نے گزشتہ قوموں اور گزرے ہوئے زمانوں کے ساتھ کیا کیا جن کی خبریں متاخرین بیان کرتے چلے آئے ہیں اور سچے لوگ ان سے آگاہ کرتے رہے ہیں کہ جب ان کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ عناد رکھا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کے اندر ان کے کرتوتوں کے وبال کا مزا چکھا یا اور ان کو دنیا کے اندر رسوا کیا ﴿وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے نہایت الم ناک عذاب ہے۔
[6] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس عقوبت کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ سزا اور وبال جو ہم نے ان پر نازل کیا ہے، اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو حق اور باطل پر دلالت کرتے تھے، مگر انھوں نے ناگواری سے منہ پھیر لیا اور اپنے رسولوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ اور کہنے لگے:﴿ اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَنَا﴾ ’’کیا ایک بشر ہماری راہنمائی کرتا ہے؟‘‘ یعنی انھیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، تب کس بنا پر اللہ نے ہمیں چھوڑ کر انھیں (نبوت کے لیے) مختص کیا۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ہم بھی تمھاری مانند بشر ہی ہیں مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، نواز دیتا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو انبیائے کرام علیہ السلام سے روک دیا کہ وہ مخلوق کی طرف اللہ تعالیٰ کے رسول ہوں اور تکبر سے ان کی اطاعت نہ کی۔ اور اس طرح وہ شجر و حجر کی عبادت میں مبتلا ہو گئے۔ ﴿ فَكَـفَرُوۡا﴾ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا ﴿ وَتَوَلَّوۡا﴾ اور اس کی اطاعت سے منہ موڑ گئے ﴿ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز ہے اور وہ ان کی پروانہیں کرتا اور ان کی گمراہی اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ﴾ وہ ایسا غنی ہے جو ہر لحاظ سے غنائے کامل اور مطلق کا مالک ہے۔ وہ اپنے اقوال، افعال اور اوصاف میں قابل تعریف ہے۔
64:7زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن لَّن يُبۡعَثُواْۚ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
دعویٰ کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا یہ کہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے وہ، کہہ دیجیے! کیوں نہیں؟ قسم ہے میرے رب کی! ضرور اٹھائے جاؤ گے تم ، پھر ضرور خبر دیے جاؤ گے تم ساتھ اس چیز کے جو عمل کیا تم نے اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے(7)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے عناد، ان کے زعم باطل اور ان کے کسی علم، کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر قیامت کو جھٹلانے کے متعلق آگاہ کرتا ہے۔ پس اس نے اپنی مخلوق میں سے بہترین ہستی کو حکم دیا کہ وہ اس بات پر اپنے رب کی قسم کھائیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، پھر ان کو ان کے اعمال بد اور ان کی تکذیب حق کی سزا دی جائے گی ﴿ وَذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ﴾ ’’اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔‘‘ خواہ یہ مخلوق کی نسبت سے بہت مشکل بلکہ ناممکن ہی ہو کیونکہ اگر تمام مخلوق کے قویٰ ایک مردہ چیز کو زندہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو وہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ۔ رہا اللہ تعالیٰ، تو وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے: ’’ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ اُخۡرٰى فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ﴾(الزمر: 39؍68) ’’جب صور پھونکا جائے گا، تو وہ تمام لوگ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، بے ہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جسے اللہ (بے ہوش کرنا نہ) چاہے، پھر اسے دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا تو اسی لمحہ سب اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھ رہے ہوں گے۔‘‘
64:8فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلنُّورِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلۡنَاۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور (ساتھ) اس نور کے وہ جو نازل کیا ہم نے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(8)
[8] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے انکار کا ذکر کیا ہے جو قیامت کا انکار کرتے ہیں نیز یہ بھی ذکر کیا کہ ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے ساتھ ان کے کفر کا موجب ہے، اس لیے اس نے اس چیز کا حکم دیا جو ہلاکت اور بدبختی سے بچاتی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور اس کی کتاب پر ایمان، اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نور سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس کی ضد تاریکی ہے۔ جو احکام، قوانین اور اخبار اس کتاب میں ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، روشنی ہیں جس کے ذریعے سے جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں راہ نمائی حاصل ہوتی ہے اور جس کے ذریعے سے رات کی سیاہ تاریکی میں چلا جاتا ہے۔ کتاب اللہ کی راہ نمائی کے سوا تمام علوم ایسے ہیں جن کے نقصانات ان کے فوائد سے بڑھ کر اور جن کا شر ان کی خیر سے زیادہ ہے بلکہ اس میں کوئی خیر اور کوئی فائدہ ہی نہیں، سوائے اس کے جو انبیاء و مرسلین کی لائی ہوئی تعلیمات کے موافق ہو۔اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور اس کی کتاب پر ایمان، عزم کامل ان (احکامات و قوانین) پر یقین صادق، اس تصدیق کے مقتضیٰ یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
64:9يَوۡمَ يَجۡمَعُكُمۡ لِيَوۡمِ ٱلۡجَمۡعِۖ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلتَّغَابُنِۗ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَيَعۡمَلۡ صَٰلِحٗا يُكَفِّرۡ عَنۡهُ سَيِّـَٔاتِهِۦ وَيُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗاۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
جس دن وہ جمع کرے گا تمھیں جمع کرنے کے دن یہی دن ہے نقصان کا اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے صالح تو اللہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیاں اور داخل کرے گا اس کو ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور تکذیب کی ہماری آیتوں کی، یہ لوگ جہنمی ہیں، ہمیشہ رہیں گے اس میں، اور برا ہے وہ ٹھکانا (10)
[9] یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کر کے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے، اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہو گا، کچھ لوگ اعلیٰ علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالا خانوں اور بلند و بالا منازل میں ہوں گے، جو تمام اقسام کی لذات و شہوات پر مشتمل ہوں گی۔ کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم و ہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہو گا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے آگے بھیجے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے دوران ان کو پیش کیا تھا۔ بنابریں فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يَوۡمُ التَّغَابُنِ﴾ ’’یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔‘‘ یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہو گا۔ اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے، مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی، نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے، ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ ‘‘ یعنی فرائض و نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ ﴿يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، جس کو ارواح چن لیں گی، جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کی انتہا ہو گی۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
[10]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ یعنی جنھوں نے ان آیات کا کسی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر انکار کیا، بلکہ ان کے پاس دلائل اور واضح نشانیاں آئیں، انھوں نے ان دلائل کو جھٹلایا اور جس چیز پر یہ دلالت کرتے تھے اس سے عناد رکھا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’وہی اہل دوزخ ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ کیونکہ اس میں ہر قسم کی مصیبت، سختی، بدبختی اور عذاب ہو گا۔
64:10وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
جس دن وہ جمع کرے گا تمھیں جمع کرنے کے دن یہی دن ہے نقصان کا اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے صالح تو اللہ دور کر دے گا اس سے اس کی برائیاں اور داخل کرے گا اس کو ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، یہی ہے کامیابی بہت بڑی(9) اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور تکذیب کی ہماری آیتوں کی، یہ لوگ جہنمی ہیں، ہمیشہ رہیں گے اس میں، اور برا ہے وہ ٹھکانا (10)
[9] یعنی اکٹھا ہونے کے دن کو یاد کرو، جس دن اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو اکٹھا کر کے ایک بہت ہولناک مقام پر کھڑا کرے گا، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا جو وہ کرتے رہے تھے، اس وقت خلائق کے درمیان امتیاز اور فرق ظاہر ہو گا، کچھ لوگ اعلیٰ علیین کے درجے پر فائز ہو کر عالی شان بالا خانوں اور بلند و بالا منازل میں ہوں گے، جو تمام اقسام کی لذات و شہوات پر مشتمل ہوں گی۔ کچھ لوگوں کو اسفل سافلین کے مقام پر گرا دیا جائے گا جو غم و ہموم اور سخت حزن و عذاب کا مقام ہو گا یہ ان اعمال کا نتیجہ ہے جو انھوں نے آگے بھیجے تھے اور انھوں نے اپنی زندگی کے دوران ان کو پیش کیا تھا۔ بنابریں فرمایا:﴿ ذٰلِكَ يَوۡمُ التَّغَابُنِ﴾ ’’یہ نقصان اٹھانے کا دن ہے۔‘‘ یعنی اس دن خلائق کے درمیان نقصان اور تفاوت ظاہر ہو گا۔ اس دن اہل ایمان فاسقوں کو نقصان دیں گے، مجرم جان لیں گے کہ ان کے پلے تو کچھ بھی نہیں وہ تو محض خسارے میں ہیں۔گویا کہ پوچھا گیا ہے کہ فلاح اور بدبختی، نعمتیں اور عذاب کس چیز سے حاصل ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ﴾ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے، ایسا ایمان جو ان تمام امور کو شامل ہے جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ﴿ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور وہ نیک اعمال کرتا ہے۔ ‘‘ یعنی فرائض و نوافل، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرتا ہے۔ ﴿يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے، جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، جس کو ارواح چن لیں گی، جس کی دل آرزو کریں گے اور وہ ہر مرغوب کی انتہا ہو گی۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
[10]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ ﴾ یعنی جنھوں نے ان آیات کا کسی شرعی یا عقلی دلیل کے بغیر انکار کیا، بلکہ ان کے پاس دلائل اور واضح نشانیاں آئیں، انھوں نے ان دلائل کو جھٹلایا اور جس چیز پر یہ دلالت کرتے تھے اس سے عناد رکھا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’وہی اہل دوزخ ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہ بری جگہ ہے۔‘‘ کیونکہ اس میں ہر قسم کی مصیبت، سختی، بدبختی اور عذاب ہو گا۔
64:11مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ يَهۡدِ قَلۡبَهُۥۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
64:12وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۚ فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
64:13ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم ہی سے اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے وہ ہدایت دیتا ہے اس کے دل کو اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (11) اور اطاعت کرو تم اللہ کی او ر اطاعت کرو تم رسول کی، پس اگر رو گردانی کرو تم تو بلاشبہ ہمارے رسول پر ہے پہنچا دینا ظاہر (12) اللہ، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (13)
[11] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اللہ ہی کےحکم سے آتی ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ جان، مال، اولاد اور احباب کے مصائب وغیرہ سب کو شامل ہے، چنانچہ بندوں پر نازل ہونے والے تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہے، اس پر اس کا قلم جاری ہو چکا، اس پر اس کی مشیت نافذ ہو چکی اور اس کی حکمت نے اس کا تقاضا کیا ۔ مگر اصل معاملہ یہ ہے کہ آیا بندے نے اس ذمہ داری کو پورا کیا جو اس مقام پر اس پر عائد تھی یا وہ اس کو پورا نہ کر سکا؟اگر اس نے اس ذمہ داری کو پورا کیا تو اس کے لیے دنیا و آخرت میں ثواب جزیل اور اجر جمیل ہے۔ پس جب وہ اس حقیقت پر ایمان لے آیا کہ یہ مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تب اس پر راضی ہوا، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا، تو اللہ اس کے قلب کو ہدایت سے بہرہ مند کر دیتا ہے ، پس وہ مطمئن ہو جاتا ہے، تب وہ مصائب کے وقت گھبراتا نہیں، جیسا کہ اس شخص کا وتیرہ ہے جس کے قلب کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا نہیں کرتا، مگر مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدمی اور موجبات صبر کو قائم کرنے کی توفیق سے نوازتا ہے، اس سے اس کو دنیاوی ثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ، جزا و سزا کے دن کے لیے ثواب کو ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ﴾(الزمر: 39؍10) ’’جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے حد و حساب اجر عطا کیا جائے گا۔‘‘ اس سے یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ جو کوئی مصائب کے وارد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کا لحاظ نہیں کرتا بلکہ محض اسباب کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے، اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔جب بندہ نفس پر بھروسہ کرتا ہے تو نفس کے پاس چیخ و پکار اور بے صبری کے سوا کچھ نہیں۔ یہ وہ فوری سزا ہے جو آخرت کی سزا سے پہلے بندے کو اس دنیا میں اس پاداش میں ملتی ہے کہ اس نے صبر میں کوتاہی کی جو اس پر واجب تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق ہے ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ يَهۡدِ قَلۡبَهٗ﴾ اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے تو مصائب کے خاص مقام میں بھی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔ رہی وہ چیز جو عموم لفظی کی حیثیت سے اس سے تعلق رکھتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ہر وہ شخص جو ایمان لایا ، یعنی ایسا ایمان جو مامور بہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لانا، پھر ایمان جن لوازم و واجبات کا تقاضا کرتا ہے، اس کے ایمان نے ان کی تصدیق کی۔ یہ سبب جس کو بندے نے اختیار کیا، اس کے اقوال و افعال، اس کے تمام احوال اور اس کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لیے ہدایت کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ بہترین جزا ہے جو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عطا کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی سے بہرہ مند کرتا ہے۔اصل ثابت قدمی، دل کی ثابت قدمی، اس کا صبر اور ہر قسم کے فتنہ کے وارد ہونے کے وقت اس کا یقین ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ﴾(ابراہیم:14؍27) ’’اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘ پس اہل ایمان کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ راہ ہدایت پر اور وہ گھبراہٹ اور خوف کے موقعوں پر سب سے زیادہ ثابت قدم ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایمان ہے۔
[12] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’اور تم اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کے) رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یعنی ان دونوں کے اوامر کی تعمیل اور ان کے نواہی سے اجتناب میں ان کی اطاعت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت، سعادت کا مدار اور فلاح کا عنوان ہے ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ﴾ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت سے روگردانی کرو ﴿ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوۡلِنَا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ﴾ ’’تو ہمارے رسول تو صرف پر کھول کر پہنچادینا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے رسول پر تو وہی ہے جو اسے دے کر تمھاری طرف بھیجا گیا ہے اور وہ سب کچھ نہایت واضح طور پر تمھیں پہنچا دیتا ہے جس کے ذریعے سے تم پر حجت قائم ہوتی ہے، تمھاری ہدایت اس کے قبضۂ قدرت میں ہے نہ تمھارا حساب اس کے اختیار میں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور عدم اطاعت کے بارے میں تمھارا محاسبہ وہ ہستی کرے گی جو غیب اور عیاں کا علم رکھنے والی ہے۔
[13]﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔‘‘ یعنی وہ عبادت اور الوہیت کا مستحق ہے اس کے سوا ہر معبود باطل ہے ﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ پس اہل ایمان کو ہر معاملے میں جو بھی انھیں پیش آئے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ کوئی معاملہ آسان نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پر بندے کا اعتماد اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن ظن نہ ہو اور اس معاملے میں اس کے کافی ہونے کا وثوق نہ ہو، جس پر وہ بھروسہ کر رہا ہے۔ اور بندے کے ایمان کے مطابق اس کے توکل میں قوت اور ضعف ہوتا ہے۔
64:14يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ مِنۡ أَزۡوَٰجِكُمۡ وَأَوۡلَٰدِكُمۡ عَدُوّٗا لَّكُمۡ فَٱحۡذَرُوهُمۡۚ وَإِن تَعۡفُواْ وَتَصۡفَحُواْ وَتَغۡفِرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ بعض تمھاری بیویاں اور (بعض) تمھاری اولاد دشمن ہیں تمھارے ،سو بچو تم ان سے اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (14) یقیناً تمھارے مال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ، اس کے ہاں تو اجر عظیم ہے (15)
[14، 15] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں۔ اور دشمن وہ ہوتا ہے جو تمھارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہو اور تمھارا وظیفہ (ذمہ داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ایسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضا کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور عالی قدر محبت پر مشتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہو جانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے، اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے، اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاِنۡ تَعۡفُوۡا وَتَصۡفَحُوۡا وَتَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے، لہٰذا جو کوئی معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔
64:15إِنَّمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَأَوۡلَٰدُكُمۡ فِتۡنَةٞۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ بعض تمھاری بیویاں اور (بعض) تمھاری اولاد دشمن ہیں تمھارے ،سو بچو تم ان سے اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (14) یقیناً تمھارے مال اور تمھاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ، اس کے ہاں تو اجر عظیم ہے (15)
[14، 15] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تنبیہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ ان میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں۔ اور دشمن وہ ہوتا ہے جو تمھارے خلاف برائی کا ارادہ رکھتا ہو اور تمھارا وظیفہ (ذمہ داری) ایسے شخص سے بچنا ہے جس کی یہ صفت ہو۔ بیویوں اور اولاد کی محبت نفس کی جبلت ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ایسی محبت کے بارے میں نصیحت کی ہے جو ان کے لیے بیوی اور اولاد کے ایسے مطالبات کے سامنے جھکنے کا موجب بنتی ہے جس میں کوئی شرعی ممانعت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے احکام کی تعمیل اور اس ثواب عظیم کے لیے اس کی رضا کو مقدم رکھنے کی ترغیب دی ہے جو بلند مطالب اور عالی قدر محبت پر مشتمل ہے اور اس امر کی ترغیب دی ہے کہ وہ آخرت کو ختم ہو جانے والی فانی دنیا پر ترجیح دیں۔چونکہ ایسے امور میں بیویوں اور اولاد کی اطاعت سے روکا گیا ہے اور ان سے بچنے کے لیے کہا گیا ہے جن میں بندے کے لیے ضرر ہے، اس سے بیوی اور اولاد کے بارے میں درشتی اور سختی متوہم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے بچنے اور ان کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے، اس میں بہت سے مصالح ہیں جن کا احاطہ ممکن نہیں، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاِنۡ تَعۡفُوۡا وَتَصۡفَحُوۡا وَتَغۡفِرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اگر تم معاف کردو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی سے ہوتی ہے، لہٰذا جو کوئی معاف کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور اس کے معاملے کی حفاظت کی جاتی ہے۔
64:16فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ مَا ٱسۡتَطَعۡتُمۡ وَٱسۡمَعُواْ وَأَطِيعُواْ وَأَنفِقُواْ خَيۡرٗا لِّأَنفُسِكُمۡۗ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
پس ڈرو تم اللہ سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو تم (ہوگا یہ) بہتر تمھارے نفسوں کے لیے اور جو کوئی بچا لیا گیا حرص سے اپنے نفس کی تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے (16) اگر تم قرض دو اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھائے گا اس کو تمھارے لیے اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ بڑا قدر دان، خوب حوصلے والا ہے (17) جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست، خوب حکمت والا (18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنۡفِقُوۡا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔
[17] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا:﴿ اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔‘‘ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ يُّضٰعِفۡهُ لَكُمۡ﴾ ’’تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ﴾ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ﴾ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾(ھود:11؍114) ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔‘‘ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
[18]﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ﴾ ’’وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
64:17إِن تُقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعِفۡهُ لَكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
پس ڈرو تم اللہ سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو تم (ہوگا یہ) بہتر تمھارے نفسوں کے لیے اور جو کوئی بچا لیا گیا حرص سے اپنے نفس کی تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے (16) اگر تم قرض دو اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھائے گا اس کو تمھارے لیے اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ بڑا قدر دان، خوب حوصلے والا ہے (17) جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست، خوب حکمت والا (18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنۡفِقُوۡا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔
[17] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا:﴿ اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔‘‘ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ يُّضٰعِفۡهُ لَكُمۡ﴾ ’’تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ﴾ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ﴾ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾(ھود:11؍114) ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔‘‘ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
[18]﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ﴾ ’’وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
64:18عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
پس ڈرو تم اللہ سے جتنی استطاعت رکھتے ہو اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو تم (ہوگا یہ) بہتر تمھارے نفسوں کے لیے اور جو کوئی بچا لیا گیا حرص سے اپنے نفس کی تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے (16) اگر تم قرض دو اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھائے گا اس کو تمھارے لیے اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ بڑا قدر دان، خوب حوصلے والا ہے (17) جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، زبردست، خوب حکمت والا (18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ تقویٰ کا حکم دیتا ہے جو اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو استطاعت اور قدرت سے مقید رکھا ہے۔یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ واجب جس کو ادا کرنے سے بندہ عاجز ہو، اس سے ساقط ہو جاتا ہے اگر کچھ امور پر عمل کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کچھ پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ صرف انھی امور پر عمل کرے گا جن پر عمل کرنے کی وہ قدرت رکھتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے عاجز ہے، وہ اس سے ساقط ہو جائیں گے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’إِذَا أَمَرْتُکُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جب میں تمھیں کسی کام کا حکم دوں تو جتنی تم میں استطاعت ہے اس کے مطابق اس پر عمل کرو۔‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام، باب الاقتداء بسنن رسول اللہﷺ، ح: 2788 و صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر، ح: 1337 و مسند أحمد: 428/2 واللفظ لہ)اس شرعی قاعدہ میں اتنی زیادہ فروع داخل ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جو تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس نے جو احکام تمھارے لیے مشروع کیے، ان کو سنو، ان کو جان لو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ﴿ وَاَطِيۡعُوۡا﴾ اور اپنے تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ﴿ وَاَنۡفِقُوۡا﴾ اور شرعی نفقات واجبہ اور مستحبہ خرچ کرو، تمھارا یہ فعل ﴿ خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ﴾ دنیا و آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہو گا کیونکہ بھلائی تمام تر اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرنے، اس کے نصائح کو قبول کرنے اور اس کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے میں ہے اور شر تمام تر اس کی مخالفت کرنے میں ہے۔ مگر وہاں ایک اور آفت بھی ہے جو بہت سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مامور بہ نفقات سے روکتی ہے اور وہ ہے بخل جو اکثر نفوس کی جبلت ہے۔ نفس مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو پسند کرتے ہیں اور مال کے ہاتھ سے نکلنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا۔‘‘ یعنی اللہ نے اس کو مال خرچ کرنے کی توفیق عطا کر دی جو اس کے لیے فائدہ مند ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے مطلوب کو پا لیا اور ڈرائے جانے والے امور سے نجات پائی۔ بلکہ شاید یہ ہر اس امر کو شامل ہے، جس کا بندے کو حکم دیا گیا اور اس سے اس کو روکا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا نفس بخیل ہے تو اس حکم کی اطاعت نہیں کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور مامور بہ نفقات کو ہاتھ سے نہیں نکالے گا تو اس نے فلاح نہیں پائی بلکہ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہا۔ اگر اس کا نفس سخی ہے، اللہ تعالیٰ کی شریعت پر انشراح کے ساتھ مطمئن اور اس کی رضا کا طلب گار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس فعل کے درمیان جس کا وہ مکلف کیا گیا ہے، اس فعل کے علم ، اللہ تعالیٰ کی رضا کی معرفت اور اس چیز کی بصیرت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کر رہا ہے، اس طریقے سے فلاح پائے گا اور تمام تر کامیابی سے بہرہ مند ہو گا۔
[17] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق کی ترغیب دی، فرمایا:﴿ اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو۔‘‘ اپنی حلال کمائی میں سے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا، جبکہ اس خرچ کرنے سے بندے کا مطلوب و مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، اور اس کو صحیح مقام پر خرچ کرنا قرض حسنہ ہے ﴿ يُّضٰعِفۡهُ لَكُمۡ﴾ ’’تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کردے گا۔‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے اس کے ثواب کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ گناتک کر دے گا۔ ﴿ وَ﴾ اور ثواب کو کئی گنا کرنے کے ساتھ ساتھ ﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ﴾ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کے سبب سے تمھارے گناہوں کو بخش دے گا کیونکہ گناہوں کو صدقات اور نیکیاں مٹاتی ہیں ﴿ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّؔيِّاٰتِ﴾(ھود:11؍114) ’’بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ حَلِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ نہایت قدردان، بردبار ہے۔‘‘ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اسے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اسے مہلت دیتا ہے اسے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں کے سبب سے پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا مگر وہ انھیں ایک مقررہ مدت کے لیے مہلت دیتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاللّٰهُ شَكُوۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کرتا ہے اور اس پر انھیں بہت زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کا قدر دان ہے جو اس کی خاطر مشقتیں، بوجھ اور مختلف انواع کی بھاری تکالیف برداشت کرتا ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔
[18]﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ ﴾ ’’وہ پوشیدہ اور ظاہر کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ان لشکروں کا علم رکھتا ہے جو بندوں کی نظروں سے غائب ہیں اور وہ ان مخلوقات کا بھی علم رکھتا ہے جن کا وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جس کے مقابلے میں کوئی غالب آ سکتا ہے نہ رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ تمام اشیاء پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے، جو تمام اشیاء کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔