QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Munafiqun

ٱلْمُنَافِقُون

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 63 · 11 verses

63:1

إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ قَالُواْ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَكَٰذِبُونَ

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔ [2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔ [3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟ [4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ [5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔ [6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
63:2

ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ جُنَّةٗ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔ [2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔ [3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟ [4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ [5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔ [6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
63:3

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُونَ

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔ [2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔ [3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟ [4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ [5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔ [6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
63:4

۞وَإِذَا رَأَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ أَجۡسَامُهُمۡۖ وَإِن يَقُولُواْ تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡۖ كَأَنَّهُمۡ خُشُبٞ مُّسَنَّدَةٞۖ يَحۡسَبُونَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡۚ هُمُ ٱلۡعَدُوُّ فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔ [2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔ [3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟ [4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ [5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔ [6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
63:5

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوۡاْ رُءُوسَهُمۡ وَرَأَيۡتَهُمۡ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسۡتَكۡبِرُونَ

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔ [2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔ [3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟ [4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ [5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔ [6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
63:6

سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ أَسۡتَغۡفَرۡتَ لَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ لَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔ [2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔ [3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟ [4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ [5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔ [6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘
63:7

هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُواْ عَلَىٰ مَنۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّواْۗ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَفۡقَهُونَ

وہ، وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو تم ان پر جو پاس ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے اور لیکن منافق نہیں سمجھتے(7) وہ کہتے ہیں، البتہ اگر لوٹ کر گئے ہم مدینہ کی طرف تو ضرور نکال ديں گے، معزز ترین لوگ اس (مدینہ) سے ذلیل ترین لوگوں کو، اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے اور لیکن منافق (اس حقیقت کو) نہیں جانتے(8) [7] یہ ان کی نبی ٔاکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام y کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے:﴿ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا﴾ ’’تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔‘‘ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔‘‘ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’لیکن منافق نہیں سمجھتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔ [8]﴿ يَقُوۡلُوۡنَ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’وہ کہتے تھے: ’’البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔‘‘ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ’’ہماری اور ان کی ( یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔‘‘ اور کہنے لگا : ﴿ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفیﷺ اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔‘‘ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
63:8

يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعۡنَآ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ لَيُخۡرِجَنَّ ٱلۡأَعَزُّ مِنۡهَا ٱلۡأَذَلَّۚ وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَعۡلَمُونَ

وہ، وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو تم ان پر جو پاس ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے اور لیکن منافق نہیں سمجھتے(7) وہ کہتے ہیں، البتہ اگر لوٹ کر گئے ہم مدینہ کی طرف تو ضرور نکال ديں گے، معزز ترین لوگ اس (مدینہ) سے ذلیل ترین لوگوں کو، اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے اور لیکن منافق (اس حقیقت کو) نہیں جانتے(8) [7] یہ ان کی نبی ٔاکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام y کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے:﴿ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا﴾ ’’تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔‘‘ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔‘‘ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’لیکن منافق نہیں سمجھتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔ [8]﴿ يَقُوۡلُوۡنَ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’وہ کہتے تھے: ’’البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔‘‘ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ’’ہماری اور ان کی ( یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔‘‘ اور کہنے لگا : ﴿ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفیﷺ اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔‘‘ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔
63:9

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلۡهِكُمۡ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ [10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔ [11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
63:10

وَأَنفِقُواْ مِن مَّا رَزَقۡنَٰكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ [10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔ [11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
63:11

وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَاۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ غافل کر دے تمھیں تمھارا مال اور نہ تمھاری اولاد اللہ کے ذکر سے اور جو کوئی کرے یہ کام تو وہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(9) اور خرچ کرو تم اس میں سے جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں، پہلے اس سے کہ آئے کسی ایک کو تم میں سے موت ، پھر وہ کہے، اے میرے رب! کیوں نہیں ڈھیل (مہلت) دی تو نے مجھے ایک تھوڑی مدت تک کہ صدقہ کرتا میں اور ہو جاتا میں صالح لوگوں میں سے؟ (10) اور ہرگز نہیں ڈھیل (مہلت) دے گا اللہ کسی نفس کو جب آ جائے گی اجل اس کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کثرت کے ساتھ ذکر کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ اس میں نفع، فوز و فلاح اور بے شمار بھلائیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں مال اور اولاد کی محبت میں مشغول ہو کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے سے روکا ہے کیونکہ مال اور اولاد کی محبت اکثر نفوس کی جبلت ہے، پس وہ مال اور اولاد کی محبت کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بہت بڑا خسارہ ہے اس لیے فرمایا :﴿ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ﴾ جسے اس کے مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دیتے ہیں ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔‘‘ ابدی سعادت اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے بارے میں خسارے میں رہنے والے ہیں کیونکہ انھوں نے ہمیشہ رہنے والی چیز پر فانی چیز کو ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُكُمۡ وَاَوۡلَادُؔكُمۡ فِتۡنَةٌ١ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ﴾(التغابن:64؍15) ’’بے شک تمھارے مال ا ور تمھاری اولاد آزمائش ہیں، اور اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ [10]﴿ وَاَنۡفِقُوۡا مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ ’’اور جو کچھ ہم نے تمھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ اس حکم میں تمام نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ، کفارات، اہل و عیال اور غلاموں وغیرہ کا نان و نفقہ اور تمام نفقات مستحبہ ، مثلاً: تمام مصالح میں مال خرچ کرنا شامل ہیں اور فرمایا: ﴿ مِنۡ مَّا رَزَقۡنٰكُمۡ﴾ یہ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے نفاق کا مکلف نہیں بنایا جو ان کے لیے نہایت مشکل ہو اور ان پر شاق گزرے، بلکہ ان کو اس رزق میں سے کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکالنے کا حکم دیا ہے، جو اسی نے ان کو عطا اور میسر کیا اور اس کے اسباب مہیا کیے۔پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنے نادار بھائیوں کی مالی مدد کر کے اس ہستی کا شکر ادا کریں جس نے ان کو رزق عطا کیا ہے اور موت سے پہلے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کریں۔ موت جب آ جائے گی تو بندے کے لیے ممکن نہ ہو گا کہ وہ ذرہ بھر بھی بھلائی کر سکے، اس لیے فرمایا :﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ فَيَقُوۡلَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہنے لگے۔‘‘ یعنی اس کوتاہی پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے جو اس وقت واقع ہوئی جب اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ممکن تھا اور واپس لوٹائے جانے کی التجا کرتے ہوئے، حالانکہ یہ محال ہو گا، کہے گا:﴿ رَبِّ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنِيۡۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے میرے رب! تو نے مجھے تھو ڑی سی اور مہلت کیوں نہ دی؟‘‘ تاکہ جو میں نے کوتاہی کی ہے اس کا تدارک کر سکوں۔ ﴿ فَاَصَّدَّقَ﴾ پس اپنے مال میں سے صدقہ کروں جس کے ذریعے سے میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ ں اور ثواب جزیل کا مستحق ٹھہروں ﴿ وَ اَكُنۡ مِّنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ اور تمام مامورات کو ادا کر کے اور تمام منہیات سے اجتناب کر کے صالحین میں شامل ہو سکوں اور اس میں حج وغیرہ بھی شامل ہے۔ [11] اس التجا اور تمنا کا وقت چلا گیا، جس کا تدارک ممکن نہیں، بنابریں فرمایا :﴿ وَلَنۡ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفۡسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا﴾’’اور اللہ ہر گز مہلت نہیں دیتا کسی نفس کو جب اس کی موت کا وقت آجاتا ہے۔‘‘ جس کا آنا حتمی ہے ۔﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تم جو اچھے یا برے اعمال کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان کی خبر رکھتا ہے وہ تمھاری نیتوں اور اعمال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق تمھیں تمھارے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔