QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Jumu'ah

ٱلْجُمُعَة

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 62 · 11 verses

62:1

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ

تسبیح کرتی ہے (اس) اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں، (جو) بادشاہ ہے، نہایت پاکیزہ، بڑا زبردست، خوب حکمت والا(1) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] یعنی جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اس کو معبود مانتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں، کیونکہ وہ بادشاہ کامل ہے، جس کی عالم علوی اور عالم سفلی پر بادشاہی ہے اور تمام مخلوق اس کی مملوک اور اس کی تدبیر کے تحت ہے۔ ﴿ الۡقُدُّوۡسِ﴾ عظمت والا، ہر نقص اور ہر آفت سے پاک ہے ﴿ الۡعَزِيۡزِ﴾ تمام اشیاء پر غالب ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمِ﴾ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت والا ہے۔ یہ عظیم اوصاف اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔
62:2

هُوَ ٱلَّذِي بَعَثَ فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4) [2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔ [3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ [4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔
62:3

وَءَاخَرِينَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُواْ بِهِمۡۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4) [2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔ [3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ [4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔
62:4

ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ

وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر آیتیں اس کی، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا،اور تعلیم دیتا ہے انھیں کتاب و حکمت کی، اور بلاشبہ تھے وہ پہلے (اس سے) البتہ گمراہی ظاہر میں(2) اور (آپ کو بھیجا) دوسرے لوگوں میں بھی انھی میں سے، کہ ابھی تک نہیں ملے وہ ساتھ ان کے اور وہ خوب غالب خوب حکمت والا ہے(3) وہ فضل ہے اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جسے چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(4) [2]﴿اَلۡاُمِّيّٖنَ﴾ سے مراد عرب وغیرہ کے وہ لوگ ہیں، جن کے پاس کوئی (آسمانی) کتا ب ہے نہ رسالت کے آثاراور وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر دوسروں کی نسبت بہت بڑا احسان فرمایا، کیونکہ وہ علم اور بھلائی سے بے بہرہ تھے، اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے، شجر و حجر اور بتوں کی پوجا کرتے تھے، شکاری درندوں کے سے اخلاق رکھتے تھے، طاقت ور کمزور کو کھا جاتا تھا، اور وہ انبیاء کرام کے علوم سے بالکل جاہل تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انھی میں سے ایک رسول مبعوث کیا، جس کے نسب، اوصاف جمیلہ اور صداقت کو وہ خوب جانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسول پر کتاب نازل کی ﴿ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ وہ ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات قاطعہ کی تلاوت کرتا تھا جو ایمان و یقین کی موجب ہیں ﴿ وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم اور ان کی ترغیب کے ذریعے سے ان کو پاک کرتا تھا اور اخلاق رذیلہ سے ان کو روکتا تھا۔ ﴿ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ اور ان کو کتاب و سنت کا علم سکھاتا تھا جو اولین و آخرین کے علم پر مشتمل تھا، چنانچہ اس تعلیم و تزکیہ کے بعد وہ مخلوق میں سب سے زیادہ عالم ، بلکہ اہل علم و دین کے امام ہوگئے وہ سب سے زیادہ کامل اخلاق کے مالک اور لائحہ عمل کے اعتبار سے سب سے اچھے بن گئے۔ انھوں نے خود بھی راہ راست اختیار کی اور دوسروں کو بھی اس پر گامزن کیا پس اس طرح وہ ہدایت یافتہ لوگوں کے امام اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رسولﷺ کو مبعوث فرما کر ان کو کامل ترین نعمت اور جلیل ترین عطیے سے نوازا۔ [3]﴿ وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ اہل کتاب میں سے دیگر لوگوں پر احسان فرمایا جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، یعنی ان لوگوں میں جن تک رسول اللہﷺ کی دعوت پہنچی تھی۔اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ وہ فضیلت میں ابھی ان تک نہیں پہنچ سکے اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ وہ ان کا زمانہ نہیں پا سکے، بہرحال دونوں احتمالات کے مطابق دونوں معنیٰ صحیح ہیں۔ بلاشبہ وہ لوگ جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول مبعوث کیا، جنھوں نے اسے دیکھا اور اس کی دعوت کا ساتھ دیا، ان کو ایسے خصائص اور فضائل حاصل ہیں، کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ان خصائص اور فضائل میں ان تک پہنچ سکے۔ [4] یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو مہمل اور بے کار نہیں چھوڑا، بلکہ ان میں رسول مبعوث فرمائے، ان کو امر و نہی کا مکلف بنایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑ افضل ہے، اور وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اس فضل سے بہرہ مند کرتا ہے، ان پر یہ نعمت بدنی عافیت اور رزق کی کشادگی جیسی دنیاوی نعمتوں سے افضل ہے۔ پس دین کی نعمت سے بڑی کوئی نعمت نہیں، دین کی نعمت فوز و فلاح اور ابدی سعادت کی روح ہے۔
62:5

مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ بِئۡسَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
62:6

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ هَادُوٓاْ إِن زَعَمۡتُمۡ أَنَّكُمۡ أَوۡلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
62:7

وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهُۥٓ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
62:8

قُلۡ إِنَّ ٱلۡمَوۡتَ ٱلَّذِي تَفِرُّونَ مِنۡهُ فَإِنَّهُۥ مُلَٰقِيكُمۡۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَٰلِمِ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ

مثال ان لوگوں کی کہ اٹھوائے گئے وہ تورات ‘‘ پھر نہ اٹھایا انھوں نے اس کو، مانند مثال اس گدھے کی ہے جو اٹھاتا ہے کتابیں ،بری مثال ہے اس قوم کی جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو، اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(5) کہہ دیجیے، اے لوگو جو یہودی ہوئے! اگر دعویٰ کرو تم اس بات کا کہ بلاشبہ تم دوست ہو اللہ کے سوائے (دوسرے) لوگوں کے تو تم تمنا کرو موت کی اگر ہو تم سچے(6) اور نہیں تمنا کریں گے وہ اس کی کبھی بھی بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ہے ان کے ہاتھوں نے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(7) کہہ دیجیے! بلاشبہ موت، وہ کہ بھاگتے ہو تم اس سے، تو یقیناً وہ ملنے والی ہے تمھیں، پھر لوٹائے جاؤ گے تم طرف اس کی (جو) جانتا ہے غیب اور حاضر کو، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے کہ جو تھے تم عمل کرتے(8) [5] جب اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا، جن کے اندر اپنا نبئ امی (ﷺ)مبعوث فرمایاتو ان کے ایسے خصوصی مناقب کا ذکر کیا جن میں کوئی شخص ان تک نہیں پہنچ سکا۔ اس سے مراد نبئ اُمی کی امت کے لوگ ہیں جو اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے، حتیٰ کہ اہل کتاب پر بھی فوقیت لے گئے جو اپنے آپ کو علمائے ربانی اور احبار متقدمین سمجھتے تھے ... تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہود و نصاریٰ میں سے وہ لوگ جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی اور ان کو حکم تھا کہ وہ تورات کی تعلیم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں، انھوں نے اس ذمہ داری کو اٹھایا نہ پورا کیا، ان کے لیے کوئی فضیلت نہیں اور ان کی مثال اس گدھے کی سے ہے جس کی پیٹھ پرعلمی کتابوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ کیا یہ گدھا ان کتابوں سے مستفید ہو سکتا ہے جو اس کی پیٹھ پر لاد دی گئی ہیں؟ کیا اس سبب سے اسے کوئی فضیلت ہو سکتی ہے یا اس کا نصیب تو بس ان کتابوں کو اٹھانا ہے؟ یہی مثال اہل کتاب کے ان علماء کی ہے جو تورات کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، جن میں سے جلیل ترین اور عظیم ترین حکم حضرت محمد مصطفیﷺ کی اتباع کا حکم، آپ کی بعثت کی بشارت اور آپ جو قرآن لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے کا حکم ہے، پس جس کا یہ وصف ہو وہ ناکامی اور خسارے اور اس کے خلاف حجت کے قائم ہونے کے سوا کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟ یہ مثال ان کے احوال کے عین مطابق ہے۔﴿ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔‘‘ یعنی وہ آیات جو ہمارے رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور جو کچھ آپ لے کر تشریف لائے ہیں اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔‘‘ یعنی جب تک ظلم ان کا وصف اور عنادان کی صفت ہے، تب تک اللہ تعالیٰ ان کی ان کے مصالح کی طرف راہ نمائی نہیں کرے گا۔ [6] یہود کا ظلم اور عناد یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ باطل پر ہیں مگر وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور تمام لوگوں میں سے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے زعم میں سچے ہو کہ تم حق پر ہو اور اللہ تعالیٰ کے دوست ہو ﴿فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’تو تم موت کی آرزو کرو۔‘‘ اور یہ بڑا خفیف سا معاملہ ہے کیونکہ اگر انھیں یقین ہے کہ وہ حق پر ہیں تو مقابلے کی اس دعوت (موت کی تمنا) پر توقف نہ کرتے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی دلیل اور موت کی تمنا نہ کرنے کو ان کے کذب کی دلیل قرار دیا ہے۔ [7] اس اعلان کے باوجود جب (انھوں نے اس کو قبول نہ کیا اور) ان سے موت کی تمنا واقع نہ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے موقف کے بطلان اور اس کے فساد کو جانتے ہیں اس لیے فرمایا :﴿ وَلَا يَتَمَنَّوۡنَهٗۤ۠ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اس موت کی کبھی آرزو نہ کریں گے بسبب اس کے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔‘‘ یعنی گناہ اور معاصی جن کی وجہ سے وہ موت سے خائف ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اس پر ان کے ظلم میں سے کچھ چھپ سکے۔ [8] وہ اگرچہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے موت کی تمنا نہیں کرتے، بلکہ موت سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں، مگر ان کا موت سے بھاگنا ان کو موت سے بچا نہیں سکے گا، بلکہ موت ان سے ضرور ملاقات کرے گی، جسے اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ دیا ہے۔ پھر زندگی کی مدت پوری کرنے اور مرنے کے بعد قیامت کے روز تمام مخلوق کو غیب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے پیش کیا جائے گا وہ ان کو ان کے اچھے برے اور قلیل و کثیر اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
62:9

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔ [10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔ [11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔
62:10

فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔ [10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔ [11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔
62:11

وَإِذَا رَأَوۡاْ تِجَٰرَةً أَوۡ لَهۡوًا ٱنفَضُّوٓاْ إِلَيۡهَا وَتَرَكُوكَ قَآئِمٗاۚ قُلۡ مَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ مِّنَ ٱللَّهۡوِ وَمِنَ ٱلتِّجَٰرَةِۚ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلرَّـٰزِقِينَ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11) [9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔ [10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔ [11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔