al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 61 · 14 verses
61:1سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
[2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘
61:2يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
[2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘
61:3كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَ
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
[2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘
61:4إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلَّذِينَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِهِۦ صَفّٗا كَأَنَّهُم بُنۡيَٰنٞ مَّرۡصُوصٞ
بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں صف بستہ، گویا کہ وہ ایک عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی(4)
[4] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور اس بات کی تعلیم ہے کہ انھیں جہاد میں کیا کرنا چاہیے۔ ان کے لیے مناسب ہے کہ وہ جہاد میں ایک دوسرے کے ساتھ برابر کھڑے ہو کر صف بندی کریں اور صفوں میں کوئی خلل واقع نہ ہو، صفیں ایک نظم اور ترتیب کے مطابق ہوں جس سے مجاہدین کے مابین مساوات اور ایک دوسرے کے لیے قوت اور دشمن پر رعب طاری ہوتا ہو اور اس سے مجاہدین میں ایک دوسرے کے لیے نشاط پیدا ہوتا ہو۔بنابریں جب لڑائی کا وقت آ جاتا، تو رسول اللہ ﷺ خود اپنے اصحاب کرام کی صف بندی کرتے اور ان کو ان کی اپنی اپنی جگہوں پر اس طرح ترتیب دیتے، جہاں وہ ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ ہر دستہ اپنے مرکز کے ساتھ رابطے کا اہتمام رکھے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرے، اس طریق کار سے ہی کام پایۂ اتمام کو پہنچتا اور کمال حاصل ہوتا ہے۔
61:5وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُونَنِي وَقَد تَّعۡلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡۖ فَلَمَّا زَاغُوٓاْ أَزَاغَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ
اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے: اے میری قوم! کیوں ایذا دیتے ہو تم مجھے حالانکہ تم جانتے ہو کہ بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف؟ پس جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو ٹیڑھے کر دیے اللہ نے ان کے دل اور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(5)
[5]﴿ وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰؔى لِقَوۡمِهٖ﴾ ’’اور (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔‘‘ یعنی ان کے کرتوت پر زجر و توبیخ کرتے ہو ئے اور انھیں آپ کو اللہ کا رسول سمجھنے کے باوجود اذیت پہنچانے سے باز رکھتے ہوئے حضرت موسیٰu نے اپنی قوم سے فرمایا: ﴿ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِيۡ﴾ اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے مجھے کیوں اذیت دیتے ہو؟ ﴿ وَقَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ ’’اور تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔‘‘ رسول کی اکرام و تعظیم، اس کے احکامات کی تعمیل اور اس کے فیصلے کو قبول کرنا رسول کا حق ہے۔رہا رسول کو اذیت پہنچانا جس کا مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد سب سے بڑا احسان ہےتو یہ سب سے بڑی بے شرمی، جسارت اور صراط مستقیم سے انحراف ہے، جسے جان بوجھ کر انھوں نے ترک کر دیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا﴾ ’’پس جب انھوں نے کج روی کی۔‘‘ یعنی اپنے ارادے سے حق سے پھر گئے ﴿ اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ﴾ ’’تو اللہ نے بھی ان کے دل ٹیڑھے کردیے۔‘‘ یعنی ان کی کج روی کی سزا کے طور پر، جسے انھوں نے اپنے لیے خود چنا اور اس پر راضی ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی توفیق نہ دی، وہ شر کے سوا کسی چیز کے قابل نہ تھے۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فاسق و نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ فسق جن کا وصف ہےاور وہ ہدایت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو گمراہ کرنا، اس کا ظلم نہیں اور نہ بندوں کی اس پر کوئی حجت ہےبلکہ اس گمراہی کا سبب وہ خود ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کو پہچان لینے کے بعد اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے خود بند کر لیے ہیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بدلے کے طور پر سزا دیتے ہوئے اور اپنے عدل کی بنا پر ان کو گمراہی اور کجروی میں مبتلا کر تے ہوئے ان کے دلوں کو بدل ڈالتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾(الانعام:6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو بدل ڈالتے ہیں جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں سرگرداں چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘
61:6وَإِذۡ قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ يَٰبَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَمُبَشِّرَۢا بِرَسُولٖ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِي ٱسۡمُهُۥٓ أَحۡمَدُۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔
[7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
[8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔
61:7وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُوَ يُدۡعَىٰٓ إِلَى ٱلۡإِسۡلَٰمِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔
[7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
[8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔
61:8يُرِيدُونَ لِيُطۡفِـُٔواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفۡوَٰهِهِمۡ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ
اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔
[7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
[8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔
61:9هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡمُشۡرِكُونَ
اور جب کہا عیسیٰ ابن مریم نے: اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں رسول ہوں اللہ کا تمھاری طرف، تصدیق کرنے والا اس کی جو مجھ سے پہلے ہے تورات، اور بشارت دینے والا ایک رسول کی، وہ آئے گا میرے بعد اس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ (رسول) آیا ان کے پاس واضح دلیلوں کے ساتھ تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے ظاہر(6) اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو گھڑے اللہ پر جھوٹ حالانکہ بلایا جاتا ہے وہ طرف اسلام کی؟ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو(7) وہ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں نور اللہ کا اپنے مونہوں سے جبکہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا نور اگرچہ ناپسند کریں کافر(8) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے تاکہ وہ غالب کرے اس کو اوپر تمام دینوں کے اگرچہ ناپسند کریں مشرک(9)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ متقدمین بنی اسرائیل کے عناد کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن کو حضرت عیسیٰ u نے دعوت دی اور فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اے بنی اسرائیل! مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں بھلائی کی طرف بلاؤ ں اور برائی سے روکوں، اللہ تعالیٰ نے ظاہری دلائل و براہین کے ذریعے سے میری تائید فرمائی ہے، جو میری صداقت پر دلالت کرتی ہیں نیز اس بات پر دلالت کرتی ہیں ﴿ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوۡرٰىةِ﴾ کہ میں اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ یعنی میں وہی کچھ لے کر آیا ہوں جو موسیٰ u تورات اور آسمانی شریعت میں سے لے کر آئے تھے۔ اگر میں نبوت کا ایسا مدعی ہوتا، جو اپنے دعوائے نبوت میں سچا نہیں ہوتا، تو میں ایسی چیز لاتا جسے انبیاء و مرسلین لے کر نہیں آئے۔ میرا اپنے سے پہلے آنے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ تورات نے میری بعثت کی خبر اور میرے آنے کی خوشخبری دی ہے اور مجھے تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ﴿ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِي اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ﴾ ’’اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔‘‘ اور وہ ہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الہاشمی(ﷺ) پس حضرت عیسیٰ u تمام انبیائے کرام کی طرح سابق گزرے ہوئے نبی کی تصدیق کرتے اور بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، بخلاف نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے جو انبیاء و مرسلین سے سخت منافقت رکھتے ہیں اور اوصاف و اخلاق اور امر و نہی میں ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ﴾ پس جب ان کے پاس محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئے جن کی عیسیٰu نے بشارت دی تھی ﴿ بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ واضح دلائل کے ساتھ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کی بشارت دی گئی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں ﴿ قَالُوۡا﴾تو انھوں نے حق سے عناد رکھتے اور اسے جھٹلاتے ہوئے کہا: ﴿ هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ صریح جادو ہے۔‘‘ اور یہ عجیب ترین بات ہے کہ وہ رسول جس نے اپنی رسالت کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اور وہ سورج سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے، اسے جادوگر قرار دیا جائے کہ جس کا جادو واضح ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی اور خذلان ہے؟ اور اس افترا پردازی سے زیادہ بلیغ کوئی اور افترا پردازی ہے؟ جس نے اس حقیقت کی نفی کر دی جو آپ کی رسالت میں سے معلوم ہے اور اس چیز کا اثبات کر دیا جس سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں۔
[7]﴿ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔‘‘ جو یہ بہتان طرازی یا اس کے علاوہ بہتان طرازی کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس کوئی عذر نہیں، اور اس کی حجت منقطع ہو گئی، کیونکہ ﴿ يُدۡعٰۤى اِلَى الۡاِسۡلَامِ﴾ ’’وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔‘‘ اور اس پر اسلام کے دلائل و براہین واضح ہو گئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ جو اپنے ظلم پر قائم ہیں، جنھیں کوئی نصیحت اپنے ظلم سے باز رکھ سکتی ہے نہ کوئی دلیل و برہان اس سے ہٹا سکتی ہے، خاص طور پر یہ ظالم لوگ جو حق کے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تاکہ اسے ٹھکرا دیں اور باطل کی مدد کریں۔
[8] اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ لِيُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰهِ بِاَفۡوَاهِهِمۡ﴾ ’’وہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنی ان فاسد باتوں کے ذریعے سے جو ان سے صادر ہوتی ہیں اور جس کے ذریعے سے وہ حق کو ٹھکرانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ اس باطل کے بارے میں صاحب بصیرت کی بصیرت میں اضافہ کرتی ہیں، جن میں وہ سرگرداں ہیں ﴿ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوۡرِهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے گو کافر برا مانیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی نصرت، حق کی تکمیل جس کے ساتھ اس نے اپنے رسول بھیجے، اور تمام دنیا میں اپنے نور کو ظاہر کرنے کا ذمہ لیا ہے، خواہ کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور اس ناگواری کے سبب سے وہ اپنی پوری کوشش کر لیں جس پر وہ قدرت رکھتے ہوں اور جس کو وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کا وسیلہ بنا سکتے ہوں مگر وہ مغلوب ہی ہوں گے۔ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو سورج کی روشنی کو بجھانے کے لیے اپنے منہ سے پھونکیں مارے، چنانچہ انھوں نے اپنی مراد پائی نہ ان کی عقل، نقص اور جرح و قدح سے سلامت ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دین اسلام کے حسی اور معنوی غلبہ اور فتح و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى ﴾ ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت کے ساتھ بھیجا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا رسول علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ مبعوث کیا ۔علم سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے تکریم والے گھر کی طرف راہنمائی کرتا ہے، جو بہترین اعمال و اخلاق سکھاتا ہے اور جو دنیا و آخرت کے تمام مصالح کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور دینِ حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی وہ دین جسے اختیار کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے سے رب کائنات کی بندگی کی جاتی ہے جو سرا سر حق اور صدق ہے جس میں کوئی نقص ہے نہ اسے کوئی خلل لاحق ہے، جس کے اوامر قلب و روح کی غذا اور جسم کی راحت ہیں اور اس کے نواہی کو ترک کرنا شر اور فساد سے سلامتی ہے۔نبی ٔاکرم ﷺ کو جس ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے وہ آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اور برہان ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ دلیل باقی رہے گی، خرد مند جتنا زیادہ اس میں غور و فکر کرے گا اتنی ہی اسے فرحت و بصیرت حاصل ہو گی۔ ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ تاکہ وہ اس دین کو حجت اور دلیل کے ذریعے سے تمام ادیان پر اور اہل دین کو، جو اس پر قائم ہیں، شمشیر و سناں کے ذریعے سے (باطل قوتوں پر) غالب کر دے۔رہا دین تو یہ غلبہ ہر زمانے میں اس کا وصف لازم ہے، چنانچہ تو کوئی غالب آنے کی کوشش کرنے والا اس پر غالب آ سکتا ہے نہ جھگڑنے والا اس کو زیر کر سکتا ہے۔ دین ہمیشہ فتح مند ہی رہے گا، اس کو فوقیت اور غلبہ حاصل رہے گا۔رہے وہ لوگ جو دین اسلام سے انتساب رکھتے ہیں، تو جب وہ اس دین کو قائم کریں، اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں اس کے لائحہ عمل کو راہ نما بنائیں، تو اس طرح کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان کا تمام اہل ادیان پر غالب آنا لازمی ہے ۔ اور اگر وہ اس دین کو ضائع کر دیں اور اس کے ساتھ مجرد انتساب ہی کو کافی سمجھیں، تو دین ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور ان کا دین کو چھوڑ دینا، ان پر دشمن کے تسلط کا سبب بنے گا۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں اور متاخرین کے احوال کے استقرا اور ان میں غور و فکر کے ذریعے سے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔
61:10يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ هَلۡ أَدُلُّكُمۡ عَلَىٰ تِجَٰرَةٖ تُنجِيكُم مِّنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14)
[10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
[11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی،
[12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
[13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔
61:11تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14)
[10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
[11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی،
[12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
[13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔
61:12يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةٗ فِي جَنَّـٰتِ عَدۡنٖۚ ذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14)
[10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
[11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی،
[12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
[13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔
61:13وَأُخۡرَىٰ تُحِبُّونَهَاۖ نَصۡرٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتۡحٞ قَرِيبٞۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14)
[10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
[11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی،
[12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
[13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔
61:14يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيِّـۧنَ مَنۡ أَنصَارِيٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٞ مِّنۢ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٞۖ فَأَيَّدۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَىٰ عَدُوِّهِمۡ فَأَصۡبَحُواْ ظَٰهِرِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں رہنمائی کروں تمھاری اوپر ایسی تجارت کے جو نجات دے تمھیں عذاب درد ناک سے؟ (10) ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور جہاد کرو تم اللہ کی راہ میں، ساتھ اپنے مالوں اور اپنے نفسوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (11) وہ (اللہ) بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ، اور داخل کرے گا تمھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں اور محلات پاکیزہ میں (جو) ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہیں، یہ ہے کامیابی بہت بڑی (12) اور (تمھارے لیے نعمت ہے) ایک اور کہ پسند کرتے ہو تم اس کو، مدد اللہ کی طرف سے اور فتح قریب اور بشارت دے دیجیے مومنوں کو (13) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم مدد گار اللہ کے جیسے کہا تھا عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے، کون ہے مدد گار میرا اللہ کے لیے؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں مدد گار اللہ کے پس ایمان لایا ایک گروہ بنی اسرائیل میں سے اور کفر کیا ایک گروہ نے، سو قوت دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان کے دشمنوں پر، تو ہو گئے وہ غالب (14)
[10] یہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِین ہستی کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سب سے بڑی تجارت، جلیل ترین مطلوب اور بلند ترین مرغوب کی طرف راہ نمائی، دلالت اور وصیت ہے، جس کے ذریعے سے المناک عذاب سے نجات اور ہمیشہ رہنے والی نعمت کے حصول میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے پیش کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ بصارت والا ہر شخص اس میں رغبت رکھتا ہے اور ہر عقل مند اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔
[11] گویا کہاگیا ہے کہ وہ کون سی تجارت ہے جس کی یہ قدر ہے؟ پس فرمایا:﴿ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔‘‘ اور یہ چیز معلوم ہے کہ ایمان کامل ان امور کی تصدیق جازم کا نام ہے جن کی تصدیق کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے، جن میں سے جلیل ترین عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿وَتُجَاهِدُوۡنَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔‘‘ وہ اس طرح کہ تم اپنے نفوس اور جانوں کو دشمنان اسلام کے مقابلے میں خرچ کرو اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے کلمہ کی سر بلندی ہو، اس مطلوب و مقصود کے حصول میں جو مال تمھیں میسر ہے، اسے خرچ کرو۔ اگر چہ یہ نفوس کے لیے ناگوار اور ان پر شاق گزرتا ہے مگر یہ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔‘‘ کیونکہ اس میں دنیاوی بھلائی ہے، یعنی دشمنان اسلام پر فتح و نصرت ہے اور عزت ہے جو ذلت کے منافی ہے، وسیع رزق اور انشراح صدر اور اس کی کشادگی ہے۔اس میں اخروی بھلائی بھی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کی سزا سے نجات کے حصول میں کامیابی،
[12] چنانچہ فرمایا :﴿ يَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ﴾ ’’اللہ تعالیٰ تمھارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ اور یہ تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو شامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد تمام گناہوں کو مٹا دیتے ہیں خواہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ﴿وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اور وہ تمھیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔‘‘ یعنی اس کے مساکن، اس کے محلات، اس کے بالا خانوں اور اس کے درختوں کے نیچے ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں بونہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں جاری ہوں گی جس کا ذائقہ متغیر نہ ہو گا، ایسی شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کو لذت دے گی اور خالص شہد کی نہریں ہوں گی اور جنت کے اندر ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے۔ ﴿ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ﴾ یعنی جنت میں ہر اچھی چیز جمع ہو گی، بلندی، ارتفاع، عمارتوں کی خوبصورتی اور سجاوٹ حتیٰ کہ اہل علیین کو دیگر اہل جنت اس طرح دیکھیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں چمک دار ستارہ دیکھا جاتا ہے ۔ حتیٰ کہ جنت کی (عمارتوں کی) تعمیر کی کچھ اینٹیں سونے کی ہوں گی اور کچھ چاندی کی، اس کے خیموں میں موتی اور مرجان جڑے ہوئے ہوں گے، جنت کے بعض گھر زمرد اور بہترین رنگوں کے جواہرات کے بنے ہوئے ہوں گے، حتیٰ کہ ان کے صاف و شفاف ہونے کی وجہ سے ان کے اندر سے بیرونی اور باہر سے اندرونی حصہ صاف نظر آئے گا۔ جنت کے اندر خوشبو اور ایسا حسن ہو گا کہ وصف بیان کرنے والے اس کا وصف بیان کر سکتے ہیں نہ اس کا تصور دنیا میں کسی شخص کے دل میں آیا ہے، ان کے لیے ممکن نہیں کہ اسے پا سکیں، جب تک کہ اسے دیکھ نہ لیں، وہ اس کے حسن سے متمتع ہوں گے اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔اس حالت میں اگر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو کامل زندگی عطا نہ کی ہوتی جو موت کو قبول نہیں کرتی تو ہو سکتا ہے کہ وہ خوشی سے مر جاتے۔ پس پاک ہے وہ ذات کہ اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی، اس کی ثنا بیان نہیں کر سکتی بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے، وہ اس حمد و ثنا سے بہت بڑھ کر ہے جو اس کی مخلوق میں سے کوئی بیان کرتا ہے۔بہت بابرکت ہے وہ جلیل و جمیل ہستی، جس نے نعمتوں کے گھر جنت کو تخلیق فرمایا، اس کو ایسا جلال و جمال عطا کیا جو مخلوق کی عقلوں کو مبہوت اور ان کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے۔بالا و برتر ہے وہ ذات، جو کامل حکمت کی مالک ہے، یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اگر بندے جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھ لیں، تو اس کو حاصل کرنے سے کوئی پیچھے نہ رہے اور انھیں اس دنیا کی ناخوشگوار اور مکدر زندگی کبھی اچھی نہ لگتی، جس کی نعمتوں میں درد و الم اور جس کی فرحتوں میں رنج و غم کی ملاوٹ ہے۔اس کو ’’جنت عدن‘‘ اس لیے کہا گیا کہ اہل جنت اس میں ہمیشہ مقیم رہیں گے اور اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور نہ اس سے منتقل ہونا چاہیں گے۔ یہ ثواب جزیل اور اجر جمیل ہی درحقیقت بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں۔ یہ ہے اخروی ثواب۔
[13] رہا اس تجارت کا دنیوی اجر و ثواب، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے :﴿ وَاُخۡرٰؔى تُحِبُّوۡنَهَا﴾ یعنی تمھیں ایک اور چیز حاصل ہو گی جسے تم پسند کرتے ہو، اور وہ ہے ﴿ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ دشمن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ فتح و نصرت، جس سے عزت و فرحت حاصل ہوتی ہے ﴿ وَفَتۡحٌ قَرِيۡبٌ﴾ ’’اور جلد فتح یابی‘‘ جس سے اسلام کا دائرہ وسیع ہو گا اور وسیع رزق حاصل ہو گا، یہ مومن مجاہدوں کی جزا ہے۔رہے وہ مومنین جو جہاد نہیں کر رہے، جب ان کے علاوہ دوسرے لوگ فریضۂ جہاد ادا کر رہے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے جہاد میں شریک نہ ہونے والے مومنوں کو بھی اپنے فضل و احسان سے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا:﴿ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی مومنوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی بشارت دے دو، اگرچہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کے درجے کو تو نہیں پہنچ سکتے تاہم ہر شخص کو اس کے ایمان کے مطابق ثواب ملے گا۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ جنت میں سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین في سبیل اللہ، حدیث: 2790)
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ﴾ اے ایمان والو! تم اپنے (اقوال و افعال کے ذریعے سے) اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ ۔‘‘ اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کیا جائے، دوسروں پر اس کے نفاذ کی خواہش رکھی جائے اور جو کوئی دین سے عناد رکھے اور اس کے خلاف جان و مال کے ذریعے سے جنگ کرے اور جو شخص باطل کی اس چیز کے ذریعے سے مدد کرے جس کو وہ اپنے زعم میں علم سمجھتا ہے، حق کی دلیل کا ابطال کرکے، اس پر حجت قائم کر کے اور لوگوں کو اس سے ڈرا کر اس کو ٹھکرائے تو اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کی تعلیم حاصل کرنا، اس کی ترغیب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، اللہ کے دین کی مدد کے زمرے میں آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان نیک لوگوں کی پیروی کرنے پر ابھارا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، فرمایا:﴿ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوَارِيّٖنَ۠ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ﴾ عیسیٰu نے اپنے حواریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’کون ہے جو میری معاونت کرے، اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لیے کون ہے جو میرا ساتھ دے، کون ہے وہ جو اس جگہ داخل ہو جہاں میں داخل ہوں اور کون ہے وہ جو اس جگہ سے نکلے جہاں سے میں نکلوں؟‘‘ حواری آگے بڑھے اور کہنے لگے:﴿ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم اللہ کے مدد گار ہیں۔‘‘ حضرت عیسیٰ uاور آپ کے ساتھ جو حواری تھے، سب نصرت دین کی راہ پر چل پڑے ﴿ فَاٰمَنَتۡ طَّآىِٕفَةٌ مِّنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ پس حضرت عیسیٰu اور آپ کے حواریوں کی دعوت کے سبب سے بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا ﴿ وَكَفَرَتۡ طَّآىِٕفَةٌ﴾ اور ان میں سے ایک گروہ نے انکار کر دیا اور ان کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا، پس اہل ایمان نے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ ﴿ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ﴾ یعنی ہم نے اہلِ ايمان کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں قوت بخشی، ان کو دشمنوں پر فتح و نصرت سے بہرہ مند کیا ﴿فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ﴾ تو وہ ان پر غالب آ گئے، پس اے امت محمد! تم بھی اللہ تعالیٰ کے مددگار، اس کے دین کی دعوت دینے والے بن جاؤ ، اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا جس طرح اس نے پہلے لوگوں کی مدد کی تھی اور تمھیں تمھارے دشمن پر غالب کرے گا۔