al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 57 · 29 verses
57:1سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ
تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
57:2لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
57:3هُوَ ٱلۡأَوَّلُ وَٱلۡأٓخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلۡبَاطِنُۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
57:4هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعۡرُجُ فِيهَاۖ وَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
57:5لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ
تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
57:6يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۚ وَهُوَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
تسبیح کرتی ہے اللہ کی جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہ زبردست ہے، حکمت والا(1) اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(2) وہی اول اور آخر اور ظاہر اور باطن ہے اور وہی ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(3) وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں، پھر مستوی ہو گیا عرش پر وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو نکلتی ہے اس سے اور جو چیز اترتی ہے آسمان سے اور جو اوپر چڑھتی ہے اس میں اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں کہیں ہو تم اور اللہ اس کو، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھنے والا ہے(4) اس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام امور(5) وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عظمت و جلال اور اپنی لا محدود قوت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات، حیوانات ناطقہ اور جمادات وغیرہ، اپنے رب کی حمد و ستائش کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں اور ان اوصاف سے اسے منزہ قرار دے رہے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں، نیز یہ کہ تمام موجودات اپنے رب کی مطیع اور اس کے غلبہ کے سامنے سرنگوں ہے۔ ان موجودات میں اس کی حکمت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اور وہ زبردست باحکمت ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام مخلوقات اپنے تمام احوال میں ہر لحاظ سے اپنے رب کی محتاج ہے، اس کے لا محدود غلبہ و قہر نے تمام اشیاء کو مغلوب و مقہور کر رکھا ہے اور اس کی حکمت عامہ اس کے خلق و امر میں جاری و ساری ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے لا محدود اقتدار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا :﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١ۚ يُحۡيٖ وَيُـمِيۡتُ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات کا خالق، رازق اور اپنی قدرت کے ساتھ ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ﴿ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[3]﴿ هُوَ الۡاَوَّلُ﴾ جس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی ﴿ وَالۡاٰخِرُ﴾ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی۔ ﴿ وَالظَّاهِرُ﴾ جس کے اوپر کوئی چیز نہیں ﴿ وَالۡبَاطِنُ﴾ جس سے پرے کوئی چیز نہیں ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ اس کے علم نے تمام ظواہرو بواطن، تمام بھیدوں ، مخفی چیزوں اور تمام متقدم اور متأخر امور کا احاطہ کر رکھا ہے۔
[4]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری دن جمعہ تھا۔ ﴿ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ﴾ ’’پھر عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ تمام مخلوقات کے اوپر، وہ استوا جو اس کے جلال کے لائق ہے ﴿ يَعۡلَمُ مَا يَلِجُ فِي الۡاَرۡضِ﴾ اناج کا دانہ، کوئی حیوان اور بارش وغیرہ جو کچھ بھی زمین میں داخل ہوتاہے ، وہ اسے جانتا ہے۔ ﴿ وَمَا يَخۡرُجُ مِنۡهَا﴾ نباتات، درخت اور حیوانات وغیرہ جو اس سے نکلتے ہیں، وہ انھیں جانتا ہے ﴿ وَمَا يَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ﴾ آسمان سے جو فرشتے، تقدیریں اور رزق نازل ہوتے ہیں ﴿ وَمَا يَعۡرُجُ فِيۡهَا﴾ فرشتے، ارواح، دعائیں اور اعمال وغیرہ آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، سب اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے ﴿ وَهُوَ مَعَكُمۡ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے: ﴿مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾(المجادلہ:58؍7)’’تین آدمی کوئی سرگوشی کرتے ہیں تو چوتھا وہ ہوتا ہے، پانچ آدمی سرگوشی کرتے ہیں تو چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ، مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اور یہ معیت، علم اور اطلاع کی معیت ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا و سزا کا وعدہ کیا ہے، فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان تمام اعمال کو دیکھتا ہے جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور یہ اچھے برے اعمال جو اس کی طرف لوٹتے ہیں، وہ تمھیں ان کی جزا دے گا اور ان کو تمھارے لیے محفوظ رکھے گا۔
[5]﴿ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ملکیت، تخلیق اور عبدیت کے اعتبار سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، وہ اپنے اوامر کونی و قدری اور اوامر شرعی جو حکمت ربانی کے مطابق جاری و ساری ہیں، کے ذریعے سے ان میں جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ ﴿ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ﴾ تمام اعمال اور عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ بندے اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے، پس وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا، وہ نیکو کار کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی بدی کا بدلہ دے گا۔
[6]﴿ يُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَيُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ﴾ رات دن پر چھا جاتی ہے اور اپنی تاریکی کے ساتھ اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور انسان آرام کرتے ہیں، پھر دن رات پر چھا جاتا ہے، تب زمین پر چھائی ہوئی تمام تاریکی زائل ہو جاتی ہے، تمام کون و مکان روشن ہو جاتے ہیں۔ تب بندے بھی متحرک ہو جاتے ہیں اور اپنے مصالح اور معاش کے انتظامات میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا رہتا ہے، ان دونوں کے درمیان، اضافے اور کمی، طول اور قصر کو ادل بدل کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ اس سے موسم جنم لیتے ہیں اور زمانوں کا حساب درست رہتا ہے اور بہت سے مصالح حاصل ہوتے ہیں۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام کائنات کا رب ہے جو بہت بلند، فضل و کرم کا مالک اور جواد ہے جس نے اپنے بندوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرمایا:﴿ وَهُوَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ یعنی جو کچھ تمام کائنات (والوں) کے سینوں میں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل ہے، اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور جس کے بارے میں اسے علم ہے کہ وہ ہدایت کا اہل نہیں، اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
57:7ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُواْ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسۡتَخۡلَفِينَ فِيهِۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَأَنفَقُواْ لَهُمۡ أَجۡرٞ كَبِيرٞ
ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
[9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:
57:8وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلرَّسُولُ يَدۡعُوكُمۡ لِتُؤۡمِنُواْ بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ أَخَذَ مِيثَٰقَكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
[9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:
57:9هُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦٓ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ
ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
[9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:
57:10وَمَا لَكُمۡ أَلَّا تُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا يَسۡتَوِي مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَٰتَلَۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةٗ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِنۢ بَعۡدُ وَقَٰتَلُواْۚ وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
[9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:
57:11مَّن ذَا ٱلَّذِي يُقۡرِضُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجۡرٞ كَرِيمٞ
ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور خرچ کرو اس میں سے کہ بنایا ہے اس (اللہ) نے تمھیں جانشین اس میں پس وہ لوگ جو ایمان لائے تم میں سے اور انھوں نے خرچ کیا، ان کے لیے اجر ہے بہت بڑا(7) اور کیا ہے تمھیں کہ نہیں ایمان لاتے تم ساتھ اللہ کے، جبکہ رسول بلاتا ہے تمھیں تاکہ تم ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے، اور تحقیق وہ لے چکا ہے پختہ وعدہ تم سے؟ اگر ہو تم ایمان لانے والے(8) وہی ہے جو نازل کرتا ہے اپنے بندے پر آیتیں واضح تاکہ وہ نکالے تمھیں اندھیروں سے اجالے کی طرف، اور بلاشبہ اللہ تم پر نہایت شفیق بڑا رحم کرنے والا ہے(9) اور کیا ہے تمھیں یہ کہ نہ خرچ کرو تم اللہ کی راہ میں؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے میراث آسمانوں اور زمین کی، نہیں برابر تم میں سے وہ جس نے خرچ کیا پہلے فتح (مکہ) سے اور لڑائی کی یہ لوگ زیادہ عظیم ہیں درجے میں ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور لڑائی کی اور ہر ایک سے وعدہ کیا ہے اللہ نے نیک جزا کا اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (10) کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرض حسنہ؟ پھر وہ (اللہ) بڑھا دے اس کو اس کے لیے؟ اور اس کے لیے ہے اجر عمدہ (11)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو، اللہ اور اس کے رسول اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں وہ مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے جو اس نے ان کے اختیار میں دیا ہے اور اس پر ان کو خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، پھر جب اس نے یہ حکم دیا تو اس نے ان کے سامنے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کے ثواب کا ذکر کر کے ان کو مال خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس پر آمادہ کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا﴾ یعنی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کو جمع کیا ﴿ لَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ اس میں سے عظیم ترین اور جلیل ترین اجر، اپنے رب کی رضا، اللہ تعالیٰ کا اکرام و تکریم والا گھر اور اس کے اندر ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے مومنین اور مجاہدین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[8] پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو انھیں ایمان کی دعوت دیتا ہے اور عدم مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَا لَكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡؔكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جو تمھیں ایمان لانے سے روکتی ہے حالانکہ رسول مصطفیٰ محمدﷺ جو سب سے افضل رسول اور سب سے اچھے داعی ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرنے اور حق کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے جلدی سے آگے بڑھنا چاہیے جسے محمد ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اللہ تعالیٰ تم سے ایمان لانے کا عہد اور میثاق لے چکا ہے، اگر تم مومن ہو تو تمھیں یہ کام کرنا چاہیے۔
[9] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا تم پر لطف و کرم اور اس کی عنایت ہے کہ اس نے صرف رسول کی دعوت پر اکتفا نہیں کیا جو تمام کائنات میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہیں بلکہ معجزات کے ذریعے سے اس رسول کی تائید کی اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے، اس کی صداقت پر تمھارے سامنے واضح دلائل پیش کیے۔ اس لیے فرمایا :﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبۡدِهٖۤ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰؔتٍ﴾’’وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے۔‘‘ یعنی ایسی ظاہری نشانیاں نازل فرمائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس کی صداقت پر عقل مندوں کی راہ نمائی کرتی ہیں، نیز یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہی حق الیقین ہے۔﴿ لِّيُخۡرِجَكُمۡ﴾ ’’تاکہ وہ تمھیں نکالے۔‘‘ تمھاری طرف رسول مبعوث کر کے، اور اس کتاب وحکمت کے ذریعے سے جو اس نے اس رسول کے ہاتھ پر اتاری۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ﴾ ’’اندھیروں سے اجالے کی طرف۔‘‘ یعنی تمھیں جہالت اور کفر کی تاریکیوں سے نکال کر علم و ایمان کی روشنی میں لائے۔ یہ تم پر اس کی رحمت و رأفت ہے، وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر رحیم ہے ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تم پر بہت شفقت کرنے والا (اور) نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
[10]﴿ وَمَا لَكُمۡ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے تمھیں انفاق فی سبیل اللہ سے روکا ہے اور ﴿سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ سے مراد تمام تر بھلائی کے راستے ہیں اورتم پر واجب کیا ہے کہ تم بخل نہ کرو۔‘‘ ﴿ وَ﴾ حالانکہ کوئی چیز تمھاری ملکیت میں نہیں ہے بلکہ ﴿ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ ہی کی میراث ہیں۔‘‘ پس تمام اموال تمھارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا تم انھیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے، پھر یہ ملکیت اس کے حقیقی مالک، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹ جائے گی۔پس جب تک یہ اموال تمھارے ہاتھ میں ہیں، اللہ کے راستے میں خرچ کر کے فائدہ اٹھاؤ اور فرصت کو غنیمت سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احوال اور حکمت الٰہیہ کے مطابق، اعمال کی ایک دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَسۡتَوِيۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقٰتَلَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۢۡ بَعۡدُ وَقٰتَلُوۡا﴾ ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ برابر نہیں بلکہ ان کے درجے ان لوگوں سے بہت بڑے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیا۔‘‘ یہاں فتح سے مراد فتح حدیبیہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا، جو درحقیقت سب سے بڑی فتح تھی، اس صلح کے دوران میں اسلام کی نشر و اشاعت ہوئی، مسلمانوں اور کفار کے درمیان میل جول ہوا اور کسی مخالفت کے بغیر دین کی دعوت دی گئی۔ اس عرصے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور اسلام کو عزت و غلبہ حاصل ہوا۔اس فتح سے قبل مسلمان دین کی دعوت نہیں دے سکتے تھے سوائے ان علاقوں کے ، جہاں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسے مدینہ منورہ اور اس کے تابع علاقے۔ اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا انھیں ایذائیں برداشت کرنا پڑیں اور انھیں سخت خوف کا سامنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس کسی نے فتح سے قبل اسلام قبول کر کے جہاد کیا، اس کا اجر و ثواب اور درجہ اس شخص کے درجہ سے زیادہ بڑا ہے جس نے فتح کے بعد اسلام قبول کر کے جہاد کیا اور اللہ کے راستے میں خرچ کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سابقین اولین اور فضلائے صحابہ کی غالب اکثریت نے فتح سے قبل اسلام قبول کیا۔چونکہ بعض معاملات کے درمیان فضیلت دینے سے کبھی کبھی مفضول میں نقص اور قدح متوہم ہوتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى﴾ یعنی وہ لوگ جو فتح سے پہلے اور اس کے بعد اسلام لائے، جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‘‘ چنانچہ وہ تم سے ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ جہاد کا تمام تر دارومدار انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد کی تیاری میں مال خرچ کرنے پر ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ مَنۡ ذَا الَّذِيۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔‘‘ اس سے مراد پاک اور طیب مال ہے جسے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے، اس کی رضا کے مطابق، حلال اور طیب مال میں سے نہایت خوش دلی کے ساتھ خرچ کیا جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس انفاق کو ’’قرض‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مال اسی کا مال اور یہ بندے اسی کے بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مال کو کئی گنا کر دینے کا وعدہ کیا ہے وہ فضل و کرم کا مالک اور بہت زیادہ داد و دہش والا ہے۔(اس انفاق کے)کئی گنا ہونے کا محل و مقام روز قیامت ہے، اس روز ہر انسان پر اپنا افتقار و احتیاج واضح ہو جائے گا، اس روز وہ قلیل ترین جزائے حسن کا بھی محتاج ہو گا، اس لیے فرمایا:
57:12يَوۡمَ تَرَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَسۡعَىٰ نُورُهُم بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ بُشۡرَىٰكُمُ ٱلۡيَوۡمَ جَنَّـٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)
[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔
[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
57:13يَوۡمَ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱنظُرُونَا نَقۡتَبِسۡ مِن نُّورِكُمۡ قِيلَ ٱرۡجِعُواْ وَرَآءَكُمۡ فَٱلۡتَمِسُواْ نُورٗاۖ فَضُرِبَ بَيۡنَهُم بِسُورٖ لَّهُۥ بَابُۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحۡمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلۡعَذَابُ
اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)
[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔
[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
57:14يُنَادُونَهُمۡ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡۖ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمۡ فَتَنتُمۡ أَنفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَٱرۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ ٱلۡأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلۡغَرُورُ
اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)
[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔
[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
57:15فَٱلۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنكُمۡ فِدۡيَةٞ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ مَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُۖ هِيَ مَوۡلَىٰكُمۡۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
اس دن آپ دیکھیں گے ایمان والوں اور ایمان والیوں کو کہ دوڑتا ہو گا نور ان کا آگے ان کے اور دائیں ان کے خوش خبری ہے تمھیں آج ایسے باغات کی کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، یہی ہے وہ کامیابی بڑی (12) اس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے، تم انتظار کرو ہمارا کہ ہم بھی کچھ روشنی حاصل کر لیں تمھارے نور سے (ان سے) کہا جائے گا، تم لوٹ جاؤ اپنے پیچھے ، پھر تلاش کرو نور! پس حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان ایک دیوار اس کا ایک دروازہ ہو گا، اندر اس کے اس میں رحمت ہو گی اور باہر اس کے اس کی طرف عذاب ہو گا (13) وہ پکاریں گے ان (مومنوں) کو، کیانہ تھے ہم تمھارے ساتھ(دنیا میں)؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں اور لیکن تم نے فتنے میں ڈالا تھا خود کو اور انتظار کیا تم نے اور شک کیا تم نے اور فریب دیا تمھیں خواہشوں نے یہاں تک کہ آ پہنچا حکم اللہ کا اور دھوکا دیا تمھیں اللہ کی بابت دھوکے باز نے (14) پس آج نہ لیا جائے گا تم سے کوئی فدیہ اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، تمھارا ٹھکانا آگ ہے، وہی تمھارے زیادہ لائق ہے اور بری جگہ ہے لوٹ جانے کی (وہ آگ)(15)
[12] اللہ تعالیٰ ایمان کی فضیلت اور قیامت کے روز اہل ایمان کی فرحت و مسرت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ يَوۡمَ تَرَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ يَسۡعٰى نُوۡرُهُمۡ بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اس دن آپ ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا۔‘‘ یعنی جب قیامت کا دن ہو گا سورج کو لپیٹ دیا جائے گا، چاند کو بے نور کر دیا جائے گا، تمام لوگ اندھیرے میں ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط نصب کر دیا جائے گا، تب تو مومنین اور مومنات کو دیکھے گا کہ ان کی روشنی ان کے آگے، اور ان کے دائیں بائیں چل رہی ہو گی اور وہ اس نہایت مشکل اور ہولناک مقام پر، اپنے ایمان اور روشنی کے ساتھ جا رہے ہوں گے، ہر شخص کو اپنے اپنے ایمان کی مقدار کے مطابق روشنی حاصل ہو گی۔اس مقام پر ان کو سب سے بڑی خوشخبری دی جائے گی، پس ان سے کہا جائے گا:﴿ بُشۡرٰؔىكُمُ الۡيَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ﴾ ’’تم کو بشارت ہو کہ آج تمھارے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ اللہ! یہ خوشخبری ان کے دلوں کے لیے کتنی شیریں اور ان کے نفوس کے لیے کتنی لذیذ ہو گی جہاں انھیں ہر مطلوب و محبوب چیز حاصل ہو گی اور وہ ہر شر اور ڈرانے والے امر سے نجات پائیں گے۔
[13] جب منافقین دیکھیں گے کہ اہل ایمان روشنی میں چلے جا رہے ہیں اور خود ان کی روشنی بجھ گئی ہے اور وہ اندھیروں میں حیران و پریشان باقی رہ گئے ہیں تو وہ اہل ایمان سے کہیں گے: ﴿ انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ﴾ یعنی ٹھہرو! تاکہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی لے کر اس کے اندر چل سکیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں تو ﴿ قِيۡلَ﴾ ان سے کہا جائے گا : ﴿ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا﴾ ’’پیچھے لوٹ کر جاؤ اور روشنی تلاش کرو۔‘‘ یعنی اگر ایسا کرنا ممکن ہے، حالانکہ یہ ممکن نہ ہو گا بلکہ یہ بالکل محال ہو گا ﴿ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تب حائل کر دی جائے گی ان کے درمیان۔‘‘ یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان ﴿ بِسُوۡرٍ﴾ ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی جائے گی اور ایک محفوظ رکاوٹ بنا دی جائے گی ﴿ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ ﴾ ’’جس کا ایک دروازہ ہوگا جو اس کی اندرونی جانب ہے اس میں تو رحمت ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو مومنین کی طرف ہو گا ﴿ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُ﴾ ’’اور جو اس کی بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے۔‘‘ اور یہ وہ حصہ ہے جو منافقین کی طرف ہو گا۔
[14] منافقین اہل ایمان کو پکاریں گے اور رحم کی درخواست کرتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے: ﴿ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ﴾ کیا دنیا میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہنے میں ہم تمھارے ساتھ نہ تھے، ہم بھی نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے، جہاد کرتے تھے اور تمھارے جیسے عمل کرتے تھے؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى﴾ مومنین جواب دیں گے: کیوں نہیں! تم دنیا میں ہمارے ساتھ تھے اور ظاہر میں ہمارے جیسے اعمال بھی بجا لاتے تھے، مگر تمھارے اعمال ایمان ، سچی اور صالح نیت سے خالی تھے بلکہ ﴿ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ﴾ ’’ تم نے خود اپنے آپ کو فتنے میں ڈال لیا تھا اور تم نے (اہل ایمان کی بابت گردشِ زمانہ کا) انتظار کیا اور شک کرتے رہے۔‘‘ یعنی تم نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر میں شک کیا جو شک کو قبول نہیں کرتی۔ ﴿ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ﴾ یعنی جھوٹی تمناؤ ں نے تمھیں دھوکے میں رکھا، تم تمنا کرتے تھے کہ تم بھی مومنین کے مقام پر پہنچ جاؤ گے اور حال تمھارا یہ تھا کہ تم دولتِ یقین سے تہی دامن تھے۔ ﴿ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ﴾ حتیٰ کہ موت نے تمھیں آ لیا اور تمھاری وہی مذموم حالت تھی۔ ﴿ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ﴾ ’’تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے والے نے دھوکے ہی میں رکھا۔‘‘ اس سے مراد شیطان ہے جس نے کفر اور شک کو تمھارے سامنے آراستہ کر دیا، تم اس پر بڑے مطمئن تھے، تم نے اس کے وعدے پر بھروسہ کیا اور اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کی۔
[15]﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’لہٰذا آج تم سے فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کافروں سے۔‘‘ اگرچہ تم زمین بھر سونا، نیز اتنا ہی مزید اپنے فدیے میں ادا کرو تو تم سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ﴾ یعنی جہنم تمھارا ٹھکانا ہے ﴿ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یہ جہنم تمھارا والی ہو گا اور تمھیں اپنے پاس رکھے گا ﴿ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗۙ۰۰فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌؕ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡؕ۰۰ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾(القارعۃ:101؍8-11) ’’اور جن کے اعمال کے وزن ہلکے نکلیں گے تو ان کا ٹھکانا ہاویہ ہے، اور آپ کیا جانیں کہ یہ ہاویہ کیا ہے، یہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
57:16۞أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
کیا نہیں وقت آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے یہ کہ جھک جائیں ان کے دل واسطے ذکر الٰہی کے اور (واسطے اس کے) جو نازل ہوا حق سے اور نہ ہوں وہ مانند ان لوگوں کے جو دیے گئے کتاب اس سے پہلے؟ پس لمبی ہو گئی اوپر ان کے مدت تو سخت ہو گئے ان کے دل اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (16) تم جان لو کہ بلاشبہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت کے، تحقیق بیان کیں ہم نے تمھارے لیے آیتیں تاکہ تم عقل پکڑو (17)
[16] جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات، منافقین اور منافقات کا کیا حال ہو گا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکساری کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر، ان کے دلوں میں خشوع و انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ﴾ یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں ۔اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامر و نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اس سے ڈر جائیں اور اس کے سامنے سر خم کر دیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کتاب و حکمت کے لیے جو اس نے نازل فرمائی ہے، خشوع و خضوع کی ترغیب ہے، نیز اس امر کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اہل ایمان مواعظ الٰہیہ اور احکام شرعیہ سے نصیحت حاصل کریں اور ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ ﴿ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ﴾ یعنی ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی جو خشوع قلب اور کامل اطاعت و تسلیم کی موجب تھی، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے نہ دائمی طور پر اس پر قائم رہے، بلکہ زمانے گزر گئے اور ان کی غفلت جڑ پکڑ گئی، ان کا ایمان کمزور اور ایقان زائل ہو گیا۔ ﴿فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ١ؕ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘ پس دل ہر وقت اس امر کے محتاج ہیں کہ وہ اس کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور حکمت کی گفتگو کرتے رہیں، اس کتاب سے غفلت نہ برتی جائے، کیونکہ یہ چیز دل کی سختی اور آنکھ کے جمود کا سبب بنتی ہے۔
[17]﴿ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا١ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً ہم نے تو تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔‘‘ کیونکہ آیات الٰہی مطالب الٰہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور ، پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد، بارش کے پانی کے ذریعے سے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت رکھتی ہے جو اس نے اپنے رسول (ﷺ) پر نازل کیا۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی آیات الٰہی سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، وہ عقل سے بے بہرہ ہے۔
57:17ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ
کیا نہیں وقت آیا ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے یہ کہ جھک جائیں ان کے دل واسطے ذکر الٰہی کے اور (واسطے اس کے) جو نازل ہوا حق سے اور نہ ہوں وہ مانند ان لوگوں کے جو دیے گئے کتاب اس سے پہلے؟ پس لمبی ہو گئی اوپر ان کے مدت تو سخت ہو گئے ان کے دل اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (16) تم جان لو کہ بلاشبہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو بعد اس کی موت کے، تحقیق بیان کیں ہم نے تمھارے لیے آیتیں تاکہ تم عقل پکڑو (17)
[16] جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں مومنین اور مومنات، منافقین اور منافقات کا کیا حال ہو گا، یہ چیز دلوں کو اپنے رب کے خوف و خشوع اور اس کی عظمت کے سامنے عجز و انکساری کی دعوت دیتی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر، ان کے دلوں میں خشوع و انکسار نہ ہونے کی بنا پر عتاب فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ﴾ یعنی کیا ابھی مومنوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل نرم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ڈر جائیں ۔اس سے مراد قرآن ہے۔ اور اس کے اوامر و نواہی اور جو حق نازل ہوا ہے جسے محمد کریم ﷺ لے کر تشریف لائے ہیں، اس سے ڈر جائیں اور اس کے سامنے سر خم کر دیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کتاب و حکمت کے لیے جو اس نے نازل فرمائی ہے، خشوع و خضوع کی ترغیب ہے، نیز اس امر کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اہل ایمان مواعظ الٰہیہ اور احکام شرعیہ سے نصیحت حاصل کریں اور ہر وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ ﴿ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ﴾ یعنی ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل کی جو خشوع قلب اور کامل اطاعت و تسلیم کی موجب تھی، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے نہ دائمی طور پر اس پر قائم رہے، بلکہ زمانے گزر گئے اور ان کی غفلت جڑ پکڑ گئی، ان کا ایمان کمزور اور ایقان زائل ہو گیا۔ ﴿فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ١ؕ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’پس ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘ پس دل ہر وقت اس امر کے محتاج ہیں کہ وہ اس کتاب سے نصیحت حاصل کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور حکمت کی گفتگو کرتے رہیں، اس کتاب سے غفلت نہ برتی جائے، کیونکہ یہ چیز دل کی سختی اور آنکھ کے جمود کا سبب بنتی ہے۔
[17]﴿ اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا١ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً ہم نے تو تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔‘‘ کیونکہ آیات الٰہی مطالب الٰہیہ کی طرف عقل کی راہ نمائی کرتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے حیات نو بخشی، اس پر قادر ہے کہ وہ مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے اور ، پھر ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔ پس وہ ہستی جس نے زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد، بارش کے پانی کے ذریعے سے دوبارہ زندہ کیا، وہ مردہ دلوں کو اس حق کے ذریعے سے زندگی بخشنے کی قدرت رکھتی ہے جو اس نے اپنے رسول (ﷺ) پر نازل کیا۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی آیات الٰہی سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، وہ عقل سے بے بہرہ ہے۔
57:18إِنَّ ٱلۡمُصَّدِّقِينَ وَٱلۡمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقۡرَضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا يُضَٰعَفُ لَهُمۡ وَلَهُمۡ أَجۡرٞ كَرِيمٞ
بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنھوں نے قرض دیا اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھایا جائے گا واسطے ان کے اور ان کے لیے ہے اجر عمدہ (18) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہی لوگ ہیں راست باز، اور گواہی دینے والے نزدیک اپنے رب کے، ان کے لیے اجر ہے ان کا اور نور ہے ان کا اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں جہنمی(19)
[18]﴿ اِنَّ الۡمُصَّؔدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ﴾ یعنی وہ مرداور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾’’او راللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ﴿ يُّضٰعَفُ لَهُمۡ﴾ ’’ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔‘‘ ایک نیکی کا اجر و ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے ﴿ وَلَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَرِيۡمٌ﴾’ ’اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔‘‘ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔
[19]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖۤ﴾ ’’اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ١ؕ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ وَنُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔‘‘ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے ’’جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790)اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا ، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔
57:19وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ وَنُورُهُمۡۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَآ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَحِيمِ
بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جنھوں نے قرض دیا اللہ کو قرض حسنہ تو وہ بڑھایا جائے گا واسطے ان کے اور ان کے لیے ہے اجر عمدہ (18) اور وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہی لوگ ہیں راست باز، اور گواہی دینے والے نزدیک اپنے رب کے، ان کے لیے اجر ہے ان کا اور نور ہے ان کا اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو یہی ہیں جہنمی(19)
[18]﴿ اِنَّ الۡمُصَّؔدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ﴾ یعنی وہ مرداور عورتیں جو نہایت کثرت سے صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ﴿وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا﴾’’او راللہ کو اچھا قرض دیتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے راستوں میں اپنا مال پیش کرتے ہیں جو ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ بن جاتا ہے۔ ﴿ يُّضٰعَفُ لَهُمۡ﴾ ’’ان کو دو چند اجر دیا جائے گا۔‘‘ ایک نیکی کا اجر و ثواب دس سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے ﴿ وَلَهُمۡ اَجۡرٌؔ كَرِيۡمٌ﴾’ ’اور ان کے لیے اجر کریم ہے۔‘‘ یہ وہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے جسے نفس نہیں جانتے۔
[19]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖۤ﴾ ’’اور وہ لوگ جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘ اہل سنت کے نزدیک ایمان جس پر قرآن و سنت دلالت کرتے ہیں وہ ہے قلب و لسان کا قول اور قلب و لسان اور جوارح کا عمل، تب یہ چیز دین کے تمام ظاہری و باطنی شرائع کو شامل ہے۔ پس جنھوں نے ان تمام امور کو جمع کر لیا وہ صدیق ہیں جن کا مرتبہ عام مومنوں سے اوپر اور انبیاء سے نیچے ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ وَالشُّهَدَآءُ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ١ؕ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ وَنُوۡرُهُمۡ﴾ ’’اور شہید ہیں ان کے رب کے ہاں ان کے لیے ان کا اجر ہوگا اور ان کی روشنی۔‘‘ کا معنی وہی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے ’’جنت کے سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (صحیح البخاري، الجہاد و السیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ، حدیث: 2790)اور یہ چیز ان کے انتہائی بلند مرتبہ، ان کی رفعت اور اللہ تعالیٰ سے ان کے قرب کا تقاضا کرتی ہے۔﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‘‘ ان آیات کریمہ نے مخلوق کی تمام اصناف، یعنی صدقہ کرنے والوں، صدیقین، شہداء اور اہل جہنم کے تذکرے کو یکجا کر دیا ہے۔پس صدقہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا بڑا حصہ مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور ممکن حد تک ان کو فائدہ پہنچانے خاص طور پر ان کو اللہ کے راستے میں مال کے ذریعے سے فائدہ پہنچانے پر مشتمل ہے۔ صدیق وہ لوگ ہیں جنھوں نے ایمان، عمل صالح، علم نافع اور یقین صادق کے مراتب کو مکمل کر لیا۔ شہید وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، اپنے جان و مال کو خرچ کیا اور قتل ہو گئے۔ اہل جہنم وہ کفار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا۔ مذکور بالا اقسام کے علاوہ ایک قسم باقی رہ گئی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاطر میں کیا ہے اور وہ ہیں مقتصدین جنھوں نے واجبات کو ادا کیا، محرمات کو ترک کیا ، البتہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں ان سے تقصیر واقع ہوئی۔ اگرچہ ان میں سے بعض کو ان کے بعض افعال کے سبب سے سزا ملے گی، تاہم مآل کار وہ جنت میں جائیں گے۔
57:20ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ كَمَثَلِ غَيۡثٍ أَعۡجَبَ ٱلۡكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمٗاۖ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ
تم جان لو ! یقیناً حیات دنیا کھیل ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے اور فخر کرنا ہے آپس میں اور ایک دوسرے پر کثرت جتلانا ہے مالوں اور اولاد میں، مانند بارش کے کہ خوش لگتا ہے کسانوں کو سبزہ اس کا ، پھر وہ خشک ہو جاتا ہے پس آپ دیکھتے ہیں اس کو زرد شدہ، پھر ہو جاتا ہے وہ چورا چورا اور آخرت میں عذاب ہے بہت سخت اور مغفرت ہے اللہ کی طرف سے اور رضا مندی اور نہیں زندگانی ٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا (20) دوڑو تم مغفرت کی طرف اپنے رب کی اور اس جنت کی (طرف) کہ اس کی چوڑائی ہے مانند چوڑائی آسمان اور زمین کے وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہ ہے فضل اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ جسے چاہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے (21)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور ان کے امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے۔ دنیا بس لہو و لعب ہے، جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے۔ آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انھوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الٰہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے۔ آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے ، کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو پہنچتا ہے یا دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔اورفرمایا:﴿ وَّزِيۡنَةٌ﴾ یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ ﴿ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ﴾ ’’اور آپس میں فخر کرنا ہے۔‘‘ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ ﴿ وَتَكَاثُرٌ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ﴾ یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہے جن کی نظر و ہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی ہی نہیں تھی اور نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا۔یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ جب بھی اس دنیا میں سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر لیتا ہے اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آ لیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کر دیا یا اسے خوشنما دنیا سے دور کر دیا اور وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا۔ پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَفِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ١ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ﴾ ’’اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔اولاً: تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الٰہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ثانیاً: یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس نے آخرت کے لے بھرپور کوشش کی۔یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے، اس لیے فرمایا :﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔‘‘ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت، رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت، ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے ، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے سے ہی یہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر فرمایا جو اس کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ﴾ ’’اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘جس کی ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
57:21سَابِقُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ أُعِدَّتۡ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
تم جان لو ! یقیناً حیات دنیا کھیل ہے اور تماشہ ہے اور زینت ہے اور فخر کرنا ہے آپس میں اور ایک دوسرے پر کثرت جتلانا ہے مالوں اور اولاد میں، مانند بارش کے کہ خوش لگتا ہے کسانوں کو سبزہ اس کا ، پھر وہ خشک ہو جاتا ہے پس آپ دیکھتے ہیں اس کو زرد شدہ، پھر ہو جاتا ہے وہ چورا چورا اور آخرت میں عذاب ہے بہت سخت اور مغفرت ہے اللہ کی طرف سے اور رضا مندی اور نہیں زندگانی ٔ دنیا مگر سامان دھوکے کا (20) دوڑو تم مغفرت کی طرف اپنے رب کی اور اس جنت کی (طرف) کہ اس کی چوڑائی ہے مانند چوڑائی آسمان اور زمین کے وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے، یہ ہے فضل اللہ کا، وہ دیتا ہے یہ جسے چاہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے (21)
[20] اللہ تبارک و تعالیٰ دنیا اور ان کے امور کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن پر دنیا کا دارومدار ہے، نیز دنیا اور دنیا والوں کی غایت و انتہا بیان فرماتا ہے۔ دنیا بس لہو و لعب ہے، جس کے ساتھ بدن کھیلتے ہیں اور اس کی وجہ سے قلب غافل ہوتے ہیں۔ جو کچھ دنیا میں موجود ہے اور ابنائے دنیا سے جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اس کا مصداق ہے۔ آپ ابنائے دنیا کو پائیں گے کہ انھوں نے اپنی عمر کے اوقات کو غفلت قلب میں صرف کیا اور وہ ذکر الٰہی اور آئندہ پیش آنے والے وعد و وعید سے غافل رہے۔ آپ اہل بیدار اور آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کو ان کے برعکس دیکھیں گے ، کیونکہ ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی معرفت اور اس کی محبت سے معمور ہیں۔ وہ اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ایسے اعمال میں صرف کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو پہنچتا ہے یا دوسروں کو بھی پہنچتا ہے ۔اورفرمایا:﴿ وَّزِيۡنَةٌ﴾ یعنی لباس، مشروبات، سواریوں، گھروں، محلات اور دنیاوی جاہ وغیرہ کے ذریعے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔ ﴿ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيۡنَكُمۡ﴾ ’’اور آپس میں فخر کرنا ہے۔‘‘ یعنی ان چیزوں کو رکھنے کے لیے ہر شخص دوسرے پر فخر کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان امور میں وہی غالب رہے اور ان احوال میں بس اسی کو شہرت حاصل رہے۔ ﴿ وَتَكَاثُرٌ فِي الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَوۡلَادِ﴾ یعنی ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ وہ مال اور اولاد میں دوسروں سے بڑھ کر ہو۔ دنیا سے محبت کرنے والے اور اس پر مطمئن رہنے والے اس کا مصداق ہیں۔ اس کے برعکس وہ شخص جو دنیا اور اس کی حقیقت کو جانتا ہے، وہ اسے مستقل ٹھکانا نہیں بناتا بلکہ اسے گزرگاہ خیال کرتا ہے، وہ ایسے اعمال میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور ایسے وسائل اختیار کرتا ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا ہے جو اس کے ساتھ دنیا، مال و متاع اور اولاد کی کثرت میں مقابلہ کرتا ہے تو یہ اعمال صالحہ میں اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس دنیائے فانی کے لیے بارش کی مثال دی ہے، جو زمین پر برستی ہے اور اس کی نباتات کو سیراب کرتی ہے جس سے لوگ اور مویشی اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین پوری طرح لہلہانے لگتی ہے اور اس کی نباتات کفار کو بھلی لگتی ہے جن کی نظر و ہمت صرف دنیا ہی پر مرکوز ہوتی ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم آ جاتا ہے جو اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔یہ نباتات خشک ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جاتی ہے، گویا کہ وہاں کبھی ہریالی اگی ہی نہیں تھی اور نہ وہاں کبھی کوئی خوبصورت منظر ہی دیکھا گیا تھا۔یہی حال اس دنیا کا ہے۔ یہ اپنے چاہنے والے کے لیے نہایت خوش نما اور خوبصورت ہوتی ہے۔ وہ جب بھی اس دنیا میں سے اپنا مطلوب حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر لیتا ہے اور جب بھی وہ کسی دنیاوی معاملے کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے دروازوں کو کھلا ہوا پاتا ہے۔ جب تقدیر نے اس کو آ لیا اور اس سے وہ سب کچھ چھین لیا جو اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر سے اس کے تسلط کو زائل کر دیا یا اسے خوشنما دنیا سے دور کر دیا اور وہ اس دنیا سے خالی ہاتھ روانہ ہوا اور کفن کے سوا اس کے پاس کوئی زاد راہ نہ تھا۔ پس ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس کی آرزو کی انتہا یہ دنیا ہے اور اسی کے لیے اس کے اعمال اور اس کی بھاگ دوڑ تھی۔رہا وہ عمل جو آخرت کے لیے کیا جاتا ہے تو یہی وہ عمل ہے جو فائدہ دیتا ہے اور عمل کرنے والے کے لیے ذخیرہ کر دیا جاتا ہے اور ہمیشہ بندے کے ساتھ رہتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَفِي الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ١ۙ وَّمَغۡفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانٌ﴾ ’’اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے۔‘‘ یعنی آخرت کا حال ان دو امور سے خالی نہیں۔اولاً: تو اس شخص کے لیے جہنم کی آگ میں سخت عذاب، جہنم کی بیڑیاں اور زنجیریں اور اس کی ہولناکیاں ہوں گی جس کی غایت مقصود اور منتہائے مطلوب محض دنیا ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرتا ہے، آیات الٰہی کو جھٹلاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناسپاسی کرتا ہے۔ثانیاً: یا اس شخص کے لیے گناہوں کی بخشش، عقوبتوں کا ازالہ اور دار رضوان میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی، یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے دنیا کی حقیقت کو پہچان لیا اور اس نے آخرت کے لے بھرپور کوشش کی۔یہ سب کچھ دنیا میں زہد اور آخرت میں رغبت کی دعوت دیتا ہے، اس لیے فرمایا :﴿ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ﴾ ’’اور دنیا کی زندگی تو محض متاع فریب ہے۔‘‘ یعنی یہ صرف ایسی متاع ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاتا اور اس سے ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں، اس کی وجہ سے فریب میں صرف وہی لوگ مبتلا ہوتے اور اس پر مطمئن رہتے ہیں جو ضعیف العقل ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔
[21] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مغفرت، رضا اور جنت کی طرف مسابقت کا حکم دیا ہے اور یہ چیز مغفرت کے اسباب کے لیے کوشش کرنے، یعنی خالص توبہ اور نفع مند استغفار کرنے، گناہ اور گناہ کے اسباب سے دور رہنے ہی سے ممکن ہے، نیز عمل صالح کے ذریعے سے اللہ کی رضا کی طرف سبقت، ان امور پر دوام کی حرص کرنے سے ممکن ہے جن پر اللہ تعالیٰ راضی ہے ، یعنی خالق کی عبادت میں احسان اور مخلوق کو ہر لحاظ سے فائدہ پہنچا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کے ذریعے سے ہی یہ چیز حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کا ذکر فرمایا جو اس کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَجَنَّةٍ عَرۡضُهَا كَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ١ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ﴾ ’’اور جنت جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ جو ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان میں دین کے تمام اصول و فروع داخل ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے جو کچھ بیان کیا ہے اور جنت تک پہنچانے والے طریقوں اور جہنم میں گرانے والے جن راستوں کی نشاندہی کی ہے، وہ سب اللہ کا فضل ہے، نیز اللہ تعالیٰ کا اجر عظیم اور ثواب جمیل، اس کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان اور فضل و کرم ہے ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘جس کی ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے خود اپنی ثنا بیان کی، اس کے بندوں میں سے جو کوئی اس کی ثنا بیان کرتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
57:22مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِيٓ أَنفُسِكُمۡ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مِّن قَبۡلِ أَن نَّبۡرَأَهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24)
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
[23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘
[24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔
57:23لِّكَيۡلَا تَأۡسَوۡاْ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُواْ بِمَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٍ
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24)
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
[23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘
[24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔
57:24ٱلَّذِينَ يَبۡخَلُونَ وَيَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبُخۡلِۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَنِيُّ ٱلۡحَمِيدُ
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمھارے نفسوں میں مگر (وہ لکھی) ہے کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں اس کو یقیناً یہ اللہ پر نہایت آسان ہے (22) تاکہ نہ غم کھاؤ تم اس پر جو فوت ہو جائے تم سے اور نہ اتراؤ تم اس پر جو وہ دے تمھیں اور اللہ نہیں پسند کرتا ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو (23) وہ لوگ جو (خود بھی) بخل کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں لوگوں کو بخل (کرنے)کا ، اور جو شخص منہ پھیرے تو بلاشبہ اللہ، ہی بے پروا قابل تعریف ہے (24)
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قضا و قدر کی عمومیت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِيۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ آیت کریمہ خیر و شر پر مبنی ان تمام مصائب کو شامل ہے جو مخلوق پر نازل ہوتی ہیں، ہر چھوٹی بڑی تقدیر لوح محفوظ میں درج ہے۔ یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے، عقل جس کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اس مقام پر بڑے بڑے خرد مند ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔
[23]﴿ لِّكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تاکہ ان کے سامنے یہ قاعدہ متحقق ہو جائے اور ان پر جو خیر و شر نازل ہوتا ہے اس کی بنا اس قاعدہ پر رکھیں۔ پس جس چیز کو ان کے دل چاہتے تھے اور اس کا اشتیاق رکھتے تھے، اس کے فوت ہونے پر مایوس اور غمگین نہ ہوں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں درج تھا جس کا نافذ اور واقع ہونا ایک لازمی امر تھا اور اس نوشتہ کے وقوع کو روکنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہے وہ اس پر تکبر اور اتراہٹ کے ساتھ فرحت کا اظہار نہ کریں گے کیونکہ انھیں علم ہے کہ انھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے انھیں اپنی قوت اور طاقت سے حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ سب کچھ تو انھیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چاہیے کہ وہ اس ہستی کے شکر میں مشغول رہیں جس نے نعمتیں عطا کیں اور زحمتوں کو دور کیا۔ بنابریں فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡ رٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ درشت خو، خود پسند اور متکبر کو پسند نہیں کرتا جو فخر کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو خود اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نعمتیں سرکشی اور غفلت میں مبتلا کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ١ؕ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ﴾(الزمر:39؍49)’’ پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمتوں سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم و دانش کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، (ایسی بات نہیں)بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے۔‘‘
[24]﴿ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ﴾ ’’جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی دونوں مذموم کاموں کو اکٹھا کر لیتے ہیں جن میں سے ہر ایک شر کے لیے کافی ہے۔ ایک تو بخل ہے جس سے مراد حقوق واجبہ کی ادائیگی سے باز رہنا ہے اور دوسرا وہ لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں۔ انھوں نے بخل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیگر لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیا اور اپنے قول و فعل سے انھیں مذموم صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ اور یہ ان کا اپنے رب کی اطاعت سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ الۡحَمِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور سزاوارِ حمد وثنا ہے۔‘‘ جس کا غنا اس کی ذات کے لوازمات میں سے ہے جو آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے اور جس نے اپنے بندوں کو غنی اور مال دار بنایا۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ ہستی ہے جس کا ہر نام اچھا، ہر وصف کامل اور ہر فعل خوبصورت ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی حمد و ثنا بیان کی جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔
57:25لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلۡنَا مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَنزَلۡنَا ٱلۡحَدِيدَ فِيهِ بَأۡسٞ شَدِيدٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعۡلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلۡغَيۡبِۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ
البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27)
[25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔
[26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘
[27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘
57:26وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحٗا وَإِبۡرَٰهِيمَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَۖ فَمِنۡهُم مُّهۡتَدٖۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27)
[25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔
[26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘
[27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘
57:27ثُمَّ قَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَۖ وَجَعَلۡنَا فِي قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأۡفَةٗ وَرَحۡمَةٗۚ وَرَهۡبَانِيَّةً ٱبۡتَدَعُوهَا مَا كَتَبۡنَٰهَا عَلَيۡهِمۡ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ رِضۡوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَاۖ فَـَٔاتَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنۡهُمۡ أَجۡرَهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
البتہ تحقیق بھیجے ہم نے اپنے رسول ساتھ واضح دلیلوں کے، اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان تاکہ قائم رہیں لوگ انصاف پر، اور نازل کیا ہم نے لوہا اس میں لڑائی ہے بہت سخت اور فائدے ہیں لوگوں کے لیے اور تاکہ جان لے اللہ اس کو جو مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی بن دیکھے بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (25) اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اور ابراہیم کو، اور رکھی ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب، پس کچھ ان میں سے ہدایت پانے والے ہیں اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (26) پھر لگاتار پیچھے بھیجا ہم نے اوپر ان کے نقش قدم کے اپنے رسولوں کو، اور پیچھے بھیجا ہم نے عیسٰی ابن مریم کو اور دی ہم نے اس کو انجیل، اور رکھ دی ہم نے دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے پیروی کی اس کی، شفقت اور مہربانی اور رہبانیت کو انھوں نے خود ایجاد کیا تھا اسے نہیں لکھا تھا ہم نے اسے ان پر سوائے تلاش کرنے رضائے الٰہی کے پس نہ رعایت کی انھوں نے اس کی جیسا حق تھا اس کی رعایت کا، پھر دیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ان میں سے اجر ان کا اور بہت سے ان میں سے فاسق ہیں (27)
[25] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَيِّنٰتِ﴾ ’’یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا۔‘‘اس سے مراد وہ دلائل، شواہد اور علامات ہیں جو اس چیز کی صداقت اور حقیقت پر دلالت کرتی ہیں جسے انبیاء کرام لے کر آئے ہیں ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا مَعَهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر کتاب اتاری۔‘‘ (الکتاب) اسم جنس ہے جو ان تمام کتابوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور ان امور کی طرف راہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے جو ان کے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔ ﴿ وَالۡمِيۡزَانَ﴾ ’’اورمیزان‘‘ اور وہ اقوال و افعال میں عدل کا نام ہے۔ وہ دین جو رسول اللہﷺ لے کر آئے وہ اوامرونواہی او رمخلوق کے تمام معاملات، تمام جرائم، حدود، قصاص اور وراثت کے معاملات وغیرہ میں، سراسر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ اور یہ اس لیے ﴿لِيَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ﴾ تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کر کے اور اپنے مصالح کے حصول کی خاطر جن کو شمار کرنا ممکن نہیں، عدل و انصاف پر قائم رہیں۔یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام انبیاء و رسل، شریعت کے قاعدہ پر متفق ہیں اور وہ ہے عدل کو قائم کرنا اگرچہ زمان و احوال کے مطابق عدل کی صورتیں مختلف ہیں۔ ﴿ وَاَنۡزَلۡنَا الۡحَدِيۡدَ فِيۡهِ بَاۡسٌ شَدِيۡدٌ﴾ ’’او رہم نے لوہا پیدا کیا، اس میں سخت ہیبت و قوت ہے۔‘‘ یعنی آلات حرب، مثلاً: ہر قسم کا اسلحہ اور ذرہ بکتر وغیرہ۔ ﴿وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور لوگوں کے لیے منافع ہے۔‘‘ یہ وہ منافع ہیں جن کا مشاہدہ مختلف انواع کی صنعت و حرفت، مختلف اقسام کے برتنوں اور زرعی آلات میں کیا جا سکتا ہے، یہاں تک کہ کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو گی جو لوہے کی محتاج نہ ہو ﴿ وَلِيَعۡلَمَ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ اللہ اسے جان لے جو بن دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہا اس لیے نازل فرمایا ہےکہ وہ اس کے ذریعے سے آزمائش کا بازار گرم کرے تاکہ واضح ہو جائے کہ کون اس حالت غیب میں اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں جس میں وہ ایمان فائدہ دیتا ہے جو مشاہدہ سے قبل ہو، مشاہدہ کے اندر ایمان کے وجود کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تب تو ایمان ضروری اور اضطراری ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيۡزٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ قوی اور زبردست ہے۔‘‘ یعنی اسے کوئی عاجز کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگنے والا اس سے بچ کر کہیں جا سکتا ہے۔ یہ اس کی قوت اور غلبے کا نشان ہے کہ اس نے لوہا نازل کیا جس سے بڑے بڑے طاقتور آلات بنتے ہیں۔ یہ اس کی طاقت اور غلبہ ہی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی قدرت رکھتا ہے مگر وہ اپنے دشمنوں کے ذریعے سے اپنے اولیاء کو آزماتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون بن دیکھے اس کی مدد کرتا ہے۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کتاب اور لوہے کو اکٹھا بیان کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کے ذریعے سے اپنے دین کو نصرت عطا کرتا ہے اور اپنے کلمے کوکتاب کے ذریعے سے اور سیفِ ناصر کے ذریعے سے، اللہ کے حکم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ دونوں عدل و انصاف قائم کرتی ہیں جس کے ذریعے سے باری تعالیٰ کی حکمت، اس کے کمال اور اس کی شریعت کے کمال پر استدلال کیا جاتا ہے جس کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر مشروع فرمایا۔
[26] جب اللہ تعالیٰ نے جملہ انبیائے کرام کی نبوت کا عمومی ذکر فرمایا تو ان میں سے دو خاص نبیوں، یعنی حضرت نوح اور ابراہیمi کا ذکر بھی فرمایا جن کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور کتاب کو جاری کیا، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا وَّاِبۡرٰهِيۡمَ وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ﴾ ’’بے شک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب جاری رکھی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے متقدمین و متاخرین حضرت نوح اور ابراہیم iکی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح تمام کتابیں انھی دو انبیائے کرام کی اولاد پر نازل ہوئیں ﴿ فَمِنۡهُمۡ﴾ یعنی ان لوگوں میں سے جن کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیے ، بعض لوگ﴿ مُّهۡتَدٍ﴾ ان انبیاء کی دعوت کے ذریعے سے ہدایت یافتہ، ان کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور ان کی ہدایت سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوئے۔ ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ اور ان میں سے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت سے خارج ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(یوسف: 12؍103)’’اور اکثر لوگ، خواہ آپ کتنی ہی خواہش کریں ایمان لانے والے نہیں۔‘‘
[27]﴿ ثُمَّ قَفَّيۡنَا﴾ پھر ہم نے بھیجے ﴿ عَلٰۤى اٰثَارِهِمۡ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيۡنَا بِعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’ ان کے پیچھے لگاتار اپنے رسول اور ہم نے ان سب کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ uکا خاص طور پر اس لیے ذکرکیا ہے کیونکہ سیاق آیات نصاریٰ کے بارے میں ہے جو حضرت عیسیٰ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں ﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل دی۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی فضیلت والی کتابوں میں سے ہے ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ قُلُوۡبِ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ رَاۡفَةً وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور ڈال دی ہم نے ان کے پیروکاروں کے دلوں میں شفقت اور مہربانی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا١ۚ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾(المائدہ: 5/82) ’’آپ پائیں گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور مودت و محبت کے اعتبار سے آپ مومنوں کے سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائیں گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور راہب بھی اور (اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ) وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ اسی لیے جب نصرانی عیسیٰu کی شریعت پر قائم تھے تو دوسروں کی نسبت زیادہ نرم دل تھے۔ ﴿وَرَهۡبَانِيَّةَنِ ابۡتَدَعُوۡهَا﴾ رہبانیت سے مراد عبادت ہے۔ پس انھوں نے اپنی طرف سے ایک عبادت ایجاد کر لی اور اپنے لیے اسے وظیفہ بنا لیا اور انھوں نے مختلف لوازم کا التزام کیا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض نہیں کیا تھا بلکہ انھوں نے خود اپنی طرف سے اپنے آپ پر لازم ٹھہرایا تھا اس سے ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ مگر بایں ہمہ ﴿فَمَا رَعَوۡهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا﴾ یعنی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے اور نہ اس کے حقوق ہی کو ادا کر سکے۔پس وہ دو اعتبار سے قصور کے مرتکب ہوئے۔اول: اس عبادت کو ایجاد کرنے کے اعتبار سے۔ثانی : اس اعتبار سے کہ انھوں نے اپنے آپ پر جس چیز کو فرض کیا تھا اس پر قائم نہ رہ سکے۔ اور یہ حال ان کے غالب احوال میں سے تھا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم پر استقامت کے ساتھ قائم تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاٰتَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡهُمۡ اَجۡرَهُمۡ﴾ یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ uپر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محمد مصطفیﷺ پر بھی ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کے ایمان کے مطابق اجر عطا کیا ہے ﴿وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’اور ان میں سے زیادہ تر نافرمان ہیں۔‘‘
57:28يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَءَامِنُواْ بِرَسُولِهِۦ يُؤۡتِكُمۡ كِفۡلَيۡنِ مِن رَّحۡمَتِهِۦ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ نُورٗا تَمۡشُونَ بِهِۦ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، وہ دے گا تمھیں دو حصے اپنی رحمت سے اور بنائے گا تمھارے لیے ایسا نور کہ تم چلو گے ساتھ اس کے، اور وہ بخش دے گا تمھیں، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (28) تاکہ جان لیں اہل کتاب یہ کہ بلاشبہ وہ نہیں قدرت رکھتے اوپر کسی چیز کے اللہ کے فضل سے، اور یہ کہ بلاشبہ (تمام) فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(29)
[28] اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ iپر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمدﷺ پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا:﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾ ’’اپنی رحمت سے دو گنا اجر ۔‘‘ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں: ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمدﷺپر ایمان لانے کے بدلے میں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے، نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان اور تقویٰ کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے ﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں دو گنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگر عطائے ثواب میں تکرار ہے۔﴿ وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ ﴾ یعنی وہ تمھیں علم، ہدایت اور روشنی عطا کرے گا، جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔
[29]﴿ لِّئَلَّا يَعۡلَمَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَلَّا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرہ ور ہوتا ہے ، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں:﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى﴾(البقرہ:2؍111) ’’جنت میں داخل نہیں ہو گا سوائے یہودی اور نصرانی کے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دو گنی رحمت، نور اور مغفرت ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے ﴿ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘‘ جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔
57:29لِّئَلَّا يَعۡلَمَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ أَلَّا يَقۡدِرُونَ عَلَىٰ شَيۡءٖ مِّن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَأَنَّ ٱلۡفَضۡلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور ایمان لاؤ اس کے رسول پر، وہ دے گا تمھیں دو حصے اپنی رحمت سے اور بنائے گا تمھارے لیے ایسا نور کہ تم چلو گے ساتھ اس کے، اور وہ بخش دے گا تمھیں، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (28) تاکہ جان لیں اہل کتاب یہ کہ بلاشبہ وہ نہیں قدرت رکھتے اوپر کسی چیز کے اللہ کے فضل سے، اور یہ کہ بلاشبہ (تمام) فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ دیتا ہے یہ (فضل) جس کو چاہتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے(29)
[28] اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ یہ خطاب ان اہل کتاب سے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ iپر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کے تقاضے پر عمل کریں ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اس کی نافرمانی کو چھوڑ دیں اور اس کے رسول محمدﷺ پر ایمان لائیں، اگر وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا:﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾ ’’اپنی رحمت سے دو گنا اجر ۔‘‘ یعنی ان کے اجر کے دو حصے ہیں: ایک حصہ ان کے سابق رسولوں پر ایمان لانے کے بدلے میں اور دوسرا حصہ محمدﷺپر ایمان لانے کے بدلے میں۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب داخل ہیں اور یہی ظاہر ہے، نیز اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان اور تقویٰ کا حکم دیا ہے جس میں دین کا تمام ظاہر و باطن اور اصول و فروع داخل ہے اور اگر وہ اس عظیم حکم کی تعمیل کریں گے ﴿ كِفۡلَيۡنِ مِنۡ رَّحۡمَتِهٖ﴾تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انھیں دو گنا اجر عطا کرے گا جس کی مقدار اور وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے مراد یا تو ایمان لانے پر اجر اور تقویٰ اختیار کرنے پر اجر ہے یا اوامر کی تعمیل پر اجر اور نواہی سے اجتناب کرنے پر اجر ہے یا تثنیہ سے مراد یکے بعد دیگر عطائے ثواب میں تکرار ہے۔﴿ وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ نُوۡرًا تَمۡشُوۡنَ بِهٖ ﴾ یعنی وہ تمھیں علم، ہدایت اور روشنی عطا کرے گا، جس کی مدد سے تم جہالت کی تاریکیوں میں چل پھر سکو گے اور وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ اس ثواب کی یہ کثرت، فضل عظیم مالک کے فضل کے سامنے مستبعد نہیں جس کا فضل و کرم تمام آسمانوں اور زمین والوں پر سایہ کناں ہے، لمحہ بھر یا اس سے بھی کم وقت کے لیے مخلوق سے اس کا فضل و کرم جدا نہیں ہوتا۔
[29]﴿ لِّئَلَّا يَعۡلَمَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَلَّا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ﴾ یعنی ہم نے تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے کہ اس شخص کو ہم اپنے فضل و احسان سے نوازتے ہیں جو عمومی ایمان سے بہرہ ور ہوتا ہے ، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ یہ وضاحت ہم نے اس لیے کی تاکہ اہل کتاب کو یہ علم ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یعنی وہ اپنی خواہشات نفس اور عقول فاسدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو اس کے فضل سے روک نہیں سکتے، وہ کہتے ہیں:﴿ لَنۡ يَّدۡخُلَ الۡجَنَّةَ اِلَّا مَنۡ كَانَ هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰؔى﴾(البقرہ:2؍111) ’’جنت میں داخل نہیں ہو گا سوائے یہودی اور نصرانی کے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فاسد آرزوئیں رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ پر ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ اہل کتاب کے علی الرغم ان کے لیے دو گنی رحمت، نور اور مغفرت ہے تاکہ انھیں معلوم ہو جائے ﴿ اَنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔‘‘ جس کے بارے میں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ اسے اپنا فضل عطا کرے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ فضل عظیم کا مالک ہے جس کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔