QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Waqi'ah

ٱلْوَاقِعَة

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 56 · 96 verses

56:1

إِذَا وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:2

لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:3

خَافِضَةٞ رَّافِعَةٌ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:4

إِذَا رُجَّتِ ٱلۡأَرۡضُ رَجّٗا

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:5

وَبُسَّتِ ٱلۡجِبَالُ بَسّٗا

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:6

فَكَانَتۡ هَبَآءٗ مُّنۢبَثّٗا

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:7

وَكُنتُمۡ أَزۡوَٰجٗا ثَلَٰثَةٗ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:8

فَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَيۡمَنَةِ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:9

وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡمَشۡـَٔمَةِ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:10

وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلسَّـٰبِقُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:11

أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلۡمُقَرَّبُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:12

فِي جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:13

ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:14

وَقَلِيلٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:15

عَلَىٰ سُرُرٖ مَّوۡضُونَةٖ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:16

مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيۡهَا مُتَقَٰبِلِينَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:17

يَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَٰنٞ مُّخَلَّدُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:18

بِأَكۡوَابٖ وَأَبَارِيقَ وَكَأۡسٖ مِّن مَّعِينٖ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:19

لَّا يُصَدَّعُونَ عَنۡهَا وَلَا يُنزِفُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:20

وَفَٰكِهَةٖ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:21

وَلَحۡمِ طَيۡرٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:22

وَحُورٌ عِينٞ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:23

كَأَمۡثَٰلِ ٱللُّؤۡلُوِٕ ٱلۡمَكۡنُونِ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:24

جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:25

لَا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوٗا وَلَا تَأۡثِيمًا

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:26

إِلَّا قِيلٗا سَلَٰمٗا سَلَٰمٗا

جب واقع ہو گی واقع ہونے والی(قیامت)(1) نہیں ہو گا اس کےواقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا(2) پست کرنے والی، بلند کرنے والی(3) جب ہلائی جائے گی زمین (سخت) ہلایا جانا(4) اور ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیا جانا(5) پس ہو جائیں گے وہ ذرات بکھرے ہوئے(6) اور ہو جاؤ گے تم قسمیں تین(7) سو دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے ؟(8) اور بائیں (ہاتھ) والے کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟(9) اور سبقت لینے والے تو سبقت ہی لینے والے ہیں (10)یہی لوگ مقرب ہیں (11) نعمت والے باغات میں (12) بہت بڑی جماعت پہلوں میں سے (13) اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے (14)(بیٹھے ہوں گے) تختوں پر زر و جواہر سے جڑے ہوئے (15) تکیہ لگائے ہوئے ان پر آمنے سامنے (16) آتے جاتے ہوں گے ان پر لڑکے سدا لڑکے ہی رہنے والے (17) آبخورے اور آفتابے لیے ہوئے، اور لبریز جام، شراب کے جاری چشمے سے (18) نہ وہ مبتلائے سر درد ہوں گے اس سے اور نہ (مستی سے) مدہوش (19) اور پھل (لیے ہوئے) اس قسم سے جو وہ پسند کریں گے (20) اور گوشت پرندوں کا اس قسم سے جو وہ چاہیں گے (21) اور (ان کے لیے ہوں گی) حوریں فراخ چشم (22) جیسے موتی غلاف میں رکھے ہوئے (23) بدلے میں اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (24) نہیں سنیں گے وہ اس میں کوئی لغو اور نہ گناہ کی بات (25) مگر بول سلام سلام کا (26) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کے حال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس کا واقع ہونا لازمی ہے، اس واقعہ سے مراد قیامت ہے ﴿ لَيۡسَ لِوَقۡعَتِهَا كَاذِبَةٌ﴾’’اس کے واقع ہونے کے وقت کوئی بھی جھٹلانے والا نہ ہوگا۔‘‘ یعنی اس میں شک نہیں کیونکہ بکثرت عقلی و سمعی دلائل اس کی تائید کرتے ہیں اور حکمت الٰہی اس پر دلالت کرتی ہے۔﴿ خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ﴾ ’’وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی۔‘‘ یعنی یہ واقعہ کچھ لوگوں کو اسفل السافلین کی پستیوں تک گرانے والا ہے اور کچھ کو اعلی علیین کی بلندیوں پر پہنچائے گا یا اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کی آواز دھیمی ہو گی قریب کے لوگوں کو ہی سنائی دے گی اور اس کی آواز اتنی بلند ہو گی کہ دور دور تک سنائی دے گی۔ [6-4]﴿ اِذَا رُجَّتِ الۡاَرۡضُ رَجًّا﴾ یعنی جب زمین کو حرکت دی جائے گی اور وہ لرزنے لگے لگی۔ ﴿ وَّبُسَّتِ الۡجِبَالُ بَسًّا﴾ اور پہاڑ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ هَبَآءًؔ مُّنۢۡـبَثًّا﴾ ’’پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‘‘ زمین کی حالت یہ ہو جائے گی کہ اس پر کوئی پہاڑ رہے گا نہ کوئی اونچی جگہ، بس ہموار اور چٹیل میدان ہو گا اور تجھے اس میں کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا۔ [9-7]﴿ وَّؔكُنۡتُمۡ اَزۡوَاجًا ثَلٰثَةً ﴾ ’’اور (اے مخلوقات!) تم تین جماعتیں ہوجاؤگے۔‘‘ یعنی تم اپنے اچھے برے اعمال کے مطابق تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تین گروہوں کے احوال کی تفصیل بیان فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَيۡمَنَةِ﴾ ’’پس دائیں (ہاتھ )والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ)والے! ‘‘ یہ آیت ان کی شان کی عظمت اور ان کے احوال کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’اور بائیں (ہاتھ) والے‘‘ یعنی بائیں جانب کا گروہ ﴿ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡمَشۡـَٔمَةِ﴾ ’’کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟‘‘ یہ آیت کریمہ اس گروہ کے احوال کی ہولناکیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ [12-10]﴿ وَالسّٰبِقُوۡنَ السّٰؔبِقُوۡنَۚۙ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠﴾’’اور سبقت لے جانے والے تو سبقت لے جانے والے ہی ہیں۔ یہی لوگ مقرب ہیں۔‘‘ یعنی جو دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتے تھے، وہی آخرت میں جنت میں داخل ہونے کے لیے جنت کی طرف سبقت کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے اندر، اعلیٰ علیین میں بلند منازل پر مقربین کے وصف سے موصوف ہوں گے، اس سے بلند تر کوئی منزل نہیں۔[13] یہ مذکورہ لوگ﴿ ثُلَّةٌ مِّنَ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾اس امت اور دیگر امتوں کے متقدمین میں سے بہت سے لوگوں کی جماعت ہو گی۔[14] یہ آیت کریمہ فی الجملہ اس امت کے اولین کی آخرین پر فضیلت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ آخرین کی نسبت اولین میں مقربین زیادہ ہیں۔ [15] اور مقربین اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے خاص لوگ ہیں جو ﴿عَلٰى سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَةٍ﴾’’سونے کے تاروں سے بُنی ہوئی چار پائیوں پر ہوں گے۔‘‘ سونے، چاندی، موتیوں، جواہرات اور دیگر زیورات اور سامان آرائش سے آراستہ ہوں گے۔ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔[16] یعنی وہ ان تختوں پر نہایت تمکنت، اطمینان، راحت اور سکون کے ساتھ بیٹھیں گے ﴿ مُتَقٰبِلِيۡنَ﴾ ’’آمنے سامنے۔‘‘ ان کے دلوں کی صفائی، حسن ادب اور باہمی محبت کی بنا پر، ان میں سے ہر ایک کا چہرہ اپنے ساتھی کی طرف ہو گا۔ [17، 18]﴿ يَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَ﴾ یعنی اہل جنت کی خدمت، اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم عمر لڑکے گھوم پھر رہے ہوں گے جو حسن و جمال میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے۔﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ﴾(الطور: 24/52)’’گویا کہ وہ چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہیں۔‘‘ ان تک کوئی ایسی چیز نہیں پہنچ سکتی جو ان کو متغیر کر دے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں، وہ بوڑھے ہوں گے نہ بدلیں گے اور نہ ان کی عمر ہی بڑھے گی۔ وہ ان کے مشروبات کے برتن لے کر ان میں گھومیں پھریں گے۔ ﴿ بِاَكۡوَابٍ﴾ یعنی ایسے پیالوں کے ساتھ جن کے دستے نہیں ہوتے ﴿ وَّاَبَارِيۡقَ﴾ اور ایسی صراحیوں کے ساتھ جن کے دستے ہوتے ہیں ﴿ وَؔكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾اور شراب کے چھلکتے جام لیے ہوئے جو پینے میں نہایت لذید ہو گی مگر اس میں نشہ کی آفت نہیں ہو گی۔[19]﴿ لَّا يُصَدَّعُوۡنَ عَنۡهَا﴾ یہ شراب ان کو سر درد میں مبتلا نہیں کرے گی جس طرح دنیا کی شراب پینے والے کو سر درد میں مبتلا کرتی ہے۔ ﴿ وَلَا يُنۡزِفُوۡنَ﴾ یہ شراب پینے سے ان کی عقل زائل ہو گی نہ ہوش و حواس ساتھ چھوڑیں گے جیسا کہ دنیا کی شراب سے ہوتا ہے۔اس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے اندر جو جو نعمتیں مہیا ہوں گی ان کی جنس دنیا میں موجود ہے، البتہ جنت کے اندر کوئی خرابی پیدا کرنے والی چیز نہ ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّـبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ١ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ١ۚ ۬ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى﴾(محمد:47؍15) ’’اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جو بدلنے والا نہیں اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (کبھی) تبدیل نہ ہوا ہوگا، اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کو لذت دے گی اور صاف شفاف شہد کی نہریں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں شراب جنت کا ذکر کیا ہے ، پھر اس سے ہر خرابی کی نفی کر دی جو دنیا کی شراب میں پائی جاتی ہے۔ [20] یعنی جو لذیذ اور خوش ذائقہ میوے وہ منتخب کریں گے یا ان کی آنکھوں کو بھلے لگیں گے اور ان کے دل ان کو کھانا چاہیں گے، وہ کامل ترین اور بہترین صورت میں ان کو حاصل ہوں گے۔ [21] یعنی پرندوں کی تمام اصناف کا گوشت جو وہ چاہیں گے اور جس قسم کا گوشت وہ چاہیں گے، انھیں مہیا ہو گا۔ اگر وہ بھنا ہوا گوشت چاہیں گے تو وہ ملے گا، اگر وہ پکا ہوا گوشت یا اس کے علاوہ کسی اور قسم کا گوشت چاہیں گے تو وہ بھی مہیا ہو گا۔ [24-22] یعنی ان کے لیے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتیں ہوں گی ۔ اَلْحَوْرَاءُ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کی آنکھیں سرمگیں ہوں اور میں ملاحت اور حسن و جمال ہو ۔ اَلْعِین بڑی بڑی حسین آنکھوں والی عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ عورت کی آنکھوں کا حسن، اس کے حسن و جمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ كَاَمۡثَالِ اللُّؤۡلُؤِؔ الۡمَكۡنُوۡنِ﴾ گویا کہ وہ تازہ، صاف اور خوبصورت موتی ہوں جو آنکھوں، ہوا اور سورج سے چھپا ہوا ہو، جس کا رنگ بہترین رنگ ہوتا ہے، اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہیں ہوتا۔ اسی طرح بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو گا بلکہ وہ کامل اوصاف اور بہترین صفات کی مالک ہوں گی۔ آپ ان اوصاف میں جتنا بھی غور کریں گے، آپ ایسی چیز پائیں گے جو دل کو خوش کرے گی اور دیکھنے والے کو اچھی لگے گی۔ یہ نعمتیں جو ان کے لیے تیار کی گئی ہیں ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ جس طرح ان سے اچھے اعمال صادر ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو اچھی جزا عطا کرے گا، ان کو فوز عظیم اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز کرے گا۔ [25] یعنی ان نعمتوں بھری جنتوں میں کوئی ایسی بات نہیں سنیں گے جو لغو ہو جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور نہ کوئی ایسی بات سنیں گے جس کو کہنے والے گنا ہ گار ہوں۔ [26] یعنی سوائے اچھی بات کے کیونکہ یہ پاک لوگوں کا گھر ہو گا، اس میں صرف پاک چیزیں ہوں گی۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت ایک دوسرے سے مخاطب ہونے میں حسن ادب سے کام لیں گے، ان کا کلام بہترین کلام اور دلوں کو خوش کرنے والا ہو گا، ہر قسم کی لغویات اور گناہ سے پاک ہو گا،ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی اہل جنت میں شامل کرے۔
56:27

وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡيَمِينِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلۡيَمِينِ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:28

فِي سِدۡرٖ مَّخۡضُودٖ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:29

وَطَلۡحٖ مَّنضُودٖ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:30

وَظِلّٖ مَّمۡدُودٖ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:31

وَمَآءٖ مَّسۡكُوبٖ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:32

وَفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:33

لَّا مَقۡطُوعَةٖ وَلَا مَمۡنُوعَةٖ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:34

وَفُرُشٖ مَّرۡفُوعَةٍ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:35

إِنَّآ أَنشَأۡنَٰهُنَّ إِنشَآءٗ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:36

فَجَعَلۡنَٰهُنَّ أَبۡكَارًا

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:37

عُرُبًا أَتۡرَابٗا

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:38

لِّأَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:39

ثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأَوَّلِينَ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:40

وَثُلَّةٞ مِّنَ ٱلۡأٓخِرِينَ

اور دائیں (ہاتھ) والے، کیا (خوب) ہیں دائیں (ہاتھ) والے؟ (27)(ہوں گے) بے خار بیریوں میں (28) اور تہ بہ تہ کیلوں میں(29) اور پھیلائی ہوئی چھاؤ ں میں (30) اور پانی بہتے ہوئے (آبشاروں) میں (31) اور ایسے بہ کثرت پھلوں میں (32) جو نہ مقطوع (ختم) ہوں گے اور نہ ممنوع (33) اور ایسے تختوں پر جو اونچے ہوں گے (34) بلاشبہ ہم پیدا کریں گے ان (بیویوں) کو نئے سرے سے (35) پس بنا دیں گے ہم انھیں کنواریاں (36) دلربا، ہم عمر (37) اصحاب یمین کے لیے (38) کثیر جماعت پہلوں میں سے(39) اور کثیر جماعت پچھلوں میں سے (40) [27] پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے اصحاب یمین کے لیے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصۡحٰؔبُ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور داہنے (ہاتھ) والے کیا (ہی اچھے) ہیں داہنے (ہاتھ)والے۔‘‘ یعنی وہ عظیم الشان لوگ اور بڑے احوال کے مالک ہیں۔[28]یعنی بیری کے کانٹے اور ردی قسم کی ضرر رساں شاخیں تراش دی گئی ہوں گی اور ان کی جگہ نہایت لذیذ پھل لگا دیے جائیں گے۔ گہرا سایہ اور راحت جسم، بیری کے درخت کے خواص میں شمار ہوتے ہیں۔[29، 30]﴿ طَلۡحٍ ﴾معروف درخت ہے، یہ بہت بڑا درخت ہوتا ہے جو صحراؤ ں میں اگتا ہے، اس کی شاخیں لذیذ اور مزیدارپھل سے لدی ہوئی ہوتی ہیں۔[31]یعنی بہت سے چشموں اور بہتی ہوئی ندیوں کا بہتا ہوا اور اچھلتا ہوا پانی ہے۔[32، 33]یعنی یہ پھل دنیا کے پھلوں کے مانند نہیں ہوں گے جو کسی وقت ختم ہو جاتے ہیں اور ان کو تلاش کرنے والوں کے لیے ان کا حصول مشکل ہو جاتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے موجود رہیں گے، ان کو بہت قریب سے چنا جا سکے گا، بندۂ مومن کسی بھی حال میں ان کو حاصل کر سکے گا۔[34] یعنی ان بچھونوں کو بہت بلند تختوں سے بھی بلند کیا گیا ہو گا۔ یہ بچھونے ریشم، سونے، موتیوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بنے ہوئے ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [35]یعنی ہم نے اہل جنت کی عورتوں کو ایسی تخلیق پر پیدا کیا ہے جو دنیا کی تخلیق سے مختلف ہے۔ یہ ایک ایسی کامل تخلیق ہے جس کو فنا نہیں۔[37,36] ہم جنت کی تمام چھوٹی بڑی عورتوں کو دو شیزائیں بنا دیں گے۔ اس کا عموم، خوبصورت آنکھوں والی حوروں اور دنیا کی عورتوں کو شامل ہے اور یہ وصف ، یعنی دو شیزگی، تمام احوال میں ان کا وصف لازم ہے جس طرح ان کا ﴿ عُرُبًا اَتۡرَابًا﴾’’محبت والیاں اور ہم عمر ہونا۔‘‘ ہر حال میں وصف لازم ہے۔ اَلْعُرُوباس عورت کو کہا جاتا ہے جو اپنے حسن ہیئت، اپنی ناز و ادا، اپنے جمال اور اپنی محبت کی وجہ سے شوہر کو بہت محبوب ہو، یہی وہ عورت ہے کہ جب وہ بات کرتی ہے تو عقلوں کو غلام بنا لیتی ہے اور سننے والا چاہتا ہے کہ اس کی بات کبھی ختم نہ ہو، خاص طور پر جبکہ وہ اس نرم اور مترنم آوازوں میں طربیہ نغمے گا رہی ہوں گی جب اس کا شوہر اس کے ادب، اس کی ہیئت اور اس کے ناز و ادا کی طرف دیکھتا ہے تو اس کا دل فرحت و سرور سے لبریز ہو جاتا ہے، جب وہ اس جگہ سے کسی اور جگہ منتقل ہو جاتی ہے تو وہ جگہ اس کی خوشبو اور نور سے لبریز ہو جاتی ہے، اس میں جماع کے وقت ناز و ادا بھی داخل ہے۔ اَلْاَتْرَاب ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی عمر میں ہوں، یعنی تینتیس سال کی عمر میں ہوں گی جس کے بارے میں تمنا کی جاتی ہے کہ یہ جوانی کی کامل ترین عمر کی انتہا ہے۔ پس ان کی بیویاں ان کو بہت محبوب، ہم عمر، اتفاق اور الفت کرنے والی، راضی رہنے والی ہوں گی اور ان کے شوہر ان پر راضی ہوں گے، بلکہ وہ دلوں کی فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور نگاہوں کی روشنی ہوں گی۔[38] یعنی (وہ بیویاں) اصحاب یمین کے لیے تیار اور ان کو مہیا کی جائیں گی ۔ [39، 40] لوگوں کی یہ قسم، یعنی اصحاب یمین، اولین میں سے بہت سی تعداد اور آخرین میں سے بہت سی تعداد پر مشتمل ہوں گی۔
56:41

وَأَصۡحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصۡحَٰبُ ٱلشِّمَالِ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:42

فِي سَمُومٖ وَحَمِيمٖ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:43

وَظِلّٖ مِّن يَحۡمُومٖ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:44

لَّا بَارِدٖ وَلَا كَرِيمٍ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:45

إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُتۡرَفِينَ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:46

وَكَانُواْ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلۡحِنثِ ٱلۡعَظِيمِ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:47

وَكَانُواْ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:48

أَوَءَابَآؤُنَا ٱلۡأَوَّلُونَ

اور بائیں (ہاتھ) والے، کیا (حقیر) ہیں بائیں (ہاتھ) والے؟ (41)(ہوں گے) سخت گرم ہوا اور گرم کھولتے پانی میں (42) اور سائے میں سیاہ ترین دھوئیں کے (43) نہ (وہ) ٹھنڈا ہو گا اور نہ فرحت بخش (44) بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے خوش حال (45) اور تھے وہ اصرار کرتے اوپر بڑے گناہ (شرک) کے (46) اور تھے وہ کہتے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں ہم مٹی اور ہڈیاں تو کیا بے شک ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (47) کیا (ہم) اور ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (48) [44-41] اصحاب شمال سے مراد، اہل جہنم اور ان کے منحوس اعمال ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عذاب کا ذکر فرمایا ہے جس کے وہ مستحق ہوں گے، چنانچہ آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ فِيۡ سَمُوۡمٍ ﴾’’ باد سموم میں ہوں گے۔‘‘ یعنی جہنم کی آگ کی حرارت سے گرم کی ہوئی ہوا جو ان کی سانسوں کو پکڑ لے گی اور سخت اضطراب میں مبتلا کر دے گی ﴿ وَّحَمِيۡمٍ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَّظِلٍّ مِّنۡ يَّحۡمُوۡمٍ﴾ ’’اور سیاہ ترین دھویں کے سارے میں ہوں گے۔‘‘ یعنی آگ کے شعلوں میں ہوں گے جن کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو گا۔ ﴿ لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيۡمٍ﴾ یعنی اس میں ٹھنڈک ہو گی نہ وہ خوشگوار ہو گا مقصد یہ ہے کہ وہاں ہم و غم اور حزن و شر ہو گا، جس میں کوئی بھلائی نہ ہو گی کیونکہ ضد کی نفی سے اس کی ضد کا اثبات ہوتا ہے۔ [48-45] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا ذکر فرمایا جنھوں نے ان کو اس انجام تک پہنچایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُتۡرَفِيۡنَ﴾ یعنی وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی دنیا نے ان کو غافل کر دیا، انھوں نے دنیا کے لیے کام کیا، دنیا کی آسائشوں میں مگن رہے، دنیا سے فائدہ اٹھاتے رہے، دنیا کی مہلت نے ان کو اپنے عمل کو درست کرنے سے غافل رکھا۔ پس یہی وہ خوش حالی ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی ہے۔ ﴿وَكَانُوۡا يُصِرُّوۡنَ عَلَى الۡحِنۡثِ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان سے توبہ کرتے تھے نہ انھیں ان گناہوں پر ندامت ہی ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایسے کاموں پر مصر رہتے تھے جن سے ان کا آقا ناراض تھا۔ پس انھوں نے نے اپنے آقا کے سامنے بڑے بڑے گناہ پیش کیے جن کی بخشش نہ تھی۔وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتے تھے اور اس کے وقوع کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے تھے ﴿ اَىِٕذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠۰۰ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر دوبارہ کھڑے کیے جائیں گے؟ اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا جواب اور ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
56:49

قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَوَّلِينَ وَٱلۡأٓخِرِينَ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:50

لَمَجۡمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:51

ثُمَّ إِنَّكُمۡ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلۡمُكَذِّبُونَ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:52

لَأٓكِلُونَ مِن شَجَرٖ مِّن زَقُّومٖ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:53

فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:54

فَشَٰرِبُونَ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡحَمِيمِ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:55

فَشَٰرِبُونَ شُرۡبَ ٱلۡهِيمِ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:56

هَٰذَا نُزُلُهُمۡ يَوۡمَ ٱلدِّينِ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:57

نَحۡنُ خَلَقۡنَٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُونَ

کہہ دیجیے! بلاشبہ پہلے بھی اور پچھلے بھی(49) یقیناً جمع کیے جائیں گے مقرر وقت پر ایک معلوم دن کے (50) پھر یقیناً تم اے گمراہو! جھٹلانے والو! (51) البتہ کھانے والے ہو گے تھوہڑ کے درخت سے (52) پس (تم) بھرنے والے ہو گے اس سے پیٹ (53) پھر پینے والے ہو گے اس پر گرم کھولتا پانی (54) پھر پینے والے (مانند) پینے پیاسے اونٹوں کے (55) یہ ہو گی مہمانی ان کی روز قیامت (56) ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں، پھر کیوں نہیں تصدیق کرتے تم (بعثت کی)؟ (57) [49، 50] یعنی گزری ہوئی اور آئندہ آنے والی تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا اور انھیں ایک مقرر دن میں اکٹھا کرے گا جو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کے ختم ہو جانے پر، ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے ارادے سے جو انھوں نے دنیا میں کیے تھے ان کو اکٹھا کرنے کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ [53-51]﴿ ثُمَّ اِنَّـكُمۡ اَيُّهَا الضَّآلُّوۡنَ ﴾ پھر بے شک تم ہدایت کے راستے سے بھٹک کر ہلاکت کے راستے پر چلنے والو! ﴿ الۡمُكَذِّبُوۡنَ۠﴾ رسول اکرم ﷺ اور اس حق کو جو آپ لے کر آئے ہیں اور وعد و وعید کو جھٹلانے والو! ﴿ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡ شَجَرٍ مِّنۡ زَقُّوۡمٍ﴾ ’’تم تھوہر کے درخت سے ضرور کھاؤ گے۔‘‘ یہ قبیح ترین اور خسیس ترین درخت ہے جس کی بدبو انتہائی گندی اور اس کا منظر انتہائی برا ہے۔﴿ فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’اس سے تم اپنے پیٹوں کو بھرو گے۔‘‘ وہ چیز جو انھیں اس درخت کو کھانے پر مجبور کرے گی، حالانکہ یہ بہت ہی گندا درخت ہو گا، بے انتہا بھوک ہوگی جو ان کے کلیجوں کو جلائے جا رہی ہو گی، قریب ہوگا کہ اس بھوک سے ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ یہ وہ کھانا ہے جس سے وہ اپنی بھوک کو مٹائیں گے جو ان کو موٹا کرے گا نہ ان کی بھوک مٹا سکے گا۔ [54، 56] اور رہا ان کا مشروب تو وہ بدترین مشروب ہے، وہ اس (تھوہر کے) کھانے کے بعد کھولتا ہوا پانی پئیں گے جو ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا ، وہ اسے پیاسے کی طرح پئیں گے جس کی پیاس انتہائی شدید ہو۔ ﴿ الۡهِيۡمِ﴾ سے مراد ایک بیماری ہے جو اونٹوں کو لاحق ہوتی ہے، اس بیماری کی وجہ سے پانی پینے سے اونٹ کی پیاس نہیں بجھتی۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یعنی یہ کھانا اور پینا ﴿ نُزُلُهُمۡ﴾ ان کی ضیافت ہو گی ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ﴾’’ قیامت کے دن۔‘‘ اور یہ وہ ضیافت ہے جسے انھوں نے اپنے لیے آگے بھیجا تھا اور جسے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس ضیافت پر ترجیح دی جو اس نے اپنے اولیاء کے لیے تیار کر رکھی تھی۔ فرمایا :﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًاۙ۰۰ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا﴾(الکہف: 18؍107، 108) ’’بے شک جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے، مہمانی کے طور پر ان کے لیے جنت الفردوس ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہاں سے وہ نقل مکانی کرنا نہیں چاہیں گے۔‘‘ [57] پھر اللہ تعالیٰ نے حیات بعد الموت پر عقلی دلیل دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ﴾ ’’ہم ہی نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم (دوبارہ جی اُٹھنے کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ہم نے کسی عاجزی اور تھکاوٹ کے بغیر تمھیں وجود بخشا، اس کے بعد کہ تم کوئی قابل ذکر چیز نہ تھے، کیا اس کام پر قدرت رکھنے والا، مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں! وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ بنابریں ان کے حیات بعد الموت کی تصدیق نہ کرنے پر، ان کو زجر و توبیخ کی ہے، حالانکہ وہ ایسے ایسے امور کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس سے زیادہ بڑے اور زیادہ بلیغ ہیں۔
56:58

أَفَرَءَيۡتُم مَّا تُمۡنُونَ

بھلا بتاؤ تو جو منی تم ٹپکاتے ہو (58) کیا تم پیدا کرتے ہو اس کو یا ہم ہیں (اس کے) خالق؟(59) ہم ہی نے مقدر کر دی ہے تمھارے درمیان موت اور نہیں ہم عاجز (بلکہ قادر ہیں)(60) اس بات پر کہ بدل کر لے آئیں (اور مخلوق) تم جیسی، اور نئے سرے سے پیدا کریں تمھیں ایسی (صورت) میں جو نہیں جانتے تم (61) اور یقیناً تم نے جان لیا ہے پہلی پیدائش کو، پھر کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے؟ (62) [62-58] یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
56:59

ءَأَنتُمۡ تَخۡلُقُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡخَٰلِقُونَ

بھلا بتاؤ تو جو منی تم ٹپکاتے ہو (58) کیا تم پیدا کرتے ہو اس کو یا ہم ہیں (اس کے) خالق؟(59) ہم ہی نے مقدر کر دی ہے تمھارے درمیان موت اور نہیں ہم عاجز (بلکہ قادر ہیں)(60) اس بات پر کہ بدل کر لے آئیں (اور مخلوق) تم جیسی، اور نئے سرے سے پیدا کریں تمھیں ایسی (صورت) میں جو نہیں جانتے تم (61) اور یقیناً تم نے جان لیا ہے پہلی پیدائش کو، پھر کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے؟ (62) [62-58] یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
56:60

نَحۡنُ قَدَّرۡنَا بَيۡنَكُمُ ٱلۡمَوۡتَ وَمَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوقِينَ

بھلا بتاؤ تو جو منی تم ٹپکاتے ہو (58) کیا تم پیدا کرتے ہو اس کو یا ہم ہیں (اس کے) خالق؟(59) ہم ہی نے مقدر کر دی ہے تمھارے درمیان موت اور نہیں ہم عاجز (بلکہ قادر ہیں)(60) اس بات پر کہ بدل کر لے آئیں (اور مخلوق) تم جیسی، اور نئے سرے سے پیدا کریں تمھیں ایسی (صورت) میں جو نہیں جانتے تم (61) اور یقیناً تم نے جان لیا ہے پہلی پیدائش کو، پھر کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے؟ (62) [62-58] یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
56:61

عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمۡثَٰلَكُمۡ وَنُنشِئَكُمۡ فِي مَا لَا تَعۡلَمُونَ

بھلا بتاؤ تو جو منی تم ٹپکاتے ہو (58) کیا تم پیدا کرتے ہو اس کو یا ہم ہیں (اس کے) خالق؟(59) ہم ہی نے مقدر کر دی ہے تمھارے درمیان موت اور نہیں ہم عاجز (بلکہ قادر ہیں)(60) اس بات پر کہ بدل کر لے آئیں (اور مخلوق) تم جیسی، اور نئے سرے سے پیدا کریں تمھیں ایسی (صورت) میں جو نہیں جانتے تم (61) اور یقیناً تم نے جان لیا ہے پہلی پیدائش کو، پھر کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے؟ (62) [62-58] یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
56:62

وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأُولَىٰ فَلَوۡلَا تَذَكَّرُونَ

بھلا بتاؤ تو جو منی تم ٹپکاتے ہو (58) کیا تم پیدا کرتے ہو اس کو یا ہم ہیں (اس کے) خالق؟(59) ہم ہی نے مقدر کر دی ہے تمھارے درمیان موت اور نہیں ہم عاجز (بلکہ قادر ہیں)(60) اس بات پر کہ بدل کر لے آئیں (اور مخلوق) تم جیسی، اور نئے سرے سے پیدا کریں تمھیں ایسی (صورت) میں جو نہیں جانتے تم (61) اور یقیناً تم نے جان لیا ہے پہلی پیدائش کو، پھر کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے؟ (62) [62-58] یعنی کیا تم نے منی کے ذریعے سے اپنی تخلیق کی ابتدا پر غور کیا جو تم (اپنی بیویوں کے رحم میں)ٹپکاتے ہو؟ کیا اس منی اور اس سے جو کچھ پیدا ہوتا ہے، اس کے تم خالق ہو یا اس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم میں، یعنی مرد اور عورت میں شہوت پیدا کی ہے اور اس کے لیے دونوں میں سے ہر ایک کی راہ نمائی فرمائی، میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا کی، ان کے درمیان مودت اور رحمت کا تعلق قائم کیا جو تناسل کا سبب ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخلیق اول کے ذریعے سے تخلیق ثانی پر استدلال کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ بے شک تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قدرت رکھنے والی ہستی، تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔
56:63

أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَحۡرُثُونَ

بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67) [67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔
56:64

ءَأَنتُمۡ تَزۡرَعُونَهُۥٓ أَمۡ نَحۡنُ ٱلزَّـٰرِعُونَ

بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67) [67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔
56:65

لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلۡتُمۡ تَفَكَّهُونَ

بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67) [67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔
56:66

إِنَّا لَمُغۡرَمُونَ

بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67) [67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔
56:67

بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُومُونَ

بھلا بتلاؤ تو جو تم بوتے ہو(63)کیا تم اگاتے ہو اسے یا ہم ہیں اگانے والے؟ (64) اگر ہم چاہیں تو البتہ کر دیں اس کو ریزہ ریزہ پھر ہو جاؤ تم پشیمان ہونے والے (65) کہ بلاشبہ ہم البتہ چٹی ڈال دیے گئے (66)بلکہ ہم محروم ہی رہ گئے (67) [67-63] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر احسان ہے جس کے ذریعے سے وہ انھیں اپنی توحید، اپنی عبادت، اور اپنی طرف رجوع کی دعوت دیتا ہے کہ اس نے ان کے لیے کھیتی باڑی اور باغات کو میسر کر کے انھیں نعمتوں سے نوازا ہے۔ اس کھیتی باڑی اور باغات سے خوراک، رزق اور پھل مہیا ہوتے ہیں جو ان کی ضرورت، حاجات اور ان کے مصالح میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شکر ادا کرنا اور ان کا حق ادا کرنا تو کجا، وہ ان نعمتوں کو شمار تک نہیں کر سکتے۔پس فرمایا:﴿ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ﴾ یعنی کیا تم نے اس کو اگا کر زمین سے نکالا ہے؟ کیا تم نے اس کو نشوونما دی؟ کیا تم ہو جنھوں نے اس کے خوشوں اور اس کے پھل کو نکالا، یہاں تک کہ وہ تیار شکل میں اناج اور پکا ہوا پھل بن گیا؟ یا یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے جو یہ سب کچھ سر انجام دینے میں متفرد ہے اور اسی نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے۔ تمھارے فعل کی غایت اور انتہا تو بس یہ ہے کہ تم زمین میں ہل چلاتے اور اسے پھاڑ دیتے ہو اور پھر اس میں بیج ڈال دیتے ہو، تمھیں کوئی علم نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ پر تمھیں کوئی قدرت و اختیار نہیں، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ کھیتی خطرات کی زد میں رہتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کر کے، تمھاری گزاران اور ایک مدت مقررہ تک استعمال کے لیے اسے باقی نہ رکھتا (تو یہ کھیتی کبھی محفوظ نہ رہتی۔)﴿لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنٰهُ﴾’’ اور اگر ہم چاہتے تو اسے کردیتے۔‘‘ یعنی یہ کاشت کی گئی کھیتی اور اس کے اندر موجود پھل کو ﴿حُطَامًا﴾ ریزہ ریزہ کیا گیا چورا، جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ ہے نہ رزق کا کام دیتا ہے ﴿ فَظَلۡتُمۡ﴾ یعنی اس کے چورا اور بھس بنائے جانے کے سبب سے، اس کے بعد کہ تم نے اس میں بہت مشقت اٹھائی اور بہت زیادہ اخراجات برداشت کیے ، پھر تم رہ جاتے۔﴿ تَفَكَّهُوۡنَ﴾ ندامت اٹھانے والے اور اس مصیبت پر حسرت زدہ ہو نے والے جو تم پر نازل ہوئی، تمھاری ساری فرحت، مسرت اور لذت زائل ہو جاتی اور تم کہہ اٹھتے :﴿اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم پر چٹی ڈال دی گئی۔‘‘ یعنی ہم نے نقصان اٹھایا، ہم پر ایسی مصیبت نازل ہوئی، جس نے ہمیں ہلاک کر ڈالا، پھر اس کے بعد تمھیں معلوم ہوتا کہ یہ مصیبت تم پر کہاں سے آئی اور کس سبب سے یہ آفت تم پرآن پڑی؟ پھر تم کہتے ﴿بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ﴾ ’’بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرو کہ اس نے تمھارے لیے کھیتی اگائی، اسے باقی رکھا ۔اسے تمھارے لیے پایۂ تکمیل کو پہنچایا، اس پر کوئی آفت نہ بھیجی جس کی وجہ سے تم اس کے فائدے اور اس کی بھلائی سے محروم ہو جاتے۔
56:68

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلۡمَآءَ ٱلَّذِي تَشۡرَبُونَ

بھلا بتلاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو (68) کیا تم نے نازل کیا ہے اسے بادلوں سے یا ہم ہیں نازل کرنے والے؟(69) اگر ہم چاہیں تو کر دیں ہم اسے کھارا تو کیوں نہیں تم شکر کرتے؟ (70) [70-68] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمھارے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے، پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے، اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا۔ ﴿ فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ پس تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے، جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں؟
56:69

ءَأَنتُمۡ أَنزَلۡتُمُوهُ مِنَ ٱلۡمُزۡنِ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنزِلُونَ

بھلا بتلاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو (68) کیا تم نے نازل کیا ہے اسے بادلوں سے یا ہم ہیں نازل کرنے والے؟(69) اگر ہم چاہیں تو کر دیں ہم اسے کھارا تو کیوں نہیں تم شکر کرتے؟ (70) [70-68] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمھارے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے، پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے، اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا۔ ﴿ فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ پس تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے، جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں؟
56:70

لَوۡ نَشَآءُ جَعَلۡنَٰهُ أُجَاجٗا فَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ

بھلا بتلاؤ تو وہ پانی جو تم پیتے ہو (68) کیا تم نے نازل کیا ہے اسے بادلوں سے یا ہم ہیں نازل کرنے والے؟(69) اگر ہم چاہیں تو کر دیں ہم اسے کھارا تو کیوں نہیں تم شکر کرتے؟ (70) [70-68] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کو طعام کی نعمت سے نوازا ہے تو اس نے اس خوشگوار شیریں پانی کی نعمت کا بھی ذکر فرمایا جسے وہ پیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو حاصل کرنا آسان اور سہل نہ بنایا ہوتا تو اس کے حصول کا تمھارے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔ وہی ہے جس نے بادل میں سے اس کو نازل کیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بارش نازل کرتا ہے، پھر روئے زمین پر اور زمین کے نیچے، اس پانی سے بہتے ہوئے دریا اور ابلتے ہوئے چشمے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے اسے خوشگوار شیریں بنایا جسے لوگ مزے سے پیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے کھاری اور کڑوا بنا دیتا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا۔ ﴿ فَلَوۡلَا تَشۡكُرُوۡنَ﴾ پس تم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے، جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں؟
56:71

أَفَرَءَيۡتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِي تُورُونَ

بھلا بتلاؤ تو وہ آگ جو تم جلاتے ہو (71) کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ (72) ہم ہی نے بنایا ہے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور فائدہ مسافروں کے لیے (73) سو تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو نہایت عظمت والا ہے (74) [73-71] یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً﴾ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَ﴾ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔ [74] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا ، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔
56:72

ءَأَنتُمۡ أَنشَأۡتُمۡ شَجَرَتَهَآ أَمۡ نَحۡنُ ٱلۡمُنشِـُٔونَ

بھلا بتلاؤ تو وہ آگ جو تم جلاتے ہو (71) کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ (72) ہم ہی نے بنایا ہے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور فائدہ مسافروں کے لیے (73) سو تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو نہایت عظمت والا ہے (74) [73-71] یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً﴾ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَ﴾ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔ [74] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا ، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔
56:73

نَحۡنُ جَعَلۡنَٰهَا تَذۡكِرَةٗ وَمَتَٰعٗا لِّلۡمُقۡوِينَ

بھلا بتلاؤ تو وہ آگ جو تم جلاتے ہو (71) کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ (72) ہم ہی نے بنایا ہے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور فائدہ مسافروں کے لیے (73) سو تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو نہایت عظمت والا ہے (74) [73-71] یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً﴾ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَ﴾ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔ [74] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا ، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔
56:74

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ

بھلا بتلاؤ تو وہ آگ جو تم جلاتے ہو (71) کیا تم نے پیدا کیا ہے اس کا درخت یا ہم ہیں پیدا کرنے والے؟ (72) ہم ہی نے بنایا ہے اسے یاد دہانی کا ذریعہ اور فائدہ مسافروں کے لیے (73) سو تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو نہایت عظمت والا ہے (74) [73-71] یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ضروریات زندگی میں داخل ہے جس سے مخلوق مستغنی نہیں رہ سکتی کیونکہ لوگ اپنے بہت سے امور اور حوائج میں اس کے محتاج ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے آگ کی نعمت کو متحقق کیا ہے جس کو اس نے درختوں کے اندر وجود بخشا، مخلوق میں یہ قدرت نہ تھی کہ وہ اس کے درخت کو پیدا کرتے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے سر سبز درخت سے آگ کو پیدا کیا، تب یکایک یہ بندوں کی ضرورت کے مطابق جل اٹھتی ہے، جب وہ اپنی ضرورت سے فارغ ہو جاتے ہیں تو اسے بجھا دیتے ہیں۔ ﴿ نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً﴾ یعنی ہم نے اس کو بندوں کے لیے ان کے رب کی نعمت اور جہنم کی آگ کی یاد دہانی بنایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے لیے تیار کیا ہے، یہ (یاد دہانی) ایک کوڑا ہے جو اس کے بندوں کو نعمتوں بھری جنت کی طرف ہانکتا ہے ﴿ وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَ﴾ یعنی فائدہ اٹھانے والوں یا مسافروں کے لیے کچھ سامان زیست بنایا، اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو اس لیے مخصوص فرمایا کیونکہ مسافر کے لیے اس کا فائدہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہے اور شاید اس کا سبب یہ بھی ہو کہ دنیا تمام تر مسافر خانہ ہے۔ پس اس آگ کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مسافروں کے لیے سامان زیست اور آخرت کے دائمی گھر کی یاد دہانی بنایا ہے۔ [74] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بیان فرمایا جو بندوں کی طرف سے اس کی حمد و ثنا ، اس کے شکر اور اس کی عبادت کی موجب ہیں تو اس نے اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ یعنی اپنے رب عظم کی تنزیہ بیان کیجیے جو اسماء و صفات میں کامل اور بے پایاں احسانات اور بھلائیوں کا مالک ہے۔ اپنے دل، زبان اور جوارح کے ساتھ اس کی حمد و ستائش بیان کیجیے کیونکہ وہ اس کا اہل اور اس بات کا مستحق ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے، اس کی ناشکری نہ کی جائے، اس کو یاد رکھا جائے اس کو فراموش نہ کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے۔
56:75

۞فَلَآ أُقۡسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:76

وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٞ لَّوۡ تَعۡلَمُونَ عَظِيمٌ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:77

إِنَّهُۥ لَقُرۡءَانٞ كَرِيمٞ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:78

فِي كِتَٰبٖ مَّكۡنُونٖ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:79

لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:80

تَنزِيلٞ مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:81

أَفَبِهَٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَنتُم مُّدۡهِنُونَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:82

وَتَجۡعَلُونَ رِزۡقَكُمۡ أَنَّكُمۡ تُكَذِّبُونَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:83

فَلَوۡلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلۡحُلۡقُومَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:84

وَأَنتُمۡ حِينَئِذٖ تَنظُرُونَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:85

وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُبۡصِرُونَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:86

فَلَوۡلَآ إِن كُنتُمۡ غَيۡرَ مَدِينِينَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:87

تَرۡجِعُونَهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی (75) اور بلاشبہ یہ البتہ قسم ہے، اگر تمھیں علم ہو، بہت بڑی (76) کہ بلاشبہ یہ قرآن ہے نہایت معزز (77) کتاب محفوظ میں (78) نہیں ہاتھ لگاتے اس کو مگر پاک (فرشتے) ہی(79) نازل کردہ ہے رب العالمین کی طرف سے (80) کیا پس اس حدیث (قرآن) سے تم بے اعتنائی کرتے ہو؟ (81) اور کرتے ہو تم اپنا حصہ یہ کہ تم تکذیب کرتے ہو (82) پس کیوں نہیں، جب پہنچتی ہے (روح) حلق تک (83) اور تم اس وقت دیکھتے ہو (84) اور ہم زیادہ قریب ہوتے ہیں اس سے تمھاری نسبت اور لیکن نہیں دیکھتے ہو تم (85) پس کیوں نہیں، اگر ہو تم نہیں بدلہ دیے جاؤ گے (86) پھیر لاتے تم اس (روح) کو، اگر ہو تم سچے؟ (87) [75، 76] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کی اور ان کے منازل ، یعنی ان کے غروب کے مقامات اور ان کے سقوط کی جگہ کی قسم کھائی ہے۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے ان حوادث کی قسم کھائی ہے جو ان اوقات میں واقع ہوتے ہیں جو اس کی عظمت، اس کی کبریائی اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی قسم کھائی ہے، اس کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا :﴿ وَاِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عَظِيۡمٌ﴾ اور یہ قسم صرف اس لیے عظمت کی حامل ہے کہ ستاروں، ان کی رفتار اور ان کے غروب کے مقامات میں ان کے سقوط کی جگہوں میں بہت سی نشانیاں اور عبرتیں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ [77] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے قرآن کا اثبات، نیز یہ کہ قرآن حق ہے جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ۔ یہ کریم ہے، یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہت زیادہ علم والا ہے، ہر بھلائی اور ہر علم اللہ تعالیٰ کی کتاب سے مستفاد اور مستنبط ہوتا ہے۔ [78]﴿ فِيۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍ﴾ ’’ کتاب محفوظ میں ہے۔‘‘ یعنی مخلوق کی آنکھوں سے مستور ہے، یہ کتاب مکنون لوح محفوظ ہے، یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ اور ملأاعلیٰ میں فرشتوں کے ہاں قابل عظمت ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہو جو ان فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ اپنی وحی اور رسالت کے لیے نازل کرتا ہے، اور مراد یہ ہے کہ یہ کتاب شیاطین سے مستور ہے شیاطین کو اس میں تغیر تبدل ، کمی بیشی اور چوری کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ [79]﴿ لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۠﴾ ’’اسے صرف پاک (فرشتے) ہی چھوتے ہیں۔‘‘ یعنی قرآن کریم کو صرف ملائکہ کرام ہی چھوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام آفات، گناہوں اور عیوب سے پاک کیا ہے۔ جب قرآن کو پاک ہستیوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور ناپاک اور شیاطین اس کو چھو نہیں سکتے تو آیت کریمہ تنبیہاً اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ پاک شخص کے سوا کسی کے لیے قرآن کو چھونا جائز نہیں ۔ [80]﴿ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یہ قرآن جو ان صفاتِ جلیلہ سے موصوف ہے، ربِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جو دینی اور دنیاوی نعمتوں کے ذریعے سے اپنے بندوں کی تربیت کرتا ہے، وہ جلیل ترین چیز جس کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کی تربیت کی، اس قرآن کو نازل کرنا ہے جو دونوں جہانوں کے مصالح پر مشتمل ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایسا رحم فرمایا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ان پر واجب ہے کہ وہ اس قرآن کو قائم کریں، برسر عام اس کا اعلان کریں، اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیں، اور اس کو کھلم کھلا بیان کریں۔ [81] بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَبِهٰؔذَا الۡحَدِيۡثِ اَنۡتُمۡ مُّدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’پھر تم اس کلام (قرآن) سے بے پروائی کرتے ہو؟‘‘یعنی کیا تم اس کتاب عظیم اور ذکر حکیم کو مخلوق کے خوف، ان کے عار اور ان کی زبانوں کے ڈر سے چھپاتے ہو؟ ایسا کرنا مناسب ہے نہ لائق شان ہے، لائق شان اور مناسب تو یہ ہے کہ اس بات میں مداہنت کی جائے جس کے بارے میں انسان کو وثوق حاصل نہ ہو۔رہا قرآن کریم تو یہ ایسا حق ہے کہ جب بھی کوئی مقابلہ کرنے والا اس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہی غالب آتا ہے اور کوئی بھی حملہ آور اگر اس قرآن کے ساتھ حملہ کرتا ہے تو یہ اپنے مدمقابل کے مقابلے میں کامیاب رہتا ہے۔ قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں مداہنت کی جائے نہ اسے چھپایا جائے بلکہ برسر عام اس کا اعلان کیا جائے۔ [82]﴿ وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّـكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ تم جھٹلاتے پھرو۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت کا مقابلہ وظیفۂ تکذیب اور اس کی نعمت کی ناسپاسی کے ذریعے سے کرتے ہو اور کہتے ہو ’’فلاں ستارے کے طلوع ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی‘‘ اور تم نعمت کو ان ہستیوں کی طرف منسوب کرتے ہو جنھوں نے یہ نعمتیں عطا نہیں کیں۔ پس تم نے اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں ادا نہ کیا کہ اسی نے تم پر یہ بارش برسائی ہے تاکہ وہ تمھیں اور زیادہ اپنے فعل و کرم سے سرفراز کرے کیونکہ کفر و تکذیب نعمتوں کو اٹھا لینے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ [85-83]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الۡحُلۡقُوۡمَۙ۰۰وَاَنۡتُمۡ حِيۡنَىِٕذٍ تَنۡظُرُوۡنَۙ۰۰وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡؔكُمۡ وَلٰكِنۡ لَّا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ یعنی جب روح حلق تک پہنچتی ہے اور تم اس حالت میں موت کے آنے کا منظر دیکھ رہے ہوتے ہو، حالانکہ ہم اپنے علم اور اپنے فرشتوں کے ذریعے سے، مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے۔ [86، 87]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ غَيۡرَ مَدِيۡنِيۡنَ۰۰ تَرۡجِعُوۡنَهَاۤ۠﴾ ’’پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں، تو کیوں نہیں اس روح کو پھیر لیتے۔‘‘ یعنی بھلا جب تم اس زعم باطل میں مبتلا ہو کہ تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا نہ تمھارا حساب کتاب کر کے تمھیں جزا و سزا دی جائے گی تو تم روح کو بدن میں واپس کیوں نہیں لے آتے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اگر تم سچے ہو۔‘‘ حالانکہ تم اقرار کرتے ہو کہ تم اس روح کو بدن میں واپس لانے سے عاجز ہو، تب تمھیں یا تو اس حق کا اقرار کرنا ہو گا جو محمد کریمﷺ لے کر آئے ہیں یا تم عناد رکھو گے، پس تمھارا حال اور تمھارا برا انجام معلوم ہے۔
56:88

فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:89

فَرَوۡحٞ وَرَيۡحَانٞ وَجَنَّتُ نَعِيمٖ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:90

وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:91

فَسَلَٰمٞ لَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلۡيَمِينِ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:92

وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:93

فَنُزُلٞ مِّنۡ حَمِيمٖ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:94

وَتَصۡلِيَةُ جَحِيمٍ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:95

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلۡيَقِينِ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔
56:96

فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ

پس لیکن اگر ہے وہ (مُردہ) مقربین میں سے ہو (88) تو ہے (اس کے لیے) راحت اور خوشبو اور نعمتوں والا باغ(89) اور لیکن اگر ہے وہ اصحاب الیمین میں سے (90) تو (کہا جائے گا:) سلامتی ہے تیرے لیے، (تو) اصحاب الیمین میں سے ہے (91) اور لیکن اگر ہے وہ، تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے (92) تو مہمانی ہو گی (اس کی) گرم کھولتے پانی سے (93) اور داخل کرنا ہے جہنم میں (94) بلاشبہ یہ (خبر) یہی یقینی حق ہے (95) پس تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو عظیم ہے (96) [88، 89] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے اوائل میں، قیامت کے دن تین گروہوں، یعنی مقربین، اصحاب یمین اور مکذبین کے احوال کا ذکر فرمایا، پھر اس کے آخر میں ان کے ان احوال کا ذکر فرمایا جب موت کا وقت آ پہنچے گا، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ۠﴾ اگر مرنے والا اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور یہ وہ لوگ ہوں گے جو واجبات و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات اور بے فائدہ مباحات سے اجتناب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول میں کوشاں رہے ہوں گے۔ ﴿ فَرَوۡحٌ﴾ تب ان کے لیے راحت و اطمینان ، فرحت و سرور اور قلب و روح کی نعمتیں ہوں گی ﴿وَّرَيۡحَانٌ﴾ یہ ایسی لذت بدنی کے لیے ایک جامع لفظ ہے جو مختلف انواع کےماکولات و مشروبات پر مشتمل ہو۔کہا جاتا ہے ’’ریحان‘‘ سے مراد معروف خوشبو ہے، تب یہ کسی چیز کی نوع کے ذریعے سے اس کی جنس عام کی تعبیر کے باب میں سے ہے۔ ﴿ وَّجَنَّتُ نَعِيۡمٍ ﴾ ’’اور نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘ جو دونوں امور کی جامع ہو گی، اس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے تصور میں ان کا گزر ہوا ہے۔ مقربین کی موت کے قرب کے وقت، ان کو ان نعمتوں کی بشارت دی جاتی ہے جس کی بنا پر فرحت اور سرور سے ان کی ارواح اڑنے لگتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ۰۰ نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ١ۚ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَؕ۰۰نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِيۡمٍ۰۰﴾( حٰمۗ السجدۃ:41/30-32) ’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے اور کہیں گے کہ تم ڈرو نہ غم کھاؤ ، اور جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا، دنیا کی زندگی میں بھی ہم تمھارے دوست تھے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (ہم تمھارے دوست ہوں گے) اس جنت میں تمھارے لیے ہر وہ چیز ہو گی جس کی تمھارے دل خواہش کریں گے اور اس میں تمھیں ہر وہ چیز ملے گی جو تم طلب کرو گے۔ یہ سب کچھ رب غفور و رحیم کی طرف سے مہمانی کے طور پر ہو گا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : ﴿ لَهُمُ الۡبُشۡرٰؔى فِي الۡحَؔيٰؔوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’(یونس:10/64) ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے۔‘‘ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ مذکورہ بشارت، دنیا کی زندگی کی بشارت ہے۔ [90، 91]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ ’’اور اگر وہ داہنے ہاتھ والوں میں سے ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے واجبات کو ادا کیا اور محرمات کو ترک کیا، اگرچہ ان سے بعض ایسے حقوق کے بارے میں کوتاہی سرزد ہوئی جن سے ان کے ایمان اور توحید میں خلل واقع نہیں ہوا﴿فَـــ﴾ تو ان میں سے ہر کسی سے کہا جائے گا: ﴿سَلٰمٌ لَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡيَمِيۡنِ﴾ تمھارے اصحاب یمین بھائیوں کی طرف سے تمھیں سلامتی حاصل ہے۔ یعنی جب وہ ان کے پاس پہنچے گا اور ان سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے سلام اور خوش آمدید کہیں گے۔ یا اس سے کہا جائے گا کہ دنیا کی آفات، مصائب اور عذاب سے تم سلامت ہو کیونکہ تم اصحاب یمین میں سے ہو جو ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچتے رہے ہیں۔ [94-92]﴿ وَاَمَّاۤ اِنۡ كَانَ مِنَ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠ الضَّآلِّيۡنَ﴾ ’’اور لیکن اگر وہ تکذیب کرنے والے گمراہوں میں سے ہوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے حق کو جھٹلایا اور ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ﴿ فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِيۡمٍۙ۰۰ وَّتَصۡلِيَةُ جَحِيۡمٍ ۰۰﴾ تو جس روز وہ اپنے رب کی خدمت میں حاضر ہوں گے، اس روز ان کی ضیافت یہ ہو گی کہ ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا جو ان کو گھیرے گی اور ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی اور جب وہ پیاس کی شدت سے پانی مانگیں گے ﴿ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف:18؍29) ’’تو انھیں ایسا کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا، جو پگھلے ہوئے تانپے کے مانند گرم ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا، ان کا مشروب کتنا برا، اور ان کی آرام گاہ کتنی بری ہو گی۔‘‘ [95]﴿ اِنَّ هٰؔذَا﴾ یہ سب کچھ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، مثلاً: بندوں کے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا، اور اس کی تفاصیل ﴿ لَهُوَ حَقُّ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’بلاشبہ یہی (مذکور) حق الیقین ہے۔‘‘ یعنی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ بلکہ یہ ثابت شدہ حق ہے جس کا وقوع لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے، اس پر قطعی دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی حیثیت خرد مندوں کے نزدیک ایسے ہے گویا کہ وہ اس کا ذائقہ چکھ رہے ہوں اور اس کی حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں۔ پس انھوں نے اس امر پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی کہ اس نے ان کو اس عظیم نعمت اور اتنی بڑی عنایت سے مختص کیا۔ [96] بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’لہٰذا تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر۔‘‘ پس پاک ہے ہمارا رب عظیم، منزہ اور بہت بلند و برتران باتوں سے جو منکرین حق (اس کے بارے میں)کرتے ہیں۔