al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 58 · 22 verses
58:1قَدۡ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوۡلَ ٱلَّتِي تُجَٰدِلُكَ فِي زَوۡجِهَا وَتَشۡتَكِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَٱللَّهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَكُمَآۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعُۢ بَصِيرٌ
تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4)
[1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:
[2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
[3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔
[4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾
58:2ٱلَّذِينَ يُظَٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآئِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَٰتِهِمۡۖ إِنۡ أُمَّهَٰتُهُمۡ إِلَّا ٱلَّـٰٓـِٔي وَلَدۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَيَقُولُونَ مُنكَرٗا مِّنَ ٱلۡقَوۡلِ وَزُورٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ
تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4)
[1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:
[2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
[3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔
[4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾
58:3وَٱلَّذِينَ يُظَٰهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُواْ فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مِّن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۚ ذَٰلِكُمۡ تُوعَظُونَ بِهِۦۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4)
[1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:
[2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
[3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔
[4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾
58:4فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِن قَبۡلِ أَن يَتَمَآسَّاۖ فَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ فَإِطۡعَامُ سِتِّينَ مِسۡكِينٗاۚ ذَٰلِكَ لِتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
تحقیق سن لی اللہ نے بات اس عورت کی وہ جو تکرار کر رہی تھی آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں اور وہ شکایت کر رہی تھی طرف اللہ کی جبکہ اللہ سن رہا تھا گفتگو تم دونوں کی بلاشبہ اللہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (1) وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں تم میں سے اپنی بیویوں سے نہیں ہو جاتیں وہ ان کی مائیں، نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہی جنھوں نے جنا ان کو اور بلاشبہ وہ البتہ کہتے ہیں نامعقول بات اور جھوٹ اور بے شک اللہ البتہ بہت معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے(2) اور وہ لوگ جو ظہار کرتے ہیں اپنی عورتوں سے ، پھر وہ رجوع کر لیں اس سے جو انھوں نے کہا تو آزاد کرنا ہے ایک گردن کا پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ (حکم)، نصیحت کیے جاتے ہو تم ساتھ اس کے، اور اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(3) پس جو شخص نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں دو مہینے متواتر پہلے اس سے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پس جو شخص نہ استطاعت رکھے تو کھانا کھلانا ہے ساٹھ مسکینوں کو، یہ (حکم) اس لیے ہے کہ تم ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے، اور یہ حدیں ہیں اللہ کی اور کافروں کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک(4)
[1] یہ آیات کریمہ انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئیں، جب اس نے اپنی بیوی کو طویل مصاحبت اور اولاد ہونے کے بعد اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا، تو اس کی بیوی نے اللہ تعالیٰ کے پاس شکایت کی اور اس کے خلاف مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔ اس خاتون نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے پاس اپنے حال اور اس شخص کے حال کے بارے میں شکوہ کیا اور بار بار کیا اور جرأت کے ساتھ اس کا اعادہ کیاتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِيۡ تُجَادِلُكَ فِيۡ زَوۡجِهَا وَ تَشۡتَكِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ يَسۡمَعُ تَحَاوُرَؔكُمَا﴾ ’’(اے پیغمبر!) جو عورت آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث وجدال کرتی اور اللہ سے شکایت کرتی تھی۔ اللہ نے اس کی التجا سن لی۔ اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌۢ ﴾ بے شک اللہ تعالیٰ تمام اوقات میں، مخلوق کی مختلف حاجتوں کے باوجود تمام آوازوں کو سننے والا ہے ﴿ بَصِيۡرٌ﴾ جو اندھیری رات میں، سیاہ پتھر پر رینگتی ہوئی سیاہ چیونٹی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل سمع و بصر کی خبر ہے، نیز تمام چھوٹے بڑے امور پر اس کے سمع و بصر کے احاطہ کی خبر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شکایت اور مصیبت کا ازالہ کرے گا اس لیے اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر اس عورت اور دیگر عورتوں کے بارے میں حکم بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:
[2]﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ﴾ ’’جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں، وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جَنا۔‘‘ بیوی کے ساتھ ظہار یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے کہے ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ‘‘ یا ماں کے علاوہ دیگر محارم کا ذکر کرے یا یہ کہے ’’تو مجھ پر حرام ہے‘‘ عربوں کے ہاں اس موقع پر پیٹھ (اَلظِّھر) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو ’’ظِہَار‘‘ سے موسوم کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایسی بات کیوں کر کہتے ہیں جس کے بارے میں انھیں معلوم ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں، اور وہ اپنی بیویوں کو ان ماؤ ں سے تشبیہ دیتے ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ظہار کے معاملے کو بہت بڑا اور نہایت قبیح قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا﴾ یعنی وہ جھوٹی اور نہایت بری بات کہہ رہے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌؔ﴾ یعنی اس سے جو کچھ مخالفت صادر ہوئی ، پھر اس نے خالص توبہ کے ذریعے سے اس کا تدارک کیا، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے اور بخش دینے والا ہے۔
[3]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں، پھر انھوں نے جو کہا، اس سے رجوع کرلیں۔‘‘ رجوع کرنے کے معنی میں اہل علم اختلاف کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جس عورت کے ساتھ ظہار کیا ہے اس کے ساتھ جماع کا عزم کیا جائے، مجرد عزم ہی سے ظہار کرنے والے پر مذکورہ کفارہ واجب ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارے کے بارے میں ذکر فرمایا کہ یہ کفارہ (اس بیوی کو) چھونے سے قبل ہے اور یہ مجرد عزم ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا معنیٰ حقیقی جماع ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا﴾ ’’ پھر وہ اپنی بات سے رجوع کرلیں۔‘‘ اور جو بات انھوں نے کہی وہ جماع (کو حرام کرنا) ہے۔ اور دونوں قولوں میں سے ہر ایک کے مطابق، جب بھی رجوع کیا جائے گا، تو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا کفارہ ہوگا۔ ﴿ فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’تو ایک غلام آزاد کرنا ہے۔‘‘ لیکن وہ مومن ہو، جیسا کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے۔ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ غلام یا لونڈی ان عیوب سے سلامت ہو جو کام کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دونوں ہم بستری کریں۔‘‘ یعنی شوہر پر لازم ہے کہ جب تک کہ وہ غلام آزاد کر کے کفارہ ادا نہ کرے اپنی اس بیوی سے جماع نہ کرے جس سے اس نے ظہار کیا ہے ﴿ذٰلِكُمۡ﴾ یعنی یہ حکم جو ہم نے تمھارے لیے بیان کیا ہے ﴿تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ﴾ ’’اس کے ذر یعے سے تم نصیحت کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی وہ تمھارے سامنے ترہیب سے مقرون اپنا حکم بیان کرتا ہے کیونکہ وعظ کا معنیٰ ترغیب و ترہیب کے ساتھ حکم کا ذکر کرنا ہے۔ پس جو شخص ظہار کا ارادہ کرتا ہے، جب اسے یاد آتا ہے کہ غلام آزاد کرنا پڑے گا، تو اس سے رک جاتا ہے ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘ لہٰذا وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا و سزا دے گا۔
[4]﴿فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ﴾ پس جو آزاد کرنے کے لیے غلام نہ پائے یا اس کے پاس غلام کی قیمت موجود نہ ہو تو اس کے ذمے﴿ فَصِيَامُ شَهۡرَيۡنِ مُتَتَابِعَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا فَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ ﴾ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے ہیں۔ اور جو روزے رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾ ’’تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا تو وہ اپنے شہر میں مروج خوراک میں سے انھیں کھانا کھلائے جو ان کے لیے کافی ہو، جیسا کہ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے۔ یا وہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دیگر جنس سے نصف صاع عطا کرے ، جیسا کہ مفسرین کے ایک دوسرے گروہ کی رائے ہے۔یہ حکم جو ہم نے تمھارے سامنے بیان کیا ہے اور اسے واضح کیا ہے ﴿لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لے آؤ۔‘‘ اور یہ ایمان اس کے حکم اور دیگر احکام کے التزام اور اس پر عمل کرنے ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا التزام اور ان پر عمل کرنا ایمان ہے بلکہ یہ احکام اور ان پر عمل ہی درحقیقت مقصود و مطلوب ہیں ان سے ایمان میں اضافہ اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور یہ نشوونما پاتا ہے۔ ﴿وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’اور یہ اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ جو ان میں واقع ہونے سے روکتی ہیں، اس لیے واجب ہے کہ ان حدود سے تجاوز کیا جائے نہ ان سے قاصر پیچھے رہا جائے ﴿وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘
ان آیات کریمہ میں متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں:(۱)اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور عنایت ہے کہ اس نے مصیبت زدہ عورت کی شکایت کا ذکر کر کے، اس کی مصیبت کا ازالہ کیا، بلکہ اس نے اپنے حکم عام کے ذریعے سے ہر اس شخص کی مصیبت کا ازالہ کیا جو اس قسم کی مصیبت اور آزمائش میں مبتلا ہے۔(۲) ظہار، بیوی کو حرام ٹھہرا لینے کے ساتھ مختص ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اپنی عورتوں سے۔‘‘ اگر وہ اپنی لونڈی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہراتا ہے تو یہ ظہار شمار نہ ہو گا ، بلکہ یہ طیبات کی تحریم کی جنس سے ہے ، مثلاً: کھانے پینے کو حرام ٹھہرا لینا، اس میں صرف قسم کا کفارہ واجب ہے۔ (۳)کسی عورت سے نکاح کرنے سے پہلے، اس سے ظہار درست نہیں، کیونکہ ظہار کے وقت وہ اس کی بیویوں میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ نکاح سے قبل اس کو طلاق نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ طلاق دے دے یا اس کو معلق کر دے۔(۴)ظہار حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے منکر کہا ہے ۔(۵) ان آیات کریمہ میں، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ﴾’’وہ تمھاری مائیں نہیں ہیں۔‘‘(۶) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے محارم کے نام سے پکارے ، مثلاً:’’اے میری ماں!‘‘ ’’اے میری بہن!‘‘ وغیرہ کیونکہ یہ محرمات سے مشابہت رکھتا ہے۔(۷) کفارہ مجرد ظہار سے واجب نہیں ہوتا بلکہ سابقہ دونوں اقوال کے اختلاف معنیٰ کے مطابق، ظہار کرنے والے کے ’’رجوع کرنے‘‘ پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ (۸) کفارہ میں چھوٹے یابڑے غلام کو اور مرد یا عورت کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے، کیونکہ آیت میں مطلق غلام کو آزاد کرنے کا حکم ہے۔ (۹)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کفارے میں غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا ہے تو جماع سے قبل، کفارہ ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مقید ذکر کیا ہے، بخلاف مسکینوں کو کھانا کھلانے کے، کیونکہ مسکینوں کو کھانا کھلانے کے دوران میں جماع جائز ہے۔(۱۰)جماع سے قبل کفارے کے واجب ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس سے کفارے کی ادائیگی میں زیادہ ترغیب ملتی ہے کیونکہ جب ظہار کرنے والے میں جماع کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ کفارہ ادا کیے بغیر جماع ممکن نہیں، تو کفارہ ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے۔(۱۱) ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہے۔ ظہار کا ارتکاب کرنے والا اگر ساٹھ مسکینوں کا اکٹھا کھانا کسی ایک مسکین، یا ایک سے زائد مسکینوں کو، جو تعداد میں ساٹھ سے کم ہوں، دے دے، تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿فَاِطۡعَامُ سِتِّيۡنَ مِسۡكِيۡنًا﴾
58:5إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ كُبِتُواْ كَمَا كُبِتَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ وَقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ
بلاشبہ وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کی، وہ ذلیل کیے جائیں گے جیسے ذلیل کیے گئے تھے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے اور تحقیق نازل کیں ہم نے آیتیں واضح، اور کافروں کے لیے ہے عذاب رسوا کن(5)
[5] اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نافرمانی ان کے ساتھ دشمنی کے زمرے میں آتی ہے، خاص طور امور قبیحہ میں، مثلاً: اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر کے دشمنی کرنا اور اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا۔ فرمایا: ﴿ كُبِتُوۡا كَمَا كُبِتَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ یعنی پوری پوری جزا کے طور پر ان کو ذلیل و رسوا کیا گیا، جیسا کہ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو ذلیل و رسوا کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے خلاف ان کے پاس حجت نہیں، کیونکہ مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی حجت بالغہ قائم ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے واضح دلائل اور براہین نازل فرمائے، جو حقائق کو بیان اور مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔ پس جس کسی نے ان کی اتباع کی اور ان پر عمل پیرا ہوا وہی ہدایت یافتہ اور کامیاب ہے۔ ﴿ وَلِلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ یعنی ان آیات و براہین کا انکار کرنے والوں کے لیے ﴿عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ﴾ ایسا عذاب ہے جو انھیں ذلیل و رسوا کرے گا، چنانچہ جس طرح انھوں نے آیات الٰہی کے مقابلے میں تکبر کیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ان کو ذلیل و رسوا کرے گا۔
58:6يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓاْۚ أَحۡصَىٰهُ ٱللَّهُ وَنَسُوهُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو عمل کیے تھے انھوں نے، شمار کر رکھا ہے اس کو اللہ نے جبکہ وہ بھول گئے تھے اسے، اور اللہ اوپر ہر چیز کے شاہد ہے(6) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین(آدمیوں)کی مگر وہ چوتھا ہوتا ہے ان میں، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی مگر وہ چھٹا ہوتا ہے ان میں، اور نہ کم اس سے اور نہ زیادہ مگر وہ ہوتا ہے ساتھ ان کے جہاں کہیں بھی وہ ہوں، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو انھوں نے عمل کیے تھے روز قیامت، بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(7)
[6] یعنی جس روز اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿ جَمِيۡعًا﴾ ’’سب کو۔‘‘ تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے ، پھر وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا﴾ چنانچہ انھوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے اور ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں۔ اور عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ ﴿ وَنَسُوۡهُ﴾ انھوں نے اپنے اعمال کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اللہ تعالیٰ، تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں، اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔
[7] بنابریں اس نے اپنے لا محدود علم کے بارے میں خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ﴿ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾’’ کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اس معیت سے مراد معیت علم، ان کی سرگوشیوں اور ان کے سرا ئر کا احاطہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
58:7أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
جس دن اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو عمل کیے تھے انھوں نے، شمار کر رکھا ہے اس کو اللہ نے جبکہ وہ بھول گئے تھے اسے، اور اللہ اوپر ہر چیز کے شاہد ہے(6) کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین(آدمیوں)کی مگر وہ چوتھا ہوتا ہے ان میں، اور نہ پانچ (آدمیوں) کی مگر وہ چھٹا ہوتا ہے ان میں، اور نہ کم اس سے اور نہ زیادہ مگر وہ ہوتا ہے ساتھ ان کے جہاں کہیں بھی وہ ہوں، پھر وہ خبر دے گا انھیں اس کی جو انھوں نے عمل کیے تھے روز قیامت، بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے(7)
[6] یعنی جس روز اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿ جَمِيۡعًا﴾ ’’سب کو۔‘‘ تو وہ اپنی قبروں سے تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے ، پھر وہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿فَيُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا﴾ چنانچہ انھوں نے جو اچھے برے اعمال کیے ہوں گے، اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ اسے ان تمام اعمال کا علم ہے اور ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان اعمال کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے اور حفاظت پر مامور ملائکہ کرام کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ ان اعمال کو درج کرتے رہیں۔ اور عمل کرنے والوں کی حالت یہ ہے کہ ﴿ وَنَسُوۡهُ﴾ انھوں نے اپنے اعمال کو فراموش کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شمار کر رکھا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ﴾ اللہ تعالیٰ، تمام ظاہری باتوں، تمام اسرار نہاں، اور تمام چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتا ہے۔
[7] بنابریں اس نے اپنے لا محدود علم کے بارے میں خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا کہ اس کا علم آسمانوں اور زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ ﴿ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا﴾’’ کسی بھی جگہ تین اشخاص کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر چوتھا وہ ہوتا ہے، نہ کہیں پانچ اشخاص کی سرگوشی ہوتی ہے مگر چھٹا وہ ہوتا ہے، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ اشخاص سرگوشی کرتے ہیں مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔‘‘ اس معیت سے مراد معیت علم، ان کی سرگوشیوں اور ان کے سرا ئر کا احاطہ ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
58:8أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نُهُواْ عَنِ ٱلنَّجۡوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَيَتَنَٰجَوۡنَ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِۖ وَإِذَا جَآءُوكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ ٱللَّهُ وَيَقُولُونَ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا ٱللَّهُ بِمَا نَقُولُۚ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ يَصۡلَوۡنَهَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو روکے گئے تھے سر گوشی کرنے سے، پھر وہ لوٹتے ہیں طرف اس چیز کی کہ روکے گئے تھے وہ اس سے، اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور نافرمانی ٔ رسول کی اور جب وہ آتے ہیں آپ کے پاس تو وہ دعا دیتے(سلام کہتے) ہیں آپ کو ساتھ اس (کلمے) کے کہ نہیں دعا دی آپ کو ساتھ اس کےاللہ نے، اور وہ کہتے ہیں اپنے نفسوں میں، کیوں نہیں عذاب دیتا ہمیں اللہ بوجہ اس کےجو ہم کہتے ہیں؟ کافی ہے ان کو جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس برا ہے وہ ٹھکانا(8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم، تو نہ سرگوشی کرو گناہ کی اور زیادتی کی اور نافر مانی ٔرسول کی اور سرگوشی کرو تم نیکی اور تقوے کی اور ڈرو تم اللہ سے، وہ کہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(9)
[8، 9]﴿ النَّجۡوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقۡوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ﴾ ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔‘‘ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ﴾ ’’اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔‘‘ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ يَصۡلَوۡنَهَا١ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔
58:9يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَنَٰجَيۡتُمۡ فَلَا تَتَنَٰجَوۡاْ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَٰجَوۡاْ بِٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو روکے گئے تھے سر گوشی کرنے سے، پھر وہ لوٹتے ہیں طرف اس چیز کی کہ روکے گئے تھے وہ اس سے، اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور نافرمانی ٔ رسول کی اور جب وہ آتے ہیں آپ کے پاس تو وہ دعا دیتے(سلام کہتے) ہیں آپ کو ساتھ اس (کلمے) کے کہ نہیں دعا دی آپ کو ساتھ اس کےاللہ نے، اور وہ کہتے ہیں اپنے نفسوں میں، کیوں نہیں عذاب دیتا ہمیں اللہ بوجہ اس کےجو ہم کہتے ہیں؟ کافی ہے ان کو جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس برا ہے وہ ٹھکانا(8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم، تو نہ سرگوشی کرو گناہ کی اور زیادتی کی اور نافر مانی ٔرسول کی اور سرگوشی کرو تم نیکی اور تقوے کی اور ڈرو تم اللہ سے، وہ کہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(9)
[8، 9]﴿ النَّجۡوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقۡوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ﴾ ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔‘‘ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ﴾ ’’اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔‘‘ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ يَصۡلَوۡنَهَا١ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔
58:10إِنَّمَا ٱلنَّجۡوَىٰ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ لِيَحۡزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
یقیناً (بری) سرگوشی شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ غم زدہ کرے ان لوگوں کوجو ایمان لائے اور نہیں وہ ضرر دینے والا انھیں کچھ بھی مگر ساتھ حکم اللہ کے، اور اللہ ہی پر پس چاہیے توکل کریں مومن (10)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِنَّمَا النَّجۡوٰى﴾ یعنی مومنوں کے دشمن ان کے بارے میں سازش، دھوکے اور بری خواہشات کی جو سرگوشیاں کرتے ہیں ﴿مِنَ الشَّيۡطٰنِ﴾یہ شیطان کی طرف سے ہیں، جس کی چال بہت کمزور اور مکر غیر مفید ہے۔ ﴿ وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡـًٔؔا اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے حکم کے بغیر ان سے انھیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ کفایت اور دشمن کے خلاف فتح و نصرت کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے:﴿ وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر:35-43) ’’اور بری چال کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے دشمن جب کبھی (اہل ایمان کے خلاف) سازش کرتے ہیں تو اس کا ضرر انھی کی طرف لوٹتا ہے، اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا سوائے کسی ایسے ضرر کے جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔ ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ یعنی مومن اسی پر اعتماد کریں اور اس کے وعدے پر بھروسہ کریں، کیونکہ جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں ،نیز اس کے دین و دنیا کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔
58:11يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَكُمۡ تَفَسَّحُواْ فِي ٱلۡمَجَٰلِسِ فَٱفۡسَحُواْ يَفۡسَحِ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَإِذَا قِيلَ ٱنشُزُواْ فَٱنشُزُواْ يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب کہا جائے تم سے، کشادگی کرو تم مجلسوں میں تو کشادگی کرو تم، کشادگی کرے گا اللہ تمھارے لیے، اور جب کہا جائے، اٹھ کھڑے ہو تم تو کھڑے ہو جایا کرو تم، بلند کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے تم میں سے اور ان لوگوں کو جو دیے گئے علم، درجوں میں اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (11)
[11] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، پس یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں، یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہٰذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی پیدا کر دیتا ہے، جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ انۡشُزُوۡا﴾ جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو ﴿ فَانۡشُزُوۡا﴾ تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فوراً اٹھ جایا کرو۔ کیونکہ اس قسم کے معاملات کا لحاظ رکھنا، علم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق درجات بلند کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے، نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔
58:12يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نَٰجَيۡتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَةٗۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لَّكُمۡ وَأَطۡهَرُۚ فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم رسول سے تو پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقہ، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اور زیادہ پاکیزہ پس اگر نہ پاؤ تم (صدقہ) تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (12) کیا ڈر گئے تم اس بات سے کہ پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقے؟ سو جب نہ کیا تم نے (یہ) اور متوجہ ہوا اللہ تم پر، تو قائم کرو تم نماز اور دو زکاۃ اور اطاعت کرو تم اللہ اور اس کے رسول کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کی تادیب و تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے ان کو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم، اہل ایمان کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے یعنی ایسا کرنے سے تمھاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہو گا نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہو گی۔ بے فائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ترک کرنا بھی، اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہشمند ہے تو وہ صدقے کی پروا نہیں کرے گا۔جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے، پس اس طرح وہ ایسے امر سے باز رہے گاجو رسول اللہ ﷺ پر شاق گزرتا ہے، یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو صدقہ دے سکتا ہے۔جس کے پاس صدقہ دینے کے لیے کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کر دیا اور اس سے نرمی سے کام لیا ہے اور اس شخص کے لیے صدقہ پیش کیے بغیر، جو اس کی قدرت میں نہیں، سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔
[13] پھر جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا، تو ان پر معاملے کو آسان کر دیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا، البتہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رہا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا، کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے، فی نفسہ مقصود نہیں۔ اصل مقصد تو رسول اللہ ﷺ کا ادب اور اکرام ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا﴾ ’’چنانچہ جب تم نے یہ نہ کیا۔‘‘ یعنی صدقہ پیش کرنا تمھارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ یہ حکم کی شرط نہیں ہے کہ وہ بندے پر آسان ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا:﴿ وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کر دیا ﴿ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ پس نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود و لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرو جو تمھارے مال میں سے تم پر فرض ہے۔ یہی دو عبادات، بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے، بنابریں فرمایا :﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر کے، ان کے نواہی سے اجتناب کر کے، ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کر کے اور شریعت کی حدود پر رک کر، ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے۔اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے، اسی لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے، پس انھوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔
58:13ءَأَشۡفَقۡتُمۡ أَن تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيۡ نَجۡوَىٰكُمۡ صَدَقَٰتٖۚ فَإِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُواْ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم رسول سے تو پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقہ، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اور زیادہ پاکیزہ پس اگر نہ پاؤ تم (صدقہ) تو بلاشبہ اللہ غفور رحیم ہے (12) کیا ڈر گئے تم اس بات سے کہ پیش کرو تم پہلے اپنی سرگوشی سے صدقے؟ سو جب نہ کیا تم نے (یہ) اور متوجہ ہوا اللہ تم پر، تو قائم کرو تم نماز اور دو زکاۃ اور اطاعت کرو تم اللہ اور اس کے رسول کی، اور اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کی تادیب و تعلیم اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کے لیے ان کو حکم دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دیا کریں کیونکہ یہ تعظیم، اہل ایمان کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے یعنی ایسا کرنے سے تمھاری بھلائی اور اجر میں اضافہ ہو گا نیز ہر قسم کی گندگی سے طہارت حاصل ہو گی۔ بے فائدہ سرگوشی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ترک کرنا بھی، اسی گندگی میں شمار ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ کرنے کا حکم دیا تو یہ چیز اس شخص کی پرکھ کے لیے میزان بن گئی جو علم اور بھلائی کا خواہشمند ہے تو وہ صدقے کی پروا نہیں کرے گا۔جسے بھلائی کی حرص ہے نہ رغبت، اس کا مقصد محض کثرت کلام ہے، پس اس طرح وہ ایسے امر سے باز رہے گاجو رسول اللہ ﷺ پر شاق گزرتا ہے، یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو صدقہ دے سکتا ہے۔جس کے پاس صدقہ دینے کے لیے کچھ نہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس معاملے میں اس کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اس کو معاف کر دیا اور اس سے نرمی سے کام لیا ہے اور اس شخص کے لیے صدقہ پیش کیے بغیر، جو اس کی قدرت میں نہیں، سرگوشی کرنا مباح ٹھہرا دیا۔
[13] پھر جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خوف اور ہر سرگوشی کے وقت ان پر صدقات کی مشقت کو ملاحظہ فرمایا، تو ان پر معاملے کو آسان کر دیا اور سرگوشی کرنے سے قبل صدقہ ترک کرنے پر مواخذہ نہیں فرمایا، البتہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور آپ کا احترام باقی رہا اور اس کو منسوخ نہیں فرمایا، کیونکہ سرگوشی سے قبل صدقہ مشروع لغیرہ کے باب سے ہے، فی نفسہ مقصود نہیں۔ اصل مقصد تو رسول اللہ ﷺ کا ادب اور اکرام ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان بڑے بڑے احکام کی تعمیل کریں جو فی نفسہ مقصود ہیں ، چنانچہ فرمایا :﴿ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا﴾ ’’چنانچہ جب تم نے یہ نہ کیا۔‘‘ یعنی صدقہ پیش کرنا تمھارے لیے آسان نہیں تھا اور نہ یہ کافی ہی تھا کیونکہ یہ حکم کی شرط نہیں ہے کہ وہ بندے پر آسان ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے مقید فرمایا:﴿ وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ﴾ یعنی اس نے صدقہ کرنا تم پر معاف کر دیا ﴿ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ پس نماز کو اس کے تمام ارکان و شرائط اور اس کی تمام حدود و لوازم کے ساتھ قائم کرو۔ ﴿ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ﴾ اور مستحق لوگوں کو زکاۃ ادا کرو جو تمھارے مال میں سے تم پر فرض ہے۔ یہی دو عبادات، بدنی اور مالی عبادات کی بنیاد ہیں۔ جو کوئی ان عبادات کو شرعی طریقے سے قائم کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو قائم کرتا ہے، بنابریں فرمایا :﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔‘‘ یہ تمام امور کو شامل ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر کے، ان کے نواہی سے اجتناب کر کے، ان کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کر کے اور شریعت کی حدود پر رک کر، ان کی اطاعت کرنا سب اس میں داخل ہے۔اس سے عبرت حاصل کرنا اخلاص اور احسان پر مبنی ہے، اسی لیے فرمایا :﴿ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ان کے اعمال کسی طرح بھی صادر ہوں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے، پس انھوں نے جو کچھ اپنے سینوں میں چھپا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہوئے اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے گا۔
58:14۞أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوۡاْ قَوۡمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مَّا هُم مِّنكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡ وَيَحۡلِفُونَ عَلَى ٱلۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
58:15أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُمۡ عَذَابٗا شَدِيدًاۖ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
58:16ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ جُنَّةٗ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ فَلَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
58:17لَّن تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ أَمۡوَٰلُهُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔاۚ أُوْلَـٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
58:18يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ جَمِيعٗا فَيَحۡلِفُونَ لَهُۥ كَمَا يَحۡلِفُونَ لَكُمۡ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ عَلَىٰ شَيۡءٍۚ أَلَآ إِنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
58:19ٱسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَأَنسَىٰهُمۡ ذِكۡرَ ٱللَّهِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱلشَّيۡطَٰنِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے دوستی کی اس قوم سے کہ غصے ہوا اللہ ان پر، نہیں ہیں وہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور وہ قسمیں کھاتے ہیں جھوٹ پر حالانکہ وہ جانتے ہیں (14) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید بلاشبہ برا ہے وہ جو تھے وہ عمل کرتے (15) بنا لیا ہے انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پس روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، پس ان کے لیے عذاب ہے رسوا کن (16) ہرگز نہیں فائدہ دیں گے ان کو مال ان کے اور نہ اولاد ان کی اللہ (کے عذاب) سے کچھ بھی، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (17) جس دن دوبارہ اٹھائے گا ان کو اللہ، سب کو، تو وہ قسمیں کھائیں گے اس کے سامنے بھی جیسے وہ قسمیں کھاتے ہیں تمھاری خاطر اور وہ گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز (فائدے) پر ہیں، آگاہ رہو! بلاشبہ وہی ہیں جھوٹے (18) غالب آ گیا ہے ان پر شیطان پس اس نے بھلا دیا ان کو ذکر اللہ کا، یہ لوگ لشکر ہیں شیطان کا، آگاہ رہو! یقیناً لشکر شیطان کا، وہی ہیں خسارہ پانے والے(19)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال کی شناعت و قباحت کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے دوستی اور موالات رکھتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستحق ٹھہرے، نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ اہل ایمان میں سے ہیں نہ کفار میں سے بلکہ﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖ ۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ﴾(النساء:4؍143) ’’ایمان اور کفر کے درمیان تذبذب کی حالت میں ہیں، نہ پورے مومنین کی طرف ہیں نہ پورے کفار کی طرف۔‘‘ پس وہ ظاہر و باطن میں مومن نہیں ہیں، کیونکہ ان کا باطن کفار کے ساتھ ہے، اور نہ وہ ظاہر و باطن میں کفار ہی کے ساتھ ہیں، کیونکہ ان کا ظاہر اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ ہے ان کا وصف جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، وہ قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ مومن ہیں، حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں۔ ان جھوٹے، فاجر و خائن لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس قدر سخت عذاب تیار کر رکھا ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف معلوم کیا جا سکتا ہے، بہت ہی برے ہیں وہ اعمال جو ان سے صادر ہوتے ہیں، وہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور ان پر عذاب اور لعنت واجب ٹھہراتا ہے۔
[16]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً﴾ یعنی وہ اپنی قسموں کو ڈھال بنا کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اہل ایمان کی ملامت سے بچتے ہیں اسی سبب سے وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکتے ہیں اور یہ وہ راستہ ہے کہ جو کوئی اس پر گامزن ہوتا ہے، یہ راستہ اسے جنت میں لے جاتا ہے۔ اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے، تو اس کے لیے صرف وہ راستہ رہ جاتا ہے جو اسے جہنم میں گراتا ہے ﴿ فَلَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴾ ’’چنانچہ ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ کیونکہ جب وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور انھوں نے اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دائمی عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا، جو گھڑی بھر کے لیے بھی ان سے علیحدہ نہیں ہو گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔
[17]﴿ لَنۡ تُغۡنِيَ عَنۡهُمۡ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں ہرگز کچھ کام نہ آئیں گی۔‘‘ یعنی ان کا مال اور اولاد، ان سے عذاب کو ہٹا سکیں گے نہ ثواب کا کچھ حصہ ان کے لیے حاصل کر سکیں گے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ﴾ وہ آگ کے عذاب میں مبتلا رہنے والے ہیں، جو کبھی عذاب سے باہر نہ نکلیں گےاور ﴿ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
[18] جو کوئی جس چیز پر ساری زندگی بسر کرتا ہے اسی پر مرتا ہے۔ جیسے منافقین دنیا کے اندر اہل ایمان کے ساتھ دھوکا کرتے ہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر ان سے کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں۔ وہ اپنے اس حلف کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قائم ہیں، کیونکہ ان کا کفر و نفاق اور ان کے باطل عقائد ان کے اذہان میں آہستہ آہستہ راسخ ہوتے رہے، یہاں تک کہ ان عقائد نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ معتد بہ موقف پر ہیں جس پر ثواب کا دار و مدار ہے، حالانکہ وہ ایسا سمجھنے میں جھوٹے ہیں۔ اور یہ معلوم ہے کہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔
[19] یہ ان پر شیطان کا غلبہ ہے جس نے ان پر قابو پا رکھا ہے، اس نے ان کے سامنے ان کے اعمال آراستہ کر دیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ وہ ان کا کھلا دشمن ہے اور ان کے ساتھ صرف برائی چاہتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر: 35؍6)’’وہ تو اپنے گروہ کے لوگوں کو اپنی راہ پر اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’یہ شیطان کی پارٹی ہے۔ سن لو! شیطان ہی کی پارٹی نقصان اٹھانے والی ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دین و دنیا، اپنے اہل و عیال اور گھر بار کے بارے میں خسارے میں پڑ گئے۔
58:20إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ فِي ٱلۡأَذَلِّينَ
بلاشبہ وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کےرسول کی یہ لوگ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں (20) لکھ رکھا ہے اللہ نے کہ ضرور غالب آؤں گا میں اور میرے رسول، بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (21)
[21,20] یہ وعد ہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ بے یار و مددگار اور ذلیل و رسوا ہے، اس کا انجام قابل تعریف ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی۔ وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، جو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں، ان کی اتباع کرتا ہے، پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہو گیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے، ان کے لیے فتح و نصرت اور دنیا و آخرت میں غلبہ ہے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر و تبدل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی، نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے، وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتی۔
58:21كَتَبَ ٱللَّهُ لَأَغۡلِبَنَّ أَنَا۠ وَرُسُلِيٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٞ
بلاشبہ وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کےرسول کی یہ لوگ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں (20) لکھ رکھا ہے اللہ نے کہ ضرور غالب آؤں گا میں اور میرے رسول، بلاشبہ اللہ قوی ہے، بڑا زبردست (21)
[21,20] یہ وعد ہ اور وعید ہے۔ وعید اس شخص کے لیے جو کفر و معاصی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ بے یار و مددگار اور ذلیل و رسوا ہے، اس کا انجام قابل تعریف ہے نہ اس کی مدد کی جائے گی۔ وعدہ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، جو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں، ان کی اتباع کرتا ہے، پس وہ اللہ کے گروہ میں شامل ہو گیا جو فلاح یاب لوگوں پر مشتمل ہے، ان کے لیے فتح و نصرت اور دنیا و آخرت میں غلبہ ہے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی کی جائے گی نہ اس میں تغیر و تبدل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایسی ہستی کا وعدہ ہے جو سچی، نہایت طاقت ور اور غالب ہستی ہے، وہ ہستی جو چاہتی ہے وہ چیز اسے عاجز اور بے بس نہیں کر سکتی۔
58:22لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
نہیں پائیں گے آپ کسی قوم کو جو ایمان رکھتے ہوں اللہ اور دن آخرت پر، کہ وہ دوستی کریں ان سے جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کےرسول کی، اگرچہ ہوں وہ ان کے باپ، یا ان کے بیٹے ،یا ان کے بھائی، یا ان کا قبیلہ ہی ،یہ لوگ، لکھ دیا ہے (اللہ نے) ان کے دلوں میں ایمان اور تائید کی ان کی ساتھ ایک روح کے اپنی طرف سے اور داخل کرےگا انھیں ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، راضی ہو گیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہو گئے اس سے، یہ لوگ گروہ ہیں اللہ کا، آگاہ رہو! یقیناً گروہ اللہ کا، وہی ہیں فلاح پانے والے (22)
[22] اے نبی! آپ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہیں پائیں گے۔ یعنی یہ دونوں رویے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ ایمان کے تقاضوں اور اس کے لوازم پر عمل نہیں کرتا اور ایمان کو قائم کرنے والے کے ساتھ محبت اور موالات رکھنا یہ ہے کہ اس شخص کے ساتھ بغض اور عداوت رکھی جائے جو ایمان کو قائم نہیں کرتا، خواہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس کے قریب ہی کیوں نہ ہو۔یہ ہے وہ حقیقی ایمان جس کا پھل ملتا ہے اور جس سے مقصود حاصل ہوتا ہے۔ اس وصف کے حامل وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے یعنی اس کور اسخ اور ثابت کر دیا ہے اور ان کے دلوں میں شجر ایمان کو اگا دیا ہے جو کبھی متزلزل ہو سکتا ہے نہ شکوک و شبہات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے روح کے ذریعے سے طاقت ور بنایا ہے یعنی اپنی وحی، اپنی معرفت، مدد الٰہی اور اپنے احسان ربانی کے ذریعے سے تائید کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اس دنیا میں حیات طیبہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے نعمتوں بھری جنتیں ہیں، جہاں ہر وہ چیز ہو گی جو دل چاہیں گے۔ جس سے آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور اسے پسند کریں گی، ان کے لیے ایک سب سے بڑی اور افضل ترین نعمت ہو گی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رضا نازل فرمائے گا اور ان سے کبھی ناراض نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ ان کو جو اکرام و تکریم کی مختلف انواع سے نوازے گا، ان کو جو وافر ثواب عطا کرے گا، جو بے پایاں عنایات سے بہرہ مند اور ان کے درجات بلند کرے گا، وہ اس پر اپنے رب سے راضی ہوں گے، وہ اس طرح کہ ان کے مولا نے جو کچھ ان کو عطا کیا ہو گا، اس کی کوئی انتہا ان کو نظر نہیں آئے گی۔رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کا زعم رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے ساتھ مودت و موالات بھی رکھتا ہے، اور ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جنھوں نے ایمان کو پس پشت ڈال رکھا ہےتو یہ ایمان کا محض خالی خولی دعویٰ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کیونکہ ہر دعوے کے لیے کسی دلیل کا ہونا لازمی ہے جو اس کی تصدیق کرے۔ پس مجرد دعویٰ کسی کام نہیں آتا اور ایسا دعویٰ کرنے والے کی تصدیق نہیں کی جاتی۔