QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Ar-Rahman

ٱلرَّحْمَٰن

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 55 · 78 verses

55:1

ٱلرَّحۡمَٰنُ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:2

عَلَّمَ ٱلۡقُرۡءَانَ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:3

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:4

عَلَّمَهُ ٱلۡبَيَانَ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:5

ٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٖ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:6

وَٱلنَّجۡمُ وَٱلشَّجَرُ يَسۡجُدَانِ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:7

وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلۡمِيزَانَ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:8

أَلَّا تَطۡغَوۡاْ فِي ٱلۡمِيزَانِ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:9

وَأَقِيمُواْ ٱلۡوَزۡنَ بِٱلۡقِسۡطِ وَلَا تُخۡسِرُواْ ٱلۡمِيزَانَ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:10

وَٱلۡأَرۡضَ وَضَعَهَا لِلۡأَنَامِ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:11

فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَٱلنَّخۡلُ ذَاتُ ٱلۡأَكۡمَامِ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:12

وَٱلۡحَبُّ ذُو ٱلۡعَصۡفِ وَٱلرَّيۡحَانُ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:13

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

رحمن(1) سکھایا اس نے قرآن(2) پیدا کیا اس نے انسان کو(3) سکھایا اس کو بولنا(4) سورج اور چاند (چلتے ہیں) ایک حساب سے(5) اور بیلیں اور درخت سجدہ کرتے ہیں(6) اور آسمان، اسی (رحمن) نے بلند کیا اس کو اور اسی نے رکھی ترازو(7) تاکہ نہ تجاوز کرو تم تولنے میں(8) اور قائم کرو تم وزن کو انصاف سے، اور نہ کمی کرو تم تولی جانے والی چیز میں(9) اور زمین، اسی نے رکھا (بچھایا) اس کو مخلوق کے لیے (10) اس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت (جن کے شگوفے اور پھل ہوتے ہیں) غلافوں والے (11) اور دانے(اناج اور غلے) ہیں بھوسے والے اور پھول خوشبو دار (12) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں(اے جن و انس!) جھٹلاؤ گے؟ (13) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس سورۂ کریمہ کا افتتاح اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک ﴿ اَلرَّحۡمٰنُ ﴾ سے ہوا ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، عمومی احسان، بے شمار بھلائیوں اور وسیع فضل و کرم پر دلالت کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو اس کی رحمت اور ان کے آثار یعنی دینی، دنیاوی، اور اخروی نعمتوں پر دلالت کرتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں تک پہنچایا۔ اپنی ان نعمتوں کی ہر جنس اور نوع کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دونوں جماعتوں، یعنی جن و انس کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ چنانچہ فرماتا ہے:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‘‘ [2] پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا :﴿ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ﴾ یعنی اس نے اپنے بندوں کو قرآن کے الفاظ و معانی کی تعلیم دی اور اس کے الفاظ کو بندوں پر آسان کر دیا۔ یہ اس کی سب سے بڑی عنایت اور رحمت ہے، جو بندوں پر سایہ کناں ہے کہ اس نے ان پر بہترین الفاظ میں اور واضح ترین معانی کے ساتھ عربی قرآن نازل کیا جو ہر بھلائی پر مشتمل اور ہر برائی سے روکتا ہے۔ [3، 4]﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کو بہترین صورت میں، کامل اعضاء اور پورے اجزاء کے ساتھ نہایت محکم بنیاد پر تخلیق فرمایا، باری تعالیٰ نے انسان کو پوری مہارت کے ساتھ بنایا اور اسے تمام حیوانات پر امتیاز بخشا ﴿ عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ﴾ یعنی اسے ما فی الضمیر کو بیان کرنا سکھایا اور یہ تعلیم نطقی اور تعلیم خطی دونوں کو شامل ہے، مافی الضمیر کا بیان جس کی بنا پر آدمی کو اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات پر امتیاز بخشا، اس کا شمار اللہ کی سب سے بڑی اور جلیل ترین نعمتوں میں ہوتا ہے۔ [5]﴿ اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ﴾ ’’سورج اور چاند ایک حساب سے چلتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا، ان کو مسخر کیا، جو بندوں پررحمت اور ان کے ساتھ عنایت کے طور پر ایک متعین حساب اور مقررانداز سے چل رہے ہیں، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے بندوں کے مصالح کا انتظام کرتا ہے تاکہ بندے ماہ و سال کی گنتی اور حساب کی معرفت حاصل کر لیں۔ [6]﴿ وَّالنَّجۡمُ وَالشَّجَرُ يَسۡجُدٰؔنِ ﴾ آسمان کے ستارے اور زمین کے درخت سب اپنے رب کو پہچانتے ہیں، اس کو سجدہ کرتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے سامنے سرنگوں ہوتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح اور منافع کے لیے ان کو مسخر کر رکھا ہے۔ [7، 8]﴿ وَالسَّمَآءَؔ رَفَعَهَا﴾ یعنی ارضی مخلوقات کے لیے آسمان کی چھت کو بلند کیا ﴿ وَوَضَعَ الۡمِيۡزَانَ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے ترازو وضع کیا، یعنی بندوں کے درمیان، اقوال و افعال میں عدل جاری کیا۔ اس سے مراد صرف معروف میزان ہی نہیں بلکہ وہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ، معروف میزان، ناپ تول جس کے ذریعے سے اشیاء اور دیگر مقداروں کو ناپا جاتا ہے، دیگر پیمانے جن کے ذریعے سے مجہولات کو منضبط کیا جاتا ہے اور وہ حقائق بھی داخل ہیں جن کے ذریعے سے مخلوقات میں فرق کیا جاتاہے اور ان کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَلَّا تَطۡغَوۡا فِي الۡمِيۡزَانِ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے میزان نازل فرمائی تاکہ تم حقوق اور دیگر معاملات میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اگر معاملہ عقل اور تمھاری آراء کی طرف لوٹتا تو ایسا خلل واقع ہوتا جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہےاور آسمان، زمین اور ان کے رہنے والے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔ [9]﴿ وَاَقِيۡمُوا الۡوَزۡنَ بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’اور تم وزن انصاف سے کرو۔‘‘ یعنی جہاں تک تمھاری قدرت، طاقت اور تمھارے امکان میں ہے، وزن کو انصاف کے ساتھ قائم رکھو۔ ﴿ وَلَا تُخۡسِرُوا الۡمِيۡزَانَ﴾ یعنی اسے کم نہ کرو کہ اس کی ضد پر عمل کرنے لگو، اس سے مراد ہے ظلم و جور اور سرکشی ہے۔ [10]﴿ وَالۡاَرۡضَ وَضَعَهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کی کثافتوں، اس کے استقرار اور اس کے اوصاف و احوال سمیت بنایا۔ ﴿ لِلۡاَنَامِ﴾ مخلوق کے لیے تاکہ وہ زمین کو ٹھکانا بنائے، زمین ان کے لیے ہموار فرش کا کام دے، یہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، زمین پر کھیتی باڑی کریں، باغات لگائیں، کنویں کھودیں، اس کے راستوں پر چلیں، اس کی معدنیات اور ان تمام چیزوں سے فائدہ اٹھائیں جن کی انھیں حاجت اور ضرورت ہو، پھر اللہ تعالیٰ نے خوراک کی ضروری اشیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: [11]﴿ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ﴾ ’’اس میں لذیذ پھل ہیں۔‘‘ اس سے مراد وہ تمام درخت ہیں جو پھل پیدا کرتے ہیں جنھیں بندے مزے سے کھاتے ہیں، مثلاً: انگور، انجیر، انار اور سیب وغیرہ ۔﴿ وَّالنَّخۡلُ ذَاتُ الۡاَؔكۡمَامِ﴾ ’’اور کھجور کے درخت ہیں جن کے شگوفے غلافوں میں لپٹے ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی غلاف والی کھجوریں جو گچھے سے پھوٹتی ہیں جو تھوڑی تھوڑی کر کے نکلتی ہیں یہاں تک کہ مکمل ہو جاتی ہیں ، تب وہ خوراک بن جاتی ہیں جس کو کھایا جاتا ہے، اس کو ذخیرہ کیا جاتا ہے، مقیم اور مسافر اس کو توشہ بناتے ہیں، کھجور بہترین پھلوں میں سے نہایت لذیذ پھل ہے۔ [12]﴿ وَالۡحَبُّ ذُو الۡعَصۡفِ﴾ ’’اور بھوسے والے دانے (اناج) ۔‘‘ یعنی نال دار اناج جسے گاہا جاتا ہے ، پھر مویشیوں وغیرہ کے لیے اس کے بھوسے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس میں گیہوں، جو، مکئی، چاول اور چنا وغیرہ داخل ہیں ﴿وَالرَّيۡحَانُ﴾ ’’اور خوشبودار پھول ہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے رزق کی تمام اقسام مراد ہوں جس کو آدمی کھاتے ہیں۔ تب یہ خاص پر عطف عام کے باب میں شمار ہو گا اور اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عمومی اور خصوصی خوراک اور رزق سے نوازا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد معروف ریحان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی خوش کن اور فاخرہ خوشبوؤ ں کو زمین میں سے مہیا کر کے، ان سے اپنے بندوں کو نوازا ہے جو روح کو مسرت عطا کرتی ہیں اور ان سے نفوس میں انشراح پیدا ہوتا ہے۔ [13] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کا آنکھوں اور بصیرت کے ذریعے سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور خطاب دونوں گروہوں یعنی جنات اور انسانوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا :﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ یعنی (اے جن و انس!) تم اللہ تعالیٰ کی کون کون سی دینی اور دنیاوی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ جنات کے سامنے تلاوت فرمائی تو ان کا کیا ہی خوبصورت جواب تھا۔ جب بھی آپ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ پڑھتے تو وہ جواب میں کہتے:لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ فَلَکَ الْحَمْدُ ’’اے ہمارے رب!ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا کا مستحق ہے۔‘‘ (جامع الترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ الرحمٰن، حدیث: 3291) اسی طرح بندۂ مومن کو چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسانات کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کا اقرار کرے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و ثنا بیان کرے۔
55:14

خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِن صَلۡصَٰلٖ كَٱلۡفَخَّارِ

اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (14) اور اس نے پیدا کیا جن کو شعلۂ آتش سے (15) پس (کون)کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (16) [14] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کے جد امجد حضرت آدمu کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّؔارِ﴾ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی ۔ [15]﴿وَخَلَقَ الۡجَآنَّ ﴾ اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا۔ ﴿مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴾ آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ آدمی کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے، بخلاف جنات کے عنصر ، یعنی آگ کے جو خفت، طیش شر اور فساد کا محل ہے۔ [16] جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا :﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾’’( اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘
55:15

وَخَلَقَ ٱلۡجَآنَّ مِن مَّارِجٖ مِّن نَّارٖ

اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (14) اور اس نے پیدا کیا جن کو شعلۂ آتش سے (15) پس (کون)کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (16) [14] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کے جد امجد حضرت آدمu کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّؔارِ﴾ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی ۔ [15]﴿وَخَلَقَ الۡجَآنَّ ﴾ اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا۔ ﴿مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴾ آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ آدمی کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے، بخلاف جنات کے عنصر ، یعنی آگ کے جو خفت، طیش شر اور فساد کا محل ہے۔ [16] جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا :﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾’’( اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘
55:16

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اس نے پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (14) اور اس نے پیدا کیا جن کو شعلۂ آتش سے (15) پس (کون)کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (16) [14] یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر نعمت ہے کہ اس نے انھیں اپنی قدرت اور کاریگری کے آثار دکھائے کہ ﴿خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ﴾ انسان کے جد امجد حضرت آدمu کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ﴿مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّؔارِ﴾ جس کے نم کو مہارت کے ساتھ محکم کیا گیا تھا یہاں تک کہ وہ خشک ہو گئی اور اس میں آگ پر پکائے گئے ٹھیکرے کی آواز کے مانند کھنکھنانے کی آواز پیدا ہوئی ۔ [15]﴿وَخَلَقَ الۡجَآنَّ ﴾ اور جنات کے باپ ابلیس لعین کو پیدا کیا۔ ﴿مِنۡ مَّارِجٍ مِّنۡ نَّارٍ﴾ آگ کے صاف شعلے سے یا اس سے مراد وہ شعلہ ہے جس کے ساتھ دھواں ملا ہوا ہو۔ یہ آیت کریمہ آدمی کے عنصر کے شرف پر دلالت کرتی ہے جسے گارے اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جو وقار، ثقل اور منافع کا محل ہے، بخلاف جنات کے عنصر ، یعنی آگ کے جو خفت، طیش شر اور فساد کا محل ہے۔ [16] جب اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تخلیق اور ان کا مادۂ تخلیق بیان فرمایا، یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا احسان تھا تو ارشاد فرمایا :﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾’’( اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘
55:17

رَبُّ ٱلۡمَشۡرِقَيۡنِ وَرَبُّ ٱلۡمَغۡرِبَيۡنِ

(وہی) رب ہے دونوں مشرقوں کا اور رب ہے دونوں مغربوں کا (17) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (18) [17، 18] یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا رب ہے جس پر سورج، چاند اور روشن ستارے طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور وہ سب کچھ جس کے اندر چاند سورج ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق اور مغرب کو سورج کے گرمیوں اور سردیوں کے مقاماتِ طلوع و غروب ہونے کے اعتبار سے تثنیہ ذکر کیا ہے۔ واللہ أعلم.
55:18

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

(وہی) رب ہے دونوں مشرقوں کا اور رب ہے دونوں مغربوں کا (17) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (18) [17، 18] یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کا رب ہے جس پر سورج، چاند اور روشن ستارے طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور وہ سب کچھ جس کے اندر چاند سورج ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرق اور مغرب کو سورج کے گرمیوں اور سردیوں کے مقاماتِ طلوع و غروب ہونے کے اعتبار سے تثنیہ ذکر کیا ہے۔ واللہ أعلم.
55:19

مَرَجَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ يَلۡتَقِيَانِ

رحمٰن نے جاری کیے دو سمندر جو باہم ملتے ہیں(19) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے، نہیں تجاوز کرتے وہ دونوں (20) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (21) نکلتے ہیں ان دونوں (سمندروں )سے موتی اور مونگے (22) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (23) [23-19] یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے ، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
55:20

بَيۡنَهُمَا بَرۡزَخٞ لَّا يَبۡغِيَانِ

رحمٰن نے جاری کیے دو سمندر جو باہم ملتے ہیں(19) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے، نہیں تجاوز کرتے وہ دونوں (20) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (21) نکلتے ہیں ان دونوں (سمندروں )سے موتی اور مونگے (22) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (23) [23-19] یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے ، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
55:21

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

رحمٰن نے جاری کیے دو سمندر جو باہم ملتے ہیں(19) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے، نہیں تجاوز کرتے وہ دونوں (20) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (21) نکلتے ہیں ان دونوں (سمندروں )سے موتی اور مونگے (22) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (23) [23-19] یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے ، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
55:22

يَخۡرُجُ مِنۡهُمَا ٱللُّؤۡلُؤُ وَٱلۡمَرۡجَانُ

رحمٰن نے جاری کیے دو سمندر جو باہم ملتے ہیں(19) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے، نہیں تجاوز کرتے وہ دونوں (20) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (21) نکلتے ہیں ان دونوں (سمندروں )سے موتی اور مونگے (22) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (23) [23-19] یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے ، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
55:23

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

رحمٰن نے جاری کیے دو سمندر جو باہم ملتے ہیں(19) ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے، نہیں تجاوز کرتے وہ دونوں (20) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (21) نکلتے ہیں ان دونوں (سمندروں )سے موتی اور مونگے (22) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (23) [23-19] یہاں بحرین سے مراد ہے: میٹھے پانی کا سمندر اور نمکین پانی کا سمندر جو آپس میں مل جاتے ہیں۔ (دریا کا) میٹھا پانی نمکین سمندر میں گرتا ہے ، پھر دونوں قسم کے پانی ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان زمین کو ایک رکاوٹ بنا رکھا ہے، ایک پانی دوسرے پانی پر سرکشی نہیں کرتا اور یوں دونوں پانیوں کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔لوگ میٹھے پانی کو خود پیتے ہیں اور اس سے اپنے باغات اور کھیتی باڑی کو سیراب کرتے ہیں، کھاری پانی فضا کو پاک صاف کرتا ہے، اس میں وہیل، مچھلیاں، موتی اور گھونگے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کشتیوں اور دیگر بحری سواریوں کے لیے مستقر اور مسخر ہوتا ہے۔
55:24

وَلَهُ ٱلۡجَوَارِ ٱلۡمُنشَـَٔاتُ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ

اور اسی کی ہیں (کشتیاں) چلنے والی، جو بلند کی ہوئی ہیں سمندر میں پہاڑوں کی مانند (24) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (25) [24، 25] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ ان کشتیوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان، مال تجارت اور دیگر اشیاء لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾(اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
55:25

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اسی کی ہیں (کشتیاں) چلنے والی، جو بلند کی ہوئی ہیں سمندر میں پہاڑوں کی مانند (24) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (25) [24، 25] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سمندروں میں چلنے والی کشتیوں کو مسخر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہیں جن کو آدمیوں نے بنایا ہے جو اپنی عظمت کی وجہ سے بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ ان کشتیوں پر سواری کرتے ہیں اور ان پر اپنا سامان، مال تجارت اور دیگر اشیاء لادتے ہیں جن کی وہ ضرورت اور حاجت محسوس کرتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین کی حفاظت کرنے والی ہستی ان کشتیوں کی حفاظت کرتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جلیل القدر نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾(اے جن و انس!) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
55:26

كُلُّ مَنۡ عَلَيۡهَا فَانٖ

سب (کے سب) جو(اس زمین) پر ہیں فنا ہوجانے والے ہیں (26) اور باقی رہے گا چہرہ آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (27) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (28) [28-26] یعنی زمین کی ہر چیز، انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہو جائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی ﴿ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ﴾ جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا ہے اَلْإِکْرَام سے مراد بے پایاں فضل و جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء و خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیاء و خواص اس کی تکریم کرتے، اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
55:27

وَيَبۡقَىٰ وَجۡهُ رَبِّكَ ذُو ٱلۡجَلَٰلِ وَٱلۡإِكۡرَامِ

سب (کے سب) جو(اس زمین) پر ہیں فنا ہوجانے والے ہیں (26) اور باقی رہے گا چہرہ آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (27) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (28) [28-26] یعنی زمین کی ہر چیز، انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہو جائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی ﴿ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ﴾ جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا ہے اَلْإِکْرَام سے مراد بے پایاں فضل و جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء و خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیاء و خواص اس کی تکریم کرتے، اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
55:28

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

سب (کے سب) جو(اس زمین) پر ہیں فنا ہوجانے والے ہیں (26) اور باقی رہے گا چہرہ آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (27) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (28) [28-26] یعنی زمین کی ہر چیز، انسان، جنات، جانور اور تمام مخلوقات فنا اور ہلاک ہو جائیں گے اور وہ زندہ ہستی باقی رہ جائے گی جو کبھی نہیں مرے گی ﴿ ذُو الۡجَلٰلِ وَالۡاِكۡرَامِ﴾ جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا ہے اَلْإِکْرَام سے مراد بے پایاں فضل و جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء و خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیاء و خواص اس کی تکریم کرتے، اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
55:29

يَسۡـَٔلُهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِي شَأۡنٖ

اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر روز(وقت) وہ ایک (نئی) شان میں ہے(29) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (30) [29، 30] یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ وہ بے پایاں جود و کرم کا مالک ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ اس سے اپنی تمام حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں۔ وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ﴿ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِيۡ شَاۡنٍ﴾ ’’ہر روز (ہر وقت) ایک (نئی) شان میں ہوتا ہے۔‘‘ یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، کسی قوم کو عطا کرتا ہے، کسی کو محروم کرتا ہے، وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے، وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا، مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کر سکتے، مانگنے والوں کا اصرار کے ساتھ مانگنا اور سوال کرنے والوں کا لمبا چوڑا سوال اسے زچ نہیں کر سکتا۔پاک ہے وہ ذات جو فضل و کرم کی مالک اور بے حد و حساب عطا کرنے والی ہے جس کی نوازشیں زمین اور آسمان والوں، سب کے لیے عام ہیں۔ اس کا لطف و کرم ہر آن اور ہر لحظہ تمام مخلوق پر سایہ فگن ہے۔ نہایت بلند ہے وہ ہستی جس کو گناہ گاروں کا گناہ اور اس سے اور اس کے کرم سے ناواقف فقراء کا استغنا عطا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہ تمام معاملات جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر روز کام میں ہوتا ہے، وہ تقادیر اور تدابیر ہیں جن کو اس نے ازل میں مقدر کر دیا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کوان اوقات میں جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے، نافذ کرتا رہتا ہے، یہ اس کے احکام دینی ہیں جو اوامر و نواہی پر مشتمل ہیں اور یہ اس کے احکام کونی و قدری ہیں جن کو وہ اپنے بندوں پر اس وقت تک جاری کرتا رہے گا جب تک کہ ان کا قیام اس دنیا میں ہے۔جب یہ مخلوقات تمام ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کو فنا کر دے گا اور وہ چاہے گا کہ ان پر اپنے احکام جزائی نافذ کرے، انھیں اپنے عدل و فضل اور بے پایاں احسانات کا مشاہدہ کرائے جن کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں، اس کی توحید بیان کرتے ہیں، وہ مکلفین کو امتحان و ابتلا کے گھر سے ہمیشہ کی زندگی والے گھر میں منتقل کرے گا، تب وہ ان احکام کو نافذ کرنے کے لیے فارغ ہو گا جن کی تنفیذ کا وقت آ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد اسی بات پر دلالت کرتا ہے:
55:30

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر روز(وقت) وہ ایک (نئی) شان میں ہے(29) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (30) [29، 30] یعنی اللہ تعالیٰ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ وہ بے پایاں جود و کرم کا مالک ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ اس سے اپنی تمام حوائج کے متعلق اپنے حال وقال کے ذریعے سے سوال کرتے ہیں۔ وہ لمحہ بھر بلکہ اس سے بھی کم وقت کے لیے اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتے اور اللہ تعالیٰ ﴿ كُلَّ يَوۡمٍ هُوَ فِيۡ شَاۡنٍ﴾ ’’ہر روز (ہر وقت) ایک (نئی) شان میں ہوتا ہے۔‘‘ یعنی وہ محتاج کو غنی کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، کسی قوم کو عطا کرتا ہے، کسی کو محروم کرتا ہے، وہ موت دیتا اور زندگی عطا کرتا ہے، وہی کسی کو جھکاتا اور کسی کو بلند کرتا ہے۔ کوئی کام اسے کسی دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا، مسائل اسے کسی غلطی میں مبتلا نہیں کر سکتے، مانگنے والوں کا اصرار کے ساتھ مانگنا اور سوال کرنے والوں کا لمبا چوڑا سوال اسے زچ نہیں کر سکتا۔پاک ہے وہ ذات جو فضل و کرم کی مالک اور بے حد و حساب عطا کرنے والی ہے جس کی نوازشیں زمین اور آسمان والوں، سب کے لیے عام ہیں۔ اس کا لطف و کرم ہر آن اور ہر لحظہ تمام مخلوق پر سایہ فگن ہے۔ نہایت بلند ہے وہ ہستی جس کو گناہ گاروں کا گناہ اور اس سے اور اس کے کرم سے ناواقف فقراء کا استغنا عطا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہ تمام معاملات جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ہر روز کام میں ہوتا ہے، وہ تقادیر اور تدابیر ہیں جن کو اس نے ازل میں مقدر کر دیا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کوان اوقات میں جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے، نافذ کرتا رہتا ہے، یہ اس کے احکام دینی ہیں جو اوامر و نواہی پر مشتمل ہیں اور یہ اس کے احکام کونی و قدری ہیں جن کو وہ اپنے بندوں پر اس وقت تک جاری کرتا رہے گا جب تک کہ ان کا قیام اس دنیا میں ہے۔جب یہ مخلوقات تمام ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ سب کو فنا کر دے گا اور وہ چاہے گا کہ ان پر اپنے احکام جزائی نافذ کرے، انھیں اپنے عدل و فضل اور بے پایاں احسانات کا مشاہدہ کرائے جن کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں، اس کی توحید بیان کرتے ہیں، وہ مکلفین کو امتحان و ابتلا کے گھر سے ہمیشہ کی زندگی والے گھر میں منتقل کرے گا، تب وہ ان احکام کو نافذ کرنے کے لیے فارغ ہو گا جن کی تنفیذ کا وقت آ پہنچا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد اسی بات پر دلالت کرتا ہے:
55:31

سَنَفۡرُغُ لَكُمۡ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ

عنقریب ہم فارغ ہوں گے تمھارے لیے اے جن و انس! (31) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (32) [31، 32] یعنی ہم تمھارے حساب کتاب اور تم نے جو اعمال دنیا میں کیے ہیں، ان کی جزا و سزا دینے کے لیے فارغ ہوں گے۔
55:32

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

عنقریب ہم فارغ ہوں گے تمھارے لیے اے جن و انس! (31) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (32) [31، 32] یعنی ہم تمھارے حساب کتاب اور تم نے جو اعمال دنیا میں کیے ہیں، ان کی جزا و سزا دینے کے لیے فارغ ہوں گے۔
55:33

يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ إِنِ ٱسۡتَطَعۡتُمۡ أَن تَنفُذُواْ مِنۡ أَقۡطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ فَٱنفُذُواْۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلۡطَٰنٖ

اے گروہ جن و انس! اگر طاقت رکھتے ہو تم یہ کہ نکل جاؤ تم کناروں سے آسمانوں اور زمین کے تو نکل جاؤ ،نہیں نکل سکتے تم مگر غلبے ہی سے (33) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (34) [33، 34] جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انھیں ان کی کمزوری و بے بسی اور اپنی کامل طاقت، اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا، ان کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا:﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اے جنوں اور انسان کی جماعت! اگر تمھیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو ﴿ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾ تو تم نکل بھاگو لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ قوت انھیں کہاں سے حاصل ہو،حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی اور موت کا، اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا اور مدھم سی آوازوں کے سوا تم کچھ نہیں سن سکو گے، اس مقام پر بادشاہ اور غلام، سردار اور رعایا، غنی اور محتاج سب برابر ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس دن ان کے لیے تیار کی گئی ہوں گی ، چنانچہ فرمایا:
55:34

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اے گروہ جن و انس! اگر طاقت رکھتے ہو تم یہ کہ نکل جاؤ تم کناروں سے آسمانوں اور زمین کے تو نکل جاؤ ،نہیں نکل سکتے تم مگر غلبے ہی سے (33) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (34) [33، 34] جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے روز جمع کرے گا تو انھیں ان کی کمزوری و بے بسی اور اپنی کامل طاقت، اپنی مشیت اور قدرت کی تنفیذ سے آگاہ کرے گا، ان کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہوئے فرمائے گا:﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اے جنوں اور انسان کی جماعت! اگر تمھیں کوئی راستہ اور کوئی سوراخ ملتا ہے جہاں سے تم اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور اس کی سلطنت سے نکل بھاگو ﴿ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾ تو تم نکل بھاگو لیکن تم قوت، طاقت اور کامل قدرت کے بغیر اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ یہ قوت انھیں کہاں سے حاصل ہو،حالانکہ وہ خود اپنے آپ کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی اور موت کا، اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں۔اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا اور مدھم سی آوازوں کے سوا تم کچھ نہیں سن سکو گے، اس مقام پر بادشاہ اور غلام، سردار اور رعایا، غنی اور محتاج سب برابر ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر فرمایا جو اس دن ان کے لیے تیار کی گئی ہوں گی ، چنانچہ فرمایا:
55:35

يُرۡسَلُ عَلَيۡكُمَا شُوَاظٞ مِّن نَّارٖ وَنُحَاسٞ فَلَا تَنتَصِرَانِ

چھوڑا جائے گا تم پر دونوں شعلہ ٔ آتش اور دھواں پس نہیں بچ سکو گے تم دونوں (عذاب سے)(35) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (36) [35، 36] یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ ﴿وَ نُحَاسٌ﴾ ’’اور دھواں۔‘‘ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑی جائیں گی جو تمھیں گھیر لیں گی، پس تم خود مدد کر سکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمھاری مدد کر سکے گا۔ چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف، اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انھیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’ پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘
55:36

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

چھوڑا جائے گا تم پر دونوں شعلہ ٔ آتش اور دھواں پس نہیں بچ سکو گے تم دونوں (عذاب سے)(35) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (36) [35، 36] یعنی تم پر آگ کے صاف شعلے چھوڑے جائیں گے۔ ﴿وَ نُحَاسٌ﴾ ’’اور دھواں۔‘‘ اور یہ ایسے شعلے ہوں گے کہ ان میں دھواں ملا ہوا ہوگا۔معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں قبیح چیزیں تم پر چھوڑی جائیں گی جو تمھیں گھیر لیں گی، پس تم خود مدد کر سکو گے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور تمھاری مدد کر سکے گا۔ چونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی تخویف، اس کی طرف سے ان کے لیے ایک نعمت اور ایک کوڑا ہے جو انھیں بلند ترین مقاصد اور بہترین مواہب کے حصول کے لیے رواں دواں رکھتا ہے۔ اس لیے اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’ پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘
55:37

فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتۡ وَرۡدَةٗ كَٱلدِّهَانِ

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42) [37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔ [39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
55:38

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42) [37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔ [39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
55:39

فَيَوۡمَئِذٖ لَّا يُسۡـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٞ وَلَا جَآنّٞ

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42) [37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔ [39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
55:40

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42) [37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔ [39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
55:41

يُعۡرَفُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ بِسِيمَٰهُمۡ فَيُؤۡخَذُ بِٱلنَّوَٰصِي وَٱلۡأَقۡدَامِ

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42) [37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔ [39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
55:42

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

پس جب پھٹ جائے گا آسمان تو ہو جائے گا وہ سرخ جیسے سرخ چمڑا (37) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (38)پس اس دن نہ پوچھا جائے گا اپنے گناہ کی بابت کوئی انسان اور نہ کوئی جن(39) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (40) پہچان لیے جائیں گے مجرم اپنے چہرے کی علامت ہی سے پس پکڑے جائیں گے وہ پیشانی کے بالوں اور قدموں سے (41) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (42) [37، 38]﴿ فَاِذَا انۡشَقَّتِ السَّمَآءُ ﴾ یعنی جب قیامت کے روز، ہولناکیوں، شدت غم اور خوف کی وجہ سے آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے اور ستارے بکھر جائیں گے۔ ﴿ فَكَانَتۡ﴾ ’’تو وہ ہوجائے گا۔‘‘ شدت خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے ﴿ وَرۡدَةً كَالدِّهَانِ﴾ ’’سرخ چمڑے کی طرح سرخ مائل ۔‘‘ یعنی تانبے اور پگھلے ہوئے سیسے وغیرہ کی طرح ہو جائے گا ۔ [39، 40] یعنی جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے ان سے سوال نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور شاہد، ماضی اور مستقبل، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ بندوں کے احوال کے بارے میں اپنے علم کے مطابق ان کو جزا دے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز اہل خیر اور اہل شر کی کچھ علامات مقرر کر رکھی ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ﴾(آل عمران: 3؍106) ’’اس روز کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [41، 42] یعنی مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے پاؤ ں سے پکڑ کر جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا اور جہنم کی طرف انھیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے محض زجر و توبیخ اور جو کچھ ان کے ساتھ واقع ہوا، اس کے تحقق کے لیے سوال کرے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بارے میں وہ ان سے بہتر جانتا ہےمگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مخلوق پر اس کی حجت بالغہ اور حکمت جلیلہ ظاہر ہو جائے۔
55:43

هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ

(انھیں کہا جائے گا:) یہی ہے جہنم وہ جو جھٹلاتے تھے اس کو مجرم لوگ (43) وہ چکر لگائیں گے درمیان اس (جہنم) کے اور درمیان سخت گرم کھولتے پانی کے (44) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (45) [45-43] جنھوں نے وعد و وعید کو جھٹلایا، جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی، تو ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾’’ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔‘‘ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب، اس کی سزا، اس کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں، یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔ ﴿يَطُوۡفُوۡنَ بَيۡنَهَا﴾ ’’وہ جہنم کے درمیان گھومیں گے۔‘‘ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ ﴿وَبَيۡنَ حَمِيۡمٍ اٰنٍ﴾ اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھومیں گے جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہو گی۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تقویٰ شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا:
55:44

يَطُوفُونَ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَ حَمِيمٍ ءَانٖ

(انھیں کہا جائے گا:) یہی ہے جہنم وہ جو جھٹلاتے تھے اس کو مجرم لوگ (43) وہ چکر لگائیں گے درمیان اس (جہنم) کے اور درمیان سخت گرم کھولتے پانی کے (44) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (45) [45-43] جنھوں نے وعد و وعید کو جھٹلایا، جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی، تو ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾’’ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔‘‘ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب، اس کی سزا، اس کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں، یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔ ﴿يَطُوۡفُوۡنَ بَيۡنَهَا﴾ ’’وہ جہنم کے درمیان گھومیں گے۔‘‘ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ ﴿وَبَيۡنَ حَمِيۡمٍ اٰنٍ﴾ اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھومیں گے جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہو گی۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تقویٰ شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا:
55:45

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

(انھیں کہا جائے گا:) یہی ہے جہنم وہ جو جھٹلاتے تھے اس کو مجرم لوگ (43) وہ چکر لگائیں گے درمیان اس (جہنم) کے اور درمیان سخت گرم کھولتے پانی کے (44) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (45) [45-43] جنھوں نے وعد و وعید کو جھٹلایا، جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی، تو ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾’’ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔‘‘ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب، اس کی سزا، اس کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں، یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔ ﴿يَطُوۡفُوۡنَ بَيۡنَهَا﴾ ’’وہ جہنم کے درمیان گھومیں گے۔‘‘ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ ﴿وَبَيۡنَ حَمِيۡمٍ اٰنٍ﴾ اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھومیں گے جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہو گی۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تقویٰ شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا:
55:46

وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:47

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:48

ذَوَاتَآ أَفۡنَانٖ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:49

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:50

فِيهِمَا عَيۡنَانِ تَجۡرِيَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:51

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:52

فِيهِمَا مِن كُلِّ فَٰكِهَةٖ زَوۡجَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:53

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:54

مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشِۭ بَطَآئِنُهَا مِنۡ إِسۡتَبۡرَقٖۚ وَجَنَى ٱلۡجَنَّتَيۡنِ دَانٖ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:55

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:56

فِيهِنَّ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ إِنسٞ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنّٞ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:57

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:58

كَأَنَّهُنَّ ٱلۡيَاقُوتُ وَٱلۡمَرۡجَانُ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:59

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:60

هَلۡ جَزَآءُ ٱلۡإِحۡسَٰنِ إِلَّا ٱلۡإِحۡسَٰنُ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:61

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:62

وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:63

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:64

مُدۡهَآمَّتَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:65

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:66

فِيهِمَا عَيۡنَانِ نَضَّاخَتَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:67

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:68

فِيهِمَا فَٰكِهَةٞ وَنَخۡلٞ وَرُمَّانٞ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:69

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:70

فِيهِنَّ خَيۡرَٰتٌ حِسَانٞ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:71

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:72

حُورٞ مَّقۡصُورَٰتٞ فِي ٱلۡخِيَامِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:73

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:74

لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ إِنسٞ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنّٞ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:75

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:76

مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ رَفۡرَفٍ خُضۡرٖ وَعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٖ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:77

فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔
55:78

تَبَٰرَكَ ٱسۡمُ رَبِّكَ ذِي ٱلۡجَلَٰلِ وَٱلۡإِكۡرَامِ

اور اس کے لیے جو ڈر گیا کھڑے ہونے سے اپنے رب کے سامنے، دو باغ ہیں (46) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (47) دونوں خوب شاخوں والے (48) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(49) ان دونوں میں دو چشمے جاری ہوں گے (50) پس (کون) کون سی نعمتوں کواپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (51) ان دونوں (جنتوں) میں ہر پھل کی دو (دو) قسمیں ہوں گی (52) پس (کون) کونسی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (53) تکیہ لگائے ہوئے ایسے فرشوں پر جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور پھل ان دونوں باغوں کے قریب ہی ہوں گے (54) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (55) ان میں (حوریں) ہوں گی جھکی نظروں والی نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (56) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (57) گویا کہ وہ ہیرے اور موتی ہیں (58) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(59) نہیں جزا احسان کی مگر احسان ہی (60) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (61) اور ان دونوں سے کم درجہ دو باغ (اور) ہیں (62) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (63) گہرے سبز سیاہی مائل (64) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (65) ان دونوں میں دو چشمے ہیں جوش مارتے ہوئے (66) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (67) ان دونوں میں پھل ہوں گے اور کھجوریں اور انار بھی (68) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(69) ان میں خوب سیرت خوب صورت (عورتیں) ہیں (70) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (71) حوریں محفوظ ہوں گی، خیموں میں (72) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (73) نہیں ہاتھ لگایا انھیں کسی انسان نے ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے (74) تو (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (75) تکیہ لگائے ہوئے قالینوں پر جو سبز اور نادر نہایت نفیس ہوں گے (76) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟(77) بابرکت ہے نام آپ کے رب صاحب جلال و اکرام کا (78) [46، 47] یعنی اس شخص کے لیے جو اپنے رب اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس نے نواہی کو ترک کر دیا اور جس کام کا اسے حکم دیا گیا اس کی تعمیل کی، دو جنتیں ہیں جن کے برتن، زیورات، عمارتیں اور اس میں موجود تمام چیزیں سونے کی ہوں گی۔ ایک جنت ان کو اس امر کی جزا کے طور پر عطا کی جائے گی کہ انھوں نے منہیات کو ترک کیا اور دوسری جنت نیکیوں کی جزا ہو گی۔ [48، 49] ان دونوں جنتوں کا ایک وصف یہ ہے کہ ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾ ’’ان دونوں میں بہت سی شاخیں ہیں۔‘‘ (﴿اَفۡنَانٍ﴾ فَنَنْ کی جمع ہے بمعنی شاخ و ٹہنی یا فَنّ کی جمع ہے بمعنی نعمتیں) یعنی ان جنتوں میں انواع و اقسام کی ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی کے خیال میں آئی ہیں۔ ان جنتوں میں بے شمار خوبصورت درخت ہوں گے جن کی نرم و نازک ڈالیوں پر بے شمار پکے ہوئے لذیذ پھل ہوں گے۔ [50، 51] ان جنتوں کے اندر ﴿ عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾ ’’دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔‘‘ وہ ان چشموں سے جہاں چاہیں گے اور ارادہ کریں گے نہریں نکال کر لے جائیں گے۔ [52، 53]﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ﴾ ان میں پھلوں کی تمام اصناف میں سے ﴿ زَوۡجٰؔنِ﴾ دو دو انواع ہوں گی، ہر ایک کی اپنی اپنی لذت اور اپنا اپنا رنگ ہو گا جو دوسری نوع میں نہ ہو گا۔ [54، 55]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ﴾ ’’وہ ایسی مسندوں پر تکیے لگائے (بیٹھے) ہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے۔‘‘ یہ اہل جنت کے بچھونوں اور ان بچھونوں پر ان کے بیٹھنے کا وصف ہے، نیز یہ کہ وہ تکیے لے کر ان بچھونوں پر بیٹھیں گے، یعنی ان کا بیٹھنا تمکنت، قرار اور راحت کا بیٹھنا ہو گا، جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں، ان بچھونوں کا وصف اور حسن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا حتیٰ کہ ان کے نیچے والے حصے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں، استبرق کے ہوں گے جو ریشم کی خوبصورت ترین اور اعلیٰ ترین قسم ہے تب ان بچھونوں کے ظاہری حصے جن پر بیٹھا جاتا ہے، ان کی خوبصورتی کیسی ہو گی؟ ﴿ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾ ’’اور ان دونوں جنتوں کے پھل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اَلْجنٰی سے مراد ہے پوری طرح پکا ہوا پھل، یعنی ان دو جنتوں کے پھل، تناول کے لیے بہت قریب ہوں گے، کھڑا ہوا، بیٹھا ہوا حتی کہ لیٹا ہوا شخص اسے آسانی سے حاصل کر سکے گا۔ [59-56]﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ ’’ان میں نیچی نگاہوں والی (حوریں) ہوں گی۔‘‘ یعنی ان کی نگاہیں، اپنے حسن و جمال اور اپنے شوہروں کے ساتھ کامل محبت کی بنا پر صرف انھی پر لگی ہوئی ہوں گی، اسی طرح ان کے شوہروں کی نگاہیں بھی ان کے حسن و جمال، ان کے وصل کی لذت اور ان کے ساتھ شدید محبت کی بنا پر صرف انھی پر جمی ہوئی ہوں گی۔ ﴿ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَلَا جَآنٌّ﴾ یعنی ان سے پہلے انھیں جن و انس میں سے کسی نے ان کو حاصل نہ کیا ہو گا۔ بلکہ شوہر کی پیاری دوشیزائیں ہوں گی جو حسن اطاعت، حسن و جمال اور ناز وادا کی وجہ سے اپنے شوہروں کو بہت محبوب ہوں گی۔ ﴿ كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُ﴾ ’’گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں۔‘‘ یہ ان کی صفائی ان کے حسن و جمال اور ان کی خوبصورتی کی وجہ سے کہا گیا ہے۔ [60، 61]﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾ ’’احسان کی جزا احسان ہی ہے۔‘‘ یعنی کیا اس شخص کی جزا جس نے بہترین طریقے سے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بندوں کو فائدہ پہنچایا، اس کے سوا کچھ اور ہو سکتی ہے کہ ثواب جزیل، فوزکبیر، نعمتیں، اور تکدر سے سلامت زندگی عطا کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے؟ پس یہ دو بلند مرتبہ جنتیں مقربین کے لیے ہیں۔ [65-62]﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾ ’’اور ان دو کے علاوہ دو اور جنتیں ہیں۔‘‘ یہ جنتیں چاندی سے تعمیر کی گئی ہوں گی، ان کے زیورات اور ان کے اندر موجود دیگر چیزیں چاندی سے بنی ہوں گی اور یہ سب کچھ اصحاب یمین کے لیے ہو گا۔ یہ جنتیں ﴿مُدۡهَآمَّؔتٰنِ﴾ گہری سبز ہونے اور اپنی سیرابی کی وجہ سے سیاہ نظر آئیں گی۔ [71-66]﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾ ’’ان میں دو ابلنے والے چشمے ہیں۔‘‘ یعنی فوراے۔ ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخۡلٌ وَّ رُمَّانٌ﴾ ان جنتوں میں تمام اقسام کے میوے ہوں گے، خاص طور پر کھجور اور انار جن کے اندر بے شمار فوائد ہیں۔﴿ فِيۡهِنَّ﴾ یعنی جنت کے ان تمام باغات میں ﴿ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌ﴾ بہترین اخلاق اور خوبصورت چہروں والی عورتیں ہوں گی، پس وہ ظاہری اور باطنی جمال، حسن خلقت اور حسن اخلاق کی جامع ہوں گی۔ [72، 73] یعنی وہ حوریں موتیوں کے خیموں میں مستور ہوں گی جنھوں نے اپنے آپ کو اپنے شوہروں کے لیے تیار کر رکھا ہو گا۔ ان کا خیموں میں مستور ہونا، ان کے جنت کے باغات میں نکلنے کے منافی نہیں، جیسا کہ باپردہ شہزادیوں کی عادت ہے۔ [77-74] ان دونوں جنتوں کے اصحاب کا تکیہ سبز ریشم پر لگا ہوا ہو گا، یہ وہ بچھونے ہیں جو بیٹھنے کی بلند جگہوں کے نیچے ہوں گے جو ان بیٹھنے کی جگہوں سے زائد ہوتے ہیں، ان کے بیٹھنے کے جگہ پیچھے، اس کی خوبصورتی اور خوبصورت منظر میں اضافے کے لیے پردے لٹک رہے ہوں گے۔ ﴿ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ اَلْعَبْقَرِی ہر اس بُنے ہوئے کپڑے وغیرہ کو کہتے ہیں جسے نہایت خوبصورت طریقے سے بنایا گیا ہو، بنابریں ایک ایسے حسن کے ذریعے سے اس کا وصف بیان کیا گیا ہے جو حسن صنعت اور حسن منظر اور ملائمت لمس کو شامل ہے۔ یہ دونوں جنتیں ان پہلی جنتوں سے کم تر ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے منصوص فرمایا ہے ﴿ وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِ﴾(الرحمٰن 62/55)’’اور ان سے کمتر درجے کی دو جنتیں ہوں گی۔‘‘ اور پہلی دو جنتوں کو متعدد اوصاف سے موصوف کیا ہے اور دوسری جنتوں کو ان اوصاف سے موصوف نہیں کیا۔ پہلی دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِ﴾(الرحمٰن 50/55) ’’ان میں دو چشمے جاری ہیں۔‘‘ اور آخری دو جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَاعَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ﴾(الرحمٰن 66/55) ’’ان میں دو چشمے ابل رہے ہیں۔‘‘ اور یہ ایک معلوم امر ہے کہ جاری چشموں اور ابلنے والے چشموں کے درمیان فرق ہے۔ پہلی جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ﴾(الرحمٰن 48/55) ’’دونوں جنتیں شاخوں والی ہیں۔‘‘ اور آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’ان جنتوں میں ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں ہوں گی۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌؔ﴾(الرحمٰن 68/55)’’ان دونوں میں پھل، کھجور اور انار ہوں گے۔‘‘ ان دونوں بیان کردہ اوصاف کے درمیان جو تفاوت ہے وہ معلوم ہے۔اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى فُرُشٍۭؔ بَطَآىِٕنُهَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ١ؕ وَجَنَا الۡجَنَّتَيۡنِ دَانٍ﴾(الرحمٰن 54/55) ’’جنتی ایسی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئےہوں گے جن کے استرد بیز ریشم کے ہوں گے اور ان دونوں جنتوں کے پھل بالکل قریب ہی ہوں گے۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں یہ الفاظ ذکر نہیں کیے بلکہ فرمایا: ﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى رَفۡرَفٍ خُضۡرٍ وَّعَبۡقَرِيٍّ حِسَانٍ﴾ ’’(ان جنتوں میں) سبز قالینوں اور عمدہ بچھونوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اول الذکر جنتوں کی عورتوں کے اوصاف کے بارے میں فرمایا : ﴿ فِيۡهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ لَمۡ يَطۡمِثۡهُنَّ اِنۡسٌ قَبۡلَهُمۡ وَ لَا جَآنٌّ﴾(الرحمٰن 56/55) ’’وہاں نیچی نگاہ والی (حوریں) ہیں جنھیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اور آخر الذکر کے بارے میں فرمایا: ﴿حُورٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِي الۡخِيَامِ﴾(الرحمٰن 72/55)’’حوریں جو خیموں میں محفوظ ہوں گی۔‘‘ ان دونوں کے درمیان جو تفاوت ہے وہ بھی معلوم ہے۔ اول الذکر جنتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿ هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمٰن 60/55)یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ جنتیں محسنین کی جزا ہیں۔ آخر الذکر جنتوں کے بارے میں یہ نہیں کہا۔ نیز اول الذکر جنتوں کی مجرد تقدیم ہی ان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر اول الذکر جنتوں کی آخر الذکر جنتوں پر فضیلت کی معرفت حاصل ہوتی ہے، نیز معلوم ہوتا ہے کہ اول الذکر جنتیں، مقربین یعنی انبیاء، صدیقین اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے خواص کے لیے تیار کی گئی ہیں اور آخر الذکر جنتیں تمام اہل ایمان کے لیے تیار کی گئی ہیں۔ان مذکورہ تمام جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا تصور آیا ہے۔ ان جنتوں میں ایسی نعمتیں ہوں گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ ان جنتوں کے رہنے والے انتہائی راحت، رضا، طمانینت اور بہترین مقام میں رہیں گے حتیٰ کہ ہر شخص کسی دوسرے کو اس سے بہتر حال، اور ان نعمتوں سے اعلیٰ نعمتوں میں نہیں سمجھے گا جن میں وہ خود ہے۔ [78] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و احسان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : یعنی اس کی بھلائی بہت بڑی اور بہت زیادہ ہے۔ وہ بہت بڑے جلال، کامل بزرگی اور اپنے اولیاء کے لیے اکرام و تکریم کا مالک ہے۔