al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 54 · 55 verses
54:1ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ
قریب آ گئی قیامت اور پھٹ گیا چاند(1) اور اگر وہ (مشرک) دیکھیں کوئی نشانی(معجزہ)تو اعراض کریں اور کہیں کہ (یہ تو) جادو ہے بڑا مضبوط (ہمیشہ سے چلا آتا)(2) اور انھوں نے جھٹلایا اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام ٹھہرا ہوا ہے (اس کے لیے وقت مقرر ہے)(3) اور یقیناً آ چکی ہیں ان کے پاس خبریں وہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے(4)(اور) دانائی کی بات مکمل، پس نہیں فائدہ دیتیں تنبیہات(5)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد ﷺ تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (ﷺ) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
[2] یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا﴾ ’’اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے (اسے )جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾(القصص:28؍50)’’پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفیﷺ کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴾ ’’ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت ۔ ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۢۡبـَآءِ﴾ ’’اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔‘‘ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌ ﴾’’جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
[5]﴿ حِكۡمَةٌۢ بَالِغَةٌ﴾یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔﴿فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ﴾ ’’پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس: 10؍96، 97) ’’وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔‘‘
54:2وَإِن يَرَوۡاْ ءَايَةٗ يُعۡرِضُواْ وَيَقُولُواْ سِحۡرٞ مُّسۡتَمِرّٞ
قریب آ گئی قیامت اور پھٹ گیا چاند(1) اور اگر وہ (مشرک) دیکھیں کوئی نشانی(معجزہ)تو اعراض کریں اور کہیں کہ (یہ تو) جادو ہے بڑا مضبوط (ہمیشہ سے چلا آتا)(2) اور انھوں نے جھٹلایا اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام ٹھہرا ہوا ہے (اس کے لیے وقت مقرر ہے)(3) اور یقیناً آ چکی ہیں ان کے پاس خبریں وہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے(4)(اور) دانائی کی بات مکمل، پس نہیں فائدہ دیتیں تنبیہات(5)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد ﷺ تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (ﷺ) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
[2] یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا﴾ ’’اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے (اسے )جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾(القصص:28؍50)’’پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفیﷺ کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴾ ’’ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت ۔ ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۢۡبـَآءِ﴾ ’’اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔‘‘ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌ ﴾’’جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
[5]﴿ حِكۡمَةٌۢ بَالِغَةٌ﴾یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔﴿فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ﴾ ’’پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس: 10؍96، 97) ’’وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔‘‘
54:3وَكَذَّبُواْ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡۚ وَكُلُّ أَمۡرٖ مُّسۡتَقِرّٞ
قریب آ گئی قیامت اور پھٹ گیا چاند(1) اور اگر وہ (مشرک) دیکھیں کوئی نشانی(معجزہ)تو اعراض کریں اور کہیں کہ (یہ تو) جادو ہے بڑا مضبوط (ہمیشہ سے چلا آتا)(2) اور انھوں نے جھٹلایا اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام ٹھہرا ہوا ہے (اس کے لیے وقت مقرر ہے)(3) اور یقیناً آ چکی ہیں ان کے پاس خبریں وہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے(4)(اور) دانائی کی بات مکمل، پس نہیں فائدہ دیتیں تنبیہات(5)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد ﷺ تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (ﷺ) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
[2] یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا﴾ ’’اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے (اسے )جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾(القصص:28؍50)’’پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفیﷺ کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴾ ’’ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت ۔ ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۢۡبـَآءِ﴾ ’’اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔‘‘ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌ ﴾’’جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
[5]﴿ حِكۡمَةٌۢ بَالِغَةٌ﴾یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔﴿فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ﴾ ’’پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس: 10؍96، 97) ’’وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔‘‘
54:4وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّنَ ٱلۡأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزۡدَجَرٌ
قریب آ گئی قیامت اور پھٹ گیا چاند(1) اور اگر وہ (مشرک) دیکھیں کوئی نشانی(معجزہ)تو اعراض کریں اور کہیں کہ (یہ تو) جادو ہے بڑا مضبوط (ہمیشہ سے چلا آتا)(2) اور انھوں نے جھٹلایا اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام ٹھہرا ہوا ہے (اس کے لیے وقت مقرر ہے)(3) اور یقیناً آ چکی ہیں ان کے پاس خبریں وہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے(4)(اور) دانائی کی بات مکمل، پس نہیں فائدہ دیتیں تنبیہات(5)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد ﷺ تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (ﷺ) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
[2] یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا﴾ ’’اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے (اسے )جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾(القصص:28؍50)’’پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفیﷺ کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴾ ’’ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت ۔ ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۢۡبـَآءِ﴾ ’’اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔‘‘ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌ ﴾’’جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
[5]﴿ حِكۡمَةٌۢ بَالِغَةٌ﴾یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔﴿فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ﴾ ’’پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس: 10؍96، 97) ’’وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔‘‘
54:5حِكۡمَةُۢ بَٰلِغَةٞۖ فَمَا تُغۡنِ ٱلنُّذُرُ
قریب آ گئی قیامت اور پھٹ گیا چاند(1) اور اگر وہ (مشرک) دیکھیں کوئی نشانی(معجزہ)تو اعراض کریں اور کہیں کہ (یہ تو) جادو ہے بڑا مضبوط (ہمیشہ سے چلا آتا)(2) اور انھوں نے جھٹلایا اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی، اور ہر کام ٹھہرا ہوا ہے (اس کے لیے وقت مقرر ہے)(3) اور یقیناً آ چکی ہیں ان کے پاس خبریں وہ جن میں تنبیہ و نصیحت ہے(4)(اور) دانائی کی بات مکمل، پس نہیں فائدہ دیتیں تنبیہات(5)
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ گھڑی، یعنی قیامت قریب آ گئی، اس کی آمد کا وقت ہو گیا، بایں ہمہ اس کو جھٹلانے والے جھٹلاتے چلے جا رہے ہیں اور اس کے نزول کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھاتا ہے جو اس کے وقوع پر دلالت کرتی ہیں، ان جیسی نشانیاں لانا انسان کے بس میں نہیں۔ حضرت محمد مصطفیﷺ جو کچھ لے کر مبعوث ہوئے ہیں، اس کی صداقت پر دلالت کرنے والا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ جب آپ کی تکذیب کرنے والوں نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی ایسا خارق عادت معجزہ دکھائیں جو قرآن کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرے۔ تو آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا، پس چاند اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور ایک ٹکڑا جبل قعیقعان پر چلا گیا۔ مشرکین اس عظیم معجزے کا مشاہد ہ کر رہے تھے جو عالم علوی میں وقوع پذیر ہوا۔ جس میں مخلوق ملمع سازی کی قدرت رکھتی ہے نہ تخیل کی شعبدہ بازی کر سکتی ہے، چنانچہ انھوں نے ایک ایسے معجزے کا مشاہدہ کیا جو اس سے قبل انھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا بلکہ انھوں نے کبھی سنا بھی نہیں تھا کہ آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء و مرسلین کے ہاتھوں پر اس جیسا معجزہ ظاہر ہوا ہو۔ وہ اس معجزے کو دیکھ کر مغلوب ہو گئے مگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا نہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھلائی چاہی۔انھوں نے اپنی بہتان طرازی اور سرکشی میں پناہ لی اور کہنے لگے: محمد (ﷺ) نے ہم پر جادو کر دیا مگر اس کی علامت یہ ہے کہ تم کسی ایسے شخص سے پوچھو جو سفر پر سے تمھارے پاس آیا ہے اگر محمد ﷺ تم پر جادو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو وہ اس شخص پر جادو نہیں کر سکتے جس نے تمھاری طرح (چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا)مشاہدہ نہیں کیا ، چنانچہ انھوں نے ہر اس شخص سے شق قمر کے بارے میں پوچھا جو سفر پر سے آئے، انھوں نے بھی شق قمر کے وقوع کے بارے میں خبر دی۔ اس پر انھوں نے کہا ﴿ سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ﴾ ’’یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ محمد (ﷺ) نے ہم پر بھی جادو کر دیا اور دوسروں پر بھی۔ یہ ایسا بہتان ہے جو صرف انھی لوگوں میں رواج پا سکتا ہے جو مخلوق میں سب سے زیادہ بے قوف اور ہدایت اور عقل کے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
[2] یہ ان کی طرف سے صرف اسی ایک معجزے کا انکار نہیں بلکہ ان کے پاس جو بھی معجزہ آتا ہے تو یہ اس کی تکذیب کرنے اور اس کو ٹھکرانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس لیے فرمایا : ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا اٰيَةً يُّعۡرِضُوۡا﴾ ’’اگر وہ (مشرک) کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ موڑ لیتے ہیں۔‘‘ پس حق اور ہدایت کی اتباع کرنا ان کا مقصد نہیں، ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ وَؔكَذَّبُوۡا وَاتَّبَعُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’اور انھوں نے (اسے )جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی اتباع کی۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾(القصص:28؍50)’’پھر اگر وہ آپ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیجیے کہ یہ تو صرف اپنی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘ اگر ان کا مقصد ہدایت کی پیروی کرنا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے اور محمد مصطفیﷺ کی اتباع کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر انھیں براہین و بینات اور قطعی دلائل کا مشاہدہ کرایا ہے جو تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ وَكُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ﴾ ’’ اور ہر کام کا وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی اب تک معاملہ اپنی غایت و منتہیٰ تک نہیں پہنچا، عنقریب معاملہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ تب تصدیق کرنے والے نعمتوں بھری جنتوں، اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا کے سائے میں چلے پھریں گے اور جھٹلانے والے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت ۔ ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنَ الۡاَنۢۡبـَآءِ﴾ ’’اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔‘‘ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِيۡهِ مُزۡدَجَرٌ ﴾’’جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
[5]﴿ حِكۡمَةٌۢ بَالِغَةٌ﴾یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ ہے تاکہ تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے اور رسولوں کے مبعوث کیے جانے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہے۔﴿فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ﴾ ’’پھر محض ڈرانا فائدہ مند نہیں ہوا۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس: 10؍96، 97) ’’وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے حتیٰ کہ وہ درد ناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔‘‘
54:6فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡۘ يَوۡمَ يَدۡعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَيۡءٖ نُّكُرٍ
سو اعراض کیجیے ان سے، (یاد کریں!) جس دن بلائے گا بلانے والا نہایت ہولناک چیز کی طرف(6) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں، وہ نکلیں گے قبروں سے (ایسے) گویا کہ وہ ٹڈی دل ہے منتشر(7) دوڑ رہے ہوں گے وہ بلانے والے کی طرف کہیں گے کافر، یہ دن ہے نہایت سخت(8)
[6] اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں، ان کے اندر روگردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو فرمایا:﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ ’’چنانچہ (اے نبی!) آپ بھی ان سے اعراض کریں۔‘‘ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجیے۔ یہ وہ دن ہو گا جب ﴿ يَوۡمَ يَدۡعُ الدَّاعِ﴾ ’’پکارنے والا پکارے گا‘‘ یعنی حضرت اسرافیلu ﴿ اِلٰى شَيۡءٍ نُّكُرٍ﴾ یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف، طبیعت جس کا انکار کرے گی، تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر درد ناک منظر نہیں دیکھا ہوگا، پس اسرافیلu صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت (کے میدان) میں کھڑے ہوں گے۔
[7]﴿ خُشَّعًا اَبۡصَارُهُمۡ﴾ ’’ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔‘‘ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلوں میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کر دے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہو جائیں گی۔ ﴿ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ وہ قبروں سے یوں نکلیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’جیسے کہ وہ۔‘‘ اپنی کثرت اور بے ترتیب ہونے کی وجہ سے ﴿ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ﴾ ’’منتشر ٹڈی دل ہوں۔‘‘ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
[8]﴿ مُّهۡطِعِيۡنَ اِلَى الدَّاعِ﴾ ’’اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔‘‘ یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انھیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا، وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ یعنی وہ کفار جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہو گا ، کہیں گے:﴿ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾ ’’یہ بڑا سخت دن ہے ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴾(المدثر: 10/74) ’’کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔
54:7خُشَّعًا أَبۡصَٰرُهُمۡ يَخۡرُجُونَ مِنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ كَأَنَّهُمۡ جَرَادٞ مُّنتَشِرٞ
سو اعراض کیجیے ان سے، (یاد کریں!) جس دن بلائے گا بلانے والا نہایت ہولناک چیز کی طرف(6) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں، وہ نکلیں گے قبروں سے (ایسے) گویا کہ وہ ٹڈی دل ہے منتشر(7) دوڑ رہے ہوں گے وہ بلانے والے کی طرف کہیں گے کافر، یہ دن ہے نہایت سخت(8)
[6] اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں، ان کے اندر روگردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو فرمایا:﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ ’’چنانچہ (اے نبی!) آپ بھی ان سے اعراض کریں۔‘‘ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجیے۔ یہ وہ دن ہو گا جب ﴿ يَوۡمَ يَدۡعُ الدَّاعِ﴾ ’’پکارنے والا پکارے گا‘‘ یعنی حضرت اسرافیلu ﴿ اِلٰى شَيۡءٍ نُّكُرٍ﴾ یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف، طبیعت جس کا انکار کرے گی، تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر درد ناک منظر نہیں دیکھا ہوگا، پس اسرافیلu صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت (کے میدان) میں کھڑے ہوں گے۔
[7]﴿ خُشَّعًا اَبۡصَارُهُمۡ﴾ ’’ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔‘‘ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلوں میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کر دے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہو جائیں گی۔ ﴿ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ وہ قبروں سے یوں نکلیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’جیسے کہ وہ۔‘‘ اپنی کثرت اور بے ترتیب ہونے کی وجہ سے ﴿ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ﴾ ’’منتشر ٹڈی دل ہوں۔‘‘ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
[8]﴿ مُّهۡطِعِيۡنَ اِلَى الدَّاعِ﴾ ’’اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔‘‘ یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انھیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا، وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ یعنی وہ کفار جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہو گا ، کہیں گے:﴿ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾ ’’یہ بڑا سخت دن ہے ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴾(المدثر: 10/74) ’’کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔
54:8مُّهۡطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِۖ يَقُولُ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَسِرٞ
سو اعراض کیجیے ان سے، (یاد کریں!) جس دن بلائے گا بلانے والا نہایت ہولناک چیز کی طرف(6) جھکی ہوں گی ان کی نگاہیں، وہ نکلیں گے قبروں سے (ایسے) گویا کہ وہ ٹڈی دل ہے منتشر(7) دوڑ رہے ہوں گے وہ بلانے والے کی طرف کہیں گے کافر، یہ دن ہے نہایت سخت(8)
[6] اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی کہ اہل تکذیب کی ہدایت کا اب کوئی حیلہ نہیں، ان کے اندر روگردانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا تو فرمایا:﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ ’’چنانچہ (اے نبی!) آپ بھی ان سے اعراض کریں۔‘‘ آپ ان کے لیے ایک بہت بڑے دن اور ایک بہت بڑی گھبراہٹ اور خوف کا انتظار کیجیے۔ یہ وہ دن ہو گا جب ﴿ يَوۡمَ يَدۡعُ الدَّاعِ﴾ ’’پکارنے والا پکارے گا‘‘ یعنی حضرت اسرافیلu ﴿ اِلٰى شَيۡءٍ نُّكُرٍ﴾ یعنی ایک بہت ہی برے معاملے کی طرف، طبیعت جس کا انکار کرے گی، تو نے اس سے برا اور اس سے بڑھ کر درد ناک منظر نہیں دیکھا ہوگا، پس اسرافیلu صور پھونکیں گے تو تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر قیامت (کے میدان) میں کھڑے ہوں گے۔
[7]﴿ خُشَّعًا اَبۡصَارُهُمۡ﴾ ’’ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔‘‘ یعنی اس دہشت اور گھبراہٹ کے باعث جو ان کے دلوں میں پہنچ کر ان کو عاجز اور کمزور کر دے گی اور اس بنا پر ان کی نگاہیں پست ہو جائیں گی۔ ﴿ يَخۡرُجُوۡنَ مِنَ الۡاَجۡدَاثِ﴾ وہ قبروں سے یوں نکلیں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ﴾ ’’جیسے کہ وہ۔‘‘ اپنی کثرت اور بے ترتیب ہونے کی وجہ سے ﴿ جَرَادٌ مُّنۡتَشِرٌ﴾ ’’منتشر ٹڈی دل ہوں۔‘‘ یعنی وہ زمین میں پھیلے ہوئے اور بہت زیادہ ہوں گے۔
[8]﴿ مُّهۡطِعِيۡنَ اِلَى الدَّاعِ﴾ ’’اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔‘‘ یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انھیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا، وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ یعنی وہ کفار جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہو گا ، کہیں گے:﴿ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ ﴾ ’’یہ بڑا سخت دن ہے ۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ ﴾(المدثر: 10/74) ’’کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔‘‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔
54:9۞كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ فَكَذَّبُواْ عَبۡدَنَا وَقَالُواْ مَجۡنُونٞ وَٱزۡدُجِرَ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:10فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَغۡلُوبٞ فَٱنتَصِرۡ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:11فَفَتَحۡنَآ أَبۡوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٖ مُّنۡهَمِرٖ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:12وَفَجَّرۡنَا ٱلۡأَرۡضَ عُيُونٗا فَٱلۡتَقَى ٱلۡمَآءُ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ قَدۡ قُدِرَ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:13وَحَمَلۡنَٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلۡوَٰحٖ وَدُسُرٖ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:14تَجۡرِي بِأَعۡيُنِنَا جَزَآءٗ لِّمَن كَانَ كُفِرَ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:15وَلَقَد تَّرَكۡنَٰهَآ ءَايَةٗ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:16فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:17وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
جھٹلایا تھا ان سے پہلے قوم نوح نے، پس انھوں نے تکذیب کی ہمارے بندے کی اور کہا (یہ) دیوانہ ہے، اور جھڑک دیا گیا(9) تو پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک میں بے بس ہوں پس تو انتقام لے (10) سو کھول دیے ہم نے دروازے آسمان کے ساتھ پانی زور دار برسنے والے کے (11) اور جاری کر دیے ہم نے زمین سے چشمے، سو مل گیا (آسمان و زمین کا) پانی ایک امر پر جو مقدر کیا گیا تھا (12) اور سوار کیا ہم نے اس (نوح) کو اوپر (کشتی) تختوں اور میخوں والی کے (13) وہ چلتی تھی ہماری آنکھوں کے سامنے بدلہ لینے کے لیے اس شخص کا جس کا انکار کیا گیا تھا (14) اور تحقیق (بنا) چھوڑا ہم نے اس (کشتی) کو ایک نشانی پس کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (15) پس (بتاؤ ) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (16) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (17)
[9] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جنھوں نے اس کے رسول ﷺ کو جھٹلایا، نیز یہ بھی ذکر فرمایا کہ معجزات ان کو کوئی فائدہ دیں گے نہ ان کے کسی کام آئیں گے تو انھیں متنبہ کیا اور گزری ہوئی قوموں کی سزاؤ ں سے ڈرایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ہلاک کیا اور ان پر عذاب نازل کیا، چنانچہ قوم نوح کا ذکر کیا۔ حضرت نوح uپہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو بتوں کی عبادت کرتی تھی۔ نوحu نے ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اسی اکیلے کی عبادت کا حکم دیا مگر انھوں نے شرک کو ترک نہ کیا اور کہنے لگے:﴿وَ لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّلَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا﴾(نوح:71؍23) ’’تم اپنے معبودوں کو نہ چھوڑو اور نہ چھوڑو تم ود کو اور نہ سواع اور نہ یغوث، یعوق اور نسر کو۔‘‘ حضرت نوحu انھیں شب و روز اور کھلے چھپے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے مگر ان میں عناد، سرکشی اور اپنے نبی میں جرح و قدح کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ ہوا۔ بنابریں یہاں فرمایا :﴿ فَكَذَّبُوۡا عَبۡدَنَا وَقَالُوۡا مَجۡنُوۡنٌ﴾ ’’چنانچہ انھوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا (یہ تو) دیوانہ ہے۔‘‘ ان کے زعم باطل کے مطابق ان کے آباء و اجداد جس شرک اور گمراہی کے راستے پر گامزن تھے، اسی پر عقل دلالت کرتی ہے، اور حضرت نوحu جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ جہالت اور گمراہی ہے جو پاگلوں ہی سے صادر ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں جھوٹ بولا اور ان حقائق کو بدل ڈالا جو عقلاً اور شرعاً ثابت شدہ تھے۔ کیونکہ حضرت نوحu جو کچھ لے کر آئے وہ ثابت شدہ حق تھا جو راست رو اورروشن عقل کی رشد و ہدایت اور روشنی کی طرف راہ نمائی کرتا تھا۔ اور ان کا موقف محض جہالت اور واضح گمراہی تھا۔ فرمایا:﴿ وَّ ازۡدُجِرَ﴾ یعنی ان کی قوم نے ان کو زجر و توبیخ کی اور برا بھلا کہا، کیونکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تھی۔ آپ کی قوم نے... اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے... آپ پر ایمان نہ لانے اور آپ کی تکذیب کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اپنے مقدور بھر آپ کو اذیتیں بھی دیں۔ تمام انبیاء و مرسلین کے دشمنوں کا اپنے نبیوں کے ساتھ یہی وتیرہ رہا ہے۔
[10] تب اس موقع پر نوح u نے اپنے رب کو پکارا اور کہا:﴿ اَنِّيۡ مَغۡلُوۡبٌ﴾ ’’بے شک میں کمزور ہوں۔‘‘ ان سے انتقام لینے کی مجھ میں قدرت نہیں کیونکہ حضرت نوحu کی قوم میں سے بہت تھوڑے اور چند لوگ ایمان لائے تھے جن میں اپنی قوم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہ تھی۔ ﴿ فَانۡتَصِرۡ﴾ اے اللہ! میری طرف سے بدلہ لے۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں حضرت نوح نے دعا مانگی : ﴿ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا﴾(نوح:71؍26) ’’اے میرے رب! کسی کافر کو زمین پر آباد نہ رہنے دے۔‘‘
[11] اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرما لی اور حضرت نوحu کی طرف سے ان کی قوم سے بدلہ لیا۔ فرمایا:﴿ فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡهَمِرٍ﴾ چنانچہ ہم نے زور سے برسنے والے پانی کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے۔
[12]﴿وَ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُيُوۡنًا﴾ ’’اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیے۔‘‘ پس آسمان نے اتنا پانی برسایا جو خارق عادت تھا، تمام روئے زمین پر پانی کے چشمے پھوٹ پڑے حتیٰ کہ تنور سے بھی چشمہ پھوٹ پڑا، جہاں عادۃً چشمے کا ہونا تو کجا، پانی بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ تنور آگ کی جگہ ہے ﴿ فَالۡتَقَى الۡمَآءُ ﴾ تو (آسمان اور زمین کا) پانی مل گیا۔ ﴿عَلٰۤى اَمۡرٍ ﴾ ایک ایسے امر پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ﴿ قَدۡ قُدِرَ﴾ ’’بے شک طے تھا ‘‘ یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے ازل میں لکھ رکھا تھا اور ان سرکش ظالموں کو سزا دینے کے لیے مقدر کر رکھا تھا۔
[13]﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ ﴾ یعنی ہم نے اپنے بندے نوح کو کشتی پر سوار کرا کر(اس طوفان سے)نجات دی، جو لکڑی کے تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی، یعنی میخوں کے ذریعے سے تختوں کو جوڑا اور تسموں سے باندھا گیا تھا۔
[14]﴿ تَجۡرِيۡ بِاَعۡيُنِنَا﴾ یعنی یہ کشتی حضرت نوح کے ساتھ، ان لوگوں کے ساتھ جو آپ پر ایمان لائے تھے اور دیگر مخلوقات کی ان اصناف کے ساتھ (پانی پر) چل رہی تھی جن کو حضرت نوحu نے اپنے ساتھ اس میں سوار كيا تھا۔ يہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی، ڈوبنے سے اس کی حفاظت، اور اس کی خاص دیکھ بھال کے تحت پانی پر رواں دواں تھی اور وہ بہت اچھا حفاظت کرنے والا اور بہت اچھا کار ساز ہے۔ ﴿ جَزَآءًؔ لِّمَنۡ كَانَ كُفِرَ﴾ یعنی ہم نے نوح u کو غرق عام سے بچایا، اس جزا کے طور پر کہ آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا انکار کیا مگر آپ ان کو دعوت دینے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے پر ڈٹے رہے، کوئی آپ کو اپنے مقصد سے ہٹا سکا، نہ آپ کا راستہ روک سکا۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ١ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾(ھود:11؍48)’’کہا گیا: اے نوح! اتر تو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو تجھ پر اوران قوموں پر (نازل کی گئی) ہیں، جو آپ کے ساتھ ہیں، اور کچھ دوسری قومیں ہیں جن کو ہم (دنیا میں) کچھ فائدہ اٹھانے دیں گے ، پھر انھیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے نوح کی قوم کو ہلاک کیا اور ہم نے ان کو عذاب اور رسوائی میں ڈالا، ان کے کفر اور عناد کی جزاکے طور پر۔ یہ معنی اس شخص کی قراء ت پر مبنی ہے، جس نے ’’کفر‘‘ کے کاف کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
[15]﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ یعنی ہم نے قوم نوح کے ساتھ نوح uکے قصے کو ایک نشانی کے طور پر چھوڑا، جس سے نصیحت حاصل کرنے والے اس بات کی نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ جو کوئی رسولوں کی نافرمانی کرتا اور ان کے ساتھ عناد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عام اور سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالتا ہے۔ یا ﴿ تَّرَؔكۡنٰهَاۤ ﴾کی ضمیر کشتی اور اس کی جنس کی طرف لوٹتی ہے ، اس لیے کہ کشتی کی صنعت کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نوح uکو دی ، پھر اس کی صنعت اور اس کی جنس کو لوگوں میں باقی رکھا تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رحمت اور عنایت، اس کی کامل قدرت اور انوکھی صنعت پر دلالت کرے۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ﴾ پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا اور اپنے فکر و ذہن کو ان کے سامنے ڈال دینے والاہے ، بے شک یہ نشانیاں نہایت واضح اور بہت آسان ہیں۔
[16]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ پس اے مخاطب! تو نے اللہ تعالیٰ کے درد ناک عذاب اور اس کی اس تنبیہ کو کیسا دیکھا جو کسی کے لیے کوئی حجت نہیں چھوڑتی؟
[17]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ہم نے اس قرآن کے الفاظ کو یاد کرنے ان کو ادا کرنے، اور اس کے معانی کو علم و فہم کی خاطر نہایت آسان اور سہل بنایا کیونکہ قرآن لفظ کے اعتبار سے اچھا، معنیٰ کے اعتبار سے سب سے سچا اور تفسیر کے اعتبار سے سب سے واضح کلام ہے۔ جو کوئی قرآن کریم پر اپنی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مطلوب و مقصود کو حد درجہ آسان اور سہل کر دیتا ہے۔(اَلذِّکْر) حلال و حرام کے احکام، امر و نہی، جزا و سزا کے احکام، مواعظ، عبرت انگیز واقعات، عقائد نافعہ اور اخبار صادقہ کو شامل ہے۔ بنابریں قرآن کریم کا علم، حفظ اور تفسیر کے اعتبار سے بہت آسان اور علی الاطلاق جلیل ترین علم ہے۔ قرآن کا علم بہت نفع مند علم ہے۔ بندۂ مومن جب اسے طلب کرتا ہے تو اس کی مدد کی جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں سلف میں کسی کا قول ہے ’’کیا کوئی علم کا طالب ایسا ہے جس کی اس بارے میں مدد کی جائے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس سے نصیحت کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا۔‘‘
54:18كَذَّبَتۡ عَادٞ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)
[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔
[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
54:19إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِي يَوۡمِ نَحۡسٖ مُّسۡتَمِرّٖ
تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)
[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔
[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
54:20تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٖ مُّنقَعِرٖ
تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)
[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔
[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
54:21فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)
[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔
[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
54:22وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)
[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔
[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔
54:23كَذَّبَتۡ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:24فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:25أَءُلۡقِيَ ٱلذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٞ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:26سَيَعۡلَمُونَ غَدٗا مَّنِ ٱلۡكَذَّابُ ٱلۡأَشِرُ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:27إِنَّا مُرۡسِلُواْ ٱلنَّاقَةِ فِتۡنَةٗ لَّهُمۡ فَٱرۡتَقِبۡهُمۡ وَٱصۡطَبِرۡ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:28وَنَبِّئۡهُمۡ أَنَّ ٱلۡمَآءَ قِسۡمَةُۢ بَيۡنَهُمۡۖ كُلُّ شِرۡبٖ مُّحۡتَضَرٞ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:29فَنَادَوۡاْ صَاحِبَهُمۡ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:30فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:31إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَكَانُواْ كَهَشِيمِ ٱلۡمُحۡتَظِرِ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:32وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
54:33كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوطِۭ بِٱلنُّذُرِ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:34إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٖۖ نَّجَّيۡنَٰهُم بِسَحَرٖ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:35نِّعۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي مَن شَكَرَ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:36وَلَقَدۡ أَنذَرَهُم بَطۡشَتَنَا فَتَمَارَوۡاْ بِٱلنُّذُرِ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:37وَلَقَدۡ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيۡفِهِۦ فَطَمَسۡنَآ أَعۡيُنَهُمۡ فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:38وَلَقَدۡ صَبَّحَهُم بُكۡرَةً عَذَابٞ مُّسۡتَقِرّٞ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:39فَذُوقُواْ عَذَابِي وَنُذُرِ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:40وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)
[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔
54:41وَلَقَدۡ جَآءَ ءَالَ فِرۡعَوۡنَ ٱلنُّذُرُ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:42كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذۡنَٰهُمۡ أَخۡذَ عَزِيزٖ مُّقۡتَدِرٍ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:43أَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٞ مِّنۡ أُوْلَـٰٓئِكُمۡ أَمۡ لَكُم بَرَآءَةٞ فِي ٱلزُّبُرِ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:44أَمۡ يَقُولُونَ نَحۡنُ جَمِيعٞ مُّنتَصِرٞ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:45سَيُهۡزَمُ ٱلۡجَمۡعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:46بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَٱلسَّاعَةُ أَدۡهَىٰ وَأَمَرُّ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:47إِنَّ ٱلۡمُجۡرِمِينَ فِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٖ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:48يَوۡمَ يُسۡحَبُونَ فِي ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ ذُوقُواْ مَسَّ سَقَرَ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:49إِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنَٰهُ بِقَدَرٖ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:50وَمَآ أَمۡرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٞ كَلَمۡحِۭ بِٱلۡبَصَرِ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:51وَلَقَدۡ أَهۡلَكۡنَآ أَشۡيَاعَكُمۡ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:52وَكُلُّ شَيۡءٖ فَعَلُوهُ فِي ٱلزُّبُرِ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:53وَكُلُّ صَغِيرٖ وَكَبِيرٖ مُّسۡتَطَرٌ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:54إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّـٰتٖ وَنَهَرٖ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)
54:55فِي مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِندَ مَلِيكٖ مُّقۡتَدِرِۭ
اور البتہ تحقیق آئے تھے فرعونیوں کے پاس (بھی) ڈرانے والے (41) انھوں نے تکذیب کی ہماری نشانیوں کی سبکی تو ہم نے پکڑا ان کو پکڑنا (مانند) ایک زبردست قدرت والے کے (42) کیا تمھارے کافر بہتر ہیں ان (کافروں) سے یا تمھارے لیے کوئی نجات (لکھی ہوئی) ہے (سابقہ) صحیفوں میں؟ (43) کیا وہ (مشرکین) کہتے ہیں کہ ہم ایک جماعت ہیں غالب آنے والی؟ (44) عنقریب شکست دی جائے گی وہ جماعت اور بھاگیں گے وہ پیٹھ پھیر کر (45)بلکہ قیامت وعدے کا وقت ہے ان کا، اور قیامت بہت بڑی آفت اور نہایت تلخ ہے (46) بلاشبہ مجرمین گمراہی اور دیوانگی میں (پڑے ہوئے) ہیں (47) جس دن گھسیٹے جائیں گے وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل، (کہا جائے گا) چکھو تم تکلیف (عذاب) جہنم کی (48) بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو، پیدا کیا ہے ہم نے اسے ساتھ ایک اندازے کے(49) اور نہیں (ہوتا) ہمارا حکم مگر ایک (کلمہ) ہی جیسے جھپکنا آنکھ کا (50) اور تحقیق ہلاک کر چکے ہیں ہم (پہلے) تم جیسوں کو تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (51) اور ہر چیز کہ کی ہے انھوں نے وہ، (لکھی ہوئی) ہے صحیفوں میں (52) اور ہر چھوٹا بڑا (عمل) لکھا ہوا ہے (53) بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نہروں میں ہوں گے (54) مقامِ عزت میں نزدیک بادشاہ قدرت والے کے (55)
[41، 42]﴿ وَلَقَدۡ جَآءَ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ النُّذُرُ ﴾ اور بلاشبہ فرعون اور اس کی قوم کے پاس (بھی) ڈرانے والے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس واضح دلائل اور بڑے بڑے معجزات کے ساتھ کلیم اللہ حضرت موسیٰ uکو بھیجا، آپ کی تائید کی، ان کو بڑے بڑے عبرت ناک واقعات کا مشاہدہ کرایا جن کا مشاہدہ ان کے سوا کسی اور کو نہیں کرایا۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک غالب اور قدرت رکھنے والی ہستی کی مانند عذاب کی گرفت میں لے لیا، پس فرعون اور اس کے لشکروں کو سمندر میں غرق کر دیا۔
[43] ان واقعات کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو محمد مصطفیﷺ کو جھٹلاتے ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ﴾ ’’(اے اہلِ عرب!) کیا تمھارے کافران (کافروں)سےبہتر ہیں؟‘‘ یعنی کیا یہ لوگ جنھوں نے افضل المرسلین حضرت محمد مصطفیﷺ کی تکذیب کی ہے، ان جھٹلانے والوں سے بہتر ہیں جن کی ہلاکت اور ان پر گزرنے والے حالات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے؟ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بہتر ہیں تو ممکن ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں، اور ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو ان شریر لوگوں پر نازل ہوا تھا مگر معاملہ یوں نہیں کیونکہ اگر یہ لوگ ان لوگوں سے بڑھ کر شر پسند نہیں تو ان سے اچھے بھی نہیں۔﴿ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِ﴾ ’’یا تمھارے لیے (سابقہ) صحیفوں میں کوئی نجات لکھی ہوئی ہے؟‘‘ یعنی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں تمھارے ساتھ کوئی عہد اور میثاق کر رکھا ہے جو گزشتہ انبیاء پر نازل ہوئی ہیں جن کی بنا پر تم یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس خبر کی وجہ سے عذاب سے بچ جاؤ گے؟ مگر یہ غیر واقع چیز ہے، بلکہ یہ عقلاً اور شرعاً غیر ممکن امر ہے کہ ان کتب الٰہیہ میں ان کی براء ت لکھ دی گئی ہو جو عدل و حکمت کو متضمن ہیں۔یہ حکمت کے منافی ہے کہ ان جیسے معاندین حق کو نجات حاصل ہو جنھوں نے افضل الانبیاء سیدالمرسلین حضرت محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاءو مرسلین سے بڑھ کر صاحب تکریم ہیں، کو جھٹلایا۔
[44] پس اب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو جس سے وہ مدد حاصل کریں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کہتے ہیں :﴿ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾ ہماری جماعت بڑی طاقتور ہے۔
[45] اللہ تعالیٰ ان کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے اور اس حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے کہ وہ ہزیمت اٹھائیں گے، فرماتا ہے:﴿ سَيُهۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَيُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ﴾ ’’عنقریب وہ جماعت شکست کھائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔پس اس نے ان کی بہت بڑی جماعت کو غزوۂ بدر کے روز زبردست ہزیمت سے دو چار کیا، ان کے بڑے بڑے بہادراور ان کے سرکردہ سردار قتل ہو کر ذلیل و خوار ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین، اپنے نبی اور اہل ایمان پر مشتمل اپنے گروہ کو فتح و نصرت سے سرفراز فرمایا۔
[46] بایں ہمہ ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے، جب اللہ تعالیٰ ان کے اولین و آخرین، جو دنیا میں مصائب میں مبتلا رہے اور جن کو دنیا کی لذتوں سے بہرہ ور کیا گیا، سب کو اکٹھا کرے گا، اس لیے فرمایا:﴿ بَلِ السَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ﴾ ’’بلکہ ان کے وعدے کا وقت قیامت ہے۔‘‘ اس وقت ان کو جزا دی جائے گی اور نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ان سے حق لیا جائے گا ﴿ وَالسَّاعَةُ اَدۡهٰى وَاَمَرُّ﴾ ’’اور قیامت کی گھڑی بہت بڑی آفت اور تلخ چیز ہے۔‘‘ یعنی بہت بڑی، زیادہ مشقت آمیز اور ہر اس چیز سے بڑھ کر ہے جس کا گمان کیا جا سکتا ہے یا وہ تصور میں آ سکتی ہے۔
[47]﴿ اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جنھوں نے نہایت کثرت سے جرائم کا ارتکاب کیا۔ اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ، یعنی شرک اور معاصی وغیرہ ہیں۔ ﴿ فِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ ’’وہ گمراہی اور دیوانگی میں پڑے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دنیا میں گمراہ تھے، وہ علم کی گمراہی اور عمل کی گمراہی میں مبتلا تھے۔ قیامت کے روز درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان پر آگ بھڑکائی جائے گی، آگ ان کے جسموں میں شعلہ زن ہو گی یہاں تک کہ ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی۔
[48]﴿يَوۡمَ يُسۡحَبُوۡنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ﴾ ’’جس دن انھیں چہروں کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا۔‘‘ چہرہ جو تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل ہے۔ اس کا درد دیگر تمام اعضا سے بڑھ کر ہے، پس انھیں اس عذاب کے ذریعے سے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿ذُوۡقُوۡا مَسَّ سَقَرَ﴾ ’’تم جہنم (کے عذاب) کی تکلیف چکھو۔‘‘ یعنی آگ، اس کے غم، اس کے غیظ و غضب اور اس کے شعلوں (کے عذاب) کو چکھو۔
[49]﴿ اِنَّا كُلَّ شَيۡءٍ خَلَقۡنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ ’’بے شک ہم نے ہر چیز کو مقرر اندازے سے پیدا کیا۔‘‘ یہ آیت کریمہ، تمام مخلوقات، تمام علوی اور سفلی کائنات کو شامل ہے، تمام کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کا خالق نہیں اور نہ اس کی تخلیق میں کسی کی کوئی شراکت ہی ہے۔ اس نے اس کائنات کو ایسی قضاو قدر کے ساتھ پیدا کیا جس کے بارے میں اس کا علم سبقت کر گیا، اس کی مقدار، وقت اور اس کے تمام اوصاف کو اس کے قلم نے درج کر لیا۔
[50] یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان تھے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَمۡرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمۡحٍۭ بِالۡبَصَرِ﴾ ’’اور ہمارا حکم تو آنکھ جھپکنے کی طرح ایک بات ہی ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز آنکھ جھپکنے کے مانند، بغیر کسی رکاوٹ اور بغیر کسی صعوبت کے اسی طرح ہو جاتی ہے جیسا اس نے ارادہ کیا تھا۔
[51]﴿ وَلَقَدۡ اَهۡلَكۡنَاۤ اَشۡيَاعَكُمۡ﴾ ’’اور یقیناً ہم تم سے پہلے تمھارے ہم مذہبوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔‘‘ یعنی گزشتہ قوموں میں سے جنھوں نے ویسے ہی عمل کیے تھے جیسے تم نے کیے ہیں، انھوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی جیسے تم نے تکذیب کی۔ ﴿ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ یعنی ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا جو یہ جانتا ہو کہ اولین و آخرین میں اللہ تعالیٰ کی ایک ہی سنت رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان شر پسند لوگوں کی ہلاکت ضروری تھی کیونکہ یہ شر پسند لوگ بھی انھی کے مانند ہیں دونوں فریقوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
[52]﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ فَعَلُوۡهُ فِي الزُّبُرِ﴾ یعنی وہ جو بھی کوئی نیکی اور بدی کا فعل سر انجام دیتے ہیں وہ ان کے صحیفۂ تقدیر میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔
[53]﴿ وَكُلُّ صَغِيۡرٍ وَّؔكَبِيۡرٍ مُّسۡتَطَرٌ﴾ یعنی ہر چھوٹا بڑا عمل لکھا ہوا ہوتا ہے، اور قضا و قدر کی حقیقت یہ ہے کہ تمام اشیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور اس نے اپنے پاس ہر چیز کو لوح محفوظ میں درج کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، انسان کو جو مصیبت پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی اور جو مصیبت نہیں پہنچی ہوتی وہ پہنچ نہیں سکتی۔
[54، 55]﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی تعمیل اوامر اور ترک نواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے وہ لوگ جو شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿فِيۡ جَنّٰتٍ وَّنَهَرٍ ﴾ وہ نعمتوں بھری جنتوں میں ہوں گے جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی آدمی کے حاشیۂ خیال ہی میں ان کا گزر ہوا ہے۔ یعنی ان جنتوں میں پکے ہوئے پھلوں سے لدے ہوئے درخت، بہتی ہوئی نہریں، بلند و بالا محلات، خوبصورت آرام گاہیں، نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، حسین و جمیل حوریں، خوبصورت باغات، جزا و سزا سے نوازنے والے بادشاہ کی رضا اور اس کے قرب کے حصول میں کامیابی، یہ سب کچھ ہو گا۔﴿ فِيۡ مَقۡعَدِ صِدۡقٍ عِنۡدَ مَلِيۡكٍ مُّقۡتَدِرٍ﴾ ’’حقیقی عزت کی جگہ ہر طر ح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ۔‘‘ اس کے بعد مت پوچھیے کہ ان کا رب اپنی طرف سے کیسی کیسی عزت و تکریم اور جود و کرم سے نوازے گا اور ان پر اپنے بے پایاں احسانات اور نوازشات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے، ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں ان کی بنا پر ہمیں ان بھلائیوں سے محروم نہ کرے جو اس کے سایۂ رحمت میں ہیں۔(آمین)