QuraanOnline

Tafsir · تفسیر السعدی (اردو)

Al-Fath

ٱلْفَتْح

al-Sa'di (d. 1376 AH) · Surah 48 · 29 verses

48:1

إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا

بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی. [2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔ [3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
48:2

لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا

بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی. [2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔ [3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
48:3

وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصۡرًا عَزِيزًا

بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی. [2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔ [3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
48:4

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِيمَٰنٗا مَّعَ إِيمَٰنِهِمۡۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا

وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6) [4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔ [5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔ [6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
48:5

لِّيُدۡخِلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ ٱللَّهِ فَوۡزًا عَظِيمٗا

وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6) [4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔ [5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔ [6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
48:6

وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ ٱلظَّآنِّينَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۖ وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَلَعَنَهُمۡ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرٗا

وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6) [4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔ [5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔ [6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
48:7

وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے، اور ہے اللہ نہایت زبردست، خوب حکمت والا(7) [7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتکرار آگاہ فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر موجود لشکر، اسی کی ملکیت ہیں، تاکہ بندے اس حقیقت کو جان لیں کہ وہی عزت عطا کرنے والا اور وہی ذلت سے دوچار کرنے والا ہے۔ وہ عنقریب اپنے ان لشکروں کو فتح و نصرت سے ہم کنار کرے گا جو اس کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا:﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات:37؍173) ’’بلاشبہ ہمارا لشکر ہی غالب آ کر رہے گا۔‘‘ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ طاقت ور، زبردست اور ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبہ کے باوجود، اپنی تخلیق و تدبیر میں حکمت والا ہے، وہ اپنی حکمت اور مہارت کے مطابق فعل سر انجام دیتا ہے۔
48:8

إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا

بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو گواہی دینے والا، اور بشارت دینے والا، اور ڈرانے والا (بنا کر)(8) تاکہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، اور (تاکہ) مدد کرو تم اس کی اور توقیر کرو اس کی اور (تاکہ) پاکی بیان کرو تم اس کی صبح اور شام(9) [8]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ اے رسول کریم! (ﷺ) ہم نے آپ کو بھیجا۔ ﴿ شَاهِدًا﴾ گواہ بناکر ،یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا اور تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ ﴿وَّمُبَشِّرًا﴾ جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لیے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انذار یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ، چنانچہ آپ خیر و شر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کر دینے والے ہیں۔ [9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ رسول اللہﷺ کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ﴾ تم رسول اللہﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپﷺ کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوۡهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
48:9

لِّتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُۚ وَتُسَبِّحُوهُ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلًا

بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو گواہی دینے والا، اور بشارت دینے والا، اور ڈرانے والا (بنا کر)(8) تاکہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، اور (تاکہ) مدد کرو تم اس کی اور توقیر کرو اس کی اور (تاکہ) پاکی بیان کرو تم اس کی صبح اور شام(9) [8]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ اے رسول کریم! (ﷺ) ہم نے آپ کو بھیجا۔ ﴿ شَاهِدًا﴾ گواہ بناکر ،یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا اور تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ ﴿وَّمُبَشِّرًا﴾ جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لیے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انذار یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ، چنانچہ آپ خیر و شر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کر دینے والے ہیں۔ [9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ رسول اللہﷺ کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ﴾ تم رسول اللہﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپﷺ کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوۡهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
48:10

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوۡقَ أَيۡدِيهِمۡۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِمَا عَٰهَدَ عَلَيۡهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا

بلاشبہ وہ لوگ جو بیعت کرتے ہیں آپ سے، یقیناً وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے، اللہ کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھوں کے، پھر جس نے عہد شکنی کی تو یقیناً وہ عہد شکنی کرے گا اپنی ہی ذات کے خلاف اور جس نے پورا کیا اس کو کہ عہد کیا تھا اس نے اس پر اللہ سے تو عنقریب وہ دے گا اس کو اجر بہت بڑا (10) [10] یہ بیعت جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ’’بیعت رضوان‘‘ ہے، اس میں صحابہ کرام y نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں، حقیقتِ امر یہ ہے کہ وہ ﴿ يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ﴾ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا:﴿يَدُ اللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ ’’اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔‘‘ گویا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کی ہے اور اس بیعت میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ زیادہ تاکید، تقویت اور ان کو اس بیعت کے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا، بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ نَّـكَثَ﴾ ’’پس جو بیعت کو توڑے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اسے پورا نہ کرے ﴿فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ﴾ ’’تو بے شک عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔‘‘ کیونکہ اس کا وبال اسی کی طرف لوٹے گا اور اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ ﴿وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ ﴾ ’’اور جو اس بات کو جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، پورا کرے۔‘‘ یعنی اس معاہدے پر کامل طور پر عمل کرے ﴿فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔‘‘ اس اجر کی عظمت اور قدر کو صرف وہی جان سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ یہ اجر عطا کرے گا۔
48:11

سَيَقُولُ لَكَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَآ أَمۡوَٰلُنَا وَأَهۡلُونَا فَٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَاۚ يَقُولُونَ بِأَلۡسِنَتِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢاۚ بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا

ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
48:12

بَلۡ ظَنَنتُمۡ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهۡلِيهِمۡ أَبَدٗا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمۡ وَظَنَنتُمۡ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِ وَكُنتُمۡ قَوۡمَۢا بُورٗا

ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
48:13

وَمَن لَّمۡ يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ فَإِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَعِيرٗا

ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13) [13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
48:14

وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا

اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ بخشتا ہے واسطے جس کے چاہتا ہے اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور ہے اللہ نہایت بخشنے والا بڑا مہربان (14) [14] یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے، آسمانوں اور زمین میں اپنے احکام قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی نافذ کرتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی کا ذکر فرمایا جو احکام شرعی پر مترتب ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے۔‘‘ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ ﴿ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور وہ جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ جانا۔ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس کا وصف لازم ہے جس کی بنا پر مغفرت اور رحمت کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت گناہ گاروں کے گناہ بخشتا ہے، خطا کاروں کی خطاؤ ں سے درگزر کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کی بے پایاں بھلائی رات دن نازل ہوتی رہتی ہے۔
48:15

سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَٰمَ ٱللَّهِۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُۖ فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٗا

عنقریب کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، جب چلو گے تم غنیمتوں کی طرف تاکہ لو تم وہ، چھوڑو ہمیں! ہم بھی چلیں تمھارے ساتھ ، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ بدل دیں کلام اللہ کا، کہہ دیجیے! ہرگز نہیں چلو گے تم ہمارے ساتھ، اسی طرح کہہ دیا ہے اللہ نے پہلے ہی سے، پھر یقیناً وہ کہیں گے، بلکہ حسد کرتے ہو تم ہم سے، (نہیں)بلکہ ہیں وہ لوگ نہیں سمجھتے مگر تھوڑا ہی (15) [15] جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مذمت کی، تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان کی دنیاوی سزا یہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کرام، ایسی غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، جس میں جنگ نہیں ہو گی، تو یہ لوگ ان سے صحبت اور مشارکت کی درخواست کریں گے، وہ کہیں گے:﴿ ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡكُمۡ١ۚ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ ’’ہمیں بھی اجازت دیں کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں، وہ چاہتے ہیں‘‘ اس سے ﴿ اَنۡ يُّبَدِّلُوۡا كَلٰمَ اللّٰهِ﴾ ’’ کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان غنائم کو شرعاً اور قدراً صحابہ کرام یعنی اہل ایمان سے مختص کیا ہے۔ ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا كَذٰلِكُمۡ قَالَ اللّٰهُ مِنۡ قَبۡلُ﴾’’تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اسی طرح اللہ نے پہلے فرما دیا ہے۔‘‘ تمھیں اس جرم کی پاداش میں جس کا ارتکاب تم نے اپنے آپ پر کیا، غنائم سے محروم کیا جاتا ہے، نیز اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے پہلی مرتبہ جہاد کو ترک کیا۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠﴾ پس وہ اس بات کا جواب دیتے ہوئے، جس کی بنا پر انھیں جنگ کے لیے نکلنے سے منع کیا گیا ہے، کہیں گے ﴿ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا﴾ یعنی تم مال غنیمت کے بارے میں ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ اس مقام پر یہ ان کا منتہائے علم ہے، اگر انھوں نے رشد و فہم سے کام لیا ہوتا تو انھیں معلوم ہوتا کہ ان کی محرومی کا سبب، ان کی نافرمانی ہے، گناہوں کی کچھ دنیاوی اور کچھ دینی سزا ہوتی ہے اسی لیے فرمایا:﴿ بَلۡ كَانُوۡا لَا يَفۡقَهُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’بلکہ یہ بہت کم سمجھتے ہیں۔‘‘
48:16

قُل لِّلۡمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ قَوۡمٍ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ تُقَٰتِلُونَهُمۡ أَوۡ يُسۡلِمُونَۖ فَإِن تُطِيعُواْ يُؤۡتِكُمُ ٱللَّهُ أَجۡرًا حَسَنٗاۖ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ كَمَا تَوَلَّيۡتُم مِّن قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا

کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17) [16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
48:17

لَّيۡسَ عَلَى ٱلۡأَعۡمَىٰ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡأَعۡرَجِ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرِيضِ حَرَجٞۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّـٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا أَلِيمٗا

کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17) [16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔ [17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
48:18

۞لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا

البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21) [19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔ [20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔ [21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
48:19

وَمَغَانِمَ كَثِيرَةٗ يَأۡخُذُونَهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا

البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21) [19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔ [20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔ [21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
48:20

وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةٗ تَأۡخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمۡ هَٰذِهِۦ وَكَفَّ أَيۡدِيَ ٱلنَّاسِ عَنكُمۡ وَلِتَكُونَ ءَايَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَيَهۡدِيَكُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا

البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21) [19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔ [20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔ [21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
48:21

وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا

البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21) [19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔ [20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔ [21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
48:22

وَلَوۡ قَٰتَلَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوَلَّوُاْ ٱلۡأَدۡبَٰرَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيّٗا وَلَا نَصِيرٗا

اور اگر لڑتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تویقیناً وہ پھیر جاتے (اپنی) پیٹھیں ، پھر نہ پاتے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار (22)(مانند) طریقے اللہ کے وہ جو تحقیق گزر چکا ہے (اس سے )پہلے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی میں کوئی تبدیلی (23) [22] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی ﴿ لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡنَ وَلِيًّا﴾ ’’تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ، پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سر پرستی کرے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’اور نہ مددگار۔‘‘ جو ان کی مدد کرے اور تمھارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دیے جائیں گے۔ [23] گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں ﴿ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔‘‘
48:23

سُنَّةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلُۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗا

اور اگر لڑتے تم سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تویقیناً وہ پھیر جاتے (اپنی) پیٹھیں ، پھر نہ پاتے وہ کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار (22)(مانند) طریقے اللہ کے وہ جو تحقیق گزر چکا ہے (اس سے )پہلے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی میں کوئی تبدیلی (23) [22] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ان کو ان کے دشمن کفار کے خلاف فتح و نصرت عطا کرے گا، اگر ان کفار نے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی ﴿ لَوَلَّوُا الۡاَدۡبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡنَ وَلِيًّا﴾ ’’تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ، پھر وہ کوئی دوست نہ پائیں گے۔‘‘ جو ان کی سر پرستی کرے ﴿ وَّلَا نَصِيۡرًا﴾ ’’اور نہ مددگار۔‘‘ جو ان کی مدد کرے اور تمھارے خلاف لڑائی میں ان کی اعانت کرے، بلکہ وہ اپنے حال پر تنہا اور مغلوب چھوڑ دیے جائیں گے۔ [23] گزشتہ قوموں میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لشکر غالب آتے ہیں ﴿ وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا﴾ ’’اور آپ سنت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔‘‘
48:24

وَهُوَ ٱلَّذِي كَفَّ أَيۡدِيَهُمۡ عَنكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُم بِبَطۡنِ مَكَّةَ مِنۢ بَعۡدِ أَنۡ أَظۡفَرَكُمۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا

اور وہ، وہ ذات ہے جس نے روکے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں اس کے بعد کہ کامیابی دے دی تھی اس نے تمھیں ان پر اور ہے اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا (24) وہ، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو اس حال میں کہ (جانور) روکے گئے اس سے کہ پہنچیں وہ اپنی قربان گاہ میں اور اگر نہ ہوتے (کچھ) مرد ایماندار اور (کچھ) عورتیں ایماندار (مکہ میں) کہ نہیں جانتے تم ان کو (اگر نہ ہوتا خطرہ) یہ کہ تم روند (کچل) ڈالو گے انھیں، پس پہنچے تمھیں بوجہ ان ( کے قتل) کے تکلیف، بغیر علم کے (تو ضرور اجازت دے دی جاتی تمھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر جدا (الگ تھلگ) ہوتے وہ (مومن تو) ضرور عذاب دیتے ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب نہایت درد ناک (25) [24] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے:﴿ وَ هُوَ الَّذِيۡ كَفَّ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔‘‘ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنۡكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُمۡ بِبَطۡنِ مَكَّـةَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔ [25] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو، بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج و عمرہ کے لیے آنے سے روکنا۔ انھی لوگوں نے ﴿وَالۡهَدۡيَ مَعۡكُوۡفًا ﴾ قربانی کے جانوروں کو روکا ﴿ اَنۡ يَّبۡلُغَ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’یہ کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انھوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے ﴿ اَنۡ تَطَـُٔوۡهُمۡ ﴾یعنی ان کو لا علمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا ﴿فَتُصِيۡبَكُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔‘‘ (اَلْمَعَرَّۃُ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بے خبری میں پہنچ سکتا تھا، اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے داخل چاہے کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے، اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ ﴿ لَوۡ تَزَيَّلُوۡا ﴾ اگر وہ کفار سے الگ ہو جاتے ﴿ لَعَذَّبۡنَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’تو جو ان میں کافر تھے، ہم انھیں دردناک عذاب دیتے۔‘‘ وہ اس طرح کہ ہم تمھارے لیے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمھیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمھیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔
48:25

هُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ وَٱلۡهَدۡيَ مَعۡكُوفًا أَن يَبۡلُغَ مَحِلَّهُۥۚ وَلَوۡلَا رِجَالٞ مُّؤۡمِنُونَ وَنِسَآءٞ مُّؤۡمِنَٰتٞ لَّمۡ تَعۡلَمُوهُمۡ أَن تَطَـُٔوهُمۡ فَتُصِيبَكُم مِّنۡهُم مَّعَرَّةُۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ لِّيُدۡخِلَ ٱللَّهُ فِي رَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ لَوۡ تَزَيَّلُواْ لَعَذَّبۡنَا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا

اور وہ، وہ ذات ہے جس نے روکے ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے بطن مکہ میں اس کے بعد کہ کامیابی دے دی تھی اس نے تمھیں ان پر اور ہے اللہ ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا (24) وہ، وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے تمھیں مسجد حرام سے، اور قربانی کے جانوروں کو اس حال میں کہ (جانور) روکے گئے اس سے کہ پہنچیں وہ اپنی قربان گاہ میں اور اگر نہ ہوتے (کچھ) مرد ایماندار اور (کچھ) عورتیں ایماندار (مکہ میں) کہ نہیں جانتے تم ان کو (اگر نہ ہوتا خطرہ) یہ کہ تم روند (کچل) ڈالو گے انھیں، پس پہنچے تمھیں بوجہ ان ( کے قتل) کے تکلیف، بغیر علم کے (تو ضرور اجازت دے دی جاتی تمھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ داخل کرے اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے اگر جدا (الگ تھلگ) ہوتے وہ (مومن تو) ضرور عذاب دیتے ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب نہایت درد ناک (25) [24] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے:﴿ وَ هُوَ الَّذِيۡ كَفَّ اَيۡدِيَهُمۡ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔‘‘ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنۡكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ عَنۡهُمۡ بِبَطۡنِ مَكَّـةَ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَؔكُمۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔ [25] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو، بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج و عمرہ کے لیے آنے سے روکنا۔ انھی لوگوں نے ﴿وَالۡهَدۡيَ مَعۡكُوۡفًا ﴾ قربانی کے جانوروں کو روکا ﴿ اَنۡ يَّبۡلُغَ مَحِلَّهٗ ﴾ ’’یہ کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔‘‘ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انھوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے ﴿ اَنۡ تَطَـُٔوۡهُمۡ ﴾یعنی ان کو لا علمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا ﴿فَتُصِيۡبَكُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَرَّةٌۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔‘‘ (اَلْمَعَرَّۃُ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بے خبری میں پہنچ سکتا تھا، اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے داخل چاہے کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے، اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ ﴿ لَوۡ تَزَيَّلُوۡا ﴾ اگر وہ کفار سے الگ ہو جاتے ﴿ لَعَذَّبۡنَا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’تو جو ان میں کافر تھے، ہم انھیں دردناک عذاب دیتے۔‘‘ وہ اس طرح کہ ہم تمھارے لیے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمھیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمھیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔
48:26

إِذۡ جَعَلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ ٱلتَّقۡوَىٰ وَكَانُوٓاْ أَحَقَّ بِهَا وَأَهۡلَهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا

جب پیدا کر لی ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے دلوں میں حمیت، حمیت جاہلیت کی تو نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اور لازم کر دی اس نے ان پر بات تقوے کی اور تھے وہ زیادہ حق دار اس (تقوے کی بات) کے اور لائق اس کے، اور ہے اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا (26) [26] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اِذۡ جَعَلَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الۡجَاهِلِيَّةِ﴾ ’’جب کہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی‘‘ کیونکہ انھوں نے رسول اللہﷺ کے معاہدے کی دستاویز سے (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ)کو نکال دیا، نیز انھوں نے رسول اللہﷺ اور مومنین کو اس سال مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ مسلمان قریش پر غالب آ کر مکہ میں داخل ہوئے۔ یہ اور اس قسم کے تمام امور، جاہلیت کے امور ہیں جو ان کے دلوں میں موجود تھے اور بے شمار گناہوں کے موجب بنے رہے۔﴿ فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی۔‘‘ اس لیے کفار کے برتاؤ کے مقابلہ میں، ان پر غضب و غصہ غالب نہ آیا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر انہوں نے صبر کیا اور ان شرائط کا التزام کیا، جن میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم تھی، خواہ وہ کچھ بھی تھیں اور انھوں نے باتیں بنانے والوں کی کوئی پروا کی نہ ملامت کرنے والوں کی ملامت کو خاطر میں لائے۔ ﴿ وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى ﴾ ’’اور ان کو تقویٰ کی بات پرقائم رکھا۔‘‘ اس سے مراد کلمہ (لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ) اور اس کے حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لازم ٹھہرایا کہ کلمہ اور اس کے حقوق کو ادا کریں۔ پس اہل ایمان نے ان حقوق کا التزام کر کے ان کو قائم کیا۔ ﴿ وَكَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا ﴾ اور وہ اس چیز کے، دوسروں کی نسبت زیادہ مستحق تھے۔ ﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ تھے وہ﴿اَهۡلَهَا ﴾ ’’ اس کے اہل ‘‘ جو اپنے آپ کو اس کا اہل جانتے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس جو کچھ تھا اور ان کے دلوں میں جو بھلائی تھی اللہ تعالیٰ جانتا تھا۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمًا﴾ اور اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔
48:27

لَّقَدۡ صَدَقَ ٱللَّهُ رَسُولَهُ ٱلرُّءۡيَا بِٱلۡحَقِّۖ لَتَدۡخُلُنَّ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمۡ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَۖ فَعَلِمَ مَا لَمۡ تَعۡلَمُواْ فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتۡحٗا قَرِيبًا

البتہ تحقیق سچی خبر دی اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں ساتھ حق کے، کہ ضرور داخل ہو گے تم مسجد حرام میں، اگر چاہا اللہ نے، امن سے، منڈاتے ہوئے سر اپنے اور بال کتراتے ہوئے، نہ ڈرتے ہو گے تم (کسی سے بھی) پس جان لی اللہ نے وہ بات جو نہیں جانی تم نے، سو کر دی اس نے پہلے اس سے ایک فتح جلد ہی (27) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے، تاکہ غالب کرے وہ اس کو اوپر سب دینوں کے اور کافی ہے اللہ گواہ (28) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ان باتوں کا رسول اللہﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا ، چنانچہ انھوں نے آپ سے عرض کیا ’’کیاآپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئیں گے اور طواف کریں گے؟‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لیے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ..... حدیث: 2732,2731)یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا ضروری امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جا سکتی ﴿ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ١ۙ مُحَلِّقِيۡنَ رُءُوۡسَكُمۡ وَمُقَصِّرِيۡنَ﴾یعنی تم اس حال میں مسجدِ حرام ميں داخل ہو گے جو اس محترم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے، کہ تم سر منڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہو گے ان کی تکمیل کر رہے ہو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہو گا۔﴿ فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡافَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ﴾ ’’جو تمھیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے‘‘ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے﴿فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾ ’’نزدیک کی فتح‘‘ [28] چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہو گئی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى﴾ ’’وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔‘‘ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر و شر کے تمام راستے واضح کر دیتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ﴾ اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا، جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ﴾ تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ﴿ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ ’’تمام ادیان پر‘‘ یعنی حجت و برہان کے ذریعے سے اور یہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔
48:28

هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٗا

البتہ تحقیق سچی خبر دی اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں ساتھ حق کے، کہ ضرور داخل ہو گے تم مسجد حرام میں، اگر چاہا اللہ نے، امن سے، منڈاتے ہوئے سر اپنے اور بال کتراتے ہوئے، نہ ڈرتے ہو گے تم (کسی سے بھی) پس جان لی اللہ نے وہ بات جو نہیں جانی تم نے، سو کر دی اس نے پہلے اس سے ایک فتح جلد ہی (27) وہ، وہ ذات ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ساتھ ہدایت اور دین حق کے، تاکہ غالب کرے وہ اس کو اوپر سب دینوں کے اور کافی ہے اللہ گواہ (28) [27] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ان باتوں کا رسول اللہﷺ کے سامنے بھی اظہار کیا ، چنانچہ انھوں نے آپ سے عرض کیا ’’کیاآپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئیں گے اور طواف کریں گے؟‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟‘‘ انھوں نے جواب دیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا: ’’تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لیے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔‘‘ (صحیح البخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ..... حدیث: 2732,2731)یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوۡلَهُ الرُّءۡيَا بِالۡحَقِّ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا ضروری امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جا سکتی ﴿ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ١ۙ مُحَلِّقِيۡنَ رُءُوۡسَكُمۡ وَمُقَصِّرِيۡنَ﴾یعنی تم اس حال میں مسجدِ حرام ميں داخل ہو گے جو اس محترم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے، کہ تم سر منڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہو گے ان کی تکمیل کر رہے ہو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہو گا۔﴿ فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿ مَا لَمۡ تَعۡلَمُوۡافَجَعَلَ مِنۡ دُوۡنِ ذٰلِكَ﴾ ’’جو تمھیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے‘‘ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے﴿فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾ ’’نزدیک کی فتح‘‘ [28] چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہو گئی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ هُوَ الَّذِيۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰؔى﴾ ’’وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔‘‘ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر و شر کے تمام راستے واضح کر دیتا ہے۔ ﴿ وَدِيۡنِ الۡحَقِّ﴾ اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا، جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے ﴿ لِيُظۡهِرَهٗ﴾ تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ﴿ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ﴾ ’’تمام ادیان پر‘‘ یعنی حجت و برہان کے ذریعے سے اور یہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔
48:29

مُّحَمَّدٞ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعٗا سُجَّدٗا يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗاۖ سِيمَاهُمۡ فِي وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِۚ وَمَثَلُهُمۡ فِي ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلۡكُفَّارَۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ مِنۡهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا

محمد (ﷺ) رسول ہیں اللہ کے، اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں بہت سخت ہیں کافروں پر، نہایت مہربان ہیں آپس میں، تو دیکھے گا انھیں رکوع سجود کرتے ہوئے، وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضامندی (اس کی)، علامت ان کی، ان کے چہروں میں ہو گا نشان سجدوں کا، یہ صفت ان کی تورات میں ہے، اور صفت ان کی انجیل میں مانند کھیتی کے ہے جس نے نکالی اپنی سوئی ، پھر اس نے مضبوط کیا اس (سوئی) کو، پھر وہ سخت ہوئی، پھر کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر، خوش کرتی ہے کاشتکاروں کو (اللہ نے یہ کیا) تاکہ غصہ دلائے بوجہ ان(صحابہ کرام)کے کافروں کو۔ وعدہ کیا اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک ان میں سے، مغفرت اور اجر عظیم کا(29) [29] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ اور ان کے صحابہ، جو مہاجرین و انصار میں سے ہیں، ان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کامل ترین صفات اور جلیل ترین احوال کے حامل ہیں اور وہ ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ ﴾کفار کے ساتھ بہت سخت ہیں، فتح و نصرت میں جدوجہد اور اس بارے میں پوری کوشش کرنے والے ہیں۔ وہ کفار کے ساتھ صرف درشتی اور سختی سے پیش آتے ہیں۔ اسی لیے ان کے دشمن ان کے سامنے ذلیل ہو گئے، ان کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمان ان پر غالب آ گئے۔﴿ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی صحابہ آپس میں محبت کرنے والے، ایک دوسرے پر مہربانی کرنے والے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور عاطفت کے ساتھ پیش آنے والے ہیں وہ جسد واحد کی مانند ہیں، ان میں سے ہر کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ہے ان کا مخلوق کے ساتھ معاملہ۔ رہا خالق کے ساتھ ان کا معاملہ، تو ﴿ تَرٰىهُمۡ رُؔكَّـعًا سُجَّدًا ﴾ ’’ تم ان کو رکوع اور سجدے کی حالت میں دیکھو گے۔‘‘ یعنی ان کا وصف کثرتِ نماز ہے جس کے جلیل ترین ارکان رکوع اور سجود ہیں ﴿ يَّبۡتَغُوۡنَ ﴾ وہ اس عبادت کے ذریعے سے طلب گار ہیں ﴿ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا ﴾’’اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچنا اور اس کا ثواب حاصل کرنا ان کا مطلوب و مقصود ہے۔﴿ سِيۡمَاهُمۡ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ﴾ حسن عبادت اور اس کی کثرت نے ان کے چہروں پر اثر کیا ہے حتیٰ کہ وہ منور ہو گئے ہیں، چونکہ نماز کے نور سے ان کے باطن روشن ہیں لہذا جلال سے ان کے ظاہر منور ہیں ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ احوال ﴿ مَثَلُهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ ﴾ یعنی ان کا یہ وصف جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، تو رات کریم میں اسی طرح ذکر کیا گیا ہے۔ انجیل میں ان کو ایک اور وصف سے موصوف کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کمال اور باہم تعاون میں ﴿ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ ﴾ ’’گویا ایک کھیتی ہے جس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنی جڑ سے شاخیں نکالیں ، پھر ان کو استوا و ثبات میں مضبوط کیا۔ ﴿ فَاسۡتَغۡلَظَ ﴾ پس یہ کھیتی طاقت ور اور مضبوط ہو گئی۔ ﴿ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ ﴾ ’’پھر قوت کے ساتھ کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر‘‘ (سوق)جمع ہے ساق کی، یعنی اپنی جڑوں پر کھڑی ہو گئی۔ مراد یہ ہے کہ یہ کھیتی مضبوط اور قوی ہو گئی اور اس کے تنے کھڑے ہو گئے۔﴿ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ ﴾ جو اپنے کامل طور پر سیدھا کھڑا ہونے اور اپنے حسن اعتدال کی بنا پر کاشتکاروں کو بھلی لگتی ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام y مخلوق کو نفع پہنچانے اور لوگوں کا ان کی طرف ضرورت مند ہونے کی وجہ سے، کھیتی کی مانند ہیں۔ ان کی قوت ایمان اور قوت عمل پودے کی رگوں اور اس کے تنوں کی مانند ہے۔ وہ کم عمر صحابہ کرام اور جن کا اسلام متاخر تھا، جنھوں نے بزرگ صحابہ کرام کی پیروی کی، ان کے ہاتھ مضبوط کیے، اقامت دین اور دعوت دین میں، ان کی مثال اس کھیتی کی مانند ہے جس نے اپنی جڑوں سے اور سوئے نکالے، پھر اس کو مضبوط کیا ، پھر وہ موٹی ہو گئی۔بنابریں فرمایا:﴿ لِيَغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ ﴾ ’’تاکہ ان کی وجہ سے اللہ کافروں کو چڑائے‘‘ جب کفار ان کے اجتماع اور دشمنان دین پر ان کی سختی کو دیکھتے ہیں، نیز جب وہ دست بدست لڑائی اور جنگی معرکوں میں ان کی بہادری کو دیکھتے ہیں، تو یہ چیز ان کے دل کو جلاتی ہے۔ ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ پس صحابہ کرام y ، جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت جس کا لازمہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کے شر سے حفاظت ہے اور دنیا و آخرت کے اندر اجر عظیم کو جمع کیا۔ صلح حدیبیہ کے واقعاتہم صلح حدیبیہ کے واقعات پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں جیسا کہ امام شمس الدین ابن القیم a نے ’’زاد المعاد‘‘ (زاد المعاد: 296-286)میں بیان کیے ہیں کیونکہ ان واقعات سے اس سورۂ مبارکہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔ابن القیم نے اس سورۂ مبارکہ کے اسرار و معانی پر بھی بحث کی ہے، چنانچہ انھوں نے فرمایا: نافع کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ذی قعد ۶ھ میں پیش آیا اور یہی صحیح ہے۔ امام زہری ، قتادہ ، موسیٰ بن عقبہ ، اور محمد بن اسحاقS وغیرهم کی بھی یہی رائے ہے۔ہشام بن عروہ a اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ماہ رمضان میں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے اور صلح حدیبیہ کا واقعہ شوال میں پیش آیا مگر یہ وہم ہے رمضان میں تو مکہ فتح ہوا تھا۔ ابوالاسود، عروہ بن زبیر سے روایت کرتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ صلح حدیبیہ ذی قعد میں ہوئی تھی۔ صحیحین میں حضرت انسt سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چار عمرے کیے، جو سب کے سب ذی قعد میں تھے۔ ان میں عمرہ حدیبیہ بھی ذکر کیا، آپ کے ساتھ پندرہ سو نفوس تھے۔ صحیحین میں حضرت جابر بن عبداللہw سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیحین میں حضرت جابرt سے مروی ہے کہ نبیﷺ کے ساتھ چودہ سو نفوس تھے۔ صحیحین میں عبداللہ بن ابی اوفیٰt سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم تیرہ سو افراد تھے۔ قتادہa روایت کرتے ہیں کہ میں نے جناب سعید بن المسیبa سے پوچھا کہ کتنے لوگوں کی جماعت تھی جو بیعت رضوان میں شریک ہوئی؟ انھوں نے جواب دیا ’’پندرہ سو افراد تھے‘‘ میں نے عرض کیا ’’حضرت جابرt فرماتے ہیں کہ وہ چودہ سو افراد تھے‘‘ سعید بن المسیبa نے فرمایا: ’’اللہ ان پر رحم فرمائے، انھیں وہم ہوا ہے، انھی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ پندرہ سو افراد تھے۔‘‘ میں (ابن القیم) کہتا ہوں ’’حضرت جابر بن عبداللہw سے دونوں قول صحت کے ساتھ مروی ہیں اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ حدیبیہ والے سال ستر اونٹ قربان کیے، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا ’’آپ کتنے افراد تھے؟‘‘ حضرت جابرt نے جواب دیا ’’سوار اور پیدل دونوں مل کر چودہ سو نفوس تھے‘‘ یعنی ان کے سوار اور پیا دے۔میلان قلب بھی زیادہ اسی طرف ہے، براء بن عازب، معقل بن یسار اور سلمہ بن الاکوع y سے بھی صحیح تر روایت کے مطابق یہی تعداد ہے اور مسیب بن حزنw کا بھی قول ہے۔ شعبہa ، قتادهa سے، قتاد سعید بن المسیبa سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ درخت کے نیچے (بیعت کرنے والے) چودہ سو افراد تھے۔جس نے یہ کہا کہ وہ کل سات سو افراد تھے اس نے واضح طور پر غلطی کی ہے۔ سات سو افراد کہنے والے حضرات کا عذر یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس روز ستر اونٹ ذبح کیے تھے اونٹ کی قربانی کے بارے میں آتا ہے کہ اونٹ کی قربانی سات یا دس افراد کی طرف سے کافی ہے۔ مگر یہ بھی اس قائل کے دعویٰ پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ راوی نے تصریح کی ہے کہ اس غزوہ میں ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے ذبح کیا گیا تھا۔ اگر قربانی کے ستر اونٹ سب کی طرف سے ہوتے تو کل چار سو نوے افراد ہوتے۔ راوی مکمل حدیث اسی طرح بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کل چودہ سو نفوس تھے۔فصلجب رسول اللہﷺ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانیوں کو ہار پہنائے اور علامتیں لگائیں اور عمرے کا احرام باندھا اور اپنے آگے بنو خزاعہ میں سے ایک جاسوس بھیجا جو قریش کے حالات کے بارے میں آگاہ کرے۔ جب آپ عسفان کے قریب پہنچے تو آپ کے جاسوس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا ’’میں کعب بن لوی کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ انھوں نے آپ کے مقابلے کے لیے، مختلف قبیلوں سے لوگوں کو جمع کر رکھا ہے وہ سب جمع ہو کر آپ سے ضرور لڑیں گے اور بیت اللہ کی زیارت سے آپ کو روکیں گے۔رسول مصطفیﷺ نے اپنے اصحاب کرام سے مشورہ کیا کہ آیا ہم ان قبائل کے پسماندگان پر حملہ کر دیں جو قریش کی مدد کے لیے جمع ہوئے ہیں اور ان کو قیدی بنا لیں، اگر وہ پھر بیٹھے رہے تو بدلہ لیے بغیر غم زدہ بیٹھے رہیں گے اور اگر وہ بچ نکلے تو وہ ایسی گردن ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے کاٹ دیا ہے… یا تمھارا خیال ہے کہ ہم بیت اللہ کا قصد رکھیں، جو کوئی ہمیں روکنے کی کوشش کرے تو ہم اس سے جنگ کریں؟حضرت ابوبکرt نے عرض کیا ’’اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، ہم کسی کے خلاف لڑنے کے لیے نہیں آئے۔ تاہم جو کوئی ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا ہم اس سے ضرور لڑیں گے۔‘‘ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’تو پھر کوچ کرو!‘‘ پس صحابہ کرام نے کوچ کیا، ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’خالدبن ولید قریش کے گھڑ سواروں کے ساتھ غمیم کے مقام پر پڑاؤ کیے ہوئے ہے، اس لیے پہلو بچا کر دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو‘‘ اللہ کی قسم! خالد بن ولید کو صحابہ کرام کے نکل جانے کا پتہ تک نہ چلا، یہاں تک مسلمانوں کے لشکر کی گرد ان تک پہنچی تو مسلمانوں کی آمد کا ان کو علم ہوا تو وہ فوراً قریش کو آگاہ کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ اس دوران میں نبی اکرمﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ آپ اس گھاٹی میں پہنچ گئے۔ جہاں سے ہو کر مکہ کی طرف اترتے ہیں، تو آپ کی سواری بیٹھ گئی۔ صحابہ نے کہا:(حُلْ حُلْ) مگر اونٹنی بیٹھی رہی۔ صحابہ نے کہا، قصواء تھک کر بیٹھ گئی‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا‘‘ قصواء تھک کر نہیں بیٹھی اور نہ یہ اس کی عادت ہے بلکہ اس کو اس ہستی نے روک دیا ہے جس نے ہاتھی کو روکا تھا، پھر فرمایا ’’اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قریش مجھ سے جس چیز کا سوال کریں، جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حرام ٹھہرائی ہوئی چیزوں کی حرمت کا لحاظ رکھا ہو، میں ان کو یہ چیز ضرور عطا کر دوں گا۔‘‘ پھر آپ نے اونٹنی کو جھڑکا، وہ فوراً جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی، پس رسول اللہﷺ اس گھاٹی سے ایک طرف سے ہٹ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ حدیبیہ کے کنویں کے پاس اتر پڑے جس میں بہت ہی تھوڑا پانی تھا۔ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لیتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے پانی ختم کر دیا۔ پس انھوں نے رسول اللہﷺ کے پاس پیاس کی شکایت کی۔ آپ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور صحابہ سے کہا، کہ وہ اس تیر کو اس کنویں میں ڈال دیں۔ راوی کہتا ہے ’’اللہ کی قسم! پورا لشکر اس کنویں سے سیراب ہوتا رہا یہاں تک کہ انھوں نے وہاں سے کوچ کیا۔ قریش آپ کی روانگی کا سن کر بہت گھبرائے۔رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کرام میں سے کسی شخص کو ایلچی بنا کر بھیجنا چاہتے تھے ، چنانچہ آپ نے عمرt کو بلایا تاکہ ان کو قریش کی طرف بھیجیں۔ حضرت عمرt نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ (ﷺ)! اگر مکہ میں مجھے کوئی تکلیف پہنچائی گئی تو بنو کعب بن لؤی میں ایک بھی ایسا شخص نہیں جو میری خاطر ناراض ہو۔ اس لیے آپ حضرت عثمان کو بھیجيے، وہاں ان کا بہت بڑا قبیلہ ہے اور جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کا پیغام پہنچا دیں گے۔رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو بلایا اور ان کو سفیر بنا کر قریش کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ قریش کو کہہ دو کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کے لیے آئے ہیں اور انھیں اسلام کی دعوت دو‘‘ نیز آپ نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ مکہ مکرمہ میں جو مومن مرد اور عورتیں ہیں وہ ان کے پاس بھی جائیں اور ان کو فتح کی خوشخبری دیں۔ نیز ان کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ عنقریب مکہ میں اپنے دین کو غالب کرے گا۔ حتیٰ کہ یہاں ایمان کو چھپایا نہیں جائے گا۔حضرت عثمانt روانہ ہوئے، بلدح کے مقام پر ان کا گزر قریش کے پاس سے ہوا۔ قریش نے پوچھا ’’عثمان کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘ حضرت عثمان نے فرمایا ’’مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا ہے تاکہ میں تمھیں اللہ اور اسلام کی طرف دعوت دوں اور ہم تمھیں آگاہ کرتے ہیں کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا ’’تم نے جو کہا، ہم نے سن لیا، اب جاؤ اپنا کام کرو‘‘ ابان بن سعید اٹھا، اس نے حضرت عثمان کو مرحبا کہا، اپنے گھوڑے پر زین رکھی، حضرت عثمان کو گھوڑے پر سوار کرایا اور ان کو پناہ دی، ابان بن سعید حضرت عثمان کو اپنے ساتھ بٹھا کر مکہ آیا۔ حضرت عثمان کے واپس لوٹنے سے پہلے مسلمانوں نے کہا ’’عثمانt ہم سے پہلے بیت اللہ پہنچ کر طواف کریں گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’میرا خیال ہے وہ اس حالت میں کہ ہم یہاں محصور ہیں، بیت اللہ کا طواف نہیں کریں گے۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! وہ بیت اللہ پہنچ گئے ہیں، انھیں کون سی چیز بیت اللہ کے طواف سے روک سکتی ہے؟آپ نے فرمایا ’’عثمان کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ کعبہ کا طواف اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ ان کے ساتھ ہم نہ کریں۔‘‘ مسلمان صلح کے معاملے میں مشرکین کے ساتھ گھل مل گئے۔ فریقین میں سے کسی شخص نے دوسرے فریق کے کسی آدمی کو پتھر مارا، بس معرکہ برپا ہو گیا فریقین نے ایک دوسرے پر تیر چلانے اور پتھر پھینکنے شروع کر دیے دونوں فریق چلائے ہر فریق اپنے اپنے آدمیوں کے فعل پر مجبور تھا۔ رسول اللہﷺ تک جناب عثمان کے قتل کی افواہ پہنچی تو آپ نے بیعت کے لیے صحابہ کرام کو طلب فرمایا۔رسول اللہﷺ درخت کے سائے میں تشریف فرما تھے مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے۔ رسول اللہﷺ نے اپنا دست مبارک پکڑا اور فرمایا ’’یہ عثمانt کی طرف سے بیعت ہے۔‘‘ جب بیعت مکمل ہو گئی تو حضرت عثمانt بھی واپس آ گئے۔ صحابہ کرام نے حضرت عثمانt سے کہا ’’آپ نے تو بیت اللہ کا طواف کر کے اپنے دل کو ٹھنڈا کر لیا۔‘‘ حضرت عثمانt نے کہا ’’میرے بارے میں تم نے بہت ہی برا گمان رکھا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر سال بھر بھی میں مکہ مکرمہ میں رہوں، اور رسول اللہﷺ حدیبیہ کے مقام پر فروکش ہوں، تو میں اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہﷺ طواف نہ کر لیں۔ قریش نے مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے کی دعوت دی تھی مگر میں نے انکار کر دیا تھا‘‘ صحابہ کرام نے کہا ’’رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور ہم سے زیادہ اچھا گمان رکھتے ہیں۔‘‘ حضرت عمرt نے درخت کے نیچے بیعت کے لیے جناب رسول اللہﷺ کا دست مبارک تھامے رکھا اور جد بن قیس کے سوا تمام مسلمانوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضرت معقل بن یسارt آپ پر درخت کی ٹہنیاں اٹھائے رہے۔ابوسنان اسدیt پہلے شخص تھے جنھوں نے آپ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ سلمہ بن الاکوعt نے تین مرتبہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی، ایک دفعہ ابتدا میں، پھر درمیان میں اور ایک دفعہ آخر میں۔بیعت کا سلسلہ اسی طرح جاری تھا کہ بدیل بن ورقاء خزاعی بنو خزاعہ کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تہامہ کی پوری وادی میں صرف خزاعی آپ کے خیر خواہ تھے، بدیل نے کہا ’’میں بنو کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑ کر آ رہا ہوں کہ وہ حدیبیہ کے چشموں پراترے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں بھی ہیں، وہ آپﷺ کے ساتھ لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ہم کسی کے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے، ہم تو صرف عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، جنگ نے قریش کو کمزور کر دیا ہے اور ان کو نقصان پہنچایا ہے، اس صورت میں اگر وہ چاہیں تو میں ایک مدت کے لیے ان کے ساتھ صلح کر لوں گا، وہ میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں، اگر وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں، ورنہ آرام سے بیٹھیں۔ اور اگر انھیں جنگ کے سوا کچھ منظور نہیں تو قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری زندگی ہے۔ میں اپنے اس دین پر ان سے ضرور لڑوں گا یہاں تک کہ میری گردن تن سے جدا ہو جائے، یا اللہ تعالیٰ اپنے دین کو نافذ کر دے۔‘‘ بدیل نے عرض کیا ’’میں آپ کی بات قریش تک پہنچا دوں گا۔‘‘ بدیل چلا گیا حتیٰ کہ وہ قریش کے پاس پہنچا اور ان سے کہنے لگا ’’میں اس شخص کے پاس سے ہو کر آیا ہوں، میں نے اسے ایک بات کہتے سنا ہے، اگر آپ لوگ چاہیں تو میں وہ بات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘ قریش کے بیوقوف لوگوں نے کہا ’’ہمیں کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں کچھ سناؤ ‘‘ مگر ان میں سے اصحاب رائے نے کہا ’’ہاں بتاؤ تم نے اس سے کیا سنا ہے‘‘ بدیل نے کہا ’’میں نے اس کو یہ کچھ کہتے سنا ہے۔‘‘ عروہ بن مسعود ثقفی نے کہا: ’’اس شخص نے تمھارے سامنے ایک اچھی بات پیش کی ہے، اس کو قبول کر لو، اور مجھے اس کے پاس جانے دو‘‘ قریش نے کہا ’’ہاں تم اس کے پاس جاؤ ۔‘‘ عروہ بن مسعود ثقفی آپ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہﷺ نے عروہ بن مسعود سے بھی وہی بات کہی جو بدیل سے کہی تھی۔ اس پر عروہ بن مسعود نے کہا ’’اے محمد(ﷺ)! کیا تم اپنی قوم ہی کی جڑ کاٹو گے، کیا تم نے کسی عرب کے بارے میں سنا ہے کہ اس نے تم سے پہلے اپنی قوم کو نیست و نابود کیا ہو؟ اگر کوئی دوسری بات ہوئی تو اللہ کی قسم! میں کچھ ایسے چہرے اور اس طرح کے لوگ دیکھ رہا ہوں جو تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔‘‘ حضرت ابوبکرt نے اس سے کہا ’’تو، لات کی شرم گاہ چو ستا رہ، کیا ہم رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟‘‘ عروہ بن مسعود نے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ حضرت ابوبکر صدیقt نے کہا ’’میں ابوبکر ہوں۔‘‘ عروہ بن مسعود نے کہا ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تیرا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا بدلہ میں ابھی تک نہیں اتار سکا تو میں تجھے اس کا جواب دیتا۔‘‘ اس نے رسول اللہﷺ سے بات چیت شروع کی۔ جب وہ بات کرتا تو آپ کی ریش مبارک کو چھوتا، حضرت مغیرہ بن شعبہt آپ کے سر پر کھڑے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود پہن رکھا تھا۔ جب بھی عروہ بن مسعود اپنا ہاتھ آپ کی ریش مبارک کی طرف بڑھاتا، تو مغیرہt اپنی تلوار کا نعل اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے ’’اپنے ہاتھ کو رسول اللہﷺ کی ریش مبارک سے دور رکھو۔‘‘ عروہ بن مسعود نے اپنا سر اٹھا کر پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ مغیرہt نے کہا ’’میں مغیرہ بن شعبہ ہوں۔‘‘ عروہ بن مسعود نے کہا ’’اے بے وفا شخص! کیا میں تیری بے وفائی کے انتقام کی کوشش میں نہیں ہوں؟‘‘ حضرت مغیرہ بن شعبہt ایام جاہلیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ مصاحبت رکھتے تھے، پس مغیرہ بن شعبہt نے ان لوگوں کو قتل کر دیا ان کا مال لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آئے۔ آپ نے فرمایا ’’میں تمھارا اسلام لانا تو قبول کرتا ہوں، لیکن مال کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ پھر عروہ بن مسعود دیر تک اصحاب رسولﷺ کو دیکھتا رہا، اللہ کی قسم! جب کبھی نبی اکرمﷺ نے تھوک پھینکا تو کسی نہ کسی شخص نے اسے اپنے ہاتھ پر لیا اور اسے اپنے جسم اور چہرے پر مل لیا ۔آپ کوئی حکم دیتے تو صحابہ اس کی تعمیل کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے، جب آپ وضو فرماتے تو صحابہ آپ کے وضو کے مستعمل پانی پر گویا لڑتے تھے، جب آپ گفتگو فرماتے تو صحابہ کرام آپ کے پاس اپنی آوازوں کو پست کر لیتے تھے، آپ تعظیم کی وجہ سے آپﷺ کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔عروہ بن مسعود اپنے اصحاب ( یعنی قریش) میں واپس آیا اور ان سے کہنے لگا ’’اے لوگو! میں کسریٰ، قیصر اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے درباروں میں گیا ہوں، میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے مصاحبین اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد (ﷺ) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! محمد (ﷺ) جب بھی تھوک پھینکتے تو کوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھ پر لے کر اپنے جسم اور چہرے پر مل لیتا تھا۔ جب محمد (ﷺ) کوئی حکم دیتے تو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تعمیل کی کوشش کرتے، جب محمد (ﷺ) وضو کرتے تو وضو کے مستعمل پانی کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے جھگڑتے تھے۔ جب محمد (ﷺ) گفتگو کرتے تو لوگ اپنی آوازوں کو پست کر لیتے وہ محمد (ﷺ) کی تعظیم کے طور پر ان کی طرف نظریں اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔ بے شک انھوں نے ایک نہایت اچھی بات تمھارے سامنے پیش کی ہے اور اس پر زور دیا ہےکہ تم اسے قبول کر لو۔‘‘ بنو کنانہ میں سے ایک شخص نے کہا ’’مجھے اس کے پاس جانے دو۔‘‘ قریش نے کہا ’’تم اس کے پاس جاؤ ۔‘‘ جب یہ شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ فلاں شخص ہے اور اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جو قربانی کے جانوروں کا بہت احترام کرتے ہیں، تم قربانی کے جانور اس کے پاس لے کر آؤ ، پس لوگ قربانی کے جانور اس کے پاس لے کر آئے اور تلبیہ کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا ’’سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب نہیں‘‘ پھر وہ اپنے لوگوں کی طرف واپس آیا اور ان سے کہا ’’میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا ہے کہ ان کو ہار پہنائے گئے ہیں اور ان کا اشعار کیا گیا ہے میری رائے ہے کہ ان کو بیت اللہ سے نہ روکا جائے۔‘‘ پھر مکرز بن حفص کھڑا ہوا اور اس نے کہا ’’مجھے اجازت دو کہ میں محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ ں‘‘ جب مکرز ان کے پاس آیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ مکرز بن حفص ہے اور یہ فاسق و فاجر شخص ہے۔ مکرز بن حفص نے رسول اللہﷺ سے گفتگو شروع کی۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمھارا معاملہ آسان فرما دیا۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کا معاہدہ لکھ دیجیے‘‘ رسول اللہﷺ نے کاتب کو بلایا اور اس سے فرمایا: ’’لکھو: (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) سہیل بن عمرو نے کہا ’’رہا رحمٰن، تو اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کیا ہے بلکہ لکھو ( بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) جیسا کہ تو لکھا کرتا تھا۔مسلمانوں نے کہا ’’اللہ کی قسم! ہم تو (بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) ہی لکھیں گے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ( بِاِسْمِکَ اللّٰھُمَّ) ہی لکھ دو‘‘ پھر فرمایا: ’’لکھو: یہ وہ تحریر ہے، جس پر محمد رسول اللہ (ﷺ) نے صلح کی۔‘‘ اس پر سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا ’’اگر ہم جانتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ کی زیارت سے نہ روکتے اور نہ آپ کے خلاف جنگ کرتے۔ بلکہ لکھو ’’محمد بن عبداللہ‘‘نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم نے میری تکذیب کی ہے، تاہم لکھ دو ’’محمد بن عبداللہ‘‘نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’اس بات پر صلح ہے کہ تم بیت اللہ اور ہمارے درمیان سے ہٹ جاؤ گے اور ہم طواف کریں گے۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو گا، کہیں عرب یہ نہ کہیں کہ ہمیں مجبور کر دیا گیا، البتہ آپ آئندہ سال طواف کریں، پس یہی لکھ دیا گیا۔سہیل بن عمرو نے کہا ’’یہ اس بات پر صلح نامہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی شخص (بھاگ کر) تمھارے پاس آ جائے تو تم اسے واپس کر دو گے، خواہ وہ تمھارے دین پر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ مسلمانوں نے کہا ’’سبحان اللّٰہ! جو شخص مسلمان ہو کر آیا ہو اسے کیسے مشرکین کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا‘‘ ابھی وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ ابوجندل بن سہیلw اپنی بیڑیوں میں بڑی مشکل سے چلتے ہوئے، نشیب مکہ سے نکلے اور اپنے آپ کو صحابہ کے درمیان ڈال دیا، سہیل بن عمرو نے کہا ’’اے محمد! (ﷺ) یہ پہلی شرط ہے جس پر میں نے تمھارے ساتھ صلح کی ہے، ابوجندل کو واپس کر دو۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’ابھی ہم نے تحریر ختم نہیں کی۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا ’’اللہ کی قسم! اگر یہ بات ہے تو میں تمھارے ساتھ کسی بات پر کبھی بھی صلح نہیں کروں گا۔‘‘ نبی ٔاکرمﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس کی اجازت دے دو‘‘سہیل بن عمرو نے کہا ’’میں ہرگز اس کی اجازت نہیں دوں گا‘‘آپ نے فرمایا ’’کیوں نہیں! اجازت دے دو‘‘سہیل بن عمرو نے کہا ’’میں اجازت نہیں دوں گا‘‘مکرز نے کہا ’’میں اجازت دیتا ہوں‘‘ابوجندل نے کہا ’’اے مسلمانو! کیا مجھے مشرکین کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا دراں حالیکہ میں مسلمان ہو کر تمھارے پاس آیا ہوں، کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ مجھے کن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‘‘حضرت ابوجندلt کو اللہ کے راستے میں سخت عذاب سے دو چار کیا گیا تھا۔ حضرت عمرt فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں مجھے اسلام کی حقانیت پر، اس دن کے سوا، کبھی شک نہیں ہوا، میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! کیا آپ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟‘‘آپ نے فرمایا ’’کیوں نہیں‘‘میں نے عرض کیا ’’کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟‘‘آپ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں‘‘میں نے عرض کیا ’’تو پھر ہم اپنے دین میں کمزوری کیوں دکھائیں؟آپ نے فرمایا: ’’میں اللہ کا رسول ہوں، وہی میرا مددگار ہے، میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔‘‘میں نے عرض کیا’’ کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب بیت اللہ کا طواف کریں گے؟‘‘رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ تم اسی سال آ کر بیت اللہ کا طواف کرو گے؟‘‘میں نے عرض کیا ’’نہیں‘‘ آپ نے فرمایا ’’تم ضرور بیت اللہ کی زیارت اور طواف کرو گے۔‘‘حضرت عمرt کہتے ہیں: اس کے بعد میں ابوبکرt کے پاس آیا اور ان سے بھی وہی کچھ کہا جو رسول اللہﷺ سے کہا تھا اور انھوں نے بھی وہی جواب دیا جو رسول اللہﷺ نے دیا تھا، اور مزید کہا: ’’مرتے دم تک ان کے امر و نہی کی اطاعت کر، اللہ کی قسم! وہ حق پر ہیں‘‘ حضرت عمر فرماتے ہیں ’’میں نے اس سوال جواب کی گستاخی کی تلافی کے لیے کفارے کے طور پر بہت اعمال کیے۔‘‘ جب رسول اللہﷺ صلح نامہ کی تحریر سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’اٹھو قربانی کرو اور اپنا سر منڈاؤ ۔‘‘ اللہ کی قسم! کوئی شخص نہ اٹھا حتیٰ کہ آپ نے تین مرتبہ کہا۔ جب ان میں سے کوئی آدمی نہ اٹھا تو آپ اٹھ کر ام سلمہ r کے خیمہ میں چلے گئے، جو کچھ لوگوں کی طرف سے پیش آیا تھا حضرت ام سلمہr سے کہہ سنایا۔حضرت ام سلمہr نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا آپ واقعی یہی چاہتے ہیں؟ اگر یہ بات ہے تو آپ باہر تشریف لے جائیے، اور اس وقت تک کسی سے بات نہ کیجیے جب تک کہ آپ اپنی قربانی کو ذبح نہ کر لیں، پھر حجام کو بلائیے اور وہ آپ کا سر مونڈ دے‘‘ نبئ اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور باہر نکل گئے، آپ نے کسی سے گفتگو نہ فرمائی، جب تک کہ یہ سب کچھ نہ کر لیا، آپ نے اپنے قربانی کے جانور ذبح کیے ، پھر حجام کو بلوایا، اس نے آپ کا سر مونڈا۔ جب صحابہ کرام نے یہ دیکھا تو وہ اٹھے اور انھوں نے بھی قربانی کے جانور ذبح کیے اور ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے، پھر ازدحام کی وجہ سے ایسے لگتا تھا کہ کہیں وہ ایک دوسرے کو قتل نہ کر دیں۔ پھر مومن خواتین آئیں پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِـاِيۡمَانِهِنَّ۠١ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡهُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡهُنَّ اِلَى الۡكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ١ؕ وَاٰتُوۡهُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا١ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ١ؕ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ﴾(الممتحنۃ:60؍10) ’’اے ایمان والو! جب تمھارے پاس مومن عوتیں آئیں تو ان کو آزما لیا کرو، ان کے ایمان کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر تمھیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انھیں کفار کی طرف مت لوٹاؤ وہ ان کفار کے لیے حلال نہ کفار ان کے لیے حلال ہیں اور انھوں نے جو کچھ ان پر خرچ کیا ہے انھیں دے دو، اور تم پر کوئی حرج نہیں اگر تم ان کے ساتھ مہر مقرر کرنے کے بعد نکاح کر لو اور کافر عورتوں کو اپنے پاس نہ رکھو۔‘‘ حضرت عمرt نے اس روز اپنی دو بیویوں کو طلاق دی تھی جو شرک کی حالت میں ان کے پاس تھیں۔ ان میں سے ایک کے ساتھ امیر معاویہt نے اور دوسری کے ساتھ صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر رسول اللہﷺ واپس مدینہ لوٹ آئے، واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سورۂ فتح نازل فرمائی۔ حضرت عمرt نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ہاں‘‘! صحابہ کرامy نے عرض کیا، یارسول اللہ! آپ کو مبارک ہو، ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ فِيۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(الفتح: 4/48)